Baaghi TV

Tag: ادب

  • ترک ناول نگار ، کالم نگار فاطمہ عالیہ ٹوپوز

    ترک ناول نگار ، کالم نگار فاطمہ عالیہ ٹوپوز

    فاطمہ عالیہ ٹوپوز جنھیں اکثر فاطمہ علی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ ایک ترک ناول نگار ، کالم نگار ، مضمون نگار، خواتین کے حقوق کی کارکن اور انسان دوست شخصیت کی مالک تھیں۔ اس سے قبل 1877 میں ترکی کی خاتون مصنف ظفرحنم کا شائع کردہ ناول آچکا تھا جو کہ ان کا واحد ناول فاطمہ کو دوسری ترک خاتون ناول اپنے پانچ ناولوں کے ساتھ ادبی حلقوں میں ترک ادب کی دوسری خاتون ناول نگار کے طور پرجانا جاتا ہے۔

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    فاطمہ 09 اکتوبر 1862 کو قسطنطنیہ میں پیدا ہوئیں۔ وہ معروف سرکاری ملازم، مشہور مورخ اور بیوروکریٹ احمد سیویت پاشا (1822-1895) اور ان کی اہلیہ اڈویئے رابعہ کی دوسری اولاد تھیں۔ ان کے دو بہن بھائی تھے۔ ایک بھائی علی سادات اور ایک بہن ایمین سیمیئ۔ 1878 میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ نوماہ دمشق میں بھی رہیں۔ فاطمہ علی نے غیررسمی طور پر گھر میں تعلیم حاصل کی چونکہ اس وقت ، لڑکیوں کے لئے باضابطہ کلاسوں میں داخلہ لینا عام بات نہیں تھی۔ اپنے فکری تجسس کی وجہ سے انھوں نے عربی اور فرانسیسی زبان میں اعلیٰ درجے کی مہارت حاصل کی۔

    1879 میں ، جب وہ سترہ سال کی تھیں، ان کے والد نے ان کی شادی کا اہتمام کپتان میجر (عثمانی ترک: کولاساسی) سے کیا۔ مہمت فائک بی، سلطان عبد الحمید دوم کے معاون کیمپ اور غازی عثمان پاشا کے بھتیجے، محاصرہ پلوینا (1877) کا ہیروجن سے انھوں نے چار بیٹیوں کو جنم دیا: ہیٹیس (پیدائش 1880) ، آئیس (پیدائش 1884) ، نیمٹ (پیدائش 1900) اور زبیڈ اسمیٹ (پیدائش 1901)۔ ان کے شوہر ایک قدامت پسند شخص تھے اور انھیں شادی کےابتدائی برسوں کے دوران غیرملکی زبان میں ناول پڑھنے کی اجازت نہیں تھی۔

    پچھلے سال
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ان کی سب سے چھوٹی بیٹی زبیڈ اسمیٹ نے 1926 میں عیسائیت میں تبدیل ہوکر ترکی چھوڑ دیا تاکہ رومن کیتھولک راہبہ بنیں۔ فاطمہ عالیہ نے 1920 کی دہائی میں اپنی بیٹی کی تلاش میں اور اپنی صحت کی وجہ سے بھی کئی بار فرانس کا سفر کیا1928 میں انھوں نے اپنے شوہر کو کھو دیا۔ 21 جون 1934 کو ترکی میں کنیت قانون نافذ ہونے کے بعد فاطمہ علی نے اپنا خاندانی نام ”توپوز“ اپنایا تھا۔ خراب صحت اور مالی پریشانی میں زندگی گزارنے کے بعد وہ 13 جولائی 1936 کو استنبول میں انتقال کرگئیں۔ انہیں فریکی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔

  • صدیاں ہیں فقط ایک ہی لمحے کی کہانی ، لمحہ جسے کھو دے وہ دوبارہ نہیں ملتا

    صدیاں ہیں فقط ایک ہی لمحے کی کہانی ، لمحہ جسے کھو دے وہ دوبارہ نہیں ملتا

    اس عہد کی تصویر میں اپنا بھی لہو ہے
    ڈھونڈے سے مگر نام ہمارا نہیں ملتا

    ماہ طلعت زاہدی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    محترمہ ماہ طلعت زاہدی کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے تھا جہاں انھیں بچپن سے ہی کاغذ قلم کی وابستگی میسرآئی۔ ان کے والد ڈاکٹر مقصود زاہدی خاکہ نگار،شاعر، یاد نگار، افسانہ نگار اور نقاد کی حیثیت سے اردوادب میں معتبر مقام رکھتے ہیں۔ ترقی پسند تحریک کے ساتھ ڈاکٹرصاحب کی وابستگی غیرمشروط تھی ۔ماہ طلعت زاہدی کے بھائی ڈاکٹرانور زاہدی بھی شاعری، افسانے اورتراجم کے حوالے سے اردوادب کا معتبرحوالہ ہیں۔

    ماہ طلعت زاہدی 08 ستمبر 1953ءکوملتان میں پیداہوئیں ۔ ان کی ایک علمی ادبی ماحول میں پرورش ہوئی۔ انھوں نے 1967ء میں گورنمنٹ گرلز سکول نواں شہر سے میٹرک کیا گرلز ڈگری کالج کچہری روڈ ملتان سے 1969 میں ایف اے اور1972ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا 1977ءمیں ایمرسن کالج بوسن روڈ سے ایم اے اردوکیا ماہ طلعت زاہدی زمانہ طالب علمی سے شعر کہہ رہی تھیں۔ ادبی محافل اورمشاعروں میں ان کی شرکت نہ ہونے کے برابرہے لیکن انھوں نے مشاعروں میں شرکت کیےبغیر بہت باوقار اندازمیں ادبی حلقوں سے اپنی صلاحیتوں کا اعتراف کرایا اور ناقدین ادب سے بھرپور داد وصول کی۔

    2000ء میں نامور ماہر تعلیم نقاد اور محقق ڈاکٹراسدادیب ان کے رفیقِ حیات بنے جس کے بعد ماہ طلعت زاہدی کی کتابوں کی اشاعت بھی شروع ہوئی ۔ اب تک ان کی نظموں کے دو، غزلیات اورسہ حرفیوں کا ایک ایک مجموعہ شائع ہوچکاہے جبکہ سفرنامہ انگلستان ”تاب نظارہ نہیں“ کے نام سے منظرعام پرآیاہے۔ راجہ بھرتری ہری، رابندرناتھ ،ٹیگور،عمرخیام ، واحد بشیر ،کبیرداس، میرابائی کے بارے میں مضامین پرمشتمل انکی ایک اورکتاب بھی اشاعت کی منتظرتھی ماہ طلعت زاہدی کی مطبوعہ کتابوں میں روپ ہزار، شاخ غزل، میں کیسے مسکراتی ہوں ، تین مصرعوں کاجہاں اور تابِ نظارہ نہیں شامل ہیں۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ادبیاتِ پاکستان کے مطابق ماہ طلعت زاہدی کی تاریخ ولادت 01 جنوری 1955ء ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔
    اس کی آنکھوں میں اک سوال سا تھا
    میرے دل میں کوئی ملال سا تھا
    دھل گیا آنسوؤں میں سارا وجود
    عشق میں یہ عجب کمال سا تھا
    جسم کی ڈال پر جھکا تھا خواب
    روح سرشار دل نہال سا تھا
    گفتگو کر رہی تھی خاموشی
    ہجر کی راہ میں وصال سا تھا
    خواہشیں ہر گھڑی عروج پہ تھیں
    وقت کو ہر گھڑی زوال سا تھا
    میں بھی تھی آشنا روایت سے
    اس کو بھی ضبط میں کمال سا تھا
    خواب در خواب تھیں ملاقاتیں
    درد دل وجہ اندمال سا تھا
    آئنہ بن گیا ہے میرے لئے
    ایک چہرہ کہ بے مثال سا تھا

    غزل
    ۔۔۔۔
    بے کہے بے سنے خدا حافظ
    جو بھی گزرے اسے خدا حافظ
    درد رک بھی گیا اگر تو کیا
    ہے اجل سامنے خدا حافظ
    لغزشیں سب معاف ہوں میری
    وقت عجلت میں ہے خدا حافظ
    اتنی ناراضگی ارے توبہ
    وہ بھی بیمار سے خدا حافظ
    کم سے کم مڑ کے دیکھیے صاحب
    زندگی کہتی ہے خدا حافظ
    درد ہے یا ہے موت کی دستک
    بے بسی کیا کرے خدا حافظ
    کار دنیا تو ختم ہوتا نہیں
    کہنا ہی پڑتا ہے خدا حافظ

    غزل
    ۔۔۔۔
    وحشت بھری راتوں کو کنارہ نہیں ملتا
    دل ڈوب چلا صبح کا تارا نہیں ملتا
    ملتے ہیں بہت یوں تو جو آغوش کشا ہو
    دل کے لئے وہ درد کا دھارا نہیں ملتا
    اس عہد کی تصویر میں اپنا بھی لہو ہے
    ڈھونڈے سے مگر نام ہمارا نہیں ملتا
    قدرت کا کرم ہو تو الگ بات ہے ورنہ
    مشکل میں تو اپنوں کا سہارا نہیں ملتا
    صدیاں ہیں فقط ایک ہی لمحے کی کہانی
    لمحہ جسے کھو دے وہ دوبارہ نہیں ملتا

  • آج پھر دیر تلک تیرے خیالوں میں رہی ،رحم اے گردش دوراں یہ تماشا کیا ہے

    آج پھر دیر تلک تیرے خیالوں میں رہی ،رحم اے گردش دوراں یہ تماشا کیا ہے

    میری آنکھوں کے سمندر میں یہ ایسا کیا ہے
    جو بھی ڈوبے وہ بتاتا نہیں ہوتا کیا ہے

    رخسانہ سحر

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی معروف ادیبہ، شاعرہ اور کالم نگار رخسانہ سحر صاحبہ 12 جولائی 1974 میں ساہیوال پنجاب(پاکستان)میں پیدا ہوئیں۔ ان کا اصل نام رخسانہ شفیق ہے ۔ ان کی اب تک 3 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 2 شعری مجموعے ” ہر پل میرے ساتھ ہو تم” اور ” میں تمہیں جیت لائوں گی” اس کے علاوہ ان کی ایک تصنیف ” پھلوں اور سبزیوں سے علاج ” شائع ہوئی ہے۔ رخسانہ سحر صاحبہ اس وقت اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔

    میری آنکھوں کے سمندر میں یہ ایسا کیا ہے
    جو بھی ڈوبے وہ بتاتا نہیں ہوتا کیا ہے

    آج پھر دیر تلک تیرے خیالوں میں رہی
    "رحم اے گردش دوراں یہ تماشا کیا ہے”

    روبرو بیٹھ کے وہ شخص نہ جانے مجھ سے
    اپنی آنکھیں جو جھکاتا ہے چھپاتا کیا ہے

    چھین لیتا ہے بچھڑ کر تو مرے ہوش و حواس
    یاد آکر تو مجھے ہوش میں لاتا کیا ہے

    زندگی جیسے بھی گزری ہے گزاری ہے سحر
    اِس نے پوچھا بھی نہیں میرا تقاضا کیا ہے

    رخسانہ سحر

  • تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو ، اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گرتا
    ٹوٹے بھی جو تارا تو زمیں پر نہیں گرتا

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخوا، ہری پور، ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔

    ابتدائی زندگی اور کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی 1919ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا۔ انھوں نے 1938ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں۔ اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں۔ شفائی انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحیی شفاؔ کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔ 1935ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباؤ بنا۔ انھوں نے کھیل کے سامان کی ایک دکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انھوں نے اپنے چھوٹے سے قصبے سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں 1947ء میں انھوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا اور نغمہ لکھنے لگے۔ ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں امھوں حکیم یحیی کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے۔ قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔

    فلمی دنیا
    ۔۔۔۔
    1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انھوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنھیں ہندستانی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انھوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انھوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں متعدد مرتبہ ممبئی کا بھی سفر کیا اور ’سر‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’بڑے دل والا‘ اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی‘ جیسی ہندستانی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

    اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنھیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا

    کلام کی خصوصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

    اعزازت
    ۔۔۔۔۔
    صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز ہندستان کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاول پور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔

    فلمی نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہریالی
    ۔ (2)گجر
    ۔ (3)جلترنگ
    ۔ (4)روزن
    ۔ (5)جھومر
    ۔ (6)مطربہ
    ۔ (7)چھتنار
    ۔ (8)گفتگو
    ۔ (9)پیراہن
    ۔ (10)آموختہ
    ۔ (11)ابابیل
    ۔ (12)برگد
    ۔ (13)گھنگرو
    ۔ (14)سمندر میں سیڑھی
    ۔ (15)پھوار
    ۔ (16)صنم
    ۔ (17)پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)
    کلیات
    ۔۔۔۔۔
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
    منسوبات
    ۔۔۔۔۔
    لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلے کا نام محلہ قتیل شفائی رکھ دیا گیا۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو
    میں جو کانٹا ہوں تو چل مجھ سے بچا کر دامن
    میں ہوں گر پھول تو جوڑے میں سجا لے مجھ کو
    ترک الفت کی قسم بھی کوئی ہوتی ہے قسم
    تو کبھی یاد تو کر بھولنے والے مجھ کو
    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو
    میں سمندر بھی ہوں موتی بھی ہوں غوطہ زن بھی
    کوئی بھی نام مرا لے کے بلا لے مجھ کو
    تو نے دیکھا نہیں آئینے سے آگے کچھ بھی
    خود پرستی میں کہیں تو نہ گنوا لے مجھ کو
    باندھ کر سنگ وفا کر دیا تو نے غرقاب
    کون ایسا ہے جو اب ڈھونڈ نکالے مجھ کو
    خود کو میں بانٹ نہ ڈالوں کہیں دامن دامن
    کر دیا تو نے اگر میرے حوالے مجھ کو
    میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
    تو دبے پاؤں کبھی آ کے چرا لے مجھ کو
    کل کی بات اور ہے میں اب سا رہوں یا نہ رہوں
    جتنا جی چاہے ترا آج ستا لے مجھ کو
    بادہ پھر بادہ ہے میں زہر بھی پی جاؤں قتیلؔ
    شرط یہ ہے کوئی بانہوں میں سنبھالے مجھ کو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
    بکھرا پڑا ہے تیرے ہی گھر میں ترا وجود
    بے کار محفلوں میں تجھے ڈھونڈتا ہوں میں
    میں خودکشی کے جرم کا کرتا ہوں اعتراف
    اپنے بدن کی قبر میں کب سے گڑا ہوں میں
    کس کس کا نام لاؤں زباں پر کہ تیرے ساتھ
    ہر روز ایک شخص نیا دیکھتا ہوں میں
    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں
    پہنچا جو تیرے در پہ تو محسوس یہ ہوا
    لمبی سی ایک قطار میں جیسے کھڑا ہوں میں
    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں
    جاگا ہوا ضمیر وہ آئینہ ہے قتیلؔ
    سونے سے پہلے روز جسے دیکھتا ہوں میں

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

    آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
    موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
    جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

    دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
    لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے
    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
    اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

    اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ
    اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

    رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح
    پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا
    نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
    قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں
    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

    وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

    میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
    جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ
    مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

    رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
    ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

    جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا
    زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

    یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
    جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
    تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
    مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

    کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
    غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

    ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
    کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
    جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ

    یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
    جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

    ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
    اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں

    اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
    پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام

    قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
    کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
    اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں

    داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
    ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے

    یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے
    آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
    مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں

    میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
    اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

    سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
    یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

    زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
    تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
    مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی
    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

  • ہم کو شاہوں کی عدالت کی توقع تو نہیں، آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

    ہم کو شاہوں کی عدالت کی توقع تو نہیں، آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

    ہم کو شاہوں کی عدالت کی توقع تو نہیں
    آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں

    احمد ندیم قاسمی

    احمد ندیم قاسمی کا خاندانی نام احمد شاہ جو پیر غلام نبی شاہ کے صاحبزادے تھے ۔ 20 نومبر 1916 ء کو انگہ تحصیل خوشاب ، ضلع سرگودھا ، پنجاب (پاکستان) میں پیدا ہوئے ۔ خشونت سنگھ بھی خوشاب کے رہنے والے تھے ۔ ان کے قبیلے کو اعوان کہا جاتا ہے ۔ جب احمد ندیم 8 سال کے ہی تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا ۔ انہوں نے والد کے انتقال کے ایک سال بعد انگہ کی مسجد میں قرآن کی تعلیم حاصل کی اور وہیں سے پرائمری اسکول کا امتحان پاس کیا ۔ بی اے کرنے کے بعد ان کی پہلی نظم محمد علی جوہر شائع ہوئی تھی ۔ کئی لوگوں نے اس نظم کے بارے میں لکھا ہے کہ 15 سال کی عمر میں لکھی گئی ہے لیکن غلط ہے ۔

    یتیمی نے انہیں زندگی کی چکی میں پسنے کے لئے اس طرح مجبور کردیا کہ انہیں جو بھی کام ملتا گیا ، کرتے گئے ۔ اس کے آگے کا راستہ ڈھونڈتے رہے ۔ ایسی حالت نے ان کے جینے کے انداز کو نیا کردیا ۔ ندیم کی زندگی جی کر اس سے جو تلخ تجربات حاصل کئے ، اس کو زمانے کے سامنے اپنی تحریر سے ظاہر کرتے رہے ۔

    پہلی نوکری احمد ندیم قاسمی نے لاہور میں ریفارم کمشنر کے دفتر میں محرر کے طور پر کی ۔ اس وقت انھیں وہاں سے صرف 20 روپے ماہانہ تنخواہ ملتی تھی ۔ٹیلی فون آپریٹر کا بھی کام کیا ۔ چند سال کسٹم میں بھی رہے ۔ اس کے بعد پشاور ریڈیو اسٹیشن پر اسکرپٹ رائٹرکی حیثیت سے بھی کام کیا۔ ایک خاص بات 14 اگست 1947ء کو جب پاکستان آزاد ہوا تو اس وقت وہ اسی ریڈیو اسٹیشن پر تھے ۔ پشاور ریڈیو نے اپنے پروگرام کا آغاز احمد ندیم قاسمی کے لکھے ترانے سے کیا ۔

    انہوں نے ادب کے تمام صنفوں میں طبع آزمائی کی ، غزلیں لکھیں ، افسانے لکھے ، صحافی کا کام کیا ۔ انجمن ترقی پسند مصنفین کے آخری جنرل سکریٹری رہے ۔ تحقیق و تنقید میں بھی بڑا نام کیا ۔ بچوں کے ادب میں کام کیا ۔ ان کی موت تک 17 افسانوی مجموعے ، 8 شعری مجموعے ، 3 تحقیق و تنقید ، 6 ترجمے اور 3 بچوں کے لئے کتابیں لکھیں ۔ اخبار کے کالم اور اداریہ کی تعداد تو بے شمار ہیں جو شائع ہونے سے رہ گئے ۔

    اس سلسلے میں ان کا خاص کام ’’فنون‘‘ کی ادارت تھی جو ملک کیا بیرون ملک میں بھی پڑھا جاتا تھا ۔ اس کی آخری عمر تک سرپرستی کی ، مختلف روزناموں میں کالم لکھا ۔ امروز ، ہلال پاکستان ، لاہور ، احسان ، جنگ کراچی میں مختلف عنوانات سے کالم لکھتے رہے ۔ انہوں نے فرضی نام سے مختلف سیاسی کالم لکھے ۔ اس دوران انہوں نے پاکستان کی کئی نسلوں کی رہنمائی کی ۔ ابتداء میں مسلم لیگ سے جڑے رہے ، پھر ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے ۔ لیکن ان کے خیالات جب ترقی پسندوں سے میل نہیں کھانے لگے تو اسے بھی چھوڑ دیا ۔ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کو بھی ناپسند کیا ۔ 1951 ء میں آپ کو نظر بند رکھا گیا ۔

    فلموں کے ڈائیلاگ اور گانے بھی لکھے ۔ مختلف اعزازات اور انعام سے انہیں نوازا گیا جس میں پاکستانی ادب کا انعام ’ستارہ امتیاز‘ پاکستان اور آدم جی ایوارڈ بھی انہیں ملا ۔ شاعری کے میدان میں بہت اچھے اچھے اشعار کے خالق بنے ۔ انھوں نے پاکستان ، سعودی عرب ، عرب امارات اور مغربی ممالک کے سینکڑوں مشاعروں اور سمیناروں میں شرکت کرکے اپنے ملک کا نام روشن کیا ہے ۔ میں نے ان کی شاعری کے برمحل اشعار کا انتخاب کیا ہے جو میری مستقبل میں آنے والی کتاب برمحل اشعار (حصہ دوم) میں شامل ہیں ۔
    انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا
    دیکھا اسے پلٹ کے تو جھونکا ہوا کا تھا
    (جدید اردو غزل بخط شاعر خود ص 79)
    آپ سے جھک کے جو ملتا ہوگا
    اس کا قد آپ سے اونچا ہوگا
    (جدید اردو غزل بخط شاعر خود ص 13)
    کون کہتا ہے موت آئی تو مرجاؤں گا
    میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
    (جدید اردو غزل بخط شاعر خود ص 20)
    شب وصال ہے گل کردو ان چراغوں کو
    خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا
    (مشہور اشعار ص 206)
    دائم آباد رہے گی دنیا
    ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا
    (مشہور اشعار ص 206)
    ہم کو شاہوں کی عدالت کی توقع تو نہیں
    آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلادیتے ہیں
    (اردو غزل ص 294)
    عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
    یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
    (ضرب المثل ص 51)
    اور یہ شعر ہمارے ذہن میں برسوں سے محفوظ ہے لیکن مآخذ نہیں ملا ۔ پاکستانی شعراء کے مجموعے یہاں دستیاب نہیں ہیں ۔ اس لئے میں انہیں پڑھ نہیں سکا ۔ ہاں پاکستان میں ان کے مجموعے جلال و کمال ، محیط ، دوام ، رم جھم ، شعلہ گل ، دشت وفا ، لوح خاک ، کے نام سے شائع ہو کر مقبول ہوچکے ہیں ۔ ان کے تبصرے میں نے پڑھے ہیں ۔ ان کے چیدہ چیدہ اشعار ہمارے مطالعے میں رہے ۔ رسالوں میں غزلیں بھی پڑھیں ہیں۔ ٹی وی پر مشاعرے میں نے پڑھتے ہوئے سنا بھی ہے۔

    یاد رکھو تو دل کے پاس ہیں ہم
    بھول جاؤ تو فاصلے ہیں بہت

    ان کے ان اشعار کی خاص حوبی لفظیات کی برکھارت کی ٹھنڈی بجلیاں ہیں ،جس سے پڑھنے والوں کی ریڑھ کی ہڈی میں سرد لہر دوڑ جاتی ہے ۔ حقائق کی پردہ کشائی بڑی احتیاط سے کرتے ہیں ۔ کبھی معنی کو ننگا نہیں ہونے دیتے ۔ یہ سننے والوں کے دل میں گھر کرجاتی ہے ۔

    احمد ندیم قاسمی ترقی پسندوں کی نسل سے ابھرنے والے شاعروں میں کافی تیز و طرار تھے ۔ انہوںنے بدلتے رجحانات سے پیدا ہونے والے کرب کو اپنی شاعری میں شامل ہونے نہیں دیا جس کی وجہ سے محرومی اور نارسائی نے اس جدید نسل کو اپنی ذات کے غم سمیٹنے پر مجبور کردیا تھا ۔ کسی نے شراب پینے میں زندگی تباہ کردی ۔ کوئی ریل کے آگے آکر مرگیا ۔ کسی نے دنیاسے علحدگی حاصل کرلی ۔
    احمد ندیم قاسمی بہت دنوں تک دمے کے مرض سے پریشان رہے ۔ موت سے دو روز قبل پتہ چلا کہ انہیں انجائنا ہوگیا ہے ۔ لاہور کے اسپتال میں لے جائے گئے مگر وہ بچ نہیں سکے ۔ پاکستان کا یہ شاعر اپنے ہزاروں شیدائی اور علمائے ادب کو چھوڑکر 10 جولائی 2006 ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگیا۔ ان کی خواہش کے مطابق مرکر بھی ان کی موت بے کار نہیں جائے گی ۔ ندیم ہم جیسے لاکھوں ادب نوازوں کو ایک نئی راہ دکھاتے رہیں گے ۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
    میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا
    تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا
    گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا
    تیرے پہلو سے جو اٹھوں گا تو مشکل یہ ہے
    صرف اک شخص کو پاؤں گا جدھر جاؤں گا
    اب ترے شہر میں آؤں گا مسافر کی طرح
    سایۂ ابر کی مانند گزر جاؤں گا
    تیرا پیمان وفا راہ کی دیوار بنا
    ورنہ سوچا تھا کہ جب چاہوں گا مر جاؤں گا
    چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں
    زخم کھاؤں گا تو کچھ اور سنور جاؤں گا
    اب تو خورشید کو گزرے ہوئے صدیاں گزریں
    اب اسے ڈھونڈنے میں تا بہ سحر جاؤں گا
    زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ
    بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    انداز ہو بہو تری آواز پا کا تھا
    دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا
    اس حسن اتفاق پہ لٹ کر بھی شاد ہوں
    تیری رضا جو تھی وہ تقاضا وفا کا تھا
    دل راکھ ہو چکا تو چمک اور بڑھ گئی
    یہ تیری یاد تھی کہ عمل کیمیا کا تھا
    اس رشتۂ لطیف کے اسرار کیا کھلیں
    تو سامنے تھا اور تصور خدا کا تھا
    چھپ چھپ کے روؤں اور سر انجمن ہنسوں
    مجھ کو یہ مشورہ مرے درد آشنا کا تھا
    اٹھا عجب تضاد سے انسان کا خمیر
    عادی فنا کا تھا تو پجاری بقا کا تھا
    ٹوٹا تو کتنے آئنہ خانوں پہ زد پڑی
    اٹکا ہوا گلے میں جو پتھر صدا کا تھا
    حیران ہوں کہ وار سے کیسے بچا ندیمؔ
    وہ شخص تو غریب و غیور انتہا کا تھا

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جس بھی فن کار کا شہکار ہو تم
    اس نے صدیوں تمہیں سوچا ہوگا

    آخر دعا کریں بھی تو کس مدعا کے ساتھ
    کیسے زمیں کی بات کہیں آسماں سے ہم

    کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
    میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

    کچھ کھیل نہیں ہے عشق کرنا
    یہ زندگی بھر کا رت جگا ہے

    میں نے سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے
    تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی

    مر جاتا ہوں جب یہ سوچتا ہوں
    میں تیرے بغیر جی رہا ہوں

    مسافر ہی مسافر ہر طرف ہیں
    مگر ہر شخص تنہا جا رہا ہے

    اس وقت کا حساب کیا دوں
    جو تیرے بغیر کٹ گیا ہے

    صبح ہوتے ہی نکل آتے ہیں بازار میں لوگ
    گٹھریاں سر پہ اٹھائے ہوئے ایمانوں کی

    خدا کرے کہ تری عمر میں گنے جائیں
    وہ دن جو ہم نے ترے ہجر میں گزارے تھے

    زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیمؔ
    بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

    اک سفینہ ہے تری یاد اگر
    اک سمندر ہے مری تنہائی

    آج کی رات بھی تنہا ہی کٹی
    آج کے دن بھی اندھیرا ہوگا

    تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا
    لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی

    انداز ہو بہ ہو تری آواز پا کا تھا
    دیکھا نکل کے گھر سے تو جھونکا ہوا کا تھا

    اتنا مانوس ہوں سناٹے سے
    کوئی بولے تو برا لگتا ہے

    میں کشتی میں اکیلا تو نہیں ہوں
    مرے ہم راہ دریا جا رہا ہے

    اک عمر کے بعد مسکرا کر
    تو نے تو مجھے رلا دیا ہے

    ساری دنیا ہمیں پہچانتی ہے
    کوئی ہم سا بھی نہ تنہا ہوگا

    دل گیا تھا تو یہ آنکھیں بھی کوئی لے جاتا
    میں فقط ایک ہی تصویر کہاں تک دیکھوں

    کس توقع پہ کسی کو دیکھیں
    کوئی تم سے بھی حسیں کیا ہوگا

    جنت ملی جھوٹوں کو اگر جھوٹ کے بدلے
    سچوں کو سزا میں ہے جہنم بھی گوارا

    بھری دنیا میں فقط مجھ سے نگاہیں نہ چرا
    عشق پر بس نہ چلے گا تری دانائی کا

    مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے
    تری الفت نے محبت مری عادت کر دی

    پا کر بھی تو نیند اڑ گئی تھی
    کھو کر بھی تو رت جگے ملے ہیں

    ان کا آنا حشر سے کچھ کم نہ تھا
    اور جب پلٹے قیامت ڈھا گئے

    میں تیرے کہے سے چپ ہوں لیکن
    چپ بھی تو بیان مدعا ہے

    فریب کھانے کو پیشہ بنا لیا ہم نے
    جب ایک بار وفا کا فریب کھا بیٹھے

    مرے خدا نے کیا تھا مجھے اسیر بہشت
    مرے گنہ نے رہائی مجھے دلائی ہے

    مجھے منظور گر ترک تعلق ہے رضا تیری
    مگر ٹوٹے گا رشتہ درد کا آہستہ آہستہ

    تو نے یوں دیکھا ہے جیسے کبھی دیکھا ہی نہ تھا
    میں تو دل میں ترے قدموں کے نشاں تک دیکھوں

    عجب تضاد میں کاٹا ہے زندگی کا سفر
    لبوں پہ پیاس تھی بادل تھے سر پہ چھائے ہوئے

    مرا وجود مری روح کو پکارتا ہے
    تری طرف بھی چلوں تو ٹھہر ٹھہر جاؤں

    خود کو تو ندیمؔ آزمایا
    اب مر کے خدا کو آزماؤں

    لوگ کہتے ہیں کہ سایا ترے پیکر کا نہیں
    میں تو کہتا ہوں زمانے پہ ہے سایا تیرا

    عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہل وطن
    یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ

    شام کو صبح چمن یاد آئی
    کس کی خوشبوئے بدن یاد آئی

    آغوش میں مہکوگے دکھائی نہیں دو گے
    تم نکہت گلزار ہو ہم پردۂ شب ہیں

    کس دل سے کروں وداع تجھ کو
    ٹوٹا جو ستارہ بجھ گیا ہے

    جکڑی ہوئی ہے ان میں مری ساری کائنات
    گو دیکھنے میں نرم ہے تیری کلائیاں

    ہر لمحہ اگر گریز پا ہے
    تو کیوں مرے دل میں بس گیا ہے

    تم مرے ارادوں کے ڈولتے ستاروں کو
    یاس کے خلاؤں میں راستہ دکھاتے ہو

    غم جاناں غم دوراں کی طرف یوں آیا
    جانب شہر چلے دختر دہقاں جیسے

    یکساں ہیں فراق وصل دونوں
    یہ مرحلے ایک سے کڑے ہیں

  • نوبل ادب انعام یافتہ ایلس منرو

    نوبل ادب انعام یافتہ ایلس منرو

    ایلس منرو 10جولائی1931 ء کو کینیڈا کے صوبے، اونٹاریو میں واقع قصبے،ونگہیم (Wingham) میں پیدا ہوئیں۔ متوسط گھرانے سے تعلق تھا۔ رقم کی کمی کے باعث ہی دورانِ تعلیم ویٹرس،لائبریری کلرک اور تمباکو چننے کی ملازمتیں کر کے اپنے تعلیمی اخراجات برداشت کرتی رہیں۔ انیس سال کی تھیں جب پہلا افسانہ لکھا۔ تب بھی یہی مدعا تھا کہ اسے رسالے میں شائع کراکر آمدنی بڑھائی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایلس ناول نگار بننا چاہتی تھیں۔ لکھنے کی مشق کرنے کی خاطر انھوں نے افسانے لکھنے شروع کیے۔ تب کئی ادباء کے مانند وہ بھی ناول کو افسانے پہ ترجیح دیتی تھیں لیکن رفتہ رفتہ وہ طلسم ِافسانہ کی اسیر ہو کر رہ گئیں۔ حتیٰ کہ ایک وقت ایسا آن پہنچا کہ وہ ناول کو تصیحِ اوقات کی شے سمجھنے لگیں۔ افسانوی ادب کے عاشقوں اور نقادوں کا خیال ہے-

    ایلس منرو کو نوبل انعام ملنا اس سچائی کا غماز ہے کہ عالمی افسانہ اب اپنے سنہرے دور میں داخل ہو چکا۔ یاد رہے،ماضی میں بیشتر نوبل ادب ایوارڈ شاعری کرنے یا ناول لکھنے والے ادباء کو دیے گئے۔ کینیڈین دیہی ماحول،نسوانی مسائل اور مرد وعورت کے پیچیدہ تعلقات ایلس کی کہانیوں کے بنیادی موضوع ہیں۔ ان کے افسانوں کا مجموعی انداز عظیم روسی افسانہ نگار،چیخوف کے طرز تحریر سے ملتا جلتا ہے۔ چیخوف کے مانند ایلس کے افسانوں میں بھی پلاٹ ثانوی حیثیت رکھتا ہے۔ نیز اچانک کوئی چونکا دینے والی بات سامنے نہیں آتی۔ ایلس کے افسانے چلتے چلتے میٹھے یا کڑوے جذبات و احساسات اور سچ عیاں کرتے چلے جاتے ہیں۔ انگریزی دنیا میں ایلس کی تخلیقات کے جملے اکثر قلمکار اپنی تحریروں میں بیان کرتے ہیں۔

    مثلاً ان کے ایک افسانے کا یہ جملہ:The constant happiness is curiosity(مسلسل خوشی تجسّس کی طرح ہے)کینیڈین انگریزی میں مقولے کا درجہ پا چکا۔ ایلس منرو کی زندگی کا بیشتر عرصہ دیہات میں گزرا۔ آج بھی وہ فطرت کے قریب رہنا پسند کرتی ہیں۔ سادہ اور پُروقار خاتون ہیں۔ دولت و شہرت کی دلداہ نہیں،اسی باعث ’’کمپنی کی مشہوری‘‘کی خاطر کبھی کوئی مہم نہ چلائی۔ عمر کے اس حصے میں ہیں جب ایوارڈ انسان کے لیے بے معنی بن جاتا ہے۔ تاہم نوبل ادب انعام ملنے پہ انھوں نے اظہار مسرت کیا۔ وہ اب تک ادبی دنیا کے کئی نامور ایوارڈ جیت چکیں۔ ان میں پین/مالمود ایوارڈ،او ہنری ایوارڈ،مان بوکر انٹرنیشنل پرائز اور کامن ویلتھ رائٹرز پرائز شامل ہیں۔ ایلس منرو انگریزی دنیا میں جانی پہچانی افسانہ نگار ہیں۔ نوبل کمیٹی نے انھیں جدید افسانہ نگاری کا امام (Master) قرار دیا۔

  • اب جائے جہاں قافلہ دہر ترابی، رہبر نظر آتا ہے رہزن کی طرح

    اب جائے جہاں قافلہ دہر ترابی، رہبر نظر آتا ہے رہزن کی طرح

    اب جائے جہاں قافلہ دہر ترابی
    رہبر نظر آتا ہے رہزن کی طرح

    علامہ رشید ترابی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    رضا حسین المعروف علامہ رشید ترابی (پیدائش: 09 جولائی 1908ء- وفات: 18 دسمبر 1973ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے عالم اسلام کے بلند پایہ خطیب، عالم دین اور شاعر ہیں۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ رشید ترابی 9 جولائی 1908ء کو برطانوی ہند کی ریاست حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ ان اصل نام رضا حسین تھا لیکن رشید ترابی کے نام سے مشہور ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم علامہ سید علی شوستری، آغا محمد محسن شیرازی، آغا سید حسن اصفہانی اور علامہ ابوبکر شہاب عریضی سے حاصل کی، شاعری میں نظم طباطبائی اور علامہ ضامن کنتوری کے شاگرد ہوئے اور ذاکری کی تعلیم علامہ سید سبط حسن صاحب قبلہ سے اور فلسفہ کی تعلیم خلیفہ عبدالحکیم سے حاصل کی عثمانیہ یونیورسٹی سے بی اے اور الہ آباد یونیورسٹی سے فلسفہ میں ایم اے کیا۔

    علامہ رشید ترابی نے 10 برس کی عمر میں اپنے زمانے کے ممتاز ذاکر مولانا سید غلام حسین صدر العلماء کی مجالس میں پیش خوانی شروع کردی تھی۔ سولہ برس کی عمر میں انہوں نے عنوان مقرر کرکے تقاریر کرنا شروع کیں۔ تقاریر کا یہ سلسلہ عالم اسلام میں نیا تھا اس لیے انہیں جدید خطابت کا موجد کہا جانے لگا 1942ء میں انہوں نے آگرہ میں شہید ثالث کے مزار پر جو تقاریر کیں وہ ان کی ہندستان گیر شہرت کا باعث بنیں علامہ رشید ترابی اس دوران عملی سیاست سے بھی منسلک رہے اور قائد ملت نواب بہادر یار جنگ کے ساتھ مجلس اتحاد المسلمین کے پلیٹ فارم پرفعال رہے۔ قائد اعظم کی ہدایت پر انہوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور 1940ء میں حیدرآباد دکن کی مجلس قانون ساز کے رکن بھی منتخب ہوئے۔

    پاکستان آمد
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دسمبر 1947ء میں علامہ رشید ترابی کو محمد علی جناح نے پاکستان مدعو کیا تاکہ حضرت مالک اشتر کے نام لکھے گئے حضرت علی ابن ابی طالب کے مشہور خط کا انگریزی میں ترجمہ کریں۔ یہ صفر کا مہینہ تھا، رشید ترابی کی کراچی میں موجودگی کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کراچی کے ایک مہتممِ مجالس سید محمد عسکری نے رشید ترابی کو خالق دینا ہال کراچی میں صفر کے دوسرے عشرہ مجالس سے خطاب کرنے کی درخواست کی۔ علامہ نے یہ درخواست قبول کرلی اور 10 صفر، 1367ھ (24 دسمبر، 1947ء) سے چہلم تک خالق دینا ہال میں اپنے پہلے عشرہ مجالس سے خطاب کیا۔ اس کے بعد (سے 26 سال تک) وہ جب تک زندہ رہے وہ خالق دینا ہال میں ہر برس مجالس کے عشرے سے مستقل خطاب کرتے رہے انہوں نے 1951ء سے 1953ء تک کراچی سے روزنامہ المنتظرکا اجرا کیا۔ اس سے قبل انہوں نے حیدرآباد دکن سے بھی ایک ہفت روزہ انیس جاری کیا تھا۔ 1957ء میں ان کی مساعی سے کراچی میں 1400 سالہ جشن مرتضوی بھی منعقد ہوا۔

    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    علامہ رشید ترابی ایک قادر الکلام شاعر بھی تھے۔ ان کے کلام کا ایک مجموعہ ”شاخ مرجان“ کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی مرتب کردہ کتابیں طب معصومین، حیدرآباد کے جنگلات اور دستور علمی و اخلاقی مسائل بھی شائع ہوچکی ہیں۔

    تصنیف و تالیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    شاخ مرجان
    طب معصومین
    حیدرآباد کے جنگلات
    دستور علمی و اخلاقی مسائل

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    علامہ رشید ترابی 18 دسمبر 1973ء کو کراچی میں وفات پاگئے اور کراچی میں حسینیہ سجادیہ کے احاطے میں آسودۂ خاک ہوئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وہ جو اک قطرہ ہے پانی کا ہوا سے خالی
    دلِ دریا میں ہے اور فکرِ فنا سے خالی
    اب خلش ہے کہ نہیں پوچھنے والا کوئی
    ہائے وہ گھر جو ہو سائل کی صدا سے خالی
    فطرتِ ظُلم جو دم لے تو سنبھل کر دیکھو
    کتنے ترکش ہیں یہاں تیرِ جفا سے خالی
    ہے نتیجے میں وہ ناکام ، زمانے کی قسم
    زندگی جس کی رہی کرب و بلا سے خالی
    دیدنی نور سے ہے نار کا یہ فصل قریب
    دل ہی دوزخ ہے جو ہو صدق و صفا سے خالی
    میں ہوں صیاد قفس میں تو رہے ذکرِ قفس
    اب رہا گھر تو رہے تیری بلا سے خالی
    باغباں دل پہ گراں سخت گراں ہے یہ بہار
    پھول ہیں پھول مگر بوئے وفا سے خالی
    غفلت اک سانس کی رستے سے ہٹا دیتی ہے
    دلِ بیدار ہے اِمکانِ خطا سے خالی
    زندگی کو تو بہرحال گزرنا ہے رشیدؔ
    کام آ جاتے ہیں پھر بھی یہ دلاسے خالی ​

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سفرِ زیست جو لازم ہے ہر اک گام چراغ
    جیسے جلتے ہوں سرِ رہ گزرِ عام چراغ
    کیا سحر تک کوئی جلنے کی تمنا کرتا
    بجھتے دیکھے ہیں اسی دل نے سرِ شام چراغ
    منتظر آنکھ میں خود ہے کوئی تارا روشن
    کیوں جلاتا ہے فلک شام سے گمنام چراغ
    جاگنے والے محبت میں یہی جانتے ہیں
    ہجر کو کہتے ہیں شب داغ کا ہے نام چراغ
    شوق سے آپ جلائیں مگر اتنا سُن لیں
    زرد ہو جاتا ہے خود صبح کے ہنگام چراغ
    کارواں جاتا ہے لے صبح ہوئی چونک رشیدؔ
    اب کہیں اور جلا جا کے سرِ شام چراغ ​

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ارمان نکلتے دلِ پُر فن کے برابر
    ویرانہ جو ہوتا کوئی گلشن کے برابر
    کیوں اہلِ نظر ایک ہے دونوں کی طبیعت
    سُنبل نے جگہ پائی جو سوسن کے برابر
    میں دام پہ گرتا نہیں اے ذوقِ اسیری
    ہاں کوئی قفس لائے نشیمن کے برابر
    میں بھول نہ جاؤں کہیں انجامِ تمنا
    بجلی بھی چمکتی رہی خرمن کے برابر
    کیا لطف اندھیرے کا ، اجالے میں تو آؤ
    پھر داغ نظر آئیں گے دامن کے برابر
    اتنی تو محبت ہو کہ جتنی ہے عداوت
    میزان میں ہر دوست ہو دشمن کے برابر
    لازم ہے اندھیرے کا اجالا وہ کہیں ہو
    تاریک ہے اک رخ مہِ روشن کے برابر
    بس طور جلا اور ادھر غش ہوئے موسٰیؑ
    لوگ اور بھی تھے وادیِ ایمن کے برابر
    اب جائے جہاں قافلۂ دہر ترابیؔ
    رہبر نظر آتا رہے رہزن کے برابر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • استاد صحافت  ڈاکٹر مہدی حسن

    استاد صحافت ڈاکٹر مہدی حسن

    استاد صحافت ڈاکٹر مہدی حسن

    پاکستان میں اردو صحافت کے استاد تسلیم کیے جانے والے ڈاکٹر مہدی حسن 27 جون 1937 میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ سلسلہ تعلیم کا آغاز وہیں سے ہوا تاہم پہلی چار جماعتیں پانی پت میں ہی پڑھیں۔ پھر وہ 9 سال کی عمر میں 16 نومبر 1947 کو والدین کے ہمراہ پاکستان ہجرت کرگئے۔ وہاں مزید تعلیم مکمل کی۔ زمانہِ طالب علمی میں اسکاؤٹنگ، فوٹو گرافی اور کرکٹ کا بہت شوق تھا۔ نوجوانی میں ادب سے شغف تھا۔ فرنچ اور رشین لٹریچر کو بہت پڑھا۔ کالج میں ماؤنٹیننگ اور ہائیکنگ کلب کے سکریٹری بھی رہے۔ زمانۂ طالب علمی سے ہی صحافت کا شوق تھا لہٰذا پی،پی،اے ( موجودہ اے پی پی )کے لیے بطور خبر رساں انھوں نے منٹگمری موجودہ ساہیوال میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت میں کیا اور بعدمیں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ ان کے مقالہ کا عنوان ( Role of Press in Formation in Public Opinion 1857-1947 ) تھا ۔

    صحافت کا آغاز
    ۔۔۔۔۔۔
    بطور کالم نگار پروفیسر مہدی حسن کا پہلا آرٹیکل روزنامہ امروزمیں شائع ہوا۔ وہ ایک ماہر مبصر و محقق ہونے کے باعث بہترین صحافی رہے ہیں اور انہوں نے پاکستان کے تمام اہم اخبارات میں کالم لکھے۔ انگریزی میں روزنامہ دی نیوز انٹرنیشنل میں باقاعدہ کالم لکھے۔ جبکہ اردو کالم روزنامہ نوائے وقت کے لیے لکھتے رہے ہیں ۔

    شعبہ تدریس
    ۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر مہدی حسن پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات سے تیس سال وابستہ رہے ہیں۔ وہ 1967 میں یہاں استاد مقرر ہوئے تھے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف لاہور میں صحافت کی تدریس کی۔ اور تقریباً نصف صدی پر محیط سروس کے دوران بڑے بڑے نامور بیوروکریٹ اور سیاست دان ان کے شاگرد رہے ہیں۔

    پرنٹ میڈیا اورالیکٹرانک میڈیا سے وابستگی
    ۔۔۔۔۔۔
    1961 سے 1967 تک وہ پاکستان پریس انٹرنیشنل ( پی پی آئی ) کے رپورٹر اور نیوز بیورو چیف رہے۔ اور اسی دوران پاکستان فیڈریشن آف یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جی )میں پانچ بار افسرِ اعلی منتخب ہوئے ۔
    وہ 1962 تک ریڈیو پاکستان پر اور 1964 تک ٹیلی وژن پر مبصر اور تجزیہ کار رہے۔ اس کے علاوہ وائس آف امریکا، بی بی سی، ریڈیو جرمنی، ریوٹر اور اے پی اے کے پروگرامز میں بھی شرکت کی۔
    جون 2010 میں انہیں ایچ آر سی پی ( پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق )کا سربراہ مقرر کیا گیا۔

    کتب اور مقالہ جات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ (1)جدید ابلاغِ عام
    ۔۔۔ (1)تصویری صحافت
    ۔۔۔ (1)The Political History
    ۔۔۔ of Pakistan
    ۔۔۔ (2)Journalism for All
    ۔۔۔ Ninth Edition 2007

    ان کی کتاب The Political History of Pakistan صحافیوں اور پروڈیوسرز کی تربیت کے لیے ایک مستند حوالہ کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ مقتدرہ قومی زبان نے بھی ان کی دو کتب جدید ابلاغِ عام اور تصویری صحافت شائع کی ہیں۔ ان کے بہت سے پیپرز امریکا اور پاکستان میں شائع ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر مہدی حسن نے اپنے شعبہ سے متعلقہ کانفرنسز کے علاوہ حالاتِ حاضرہ کے موضوعات سے متعلق لاتعداد ملکی و غیر ملکی سیمینارز بھی میں شرکت فرمائی ہے۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ڈاکٹر مہدی حسن اس وقت پنجاب ہیومین رائٹس کمیشن، پنجاب برانچ کے وائس چیر مین اور بیکن ہاؤس یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن کے صدر ِ شعبہ تھے جب 23 فروری 2022 کو 85 برس کی عمر میں لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔

  • چینی تہذیب و ثقافت اور چینی معاشرے کی ماہر پرل ایس بک

    چینی تہذیب و ثقافت اور چینی معاشرے کی ماہر پرل ایس بک

    پرل ایس بک Pearl S Buck

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ادبی نوبیل ایوارڈ حاصل کرنے والی بین الاقوامی شہرت یافتہ ناول نگار، افسانہ نویس، کہانی نگار ، ماہر نفسیات اور چینی تہذیب و ثقافت اور چینی معاشرے کی ماہر پرل ایس بک 6 جون 1892 ورجینیا امریکہ میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے زیادہ تر تعلیم چین کے شہر شنگھائی میں حاصل کی اور وہیں ایک زرعی ماہر ڈاکٹر لاسنگ سے شادی کی کچھ عرصے بعد ان سے طلاق لے لی اس کے بعد جاپان چلی گئیں وہاں ان کی ایک پبلشر رچرٹس واٹسن سے محبت ہو گئی اور اس کے ساتھ شادی کر لی۔

    بعد ازاں وہ واپس امریکہ آ گئیں ۔ ان کا پہلا ناول East& West 1931 میں شائع ہوا لیکن انہیں ان کے ناول The Good Earth سے شہرت حاصل ہوئی 1938 میں انہیں ادب کے نوبیل انعام سے نوازا گیا ان کے ناولوں کی تعداد 40 سے زائد ہے جبکہ ان کی کتابوں کی تعداد 60 کے لگ بھگ ہے جن میں افسانے اور کہانیاں بھی شامل ہیں ۔ پرل ایس بک کی وفات 6 مارچ 1973 میں ہوئی ۔ ان کے ایک ناول پر فلم بھی بنائی گئی جبکہ ان کی کتابوں کے اردو سندھی سمیت دنیا کی کئی زبانوں میں ہو چکے ہیں ۔

  • اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا

    اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا

    ممتاز شاعر،ادیب ،ایڈیٹر ، پبلشر، ماورا پریس کلب اور ماورا بک ڈپو کے مالک خالد شریف 18 جون 1947ء میں انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ بعدازاں خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں آگئے۔ اسی شہر سے پرائمری اور ہائی سکول کی تعلیم حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج راولپنڈی سے ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد انہوں نے انکم ٹیکس کا محکمہ جوائن کر لیا اور مختلف شہروں میں خدمات سر انجام دیں لیکن کتاب سے رغبت نے ان کو پبلشنگ کی طرف مائل کیا اور 1970ء میں انہوں نے اشاعتی کاروبار کا آغاز کیا۔ خالد شریف نے 1964ء میں شعر کہنا شروع کئے۔اس وقت یہ کالج کے طالب علم تھے اور کالجوں کے بین الکلیاتی مشاعروں میں حصہ لیتے تھے۔

    خالد شریف کی پہلی کتاب 1990ء میں ’’نارسائی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جس کےدرجن سے زائد ایڈیشن آچکے ہیں اس کے بعد ’’بچھڑنے سے ذرا پہلے‘‘ شائع ہوئی اور پھر’’وفاکیا ہے‘‘ اور ’’گزشتہ‘‘ شائع ہوئیں۔ ’’رت ہی بدل گئی‘‘ 2003ء میں مارکیٹ میں آئی۔ دیگر کئی کتابیں زیر طبع ہیں۔

    چند منتخب اشعار

    کاش ایسا ہو کہ اب کے بےوفائی میں کروں
    تو پھرے قریہ بہ قریہ کو بہ کو میرے لئے
    میں تو لامحدود ہوجاؤں سمندر کی طرح
    تو بہے دریا بہ دریا جو بہ جو میرے لئے

    آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ہے
    کون سی بات پہ دل ٹوٹا ہے

    آج کچھ رنگ دگر ہے مرے گھر کا خالدؔ
    سوچتا ہوں یہ تری یاد ہے یا خود تو ہے

    آج سے اک دوسرے کو قتل کرنا ہے ہمیں
    تو مرا پیکر نہیں ہے میں ترا سایہ نہیں

    آسماں جھانک رہا ہے خالدؔ
    چاند کمرے میں مرے اترا ہے

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان
    وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا
    ناکام حسرتوں کے سوا کچھ نہیں رہا
    دنیا میں اب دکھوں کے سوا کچھ نہیں رہا

    وہ تو گیا اب اپنی انا کو سمیٹ لے
    اے غم گسار دست دعا کو سمیٹ لے

    زخم رسنے لگا ہے پھر شاید
    یاد اس نے کیا ہے پھر شاید

    اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا
    ایک کرسی ہے جو دالان میں رکھی ہوئی ہے