Baaghi TV

Tag: ادارہ شماریات

  • حکومتی پالیسی رنگ دکھانے لگی:ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ

    حکومتی پالیسی رنگ دکھانے لگی:ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ

    اسلام آباد:حکومتی پالیسی رنگ دکھانے لگی:ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی مانگ میں بہت زیادہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے اس حوالے سے ادارہ شماریات نے حوصلہ افزا رپورٹس دی ہیں‌،

    اسی حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران ملک کی ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات کا حجم 9 ارب ڈالر سے تجاوز کرگیا۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان نے رواں مالی کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران 9 ارب 38 کروڑ ڈالر سے زائد کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کی ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران 7 ارب 44 کروڑ ڈالر کی ٹیکسٹائل مصنوعات برآمد کی گئی تھیں۔اس طرح رواں مالی سال کے دوران ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں 26 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 6 ماہ کے دوران تیار ملبوسات کی برآمدات میں 23 فیصد، ہوزری مصنوعات میں 35 فیصد، بیڈ شیٹس کی برآمد میں 19 فیصد اور تولیوں کی برآمدات میں ساڑھے 17 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔

    اسی طرح قالین، غالیچوں اور پایدان کی برآّمدات میں بھی 14 فیصد سے زائد اضافہ دیکھا گیا ہے۔یہ بھی یاد رہےکہ پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات ملکی برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹائل مصنوعات کی برآمدات میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں سے روپے کی قدر میں کمی، ٹیکسٹائل شعبے میں استعمال ہونے والی درآمدی اشیا کی ڈیوٹیز میں کمی، بروقت ریفنڈنگ اور کیش سبسڈیز جیسے عوامل شامل ہیں۔

    ایک جانب جب پاکستانی برآمد کنندگان کو آرڈرز مل رہے ہیں تو دوسری جانب ایکسپورٹرز ملک میں حالیہ گیس بحران پر ان برآمدی آرڈرز کو پورا کرنے کے حوالے مخمصے کا شکار ہیں۔

  • 2021 میں کتنی مہنگائی ہوئی؟ وفاقی ادارہ شماریات نے رپورٹ جاری کر دی

    2021 میں کتنی مہنگائی ہوئی؟ وفاقی ادارہ شماریات نے رپورٹ جاری کر دی

    پاکستان میں مہنگائی کی شرح 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ روز مرہ استعمال کی اشیاء مہنگی ہونے سے پاکستان میں مہنگائی کی شرح 22 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    نئے سال کا نیا تحفہ،پٹرول کی قیمت میں 4روپے فی لیٹرکا اضافہ

    ادارہ شماریات کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2021 کے دوران تسلسل سے مہنگائی کی شدت بڑھتی رہی، دسمبر 2020 کےمقابلےمیں دسمبر 2021 میں مہنگائی کی شرح 12.3 فیصد ریکارڈ کی گئی اور نومبر 2021 میں مہنگائی 11.55 فیصد رہی جب کہ دسمبر 2020 میں افراط زر کی شرح 8 فیصد رہی تھی،جبکہ سال 2020 کے 6 ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح 8.63 فیصد رہی تھی –

    ادارہ شماریات کے مطابق اس طرح ایک سال میں شہروں میں مہنگائی میں 12.7 فیصد اضافہ ہوا جب کہ دیہاتوں میں مہنگائی میں 11.6 فیصد اضافہ ہوا 2021 میں سرسوں کا تیل 60.7 فیصد، کوکنگ آئل 59.3، گھی 53.3 ، دال مسود 33.5، پھل 29.9، گوشت 20.4 ، چنا 20، آٹا 19 اور ندم 14.6 فیصد مہنگی ہوئی۔

    اس کے علاوہ 2021 میں دودھ 14.4، لوبیا 14.2، گڑ 14، کپڑے دھونے کا صابن اور ماچس 16.5 اور چینی 13.28 فیصد مہنگی ہوئی جب کہ بجلی کی قیمت میں 59.3 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ایک سال میں تعمیراتی سامان کی قیمت 11.3 فیصد بڑھ گئی۔

    ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی کا اعلان:اضافہ زیادہ کمی برائے نام

    واضح رہے کہ نئے سال کے پہلے روز ہی پٹرول کی قیمت میں 4روپے اضافہ کردیا ہے جس کے بعد پٹرول کی نئی قیمت 144روپے 82پیسے مقرر کردی گئی ہے۔پٹرول کے ساتھ ڈیزل کی قیمت میں بھی4 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے جس کےبعد فی لٹر 141روپے 62پیسے ہوگئی ہے۔

    یاد رہے کہ آج رات ہی حکومت نے پہلے ایل پی جی کی قیمت میں 6روپے فی کلو اور گھریلو سلنڈر 70روپے اور کمرشل سلنڈر کی قیمت ‏میں 268روپے کمی تھی جو اب پٹرول کی قیمتیں بڑھا کرحساب برابر کردیا ہےاوگرا نے ایل پی جی کی نئی قیمتوں سے متعلق نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے مطابق اب ‏ایل پی جی گھریلو سلنڈر2390سے کم کر کے 2321 اور کمرشل سلنڈر 9197روپے سے کم ہو ‏کر8929 روپے ہوگیا۔

    ایل پی جی کی پیداواری قیمت میں 5043روپے فی میٹرک ٹن کمی ہوئی ہے جس کے بعد 133476 ‏روپے فی میٹرک ٹن سے کم ہو کر 128433روپے فی میٹرک ٹن ہوگئی۔مارکیٹ میں ایل پی جی 207روپے فی کلو دستیاب رہے گی۔سردی کے آتے ہی قدرتی گیس کا شاٹ ‏فال شروع ہوجاتا ہے۔واضح رہے کہ دسمبر میں ایل پی جی کا گھریلوسلنڈر 2390 روپے44 پیسےکا تھا۔

    نئے پاکستان میں ہرسال گزشتہ سال سے مہنگا ثابت ہوا ،بلاول ، عمران نیازی اپنی حماقتوں کی سزا قوم کونہ…

  • مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری،  دال، چینی، انڈے اور سیلنڈر سمیت 23 اشیا ضروریہ مہنگی ہو گئیں

    مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری، دال، چینی، انڈے اور سیلنڈر سمیت 23 اشیا ضروریہ مہنگی ہو گئیں

    وفاقی ادارہ شماریات نے مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ جاری کر دی ہے-

    باغی ٹی وی : وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ مہنگائی کی ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ٹماٹر، دال، چینی، انڈے، لکڑی اور ایل پی جی سیلنڈر سمیت 23 اشیائے ضروریہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران مہنگی ہو گئی ہیں۔

    وفاقی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ایل پی جی کا گھریلو سلنڈر 118 روپے 3 پیسے مہنگا ہو گیا ہے جس کے بعد گھریلو سلنڈر کی قیمت 2355 روپے سے بڑھ کر 2463 ہوگئی ہے۔

    آسٹریلیا کے ہائی کمشنر کی جی ایچ کیو میں آرمی چیف سے الوداعی ملاقات

    ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران ٹماٹر فی کلو 5 روپے 42 پیسے مہنگے ہوگئے ہیں جب کہ چینی کی قیمت میں فی کلو ایک روپے 32 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔

    مہنگائی رپورٹ کے تحت گزشتہ ایک ہفتے کے دوران انڈوں کی فی درجن قیمت میں 5 روہے 3 پیسے بڑھ گئی ہے جب کہ دال ماش کی فی کلو قیمت میں تین روپے 47 پیسے کا اضافہ ہوا ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق رواں ہفتے لکڑی کی فی من قیمت میں 3 روپے 43 پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے صرف 5 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی ہوئی ہے اعداد و شمار کے تحت گزشتہ ایک ہفتے کے دوران آلو 2 روپے 5 پیسے فی کلو سستے ہوئے ہیں جب کہ پیاز، گڑ اور آٹے کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

    جبکہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران چاول اور کوکنگ آئل سمیت 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں استحکام پایا گیا ہے۔

  • کرنٹ اکاؤنٹ خسارےکے اعدادوشمارمیں کس نے کیوں ہیرپھیرکرکے گمراہی پھیلائی:تہلکہ خیزرپورٹ آگئی

    کرنٹ اکاؤنٹ خسارےکے اعدادوشمارمیں کس نے کیوں ہیرپھیرکرکے گمراہی پھیلائی:تہلکہ خیزرپورٹ آگئی

    اسلام آباد : کرنٹ اکاؤنٹ خسارےکے اعدادوشمارمیں کس نے کیوں ہیرپھیرکرکے گمراہی پھیلائی:تہلکہ خیزرپورٹ آگئی،اطلاعات کے مطابق ادارہ شماریات کی اس ٹیم کی طرف سے غلط اعدادوشمارپیش کرنے کی شرارت نومبر میں ریکارڈ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کی وجہ بنی۔ ادارہ شماریات نے پٹرولیم درآمدات 1.8ملین ٹن کے بجائے 2.8ملین ٹن ظاہر کیں،ویکسین کو بھی قرضوں یاامداد میں شمار کرنے کے بجائے درآمدات کی مد میں ڈال دیا۔

    انگریزی روزنامے بزنس ریکارڈر کی تحقیق کے مطابق نومبر میں 1.9ا رب ڈالر کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے نے بہت سے لوگوں کو حیران کر دیا تھا۔

    ادارہ شماریات نے 5ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کی بنیاد پر لوگ توقع کررہے تھے کہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 3 ارب ڈالر ہوگا لیکن اسٹیٹ بینک کا مال تجارتی خسارہ 3.7 ارب ڈالر رہا۔مالی سال 2022 کے 5 ماہ کیلیے ادارہ شماریات کے 20.6ارب ڈالر اور اسٹیٹ بینک کے 17.6 ارب ڈالر کے تجارتی خسارے کا فرق 3ارب ڈالر ہے اور یہ فرق بنیادی طور پر جولائی تا نومبر 3.1ارب ڈالر کی درآمدات سے آتا ہے۔

    ادارہ شماریات اور اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار میں فرق آنا معمول کی بات ہے کیونکہ جب بھی درآمدات میں اضافہ ہوتا ہے تو دونوں اداروں کے اعداد وشمار میں فرق آجاتا ہے جوکہ آنے والے مہینوں میں ادارہ شماریات کے رپورٹ کردہ خسارے میں کمی کے ساتھ معمول پر آجا تا ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ ادارہ شماریات نے پٹرولیم کی درآمدات کی رپورٹنگ میں غلطی کی ہے جس سے فرق جزوی طور پر بڑھ گیا ہے۔

    دوسری طرف ملک نامور تجزیہ کار اور معاشی ماہرین ادارہ شماریات کے 7.9 ارب ڈالر کی درآمدات کے اعداد وشمار دیکھ کر حیران رہ گئے اور اسے ہضم کرنا مشکل تھا۔نتیجتاً روپے کی قدرگری اور اسٹاک مارکیٹ مندی کا شکار ہوئی ۔ تاہم سمجھدار تجزیہ کار ادارہ شماریات کے تفصیلی اعداد و شمار میں یہ دیکھ کر حیران کر دیا کہ پاکستان نے نومبر میں 2.8 ملین ٹن پٹرولیم مصنوعات اور خام تیل درآمد کیا جو کہ ممکن نہیں ہے۔

    محکمہ شماریات کو ڈیٹا فراہم کرنے والی آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل(OCAC) کا ڈیٹا نومبر میں 1.8 ملین ٹن کی آئل امپورٹ کو ظاہر کرتا ہے جبکہ ملک کی سالانہ درآمدات پرنظر ڈالی جائے تو بھی اوسی اے سی کے اعداد وشمار درست معلوم ہوتے ہیں جو 2020 میں 15ملین ٹن اور 2019 میں 18.5 ملین ٹن تھی۔اب سوال یہ ہے کہ ادارہ شماریات نے درآمدات زیادہ کیوں ظاہر کیں جس کے نتیجے میں درآمدی بل میں 50کروڑ ڈالر کا غیرواضح فرق آیا۔وفاقی حکومت کو مارکیٹ کو ا س سوال کا جواب دینا ہوگا۔

    دوسری طرف سوشل میڈیا پرعوام الناس کی طرف سے پُرزورمطالبہ کیا جارہا ہے کہ حکومت ان عناصر کی نشاندہی کرے جوکسی دوسری پارٹی کے لیے ملک کے اداروں کونقصان پہنچا رہے ہیں ، بعض‌ کا کہنا تھا کہ یہ عناصر اتنے بڑے بڑے جھوٹ بول کرقوم کو گمراہ کررہے ہیں ان کو جابز سے فارغ کردیا جائے اور ان کو آزادی دی جائے کہ یہ جس پارٹی کے لیے اس قسم کی شرارتیں کرتے ہیں اب اس کے لیے جا کرسیاست کریں ، ان کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ عوام الناس کی محنت اورخون پسینے کی کمائی سے بڑی بڑی تنخواہیں لے کر غلط بیانی کریں‌