Baaghi TV

Tag: اخلاق

  • بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    بکواس مت کیجئے — حافظ گلزارعالم

    گو کہ یہ عنوان بھی آپکو پہلی نظر میں بکواس لگا ہوگا۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ نہایت حکیمانہ مقولہ ہے۔ کیونکہ آپ لاکھ خود کو پڑھے لکھے، مہذب اور سمجھدار سمجھتے ہوں، لیکن اگر آپ بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی بول دیتے ہیں تو آپ بہرحال بکواس ہی فرمارہے ہیں۔

    آپ زبان سے وہی بات کہیں جس کے بارے میں آپکو یقین ہو کہ یہ بات سچی ہے،جھوٹ نہیں ہے۔ اچھی ہے، بری نہیں۔ مفید ہے، غیر مفید نہیں ہے۔ کسی کا دل خوش کرنے کیلئے ہے، کسی کی دل آزاری کیلئے نہیں ہے۔اگر آپ ہر دفعہ بولنے سے پہلے ان باتوں کو سوچ کر اچھی گفتگو کرتے ہیں تو مبارک ہو۔

    آپ مہذب، سلجھے ہوئے، بہترین انسان ہیں، بشرطیکہ آپ نہ صرف گفتار کے، کردار کے بھی غازی ہوں۔ یعنی نہ صرف آپ اچھا بولتے ہوں، اس پر عمل بھی کرتے ہوں، یا کم از کم عمل کرنے کی فکر میں لگے رہتے ہیں۔ کیونکہ

    عمل سے زندگی بنتی ہے، جنت بھی جہنم بھی
    یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ نوری

    بہرحال کچھ بھی بولنے سے پہلے اچھی طرح سوچ لیں کہ کل کسی عدالت میں مجھ سے میرے کہے ہوئے ایک ایک لفظ کا حساب لیا جائیگا۔ اگر بات اچھی ہوئ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:

    وَالْـکَلِمَۃُ الطَّیِّبَۃُ صَدَقَۃٌ ’’

    اوراچھی بات بھی صدقہ ہے‘‘ (صحیح بخاری)

    اور صدقہ بڑی عظیم عبادت ہے۔ اور اگر خدانخوستہ آپکی کہی ہوئ بات بری ہوئ تو یہ بڑے خطرے کی بات ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

    ما يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْہِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ
    ( پارہ:26،سورۃ:ق، آیات:17،18)
    ترجمہ: ۔ تم جو بات بھی نکالتے ہو، اس پر نگران موجود ہے

    لہذا آپ کی ایک ہی بری،جھوٹی، غیبت، چغلی یا طنز پر مبنی بات اللہ کی ناراضگی کا سبب بن سکتی ہے۔ حدیث مبارک پڑھیئے:
    حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ مشہور صحابی ہیں، وہ ارشاد فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑی اور ارشاد فرمایا:

    ’’کُفَّ عَلَیْکَ ہٰذَا‘‘۔۔۔۔۔ ’’اس کو روکو۔‘‘ یعنی زبان کو قابو میں رکھو، یہ چلنے میں بے احتیاط اور بے باک نہ ہو۔ حضرت معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ’’وَإِنَّا لَمُؤَاخَذُوْنَ بِمَا نَتَکَلَّمُ بِہٖ‘‘۔۔۔۔۔’’ہم جو باتیں کرتے ہیں کیا ان پر بھی ہم سے مواخذہ ہوگا؟‘‘ باز پُرس کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ثَکِلَتْکَ أُمُّکَ یَا مُعَاذُ!‘‘ ۔۔۔۔۔’’اے معاذ!تجھے تیری ماں روئے۔‘‘(عربی زبان کے محاورہ میں یہ کلمہ یہاں پیار ومحبت کے لیے ہے) ’’وَہَلْ یَکُبُّ النَّاسَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ إِلاَّ حَصَائِدُ أَلْسِنَتِہِمْ‘‘ لوگوں کو دوزخ میں ان کے منہ کے بل زیادہ تر ان کی زبانوں کی بے باکانہ باتیں ہی ڈلوائیں گی،یعنی آدمی جہنم میں اوندھے منہ زیادہ تر زبان کی بے احتیاطیوں کی وجہ سے ہی ڈالے جائیں گے۔( ترمذی)

    زبان کی لغزشوں سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ انسان خاموشی کی عادت اپنالے۔ دیکھئے حدیث
    عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ صَمَتَ نَجَا ) .روى الترمذي (2501)

    ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو خاموش رہا وہ نجات پاگیا (ترمذی)
    پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ بھی یہی تھی کہ آپ بکثرت خاموش رہا کرتے تھے۔سماک کہتے ہیں: میں سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے عرض کیا: کیا آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی محفل میں شرکت کا اعزاز حاصل ہوتا رہا ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ زیادہ تر خاموش رہنے والے اور کم ہنسنے والے تھے(مسند احمد)

    لہذا اگر ہم اس نیت سے خاموش اختیار کریں کہ یہ میرے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے تو دو فائدے ہونگے۔ ایک تو فضول گوئی سے بچیں گے۔ دوسرا یہ کہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر عمل کرنے وجہ سے ہماری ساری خاموشی عبادت میں لکھی جائیگی۔

    مگر اس تمام مضمون سے یہ نتیجہ نکالنا بھی ہرگز درست نہیں کہ ہم "صم بکم” ( گونگے بہرے) رہیں۔ دین بہرحال اعتدال کا نام ہے۔ اور اس باب میں اعتدال یہ ہے کہ ہم فضول گوئی سے اجتناب کرتے ہوئے خاموش تو رہیں۔ مگر جب بولنے کا موقعہ ہوتو ضرور بولیں۔ اچھا بولیں۔

    صاف بولیں ۔ برمحل بولیں۔ خاموشی اور کلام میں اعتدال لانے کیلئے بشر بن حارث رحمہ اللہ کا یہ قول مفید ثابت ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں
    إِذَا أَعْجَبَكَ الْكَلَامُ فَاصْمُتْ وَإِذَا أَعْجَبَكَ الصَّمْتُ فَتَكَلَّمْ

    "اگر تمہیں بولنا پسند ہو تو خاموش رہا کرو اور اگر تمہیں خاموش رہنا پسند ہو تو بولا کرو۔”
    [حلية الأولياء وطبقات الأصفياء – ط السعادة، جلد ۸، صفحہ نمبر ۳۴۷]

  • ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    ہمارا رویّہ اور اس کے اثرات — عاشق علی بخاری

    "رویہ” ایک ایسا لفظ ہے جسے ہم روزانہ کئی بار استعمال کرتے ہیں. اگر ہم اسے اپنے لفظوں میں بیان کرنا چاہیں تو اس سے مراد انسان کا اپنے ماحول کی جانب توجہ یا جھکاؤ کہہ سکتے ہیں اب ہم اسے تین مختلف قسموں میں تقسیم کرتے ہیں.

    (1) سوچنا
    (2)محسوس کرنا
    (3)برتاؤ

    ان میں سے پہلے دو ہمارے کردار کو بنانے میں اہم رول ادا کرتے ہیں. اگر ہم بہت زیادہ منفی سوچتے ہیں یا محسوس کرتے ہیں تو ہم اپنی شخصیت کو بگاڑ کی طرف دھکیل رہے ہوتے ہیں.تیسرا پہلو برتاؤ ہے، جس کا تعلق براہ راست ہمارے ارد گرد لوگوں سے ہوتا ہے.

    برتاؤ کے بھی دو پہلو ہیں:

    مثبت یامنفی.

    مثبت اور منفی رویوں کی پہچان کے لیے ہم چند مثالیں پیش کرتے ہیں.

    اندھے شخص کو سڑک پار کروانا، ریڑھی بان کو کھانا اور پانی مہیا کرنا، سڑک کنارے درخت لگانا، سردیوں میں غریب و مساکین میں گرم کپڑے دینا وغیرہ وغیرہ. یہ سب مثبت پہلو ہیں.

    اگر منفی مثالوں کی بات کریں تو سڑک کنارے درختوں کو اکھاڑنا، گندگی پھیلانا، کسی ضروت مند کو دھتکارنا، اگر آپ کی گاڑی سے کوئی ٹکرا جائے تو اسے اٹھانے کے بجائے برا بھلا کہنا یہ ہمارے منفی پہلو ہیں.

    اگر ہم مثبت رویے اپناتے ہیں تو ہم ایک بہترین معاشرہ تشکیل دے رہے ہوتے ہیں جو ہر ایک کے لیے فائدہ مند ہے. اگر منفی سوچ، منفی برتاؤ بڑھتا چلا جائے تو معاشرہ جنگل کے معاشرے سے کم دکھائی نہیں دیتا کیونکہ ایک معاشرے کی بنیاد انسانی رویوں پر ہی قائم ہوتی ہے.

    ہمارے مثبت اور منفی رویوں میں زبان کے استعمال کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، وہ اس وجہ سے کہ کبھی تو اس زبان سے نکلنے والے الفاظ انسان کو بلندیوں کی طرف لیجاتے ہیں اور کبھی انسان زبان کے نشتر برداشت نہیں کرپاتا اور اپنی ہی زندگی کا خاتمہ کردیتا ہے.غم کے وقت تسلی دینا، ہار کی صورت میں حوصلہ دینا، انسان کو اس بات کے لیے ابھارتے رہنا کہ تم کرسکتے ہو دوسرے انسان کے لیے کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے.

    اب اس واقعے کو ہی دیکھ لیں اور یہ ہمارے معاشرے کا بدترین پہلو کہیں تو غلط نہ ہوگا.

    کہا جاتا ہے کہ ایک عرب تاجر جو اچھے اخلاق اور عمدہ کپڑوں اور خوشبوؤں کے استعمال کی وجہ سے مشہور تھا. ایک دن اس کے دوستوں نے اس سے مذاق کرنے کا سوچا، یہ چیز ان کے وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ ہمارا یہ مذاق اس قدر خطرناک ثابت ہوگا. سو جب وہ اپنی دکان کی طرف جارہا تھا تو راستے میں ملنے والا پہلا دوست کہتا ہے کیا ہی بہترین کپڑے پہنے ہوئے ہیں، مجھے بھی آسمانی رنگ بہت پسند ہے. اور یہ تم نے عمامہ الٹا کیوں پہنا ہوا ہے؟ یہ اسے سمجھاتا ہے کہ نہیں بھائی یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے لیکن وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا. اس کے بعد دونوں اپنے راستے پر چل پڑتے ہیں لیکن وہ عرب تاجر بار بار اپنے کپڑوں کو دیکھتا ہے کہ یہ تو سفید رنگ کے ہیں اور عمامہ بھی سیدھا ہے، وہ اس خیال کو جھٹک کر آگے بڑھ جاتا ہے. جیسے ہی وہ سڑک پار کرتا ہے تو ایک دوسرے دوست سے سامنا ہوتا ہے، علیک سلیک کے بعد وہی باتیں جو پہلے دوست نے کہی تھیں یہ بھی کہتا ہے، تاجر کبھی کپڑے دیکھتا ہے تو کبھی عمامہ اتار کر سیدھا پہنتا ہے، اب اسے بھی کھٹکا لگ جاتا ہے کہ کہیں میرے کپڑوں کا رنگ مختلف تو نہیں، انہی سوچوں میں گم وہ دکان ابھی کھول ہی رہا ہوتا ہے کہ تیسرا دوست منصوبے کے مطابق اس کے پاس پہنچ جاتا ہے، اور وہ بھی وہی باتیں دہراتا ہے جو اس کے دیگر دو دوستوں نے کہی تھیں. اب اس عرب تاجر کا سر گھومنے لگتا ہے ایک ہی بات کو بار بار سننے کے بعد وہ اپنے حواس پر قابو نہیں پا سکتا. عمدہ کپڑے پہننے والا، بہترین خوشبو استعمال کرنے والا پاگل ہوجاتا ہے، نہ اسے کپڑوں کی پرواہ رہتی ہے اور نہ چاروں طرف بھنبھناتی مکھیوں کی.

    دیکھیے یہ دوستوں کے لیے ایک مذاق تھا لیکن بیٹوں سے باپ، بیوی سے شوہر الغرض خود اس کے لیے زندگی کا ایک تباہ کن حادثہ بن گیا. اب اس کے دوست مہنگے ڈاکٹروں کو دکھائیں یا پھر رات رات بھر آہیں بھرتے رہیں اب کسی کام کی نہیں.

    اپنے رویوں سے کسی کی زندگی اجاڑنے کے بجائے خوشیوں، مسکراہٹوں اور کامیابیوں کا سبب بنیں. کوشش کریں دوسروں کی زندگیوں سے کانٹیں چنیں نہ کہ دوسروں کی زندگیوں میں کانٹیں بچھائیں.