Baaghi TV

Tag: ادب

  • تُرک مصنفہ خالدہ ادیب خانم

    تُرک مصنفہ خالدہ ادیب خانم

    خالدہ ادیب خانم

    ترکی کی تاریخ میں جس طرح مصطفٰی کمال پاشا، انور پاشا اور طلعت پاشا کے نام نمایاں ہیں۔ اسی طرح خواتین میں خالدہ ادیب خانم المعروف خالدہ ادیب آدیوار کا نام بھی ناقابل فراموش ہے، خالدہ ادیب خانم 1884ء میں پیدا ہوئیں، آپ سلطان عبدالحمید کے وزیر خزانہ عثمان ادیب پاشا کی دختر تھیں، 1889ء میں آپ نے تعلیم کا آغاز کیا اور ابتدائی تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد 1910ء میں بی اے کا امتحان نہایت اعلیٰ نمبروں کے ساتھ پاس کیا، دورانِ تعلیم آپ کی شادی آپ کے پروفیسر صحافی احمد صالح سے ہوگئی، ان کے شوہر نے چند سال بعد دوسری شادی کر لی، خالدہ خانم نے اس بات کو نا پسند کرتے ہوئے خلع لے کر شاہی فوج کے ڈاکٹر خالد بے سے شادی کر لی لیکن کچھ عرصہ بعد ڈاکٹر خالد بے کا انتقال ہو گیا۔

    خالدہ خانم نے لکھنے لکھانے کا سلسلہ کم عمری سے ہی شروع کر دیا تھا محض سولہ سال کی عمر میں آپ نے ”ترکی پردے‘‘ پر ایک نہایت عمدہ کتاب لکھی اور بعد میں افسانہ نگاری شروع کر دی۔ ان کے اسلوبِ بیان میں ایسی ندرت اور تازگی تھی کہ انہوں نے بہت جلد ترقی کر کے افسانہ نگاروں کی صف اول میں جگہ حاصل کر لی۔ آپ کے افسانوی مجموعوں کی نہ صرف ترکی بلکہ یورپ میں بھی خوب پذیرائی ہوئی اور روسی، فرانسیسی، جرمن، انگریزی اور عربی زبان میں ان کے تراجم ہوئے، خالدہ خانم نے جب شاعری کی جانب توجہ کی تو قلیل مدت میں اس شعبہ میں بھی مہارت اور شہرت حاصل کر لی، 1935 میں خالدہ ادیب خانم نے ڈاکٹر ایم اے انصاری کی دعوت پر ہندوستان کا دورہ کیا اور ”درونِ ہند‘‘ کے عنوان سے اپنی یادداشتیں لکھیں۔

    خالدہ خانم اگرچہ ادبی مشاغل میں مصروف تھیں لیکن ان کے اندر ایک مصلح بھی چھپا ہوا تھا۔ وہ ترکی کی خواتین میں جدید خیالات کا فروغ چاہتی تھیں، اس مقصد کے یئے انہوں نے ملک میں چھوٹی چھوٹی نسوانی انجمنیں قائم کیں۔ وزارتِ تعلیم پر زور دیا کہ ترک عورتوں کو جدید تعلیم حاصل کرنے کی سہولیات بہم پہنچائے ان سرگرمیوں کی بدولت خالدہ ادیب خانم ترکی میں باوقار خاتون رہنما تسلیم کی گئیں اور ترکوں کا ہر حلقہ ان کو قدر کی نگاہ سے دیکھنے لگا۔

    ترکی میں سلطان عبدالحمید خان کی حکومت تبدیل ہوئی تو نوجوانانِ ترکی اپنے ملک کو ترقی دینے کی کوششوں میں مصروف ہوگئے۔ خالدہ خانم کی کوششوں کی بدولت مدبرین ترکی مطالباتِ نسواں کے حامی ہوگئے۔ اس مقصد کے لیے خالدہ خانم نے ترکی کے اخبارات میں مضامین لکھے جن کا خاطر خواہ اثر سامنے آیا۔ ترکی کی دستور پسند جماعت کی حمایت میں انہوں نے یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں مضامین کا سلسلہ شروع کیا۔ امریکہ کے اخبارات نے ان مضامین کو نہایت فخر کے ساتھ شائع کیا اور کہا کہ یہ ہمارے ہی کالج کی ایک معلمہ ہیں جو آج اپنے ملک میں رہنما کی حیثیت اختیار کر گئی ہیں۔

    انور پاشا اور طلعت پاشا نے خالدہ خانم کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کو سیاسی آئین وضوابط کی تشکیل میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا۔ جلد ہی خالدہ خانم کو شام کے صوبے میں تعلیمات کی وزیر مقرر کیا گیا آپ نے ایک جامع لائحہ عمل مرتب کیا اور ملک میں ابتدائی مدارس اور ہائی سکولوں کاجال بچھا دیا، علاوہ ازیں یتیم خانے قائم کئے، مذہبی تبلیغ کا بندوبست کیا، ارمن اور کرد بچوں کی تعلیم پر خاص توجہ دی۔ شام کے گورنر جنرل جمال پاشا ان سے سیاسی معاملات پر مشورے بھی کرتے تھے۔

    آپ شام میں ہی تھیں کہ پہلی جنگ عظیم بھڑک اٹھی۔ آپ شام سے ترکی کے دارالحکومت استنبول آگئیں اور وزارتِ دفاع کی امداد میں مصروف ہوگئیں۔ آپ نے امریکہ کے اخبارات میں مضامین لکھے اور وہ مجبوریاں بیان کیں جن کی بناء پر ترکی کو جنگ میں شامل ہونا پڑا۔ ”نیویارک ٹائمز‘‘ نے ان کے مضامین کو نہایت قدرووقعت کے ساتھ شائع کیا۔ اسی دوران ترکوں کی وحدت یا پان توران ازم پر ان کی کتاب بہت مقبول ہوئی۔ اس کتاب میں ترکوں کی شجاعت کے جذبات کو اس طرح ابھارا گیا تھا کہ حکومت نے فوج میں اس کتاب کے ہزاوروں نسخے تقسیم کرائے۔ جنگ کے دور میں خالدہ خانم ترکی کی سراوٴں اور مساجد میں جاتیں اور ان کی امداد واعانت کے علاوہ لوگوں کی حوصلہ افزائی بھی کرتیں۔

    1918ء میں خالدہ خانم نے غیور اور قوم پرست لیڈر عدنان بے شادی کر لی۔ وہ انجمن اتحاد ترقی کے ممتاز ممبر اور محترم رہنما خیال کیے جاتے تھے۔ عدنان بے بعد میں انقرہ میں لارڈ چیف جسٹس کے عہدے پر بھی کام کرتے رہے اور پھر دولت انقرہ کی طرف سے انقرہ کے گورنر جنرل بھی مقرر کیے گئے۔ پہلی جنگ عظیم کا خاتمہ ہوا تو ترکوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ دیئے گئے۔ قسطنطنیہ پر اتحادی افواج کا قبضہ ہوگیا۔ قوم پرست خاص طور پر ان کا نشانہ بنے۔ اس دوران آزاد ترکی کے لیے مصطفٰی کمال پاشا نے جدوجہد جاری رکھی تو خالدہ خانم نے ان کے حق میں قسطنطنیہ میں لاکھوں کے مجمعوں میں آ تش بار تقاریر کیں، یہاں تک کہ کٹھ پتلی وزیراعظم کو آپ کی گرفتاری کا حکم دینا پڑا۔ آپ اپنے شوہر کے ساتھ نہایت تکالیف سے گزریں اور خفیہ طور پر مصطفٰی کمال پاشا سے جا ملیں۔ مصطفٰی کمال پاشا نے آپ کی قدر کی اور آپ کو ملک کی وزیرِ تعلیمات مقرر کیا۔ آپ نے ایک بار پھر اصلاحی اور تعلیمی کاموں کا سلسلہ شروع کیا۔

    جولائی 1921ء تک آپ کی سیاسی و تعلیمی خدمات کا سلسلہ جاری رہا۔ انہی دِنوں اطلاعات ملیں کہ یونانی لشکر انقرہ پر حملہ کرنے والا ہے تو پورے اناطولیہ میں مصطفٰی کمال پاشا کی قیادت میں دفاعِ وطن کا جذبہ پورے جوش و خروش کے ساتھ بیدار ہو گیا۔ اس موقع پر خالدہ خانم نے مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ترک خواتین کے میدان میں لانے کا فیصلہ کیا اور اس مقصد کے لیے انہوں نے ایک جنگی سکیم بھی تیار کی جس کا مقصد ترکی خواتین کو باقاعدہ لشکر میں بھرتی کیا جانا تھا.

    خواتین کا لشکر مردوں کے لشکر کے پیچھے رسد، بار برداری اور زخمیوں کی طبی امداد کے فرائض انجام دینے کے لیے تیار ہواتھا۔ خالدہ خانم نے اس مقصد کے لیے پورے ملک کا طوفانی دورہ کیا۔ ہزاروں عورتوں کو فوج میں بھرتی کیا۔ وزارتِ جنگ نے ان کی فوجی تربیت کا انتظام کیا۔ جب ہزاروں خواتین کو فوجی تربیت دی جا چکی تو ان کے باقاعدہ فوجی دستے بنا دیئے گئے۔ یہ دستے اناطولیہ میں پُلوں، تارگھروں اور ریلوے سٹیشنوں کی حفاظت کی خدمات انجام دینے لگے۔

    خواتین کے فوجی دستوں نے یونانیوں پر نہایت کامیاب شب خون مارے۔ جب ستمبر 1921ء میں یونانیوں کا سب سے بڑا فوجی حملہ ہوا تو خالدہ خانم یہ نفس نفس میدانِ جنگ میں موجود تھیں اور نسوانی دستہ بھی ان کے ہمراہ تھا۔ اسی طرح ایک مشہور لڑائی میں جہاں فیلڈ مارشل عصمت پاشا فوج کی کمان کر رہے تھے، خالدہ خانم مجاہدین کے عقب میں اپنے نسوانی لشکر کے ساتھ موجود تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ اگر غازی عصمت پاشا، نسوانی لشکر کو پیش قدمی سے روک نہ دیتے تو خالدہ خانم یقیناً اس جنگ میں شہید ہو جاتیں کیوں کہ ان کا جوشِ جہاد بہت زیادہ بڑھا ہوا تھا۔

    یورپ اور امریکہ کے اخبارات میں ترک خواتین کی عسکریت اور خالدہ خانم کی قیادت پر حیرانی کا اظہار کیا گیا۔ وہ پہلے ہی ترکی میں ایک خاتون کو وزیر تعلیم کے تعینات کیئے جانے پر حیران تھے۔ 19 اکتوبر کو رافت پاشا نے اعلان کیا کہ کہ قسطنطنیہ پر ترکانِ احرار کا قبضہ ہو چکا ہے اور اتحادی رخصت ہو چکے ہیں۔ آخر جنوری 1922ء میں ڈاکٹر عدنان بے کو حکم دیا گیا کہ وہ جا کر رافت پاشا سے گورنری کا چارج لے لیں۔ چنانچہ خالدہ خانم اپنے جلیل القدر شوہر کے ساتھ اناطولیہ سے قسطنطنیہ پہنچ گئیں۔

    خالدہ خانم نے تمام عمر ترکی کی خدمت میں گزاری۔ وہ ترکی میں جمہوری نظریات کے فروغ کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار تھیں۔ وہ امریکن گریجویٹ ہونے کی بناء پر مغربی طرزِ زندگی کی عادی تھیں لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ مغربی حکومتیں ترکی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کر رہیں تو انہوں نے ترکی لباس اور رہن سہن کو اپنا لیا۔ خاص طور پر میدانِ جنگ میں وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سنت میں سیاہ عمامہ باندھتیں تو فوجیوں میں جوش وخروش کی لہر دوڑ جاتی۔ آپ نے ستر سال سے زیادہ عمر پائی اور 9 جنوری 1964ء کو آپ کا انتقال ہوا۔

    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)قمیص من نار-1923
    ۔ (2)اندرون ہند-1937
    ۔ (3)ترکی میں مشرق و مغرب کی کشمکش
    ۔ 1938
    ۔ (4)اندرون حیدرآباد-1939
    ۔ (5)پیراہن آتشین
    ۔ (6)دختر سمرنا
    ۔ (7)ربیعہ

  • سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار،ظفر محمود لاشاری

    سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار،ظفر محمود لاشاری

    سرائیکی زبان کے پہلے ناول نگار

    سرائیکی زبان و ادب کے پہلے ناول نگار ، ممتاز افسانہ نویس ، ڈرامہ نگار اور ماہرِ تعلیم ، صدارتی ایوارڈ یافتہ ادیب ظفر محمود لاشاری صاحب 9 دسمبر 1948ء کو احمد پور شرقیہ کے نواحی علاقے محراب والا میں پیدا ہوئے۔ ظفر محمود لاشاری کے والد محمد ابراہیم خان ویٹرنری ڈاکٹر تھے، ظفر محمود لاشاری نے ابتدائی تعلیم احمد پور شرقیہ سے حاصل کی، 1967ء میں میٹرک کیا، ایس ای کالج بہاول پور میں ایف ایس سی کے لئے داخلہ لیا لیکن بیماری کی وجہ سے تعلیم ادھوری چھوڑ دی، میٹرک کے بعد چنی گوٹھ میں پی ٹی سی ٹیچر کے طور پر اپنی ملازمت کا آغاز کیا۔ اس دوران اپنی تعلیم جاری رکھی، پرائیویٹ طور پر ایم اے پنجابی، ایم اے سرائیکی اور ایم ایڈ کیا، پی ٹی سی ٹیچر سے ترقی کرتے ہوئے مڈل سکول کے ہیڈماسٹر بعد ازاں ایس ایس ٹی کے طور پر 2008ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔

    کسی بھی لکھاری کے لئے یہ بہت بڑا اعزاز ہوتا ہے کہ وہ کسی صنف ادب کا اولین لکھاری شمار کیا جائے، سرائیکی زبان میں سب سے پہلا ناول نگار ہونے کا اعزاز ظفر محمود لاشاری کو حاصل ہے، ظفر محود لاشاری کا پہلا ناول "نازو” 1971ء میں سرائیکی ادبی مجلس بہاول پور کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھا گیا یہ ناول 1975ء سے 1985ء تک پنجاب یونیورسٹی لاہور کے ایم اے پنجابی کے نصاب میں پڑھایا جاتا رہا۔ ظفر محمود لاشاری کا دوسرا سرائیکی ناول "پہاج” 1987ء میں پنجابی ادبی بورڈ کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ اس ناول کا آدھا حصہ بی اے کے سرائیکی نصاب میں شامل ہے جبکہ مکمل ناول اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے ایم اے سرائیکی کے نصاب میں شامل ہے۔ ظفر لاشاری صاحب کا 16 مارچ 2020 میں انتقال ہوا۔

    ظفر محمود لاشاری کا ناول "پہاج” 1974ء سے 1980ء تک ماہنامہ "سرائیکی ادب” ملتان میں 40 اقساط میں بھی شائع کیا گیا۔ ظفر محمود لاشاری نے سرائیکی افسانہ نویسی سے اپنے ادبی کیریئر کا آغاز کیا، ان کا افسانوں کا مجموعہ "تتیاں چھاواں” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ خطے کے نامور سرائیکی شاعر حضرت جانباز جتوئی پر ان کی کتاب "جانباز جتوئی: حیاتی تے فن” کے نام سے شائع ہو چکی ہے۔ ظفر محمود لاشاری نے پنجاب یونیورسٹی لاہور کے زیر اہتمام ایم ایڈ کے لئے جو مقالہ لکھا، اسے بھی پنجابی ادبی بورڈ نے "خواجہ فرید کے تعلیمی نظریات” کے نام سے شائع کیا۔

    "سرائیکی لوک سہرے” ظفر محمود لاشاری کی مرتب کردہ ایسی کتاب ہے جس میں صدیوں پرانے سرائیکی سہرے شامل کئے گئے ہیں۔ اہم ترین ثقافتی مواد پر مشتمل اس گرانقدر کتاب کو "لوک ورثہ اسلام آباد” نے شائع کیا ہے۔ یہ کتاب بھی اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور کے ایم اے سرائیکی کے نصاب میں شامل ہے۔

    ظفر محمود لاشاری نے اپنے ادبی کیریئر میں سٹیج ڈرامے بھی لکھے، ظفر محمود لاشاری کو یہ اعزاز بھی حاؒصل ہے کہ انہوں نے 1989ء میں ایم اے سرائیکی کا امتحان دیا تو ایک سوال میں ناول "نازو” کے کرداروں پر تبصرہ کرنے کو کہا گیا۔ اسی طرح 1990ء میں ایم اے پنجابی کیا تو اس بار بھی امتحان میں ایک سوال ان کے ناول کے حوالے سے ہی کیا گیا۔

  • قفس کو کھولو تو اڑ کر تمھیں دکھاؤں گی، میں آسمان سے اونچی اڑان رکھتی ہوں

    قفس کو کھولو تو اڑ کر تمھیں دکھاؤں گی، میں آسمان سے اونچی اڑان رکھتی ہوں

    شباب ، رنگ حنا، حسن، کچھ نہیں باقی
    ہے آج ہجر کا موسم بہار تھوڑی ہے

    فرح کامران

    نیو جرسی، امریکہ سے تعلق رکھنے والی اردو شاعرہ اور نثر نگار فرح کامران کی پیدائش 31 اگست 1978 کو کراچی میں ہوئی مگر ان کی زندگی اسلام آباد میں گزری- 2001 میں وہ اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ امریکہ منتقل ہوگئیں۔ تراجم کے شعبے سے عملی وابستگی جہاں ان کے ادبی ذوق کو ابھارتی رہی وہیں ان کے گھر کے ماحول میں بھی شعر و ادب رچا بسا تھا- ان کے شوہر کامران ندیم اردو کے مقبول شاعر تھے جو کینسر کے مرض کے باعث 2015 میں انتقال کر گئے- اسی موڑ سے فرح کامران کے ادبی سفر کا آغاز ہوا اور وہ امریکہ کی ادبی محفلوں میں شامل ہوئیں اور جلد ہی اپنی پہچان مستحکم کر لی-

    فرح کے والد سید خورشید مصطفیٰ کا تعلق الٰہ آباد سے تھا اور وہ سینٹرل بورڈ آف ریونیو میں جوائنٹ ڈائریکٹر تھے- فرح کامران نے ابتدائی تعلیم اسلام آباد سے حاصل کی اور پھر پنجاب یونیورسٹی سے اکنامکس میں ایم اے کیا- بعد میں انہوں نے نیو جرسی امریکہ سے ایجوکیشن میں بھی ایم اے کی ڈگری حاصل کی-

    فرح کامران نظم اور غزل، دونوں میں یکساں دلچسپی رکھتی ہیں اور دونوں ہی جگہ اپنا منفرد اسلوب بھی رکھتی ہیں- شاعری کے علاوہ وہ نثر سے بھی وابستہ ہیں اور افسانہ، مضمون اور تنقید نگاری ان کے میدان ہیں- فرح کامران کو نظامت کا اختصاص بھی حاصل ہے اور اکثر ادبی تقریبات اور مشاعروں کی میزبانی بھی کرتی ہیں- اپنی ادبی سرگرمیوں کے علاوہ فرح کامران سماجی میدان میں بھی سرگرمِ عمل ہیں اور کامران ندیم فاؤنڈیشن کی روحِ رواں بھی ہیں- وہ “فرح کامران، ارباب ذوق کے ساتھ” کے عنوان سے سب رنگ ٹی وی کے پروگرام کی میزبانی بھی کرتی رہیں- ان کی شعری و نثری تخلیقات امریکہ اور دیگر ممالک کے رسائل و جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں-

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    حافظے کا سب ورثہ چھوڑنے پہ راضی ہوں
    یاد کی گلی میں بس اک مکان رہنے دو

    اس اعتماد سے رکھا ہے آسماں پہ قدم
    کہ اب گری تو میں گر کر سنبھل بھی سکتی ہوں

    قفس کو کھولو تو اڑ کر تمھیں دکھاؤں گی
    میں آسمان سے اونچی اڑان رکھتی ہوں

    موجِ خوں ساحلِ مژگاں پہ ٹھہرتی ہی نہیں
    ایسا طوفان اٹھاتی ہے یہ ڈھلتی ہوئی شام

    کہیں بات درد و الم کی ہو، مری داستانِ الم سنا
    کہیں گھر اجڑنے کا ذکر ہو مرے آشیانے کی بات کر

    کشتِ جاں میں رات بھر بوتی رہی تخمِ خیال
    صبح دم نخلِ تخیل پر کھلے غنچے نئے

    شباب، رنگِ حنا، حسن، کچھ نہیں باقی
    ہے آج ہجر کا موسم، بہار تھوڑی ہے

  • اردو کے ممتاز ہندوستانی شاعر ارتضی نشاط

    اردو کے ممتاز ہندوستانی شاعر ارتضی نشاط

    کرسی ہے، تمھارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
    کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

    اردو کے ممتاز ہندوستانی شاعر ارتضی نشاط 6 ماہ کی طویل علالت کے بعد 84 سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال کر گئے ۔ ارتضی نشاط 15 اکتوبر 1938 میں اردو کے نامور شاعر رضا حسین شاہد کے گھر بدایوں میں پیدا ہوئے ۔ نشاط صاحب کے والد بھی شاعر، دادا مسکین حسین مسکین بدایونی بھی شاعر اور پر دادا خادم حسین خادم بدایونی بھی معروف شاعر تھے۔ نشاط کے والد رضا حسین شاہد آل انڈیا ریڈیو میں بحیثیت پروڈیوسر ملازم تھے انہوں نے 1950 کی دہائی میں بدایوں سے نقل مکانی کر کے ممبئی میں مستقل بنیادوں پر رہائش اختیار کی ۔ نشاط نے ابتدائی تعلیم بدایوں میں حاصل کی اور مزید تعلیم ممبئی میں حاصل کی ۔

    تعلیم سے فراغت کے بعد نومبر 1957 میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ماتحت الیکٹرک پاور سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بطور کلرک ملازمت حاصل کی ۔ 1987 میں ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد روزنامہ انقلاب ممبئی میں بطور فیچر ایڈیٹر اور قطع نگار ملازمت اختیار کی ۔ پاکستان میں رئیس امروہوی کی طرح ہندوستان میں نشاط نے روزنامہ انقلاب میں روزانہ کی بنیاد پر حالات حاضرہ کے مطابق قطع نگاری کی بنیاد ڈالی۔ ارتضی نشاط گزشتہ نصف صدی سے ہندوستانی شعر و ادب کے میدان میں نہایت فعال اور مقبول ترین شعراء کی فہرست کے صف اول میں شامل رہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق
    ارتضی نشاط صاحب کے اب تک 4 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں "ریت کی رسی” ، ” کہرام” ، "تکذبان” اور ، ” واقعی” شامل ہیں جبکہ ان کا پانچواں شعری مجموعہ "غزل دل ربا ہے مری” زیر طباعت ہے ۔ نشاط کو کئی کتابوں پر سرکاری ایوارڈ مل چکے ہیں ۔ غیر سرکاری سطح پر بھی ان کی ادبی خدمات کو سراہا گیا ہے ۔ روزنامہ انقلاب (ممبئی) میں ان کے قطعات الف ۔ نون کے نام سے بلا ناغہ 48 سالوں تک شائع ہوتے رہے ہیں ۔

    ارتضی نشاط کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فسادی شرپسندوں میں کتابیں بانٹ دی جائیں
    کہ ملبے سے کسی بچے کا اک بستہ نکلتا ہے

    ہر طرف تھا سمندر مگر
    ہر زمیں کربلا سی رہی

  • پنجابی زبان کے ترقی پسند ادیب گربخش سنگھ پریت لڑی

    پنجابی زبان کے ترقی پسند ادیب گربخش سنگھ پریت لڑی

    پنجابی زبان کے ترقی پسند ادیب، کہانی نویس، ناول نگار، ڈراما نگار، مصنف اور ایڈیٹر گربخش سنگھ پریت لڑی۔(1895ء تا 1977ء)
    سردار گوربخش سنگھ 26 اپریل 1895ء کو پاکستان کے شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کی عمر سات برس تھی کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ سیالکوٹ سے میٹرک کے بعد ایف سی کالج، لاہور میں داخلہ لیا۔ معاشی مشکلات کی وجہ سے کالج کے ساتھ ساتھ 15 روپے ماہوار میں ایک مختصر وقت کے لیے کلرک کی نوکری شروع کردی۔ بعد میں 1913 میں تھامسن سول انجینئری کالج، روڑکی سے ڈپلوما حاصل کیا۔ فوج میں بھرتی ہوکر عراق اور ایران گئے۔ 1922 امریکا میں مشی گن یونیورسٹی سے انجینئرنگ کی ڈگری لے کر واپس آئے اور ایک ریلوے انجینئر کے طور پر ملازم ہوئے۔

    پریت لڑی
    ۔۔۔۔۔۔
    پیشے کے اعتبار سے ایک کامیاب انجینئرہونے کے ساتھ ساتھ انھوں نے پنجابی ادب میں بھی طبع آزمائی کی اور اپنی الگ شناخت بنائی۔ 1933ء میں ماڈل ٹاؤن، لاہور سے پنجابی اور اُردو زبان میں ایک ماہانہ میگزین ‘‘پریت لڑی’’ کی اشاعت شروع کی جو لوگوں میں اتنا مقبول ہوا کہ آپ کا نام ہی ‘‘گربخش سنگھ پریت لڑی ’’پڑ گیا۔

    پریت نگر
    ۔۔۔۔۔۔
    1936ء میں انھوں نے لاہور اور امرتسر کے درمیان ‘‘پریت نگر ’’ یعنی محبت کرنے والوں کا شہر کے نام سے ایک شہر آباد کیا جو صرف ترقی پسند شاعروں، ادیبوں اور انسان دوست دانشوروں اور فن و ثقافت سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے ہی مختص تھا۔ برطانوی دور میں ‘‘پریت نگر’’ کو ترقی پسند ادیبوں اور سماجی انقلاب کے لیے جدوجہد کرنے والے کارکنوں کے مرکز کی حیثیت حاصل تھی۔ فیض احمد فیض، ساحر لدھیانوی، امرتا پریتم، نُور جہاں (گلوکارہ)، بلراج ساہنی (اداکار)، شوبھاسنگھ (پینٹر)، اُپیندر ناتھ اشک، بلونت کارگی، کرتار سنگھ دُگل اور حمید اختر جیسے ادیب اس شہر کے باسی تھے۔ گربخش سنگھ ہر سال یہاں ادبی اجتماع منعقد کرتے جس میں برصغیر کے کونے کونے سے ادیب، شاعر اور دانشور شریک ہوتے۔ تقسیم ہند کے وقت جب یہ شہر بھی فسادات سے محفوظ نہ رہا تو گربخش سنگھ دل برداشتہ ہوکر دہلی چلے گئے۔ 1950ء کی دہائی میں واپس آئے اور ‘‘پریت لڑی ’’کو دوبارہ شروع کیا۔

    کہانی، ناول، ڈرامے، مضامین اور بچوں کے ادب پر آپ کی پچاس کے زائد کتب شائع ہوئیں۔ میکسم گورکی کے ناول ‘‘ماں ’’ کے پنجابی ترجمہ پر آپ کو سوویت نہرو ایوارڈ سے نوازا گیا۔ پنجابی ادب کا یہ معروف نام 20 اگست 1978ء کو اس دنیا سے رخصت ہو گیا لیکن پریت لڑی اور پریت نگر ابھی تک پرانی روایات کے امین کے طور پر قائم دائم ہے-

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    مجموعہ مضامین
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)سانوی پدھری زندگی
    (ہموار زندگی)
    ۔ (2)پرسنّلمی عمر
    (اچھی طویل زندگی)
    ۔ (3)سوے پورنتا دی لگن
    (تکمیلِ خودی کی لگن )
    ۔ (4)اک دنیاں دے تیراں سپنے
    (ایک دنیا کے تیرا خواب)
    ۔ (5)نواں شوالہ
    (نیا شیوالہ)
    ۔ (6)زندگی دی راس
    (زندگی کا لب لباب)
    ۔ (7)پرم منکھ
    (بہترین انسان)
    ۔ (8)میرے جھروکھے چوں
    (میری کھڑکی سے باہر)
    ۔ (9)کھلھا در
    (کھولنے کی شرح)
    ۔ (10)پریت مارگ
    (محبت کے راستے)
    ۔ (11)فیصلے دی گھڑی
    (فیصلے کی گھڑی)
    ۔ (12)زندگی وارث ہے
    (زندگی وارث ہے)
    ۔ (13)خوش حال جیون
    (خوشحال زندگی)
    ۔ (14)نویاں تقدیراں دی پھُلّ کیاری
    (نئی تقدیر کی پھول کیاری)
    ۔ (15)ایہہ جگ ساڈا
    (ہماری جنگ)
    ۔ (16)اسمانی مہانندی (ترجمہ)
    (عظیم آسمانی خوشی)
    ۔ (17)زندگی دے راہ (ترجمہ)
    (زندگی کی راہ)
    خودنوشت اور یادداشتوں
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)میریاں ابھلّ یاداں (1959)
    (میری ناقابل فراموش یادیں)
    ۔ (2)منزل دسّ پئی (1964)
    (دیکھی ہوئی منزل)
    ۔ (3)میری جیون کہانی
    (میری زندگی کی کہانی)
    ۔ (4)چٹھیاں جیتاں دے ناں
    (جیت کے نام خطوط )
    ناول
    ۔۔۔۔
    ۔ (1)انویاہی ماں
    (بن بیاہی ماں)
    ۔ (2)رکھاں دی جیراند
    (جیراند کا درخت)
    ۔ (3)ماں (ترجمہ)
    (ماں۔ میکسکم گورکی)
    کہانیوں کے مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ناگ پریت دا جادو (1940)
    (سانپ کی محبت جادو)
    ۔ (2)انوکھے تے اکلے (1940)
    (انوکھے اور اکیلے )
    ۔ (3)اسمانی مہانندی (1940)
    (عظیم آسمانی خوشی)
    ۔ (4)وینا ونود (1942)
    (وینا ونود)
    ۔ (5)پریتاں دی پہریدار (1946)
    (محبت کے پہرے دار)
    ۔ (6)پریت کہانیاں (1950)
    (رومانوی کہانیوں )
    ۔ (7)شبنم (1955)
    (شبنم)
    ۔ (8)بھابی مینا (1956)
    (بھابی مینا )
    ۔ (9)عشقَ جہناں دے ہڈیں رچیا
    (1959)
    (عشق جنوں نے عملی طور پر کیا)
    ۔ (10)زندگی وارث ہے (1960)
    (زندگی وارث ہے )
    ۔ (11)اک رنگ سہکدا دل (1970)
    (ایک رنگ سینکڑوں دل)
    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)راج کماری لتکا تے ہور پریت ڈرامے
    (شہزادی لتیکا اور دوسرے
    رومانوی ڈرامے)
    ۔ (2)پریت مکٹ (1922-23)
    (محبت کا تاج)
    ۔ (3)پورب-پچھم
    (مشرق و مغرب)
    ۔ (4)ساڈی ہونی دا لشکارا
    (ہمارے ہونے کی شان)
    بچوں کا ادب
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)گلابی عینکاں
    (گلابی عینک)
    ۔ (2)پریاں دی موری
    (پریوں کا غار)
    ۔ (3)گلابو
    (گلابو)
    ۔ (4)مراداں پوریاں کرن والا کھوہ
    (مرادیں پوری کرنے والا کنواں)
    ۔ (5)جگاں پرانی گلّ
    (برسوں پرانی بات)

  • ممتاز شاعرعقیل عباس جعفری کا یوم پیدائش

    ممتاز شاعرعقیل عباس جعفری کا یوم پیدائش

    10اگست ممتاز شاعر عقیل عباس جعفری کا یوم پیدائش ہے عقیل عباس جعفری (پیدائش:10 اگست، 1957ء) پاکستان کے معروف مصنف، انجینئر، صحافی، شاعر، محقق، مورخ، پاکستان کرونیکل کے مصنف ہیں۔ وہ اس وقت اردو لغت بورڈ میں مدیر اعلیٰ اور پاکستان کوئز سوسائٹی انٹرنیشنل کے صدر ہیں۔

    اہم اعزازات
    بہترین فیچر نگارایوارڈ (آل پاکستان نیوزپیپرز سوسائٹی)
    کوئز ایکسیلینس ایوارڈ (پاکستان کوئز سوسائٹی)
    بہترین نعت گو (ریڈیو پاکستان)
    بہترین قومی نغمہ نگار (ریڈیو پاکستان)

    حالات زندگی و تعلیم

    عقیل عباس جعفری 10 اگست 1957ء کو کراچی، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام وزیرحسن جعفری ہے جو قیام پاکستان کے بعد بلرام پور، اتر پردیش سے ہجرت کرکے کراچی، پاکستان منتقل ہوئے۔ عقیل عباس نے ابتدائی تعلیم گورنمنٹ اسکول ناظم آباد اورپھرانٹرمیڈیٹ ڈی جے سائنس کالج سے پاس کیا۔ بیچلرآف آرکیٹیکچر کی ڈگری داؤد کالج آف انجینیرنگ اور ایم اے (صحافت) کی ڈگری جامعہ کراچی سے حاصل کی۔

    ادبی خدمات

    تحقیق

    عقیل عباس جعفری کا نام تحقیق کے شعبے میں نیا نہیں۔ انہوں نے ابتدا معلومات عامہ کے شعبے سے کی اور اس حوالے سے کئی کتابیں تحریر کیں جن میں366 دن، صفر سے 100 تک، جہان معلومات، ہے حقیقت کچھ، ایک سال پچاس سوال، کون بنے گا کروڑ پتی اور قائد اعظم معلومات کے آئینے میں شامل ہیں۔ پاکستان کے سیاسی وڈیرے سیاست کے موضوع پر ان کی پہلی کتاب تھی جس نے شائع ہوتے ہی تہلکہ مچا دیا۔ یہی وہ کتاب تھی جس نے سیاست کی دنیا میں سیاسی وڈیرے کی اصطلاح کو متعارف کروایا۔ پاکستان کے سیاسی وڈیرے کے علاوہ عقیل عباس جعفری نے سیاست ہی کے موضوع پر کئی اور کتابیں بھی لکھیں جن میں پاکستان کی ناکام سازشیں، پاکستان کی انتخابی سیاست اور تاریخ پر قائد اعظم کی ازدواجی زندگی، لیاقت علی خان قتل کیس، پاکستان کا قومی ترانہ: کیا ہے حقیقت، کیا ہے فسانہ؟ اور سوانح و تنقید پر میر باقر علی داستان گو شامل ہیں۔

    انہوں نے موسیقی کے موضوع پر لکھے گئے شاہد احمد دہلوی کے نادر و نایاب مضامین کو بھی مضامین موسیقی کے نام سے مدون کیا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی کتاب علی سردار جعفری شخصیت و فن اپنے موضوع پر مستند حوالہ مانی جانی ہے۔ ان کی تازہ ترین کتاب 2016ء میں شائع شدہ چراغ روشن ہیں ہے جس میں عصمت چغتائی کے مختلف شاہکار خاکوں کو بہت خوبصورتی سے مرتب و مدون کیا گیا ہے۔

    اس کتاب میں 12 خاکے وہ ہیں جنہیں عصمت چغتائی نے مختلف ادبی شخصیات پر لکھا، ان میں عظیم بیگ چغتائی، سعادت حسن منٹو، سجاد ظہیر، پطرس بخاری، میراجی، کرشن چندر، مجاز لکھنوی، جانثار اختر، خواجہ احمد عباس، مہندر ناتھ اور ثریا شامل ہیں۔ خاکہ نما افسانوں کے عنوان سے مرتب کردہ باب میں مینا کماری، دلیپ کمار، بادشاہی خانم، تمیز الدین، ٹیکو، محبوب اور گم نام شامل ہیں۔ ذاتی خاکوں میں تین تحریریں، ایک مضمون قرۃ العین حیدر کے حوالے سے، ایک خط جوش ملیح آبادی کے نام اور ایک تحریری مکالمے کے عنوان سے مرتب باب میں دو تحریریں شامل اشاعت ہیں، آخری تحریر کوحرف آخر کا نام دیا گیا ہے۔

    شاعری

    عقیل عباس جعفری کا شمار اپنی نسل کے نمائندہ شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی تخلیقات ادب کے معتبر جرائد میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی مشاعروں اور سیمینارز میں شرکت کے لیے امریکا، کینیڈا، برطانیہ، عوامی جمہوریہ چین، بھارت اور متحدہ عرب امارات کے سفر بھی کر چکے ہیں۔ ان کی غزلیہ شاعری کا مجموعہ راستاکے نام سے اور مذہبی شاعری کا مجموعہ تروتازہ کے نام سے زیرِ اشاعت ہے۔ آپ کی شاعری پر ریڈیو پاکستان بہترین نعت گو اور بہترین قومی نغمہ نگار کا ایوارڈ دے چکا ہے۔

    نمونۂ کلام
    غزل

    زیست کرنا در ادراک سے باہر ہے ابھی یہ ستارہ مرے افلاک سے باہر ہے ابھی
    ڈھونڈتے ہیں اسی نشے کو سبھی بادہ گسار ایک نشہ جو رگ تاک سے باہر ہے ابھی
    ایک ہی لمحے میں تسخیر کرے گی اسے آنکھ پر وہ لمحہ مرے افلاک سے باہر ہے ابھی
    کچھ مرے چاک گریباں کو خبر ہو شاید ایک گردش جو مرے چاک سے باہر ہے ابھی
    بس وہی اشک مرا حاصل گریہ ہے عقیلؔ جو مرے دیدۂ نمناک سے باہر ہے ابھی
    شعر

    زندہ رہنا عجب ہنر ہے عقیلؔ یہ ہنر عمر بھر نہیں آتا
    پاکستان کرونیکل

    پاکستان کرونیکل عقیل عباس جعفری کی بیس سالہ محنت کا ثمر ہے۔ یہ کتاب اس طرز پر شائع ہونے والے بین الاقوامی کرونیکلز کے معیارات کو سامنے رکھتے ہوئے تالیف کی گئی ہے اور اس میں پاکستان کی تاریخ کا ایک ایک لمحہ محفوظ کر دیا گیا ہےپاکستان کرونیکل میں قیامِ پاکستان سے لے کر 31 اگست 2011ء تک پاکستان کے تاریخ وار واقعات تحریر و تصویر کی صورت انتہائی خوبصورت اور سلیقے کے ساتھ پیش کیے گئے ہیں۔ اصل میں یہ کتاب ماہانہ ڈائری ہے جس میں سیاسی، صحافتی، ثقافتی، فنون لطیفہ، صنعت و حرفت اور کھیلوں کے علاوہ اہم ترین واقعات پر مشہور زمانہ کتب، رسائل و اخبارات سے اقتباسات بھی ہیں اور نامور پاکستانی شخصیات کی پیدائش و انتقال کے علاوہ مختصر تعارف بھی ہے۔

    ریڈیو اور ٹیلی وژن سے وابستگی

    عقیل عباس جعفری نے ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویژن کے لاتعداد پروگرامز کے اسکرپٹس بھی تحریر کیے جن میں سات دن، ٹی وی انسائیکلوپیڈیا، ٹیلی شو، ہم مصطفوی، یہ تو مجھے پتا ہے، یونیورسٹی چیلنج، جہاں نما، ایک سال پچاس سوال، سارک کوئز، ملینیم کوئز، یو این کوئز، جو جانے وہ جیتے، ہم کسی سے کم نہیں، بیسویں صدی، سال بہ سال اور رات گئے کے نام سر فہرست ہیں۔ انہوں نے اے آر وائی کے پروگرام کیا آپ بنیں گے کروڑ پتی؟ اور جیو ٹیلی ویژن کے پروگرام یہ گھر آپ کا ہوا کے سوالات بھی مرتب کیے

    اردو لغت بورڈ کی سربراہی
    تصانیف
    دائرۃ المعارف

    پاکستان کرونیکل
    تاریخ

    پاکستان کا قومی ترانہ : کیا ہے حقیقت؟ کیا ہے فسانہ؟
    پاکستان کی ناکام سازشیں
    لیاقت علی خان قتل کیس
    پاکستان کا جشن زریں (وضاحتی کتابیات)
    معلومات عامہ

    366 دن
    صفر سے سو تک
    کون بنے گا کروڑ پتی؟
    ایک سال پچاس سوال
    جہان معلومات
    ہے حقیقت کچھ
    قائد اعظم معلومات کے آئینے میں
    سیاسیات

    پاکستان کے سیاسی وڈیرے
    پاکستان کے سیاسی وڈیرے
    پاکستان کی انتخابی سیاست
    سوانح
    ترميم
    قائد اعظم کی اذواجی زندگی
    کانجی دوآرکا داس جناح،رتی اور میں

    علی سردار جعفری شخصیت و فن
    شاہد احمد دہلوی مضامین موسیقی
    میر باقر علی داستان گو
    علی سردار جعفری شخصیت و فن
    چراغ روشن ہیں (عصمت چغتائی کے خاکے)
    فرہنگ

    فرہنگ اصطلاحات فنِ تعمیر
    شعری مجموعہ

    تعلق
    ناقدین کی آراء

    ” جعفری صاحب کی علم کے لیے دیوانگی اورلگاؤ دیکھ کر ایسا محسوس ہوتاہے کہ یہ کیفیت کے طور سے خانہ بدوش ہیں۔کہیں یہ تکرار کے شور میں سوالات کی بُنت کرتے ہیں، کبھی سیاست کے ایوانوں کی طرف نکل جاتے ہیں،توکبھی موسیقی کے رچاؤ کو مرتب کرنے میں مشغول ہوتے ہیں اورکبھی تاریخ کا دیوان لکھنے بیٹھ جاتے ہیں، ایک دیوانے کی مانند،جس کو اپنے خمارِ عشق کے سوا کچھ یاد نہیں رہتا۔ پاکستان کرونیکل یا پاکستان کے سیاسی وڈیرے جیسا کام مذاق نہیں ہے،جس کی خاطر ان کی زندگی کے اتنے سارے برس دھول بن کر اُڑ گئے، البتہ یہ ضرور مذاق ہے کہ سرکاری سطح پر کہیں بھی ان کی پذیرائی نہیں ہوئی۔انہوں نے پاکستان کی تاریخ لکھی ہے، تو پاکستانی سرکار کوہی اس پرغور کرناہوگا۔ (مصنف و صحافی خرم سہیل)
    اعزازات

    تحقیق اور پاکستانیات کے شعبے میں ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر پاکستان کوئز سوسائٹی نے انہیں 2004ء میں کوئز ایکسیلینس ایوارڈ، وزڈم پاکستان فورم نے 2010ء میں ہیروزآف پاکستان کمال کارکردگی ایوارڈ اور سینٹر آف سوک ایجوکیشن پاکستان نے 2010ء کا سوک ایجوکیشن ایوارڈ عطا کیا۔ اس کے علاوہ 2000ء میں ریڈیو پاکستان کا بہترین نعت گو اور بہترین قومی نغمہ نگار کا ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں 2011ء میں آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے آپ کو بہترین فیچر نگار کا ایوارڈ عطا کیا۔

    پیشکش ۔ وقاص وکی

  • مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق ، ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

    مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق ، ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

    میں کہ خاموش پڑھنے لگتی ہوں
    کچھ نہ کچھ جیسے بولتے ہیں ورق

    ترنم ریاض

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نسائی ادب کی فہرست کے صف اول میں شامل ارود کی نامور ادیبہ، شاعرہ ، کہانی و افسانہ نویس اور ناول نگار ترنم ریاض 9 اگست 1960 میں سری نگر جموں و کشمیر میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام فریدہ ترنم ہے لیکن معروف ادیب پروفیسر ریاض پنجابی سے شادی کے بعد ترنم ریاض کا قلمی نام اختیار کیا۔ اردو کےجدید افسانہ نگاروں میں ان کا بہت بڑا نام اور مقام ہےافسانہ نگاری کے علاوہ انہوں نے ناول نگاری ، کہانی نویسی اور شاعری میں بھی خوب جوہر دکھایا ہے۔

    افسانہ نگاری ان کی پہلی پہچان ہے لیکن ان کی شہرت کا آغاز ان کی کہانی” شہر” سے ہوا بعد میں ان کے افسانے مشہور ہوتے گئے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ” ابابیلیں لوٹ آئیں گی” 2000 میں شائع ہوا۔ حقانی القاسمی نے ترنم ریاض کو Sweet Temper افسانہ نگار کا خطاب دیا ہے۔ ترنم ریاض کی تحریروں اور شاعری میں کشمیری معاشرے کا بھرپور عکس ملتا ہے اور احتجاج کی توانا آواز بھی ایک حساس تخلیق کار کی حیثیت سے ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ دکھ ، درد ، کرب اور مختلف احساسات اور کیفیت میں گزرا ہے۔

    انہوں نے اپنے تخلیقی احساسات کے بارے میں لکھا ہےکہ افسانہ” آدھے چاند کا عکس ” لکھتے وقت وہ ماں کی ممتا کے جذبے سے سرشار رہی کہانی ” باپ” لکھتے وقت وہ شدید ذہنی تناو کا شکاررہی افسانے ” ایجاد کی ماں” اور”میرا پیارا گھر” لکھتےوقت اسے بہت بڑا روحانی سکون میسر ہوا جبکہ افسانہ” مٹی” لکھتے وقت وہ سخت اذیت، کرب اوررنجیدہ احساس و کیفیت سے دوچاررہی ان کی تحریروں میں عورت کی مظلومیت اور محرومی کے تاثرات زیادہ ہیں وہ عورت کو حالات سے مقابلہ کرنے اور صبر کی تلقین بھی کرتی رہیں ۔ نسائی ادب کے اس نمایاں نام ترنم ریاض کی وفات 20 مئی 2021 میں ہوئی ۔

    ترنم ریاض کی تصانیف

    یہ تنگ زمین(1998)، ابابیلیں لوٹ آئیں گی (2000)، یمبرزل (2004)، مورتی (2004)، چشم نقش قدم (2005)، پرانی کتابوں کی خوشبو (2006)، مرا رخت سفر(2008)، فریب خطۂ گل (2009)، برف آشنا پرندے (2009)، اجنبی جزیروں میں (2015)، بھادوں کے چاند تلے (2015)، زیر سبزہ محو خواب (2015) جیسی کتابیں اُن کی شعری و نثری تصانیف ہیں جب کہ بیسویں صدی میں خواتین کا اردو ادب (2004)اُن کی ترتیب کردہ کتاب ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مری تنہائی بانٹتے ہیں ورق
    ہاتھ کا لمس مانگتے ہیں ورق

    میں کہ خاموش پڑھنے لگتی ہوں
    کچھ نہ کچھ جیسے بولتے ہیں ورق

    ہو چکا ہے جو علم اب نایاب
    اور جو پھیلے گا جانتے ہیں ورق

    سوچتا ہے یہ ذہن کیا کیا کچھ
    بے سبب ہم الٹ رہے ہیں ورق

    ہوشمندی سے ڈائری لکھنا
    دونوں جانب سے دیکھتے ہیں ورق

    روح کو دو جہاں کی راحت دیں
    رحل پر راہبر رکھیں ہیں ورق

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بڑی گتھیاں ہیں بڑے مسئلے ہیں
    کہیں کس سے ہم کس قدر مرحلے ہیں

    کوئی دن کی باتیں ہیں کچھ اور سانسیں
    بہت مختصر روح کے سلسلے ہیں

    گلستان ہی زد میں ہے بجلیوں کی
    لیے چار تنکے کدھر ہم چلے ہیں

    کڑی دھوپ گم گشتہ راہیں بے منزل
    شکستہ نظر ہے بلند حوصلے ہیں

    نظم
    ۔۔۔۔۔
    عیاشی
    ۔۔۔۔۔
    محبوب کی مانند اٹھلائے
    معشوق کی صورت شرمائے
    ہریالی کا آنچل اوڑھے
    ہر شاخ ہوا میں رقصاں ہے
    میں پیار بھری نظروں سے انہیں
    مسکاتی دیکھے جاتی ہوں
    شاموں میں پیڑوں کو تکنا
    ہے میری نظر کی عیاشی

  • یوں قید زندگی نے رکھا مضطرب ہمیں ، جیسے ہوئے ہوں داخل زنداں نئے نئے

    یوں قید زندگی نے رکھا مضطرب ہمیں ، جیسے ہوئے ہوں داخل زنداں نئے نئے

    منزلیں نہ بھولیں گے راہرو بھٹکنے سے
    شوق کو تعلق ہی کب ہے پائوں تھکنے سے

    ادیبؔ سہارنپوری

    اردو کے معروف شاعر عبدالرئوف المعروف ادیب سہارنپوری 28؍مئی 1920ء کو سہارنپور ہندوستان میں پیدا ہوئے ۔تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ ہجرت کر کے پاکستان آئے 16 جولائی 1963 میں کراچی میں انتقال ہوا۔

    منتخب کلام

    منزلیں نہ بھولیں گے راہرو بھٹکنے سے
    شوق کو تعلق ہی کب ہے پاؤں تھکنے سے

    اپنے اپنے حوصلوں اپنی طلب کی بات ہے
    چن لیا ہم نے انہیں سارا جہاں رہنے دیا

    راحت کی جستجو میں خوشی کی تلاش میں
    غم پالتی ہے عمر گریزاں نئے نئے

    ہزار بار ارادہ کئے بغیر بھی ہم
    چلے ہیں اٹھ کے تو اکثر گئے اسی کی طرف

    باندھ کر عہد وفا کوئی گیا ہے مجھ سے
    اے مری عمر رواں اور ذرا آہستہ

    یہی مہر و ماہ و انجم کو گلہ ہے مجھ سے یارب
    کہ انہیں بھی چین ملتا جو مجھے قرار ہوتا

    اک خلش کو حاصل عمرِ رواں رہنے دیا
    جان کر ہم نے انہیں نامہرباں رہنے دیا

    آرزوئے قرب بھی بخشی دلوں کو عشق نے
    فاصلہ بھی میرے ان کے درمیاں رہنے دیا

    کتنی دیواروں کے سائے ہاتھ پھیلاتے رہے
    عشق نے لیکن ہمیں بے خانماں رہنے دیا

    اپنے اپنے حوصلے اپنی طلب کی بات ہے
    چن لیا ہم نے تمہیں سارا جہاں رہنے دیا

    کون اس طرزِ جفاۓ آسماں کی داد دے
    باغ سارا پھونک ڈالا آشیاں رہنے دیا

    یہ بھی کیا جینے میں جینا ہے بغیر ان کے ادیبؔ
    شمع گل کر دی گئی باقی دھواں رہنے دیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بخشے پھر اس نگاہ نے ارماں نئے نئے
    محسوس ہو رہے ہیں دل و جاں نئے نئے

    یوں قید زندگی نے رکھا مضطرب ہمیں
    جیسے ہوئے ہوں داخل زنداں نئے نئے

    کس کس سے اس امانت دیں کو بچایئے
    ملتے ہیں روز دشمن ایماں نئے نئے

    راحت کی جستجو میں خوشی کی تلاش میں
    غم پالتی ہے عمر گریزاں نئے نئے

    مسجد میں اور ذکر بتوں کا جناب شیخ
    شاید ہوئے ہیں آپ مسلماں نئے نئے

    دم بھر دم اجل کو نہ حاصل ہوا فراغ
    ہوتے رہے چراغِ فروزاں نئے نئے

    خانہ خراب ہم سے جہاں میں کہاں ادیبؔ
    آباد کر رہے ہیں بیاباں نئے نئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ترے نام کی تھی جو روشنی, اسے خود ہی تونے بجھا دیا
    نہ جلاسکی جسے دھوپ بھی, اُسے چاندنی نے جلادیا

    میں ہوں گردشوں میں گھرا ہوا, مجھے آپ اپنی خبر نہیں
    وہ شخص تھا میرا رہنما , اُسے راستوں میں گنوادیا

    جسے تو نے سمجھا رقیب تھا , وہی شخص تیرا نصیب تھا
    ترے ہاتھ کی وہ لکیر تھا, اسے ہاتھ سے ہی مٹادیا

    مری عمر کا ابھی گلستان ,تو کھلا ہوا ضرور پر!
    وہ پھول تھے تیری چاہ کے، انہیں موسموں نے گرا دیا

  • اتنی ویران نہ تھیں یہ آنکھیں ضبط کرنے کا صلہ ہے یارو

    اتنی ویران نہ تھیں یہ آنکھیں ضبط کرنے کا صلہ ہے یارو

    جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلے
    صحن گل چھوڑ گیا دل میرا پاگل نکلا

    ایوب رومانی

    15 جولائی 1986: یوم وفات

    معروف صاحب دیوان شاعر، ادیب موسیقی دان، براڈکاسٹر سابق سٹیشن ڈائریکٹر ریڈیو پاکستان لاہور ایوب رومانی 1927ء کو پیدا ہوئے۔
    ان کے اشعار کا مجموعہ” آواز کا سفر” چھوٹی بحر کے اشعار پر مشتمل ہے جن میں انتہائی موسیقیت ہے ان کا ایک اور مجموعہ کلام” لکشن گیت” میں کلاسیکل موسیقی کے اسرار و رموز اشعار مین بیان کیے گئے ہیں۔
    گلوکار پرویز مہدی کی آواز میں شہرہ آفاق غزل

    تجھ سے پہلے جو تمنا تھی وہ ہے اب تک

    اور شوکت علی کی آواز میں

    جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا

    کئی دہایوں کے بعد بھی زبان زد عام ہے۔

    وہ 15 جولائی 1986ء کو مختصر علالت کے بعد لاہور میں انتقال کر گئے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    منتخب کلام

    جب بہار آئی تو صحرا کی طرف چل نکلا
    صحنِ گُل چھوڑ گیا، دل میرا پاگل نکلا

    جب اسے ڈھونڈنے نکلے تو نشاں تک نہ ملا
    دل میں موجود رہا۔ آنکھ سے اوجھل نکلا

    اک ملاقات تھی جو دل کوسدا یاد رہی
    ہم جسے عمر سمجھتے تھے وہ اک پل نکلا

    وہ جو افسانہء غم سن کے ہنسا کرتے تھے
    اتنا روئے ہیں کہ سب آنکھ کا کاجل نکلا

    ہم سکوں ڈھونڈنے نکلے تھے، پریشان رہے
    شہر تو شہر ہے، جنگل بھی نہ جنگل نکلا

    کون ایوب پریشاں نہیں تاریکی میں
    چاند افلاک پہ،دل سینے میں بے کل نکلا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دل میں کچھ درد سوا ہے یارو
    آج رونا بھی روا ہے یارو

    سانس لیتا ہوں تو دم گھٹتا ہے
    کیسی بے درد ہوا ہے یارو

    میں جو ہنستا ہوں تو رو دیتے ہیں
    تم کو کیا آج ہوا ہے یارو

    کس نے احساس کی دولت پائی
    کون دیوانہ ہوا ہے یارو

    اتنی ویران نہ تھیں یہ آنکھیں
    ضبط کرنے کا صلہ ہے یارو

    اپنے دامن میں کوئی پھول نہیں
    دل میں کانٹا سا چبھا ہے یارو

    خود پکارا اسے خود دوڑ پڑے
    خوب گنبد کی صدا ہے یارو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رہ گزاروں میں روشنی کے لیے
    لے کے نکلے ہیں آندھیوں میں دیے

    ذائقہ تلخ ہے محبت کا
    آدمی زہر غم پیے نہ پیے

    دل میں یادوں کے رت جگے جیسے
    ٹمٹماتے ہوں مرگھٹوں کے دیے

    دل میں طوفان ہیں چھپائے ہوئے
    ہم تو بیٹھے ہیں اپنے ہونٹ سیے

    کوئی تجھ سا نظر نہیں آتا
    دل نے سو رنگ انتخاب کیے

    در بدر شہر میں پھرے یارو
    اپنے کاندھے پہ اپنی لاش لیے

    دل کی دل میں رہیں تمنائیں
    آنکھوں آنکھوں میں کتنے اشک پیے

    جان پیاری ہمیں بھی تھی ایوبؔ
    اپنی خاطر مگر کبھی نہ جیے

  • سمجھ سکا نہ کوئی آج تک کہ کیا ہوں میں، ہوا کےدوش پہ جلتا ہوا دیا ہوں میں

    سمجھ سکا نہ کوئی آج تک کہ کیا ہوں میں، ہوا کےدوش پہ جلتا ہوا دیا ہوں میں

    سمجھ سکا نہ کوئی آج تک کہ کیا ہوں میں
    ہوا کے دوش پہ جلتا ہوا دیا ہوں میں

    خواجہ جاویدؔ اختر

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خواجہ جاویدؔ اختر 02؍ستمبر 1964ء کو کنانکارا میں 24 پارگناس، مغربی بنگال میں پیدا ہوئے تھے. انہوں نے 1989ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے ( اردو ) کیا. انہوں نے پرنسپل اکاؤنٹنٹ جنرل، اتر پردیش، الہ آباد کے دفتر میں سینئر اکاؤنٹ کے طور پر کام کیا. غزلوں کے مجموعے کی پہلی کتاب "نیند شرط نہیں” نام سے لکھا جو 2010ء میں شائع ہوئی۔13؍جولائی 2013ء میں الہٰ آباد میں خواجہ جاویدؔ اختر انتقال کر گئے.

    منتخب اشعار
    دل کی دنیا ہے مصیبت سے بھری رہتی ہے
    پھر بھی ہر شاخِ تمنا کی ہری رہتی ہے
    —–
    چاہت میں آسماں کی زمیں کا نہیں رہا
    کیا بد نصیب تھا وہ کہیں کا نہیں رہا
    —–
    سمجھ سکا نہ کوئی آج تک کہ کیا ہوں میں
    ہوا کے دوش پہ جلتا ہوا دیا ہوں میں
    —–
    موجوں کا شور و شر ہے برابر لگا ہوا
    دریا سے اس قدر ہے مرا گھر لگا ہوا
    —–
    گزرنا رہِ گزاروں سے بڑا آسان تھا پہلے
    علاقہ ہم جہاں رہتے ہیں وہ سنسان تھا پہلے
    —–
    زمیں سے اٹھے ہیں یا آسماں سے آئے ہیں
    یہ لوگ شہر میں جانے کہاں سے آئے ہیں
    —–
    میرا خود سے ملنے کو جی چاہتا ہے
    بہت اپنے بارے میں میں نے سنا ہے
    —–
    ہم اپنے وقت کے بالا بلند سورج تھے
    غروب ہو گئے کس طرح درمیاں سے ہم
    —–
    ہر وقت یہ احساس دلانے کا نہیں میں
    تیرا ہوں فقط سارے زمانے کا نہیں میں
    —–
    بناتے رہتے ہیں جاویدؔ کشتیاں لیکن
    ہم ان کے واسطے پھر بادباں بناتے ہیں