Baaghi TV

Tag: ادب

  • تجھے جب بھی کوئی دکھ دے،اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا

    تجھے جب بھی کوئی دکھ دے،اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا

    اردو اور پنجابی کی ممتاز شاعرہ سارا شگفتہ 31 اکتوبر 1954ء کو گوجرانوالہ میں پیدا ہوئی تھیں، وہ پنجابی اور اردو دونوں میں شاعری کرتی تھیں، ان کی شاعری کی مرغوب صنف نثری نظم تھی جو ان کے ایک الگ اسلوب سے مرصع تھی۔

    سارا شگفتہ کی پنجابی شاعری کے مجموعے بلدے اکھر، میں ننگی چنگی اور لکن میٹی اور اردو شاعری کے مجموعے آنکھیں اور نیند کا رنگ کے نام سے اشاعت پذیر ہوئے۔ ان کی ناگہانی موت نے ان کی زندگی اور شاعری کو ایک نئی جہت عطا کی۔ ان کی وفات کے بعد ان کی شخصیت پر امرتا پرتیم نے ایک تھی سارا اور انور سن رائے نے ذلتوں کے اسیر کے نام سے کتابیں تحریر کیں اور پاکستان ٹیلی وژن نے ایک ڈرامہ سیریل پیش کی جس کا نام آسمان تک دیوار تھا 4 جون 1984ء کو سارا شگفتہ نے کراچی میں ریل کے نیچے آکر خودکشی کرلی-

    سارا شگفتہ صاحبہ کی منتخب نظمیں
    ..
    ہمارے آنسوؤں کی آنکھیں بنائی گئیں
    ہم نے اپنے اپنے تلاطم سے رسہ کشی کی
    اور اپنا اپنا بین ہوئے
    ستاروں کی پکار آسمان سے زیادہ زمین سنتی ہے
    میں نے موت کے بال کھولے
    اور جھوٹ پہ دراز ہوئی
    نیند آنکھوں کے کنچے کھیلتی رہی
    شام دوغلے رنگ سہتی رہی
    آسمانوں پہ میرا چاند قرض ہے
    میں موت کے ہاتھ میں ایک چراغ ہوں
    جنم کے پہیے پر موت کی رتھ دیکھ رہی ہوں
    زمینوں میں میرا انسان دفن ہے
    سجدوں سے سر اٹھا لو
    موت میری گود میں ایک بچہ چھوڑ گئی ہے
    ——————
    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی
    ——————
    تجھے جب بھی کوئی دکھ دے
    اس دکھ کا نام بیٹی رکھنا
    جب میرے سفید بال
    تیرے گالوں پہ آن ہنسیں رو لینا
    میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا
    جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے
    ان کھیتوں میں
    میں دیکھتی ہوں تیری انگیا بھی
    بس پہلی بار ڈری بیٹی
    میں کتنی بار ڈری بیٹی
    ابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کمان ہیں بیٹی
    میرا جنم تو ہے بیٹی
    اور تیرا جنم تیری بیٹی
    تجھے نہلانے کی خواہش میں
    میری پوریں خون تھوکتی ہیں
    ——————
    بین کرنے والوں نے
    مجھے ادھ کھلے ہاتھ سے قبول کیا
    انسان کے دو جنم ہیں
    پھر شام کا مقصد کیا ہے
    میں اپنی نگرانی میں رہی اور کم ہوتی چلی گئی
    کتوں نے جب چاند دیکھا
    اپنی پوشاک بھول گئے
    میں ثابت قدم ہی ٹوٹی تھی
    اب تیرے بوجھ سے دھنس رہی ہوں
    تنہائی مجھے شکار کر رہی ہے
    اے میرے سر سبز خدا
    خزاں کے موسم میں بھی میں نے تجھے یاد کیا
    قاتل کی سزا مقتول نہیں
    غیب کی جنگلی بیل کو گھر تک کیسے لاؤں
    پھر آنکھوں کے ٹاٹ پہ میں نے لکھا
    میں آنکھوں سے مرتی
    تو قدموں سے زندہ ہو جاتی

    خالی آنکھوں کا مکان مہنگا ہے
    مجھے مٹی کی لکیر بن جانے دو
    خدا بہت سے انسان بنانا بھول گیا ہے
    میری سنسان آنکھوں میں آہٹ رہنے دو
    آگ کا ذائقہ چراغ ہے
    اور نیند کا ذائقہ انسان
    مجھے پتھروں جتنا کس دو
    کہ میری بے زبانی مشہور نہ ہو
    میں خدا کی زبان منہ میں رکھے
    کبھی پھول بن جاتی ہوں اور کبھی کانٹا
    زنجیروں کی رہائی دو
    کہ انسان ان سے زیادہ قید ہے
    مجھے تنہا مرنا ہے
    سو یہ آنکھیں یہ دل
    کسی خالی انسان کو دے دینا

  • میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی ، کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی ، کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    منصورہ احمد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یکم جون 1958: یوم پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی معروف شاعرہ اور ادیبہ منصورہ احمد یکم جون 1958 کو حافظ آباد میں معروف قانون دان مرزا حبیب احمد کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔ انہوں نے پرائمری سے انٹر تک حافظ آباد میں تعلیم حاصل کی جبکہ گریجویشن لاہور میں کیا۔ شاعری کا انہیں بچپن میں شوق تھا ۔ احمد ندیم قاسمی شاعری میں ان کے استاد تھے۔ 1998 میں انہیں ان کے شعری مجموعے "طلوع” پر اکادمی ادبیات پاکستان نے وزیراعظم ادبی ایوارڈ عطا کیا تھا۔ وہ ادبی جریدے” مونتاج” کی مدیرہ بھی تھیں۔ احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بیٹی تھیں. وہ 1986 سے 2006 تک ادبی جریدہ "فنون” سے وابستہ رہیں ۔ انہوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ 8 جون 2011 کو لاہور میں وفات پاگئیں اور حافظ آباد میں آسودہ خاک ہوئیں۔

    منصورہ احمد صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمام شہر میں تیرہ شبی کا چرچا تھا
    یہ اور بات کہ سورج افق پہ نکلا تھا

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    میں سب سمجھتی رہی اورمسکراتی رہی
    مرا مزاج ازل سے پیمبروں سا تھا

    میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی
    کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    میں گل پرست بھی گل سے نباہ کر نہ سکی
    شعور ذات کا کانٹا بہت نکیلا تھا

    سب احتساب میں گم تھے ہجوم یاراں میں
    خدا کی طرح مرا جرم عشق تنہا تھا

    وہ تیرے قرب کا لمحہ تھا یا کوئی الہام
    کہ اس کے لمس سے دل میں گلاب کھلتا تھا

    مجھے بھی میرے خدا کلفتوں کا اجر ملے
    تجھے زمیں پہ بڑے کرب سے اتارا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا
    گھر کی چوکھٹ ڈھونڈنے میں ہجرتوں کے درد سہنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی بانجھ سی عورت تھی کہ جس کے دل میں
    بوند کی پیاس بھی تھی آنکھ میں سیلاب بھی تھے

  • معروف دانشور شعیب ہاشمی انتقال کر گئے

    معروف دانشور شعیب ہاشمی انتقال کر گئے

    لاہور: معروف دانشور شعیب ہاشمی انتقال کر گئے-

    باغی ٹی وی : مرحوم شعیب ہاشمی استاد، ڈرامہ نگار اور معروف شاعر فیض احمد فیض کے داماد تھے شعیب ہاشمی کے انتقال کی تصدیق عدیل ہاشمی کی جانب سے کی گئی ہے عدیل ہاشمی نے بتایا کہ شعیب ہاشمی کافی عرصے سے بیمار تھے۔

    عمران ریاض کوسیالکوٹ ائیر پورٹ سے گرفتار کرنے والا ایس ایچ او معطل

    مرحوم کی اہلیہ سلیمہ ہاشمی کے مطابق ان کے شوہر گزشتہ 15 برس سے فالج کے مرض میں مبتلا بستر تک محدود تھے، وہ بول سکتے تھے اور نہ خود سے چل پھرسکتے تھے۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں ٹیلی ویژن کےابتدائی دورمیں شعیب ہاشمی کے پروگرام زبردست مقبول ہوئے شعیب ہاشمی گورنمنٹ کالج لاہور میں برسہا برس درس و تدریس سے بھی وابستہ رہے، اس کے علاوہ شعیب ہاشمی مشہورٹی وی پروگرامز اکڑبکڑ، سچ گپ، ٹال مٹول اور باو ٹرین کے خالق تھےشعیب ہاشمی نے 70 کی دہائی میں معروف ڈارمے لکھے اور ان میں کام کیا-

    پاکستان میں ہونے والی حالیہ پیشرفت کا جائزہ لے رہے ہیں،آئی ایم ایف

    انہیں 1995میں حکومت پاکستان کی جانب سے تمغہ حسن کارکردگی اورتمغہ امتیازسے نوازا گیا، شعیب ہاشمی کی شادی پاکستان کے نامور شاعر فیض احمد فیض کی بیٹی سلیمہ ہاشمی سے ہوئی، ان کے دو بچے عدیل ہاشمی اور میرا ہاشمی ہیں۔

  • پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا  کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

    پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

    جلتے موسم میں کوئی فارغ نظر آتا نہیں
    ڈوبتا جاتا ہے ہر اک پیڑ اپنی چھائوں میں

    فارغ بخاری

    ممتاز شاعر فارغ بخاری کا اصل نام سید میر احمد شاہ تھا وہ 11؍نومبر 1917ء کو پشاور میں پیدا ہوئے۔ انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد مشرقی زبانوں کے کئی امتحانات پاس کئے۔ فارغ بخاری نظریاتی طور پر ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے لیکن اس نظریاتی وابستگی نے ان کی تخلیقی کشادگی کو کم نہیں ہونے دیا۔ وہ موضوع ، زبان اور شعری ہیئتوں میں نئے نئے تجربے کرتے رہے۔ ان کا ایک نمایاں تجربہ غزل کے فارم میں ہے ۔ انہوں نے اپنے شعری مجموعے ’’غزلیہ‘‘ میں غزل کی ہیئت اور تکنیک کو ایک نئے انداز میں برتا ہے ۔

    فارغ نے اردو کی ادبی صحافت میں بھی اہم کردار اداکیا ۔ وہ ماہنامہ ’نغمۂ حیات‘ اور ہفت روزہ ’شباب‘ کے مدیر رہے اور ’سنگ میل‘ کے نام سے ایک ادبی رسالہ بھی نکالا۔

    فارغ بخاری کی مطبوعات کے نام یہ ہیں۔ ’زیروبم‘ ’شیشے کے پیرہن‘ ’ خوشبو کا سفر‘ ’غزلیہ‘ ’ادبیات سرحد‘ ’پشتو کے لوک گیت‘ ’سرحد کے لوک گیت‘ باچا خان‘ ’پشتو شاعری‘ ’رحمان بابا کے افکار‘ ’جرأت عاشقاں-

    فارغؔ بخاری کو ان کی ادبی اور ثقافتی خدمات کے لئے حکومت پاکستان نے صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا۔ 13؍اپریل 1997ء کو پشاور میں انتقال ہوا۔

    فارغؔ بخاری کے چند منتخب اشعار

    تمہارے ساتھ ہی اس کو بھی ڈوب جانا ہے
    یہ جانتا ہے مسافر ترے سفینے کا

    پکارا جب مجھے تنہائی نے تو یاد آیا
    کہ اپنے ساتھ بہت مختصر رہا ہوں میں

    جتنے تھے تیرے مہکے ہوئے آنچلوں کے رنگ
    سب تتلیوں نے اور دھنک نے اڑا لیے

    جلتے موسم میں کوئی فارغؔ نظر آتا نہیں
    ڈوبتا جاتا ہے ہر اک پیڑ اپنی چھاؤں میں

    دو دریا بھی جب آپس میں ملتے ہیں
    دونوں اپنی اپنی پیاس بجھاتے ہیں

    زندگی میں ایسی کچھ طغیانیاں آتی رہیں
    بہہ گئیں ہیں عمر بھر کی نیکیاں دریاؤں میں

    سفر میں کوئی کسی کے لیے ٹھہرتا نہیں
    نہ مڑ کے دیکھا کبھی ساحلوں کو دریا نے

    محبتوں کی شکستوں کا اک خرابہ ہوں
    خدارا مجھ کو گراؤ کہ میں دوبارا بنوں

    منصور سے کم نہیں ہے وہ بھی
    جو اپنی زباں سے بولتا ہے

    نئی منزل کا جنوں تہمت گمراہی ہے
    پا شکستہ بھی تری راہ میں کہلایا ہوں

    کتنے شکوے گلے ہیں پہلے ہی
    راہ میں فاصلے ہیں پہلے ہی

    کیا زمانہ ہے یہ کیا لوگ ہیں کیا دنیا ہے
    جیسا چاہے کوئی ویسا نہیں رہنے دیتے

    ہم ایک فکر کے پیکر ہیں اک خیال کے پھول
    ترا وجود نہیں ہے تو میرا سایا نہیں

    ہم سے انساں کی خجالت نہیں دیکھی جاتی
    کم سوادوں کا بھرم ہم نے روا رکھا ہے

    یہی ہے دور غمِ عاشقی تو کیا ہوگا
    اسی طرح سے کٹی زندگی تو کیا ہوگا

    یاد آئیں گے زمانے کو مثالوں کے لیے
    جیسے بوسیدہ کتابیں ہوں حوالوں کے لیے

  • مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انسان کی تلاش

    مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انسان کی تلاش

    اور ہی وہ لوگ ہیں جن کو ہے یزداں کی تلاش
    مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انسان کی تلاش

    محمد نظیر الدین صدیقی المعروف نظیر صدیقی 7؍نومبر 1930ء کو سرائے ساہو، ضلع چھپرا (بہار) میں پیدا ہوئے۔ 1953ء میں ڈھاکہ سے اردو میں ایم اے کیا۔ پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں 1976ء میں ایم اے کیا۔ڈھاکا میں مختلف کالجوں میں تدریسی فرائض انجام دیتے رہے۔ 1990ء میں بیجنگ یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے سربراہ مقرر ہوئے۔ نظیر صدیقی نے اردو کے علاوہ انگریزی میں بھی مضامین اور ریویو اورکالم لکھے۔ انھوں نے انشائیے اور شخصی خاکے بھی لکھے۔ تنقید نگاری ان کا بنیادی ذریعہ اظہار تھا۔ وہ اردو کے ایک بہترین نثر نگار تھے۔

    12؍اپریل 2001ء کو اسلام آباد میں وفات پاگئے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر اردو اور انگریزی میں 20 سے زائد کتابیں تصنیف کی ہیں۔
    چند کتابوں کے نام یہ ہیں: ’شہرت کی خاطر‘ (انشائیے)، ’تأثرات وتعصبات‘، ’میرے خیال میں‘، ’ادبی جائزے‘، ’تفہیم وتعبیر‘، ’اردو ادب کے مغربی دریچے‘، ’ڈاکٹر عندلیب شادانی۔ایک مطالعہ‘(تنقیدی مضامین)، ’جان پہچان‘ (شخصی خاکے)، ’حسرتِ اظہار‘ (مجموعہ کلام)، ’جدید اردو غزل۔ایک مطالعہ‘، ’اقبال اینڈ رادھا کرشن‘ (انگریزی)، ’گزرگاہ خیال‘، ’اعتراف‘ (جاپانی کتاب کا ترجمہ)، اس کتاب پر اکادمی ادبیات پاکستان کی جانب سے ایوارڈ دیا گیا۔

    👈 بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:248

    نظیرؔ صدّیقی کے منتخب اشعار

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اور ہی وہ لوگ ہیں جن کو ہے یزداں کی تلاش
    مجھ کو انسانوں کی دنیا میں ہے انساں کی تلاش

    ابھی سے وہ دامن چھڑانے لگے ہو
    جو اب تک مرے ہاتھ آیا نہیں ہے

    آئے تو دل تھا باغ باغ اور گئے تو داغ داغ
    کتنی خوشی وہ لائے تھے کتنا ملال دے گئے

    جس درجہ نیک ہونے کی ملتی رہی ہے داد
    اس درجہ نیک بننے کا ارماں کبھی نہ تھا

    جو لوگ موت کو ظالم قرار دیتے ہیں
    خدا ملائے انہیں زندگی کے ماروں سے

    رات سے شکایت کیا بس تمہیں سے کہنا ہے
    تم ذرا ٹھہر جاؤ رات کب ٹھہرتی ہے

    چشمِ نم کچھ بھی نہیں اور شعر تر کچھ بھی نہیں
    اب یہاں خونِ جگر نقشِ ہنر کچھ بھی نہیں

    کسی کی مہربانی سے محبت مطمئن کیا ہو
    محبت تو محبت سے بھی آسودہ نہیں ہوتی

    ماتم نہیں مناسب اب جان کے جہاں کا
    دشتِ طلب کے رستے ہموار ہو گئے ہیں

    ہر شخص بن گیا ہے خدا تیرے شہر میں
    کس کس کے در پہ مانگیں دعا تیرے شہر میں

    اگر بخش دینے پہ تیار ہو تم
    مجھے جرم سے اپنے انکار کیوں ہو

    علم و ہنر کے فیض سے علم و ہنر کے باوجود
    محفلِ زیست میں نظیرؔ رنگ ہے روشنی نہیں

    کس قوت‌ بے درد کا اظہار ہے دنیا
    ہر دل کو گلا ہے کہ دلِ آزار ہے دنیا

    اہلِ کمال کو نظیرؔ اہلِ جہاں نے کیا دیا
    اہلِ جہاں کو کیا نہیں اہلِ کمال دے گئے

  • معروف شاعر منور بدایونی

    معروف شاعر منور بدایونی

    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے "منور” بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    منور بدایونی (پیدائش: 2 دسمبر 1908ء – وفات: 6 اپریل 1984ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر تھے۔اُن کا تخلص منور تھا۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 2 دسمبر، 1908ء کو لکھنؤ، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام ثقلین احمد تھا۔ ان کے شعری مجموعوں میں منور نعتیں، منوغزلیں اور منور قطعات اور منور نغمات شامل ہیں۔ ان کی کی شعری کلیات منور کلیات کے نام سے اشاعت پزیر ہوچکی ہے۔ منور بدایونی کے چھوٹے بھائی محشر بدایونی بھی اردو کے ممتاز شاعروں میں شمار ہوتے ہیں۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)منور نعتیں
    ۔ (2)منور غزلیں
    ۔ (3)منور قطعات
    ۔ (4)منور نغمات
    ۔ (5)کلیات منور
    نمونۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    پیچھے مڑ مڑ کر نہ دیکھو اے منورؔ بڑھ چلو
    شہر میں احباب تو کم ہیں سگے بھائی بہت

    جو دل کو دے گئی اک درد عمر بھر کے لیے
    تڑپ رہا ہوں ابھی تک میں اس نظر کے لیے

    علاج کی نہیں حاجت دل و جگر کے لیے
    بس اک نظر تری کافی ہے عمر بھر کے لیے

    اب کنج لحد میں ہوں میسر نہیں آنسو
    آیا ہے شب ہجر کا رونا مرے آگے

    نظر آتی ہیں سوئے آسماں کبھی بجلیاں کبھی آندھیاں
    کہیں جل نہ جائے یہ آشیاں کہیں اڑ نہ جائیں یہ چار پر

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    منور بدایونی 6 اپریل 1984ء کو کراچی، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ کراچی میں عزیز آباد کے قبرستان آسودۂ خاک ہیں۔

  • بھارت کی معروف صحافی فاطمہ زکریا

    بھارت کی معروف صحافی فاطمہ زکریا

    فاطمہ زکریا (تاریخ ولادت:17 فروری 1936ء،تاریخ وفات:06 اپریل 2021ء) ممبئی ٹائمز کی ایڈیٹر تھیں اور بعد میں ٹائمز آف انڈیا کی سنڈے ایڈیٹر ہوئیں۔ انھوں نے تاج ہوٹلز کے تاج میگزین کی ایڈیٹر کے طور پر بھی کام کیا۔

    مرحومہ فاطمہ زکریا ممبئی ٹائمز کی سابقہ ​​ایڈیٹر ، اور ٹائمز آف انڈیا کےسنڈے ایڈیشن ایڈیٹرکی بھی ایڈیٹر رہی تھیں۔ٹائمزآف انڈیا سے علحیدگی کے بعد فاطمہ زکریا تاج ہوٹل کے تاج میگزین کی ایڈیٹر بھی رہیں۔ ان کا دفتر ممبئی کے تاج محل ہوٹل میں واقع تھا۔ڈاکٹر رفیق زکریا کے2004 میں انتقال کےچند سال فاطمہ زکریا تاریخی شہر اورنگ آباد مہاراشٹر منتقل ہوگئی تھیں جہاں ان کے مرحوم شوہر نے مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ قائم کیاتھا۔ یہ ان کا اسمبلی حلقہ تھا جہاں سے وہ کافی بار منتخب ہوئے اور ریاستی کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ فاطمہ زکریانے اورنگ آباد کے ان تعلیمی اداروں کو اس حد تک تبدیل کیا کہ ان کا موازنہ ایشیا کے بہترین مراکز تعلیم سے کیا جاسکے۔

    زکریا نے اورنگ آباد میں مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ کے کیمپس میں پہلا ریٹ فائیو اسٹار ہوٹل دی تاج ریذیڈنسی کے قیام کے لئے تاج گروپ آف ہوٹلوں میں شمولیت اختیار کی۔ وہ کافی ٹیبل میگزین تاج کی ایڈیٹر بن گئیں۔ اس کے بعد ، انہوں نے ایک برٹش یونیورسٹی کے ساتھ اتحاد میں ایک ہوٹل مینجمنٹ کورس متعارف کرایا۔ اس کورس کو ہندوستان میں بہترین اور قابل احترام تسلیم کیا جاتا ہے۔ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ہوٹل مینجمنٹ اورنگ آباد کے بورڈ میں بھی رہیں۔وہ خود یالے یونیورسٹی کی تعلیم یافتہ تھیں ،ایک میمن مسلم۔فیملی سے تعلق رکھنے والی فاطمہ زکریا کی پرورش کرافورڈ مارکیٹ جیسے مسلم اکثریتی علاقے میں ہوئی تھی،لیکن انہوں نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور صحافت کے پیشہ سے وابستہ ہوئیں۔

    سنٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز ، شملہ کے خطوط پر ہائر لرننگ سنٹر قائم کرنے کے عمل میں ر ہیں۔ یہ جون 2010 سے کارآمد ہوا اور حقیقی علماء اور ماہرین تعلیم کو تحقیقی سرگرمیاں انجام دینے میں مدد فراہم کررہاہے، زکریا کو سیکولرسٹ سمجھا جاتا ہے ، تاہم وہ مسلمانوں کی تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے خصوصی خیال رکھتی تھیں۔انہیں ہندوستان حکومت نے 2006 میں پدما شری دیا تھا۔ مرحومہ فاطمہ زکریا مولانا آزاد ایجوکیشن ٹرسٹ اور سوسائٹی کی بالترتیب چیئرپرسن اور صدر بھی تھیں،جبکہ مہاراشٹر کالج ممبئی کی صدر اور آل انڈیا خلافت کمیٹی اور بی ایڈ کالج کی بھی صدر نشین تھیں۔

  • ماہ مہمان کی قدر کیجئے،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ماہ مہمان کی قدر کیجئے،ازقلم :غنی محمود قصوری

    ماہ مہمان کی قدر کیجئے

    ازقلم غنی محمود قصوری

    روزے کو عربی میں صوم، صیام کہتے ہیں جس کے لغوی معنی ہیں کہ کسی چیز سے اپنے آپ کو روکے رکھنا
    اگر ہم بغور مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ صیام یعنی روزے کا اصل باشرع مقصد و مطلب ہے کہ اللہ کی خوشنودی کے لئے سحری سے نماز مغرب تک خود کو کھانے پینے و نکاح کے باوجود جماع جیسے جائز کام سے روکے رکھنا ہے

    روزوں کی فرضیت کا حکم سنہ 2 ہجری میں تحویل قبلہ کے واقعہ سے کم و بیش دس پندرہ روز بعد نازل ہوا

    آیت صیام شعبان کے مہینے میں نازل ہوئی جس میں رمضان المبارک کو ماہ صیام قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا

    شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيْ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِّلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِّنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ

    البقرة
    رمضان کا مہینہ (وہ ہے) جس میں قرآن اتارا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور (جس میں) راہنمائی کرنے والی اور (حق و باطل میں) امتیاز کرنے والی واضح نشانیاں ہیں۔ پس تم میں سے جو کوئی اس مہینہ کو پا لے تو وہ اس کے روزے ضرور رکھے

    اسلام میں ہر عمل کا اجر بتایا گیا کے مگر رمضان کے روزے کا اجر ایسا ہے کہ اسے اللہ تعالی ہی جانتے ہیں اس بارے یہ حدیث ہے

    ابن آدم کا ہر عمل دوگنا ہوتا ہے، نیکی کا اجر دس سے لیکر سات سو گنا تک جاتا ہے، اللہ عزّوجل نے فرمایا،روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اسکا اجر دوں گا کیونکہ اس میں میرا بندہ اپنی شہوت اور کھانے پینے کو میری وجہ سے چھوڑ دیتا ہے روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی اسکی افطاری کے وقت اور دوسرے اپنے رب سے ملاقات کے وقت، اسکے ( روزہ دار) منہ کی بو اللہ کو کستوری کی خوشبو سے زیادہ پسندیدہ ہے (متفق علیہ )

    اس ماہ رمضان کی حرمت یہ ہے کہ صحیح بخاری میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جس نے ایمان کی حالت میں ثواب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے تو اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں

    اللہ رب العزت کی رحمت بہت وسیع ہے وہ تو اپنی رحمت سے اپنے بندوں کو معاف کرنے کا بہانہ ڈھونڈتا ہے تاکہ خطاءکار حضرت انسان کی اصلاح کرکے اس کے گناہ معاف فرما کر اسے جنت کا راہی بنایا جائےاسی لئے اللہ رب العزت نے اس ماہ مقدس کو مہمان بنا کر بیجھا تاکہ ہم گناہوں سے بچ سکیں اور نیک اعمال کرکے جنت میں جائیں جس طرح ہم دنیا میں آنے والے مہمان کی خاطر اس کی تکریم کی خاطر اپنے گھر کو صاف کرتے اور گھر کی تزئین و آرائش کرتے ہیں بلکل اسی طرح ہمیں اس ماہ مقدس ماہ مہمان کی آمد سے پہلے اپنے دل کو صاف کرنا چائیے –

    ہر اس برائی سے بچنا چائیے جس سے ہمیں اسلام نے منع فرمایا ہے تاکہ آنے والا مہمان ماہ صیام کو پتہ چلے کہ ہم اسکا خوب شاندار استقبال اس کی عزت و تکریم میں کر رہے ہیں جس طرح ایک خوش اخلاق مہمان جاتے ہوئے گھر کے چھوٹے بچوں کو یاں پھر کسی اور کو تحفتاً کچھ نقدی جا اور چیز جا کر جاتے ہیں بلکل اسی طرح یہ ماہ مہمان ہمیں جاتے ہیں اپنی صحیح اسلامی خاطر تواضع کے عیوض متقی اور پرہیز گار بنا کر جاتا ہے اور عید الفطر جیسی خوشی و متقی بن جانے پہ جنت کی بشارت دے کر جاتا ہے اب آگے ہماری مرضی ہے کہ ہم ماہ مقدس ماہ رمضان کے جانے کے بعد بھی اسی عقیدے پہ چل کر جنت کے پکے حق دار رہتے ہیں کہ نہیں-

    ماہ رمضان کے اندر جس طرح ہم اپنے گھر والوں کے لئے عمدہ سے عمدہ کھانوں کا اہتمام کرتے ہیں ویسے ہی ہمیں چائیے کہ اپنے پڑوسیوں عزیزوں رشتہ داروں کا بھی خیال رکھیں جو مالی طور پہ کمزور ہیں ان کی مدد کی جائے تاکہ وہ بھی اچھے طریقے سے سیر ہو کر روزہ رکھیں اور افطار کریں کیونکہ آپ کے صدقہ خیرات کے علاوہ عام مالی مدد کا سب سے پہلا مستحق آپکا اپنا بہن بھائی پھر اسے کے بعد آپکا ہمسایہ و گلی محلے والا اور رشتہ دار ہیں اس کے بعد دیگر جماعتیں و لوگ آتے ہیں اگر قرآن وحدیث کا مطالعہ کریں تو صدقے خیرات کے اولین حقدار یہی لوگ ہیں مگر افسوس آج ہم لاکھوں روپیہ لگا کر افطار پارٹیاں تو کرتے ہیں مگر اصل حقدار ان افطار پارٹیوں کے قریب بھی نہیں دیکھے جاتے-

    میں افطار پارٹیوں کے خلاف نہیں مگر ایک بات یاد کرواتا چلو آپ نے اگر اپنے اصل حقدار تک اس کا حق نہیں پہنچایا اور اس کے بغیر آپ پہلے سے مالی مستحق دوستوں یاروں کی افطار پارٹیاں کر رہے ہیں تو یاد رکھیں روز قیامت اس پہ پوچھ ہو گی اور رب کی طرف سے پکڑ بھی ہو گی افطار پارٹیاں ضرور کیجئے مگر اس سے پہلے اصل حقداروں تک اس کا حق پہنچائیے-

    سوچیں اصل حقداروں کا حق مار کر کسی اور کو راضی کرکے ہم رب کو راضی کر سکیں گے؟ہر گز نہیں باقی روزہ دار کی افطاری کروانا بہت بڑا ثواب ہے اس بارے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث ہے

    حضرت زید بن خالد رضی اللہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص کسی روزے دار کو افطار کروائے یا کسی مجاہد کا سامان سفر تیار کروائے تو اسے بھی اس کے مثل اجر ملے گا (بیہقی)

    آخر میں ایک بار پھر یاد کروا دو پہلے اپنے اصل حقدار راضی کرو ان کا حق ان تک پہنچاؤ پھر لاکھوں کروڑوں لگا کر افطار پارٹیاں کرو اور ان افطار پارٹیوں میں بھی غریب غرباء کو یاد رکھواللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین

  • اردو کےممتازشاعر، فلم ساز اور ہدایت کار سعید الرحمن

    اردو کےممتازشاعر، فلم ساز اور ہدایت کار سعید الرحمن

    پابہ جولاں اپنے شانوں پر ہے اپنی صلیب
    میں سفیر حق ہوں لیکن نرغہ باطل میں ہوں

    اردو کےممتازشاعر، فلم ساز اور ہدایت کارسروربارہ بنکوی کااصل نام سعید الرحمن تھاوہ 30 جنوری 1919ء کو بارہ بنکی (یوپی،ہندستان) میں پیدا ہوئے تھے قیام پاکستان کے بعد پہلے کراچی اور پھر ڈھاکا میں سکونت اختیار کی۔جہاں انہوں نے فلم تنہا کے مکالمے لکھ کر اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا اورپھرچندا، تلاش، ناچ گھر، کاجل ، بہانہ، ملن، نواب سراج الدولہ، تم میرے ہو،آخری اسٹیشن،چاند اورچاندنی، احساس، سونے ندیا جاگے پانی اور کئی دیگر فلموں کے نغمات لکھے جو بہت مقبول ہوئے۔ اسی دوران انھوں نے تین فلمیں آخری اسٹیشن، تم میرے ہو اور آشنا پروڈیوس اور ڈائریکٹ بھی کیں۔

    آخری دنوں میں وہ بنگلہ دیش کے اشتراک سے ایک فلم ’’کیمپ 333‘‘ بنانا چاہتے تھے۔ وہ اسی سلسلے میں ڈھاکا گئے ہوئے تھے کہ دل کا دورہ پڑنے کے باعث 03 اپریل 1980ء کو ڈھاکا میں وفات پاگئے۔ ان کا جسد خاکی کراچی لایا گیا جہاں وہ سوسائٹی کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے سروربارہ بنکوی کے دو شعری مجموعے ”سنگ آفتاب“ اور ”سوزگیتی“ کے نام سے اشاعت پذیر ہوچکے ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    نہ کسی کو فکرِ منزل نہ کہیں سراغِ جادہ
    یہ عجیب کارواں ہے جو رواں ہے بے ارادہ
    یہی لوگ ہیں ازل سے جو فریب دے رہے ہیں
    کبھی ڈال کر نقابیں کبھی اوڑھ کر لبادہ
    میرے روز و شب یہی ہیں کہ مجھی تک آ رہی ہیں
    ترے حسن کی ضیائیں کبھی کم کبھی زیادہ
    سرِ انجمن تغافل کا صلہ بھی دے گئی ہے
    وہ نگہ جو درحقیقت تھی نگاہ سے زیادہ
    ہو برائے شامِ ہجراں لبِ ناز سے فروزاں
    کوئی ایک شمعِ پیماں کوئی اک چراغِ وعدہ

    غزل
    ۔۔۔۔۔ا
    ●تو عروس شامِ خیال بھی تو جمال روئے سحر بھی ہے
    یہ ضرور ہے کہ بہ ایں ہمہ مرا اہتمام نظر بھی ہے
    یہ مرا نصیب ہے ہم نشیں سر راہ بھی نہ ملے کہیں
    وہی مرا جادۂ جستجو وہی ان کی راہ گزر بھی ہے
    نہ ہو مضمحل مرے ہم سفر تجھے شاید اس کی نہیں خبر
    انہیں ظلمتوں ہی کے دوش پر ابھی کاروانِ سحر بھی ہے
    ہمہ کشمکش مری زندگی کبھی آ کے دیکھ یہ بے بسی
    تری یاد وجہِ سکوں سہی وہی راز دیدۂ تر بھی ہے
    ترے قرب نے جو بڑھا دیئے کبھی مٹ سکے نہ وہ فاصلے
    وہی پاؤں ہیں وہی آبلے وہی اپنا ذوقِ سفر بھی ہے
    بہ ہزار دانش و آگہی مری مصلحت ہے ابھی یہی
    میں سرورؔ رہرو شب سہی مری دسترس میں سحر بھی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اے جنوں کچھ تو کھلے آخر میں کس منزل میں ہوں
    ہوں جوار یار میں یا کوچۂ قاتل میں ہوں
    پا بہ جولاں اپنے شانوں پر لیے اپنی صلیب
    میں سفیرِ حق ہوں لیکن نرغۂ باطل میں ہوں
    جشنِ فردا کے تصور سے لہو گردش میں ہے
    حال میں ہوں اور زندہ اپنے مستقبل میں ہوں
    دم بخود ہوں اب سرِ مقتل یہ منظر دیکھ کر
    میں کہ خود مقتول ہوں لیکن صفِ قاتل میں ہوں
    اک زمانہ ہو گیا بچھڑے ہوئے جس سے سرورؔ
    آج اسی کے سامنے ہوں اور بھری محفل میں ہوں

  • ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے،کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے،کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے
    کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    افتخار امام صدیقی

    افتخار امام صدیقی، 19؍نومبر 1947ء کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد اعجاز صدیقی تھے اور دادا سیمابؔ اکبر آبادی۔ سیمابؔ اکبر آبادی تقسیم کے بعد پاکستان چلے گئے لیکن افتخار امام صدیقی کے والد اعجاز صدیقی یہیں رہے۔ اعجاز خود ایک بلند پایہ شاعر اور نثر نگار تھے۔ انھوں نے اپنے تخلیقی کاموں کےساتھ ساتھ ماہنامہ ’شاعر‘ کو بھی نئی آب وتاب کے ساتھ جاری رکھا۔ شاعری، نثر نگار اور ماہنامہ ’شاعر‘ کی ادارت، تینوں چیزیں افتخار امام صدیقی کو بھی ورثے میں ملیں اور انھوں نے ان تینوں خانوں میں اپنی ایک نمایاں شناخت قائم کی۔

    افتخار امام صدیقی نے زیادہ تر غزلیں کہیں۔ ان کی غزلیں اپنے شدید کلاسیکی رچاؤ کی وجہ سے بہت مقبول ہوئیں۔ کئی اہم گلوکاروں نے ان کی غزلیں گائی ہیں۔ خود افتخار امام صدیقی خوبصورت ترنم کے مالک تھے اور ہندوستان و پاکستان کے مشاعروں میں بہت دلچسپی سے سنے جاتے تھے۔ افتخار امام صدیقی نے کئی تنقیدی کتابیں بھی لکھی ہیں۔ ان کا ایک یادگار کام ’شاعر‘ کے وہ خاص شمارے میں جو انھوں نے مشہور ومعروف ادبی شخصیات پر ترتیب دئے ہیں۔ حامد اقبال صدیقی ان کے بھائی ہیں 04 اپریل 2021ء کو افتخار امام صدیقی انتقال کر گئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    وہ خواب تھا بکھر گیا خیال تھا ملا نہیں
    مگر یہ دل کو کیا ہوا کیوں بجھ گیا پتا نہیں

    ہر ایک دن اداس دن تمام شب اداسیاں
    کسی سے کیا بچھڑ گئے کہ جیسے کچھ بچا نہیں

    وہ ساتھ تھا تو منزلیں نظر نظر چراغ تھیں
    قدم قدم سفر میں اب کوئی بھی لبِ دعا نہیں

    ہم اپنے اس مزاج میں کہیں بھی گھر نہ ہو سکے
    کسی سے ہم ملے نہیں کسی سے دل ملا نہیں

    ہے شور سا طرف طرف کہ سرحدوں کی جنگ میں
    زمیں پہ آدمی نہیں فلک پہ کیا خدا نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تو نہیں تو زندگی میں اور کیا رہ جائے گا
    دور تک تنہائیوں کا سلسلہ رہ جائے گا

    کیجئے کیا گفتگو کیا ان سے مل کر سوچئے
    دل شکستہ خواہشوں کا ذائقہ رہ جائے گا

    درد کی ساری تہیں اور سارے گزرے حادثے
    سب دھواں ہو جائیں گے اک واقعہ رہ جائے گا

    یہ بھی ہوگا وہ مجھے دل سے بھلا دے گا مگر
    یوں بھی ہوگا خود اسی میں اک خلا رہ جائے گا

    دائرے انکار کے اقرار کی سرگوشیاں
    یہ اگر ٹوٹے کبھی تو فاصلہ رہ جائے گا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بکھر ہی جاؤں گا میں بھی ہوا اداسی ہے
    فنا نصیب ہر اک سلسلہ اداسی ہے

    بچھڑ نہ جائے کہیں تو سفر اندھیروں میں
    ترے بغیر ہر اک راستا اداسی ہے

    بتا رہا ہے جو رستہ زمیں دشاؤں کو
    ہمارے گھر کا وہ روشن دیا اداسی ہے

    اداس لمحوں نے کچھ اور کر دیا ہے اداس
    ترے بغیر تو ساری فضا اداسی ہے

    کہیں ضرور خدا کو مری ضرورت ہے
    جو آ رہی ہے فلک سے صدا اداسی ہے