Baaghi TV

Tag: اخلاقیات

  • اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    اخلاقیات کو مسخ کرنا آزادی صحافت نہیں، تجزیہ: شہزاد قریشی

    آزادی صحافت کا مطلب ذمہ داری صحافت ہے صحافت کو ملی و قومی اقدار کا پابند بنانا اور اس پر سختی سے کاربند رہنا صحافیانہ ذمہ داری کا اولین تقاضا ہے۔ قومی تقاضوں کا سودا کرنا اور تاریخ کو مسخ کر کے پیش کرنا اور اپنے صفحات اور اسکرین پر اخلاقیات کا جنازہ نکال دینا کسی طور بھی آزادی صحافت کے زمرے میں نہیں آتا۔

    بدقسمتی سے صحافیوں نے قومی فریضہ کو پس پشت ڈال کر سیاسی جماعتوں کے بیانیے پر چلنا شروع کر دیا ہے صحافی گروپوں میں تقسیم ہو چکے ہیں ملک اور قوم کے مسائل کو پس پشت ڈال کر قصیدے لکھنا اور بولنا شروع کر دیا جس کا نقصان ملک و قوم کو ہوتا ہے۔ جو کچھ آج ہو رہا یا ماضی میں ہوتا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔

    اس وقت قوم جن اداروں پر فخر کرتی ہے وہ عدلیہ، پاک فوج اور میڈیا ہے جانبداری میڈیا کے لئے زہر قاتل ہے میڈیا کا کوئی ادارہ ہو یا کوئی فرد جب وہ جانبدار بن گیا تو وہ ختم ہو جاتا ہے یعنی میڈیا نے اپنی حیثیت اور وقار کو خود ہی ختم کر دیا۔ قارئین اور سامعین نہ تو کسی کی تنخواہ دیکھتے ہیں نہ کسی کا عہدہ و الفاظ دیکھتے ہیں اور انہی الفاظ سے اس کی قدر و قیمت کا فیصلہ کرتے ہیں۔

    آج صحافی گروپوں میں تقسیم ہو کر اپنا نقصان کر رہے ہیں۔ وہ میڈیا اور صحافی جو ماضی میں قیادت کے فرائض انجام دیتے تھے قومی مسائل اور تحریکوں میں قائدانہ کردار اداکرتے تھے آج گروپوں میں تقسیم ہو کر سیاسی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کےقائدین کے فلسفوں پر چل کر اپنا وقار اور عزت دائو پر لگا رہے ہیں۔

    میڈیا بدنام ہو رہا ہے کہ میڈیا یکطرفہ ہو گیا ہےبعض صحافیوں نے تو کسی ایک سیاسی جماعت کی حمایت میں اندھا دھند کام شروع کیا ہے۔ ہمیں اس ملک کو سیاسی انتشار اور بحرانوں سے بچانے کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ قومی معاملات اور ریاستی مفادات کو سامنےرکھ کر لکھنا اور بولنا ہوگا۔

    ملک کا سیاسی مستقبل اور ملک کا مستقبل قانون کی حکمرانی سے جڑا ہے۔ ملکی سیاسی جماعتیں آئین اور قانون کی حکمرانی پارلیمنٹ کی بالادستی منصفانہ و شفاف انتخابات کے لئے سر جوڑ کر بیٹھیں۔ سیاسی جماعتیں انتقامی راستوں کا انتخاب کرنا چھوڑ دیں سیاست میں تشدد ہلاکو خان اور چنگیز خان کا مذہب ہے۔

    اقتدار اور عوامی حمایت یہ سب کچھ عارضی ہوتا ہے جو کسی کے پاس مستقل نہیں رہتا۔ شداد کی جنت نہ رہی ، فرعون کی خدائی نہ رہی الغرض کئی حکمران جو فلک بوس محلوں میں رہتے تھے زمین بوس ہو گئے۔

  • سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ٹرینڈز اور گالم گلوچ کا ذمہ دار کون؟؟ … رضی طاہر

    سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی ٹرینڈز اور گالم گلوچ کا ذمہ دار کون؟؟ … رضی طاہر

    پاکستان تحریک انصاف ملک کی بڑی سیاسی جماعت ضرور ہے مگر اس کا تنظیمی ڈھانچہ، تنظیمی تربیتی ماحول اور یونٹ کی سطح سے مرکزی سطح تک کسی قسم کا کوئی نظام نہیں، جس کی وجہ سے کارکنان کی تربیت سازی کا کوئی رواج ہی نہیں۔ جب ہم قوم یوتھ کہتے ہیں تو اس سے مراد گزشتہ الیکشن میں پہلی دفعہ ووٹ دینے والے نوجوان ہیں، جن کو بڑے بڑے صحافی خود ہی "یوتھیے” کہہ کر مخاطب کرتے ہیں، ان کی جانب سے گھٹیا ٹرینڈز آنا اچھنبے کی بات نہیں کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمارے معاشرے کی عکاسی کرتے ہیں، اسی طرح مسلم لیگ ن کا سٹرکچر بھی ایسا ہی ہے، وہاں نوجوانوں کا دیہاتی طبقہ زیادہ پایا جاتا ہے۔ میرے نزدیک یہ یوتھیے اور نونی قوم کے اخلاقی زوال کی ترجمانی کررہے ہوتے ہیں۔ دوسری جانب جماعتی ماحول میں تربیت پانے والے کارکنان گالم گلوچ کے بجائے دلیل سے بات کرتے ہیں، عوامی تحریک، جماعت اسلامی، ملی مسلم لیگ وغیرہ کے کارکنان سوشل میڈیا پر میری اس بات کے گواہ ہیں۔ لہذا جماعتوں کو چاہیے کہ نظام بنائیں اور کارکنان سازی کریں۔ محض ووٹرز کے دم پر چلنے والی جماعتیں جلد زوال کا شکار ہوجایا کرتی ہیں جبکہ کارکنان کے زور بازو پر پنپنے والی تحریکیں صدیوں زندہ رہتی ہیں۔

  • انسانیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے گا….محمد فہد شیروانی

    انسانیت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے گا….محمد فہد شیروانی

    اسلام کا سب سے بڑا درس انسانیت ہے۔ لیکن اسلام کا نام استعمال کرنے والے پاکستان کے نام نہاد بنک ” مسلم کمرشل بنک” نے انسانیت کا ایسا جنازہ نکالا جس نے آج قلم اٹھانے پر مجبور کردیا۔ مسلم کو کمرشل کرنے والے "MCB” نے اُس وقت دنیا کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا جب اس نے اپنے ایک ایسے اکاؤنٹ ہولڈر کو بنک میں آ کر اکاؤنٹ کی تصدیق کر نے کا کہا جو کہ اپنی علالت و لاغری کے باعث چلنے کے قابل نہ تھا۔ مگر MCB کی انتظامیہ نے روایتی بے حسی اور اذلی ہٹ دھرمی کا ثبوت دیتے ہوئے اکاؤنٹ ہولڈر کے کسی بھی عذر کو ماننے سے انکار کرتے ہوئے اکاؤنٹ بند کرنے کا مژدہ سنایا۔ مجبور و لاچار مریض کو بحالت مجبوری بنک آ کر اپنے اکاؤنٹ کی (بائیو میٹرک) تصدیق کرنا پڑی( تصویر، تحریر کے ساتھ منسلک ہے)۔
    MCB جو کہ پاکستان کا سب سے بڑا اور مشہور بنک ہونے کا دعوی کرتا ہےہمیشہ اپنے لاکھوں صارفین کو تسلی بخش اور عمدہ سروسز دینے میں ناکام رہا ہے جو کہ MCB کی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔

    MCB کے رولز، سسٹم اور عملے کا رویہ دوستانہ و ہمدردانہ ہرگز نہ ہے۔ وہاں صارفین کو اپنے کام کے لئے گھنٹوں انتظار کی زحمت سے گزرنا پڑتا ہے اور جب اس اذیت بھرے انتظار کے بعد صارف کی باری آتی ہے تو بنک کے پاس فوٹو کاپی کی سہولت نہ ہونے کے باعث صارف کا کام ادھورا رہ جاتا ہے اور صارف کو اپنے شناختی کارڈ وغیرہ کی فوٹو کاپی کرانے لے لئے باہر جانا پڑتا ہے اور واپس آکر پھر اسی انتظار کی کیفیت سے دو چار ہونا صارف کی مجبوری بن جاتا ہے۔
    پاکستان میں دوسرے اداروں کی طرح بنکنگ کا معیار بھی اتنا گر چکا ہے کہ وہ اپنے صارفین کو سہولیات دینے کے بجائے ان کی مشکلات میں اضافہ کئے جا رہا ہے۔ سٹیٹ بنک کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعلامیے کے مطابق ہر بنک اکاؤنٹ ہولڈر کو اپنے اکاؤنٹ کے "بائیو میٹرک” تصدیق کرانا لازم ہوگی،جو کہ ملک کی معاشی پالیسی کے لئے ایک احسن قدم ہے لیکن اس کے لئے کوئی خاص طریقہ کار وضح نہیں کیا گیا جس کے باعث بنک صارفین شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
    سٹیٹ بنک آف پاکستان کے اپنے اعدادوشمار کے مطابق مختلف بنکوں کی کم و بیش 15 ہزار سے زائد برانچوں میں تقریباً 5 کروڑ پاکستانی بنک اکاؤنٹ ہولڈرز ہیں اور پاکستان میں بنک استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد دنیا کے درجنوں ممالک کی کل آبادی سے زیادہ ہے مگر ان کا کوئی پرسان حال نہیں۔

    MCB میں بزرگوں اور خواتین کے لئے دیگر پرائیویٹ بنکوں کی مانند کوئی خصوصی کاؤنٹر نہیں بنائے گئے MCB کی کچھ برانچز میں اگرچہ یہ کاؤنٹر موجود ہیں لیکن اس کا با قاعدہ طور پر صحیح استعمال نہیں کیا جاتا جس سے بزرگ اور خواتین اس سہولت سے محروم رہ جاتے ہیں۔سٹیٹ بنک کو چاہئیے کہ وہ ایسا طریقہ کار وضح کرے جس سے بزرگ اور بیمار صارفین کی “بائیو میٹرک” تصدیق کی سہولت انہیں ان کی گھر پر مہیا کی جائے۔ اس سے نا صرف صارفین کو سہولت ملے گی بلکہ بنکنگ سیکٹر کے لئے ان کے اعتماد میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا

    بنکنگ سیکٹر کے تمام صارفین کی جانب سے سٹیٹ بنک آف پاکستان سے التماس ہے کہ MCB کے سسٹم اور خدمات کو بہتر سے بہترین کیا جائے اور اگر پرائیویٹ سیکٹر اس بنک کو صحیح طریقہ سے نہیں چلا سکتا تو اسے واپس حکومت کی تحویل میں لے کر اس کا نظام درست کیا جائے۔

    محمد فہد شیروانی