Baaghi TV

Tag: اخبار

  • ڈان نیوز کاکوئٹہ میں دفتر بند

    ڈان نیوز کاکوئٹہ میں دفتر بند

    پاکستان کے تاریخی اخبار ڈان نیوز نے اپنا کوئٹہ دفتر بند کر دیا

    ڈان نیوز پاکستان کا نامور اور معروف اخبار ہے، ڈان گروپ پاکستان کے بانی محمد علی جناح نے تشکیل دیا تھا ڈان گروپ ان چند اور پہلے پاکستانی صحافتی اداروں میں سے ایک ہے جو اردو و انگریزی اخبار بھی چھاپتے ہیں۔ڈان گروپ نے 2007 میں ٹی وی چینلز کی نشریات کا آغاز کیا تھا، ڈان نیوز اخبار بھی پاکستان کے تمام بڑے شہروں سےشائع ہوتا ہے تا ہم اب خبر آئی ہے کہ ڈان نیوز نے کوئٹہ میں اپنا دفتر بند کر دیا ہے

    صحافی حافظ اللہ شیرانی نے ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ "ڈان نیوز پیپر نے اپنا کوئٹہ،بلوچستان دفتر مستقل طور پر بند کر دیا ہے، جو کہ صحافت اور بلوچستان کے لیے ایک افسوسناک دن ہے۔ برسوں پہلے ڈان ٹی وی بیورو کی بندش کے بعد، اب اخبار کا دفتر بند ہو گیا ہے۔ ہارون حمید کی قیادت میں، یہ واقعی ڈان تھا، لیکن محترمہ ناز آفرین سہگل کے بعد یہ افسوسناک طور پر ڈان نہیں بلکہ زوال ہے۔

    ڈان نیوز کی کوئٹہ میں بندش سے مقامی صحافی بھی بے روزگار ہو گئے ہیں،مہنگائی کے دور میں صحافیوں کے لئے بھی مشکلات بڑھ گئی ہیں

    واضح رہے کہ 26 اکتوبر 1941ء کو قائداعظم محمد علی جناح کی ذاتی سر پرستی میں مسلم لیگ کے ترجمان کی حیثیت سے ہفت روزہ کے طور پر جاری کیا گیا۔ 1942ء میں یہ روزنامہ ہو گیا۔ اس نے مسلم لیگ اور مسلمانان ہند کی ترجمانی کے فرائض شاندار طریقے سے سر انجام دیے۔ روزنامہ ڈان کے پہلے ایڈیٹر پاتھن جوزِف تھے جو اپنے صحافتی کیریئر اور تجربے کے باعث کافی مقبولیت رکھتے تھے۔ 1945ء میں الطاف حسین کو اس کا ایڈیٹر مقرر کیا گیا۔ قیام پاکستان کے وقت روزنامہ ڈان اور اس قسم کے دیگر اخبارات کے روزانہ اشاعت کا اندازہ تقریباً 50 ہزار پرچے تھے۔

  • دنیا کے تین صدیوں پرانے اخبار کی اشاعت بند کرنے کا اعلان

    دنیا کے تین صدیوں پرانے اخبار کی اشاعت بند کرنے کا اعلان

    آسٹریا سے شائع ہونے والے دنیا کے سب سے پرانے اخبار نے اشاعت بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی میڈیا کے مطابق Wiener Zeitung، دنیا کے قدیم ترین اخبارات میں سے ایک، اپنی روزانہ کی پرنٹنگ کو ختم کرنے اور آن لائن منتقل ہونے کے لیے تیار ہے گزشتہ تین صدیوں سے شائع ہونے والے اخبار نے جمعرات کے ایڈیشن میں باضابطہ طور پر اشاعت بند کرنے کا اعلان کیا۔

    کراس بارڈر ادائیگیوں میں چینی کرنسی نے پہلی بارامریکی ڈالر کو پیچھے چھوڑ دیا

    یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کی پارلیمنٹ نے جمعرات کو یہ فیصلہ کیا ہے جس میں آسٹریا کی حکومت اور اخبار کے درمیان سرکاری ملکیت والے روزنامے کے مستقبل کے بارے میں برسوں سے جاری تنازعہ میں حتمی قدم ہے۔

    اخبار بند کرنے کا فیصلہ آسٹریا کی پارلیمنٹ میں سرکاری اخبارات بند کرنے کا بل پیش ہونے کی مناسبت سے کیا گیا ہے، بل میں سرکاری اخبارات کو ڈیجیٹل کرکے نئے صحافیوں کیلئے تربیت گاہ میں تبدیل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

    جاپانی وزیراعظم کا صنفی امتیاز میں کمی کیلئے بڑی کمپنیوں میں خواتین سربراہان کی

    پارلیمنٹ کے تیسرے صدر، نوربرٹ ہوفر نے ایک نئے قانون کے بارے میں کہا کہ بل کی منظوری تک دنیا کا سب سے قدیم اخبار 30 جون تک کاغذی شکل میں شائع ہوتا رہے گا یکم جولائی سے اشاعت کو بنیادی طور پر آن لائن منتقل کرنے کے لیے یہ اکثریت کے ساتھ منظور کیا گیا ہےدستیاب فنڈز کے لحاظ سے کاغذ ہر سال کم از کم دس پرنٹ اشاعتوں کو برقرار رکھے گا۔

    2004 میں، آسٹریا کے وینر زیتونگ کو سب سے پرانے اخبارات میں شمار کیا گیا جو اب بھی زیر گردش ہیں وہ اشاعت جو آسٹریا ہنگری، روسی اور عثمانی سلطنتوں، پہلی اور دوسری عالمی جنگوں اور سرد جنگ سے بچ چکی ہے، اب ڈیجیٹل دنیا میں قدم رکھے گی۔

    آسٹریا کے اخبار ’ووینر ٹسایٹنگ‘ نے 1703 میں سرکاری سرپرستی میں اشاعت شروع کی تھی، ایڈیشن کے سرورق پر سال اشاعت 1703 اور سال اختتام 2023 چھاپا گیا-

    ترکیہ میں روس کی مدد سے تیار ہونے والےنیوکلیئر پلانٹ کا افتتاح

    1703 میں Wiennerisches Diarium کے نام سے قائم کیا گیا، بعد میں 1780 میں اس کا نام تبدیل کر کے Wiener Zeitung رکھ دیا گیا، سابقہ ​​نجی دو ہفتہ وار اخبار کو 1857 میں آسٹریا کے شہنشاہ فرانز جوزف اول نے قومی کر دیا تھا، جو ملک کا سرکاری گزٹ بن گیا۔

    اس کے نائب منیجنگ ایڈیٹر میتھیاس زیگلر نے اے ایف پی کو بتایا، "کچھ لوگوں کو خدشہ ہے کہ حکومت صرف وینر زیتونگ برانڈ کو اس کی 320 سال پرانی تاریخ کے ساتھ رکھنا چاہتی ہے، جبکہ کوئی نہیں جانتا کہ مستقبل کی اشاعت کیسی ہوگی۔”

    75 روپے کا نیا کرنسی نوٹ لین دین کیلئے قابل استعمال ہے،اسٹیٹ بینک

  • وزیراعظم کا اخباری صنعت کو مشکلات سے نکالنے کے لئے بڑے پیکج کا اعلان

    وزیراعظم کا اخباری صنعت کو مشکلات سے نکالنے کے لئے بڑے پیکج کا اعلان

    وزیراعظم شہبازشریف سے آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائیٹی (اے پی این ایس) کے وفد نے ملاقات کی ملاقات میں وزیراعظم نے اخباری صنعت کو مشکلات اور بحران سے نکالنے کے لئے بڑے پیکج کا اعلان گیا.

    وزیراعظم شہبازشریف نے30 جون تک سابق حکومت کے تشہیر ی واجبات ادا کرنے کی ہدایت کی، اس موقع پروزیراعظم نے پی ٹی آئی دورکے اخبارات اور تشہیری کمپنیوں کے حکومتی واجبات ادا کرنے کا حکم دیا.

    وزیراعطم شہباز شریف نے کہا کہ وہ سیاسی انتقام میں یقین نہیں رکھتے، اس سے ملک کو بہت نقصان پہنچا ہے، انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مہنگائی کے تناسب سے تشہیری نرخ میں مناسب اضافہ کریں گے.بجٹ میں اخباری صنعت پر کوئی نیا ٹیکس یا ڈیوٹی نہیں لگائیں گے،اخباری صنعت کو بحران سے نکالنے کے لئے اضافی ریلیف بھی فراہم کریں گیا جائے گا.

    ملاقات میں وزیراعظم شہبازشریف کے علاوہ وزیراطلاعات مریم اورنگزیب اوروزیراعظم کے معاون خصوصی فہد حسین بھی موجود تھے جبکہ اے پی این ایس کے صدر سرمد علی کی قیادت میں وفد میں سیکریٹری جنرل ناز آفرین سہگل لاکھانی شامل تھیں،ملاقات میں سینئر صحافی مجیب الرحمن شامی، جمیل اطہر، شہاب زبیری کے علاوہ محترمہ رمیزہ نظامی بھی شریک ہوئیں ،عمرمجیب شامی، امتنان شاہد، ممتاز طاہر، محسن بلال، اویس خوشنود، وسیم احمد، منیر گیلانی اور ہمایوں گوہر بھی ملاقات میں موجود تھے.

    قبل ازیں وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے انڈس ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ قومیں محنت ‘صف بندی اور پلاننگ سے بنتی ہیں جس کے لیے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا’ صحت اور تعلیم پر کوئی سمجھوتا نہیں ہونا چاہیے، آئی ٹی اور دیگر شعبے ہیں جن میں پاکستان بہت آگے بڑھ سکتا ہے، معیشت کا پہیہ چلائیں گے، معیشت مضبوط کرنے کے لیے آگے بڑھنا ہو گا’ملک کو آگے چلانے کیلئے ہمیں گرینڈ ڈائیلاگ کی ضرورت ،اچھے لوگ کسی بھی حکومت کیساتھ کام کریں تو اسے سیاسی رنگ نہیں دینا چاہیے، ہمیں اپنی پسند ناپسند سے بالاتر ہو کر اور ذاتی انا کو مار کر ملکی مفاد اور قوم کی ترقی و خوشحالی کے لیےکام کرنا ہو گا، اس وقت دنیا میں ہمیں سب سے آگے ہونا چاہیے تھا لیکن بدقسمتی سے ہم بہت پیچھے رہ گئے ہیں، سابقہ حکومت نے پی کے ایل آئی جو خطے کا بہترین ہسپتال تھا اسے سیاست کی نظر کردیا، ہم نے بڑی کوشش کی لیکن دل پر پتھر رکھ کر قیمتیں بڑھانی پڑیں، میں پوری کوشش کروں گا کہ غریب شہریوں پر بوجھ نہ پڑے۔