Baaghi TV

Tag: ادارے

  • مفتی تقی عثمانی کا موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کومشورہ

    مفتی تقی عثمانی کا موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کومشورہ

    نامور عالم دین مفتی تقی عثمانی نے موجودہ ملکی سیاسی صورتحال میں سیاستدانوں اور دیگر اداروں کو مل بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنے کا مشورہ دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ اگر کسی گھر کے لوگ آپس میں لڑ رہے ہوں اور گھر میں آگ لگ جائے توکیا اس وقت یہ بحث کی جائیگی کہ آگ کس نے لگائی یا واحد راستہ یہ ہوگا کہ سب ملکر آگ بجھائیں؟ موجودہ بحران کا حل صرف یہی ہے کہ تمام جماعتیں اور ادارے منافرت اور دشمنی کے بجائے سرجوڑکرملک کوبچائیں-


    انہوں نے مزید لکھا کہ قرآن کریم فرماتاہے کہ "تمام مسلمان آپس میں بھائی ہیں اس لئے اپنے دو بھائیوں کے درمیان صلح کراو اوراللہ سے ڈرو تاکہ تمھارےساتھ رحمت کامعاملہ کیا جائے ” عوام اور بااثرحضرات کافرض ہے کہ وہ اس قرآنی حکم پرعمل کرکے رھنماوں کو ساتھ بٹھانے کی بھرپور کوشش کریں-


    مفتی تقی نےکہا کہ فوج اور عدلیہ کو یقیناًسیاست میں دخل نہیں دینا چاہئیے لیکن ایسے سنگین حالات میں جماعتوں کو ساتھ بٹھا کر غیرجانب داری سے خالص ملک کے مفاد اور قومی سلامتی کے لئے مسئلے کاحل نکالنا انکا فرض بنتا ہے اللہ تعالی اسکی توفیق عطا فرمائے آمین-

  • آپکی درخواست کو اٹھا کرکھڑکی سے باہر پھینک دینا چاہیے،جسٹس منیب اختر

    آپکی درخواست کو اٹھا کرکھڑکی سے باہر پھینک دینا چاہیے،جسٹس منیب اختر

    سپریم کورٹ میں قومی اداروں کی توہین روکنے کیلئے دائر درخواست پر سماعت ہوئی

    جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سماعت کی، وکیل حیدر وحید نے کہا کہ میرا کیس فریڈم آف سپیچ کو ریگولیٹ کرنے کیلئے ہے،سپریم کورٹ نے براڈ کاسٹ میڈیا کو ریگولیٹ کرنے کا حکم بھی دیا تھا،استدعا ہے سوشل میڈیا کو براڈ کاسٹ میڈیا کی طرز پر ریگولیٹ کرنے کا حکم دیا جائے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا میڈیا کو ریگولیٹ کرنا عدالت کا کام ہے،کیا عدالت اب بنیادی حقوق کا کٹ ڈاون کرے گی اداروں کی توہین ہوتی کیا ہے؟برطانوی عدالت کا فیصلہ ہے کہ حکومت کی توہین نہیں ہوتی،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ پارلیمنٹ سے کہیں ہم قانون سازی کا نہیں کہیں گے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا بنیادی حقوق کو کٹ کرنے کا عدالت کہے گی، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر ریاست پابندی لگانا نہیں چاہتی تو سپریم کورٹ کیوں آرڈر دے؟ آپ سپریم کورٹ کو نہیں کہہ سکتے کہ حکومت کو قانون بنانے کا کہے،جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میری رائے میں آپکی درخواست کو اٹھا کرکھڑکی سے باہر پھینک دینا چاہیے،عدالت نے وکیل کو مزید تیاری کیلئے وقت دیدیا عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال

     عمران خان نے الیکشن کے لئے حکومت کے سامنے مزاکرات کی جھولی پھیلائی ہے

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

  • مالیاتی اداروں سے امداد کیلئے درخواست کی جائے گی،عائیشہ غوث پاشا

    مالیاتی اداروں سے امداد کیلئے درخواست کی جائے گی،عائیشہ غوث پاشا

    سیلاب متاثرین کیلئے مالیاتی اداروں سے مختص کوٹہ کے مطابق مالی امداد ملنے کا امکان ہے، حکومت نے سیلاب سے نقصانات پر ابتدائی تخمینے پر مبنی رپورٹ تیار کر لی ہے، وزیرمملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ سیلاب سے نقصان کا اندازہ ایک دو روز میں مکمل کر لیا جائے گا اور مالیاتی اداروں سے امداد کیلئے درخواست کی جائے گی۔

    نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈی نیشن سینٹر کا پہلا اجلاس

    تفصیلات کے مطابق سیلاب سے نقصانات پر ابتدائی تخمینے پر مبنی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے، ابتدائی تخمینے کے مطابق ملکی معیشت کو 10 ارب ڈالر سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔

     

    سیلاب سے 2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب سے زیادہ تباہی ہوئی،لیاقت بلوچ

     

    وزیرمملکت برائے خزانہ کے مطابق پاکستان نے آئی ایم ایف، عالمی بنک، ایشیائی ترقیاتی بنک اور دیگر مالیاتی اداروں سے امداد لینے کا فیصلہ کیا ہے، مالیاتی اداروں کو وزارت منصوبہ بندی، وزارت خزانہ اور این ڈی ایم اے کی رپورٹ بھیجی جائے گی۔

    عالمی برادری پاکستان کے قرضے معاف کردے:سید خورشید شاہ

     

    ذرائع وزارت منصوبہ بندی کے مطابق سیلاب سے زراعت اور انفراسٹرکچر سمیت دیگر نقصان شامل ہیں۔ تین کروڑ 30 لاکھ سے زائد آبادی میں 10 لاکھ سے زائد مکانات کا نقصان ہوا۔

     

    شوکت ترین آپ آئی ایم ایف کی چھٹی کروارہے تھے یا پاکستان کی؟مفتاح اسماعیل

     

    وزیرمملکت برائے خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا ہے کہ مالیاتی اداروں سے امداد کیلئے درخواست کی جائے گی۔ سیلاب سے نقصان کا اندازہ ایک دو روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔

     

    سیلاب کا سب سے بڑا فائدہ،عمران خان متاثرین کی امداد کی بجائے سیلاب کے فضائل بتا آئے

  • عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    عالمی اداروں کا سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد فوری امداد کا اعلان

    عالمی تنظیموں اور مالیاتی اداروں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی اپیل پر سیلاب متاثرین کے لیے 50 کروڑ ڈالرز سے زائد کی فوری امداد کا اعلان کیا ہے۔

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

    وزیر اعظم نے سیلاب زدگان کو امداد فراہم کرنے کے لیے بین الاقوامی ڈونرز کے ساتھ اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں عالمی بینک، ایشیائی ترقیاتی بینک، بین الاقوامی مالیاتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں اور ڈونرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں چین، امریکا اور یورپی یونین کے حکام، اقوام متحدہ، عالمی ادارہ صحت کے اداروں نے بھی شرکت کی۔ وزیراعظم نے عالمی شراکت داروں کو ملک میں بالخصوص سندھ اور بلوچستان میں سیلاب سے ہونے والی تباہی کے بارے میں آگاہ کیا۔

    پاکستان دیئے گئے اہداف کو کامیابی کے ساتھ مکمل کررہا ہے:ایف اے ٹی ایف

     

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تاریخی بارشوں اور سیلاب سے ملک میں ایمرجنسی کی صورتحال ہے، بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، مکانات، املاک کے علاوہ فصلوں، باغات اور انفراسٹرکچر صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، رابطہ سڑکیں، پل بہہ جانے اور زمینی راستے کٹ جانے کی وجہ سے ریسکیو اور ریلیف کے کاموں میں مشکلات آ رہی ہیں، پاک فوج اور ہیلی کاپٹرز کی مدد سے ریسکیو اور ریلیف کا دائرہ وسیع کیا گیا ہے۔

     

    پاکستان کو بیرونی قرض کی مد میں 130 ارب ڈالرز ادا کرنے ہیں. وزیر مملکت خزانہ

     

     

    وزیراعظم نے کہا کہ 2010 سے بھی بڑھ کر سیلاب نے تباہی پھیلائی ہے، خوراک، ادویات، خیموں، عارضی پناہ گاہوں کی متاثرین کو اشد ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت، صوبوں، مرکزی و صوبائی محکموں کے اشتراک عمل سے کام کر رہی ہے، فوری طور پر 5 ارب روپے جاری کئے گئے، ہر جاں بحق کے خاندان کو 10 لاکھ روپے کی ادائیگی جاری ہے، 25 ہزار روپے کی سیلاب متاثرین کو فوری نقد ادائیگی کی جارہی ہے جس پر 80 ارب خرچ ہوں گے،

    انہوں نے کہا کہ سیلاب کی تباہی کا حجم اتنا زیادہ ہے کہ تنہا وفاقی یا صوبائی حکومتیں متاثرین کو مکمل بحال نہیں کر سکتیں، عالمی اداروں، تنظیموں، ممالک اور مالیاتی اداروں کا ہنگامی تعاون درکار ہے۔ سندھ اور بلوچستان کے بڑے حصے کو پہلے ہی آفت زدہ قرار دیا جا چکا ہے، پہلے دن سے ذاتی طور پر ریسکیو، ریلیف اور بحالی کی سرگرمیوں کی نگرانی کر رہا ہوں، وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ 2022 قائم کیا ہے تاکہ متاثرین کی امداد اور بحالی کی کوششوں میں مزید تیزی آئے۔

    انہوں نے کہا کہ عالمی مالیاتی اداروں، تنظیموں کی مدد سے متاثرین کی مدد میں بڑی مدد ملے گی، فوج، سرکاری ادارے، شہری خدمات کے محکمے، ڈاکٹرز، نرسز اور رضا کار مشکل حالات میں بڑے جذبے سے کام کر رہے ہیں، متاثرین کی مدد کرنے والے تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ سیلاب کے نتیجہ میں عوام کو پیش آنے والے مشکل حالات پر دل نہایت غمگین ہے، جلد سے جلد ہر متاثرہ پاکستانی تک پہنچنا چاہتے ہیں۔

    وزیراعظم نے انٹرنیشل پارٹنرز سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وسائل کی دستیابی سے ہماری مدد کریں۔ طبی عملے سمیت درپیش حالات سے نمٹنے کے لئے ضروری اشیاء کی فراہمی درکار ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے انٹرنیشنل پارٹنرز کو متاثرہ علاقوں کے دورے کی دعوت بھی دی،حکومت پاکستان تباہ حال علاقوں میں انٹرنیشنل پارٹنرز کے دورے کے انتظامات کرے گی۔

  • دفاعی اداروں کے خلاف مذموم مہم قابل مذمت ہے، خواجہ آصف

    دفاعی اداروں کے خلاف مذموم مہم قابل مذمت ہے، خواجہ آصف

    وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثے پر کچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر مذموم مہم چلائی۔ کچھ لوگ اداروں پر الزامات لگا کر دشمن کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ شہیدوں کو سیاسی موضوع بنانا اچھی بات نہیں۔

    پاکستان آرمی نے ہمیشہ ملک کو بحران سے نکالا،حافظ محمد طاہر اشرفی

    سیالکوٹ میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ لسبیلا میں فوجی ہیلی کاپٹرحادثے کا شکارہوا، ہیلی کاپٹرحادثے میں فوجی افسران شہید ہوئے، فوجی افسران نے سیلاب متاثرین کی امدادی کارروائیوں کے دوران جام شہادت نوش کیا، ہیلی کاپٹرحادثے پرکچھ لوگوں نے سوشل میڈیا پر مذموم مہم چلائی،دفاعی اداروں کے خلاف مذموم مہم قابل مذمت ہے، دشمن ملک کی خواہش ہے پاکستان کا دفاع کمزورہو۔ شہیدوں کو سیاسی موضوع بنانا اچھی بات نہیں، سیاست کبھی اتنی نہیں گری تھی، جتنی آج گری ہے، یہ سیاست نہیں یہ کچھ اورچیز ہے۔

     

    فوجی شہدا کی نماز جنازہ میں عدم شرکت کو متنازع بنایا جا رہا. صدر مملکت عارف علوی

     

    انہوں نے کہا کہ سانحے سے متعلق ایسے الفاظ کا استعمال پستی کی انتہا ہے، رنج وغم کا اپنا ایک تقدس ہوتا ہے،جنہوں نے ٹوئٹس کیے ان کی سرپرستی کی جاتی ہے، گالم گلوچ احسان فراموش لوگوں کا کام ہے، سوشل میڈیا پر ایسے الفاظ استعمال کیے یہ ہماری سیاسی روایات نہیں تھی، بچوں کو وہ تربیت نہ دیں وہ گالم گلوچ کریں، اگراقتداران کے پاس ہو تو سب اچھا ہوتا ہے، اگر ادارے، پولیس، نیب مخالفین کے خلاف استعمال ہو تو سب اچھا ہے۔ پاک سرزمین کی بقا کو اپنے اقتدارکے ساتھ مشروط نہ کریں، ہمیں مسلح افواج کی قربانیوں پر فخرہے، اپنے آپ کوسیاسی زعما سمجھنے والے سیاست میں تہذیب کوفروغ دیں،ایک شخص نے اقتدارچ لے جانے پر اداروں پر الزامات لگائے، سوشل میڈیا مہم کیخلاف،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ایکشن لینا ہے۔

    اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ایسا کلچرمتعارف کرایا جارہا ہے جو پاکستان کو تباہ کردے گا، وطن کے لیے جان قربان کرنے والے ہمارے محسن ہیں،قومیں اپنے محسنوں کو کبھی نہیں بھولتیں، بلوچستان کی تاریخ میں لیفٹننٹ جنرل سرفرازشہید کا نام سنہرے الفاظ میں یاد رکھا جائے گا،خدارا شہیدوں کی قربانیوں کی تحقیرنہ کریں، سوشل میڈیا پرالزام تراشی، بلاتفریق قانون حرکت میں آنا چاہیے،صدر نے شہدا کی تقریب میں شرکت نہیں کی ان کا ذاتی معاملہ ہے،مجھے نہیں پتا صدرمملکت تقریب میں شرکت کیوں نہیں کی،یہ عارف علوی اور ان کی روایات جانیں،ہم تو سیاسی مخالفین کے جنازوں میں بھی جاتے ہیں،عارف علوی کا پارٹی امیج زیادہ نظرآیا،اداروں سے اختلاف ہوسکتا لیکن ایسا رویہ ناقابل قبول ہیں۔

    وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ایک شخص نے رواداری کی سیاست کوختم کیا، یہ سیاست نہیں سیاست کے نام پردھبہ ہیں،پاکستان کواب دشمنوں کی ضرورت نہیں اندرایسے دشمن پیدا ہوچکے ہیں جودانستہ اورغیردانستہ طورپران کا کام کررہے ہیں۔

  • اداروں کو برا بھلا کہنے والوں کے ساتھ چلنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،چودھری شجاعت حسین

    اداروں کو برا بھلا کہنے والوں کے ساتھ چلنے کا سوچ بھی نہیں سکتا،چودھری شجاعت حسین

    سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ مجھے میری ہی جماعت کے عہدے سے ہٹانے کی بات نہایت مضحکہ خیز ہے ،لاہور میں جنرل کونسل کا اجلاس نہیں تھا بلکہ ملاقاتیوں کے ساتھ فوٹو سیشن کیا گیا، سچ اور زبان کے بارے میں جو قرآن کریم میں کہا گیا اسے پارٹی کا آئین بنائیں گے.

    ہم نے کسی ادارے کے کام میں مداخلت نہیں کی اداروں کی پشت پر کھڑے تھے،چیف جسٹس

    انہوں نے کہا کہ وزارتوں کے لئے پارٹی نہیں ٹوٹی، عمران خان مونس الٰہی کو وزیر نہیں بنانا چاہتے تھے ،میں نے کہا کہ ثبوت کے بغیر کوئی الزام نہیں مانوں گا ،سالک حسین نے کبھی وزیر بننے کا نہیں کہااور وہ اس بات پر راضی تھے کہ مونس الٰہی وزیر ہوں ، کچھ لوگوں نے چودھری پرویز الٰہی کو یرغمال بنایا ہوا ہے ،میرے بیٹوں پر الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ، معیشت کی بحالی کیلئے سیاسی قوتیں سیز فائر کریں ،حکومت نیشنل ڈائیلاگ شروع کرے اور سیاسی مقدمات کو کچھ عرصے کیلئے موخر کردیا جائے.

     

    عمران خان کے بچے باہر انہیں پاکستان کی ترقی سے کوئی غرض نہیں،شازیہ مری

     

    اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ میں سب سے پہلے یہ کہنا چاہوں گا سچے وہ لوگ ہیں جن کی تعریف قرآن میں کی گئی ہے ، سچوں کو فائدہ ہوگا اور سچوں کا انجام اچھا ہوگا، اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھی بنو،زبان کا استعمال قرآن شریف میں لکھا ہے اس کے مطابق کریں ،سچ اور زبان کے بارے میں جو قرآن کریم میں کہا گیا ہے ، اس کو ہم اپنی پارٹی آئین کا حصہ بنائیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے لاہور آفس میں جو کچھ کہا گیا اس کے بارے میں اتنا کہوں گا کہ اس کی کوئی آئینی اور قانونی حیثیت نہیں ، کونسل کے بارے میں کوئی باقاعدہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا جو ملاقاتی اور سائلین بیٹھے تھے انہیں ہی ممبر بنا کر اجلاس منعقد کیا گیا۔میرے بارے میں جو کہا گیا اس پر اتنا ہی کہوں گا خدا سے ڈرو۔دیگر تینوں صوبوں کے صدور اور مرکزی عہدیداران میرے ساتھ ہیں ،چودھری پرویز الٰہی بھی ہماری پارٹی کے صوبائی صدر ہیں ،انہیں چاہیے کہ وہ یہاں آکر بیٹھیں اور اس ساری صورتحال کی وضاحت دیں ۔

     

    وزیراعلیٰ کی کرسی پر بیٹھنے پر ن لیگ کا عمران خان سے معافی کا مطالبہ

     

     

    چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ میں اداروں کو برا بھلا کہنے والوں کے ساتھ کبھی بھی ساتھ چلنے کا سوچ نہیں سکتا، ان لوگوں نے غدار،میر جعفرجیسے الفاظ استعمال کئے اور اداروں کو بدنام کرنے کیلئے ایک باقاعدہ مہم شروع کی ہوئی ہے ۔چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ جنہوں نے میرے اور میرے بچوں پر تہمتیں لگائیں وہ عوامی سطح پر معافی مانگیں ، میری ساری زندگی کی کمائی ایک زبان ہی تو ہے جس کو زبان دی وہ ہمیشہ نبھائی ،مجھے اپنے بیٹوں پر فخر ہے ،وہ میرا ہر فیصلہ قبول کرتے ہیں ،عمران خان کو مونس الٰہی کو وزیر بنانے کا میں نے کہا تھا ، جب ہماری عمران خان سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ مونس الٰہی پر الزامات ہیں ،میں انہیں وزیر نہیں بنا سکتا ، میں نے کہا کہ آپ الزامات کی بات نہ کریں ،اگر ثبو ت ہیں تو دیں ۔

    چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ اس وقت ہمیں سارے اختلافات بھلا کر ملک کی گرتی ہوئی معیشت کا سوچنا ہوگا ، ڈالر تقریباً250کا ہوگیا ہے ، ملک میں سیاسی سیز فائر ہونی چاہیے اور معیشت کی بحالی کیلئے سیاستدانوں پرزیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے انہیں آگے بڑھ کر عام آدمی کیلئے اکٹھے بیٹھنا ہوگا، حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ معیشت پر نیشنل ڈائیلاگ شروع کرے اور سیاستدانوں کے خلاف کیسز کچھ عرصے کیلئے موخر کر دیں ، معیشت پر اتفاق رائے کیلئے میں سیاسی جماعتوں کے قائدین سے مشاورت کا آغاز کر رہا ہوں۔

    چوہدری شجاعت حسین کی پریس کانفرنس کے موقع پر پارٹی کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ ،وفاقی وزیر چودھری سالک حسین ، رکن قومی اسمبلی وصدر مسلم لیگ شعبہ خواتین مسزفرخ خان ،شافع حسین ،مرکزی سیکرٹری اطلاعات غلام مصطفی ملک ،مسلم لیگ سندھ کے صدر طارق حسن ،خیبرپختونخوا سے وجیہ الزمان خان ، گلگت بلتستان کے سینئر نائب صدر دلفراز خان ،بلوچستان سے ڈاکٹر رقیہ ہاشمی ، مسلم لیگ علماء مشائخ ونگ کے صدر مولانا پیر چراغ الدین شاہ سمیت چاروں صوبوں سے پارٹی عہدیداران، سنٹرل ورکنگ کمیٹی جنرل کونسل کے اراکین اور مختلف ونگز کے عہدیداران بھی موجود تھے۔

  • بلوچستان میں طوفانی بارشیں،3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ،متعلقہ ادارے الرٹ

    بلوچستان میں طوفانی بارشیں،3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ،متعلقہ ادارے الرٹ

    بلوچستان بھر میں بارشوں کا سلسلہ جاری ہے، کوئٹہ میں چھتیں اور دیواریں گرنے سے3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق اور 20 سے زاید زخمی ہوئے ہو گئے۔ مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ڈیم کے قریب دو پچیاں برساتی پانی میں بہہ گئیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کوئٹہ سمیت بلوچستان کے بیشتر اضلاع میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، کوئٹہ میں طوفانی بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے، نواحی علاقوں میں درجنوں کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے.کوئٹہ کے علاقے سریاب میں چھت اور دیواریں گرنے سے 3 خواتین سمیت 6 افراد جاں بحق ہوئے، مشرقی بائی پاس کے علاقے میں ڈیم کے قریب دو پچیاں برساتی پانی میں بہہ گئیں جن کی تلاش جاری ہے،، شہر کے مختلف علاقوں میں 20 سے زاید افراد زخمی بھی ہوئے۔ ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو ٹیموں کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاروائیاں جاری ہیں۔

    کیسکو حکام کے مطابق شہر میں بجلی مرحلہ وار بحال کی جا رہی ہے جبکہ شہر کا بڑا حصہ صبح سے بجلی سے محروم ہے۔ مشیر داخلہ و پی ڈی ایم اے میرضیا لانگو نے حالیہ بارشوں سے پیدا ہونیوالی صورتحال پر کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان میں مون سون کی بارشیں گزشتہ روز سے شروع ہوچکی ہیں، بارشوں سےاب تک کوئٹہ میں 6 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔ ضرورت کے مطابق پی ڈی ایم اے کی جانب سے بارشوں سے متاثر ہونیوالے اضلاع میں امدادی سامان بھجوایا جا رہا ہے۔

    مشیر داخلہ نے بتایا کہ بارشوں کے بعد حکومت بلوچستان، پی ڈی ایم اے اور تمام متعلقہ ادارے الرٹ ہیں جہاں جس چیز کی ضرورت ہوگی وہاں پہنچائی جائے گی تاہم ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بلوچستان کے تمام ڈویژنل اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر میں پی ڈی ایم اے کے آفس بنائے جائیں گے۔

    دوسری طرف محکمہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب اور خلیج بنگال سے مرطوب ہوائیں داخل ہونے کے نتیجے میں ملک میں گزشتہ کئی دنوں سے مون سون کی بارشوں کا سلسلہ جاری ہے،پیر کو سندھ، کشمیر اور بلوچستان سمیت ملک کے مختلف حصوں میں بارشیں ہوئیں۔ سب سے زیادہ بارش بالا کوٹ میں40 ملی میٹر ہوئی۔ سرجانی کراچیاور سکھر میں 23 جبکہ جیکب آباد میں 19ملی میٹر بارش ہوئی۔ بلوچستان میں سب سے زیادہ بارش لسبیلہ میں 33 ملی میٹر، جبکہ کوئٹہ اور پنجگور میں 22 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔محکمہ موسمیات نے خبردار کیا کہ آئندہ دو دنوں تک بلوچستان، پنجاب، سندھ اور کشمیر میں بارشوں کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

  • ملک بنانا ریپبلک بن چکا،مجال ہےعدلیہ سمیت کسی ادارے نے نوٹس  لیا ہو،مصطفیٰ کمال

    ملک بنانا ریپبلک بن چکا،مجال ہےعدلیہ سمیت کسی ادارے نے نوٹس لیا ہو،مصطفیٰ کمال

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ عام آدمی کی حالت زار پر حکومت، اپوزیشن، کسی سیاسی جماعت، عدلیہ اور ادارے کا دھیان نہیں۔ سب کو صرف اپنی ذات کی پڑی ہوئی ہے۔ غریب پورا دن مزدوری کرکہ شام کو گھر واپس لوٹے تو 16 گھنٹے بجلی نہیں، صبح پانی نہیں، بچوں کی تعلیم جاری رکھنے کے لیے پیسے نہیں ، بیمار ہوجائے تو ہسپتال تک جانے کے پیسے اسکے پاس نہیں لیکن اسے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، سب حکومت سنبھالنے اور گرانے میں لگے ہوئے ہیں۔

    کراچی ڈسٹرکٹ ایسٹ سے پی ایس پی کے بلدیاتی امیدواران سے خطاب کرتے ہوئےمصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ملک چلانے والوں کی بے حسی اور خود غرضی نے غریب طبقے کو خودکشیوں پر مجبور کردیا ہے۔ سنا تھا کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے لیکن صد افسوس کہ پاکستان میں اس وقت ریاست نام کی چیز نہیں ہے۔ جنگل کا قانون رائج ہے، جس کی لاٹھی اس کی بھینس، اس کا بدترین عملی نمونہ حالیہ بلدیاتی انتخابات اور این اے 240 کا ضمنی انتخاب ہیں جہاں ایک جانب حکومت، انتظامیہ، الیکشن کمیشن، پولیس اور ڈاکو مل کر پیپلز پارٹی کو جتانے کے لیے سرگرم تھے، ڈاکو بیلٹ باکس لے کر فرار ہو گئے، پولیس پیپلز پارٹی کے انتخابی نشان پر ٹھپے لگاتی رہے وہیں این اے 240 کے ضمنی انتخاب میں بدترین دھاندلی کی گئی.

    پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ملک بنانا ریپبلک بن چکا لیکن مجال ہے کہ عدلیہ سمیت کسی ادارے نے نوٹس تک لیا ہو۔ پہلے عمران خان کی حکومت چلانے کے لیے پیپلزپارٹی کو کھلی چھوٹ دے دی گئی تھی اب شہباز شریف کی حکومت چلانے کے لیے پیپلزپارٹی کو سندھ میں کلین چٹ تھما دی گئی ہے۔ عام آدمی نااہل اور کرپٹ حکومتوں سے تو پہلے ہی مایوس تھا لیکن اب ریاست سے مایوس ہو رہا ہے، یہ تو الله کا شکر ہے کہ پاکستانی قوم محب وطن ہے بصورت دیگر حالات قابو سے باہر ہوتے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ اپنا مئیر لانے کی خواہشمند تمام سیاسی جماعتیں پچھلے کئی سالوں سے بلدیاتی نظام حکومت میں موجود ہیں، انکے چئیر میینز، وائس چئیر مینز، کونسلرز موجود ہیں لیکن کراچی اور حیدرآباد کے حالات بدترین ہوگئے۔ یہ تمام سیاسی جماعتیں فیل ہوچکی ہیں کیونکہ نعرے مارنے سے مسائل حل نہیں ہوتے۔ اہلیان کراچی و حیدرآباد کو سمجھنا ہوگا کہ اگر مسائل حل کرنے کا کسی کے پاس تجربہ، اہلیت اور کردار ہے تو وہ صرف ہمارے پاس ہے، ہم ہی کراچی کو ٹھیک کرسکتے ہیں.

    مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ملک چلانے والے پاکستان کی معاشی شہ رگ پہ رحم کریں اور مزید تجربات سے گریز کریں۔ پاک سرزمین پارٹی کے نمائندوں کو کامیاب بنائیں، قوم لسانیت اور فرقہ پرستی سے باہر نکلے۔ پیپلز پارٹی نے اپنے ایڈمنسٹریٹر کے باوجود کراچی کو رہنے کے لائق دنیا کے 7 بدترین شہروں سے 5 بدترین شہروں میں شامل کرا دیا ہے۔ انتخابات قریب آتے ہی ہر جماعت کو کراچی یاد آ جاتا ہے۔ کراچی والوں کو اب ان نعروں سے بیوقوف نہیں بنایا جاسکتا۔

  • پی ٹی آئی کی حکومت نے تمام ادارے تباہ کئے،رانا ثناءاللہ

    پی ٹی آئی کی حکومت نے تمام ادارے تباہ کئے،رانا ثناءاللہ

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہاہے کہ ساڑھے3 سال ملک پر مسلط رہنے والے نااہل اور نالائق ٹولہ نے ملکی ترقی و بہتری کیلئے کوئی کام نہیں کیااور اپنی ساری توجہ اپوزیشن کی کردار کشی اور بلاجواز الزام تراشیوں سمیت انتقامی کاروائیوں پر مرکوز رکھی جس سے ملکی معیشت کا جنازہ نکل گیا اور ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گیا جس پر ہمیں مجبوراً اقتدار سنبھالنا پڑا اوراپنی سیاست داؤ پر لگاتے ہوئے ریاست بچانے کیلئے نہ چاہنے کے باوجود مشکل فیصلے کرنا پڑے کیونکہ اگر ہم مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ جاتا۔

    فیصل آباد میں مہر حامد رشید کے ڈیرہ پر پارٹی ورکرز سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ہم تمام ملکی اداروں کا احترام کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ ملک و قوم کے بہترین مفاد میں تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ نااہل اور نالائق ٹولہ نے اپنے دور اقتدار میں اپنے انتخابی نعروں اور وعدوں پر عمل کی بجائے صرف اپنے مخالفین کے خلاف جھوٹے و بے بنیاد مقدمات درج کروائے اور یہی کہتا رہا کہ میں کسی کو نہیں چھوڑوں گا۔

    انہوں نے کہا کہ نیازی اپنی انتقامی کارروائیوں میں اتنا آگے چلا گیا کہ امریکہ جا کر بھی ایسی ہی باتیں کرتا رہالیکن اسے جب مخالفیں کے خلاف کچھ نہیں ملا تو اس نے ان کے خلاف جھوٹا ہیروئن کی برآمدگی کا مقدمہ بنوادیا۔رانا ثناللہ نے کہا کہ انہی انتقامی کارروائیوں کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ کی طرف پہنچ گیا کیونکہ انہوں نے ملکی معیشت کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی۔

    انہوں نے کہا کہ نیازی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایسا معاہدہ کیا جس کے اثرات مشکل فیصلوں کی صورت میں ہماری حکومت پر پڑ رہے ہیں لیکن اگر ہم یہ مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ جاتا اور سب جانتے ہیں کہ جب کوئی ملک ڈیفالٹ کرجا ئے تو اس ملک کا غریب اور متوسط طبقہ پس جاتا ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمارے قائد شہباز شریف اور ہماری جماعت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں ہرگز نہیں بڑھانا چاہتی تھی اسلئے ہم نے دوسرے ملکوں کو بھی آئی ایم ایف کے ساتھ بٹھایا کہ ہم کسی اور طرح سے آپ کے پیسے پورے کردیتے ہیں لیکن آئی ایم ایف نہیں مانااور اس نے کہاکہ جوپہلی حکومت نے معاہدہ کیا ہوا ہے اسے ہی پورا کرنا ہوگا تب جا کر یہ مشکل فیصلے کرنا پڑے اور ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایالیکن ہم اب بھی اپنی پوری کوشش کررہے ہیں کہ معیشت میں بہتری آئے اور پاکستان 2018سے پہلے والی ترقی کی راہ پر گامزن ہو جس میں عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف مل سکے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت نے دہشت گردی پر قابو پایا،لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا جبکہ اب جو لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے وہ وقت پر گیس نہ لینے کی وجہ سے ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت کے دور میں ڈی سی اور اے سی بھی رشوت دے کر لگتے تھے اس طرح تمام ادارے تباہ کئے گئے لہٰذا ایسے حالات میں عدم اعتماد کا فیصلہ کیا گیا۔

    انہوں نے کہا کہ جنہوں نے دھرنوں اور جلاؤ گھیراؤ کے ارادے بنائے تھے 25مئی کو ان کا شافی علاج کردیاگیا جبکہ پورے ملک کو ڈندے کے زور پراپنی صوابدید کے تحت چلانے کے ارادوں کو ہم نے ایساروکا کہ اب مارچ کا نام نہیں لیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ ان کے کسی علاقے میں بھی17یا 18سو سے زائد لوگ باہر نہیں نکلے ۔رانا ثنااللہ نے کہا کہ اعلیٰ عدلیہ نے پریڈ گراؤنڈ کو پر امن احتجاج کیلئے مختص کیا ہوا ہے اور چونکہ پرامن جلسہ و احتجاج ہر کسی کا حق ہے اسلئے کسی کو نہیں روکا جائے گالیکن کسی کو بھی قانون ہاتھ میں لینے یا افراتفری پھیلانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

  • اقتدار جانے کا غم ابھی باقی،علی امین گنڈا پور کا گرڈ سٹیشن پر قبضے کا اعلان

    اقتدار جانے کا غم ابھی باقی،علی امین گنڈا پور کا گرڈ سٹیشن پر قبضے کا اعلان

    اقتدار جانے کا غم ابھی باقی،علی امین گنڈا پور کا گرڈ سٹیشن پر قبضے کا اعلان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریک انصاف کی جب سے وفاقی حکومت ختم ہوئی، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنما و کارکنان ابھی تک بوکھلائے ہوئے ہیں اور انہیں سمجھ نہیں آ رہی کہ کیا کریں

    کبھی لانگ مارچ کا اعلان ہوتا ہے،لانگ مارچ میں کوئی نہیں نکلتا تو عمران خان خاموشی سے واپس خیبر پختونخواہ کی راہ لیتے ہیں، پھر سپریم کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ ہمیں تحفظ دیا جائے، گرفتاری کے ڈر سے بنی گالہ چھوڑ کر خیبر پختونخوا میں ڈیرے ڈال لیتے ہیں، کبھی خود کو قتل کی سازش کا انکشاف کرتے ہیں تو کبھی پاکستان ٹوٹنے کا بیان دیتے ہیں، اسی طرح عمران خان کے ہمنوا بھی بوکھلائے ہوئے ہیں، تحریک انصاف کی قیادت، کارکنان نے حکومت جانے کے بعد اداروں کو نشانہ بنایا ہوا ہے ،ملکی سلامتی کے اداروں پر تنقید جاری ہے،ایسے عناصر کے خلاف کڑی کاروائی کی ضرورت ہے،

    وزیراعظم آزاد کشمیر کا علی امین گنڈا پور پر30کروڑ لے کرسازش کرنے کا الزام

    دوسری جانب گزشتہ روز تحریک انصاف نے ملک کے کئی شہروں میں احتجاج کا اعلان کر رکھا تھا، عمران خان خود بنی گالہ میں تھے اور کارکنان سڑکوں پر تھے، شیخ رشید خود بارش میں نکلے اور چند لوگوں سے خطاب کیا کیونکہ لوگ نہیں آئے، کئی شہروں میں احتجاج ہوا اس احتجاج کے دوران تحریک انصاف کے رہنما علی امین گنڈا پور نے ڈیرہ گرڈ سٹیشن پر قبضہ کا اعلان کیا ہے، تحریک انصاف کے زیر اہتمام مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈہ پوا کا کہنا تھا کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر یہاں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ نہ کیا گیا تو ہم ڈیرہ اسماعیل خان کے مین گرڈ پر قبضہ کر لینگے کل تک تمام کارکنان لوڈشیڈنگ کے بارے واٹسپ گروپوں میں رپورٹ شیئر کریں، پرسوں سے میں گرڈ کا بٹن خود دبائوں گا،ایکسین ،ایس ڈی او، سپرینڈیںٹ اور لین مین میرا اپنا ہو گا،مولانا اور شہاز شریف آجانا مجھے روکنا،میں اعلان کر کے آ رہا ہوں

    علی امین گنڈاپور کے دہشت گردوں سے روابط اور خودکش حملے کرانے کا انکشاف

    علی امین گنڈا پور کی جانب سے ڈیرہ گرڈ سٹیشن پر قبضے کا اعلان اس پر حکومت کو نوٹس لینا چاہئے، کیا پاکستان میں قانون صرف غریب کے لئے ہے، علی امین گنڈہ پور لوگوں کو اکسا رہے ہیں کہ وہ غلط کام کریں اور ریاست کے اثاثوں پر حملے کریں، قبضے کریں، یہ روش کسی صورت درست نہیں ہے، 3 سال 7 ماہ ، تحریک انصاف کے دور حکومت میں جو لوڈ شیڈنگ تھی اس وقت علی امین گنڈہ پور کیوں گرڈ سٹیشن پر قبضہ نہیں کر رہے تھے، حکومت اور اداروں کو ایسے بیانات کا نوٹس لے کر فوری کاروائی کرنی چاہئے،

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید

    وادی تیراہ میں ضلعی انتظامیہ اور سیکیورٹی فورسز کے باہمی اشتراک سے "باغ امن میلہ” کا انعقاد