Baaghi TV

Tag: ادب

  • روس کے مشہورانقلابی شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی میکسم گورکی

    روس کے مشہورانقلابی شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی میکسم گورکی

    میکسم گورکی

    میکسم گورکی روس کے مشہور انقلابی شاعر، ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی ہیں جنہوں نے اپنی تحریروں سے دنیا کے بہت بڑے حصے کو متاثر کیا، انقلاب میں ایک نئی روح پھونک دی اور دنیا کے مظلوم طبقے و پسے ہوئے لوگوں میں امید کی ایک نئی لہر پیدا کردی جس کی بازگشت آج تک جاری ہے۔

    حالاتِ زندگی و تخلیقی دور
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میکسم گورکی نیزنی نوف گورود، روسی سلطنت میں 28 مارچ 1868ء کو پیدا ہوئے۔ میکسم گورکی کا اصل نام الیکسی میکسیمووچ پیشکوف تھا۔ گورکی کا باپ معمولی حیثیت سے رفتہ رفتہ جہازران کمپنیوں کا ایجنٹ ہو گیا تھا۔ گورکی چار پانچ سال کا تھا جب اس کے باپ کا انتقال ہو گیا اور اس کی ماں اسے لے کر اپنے باپ کے یہاں چلی گئی، جو نیزنی نوف گورود میں رنگریزی کا کام کرتا تھا۔ اس وقت سے جو انی تک کی سرگزشت گورکی نے دو ناولوں میں بیان کی ہے، بچپن اور منزل کی تلاش اور ایسے ناولوں کے لیے اس کی سرگزشت سے بہتر موضوع ملنا بہت مشکل ہے۔

    گورکی کے نانا کی حالت اس وقت اچھی نہ تھی، افلاس کے ساتھ اس کی بد مزاجی اور طبیعت کے بہت سے عیب اُبھر آئے تھے اور جن لوگوں پر اس کا بس چلتا ان پر وہ اپنا غصہ اُتارتا تھا۔ لیکن گورکی کے لیے اس کا نواسا ہونا سراسر بدقسمتی نہ تھی کہ اگر اسے ایک طرف نانا کی ناگوار باتیں سننا اور سختیاں برداشت کرنا پڑتا تھا تو دوسری طرف نانا کی محبت میں اس کے لیے ایک ایسا ٹھکانا تھا جہاں پہنچتے ہی دل کا دکھ اور ظلم کا خوف اسی طرح دور ہو جاتا جیسے ڈراؤنے خوابوں کی وحشت سے آنکھ کُھل جانے سےباپ کے یہاں تھوڑے دنوں رہنے کے بعد گورکی کی ماں نے دوسری شادی کرلی اور پھر جلد ہی دق کا شکار ہو کر انتقال کرگئیں۔

    نانا نے موقع غنیمت جانا اور گورکی کو گھر سے نکال دیا۔ پہلے گورکی کو جوتے والی دکان پر نوکری ملی، جہاں طرح طرح کے گاہک آیا کرتے تھے۔ یہاں اس نے پہلے پہل دنیا کا حال دنیا والوں کی زبانی سنا، عیاشی اور بدکاری کی داستانیں سنیں۔ دکان چھوڑنے کے بعد کئی مہینے تک ایک جہاز کے باورچی خانے میں برتن دھو کر پیٹ پالتا رہا۔ باورچی پہلا شخص تھا جس نے نوجون گورکی کی تعلیم پر توجہ کی اور یہ اسی کا احسان تھا کہ گورکی نے ذرا پڑھنا لکھنا سیکھ لیا۔

    مگر برتن دھونے کا کام ایسا تھا کہ گورکی سے ہوتا نہ تھا، وہ اس کام سے پیچھا چھڑا کر کسی شہر میں ایک ایسی عورت کے پاس نوکر ہو گئے جہاں شعر و شاعری اور موسیقی کا خاصا چرچا رہتا تھا اور گورکی کو ادب سے خاص لگاؤ پیدا ہو گیا، جس نے تعلیم کے شوق کو بہت بڑھادیا۔ پندرہ برس کی عمر میں گورکی نے شہر کازان کے ایک اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ناکام رہے اور تعلیم سے مایوس ہوکر اس نے ایک نان بائی کے یہاں ملازمت کرلی۔ جن لوگوں میں وہ یہاں رہتا تھا انہیں تو بھوک اور محنت کی زیادتی نے بے جان کر دیا تھا، لیکن گورکی کو چند ایسے طالب علموں سے ملنے کا اتفاق ہوا جنہوں نے اس کے ذہن میں انقلاب پسندی کے بیج بو دیے۔

    گورکی نے نان بائی کی دکان کو خیرباد کہا اور جنوب و جنوب مشرقی روس میں دو تین سال تک بے کار پھرتا رہے۔ 1890ء میں وہ نووگورود کے ایک وکیل کا محرر ہو گیا اور وکیل کی ہمدردی اور ہمت افزائی کی بدولت اس کی علمی اور ادبی قابلیت اتنی ہو گئی کہ وہ افسانے لکھنے لگا۔ 1892ء میں اس کا پہلا افسانہ شائع ہوا۔ اگرچہ اس وقت وہ پھر آوارہ گردی کرنے لگا تھا لیکن اس نے افسانہ نویسی بھی جاری رکھی۔ تین سال کے اندر گورکی کو افسانہ نگاری سے خاصی آمدنی ہونے لگی۔1898ء میں اس کے افسانوں کا مجموعہ دو جلدوں میں شائع ہوا اور کچھ عرصے کے اندر وہ روس ہی میں نہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ غیر ممالک میں مشہور اور ہر دل عزیز ہو گیا۔

    ادبی حیثیت بڑھی تو گورکی پیٹرز برگ میں آکر رہنے لگے۔ یہاں اس کے انقلاب پسندوں سے تعلقات ہو گئے۔ وہ خود کارل مارکس اور اشتراکیت کی تعلیم کا معتقد ہوگیا اور اس کی آمدنی کا بیشتر حصہ سیاسی کاموں اور انقلاب انگیز خیالات کی اشاعت میں صرف ہونے لگا۔ 1900ء میں شہر بدر کرکے نووگورود بھیج دیا گیا مگر اس سزا کا اس کے طرزِعمل پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ 1902ء میں شاہی اکادمی کا رکن منتخب ہوا اور سرکار کے حکم سے انتخاب منسوخ کر دیا گیا تو چیخوف کو جو خود کچھ عرصہ پہلے منتخب ہوا تھا، اتنا غصہ آیا کی اس نے رکنیت سے استعفا دے دیا۔

    تین سال بعد، جب 1905ء میں پہلے انقلاب روس کی تحریک اُٹھ رہی تھی توگورکی قید کر دیا گیا لیکن اس پر یورپ بھر میں ایسی نارضگی کا اظہار کیا گیا کہ حکومت کو مجبوراً اسے چھوڑنا پڑا اور اس نے انقلابی کارروائیوں میں پوری طرح شرکت کی۔ انقلاب کا خاتمہ کر دیا گیا تو گورکی فنستان ہوتے ہوئے امریکا چلا گیا۔ امریکا میں اس کا بڑی دھوم دھام سے استقبال کیا گیا اور وہاں بھی کچھ عرصے تک اس کی بڑی قدر رہی، لیکن جب لوگوں کومعلوم ہوا کہ وہ بیوی جوگورکی کے ساتھ آئی ہے بیوی نہیں صرف دوست ہے تو سب اس سے خفا ہو گئے۔ گورکی کو اپنی طرف یہ قدامت پرستی اتنی بُری لگی کی اس نےامریکا والوں کے خلاف ایک کتاب لکھ ماری امریکا سےگورکی روس واپس نہیں گیا بلکہ چند سال اٹلی کے مشہور جزیرے کیپری میں صحت کے خیال سے رہائش پزیر رہا۔

    1914ء میں جنگ عظیم شروع ہوئی۔ اس وقت گورکی کا رویہ وہی تھا جو اکثر تعلیم یافتہ روسیوں کا، یعنی وہ کشت و خون پر افسوس کرتا تھا، دونوں فریق میں سے کسی کے ساتھ اسے اخلاقی ہمدردی نہ تھی اور لڑائی کے انجام سے کوئی سروکار نہ تھا۔ البتہ جب 1917ء میں انقلاب کے آثار نظر آئے تو گورکی جاگ اُٹھا اور انقلاب کو کامیاب بنانے کی کوشش میں لگ گیا۔ لیکن انقلاب کے فلسفے کا وہ اتنا شیدائی نہ تھا اور انقلابیوں کی سیاست سے اس کو ایسا اتفاق نہ تھا کہ وہ اس تحریک میں اپنی شخصیت کو محو کر دے اور اس کی حیثیت ایک اعلیٰ مرتبہ سرپرست اور نکتہ بین ہمدرد کی سی رہی۔

    انقلاب کے رہبروں کو یہ بات پسند نہ تھی اور وہ اس پر اکثر اُلجھتے تھے لیکن اس نے روسی ادب اور تہذیب کی آبرو رکھ لی اور ترجمے کے ان اداروں نے جو گورکی نے اپنا اثر ڈال کر قائم کرائے، بہت سے انشا پردازوں کو فاقے سے بچا لیا۔ تصنیف کے لیے تو ظاہر ہے یہ زمانہ موزوں نہ تھا، گورکی نے صرف تین کتابیں اور لکھیں جن میں سے ایک میں تالستائی،کورولینکو، چیخوف اورآندریئف وغیرہ سے اس کی جو ملاقاتیں ہوئیں، ان کے کچھ حالات ہیں، دوسری کتاب زندگی کی شاہراہ پر اور تیسری روزنامچہ ہے۔ ان میں جگہ جگہ پر افسانے اور ناول کا رنگ دکھائی دیتا ہے، لیکن وہ متفرق مضامین، جن میں کمال دکھایا گیا ہے تو بڑھاپے کے آثار بھی بہت صاف نظر آتے ہیں۔

    گورکی کے ابتدائی افسانے روس کے جاہل اور غریب طبقے کا حال اسی طرح بتاتے ہیں جیسے دریا کی تہ سے مٹی اور گھونگھے جو جال کے ساتھ نکل آتے ہیں۔ چلکاش (1895ء)، ہم سفر (1896ء) اور مالوا (1897ء) گورکی کے پہلے افسانوں کے مجموعے ہیں اور یہ زیادہ تر اس آوارہ گردی کی یادگار ہیں جو گورکی نے اوڈیسہ اور جنوبی روس میں کی تھی۔ گورکی کا ناول ماں (1907ء) ایک زمانے میں انقلابی حلقوں میں بڑی قدر کی نگاہوں سے دیکھا جاتا ہے۔

    سوویت ادیبوں کی انجمن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    1934ء میں میکسم گورکی سوویت ادیبوں کی انجمن کے پہلے چیئرمین منتخب ہوئے اور اپنی وفات (1936ء) تک اس عہدہ پر فائز رہے۔

    تخلیقات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ماں
    انسان کی پیدائش
    اطالوی کہانیاں
    تین راہی
    بچپن
    زندگی کی شاہراہ پر
    منزل کی تلاش

    اعزازات: آرڈر آف لینن

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیائے ادب کے عظیم ناول نگار، افسانہ نگار، ڈراما نویس اور صحافی میکسم گورکی ماسکو اوبلاست، سویت یونین میں 68 سال کی عمر میں 28 جون 1936ء میں کروڑوں انسانوں کو سوگوار چھوڑ کر دارِفانی سے کوچ کر گئے۔

  • مسلمانان برصغیرکےعظیم رہنما سرسید احمد خان کا یوم پیدائش

    مسلمانان برصغیرکےعظیم رہنما سرسید احمد خان کا یوم پیدائش

    خدا دارم دلے بریاں ز عشق مصطفی دارم
    ندارد ہیچ کافر ساز و سامانے کہ من دارم

    مسلمانان برصغیر کے عظیم رہنما سر سید احمد خان 17 اکتوبر 1817ء کو دہلی میں پیدا ہوئے تھے۔ تعلیم پرانے اصولوں کے مطابق حاصل کی، 22 برس کے تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا پہلے چھوٹی موٹی ملازمتیں کیں۔ 1841ء میں منصفی کا امتحان پاس کرکے جج بن گئے پھر ترقی کرتے کرتے منصف عدالت خفیفہ ہوگئے، 1857ء کی جنگ آزادی کے وقت بجنور میں تھے۔ جہاں انہوں نے متعدد انگریزوں کی جان بچائی۔ سر سید احمد خان مسلمانان ہند کی ان عظیم شخصیات میں سے ایک تھے جو ایک فرد ہی نہیں ایک تحریک بھی تھے۔ جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد سر سید احمد خان مسلمانوں کی تباہی اور زبوں حالی سے سخت پریشان ہوئے۔

    انہوں نے پہلے اس جنگ کے اسباب و عوامل پر ایک رسالہ ’’اسبابِ بغاوتِ ہند‘‘ تحریر کیا پھر انہوں نے مسلمانوں کو انگریزی زبان اور مغربی علوم کے حصول کے لیے مائل کرنا چاہا تاکہ وہ آہستہ آہستہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہوسکیں۔ اس مقصد کے لیے پہلے انہوں نے 1861ء میں مراد آباد میں ایک انگریزی اسکول قائم کیا۔ پھر ایک سائنٹفک سوسائٹی قائم کی جہاں انگریزی سے تاریخ اور سیاسیات کی بعض کتابیں ترجمہ کروائیں۔ 1869ء میں انگلستان گئے اور 1875ء میں علی گڑھ میں مدرستہ العلوم قائم کیا جو بعد میں مسلم یونیورسٹی کے نام سے مشہور ہوا۔

    سر سید احمد خان نے متعدد کتابیں بھی لکھیں جن میں آثار الصنادید، خطباتِ احمدیہ، احکامِ طعام با اہل کتاب، قولِ متین در ابطال حرکت زمیں اور رسالہ اسبابِ بغاوت ہند زیادہ مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے آئین اکبری اور تاریخ فیروز شاہی کی تصحیح کی، تزکِ جہانگیری شائع کروائی اور تاریخ سرکشی بجنور کو مرتب کیا۔ اس کے علاوہ ایک رسالہ تہذیب الاخلاق بھی جاری کیا اور قرآن پاک کی تفسیر بھی لکھنی شروع کی۔ تقریباً نصف قرآن تک پہنچی تھی کہ سرسید کا انتقال ہوگیا۔ سرسید احمد خاں کا بطور رہنمائے قوم سب سے اہم کارنامہ ان کی تعلیمی تحریک ہے۔

    انہوں نے قوم کو مغربی علوم کی اہمیت سے آگاہ کیا اور اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ مسلمانوں کو سائنس اور انگریزی علوم سیکھنے پر آمادہ کیا۔ وہ فارسی زبان کے بہترین شاعر بھی تھے ۔ تنگ نظر علما نے ان پر الحاد اور کفر کے فتوے بھی لگائے اور ان کا مذاق بھی اڑایا۔ مگر سرسید آخر تک اپنے عقیدے میں راسخ رہے۔ سر سید احمد خاں پہلے اتحاد مذاہب کے داعی تھے مگر ہندوئوں کی تنگ نظری دیکھ کر انہوں نے دو قومی نظریے کا واضح اعلان کیا جو آگے چل کر پاکستان کی اساس بنا۔ سرسید احمد خان نے 27 مارچ 1898ء کو وفات پائی۔ انہیں علی گڑھ میں ان کے مدرستہ العلوم میں سپرد خاک کیا گیا۔

    کلام سر سید احمد خان

    افلاطون طِفلَکے باشَد بہ یُونانے کہ مَن دارَم
    مَسیحا رشک می آرَد ز دَرمانے کہ مَن دارَم

    افلاطون تو ایک بچہ ہے اس یونان کا جو میرا ہے، مسیحا خود رشک کرتا ہے اس درمان پر کہ جو میں رکھتا ہوں۔

    خُدا دارَم دِلے بِریاں ز عشقِ مُصطفٰی دارَم
    نَدارَد ھیچ کافر ساز و سامانے کہ مَن دارَم

    میں خدا رکھتا ہوں کہ جلے ہوے دل میں عشقِ مصطفٰی (ص) رکھتا ہوں، کوئی کافر بھی ایسا کچھ ساز و سامان نہیں رکھتا جو کہ میرے پاس ہے۔

    ز جبریلِ امیں قُرآں بہ پیغامے نمی خواھَم
    ہمہ گفتارِ معشوق است قرآنے کہ مَن دارَم

    جبریلِ امین سے پیغام کے ذریعے قرآن کی خواہش نہیں ہے، وہ تو سراسر محبوب (ص) کی گفتار ہے جو قرآن کہ میں رکھتا ہوں۔

    فلَک یک مطلعِ خورشید دارَد با ہمہ شوکت
    ہزاراں ایں چُنیں دارَد گریبانے کہ مَن دَارم

    آسمان اس تمام شان و شوکت کے ساتھ فقط سورج کا ایک مطلع رکھتا ہے جب کہ اس (مطلع خورشید) جیسے ہزاروں میرے گریبان میں ہیں۔

    ز بُرہاں تا بہ ایماں سنگ ھا دارَد رہِ واعظ
    نَدارَد ھیچ واعظ ہمچو بُرہانے کہ مَن دارَم

    واعظ کی دلیل و عقل سے ایمان تک کی راہ پتھروں سے بھری پڑی ہے لیکن کوئی واعظ اس جیسی برہان نہیں رکھتا جو کہ میرے پاس ہے۔

  • معروف پاکستانی شاعرہ فرحت زاہد

    معروف پاکستانی شاعرہ فرحت زاہد

    عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں
    اک سچ کے تحفظ کیلیے سب سے لڑی ہوں

    معروف پاکستانی شاعرہ فرحت زاہد جن کا اصل نام فرحت سلطانہ ہے وہ 23 مارچ 1960،ملتان میں پیدا ہوئیں جبکہ تعلیم بہاول پور میں حاصل کی۔30 برس دبئی اور نیویارک میں گزارے اور اب لاہور میں مقیم ہیں۔ ایک عرصے سے شاعری کر رہی ہیں ان کا کلام اہم رسائل جیسے ’فنون‘، ’اوراق‘اور’نقوش‘ میں شائع ہو چکا ہے۔ مشاعروں میں شرکت بھی کرتی رہی ہیں۔ دو شعری مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں’ لڑکیا ں ادھوری ہیں‘ اور ’عشق جینے کا اک سلیقہ‘ شائع ہو چکے ہیں۔ تانیثیت کا مدھم لہجہ ان کی غزلوں کی شناخت ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اس کی خاطر رونا ہنسنا اچھا لگتا ہے
    جیسے دھوپ میں بارش ہونا اچھا لگتا ہے
    خواب کی کچی ململ میں جب آنکھیں لپٹی ہوں
    یادیں اوڑھ کے سوتے رہنا اچھا لگتا ہے
    سانجھ سویرے کھلتے ہیں جب تیتریوں کے پر
    اس منظر میں منظر ہونا اچھا لگتا ہے
    بارش آ کر برس رہے گی موسم آنے پر
    پھر بھی اپنا درد چھپانا اچھا لگتا ہے
    بادل خوشبو اور جوگی سے آخر کون کہے
    مجھے تمھارا آنا جانا اچھا لگتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    عجیب رت ہے یہ ہجر و وصال سے آگے
    کمال ہونے لگا ہے کمال سے آگے
    وہ ایک لمحہ جو تتلی سا اپنے بیچ میں ہے
    اسے میں لے کے چلی ماہ و سال سے آگے
    کوئی جواز ہو ہمدم اب اس رفاقت کا
    تلاش کر مجھے میرے جمال سے آگے
    جواب خواب بھلا خواب کے سوا کیا ہے
    مگر وہ نکلا نہیں ہے سوال سے آگے
    پگھل رہا ہے مرا دن سیاہ راتوں میں
    کہانی گھوم رہی ہے زوال سے آگے
    رکے ہوئے ہیں کنارے پہ وہ تلاطم ہے
    یہ شہر عشق ہے اور ہے مجال سے آگے
    مشام جاں میں کوئی دیپ سا جلائے ہوئے
    نکل چلی ہوں میں رنج و ملال سے آگے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خوشبو کی طرح ملتا ہے وعدہ نہیں کرتا
    موسم کا پرندہ ہے ٹھکانا نہیں کرتا
    وہ عشق میں شعلوں کا طلب گار ہے لیکن
    اس آگ میں مر جانے کا سودا نہیں کرتا
    وہ پچھلی محبت میں مرے دل کا خسارہ
    اسباب دروں وہ کبھی پوچھا نہیں کرتا
    کرتا ہے ہر اک رنگ کی چڑیوں سے وہ باتیں
    پہنائی میں دل کی کبھی اترا نہیں کرتا
    اس شہر میں جینے کی ادا سیکھ رہی ہوں
    بیتے ہوئے کل پر یہ گزارا نہیں کرتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں کسی کے ساتھ ہوں اور وہ کسی کے ساتھ ہوں
    اک مسلسل حادثہ یہ زندگی کے ساتھ ہے

    ماں بن چکی ہوں میں بھی مگر اس سے کیا کہوں
    جو اپنی ماں کے پیار سے آگے نہ جا سکا

    محبت منتقل ہونے لگی ہے
    میں
    اب بچوں کی ہوتی جا رہی ہوں

    عورت ہوں مگر صورت کہسار کھڑی ہوں
    اک سچ کے تحفظ کیلئے سب سے لڑی ہوں

  • اردو کے ممتاز شاعر افتخار حسین عارف

    اردو کے ممتاز شاعر افتخار حسین عارف

    مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
    میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

    افتخارحسین عارف پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے ممتاز شاعر، سابق صدر نشین مقتدرہ قومی زبان، سابق چیئرمین اکادمی ادبیات پاکستان، سابق سربراہ اردو مرکز لندن،تہران میں ایکو (ECO) کے ثقافی ادارے کے سربراہ رہ چکے ہیں اوراس وقت مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین کے عہدہ پر فائز ہیں۔

    سوانح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    افتخار عارف کی اصل تاریخ پیدائش 21 مارچ 1944ء ہے جبکہ کاغذات میں 1943ء درج ہے سو اسی نسبت سے آپ کے بارے لکھا جاتا ہے کہ آپ 21 مارچ، 1943ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان کراچی منتقل ہوگیا۔ لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم۔ اے کیا۔ اپنی علمی زندگی کا آغاز ریڈیو پاکستان میں بحیثیت نیوز کاسٹر کیا۔ پھر پی ٹی وی سے منسلک ہو گئے۔ اس دور میں ان کا پروگرام کسوٹی بہت زیادہ مقبول ہوا۔

    بی سی سی آئی بینک کے تعاون سے چلنے والے ادارے "اردو مرکز” کو جوائن کرنے کے بعد آپ انگلینڈ تشریف لے گئے۔ انگلینڈ سے واپس آنے کے بعد مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین بنے۔ اس کے بعد اکادمی ادبیات کے چیرمین کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیتے رہے۔ جبکہ نومبر 2008ء سے مقتدرہ قومی زبان کے چیرمین کی حیثیت سے خدمات سر انجام دینے کے بعد آج کل اسلامی جمہوریہ ایران کے دار الحکومت تہران میں ایکو تنظیم کے ثقافتی شعبے کو سبنھالے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ایران میں ہونی والی ادبی اور علمی محفلوں کے ساتھ ساتھ مشاعروں میں افتخارعارف صاحب کی شرکت تقریبا ایک لازمی امر بن گئی ہے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔۔
    افتخار عارف کا اپنی نسل کے شعرا میں سنجیدہ ترین شاعر ہیں۔ وہ اپنے مواد اور فن دونوں میں ایک ایسی پختگی کا اظہار کرتے ہیں جو دوسروں میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہے۔ وہ عام شعراءکی طرح تجربہ کے کسی جزوی اظہار پر قناعت نہیں کرتے بلکہ اپنا پورا تجربہ لکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس کی نزاکتوں اور پیچیدگیوں کے ساتھ اسے سمیٹتے ہیں۔

    اپنے مواد پر ان کی گرفت حیرت انگیز حد تک مضبوط ہے اور یہ سب باتیں مل کر ظاہر کرتی ہیں کہ افتخار عارف کی شاعری ایک ایسے شخص کی شاعری ہے جو سوچنا، محسوس کرنا اور بولنا جانتا ہے جب کہ اس کے ہمعصروں میں بیشتر کا المیہ یہ ہے کہ یا تو وہ سوچ نہیں سکتے یا وہ محسوس نہیں کر سکتے اورسوچ اور احساس سے کام لے سکتے ہیں تو بولنے کی قدرت نہیں رکھتے۔ ان کی ان خصوصیات کی بنا پر جب میں ان کے کلام کو ہم دیکھتے ہیں تو یہ احساس کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ افتخار عارف کی آواز جدید اردو شاعری کی ایک بہت زندہ اور توانا آواز ہے۔ ایک ایسی آواز جو ہمارے دل و دماغ دونوں کو بیک وقت اپنی طرف کھینچتی ہے اور ہمیں ایک ایسی آسودگی بخشتی ہے جو عارف کے سوا شاید ہی کسی ایک آدھ شاعر میں مل سکے۔

    شعری مجموعے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)بارہواں کھلاڑی
    ۔ (2)مہر دو نیم
    ۔ (3)حرفِ باریاب
    ۔ (4)جہان معلوم
    ۔ (5)شہر علم کے دروازے پر
    ۔ (6)کتاب دل و دنیا کلیات
    ۔ (7)Writen in the
    ۔ Season of Fear
    ۔ (8)مکالمہ
    ۔ (9)در کلوندہ
    ۔ (10)افتخار عارف جی نظمن جو سندھی ترجمو

    اہم اعزازات:
    ۔۔۔۔۔۔ Faiz International Award 1988
    ۔۔۔۔۔۔ Waseeqa-e-eEtraaf 1994
    ۔۔۔۔۔۔ Baba-e-Urdu Award 1995
    ۔۔۔۔۔۔ Naqoosh Award 1994
    ۔۔۔۔۔۔ تمغا حسن کارکردگی1989
    ۔۔۔۔۔۔ ستارۂ امتیاز1999
    ۔۔۔۔۔۔ ہلال امتیاز2005

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    خواب کی طرح بکھر جانے کو جی چاہتا ہے
    ایسی تنہائی کہ مر جانے کو جی چاہتا ہے

    دل پاگل ہے روز نئی نادانی کرتا ہے
    آگ میں آگ ملاتا ہے پھر پانی کرتا ہے

    خود کو بکھرتے دیکھتے ہیں کچھ کر نہیں پاتے ہیں
    پھر بھی لوگ خداؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    تم سے بچھڑ کر زندہ ہیں
    جان بہت شرمندہ ہیں

    مرے خدا مجھے اتنا تو معتبر کر دے
    میں جس مکان میں رہتا ہوں اس کو گھر کر دے

    دعا کو ہات اٹھاتے ہوئے لرزتا ہوں
    کبھی دعا نہیں مانگی تھی ماں کے ہوتے ہوئے

    بیٹیاں باپ کی آنکھوں میں چھپے خواب کو پہچانتی ہیں
    اور کوئی دوسرا اس خواب کو پڑھ لے تو برا مانتی ہیں

    ایک چراغ اور ایک کتاب اور ایک امید اثاثہ
    اس کے بعد تو جو کچھ ہے وہ سب افسانہ ہے

    گھر کی وحشت سے لرزتا ہوں مگر جانے کیوں
    شام ہوتی ہے تو گھر جانے کو جی چاہتا ہے

    کریں تو کس سے کریں نا رسائیوں کا گلہ
    سفر تمام ہوا ہم سفر نہیں آیا

    دعائیں یاد کرا دی گئی تھیں بچپن میں
    سو زخم کھاتے رہے اور دعا دئیے گئے ہم

    بہت مشکل زمانوں میں بھی ہم اہل محبت
    وفا پر عشق کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں

    وفا کی خیر مناتا ہوں بے وفائی میں بھی
    میں اس کی قید میں ہوں قید سے رہائی میں بھی

    وہ کیا منزل جہاں سے راستے آگے نکل جائیں
    سو اب پھر اک سفر کا سلسلہ کرنا پڑے گا

    امید و بیم کے محور سے ہٹ کے دیکھتے ہیں
    ذرا سی دیر کو دنیا سے کٹ کے دیکھتے ہیں

    وہ ہم نہیں تھے تو پھر کون تھا سر بازار
    جو کہہ رہا تھا کہ بکنا ہمیں گوارا نہیں

    راس آنے لگی دنیا تو کہا دل نے کہ جا
    اب تجھے درد کی دولت نہیں ملنے والی

    زمانہ ہو گیا خود سے مجھے لڑتے جھگڑتے
    میں اپنے آپ سے اب صلح کرنا چاہتا ہوں

    میں زندگی کی دعا مانگنے لگا ہوں بہت
    جو ہو سکے تو دعاؤں کو بے اثر کر دے

    دنیا بدل رہی ہے زمانہ کے ساتھ ساتھ
    اب روز روز دیکھنے والا کہاں سے لائیں

    مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
    وہ قرض اتارے ہیں کہ واجب بھی نہیں تھے

    وہی چراغ بجھا جس کی لو قیامت تھی
    اسی پہ ضرب پڑی جو شجر پرانا تھا

    ہوا ہے یوں بھی کہ اک عمر اپنے گھر نہ گئے
    یہ جانتے تھے کوئی راہ دیکھتا ہوگا

    گھر سے نکلے ہوئے بیٹوں کا مقدر معلوم
    ماں کے قدموں میں بھی جنت نہیں ملنے والی

    ہم اپنے رفتگاں کو یاد رکھنا چاہتے ہیں
    دلوں کو درد سے آباد رکھنا چاہتے ہیں

    میں چپ رہا کہ وضاحت سے بات بڑھ جاتی
    ہزار شیوۂ حسن بیاں کے ہوتے ہوئے

    جواب آئے نہ آئے سوال اٹھا تو سہی
    پھر اس سوال میں پہلو نئے سوال کے رکھ

    بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں
    عجیب رسم چلی ہے دعا نہ مانگے کوئی

    کوئی تو پھول کھلائے دعا کے لہجے میں
    عجب طرح کی گھٹن ہے ہوا کے لہجے میں

    در و دیوار اتنے اجنبی کیوں لگ رہے ہیں
    خود اپنے گھر میں آخر اتنا ڈر کیوں لگ رہا ہے

    سمجھ رہے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں
    جو ہم سے مل کے بچھڑ جائے وہ ہمارا نہیں

    دل کبھی خواب کے پیچھے کبھی دنیا کی طرف
    ایک نے اجر دیا ایک نے اجرت نہیں دی

    یہ معجزہ بھی کسی کی دعا کا لگتا ہے
    یہ شہر اب بھی اسی بے وفا کا لگتا ہے

    سمندروں کو بھی حیرت ہوئی کہ ڈوبتے وقت
    کسی کو ہم نے مدد کے لیے پکارا نہیں

    اک خواب ہی تو تھا جو فراموش ہو گیا
    اک یاد ہی تو تھی جو بھلا دی گئی تو کیا

    ہم بھی اک شام بہت الجھے ہوئے تھے خود میں
    ایک شام اس کو بھی حالات نے مہلت نہیں دی

    عذاب یہ بھی کسی اور پر نہیں آیا
    کہ ایک عمر چلے اور گھر نہیں آیا

    رند مسجد میں گئے تو انگلیاں اٹھنے لگیں
    کھل اٹھے میکش کبھی زاہد جو ان میں آ گئے

    خاک میں دولت پندار و انا ملتی ہے
    اپنی مٹی سے بچھڑنے کی سزا ملتی ہے

    عجب طرح کا ہے موسم کہ خاک اڑتی ہے
    وہ دن بھی تھے کہ کھلے تھے گلاب آنکھوں میں

    غم جہاں کو شرمسار کرنے والے کیا ہوئے
    وہ ساری عمر انتظار کرنے والے کیا ہوئے

    روش میں گردش سیارگاں سے اچھی ہے
    زمیں کہیں کی بھی ہو آسماں سے اچھی ہے

    یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
    یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں

    شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
    سگ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا

    مرا خوش خرام بلا کا تیز خرام تھا
    مری زندگی سے چلا گیا تو خبر ہوئی

    اب بھی توہین اطاعت نہیں ہوگی ہم سے
    دل نہیں ہوگا تو بیعت نہیں ہوگی ہم سے

    ستاروں سے بھرا یہ آسماں کیسا لگے گا
    ہمارے بعد تم کو یہ جہاں کیسا لگے گا

    وہی فراق کی باتیں وہی حکایت وصل
    نئی کتاب کا ایک اک ورق پرانا تھا

    میں اس سے جھوٹ بھی بولوں تو مجھ سے سچ بولے
    مرے مزاج کے سب موسموں کا ساتھی ہو

    تمام خانہ بدوشوں میں مشترک ہے یہ بات
    سب اپنے اپنے گھروں کو پلٹ کے دیکھتے ہیں

    ایک ہم ہی تو نہیں ہیں جو اٹھاتے ہیں سوال
    جتنے ہیں خاک بسر شہر کے سب پوچھتے ہیں

    میں جس کو اپنی گواہی میں لے کے آیا ہوں
    عجب نہیں کہ وہی آدمی عدو کا بھی ہو

    عجیب ہی تھا مرے دور گمرہی کا رفیق
    بچھڑ گیا تو کبھی لوٹ کر نہیں آیا

    دیار نور میں تیرہ شبوں کا ساتھی ہو
    کوئی تو ہو جو مری وحشتوں کا ساتھی ہو

    پیمبروں سے زمینیں وفا نہیں کرتیں
    ہم ایسے کون خدا تھے کہ اپنے گھر رہتے

    شگفتہ لفظ لکھے جا رہے ہیں
    مگر لہجوں میں ویرانی بہت ہے

    زندگی بھر کی کمائی یہی مصرعے دو چار
    اس کمائی پہ تو عزت نہیں ملنے والی

    جو ڈوبتی جاتی ہے وہ کشتی بھی ہے میری
    جو ٹوٹتا جاتا ہے وہ پیماں بھی مرا ہے

    وہی ہے خواب جسے مل کے سب نے دیکھا تھا
    اب اپنے اپنے قبیلوں میں بٹ کے دیکھتے ہیں

    بس ایک خواب کی صورت کہیں ہے گھر میرا
    مکاں کے ہوتے ہوئے لا مکاں کے ہوتے ہوئے

    کھلا فریب محبت دکھائی دیتا ہے
    عجب کمال ہے اس بے وفا کے لہجے میں

    سب لوگ اپنے اپنے قبیلوں کے ساتھ تھے
    اک میں ہی تھا کہ کوئی بھی لشکر مرا نہ تھا

    کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں
    نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہوگا

    یہ بستی جانی پہچانی بہت ہے
    یہاں وعدوں کی ارزانی بہت ہے

    منہدم ہوتا چلا جاتا ہے دل سال بہ سال
    ایسا لگتا ہے گرہ اب کے برس ٹوٹتی ہے

    اسی کو بات نہ پہنچے جسے پہنچنی ہو
    یہ التزام بھی عرض ہنر میں رکھا جائے

    تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
    کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہوگا

    یہ ساری جنتیں یہ جہنم عذاب و اجر
    ساری قیامتیں اسی دنیا کے دم سے ہیں

    وہ جس کے نام کی نسبت سے روشنی تھا وجود
    کھٹک رہا ہے وہی آفتاب آنکھوں میں

    یہ بستیاں ہیں کہ مقتل دعا کیے جائیں
    دعا کے دن ہیں مسلسل دعا کیے جائیں

    سمندر کے کنارے ایک بستی رو رہی ہے
    میں اتنی دور ہوں اور مجھ کو وحشت ہو رہی ہے

    ہمیں میں رہتے ہیں وہ لوگ بھی کہ جن کے سبب
    زمیں بلند ہوئی آسماں کے ہوتے ہوئے

    کہیں کہیں سے کچھ مصرعے ایک آدھ غزل کچھ شعر
    اس پونجی پر کتنا شور مچا سکتا تھا میں

    دل کے معبود جبینوں کے خدائی سے الگ
    ایسے عالم میں عبادت نہیں ہوگی ہم سے

    یہ تیرے میرے چراغوں کی ضد جہاں سے چلی
    وہیں کہیں سے علاقہ ہوا کا لگتا ہے

    منصب نہ کلاہ چاہتا ہوں
    تنہا ہوں گواہ چاہتا ہوں

    میں جس کو ایک عمر سنبھالے پھرا کیا
    مٹی بتا رہی ہے وہ پیکر مرا نہ تھا

    میں اپنے خواب سے کٹ کر جیوں تو میرا خدا
    اجاڑ دے مری مٹی کو در بدر کر دے

    یہ روشنی کے تعاقب میں بھاگتا ہوا دن
    جو تھک گیا ہے تو اب اس کو مختصر کر دے

    کوئی جنوں کوئی سودا نہ سر میں رکھا جائے
    بس ایک رزق کا منظر نظر میں رکھا جائے

    روز اک تازہ قصیدہ نئی تشبیب کے ساتھ
    رزق برحق ہے یہ خدمت نہیں ہوگی ہم سے

    کاروبار میں اب کے خسارہ اور طرح کا ہے
    کام نہیں بڑھتا مزدوری بڑھتی جاتی ہے

    وہ میرے نام کی نسبت سے معتبر ٹھہرے
    گلی گلی مری رسوائیوں کا ساتھی ہو

    رنگ سے خوشبوؤں کا ناتا ٹوٹتا جاتا ہے
    پھول سے لوگ خزاؤں جیسی باتیں کرتے ہیں

    مرے سارے حرف تمام حرف عذاب تھے
    مرے کم سخن نے سخن کیا تو خبر ہوئی

    اس بار بھی دنیا نے ہدف ہم کو بنایا
    اس بار تو ہم شہ کے مصاحب بھی نہیں تھے

    ڈوب جاؤں تو کوئی موج نشاں تک نہ بتائے
    ایسی ندی میں اتر جانے کو جی چاہتا ہے

    وفا کے باب میں کار سخن تمام ہوا
    مری زمین پہ اک معرکہ لہو کا بھی ہو

    دل ان کے ساتھ مگر تیغ اور شخص کے ساتھ
    یہ سلسلہ بھی کچھ اہل ریا کا لگتا ہے

    مٹی کی گواہی سے بڑی دل کی گواہی
    یوں ہو تو یہ زنجیر یہ زنداں بھی مرا ہے

    جب میرؔ و میرزاؔ کے سخن رائیگاں گئے
    اک بے ہنر کی بات نہ سمجھی گئی تو کیا

    حامی بھی نہ تھے منکر غالبؔ بھی نہیں تھے
    ہم اہل تذبذب کسی جانب بھی نہیں تھے

    ہر نئی نسل کو اک تازہ مدینے کی تلاش
    صاحبو اب کوئی ہجرت نہیں ہوگی ہم سے

    ہمیں تو اپنے سمندر کی ریت کافی ہے
    تو اپنے چشمۂ بے فیض کو سنبھال کے رکھ

    خزانۂ زر و گوہر پہ خاک ڈال کے رکھ
    ہم اہل مہر و محبت ہیں دل نکال کے رکھ

    یہی لہجہ تھا کہ معیار سخن ٹھہرا تھا
    اب اسی لہجۂ بے باک سے خوف آتا ہے

    سپاہ شام کے نیزے پہ آفتاب کا سر
    کس اہتمام سے پروردگار شب نکلا

    عذاب وحشت جاں کا صلہ نہ مانگے کوئی
    نئے سفر کے لیے راستہ نہ مانگے کوئی

    ہر اک سے پوچھتے پھرتے ہیں تیرے خانہ بدوش
    عذاب دربدری کس کے گھر میں رکھا جائے

    ہمیں بھی عافیت جاں کا ہے خیال بہت
    ہمیں بھی حلقۂ نا معتبر میں رکھا جائے

    یہی لو تھی کہ الجھتی رہی ہر رات کے ساتھ
    اب کے خود اپنی ہواؤں میں بجھا چاہتی ہے

    کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
    جہان رزق میں توقیر اہل حاجت کیا

    صبح سویرے رن پڑنا ہے اور گھمسان کا رن
    راتوں رات چلا جائے جس کو جانا ہے

    جو حرف حق کی حمایت میں ہو وہ گم نامی
    ہزار وضع کے نام و نشاں سے اچھی ہے

    مآل عزت سادات عشق دیکھ کے ہم
    بدل گئے تو بدلنے پہ اتنی حیرت کیا

    عاجزی بخشی گئی تمکنت فقر کے ساتھ
    دینے والے نے ہمیں کون سی دولت نہیں دی

  • جادو ہے یا طلسم تمھاری زبان میں

    جادو ہے یا طلسم تمھاری زبان میں

    جادو ہے یا طلسم تمھاری زبان میں
    تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

    نام سید وحید الدین، تخلص بیخودؔ ۔ پہلا تخلص نادرؔ تھا۔ 21مارچ 1863ء کو بھرت پور میں پید اہوئے۔ دہلی ان کا مولد ومسکن تھا۔ بیخودؔ نے دہلی میں اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ مولانا حالیؔ سے ’’مہرنیم روز‘‘ اور اساتذہ کے دواوین پڑھے۔ حالیؔ ہی کے ایما سے داغؔ کے شاگرد ہوئے۔ شاعری بیخودؔ کو ورثے میں ملی تھی۔ شاعری میں دلی ٹکسالی زبان،محاورات اور روز مرہ کا استعمال جس خوبی سے بیخود کرتے تھے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسی وجہ سے تمام اساتذۂ فن نے انھیں داغؔ کا صحیح جانشین تسلیم کیا ہے۔

    بیخودؔ خوش پوشاک اور خوش خوراک ہونے کے علاوہ شاہ خرچ بھی تھے۔ 1948ء میں وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کچھ وظیفہ مقرر کردیا تھا۔ 150 روپیہ ماہوار وزارت تعلیم حکومت ہند سے ملتا تھا جس کے سربراہ مولانا ابوالکلام آزاد تھے۔ ان کے دو دیوان’’گفتار بیخود‘‘ اور ’’شہوار بیخود‘‘ طبع ہوچکے ہیں ۔02اکتوبر 1955ء کو دہلی میں انتقال ہوا۔

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ادائیں دیکھنے بیٹھے ہو کیا آئینہ میں اپنی
    دیا ہے جس نے تم جیسے کو دل اس کا جگر دیکھو

    آئنہ دیکھ کر وہ یہ سمجھے
    مل گیا حسن بے مثال ہمیں

    راہ میں بیٹھا ہوں میں تم سنگ رہ سمجھو مجھے
    آدمی بن جاؤں گا کچھ ٹھوکریں کھانے کے بعد

    نہ دیکھنا کبھی آئینہ بھول کر دیکھو
    تمہارے حسن کا پیدا جواب کر دے گا

    وہ کچھ مسکرانا وہ کچھ جھینپ جانا
    جوانی ادائیں سکھاتی ہیں کیا کیا

    بولے وہ مسکرا کے بہت التجا کے بعد
    جی تو یہ چاہتا ہے تری مان جائیے

    دل محبت سے بھر گیا بیخودؔ
    اب کسی پر فدا نہیں ہوتا

    دل تو لیتے ہو مگر یہ بھی رہے یاد تمہیں
    جو ہمارا نہ ہوا کب وہ تمہارا ہوگا

    سن کے ساری داستان رنج و غم
    کہہ دیا اس نے کہ پھر ہم کیا کریں

    قیامت ہے تری اٹھتی جوانی
    غضب ڈھانے لگیں نیچی نگاہیں

    دل ہوا جان ہوئی ان کی بھلا کیا قیمت
    ایسی چیزوں کے کہیں دام دیے جاتے ہیں

    مجھ کو نہ دل پسند نہ وہ بے وفا پسند
    دونوں ہیں خود غرض مجھے دونوں ہیں نا پسند

    بات کرنے کی شب وصل اجازت دے دو
    مجھ کو دم بھر کے لئے غیر کی قسمت دے دو

    جواب سوچ کے وہ دل میں مسکراتے ہیں
    ابھی زبان پہ میری سوال بھی تو نہ تھا

    نمک بھر کر مرے زخموں میں تم کیا مسکراتے ہو
    مرے زخموں کو دیکھو مسکرانا اس کو کہتے ہیں

    منہ میں واعظ کے بھی بھر آتا ہے پانی اکثر
    جب کبھی تذکرۂ جام شراب آتا ہے

    تکیہ ہٹتا نہیں پہلو سے یہ کیا ہے بیخودؔ
    کوئی بوتل تو نہیں تم نے چھپا رکھی ہے

    رقیبوں کے لیے اچھا ٹھکانا ہو گیا پیدا
    خدا آباد رکھے میں تو کہتا ہوں جہنم کو

    سوال وصل پر کچھ سوچ کر اس نے کہا مجھ سے
    ابھی وعدہ تو کر سکتے نہیں ہیں ہم مگر دیکھو

    اب آپ کوئی کام سکھا دیجئے ہم کو
    معلوم ہوا عشق کے قابل تو نہیں ہم

    بات وہ کہئے کہ جس بات کے سو پہلو ہوں
    کوئی پہلو تو رہے بات بدلنے کے لیے

    انہیں تو ستم کا مزا پڑ گیا ہے
    کہاں کا تجاہل کہاں کا تغافل

    میرا ہر شعر ہے اک راز حقیقت بیخودؔ
    میں ہوں اردو کا نظیریؔ مجھے تو کیا سمجھا

    پڑھے جاؤ بیخودؔ غزل پر غزل
    وہ بت بن گئے ہیں سنے جائیں گے

    جادو ہے یا طلسم تمہاری زبان میں
    تم جھوٹ کہہ رہے تھے مجھے اعتبار تھا

    غم میں ڈوبے ہی رہے دم نہ ہمارا نکلا
    بحر ہستی کا بہت دور کنارا نکلا

    تم کو آشفتہ مزاجوں کی خبر سے کیا کام
    تم سنوارا کرو بیٹھے ہوئے گیسو اپنے

    محفل وہی مکان وہی آدمی وہی
    یا ہم نئے ہیں یا تری عادت بدل گئی

    بیخودؔ تو مر مٹے جو کہا اس نے ناز سے
    اک شعر آ گیا ہے ہمیں آپ کا پسند

    بھولے سے کہا مان بھی لیتے ہیں کسی کا
    ہر بات میں تکرار کی عادت نہیں اچھی

    یہ کہہ کے میرے سامنے ٹالا رقیب کو
    مجھ سے کبھی کی جان نہ پہچان جائیے

    تمہاری یاد میرا دل یہ دونوں چلتے پرزے ہیں
    جو ان میں سے کوئی مٹتا مجھے پہلے مٹا جاتا

    دی قسم وصل میں اس بت کو خدا کی تو کہا
    تجھ کو آتا ہے خدا یاد ہمارے ہوتے

    دشمن کے گھر سے چل کے دکھا دو جدا جدا
    یہ بانکپن کی چال یہ ناز و ادا کی ہے

    منہ پھیر کر وہ کہتے ہیں بس مان جائیے
    اس شرم اس لحاظ کے قربان جائیے

    ہمیں اسلام اسے اتنا تعلق ہے ابھی باقی
    بتوں سے جب بگڑتی ہے خدا کو یاد کرتے ہیں

    ہو لیے جس کے ہو لیے بیخودؔ
    یار اپنا تو یہ حساب رہا

    تیر قاتل کو کلیجے سے لگا رکھا ہے
    ہم تو دشمن کو بھی آرام دیے جاتے ہیں

    کیا کہہ دیا یہ آپ نے چپکے سے کان میں
    دل کا سنبھالنا مجھے دشوار ہو گیا

    زمانہ ہم نے ظالم چھان مارا
    نہیں ملتیں ترے ملنے کی راہیں

    دل چرا کر لے گیا تھا کوئی شخص
    پوچھنے سے فائدہ، تھا کوئی شخص

    محبت اور مجنوں ہم تو سودا اس کو کہتے ہیں
    فدا لیلیٰ پہ تھا آنکھوں کا اندھا اس کو کہتے ہیں

    نہ دیکھے ہوں گے رند لاابالی تم نے بیخودؔ سے
    کہ ایسے لوگ اب آنکھوں سے اوجھل ہوتے جاتے ہیں

    حوروں سے نہ ہوگی یہ مدارات کسی کی
    یاد آئے گی جنت میں ملاقات کسی کی

    نظر کہیں ہے مخاطب کسی سے ہیں دل میں
    جواب کس کو ملا ہے سوال کس کا تھا

    سودائے عشق اور ہے وحشت کچھ اور شے
    مجنوں کا کوئی دوست فسانہ نگار تھا

    سخت جاں ہوں مجھے اک وار سے کیا ہوتا ہے
    ایسی چوٹیں کوئی دو چار تو آنے دیجے

    چشم بد دور وہ بھولے بھی ہیں ناداں بھی ہیں
    ظلم بھی مجھ پہ کبھی سوچ سمجھ کر نہ ہوا

    موت آ رہی ہے وعدے پہ یا آ رہے ہو تم
    کم ہو رہا ہے درد دل بے قرار کا

    ہمیں پینے سے مطلب ہے جگہ کی قید کیا بیخودؔ
    اسی کا نام جنت رکھ دیا بوتل جہاں رکھ دی

    آپ ہوں ہم ہوں مئے ناب ہو تنہائی ہو
    دل میں رہ رہ کے یہ ارمان چلے آتے ہیں

    آئنہ دیکھ کے خورشید پہ کرتے ہیں نظر
    پھر چھپا لیتے ہیں وہ چہرۂ انور اپنا

    اے شیخ آدمی کے بھی درجے ہیں مختلف
    انسان ہیں ضرور مگر واجبی سے آپ

    دل میں پھر وصل کے ارمان چلے آتے ہیں
    میرے روٹھے ہوئے مہمان چلے آتے ہیں

    کوئی اس طرح سے ملنے کا مزا ملتا ہے
    اوپری دل سے وہ ملتا ہے تو کیا ملتا ہے

    رند مشرب کوئی بیخودؔ سا نہ ہوگا واللہ
    پی کے مسجد ہی میں یہ خانہ خراب آتا ہے

    بیخودؔ ضرور رات کو سوئے ہو پی کے تم
    یہ تو کہو نماز پڑھی یا قضا ہوئی

    جھوٹا جو کہا میں نے تو شرما کے وہ بولے
    اللہ بگاڑے نہ بنی بات کسی کی

    چلنے کی نہیں آج کوئی گھات کسی کی
    سننے کے نہیں وصل میں ہم بات کسی کی

    نامہ بر یہ تو کہی بات پتے کی تو نے
    ذکر اس بزم میں رہتا تو ہے اکثر اپنا

    دل وہ کافر ہے کہ مجھ کو نہ دیا چین کبھی
    بے وفا تو بھی اسے لے کے پشیماں ہوگا

    آپ شرما کے نہ فرمائیں ہمیں یاد نہیں
    غیر کا ذکر ہے یہ آپ کی روداد نہیں

    زاہدوں سے نہ بنی حشر کے دن بھی یارب
    وہ کھڑے ہیں تری رحمت کے طلب گار جدا

    اپنے جلوے کا وہ خود آپ تماشائی ہے
    آئینے اس نے لگا رکھے ہیں دیواروں میں

    تمہارے ہاتھ خالی جیب خالی زلف خالی تھی
    نہ تھے تم چور دل کے لو ادھر دیکھو یہ کیا نکلا

    ان کے آتے ہی ہوا حسرت و ارماں کا ہجوم
    آج مہمان پہ مہمان چلے آتے ہیں

    ملا کے خاک میں سرمایۂ دل بیخودؔ
    وہ پوچھتے ہیں بتاؤ یہ مال کس کا تھا

    آپ کو رنج ہوا آپ کے دشمن روئے
    میں پشیمان ہوا حال سنا کر اپنا

    وفا کا نام تو پیچھے لیا ہے
    کہا تھا تم نے اس سے پیشتر کیا

    اجازت مانگتی ہے دخت رز محفل میں آنے کی
    مزا ہو شیخ صاحب کہہ اٹھیں بے اختیار آئے

    اس جبین عرق افشاں پہ نہ چنئے افشاں
    یہ ستارے کہیں مل جائیں نہ سیاروں میں

    کچھ طرح رندوں نے دی کچھ محتسب بھی دب گیا
    چھیڑ آپس میں سر بازار ہو کر رہ گئی

  • برطانوی جغرافیہ دان،مصنف اور فوجی رچرڈ فرانسس برٹن

    برطانوی جغرافیہ دان،مصنف اور فوجی رچرڈ فرانسس برٹن

    رچرڈ فرانسس برٹن (Richard Francis Burton) ایک برطانوی جغرافیہ دان، مستکشف، مترجم، مصنف، فوجی، مستشرق، نقشہ نگار، ماہر علم الانسان، جاسوس، ماہر لسانيات، شاعر، تلوار باز اور سفارت کار تھا۔ وہ اپنے ایشیا، افریقہ اور امریکا کے سفر اور استکشاف کے لیے جانا جاتا ہے۔

    ایک اندازے کے مطابق، وہ 29 یورپی، ایشیائی اور افریقی زبانیں جانتا تھا۔ برٹن کی سرگرمیوں میں سب سے زیادہ مشہور بھیس بدل کر مکہ مکرمہ کا سفر کرنا، الف لیلیٰ کا ترجمہ، کاما سترا کی انگریزی میں اشاعت، عظیم افریقی جھیلوں کا سفر بطور اولین یورپی مستکشف۔ وہ برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج کا ایک کپتان تھا۔ اس کے بعد وہ شاہی جغرافیائی جمعیت کا رکن بن گیا، مشرقی افریقی ساحل کو مستکشف کیا۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    برٹن ٹورکے، ڈیون میں 21:30 پر 19 مارچ 1821ء کو پیدا ہوا۔ ان کا والد لیفٹیننٹ کرنل جوزف نیٹرویل برٹن برطانوی فوج میں تھا۔ اس نے جامعہ آکسفورڈ کے ٹرنٹی کالج سے تعلیم حاصل کی۔

    فوجی کیریئر
    ۔۔۔۔۔
    برٹن نے ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں ملازمت اختیار کی۔ وہ پہلی اینگلو افغان جنگ میں حصہ لینا چاہتا تھا مگر اسے ہندستان پہنچنے سے قبل ہے جنگ ختم ہو گئی۔ اسے اٹھارہویں بمبئی انفنٹری گجرات میں تعینات کیا گیا۔ ہندستان میں اس نے ہندستانی، گجراتی، پنجابی، سندھی اور مراٹھی زبانوں کے ساتھ ساتھ فارسی اور عربی پر عبور حاصل کیا۔ فوج میں اس نے بندروں کی ایک بڑی تعداد ان کی زبان سیکھنے کی امید سے اپنے ساتھ رکھی۔

    بعد میں اسے سندھ سروے کے لیے مقرر کیا گیا جہاں اس نے ماپنے کے اوزاروں کا استعمال سیکھا جو بعد میں اس کے بطور مستکشف بہت کام آیا۔ یہاں اس نے بھیس بدل کر سفر کرنا شروع کیا۔ اس نے کراچی کے ایک قجہ خانے کی خفیہ تحقیقات میں حصہ لیا جہاں برطانوی فوجی زیادہ جایا کرتے تھے۔ اس کی جنسی عمل میں زندگی بھر دلچسپی نے اسے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرنے میں مدد دی جو بعد میں اس کا درد سر بھی بن گئی۔

    مارچ 1849ء میں وہ بیماری کی چھٹی پر یورپ واپس آگیا۔ 1850ء میں اس نے اپنی پہلی کتاب گوا اور نیلے پہاڑ (Goa and the Blue Mountains) لکھی۔ وہ تلوار بازی کے اسکول کا دورہ کرنے کی بولوگنی گیا جہاں اس کی ملاقات اس کی ہونے والی بیوی اسابیل سے ہوئی۔

    پہلے استکشافات اور مکہ مکرمہ کا سفر
    اپنی مہم جوئی کے شوق کی وجہ سے برٹن کو شاہی جغرافیائی جمعیت سے علاقے کے استکشاف کی اجازت مل گئی اور اس کے علاوہ اسے ایسٹ انڈیا کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی طرف سے چھٹی کی اجازت بھی مل گئی۔

    ہندستان میں سات سال کے دوران برٹن نے مسلمانوں کے رسوم اور رویے سے واقفیت حاصل کر لی تھی۔ اس نے مکہ اور مدینہ منورہ کے سفر اور حج کے لیے تیاری شروع کر دی۔ یہ سفر 1853ء میں شروع کیا گیا جس نے برٹن کو مشہور کر دیا۔ یہ سفر اس نے سندھ کے مسلمانوں کا بھیس بدل کر کرنے کی منصوبہ بندی کی اور نہایت مستقل مزاجی سے اس کی تیاری کی یہاں تک کہ مسلمانوں کی طرح ختنہ بھی کروا لیا۔

    اگرچہ برٹن یقینی طور پر سب سے پہلے یورپ کے غیرمسلم کے طور پر حج کرنے والا نہیں تھا لیکن اس کی وجہ شہرت اس کی بہترین دستاویزی کاوش تھی۔ اس نے زبان میں کسی بھی قسم کے قرق سے بچنے کے لیے مختلف بھیس بدلے جس میں ایک پشتون کا بھیس بھی شامل ہے۔ برٹن کا مکہ کا راستہ خطرناک تھا اور اس کے قافلے پر ڈاکوؤں کی طرف سے حملہ بھی کیا گیا۔ برٹن نے اپنے سفر کی روداد اپنی کتاب مکہ اور مدینہ کی زیارت کا ذاتی بیانیہ (A Personal Narrative of a Pilgrimage to Al-Medinah and Meccah) میں لکھی ہے۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔
    رچرڈ برٹن کی موت تریستے، اطالیہ میں 20 اکتوبر، 1890 کی صبح کو دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی۔ اس کو جنوب مغربی لندن میں دفنایا گیا۔

    کاما شاستر سوسائٹی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    رچرڈ فرانسس برٹن کی دلچسپی شہوانیت، شہوت انگیز ادب میں طویل عرصہ سے موجود تھی۔ تاہم 1857 کے فحش مطبوعات ایکٹ کے تحت کئی ناشرین کو جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی۔ شاید برٹن کی سب سے مشہور کتاب کاما شاسترا کا ترجمہ ہے۔ کاما شاستر سوسائٹی نے یہ کتاب 1883ء میں شائع کی۔ فرانسیسی سے انگریزی میں ترجمہ شدہ کتاب پرفیومڈ گارڈن (The Perfumed Garden) جو عربی شہوانی کتاب الروض العاطر في نزہۃ الخاطر سے ترجمہ شدہ تھی پرفیومڈ گارڈن آف شیخ نفراوی (The Perfumed Garden of the Cheikh Nefzaoui) کے نام سے 1886ء میں شائع ہوئی۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    عالمی ادبی شخصیات کا تعارف
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

    اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

    اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
    اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

    نوشی گیلانی پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو زبان کی مقبول ترین شاعرہ ہیں۔ ان کا اصل نام نشاط گیلانی ہے۔ وہ 14 مارچ 1964 میں پاکستان کے شہر بہاولپور کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد مسعودگیلانی پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے۔ نوشی نے اپنی تعلیم بہاولپور میں ہی مکمل کی۔ انہیں بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔

    ان کا پہلا مجموعہ ”محبتیں جب شمار کرنا“ منظرِ عام پرآیا تو اسے خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ 1995 میں نوشی کی شادی فاروق طراز کے ساتھ ہوئی اور وہ سان فرانسیسکو، امریکا چلی گئیں مگرکچھ عرصے بعد اُن سے علیحدگی ہوگئی۔

    نوشی اسلامیہ یونیورسٹی، بہالپور میں اردو کی اُستاد کی حیثیت سے کام کرتی رہیں۔ 1997 میں نوشی کا دوسرا مجموعہ ”اداس ہونے کے دن نہیں“ منظرِ عام پر آیا۔ 25 اکتوبر 2008 میں نوشی سڈنی میں مقیم اردو سوسائٹی آف آسٹریلیا کے سابق جنرل سکریٹری سعید خان(جو خود بھی شاعر ہیں) کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور سڈنی، آسٹریلیا چلی گئیں۔

    انہوں نے پاکستانی گلوکار پٹھانے خان کو خراجِ تحسین پیش کیا جسے پاکستان نیشنل کونسل آف دا آرٹ(PNCA) نے اسپانسر کیا۔ امریکا میں قیام کے دوران ان کے تجربات و مشاہدات بھی ان کی شاعری سے جھلکتے ہیں۔ ”ہوا“ اور ”محبت“ کے الفاظ مضبوط استعارے کے طور پہ ان کی شاعری میں بہت استعمال ہوئے ہیں۔اسی بنا پر انھیں ہوا کا ہم سُخن بھی کہا جاتا ہے۔

    ان کی شاعری کے سات مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی بہت سی نظموں کے انگریزی،ملائی اور یونی زبانون میں ترجمے بھی ہو چکے ہیں۔نوشی گیلانی نے آسٹریلین شاعر Les Murray کی شاعری کو اردو میں ترجمہ کیا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے خود بھی انگریزی میں شاعری(7) کی ہے۔ان کی مشہور نظم ہے،To Catch Butterflies ہے۔

    نوشی گیلانی اردو اکیڈمی آسٹریلیا کی شریک بانی بھی ہیں جس کی بنیاد 2009 میں رکھی گئی۔ یہ اکیڈمی اردو شاعری و ادب کی ترویج کے لیے ہر ماہ سڈنی میں ایک نشست کا اہتمام کرتی ہے۔ ان کی نئے مجموعہ ”ہوا چپکے سے کہتی ہے“(2011) کو اس قدر پزیرائی ملی کہ اردو بازار میں آنے کے دو گھنٹوں میں ہی پہلا ایڈیشن لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ خرید لیا۔

    اعزازات
    خواجہ فرید ایوارڈ

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    نوشی گیلانی کی شائع ہونے والی کتابیں درج ذیل ہیں۔
    1:محبتیں جب شمار کرنا (1993)
    2:اداس ہونے کے دن نہیں(1997)
    3:پہلا لفظ محبت لکھا(2003)
    4:ہم تیرا انتظار کرتے رہے (2008)
    5:نوشی گیلانی کی نظمیں(2008)
    6:اے میرے شریکِ رسال جاں (2008)
    7: ہوا چپکے سے کہتی ہے (2011)

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
    اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

    بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
    کس کی رسموں کی جلتی ہوئی آگ میں لڑکیاں ڈال دیں

    میں تنہا لڑکی دیار شب میں جلاؤں سچ کے دیے کہاں تک
    سیاہ کاروں کی سلطنت میں میں کس طرح آفتاب لکھوں

    ہمارے درمیاں عہدِ شبِ مہتاب زِندہ ہے
    ہَوا چْپکے سے کہتی ہے ابھی اِک خواب زِندہ ہے

    نوشی گیلانی کی ایک نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوا کو آوارہ کہنے والو
    کبھی تو سوچو، کبھی تو لکھو
    ہوائیں کیوں اپنی منزلوں سے بھٹک گئی ہیں
    نہ ان کی آنکھوں میں خواب کوئی
    نہ خواب میں انتظار کوئی

    اب ان کے سارے سفر میں صبح یقین کوئی
    نہ شام صد اعتبار کوئی
    نہ ان کی اپنی زمین کوئی نہ آسماں پر کوئی ستارہ
    نہ کوئی موسم نہ کوئی خوشبو کا استعارہ
    نہ روشنی کی لکیر کوئی، نہ ان کا اپنا سفیر کوئی

    جو ان کے دکھ پر کتاب لکھے
    مسافرت کا عذاب لکھے
    ہوا کو آوارہ کہنے والو
    کبھی تو سوچو!

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    اس نے ہنس کے دیکھا تو مسکرا دیے ہم بھی
    ذات سے نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    ہجر کی تمازت سے وصل کے الاؤ تک
    لڑکیوں کے جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    بات جیسی بے معنی بات اور کیا ہوگی
    بات کے مکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    زعم کتنا کرتے ہو اک چراغ پر اپنے
    اور ہوا کے چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    جب یقیں کی بانہوں پر شک کے پاؤں پڑ جائیں
    چوڑیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگنی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے
    کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے
    یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں
    مگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے
    رتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیں
    کہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے
    رہا جو دھوپ میں سر پر مرے وہی آنچل
    ہوا چلی ہے تو کتنا بدلتا جاتا ہے
    وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر سمجھے
    تجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف
    ایک چہرہ اس طرف ہے ایک چہرہ اس طرف
    روشنی کے استعارے اس کنارے رہ گئے
    اب تو شب میں کوئی جگنو ہے نا تارا اس طرف
    تم ہوا ان کھڑکیوں سے صرف اتنا دیکھنا
    اس نے کوئی خط کسی کے نام لکھا اس طرف
    یہ محبت بھی عجب تقسیم کے موسم میں ہے
    سارا جذبہ اس طرف ہے صرف لہجہ اس طرف
    ماں نے کوئی خوف ایسا رکھ دیا دل میں مرے
    سچ کبھی میں بول ہی پائی نہ پورا اس طرف
    ایک ہلکی سی چبھن احساس کو گھیرے رہی
    گفتگو میں جب تمہارا ذکر آیا اس طرف
    صرف آنکھیں کانچ کی باقی بدن پتھر کا ہے
    لڑکیوں نے کس طرح روپ دھارا اس طرف
    اے ہوا اے میرے دل کے شہر سے آتی ہوا
    تجھ کو کیا پیغام دے کر اس نے بھیجا اس طرف
    کس طرح کے لوگ ہیں یہ کچھ پتا چلتا نہیں
    کون کتنا اس طرف ہے کون کتنا اس طرف

  • آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں

    آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں

    ساحر لدھیانوی ایک جاگیردار گھرانے میں 8 مارچ 1921 کو پیدا ہوئے اور ان کا نام عبدالحئی رکھا گیا۔ان کے والد کا نام چودھری فضل محمد تھا اور وہ انکی گیارھویں، لیکن خفیہ ،بیوی سردار بیگم سے ان کی پہلی اولاد تھے۔ساحر کی پیدائش کے بعد ان کی ماں نے اصرار کیا کہ ان کے رشتہ کو باقاعدہ شکل دی جاے تاکہ آگے چل کر وراثت کا کوئی جھگڑا نہ پیدا ہو۔

    چودھری صاحب اس کے لئے راضی نہیں ہوئے تو سردار بیگم ساحر کو لے کر شوہر سے الگ ہو گئیں ۔اس کے بعد ساحر کی تحویل کے لئے فریقین میں مدّت تک مقدمہ بازی ہوئ۔ساحر کی پرورش ان کے ننہال میں ہوئی۔جب اسکول جانے کی عمر ہوئی تو ان کا داخلہ مالوہ خالصہ اسکول میں کرا دیا گیا جہاں سے انہوں نے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔اس زمانہ میں لدھیانہ اردو کا متحرک اور سرگرم مرکز تھا ۔یہیں سے انہیں شاعری کا شوق پیدا ہوا اور میٹرک میں پہنچتے پہنچتے وہ شعر کہنے لگے۔

    1939 میں اسی اسکول سے انٹرنس پاس کرنے کے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج لدھیانہ میں داخلہ لیا۔اسی زمانہ میں ان کا سیاسی شعور بیدار ہونے لگا اور وہ کمیونسٹ تحریک کی طرف راغب ہو گئے۔ملک اور قوم کے حالات نے ان کے اندر سرکشی اور بغاوت پیدا کی۔بی اے کے آخری سال میں وہ اپنی اک ہم جماعت ایشر کور پر عاشق ہوے اور کالج سے نکالے گئے۔وہ کالج سے بی اے نہیں کر سکے لیکن اس کی فضا نے ان کو اک خوبصورت رومانی شاعر بنا دیا۔ان کا پہلا مجموعہ "تلخیاں” ۱۹۴۴ میں شائع ہوا اور ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔

    کالج چھوڑنے کے بعد وہ لاہور چلے گئے اور دیال سنگھ کالج میں داخلہ لے لیا لیکن اپنی سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے وہ وہاں سے بھی نکالے گئے پھر ان کا دل تعلیم کی طرف سے اچاٹ ہو گیا۔وہ اس زمانہ کے معیاری ادبی رسالہ "ادب لطیف "کے ایڈیٹر بن گئے۔بعد میں انھوں نے سویرا اور اپنے ادبی رسالہ شاہکار کی بھی ادارت کی ساحر نے بچپن اور جوانی میں بہت پر خطر اور کٹھن دن گزارے جس کی وجہ سے انکی شخصیت میں شدید تلخی گھل گئی تھی۔

    دنیا سے اپنی محرومیوں کا بدلہ لینے کی ایک زیریں لہر ان کی شخصیت میں رچ بس گئی تھی جس کے مظاہر وقتا فوقتا” سامنے آتے رہتے تھے ساحر نے جتنے تجربات شاعری میں کئے وہ دوسروں نے کم ہی کئے ہوں گے۔انھوں نے سیاسی شاعری کی ہے،رومانی شاعری کی ہے،نفسیاتی شاعری کی ہے اور انقلابی شاعری کی ہے جس میں کسانوں اور مزدوروں کی بغاوت کا اعلان ہے۔انھوں نے ایسی بھی شاعری کی ہے جو تخلیقی طور پپر ساحری کے زمرہ میں آتی ہے-

    انکی ادبی خدما ت کے اعتراف میں انہیں ۱۹۷۱ میں پدم شری کے خطاب سے نوازا گیا۔۱۹۷۲ میں مہارازشر حکومت نے انہیں "جسٹس آف پیس” ایوارڈ دیا ۱۹۷۳ میں "آو کہ کوئی خواب بُنیں” کی کامیابی پر انھیں "سویت لینڈ نہرو ایوارڈ” اور مہاراشٹر اسٹیٹ لٹریری ایوارڈ ملا۔۱۹۷۴ میں مہاراشٹر حکومت نے انھیں ‘اسپشل ایکزیکیوٹیو مجسٹریٹ نامزد کیا۔ان کی نظموں کے ترجمے دنیا کی مختلف زبانوں میں ہو چکے ہیں۔۸مارچ ۲۰۱۳ء کو ان کے یوم پیدائش کے موقع پر محکمہ ڈاک نے اک یادگاری ٹکٹ جاری کیا ۲۵ اکتوبر،۱۹۸۰ میں دل کا دورہ پڑنے سے ممبئی میں وفات پاگئے.

    ساحر لدھیانوی کے یوم پیدائش پر انکے کچھ منتخب اشعار بطور خراج عقیدت.

    *میں پل دو پل کا شاعر ہوں پل دو پل مری کہانی ہے
    پل دو پل میری ہستی ہے پل دو پل مری جوانی ہے*
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
    جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ افسانہ جسے انجام تک لانا نہ ہو ممکن
    اسے اک خوبصورت موڑ دے کر چھوڑنا اچھا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اپنی تباہیوں کا مجھے کوئی غم نہیں
    تم نے کسی کے ساتھ محبت نبھا تو دی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا
    ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    آپ دولت کے ترازو میں دلوں کو تولیں
    ہم محبت سے محبت کا صلہ دیتے ہیں

  • نامور ادیبہ ، شاعرہ  ، افسانہ نویس اورکالم نگار نیر رانی شفق صاحبہ کا یوم پیدائش

    نامور ادیبہ ، شاعرہ ، افسانہ نویس اورکالم نگار نیر رانی شفق صاحبہ کا یوم پیدائش

    خفی لفظوں سے لکھی درد کی تحریر ہوتی ہے
    یہ عورت ہر طرح سے مرد کی جاگیر ہوتی ہے

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    دو بار صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے والی پاکستان کی معروف ادیبہ،شاعرہ، افسانہ نویس اور کالم نگار محترمہ نیر رانی شفق صاحبہ 6 مارچ 1969 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئیں ۔ ۔وہ تین بہنیں اور چار بھائی تھے جن میں سے ایک بہن نرگس محبوب اور ایک بھائی ذوالفقار غازی صاحب کا انتقال ہو چکا ہے ۔

    نرگس محبوب صاحبہ میجر راشد صاحب کی اہلیہ اور راول پنڈی ہائی اسکول میں ہوم اکنامکس کی ٹیچر تھیں جبکہ ذوالفقار غازی صاحب ایک معروف سیاسی و سماجی اور کاروباری شخصیت اور سابق سٹی کونسلر تھے ان کے بڑے بھائی منصور غازی صاحب سمال انڈسٹریز پنجاب کے ریجنل ڈائریکٹر کے عہدے سے سبکدوش ہوئے ہیں اور چھوٹے بھائی ارشد غازی ایک پرائیویٹ کمپنی میں اعلی عہدے پر فائز ہیں ان کی ایک بہن نیلوفر صاحبہ ڈیرہ غازی خان کی معروف سیاسی و سماجی شخصیت محمد اظہر ثاقب صاحب کی شریک حیات ہیں ۔

    نیر رانی شفق صاحبہ کے والد صاحب کا نام محبوب الاہی اور خاوند محترم کا نام مختار بلوچ ہے جو کہ سوشل سیکوریٹی آفیسر ہیں اور ماشاء اللہ یہ 3خوب صورت بچوں کے باپ ہیں۔ جبکہ خود نیر رانی صاحبہ ڈویژنل پبلک اسکول اینڈ کالج ڈیرہ غازی خان میں بحیثیت لیکچرر اپنے فرائض سر انجام دے رہی ہیں ۔
    ان کی اب تک 7 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں 1۔ وطن خوشبو (صدارتی ایوارڈ )2۔ ضیائے وطن (صدارتی ایوارڈ )3۔ کھٹے میاں میٹھے میاں ( بچوں کی کہانیوں پر مشتمل ) 4۔ شفق رنگ کہانیاں ( افسانے اور ناولٹ) 5 ۔ شفق رنگ تقاریر۔ 6 شفق رنگ مضامین ( ادبی مضامین اور انشائیے 7 ۔ شنگرفی شام کے دکھ ( شعری مجموعہ ) ۔

    نیر رانی صاحبہ نے "آنچل” کے نام سے ایک علمی اور ادبی تنظیم کا قیام عمل میں لایا۔ ڈیرہ غازی خان میں پہلی بار (آنچل) کے پلیٹ فارم پر خواتین کو یکجا کیا اور اس تنظیم کے زیر اہتمام بے شمار مشاعرے و دیگر علمی اور ادبی تقریبات کا انعقاد کیا بعد ازاں انہوں نے ” دریچہ”_ کے نام سے ایک اور تنظیم کی بنیاد ڈالی ۔ ان کی شاعری میں امید، خواہش ، دکھ ،درد، اورجذبہ حب الوطنی کا اظہار ہوتا ہے اور یہ بھی کہ وہ غم دوراں ، غم روزگار اور غم جاناں کی شاعرہ کے طور پر سامنے آتی ہیں ۔ غم دوراں یا ملکی حالات کی عکاسی ان کی شاعری سے اس طرح ہوتی ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کیسے کوئی بات کرے اب تعزیریریں ہیں سوچوں پر
    امن کو یوں محکوم کیا
    حاکم نے لب سلوائے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاشے گرے زمیں پر تو اختر بھی رو پڑے
    اب کے تو میرے شہر کے پتھر بھی رو پڑے
    ٹوٹی ہیں کن سہاگنوں کی حیف چوڑیاں
    ماوٴں کی گود اجڑی مقدر بھی رو پڑے

    دریا ندیوں اور جھیلوں سے
    بس اپنا رزق کماتے ہیں
    بس تان کے "شفق” کی چادر
    سر ساحل ہی سو جاتے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نیر رانی شفق صاحبہ نے اپنی شاعری میں خواتین کی بہترین انداز میں نمائندگی اور ان کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کبھی شوہر کے آنگن میں کبھی بے گور اسیری میں
    گزاری زیست ہم نے کاٹ کر اپنی زبانوں کو
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پڑی ہے پائوں میں زنجیر رشتوں اور رواجوں کی
    قفس میں قید والوں سے رضا کی بات مت کرنا
    یہی ہے رہبری تو رہزنی پھر کس کو کہتے ہیں
    جو سب کچھ لوٹ لے اس رہنما کی بات مات کرنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خفی لفظوں سے لکھی درد کی تحریر ہوتی ہے
    یہ عورت ہر طرح سے مرد کی جاگیر ہوتی ہے
    وہ جس کی آنکھ میں محرومیاں بستی ہیں صدیوں سے
    وہ خود کتنے ہی رشتوں کی مگر زنجیر ہوتی ہے

    نکل کر خلد سے بھی تو زمیں کوئی نہیں اس کی
    زمیں زادی کی بھی دیکھو عجب تقدیر ہوتی ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    عید جیسے پرمست تہوار کی مناسبت سے وہ اپنی سکھیوں اور سہیلیوں کو کچھ اس طرح یاد کرتی ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تحفہ عید سکھی تجھ کو نرالہ بھیجوں
    بہر تزئین گلو چاند کا ہالہ بھیجوں
    چوڑیاں کانچ کی اور کلیوں کے گجرے لے کر
    وہی کنگن وہی پائل گل و لالہ بھیجوں
    میں نے جھولی تھیں ترے سنگ جو پینگیں برسوں
    ساتھ پینگوں کے شرارت کا حوالہ بھیجوں
    دستکیں دیتا ہے بچپن کا زمانہ دل پر
    وہ کھلونے وہی گڑیا وہی مالا بھیجوں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نیر رانی صاحبہ اپنی قلبی واردات کا اظہار بھی نہایت خوب صورتی کے ساتھ کرتی ہیں ۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تو مری آنکھ کے دریا کو حیرت سے نہ دیکھ
    سبھی دریاؤں کو لگتے ہیں سمندر اچھے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس کی پرشوق نگاہوں سے سجا کرتی تھی
    وہ گیا ہے تو کبھی خود کو سنوارا بھی نہیں
    اجڑے ہیں کیسے کوچہ و بازار مصر کے
    یوسف کا آج کوئی خریدار بھی نہیں
    نیند ظالم تھی کہ روٹھی رہی شب بھر مجھ سے
    چاندنی رات میں وہ بھی کہاں سویا ہوگا

    کبھی فصل گل کا حسیں سماں کبھی سردیوں کی اداس شب
    تھیں محبتوں پہ جوانیاں مرے ہمسفر مرے ہم نفس
    کبھی رات بھر یونہی جاگنا کبھی چونکنا یونہی بے سبب
    تھیں وہ خوب تر پریشانیاں مرے ہمسفر مرے ہم نفس

  • معروف شاعرہ،اسکرپٹ رائٹر اور میزبان نورین طلعت عروبہ

    معروف شاعرہ،اسکرپٹ رائٹر اور میزبان نورین طلعت عروبہ

    اگر آداب کے اعلی قرینے سے نکل جائے
    دل گستاخ سے کہہ دو مدینے سے نکل جائے

    نورین طلعت عروبہ

    پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر اٹک میں 04 مارچ 1957ء کو پیدا ہونے والی نورین طلعت عروبہ ایک ایسی شاعرہ کا نام ہے جس نے دور طالب علمی سے اپنی دھواں دھار تقاریر اور غزل، نظم میں وہ نام بنایا جس کی تمنا ہر تخلیق کار رکھتا ہے۔ کالج سے یونیورسٹی کے چھ برسوں میں 342 انعامات حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن نورین کو اس سلسلے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی۔

    شاعری کا تحفہ اپنے شاعر دادا ڈاکٹر اظفر حسین خان اور والد محترم معروف صحافی اور شاعر جناب انوار فیروز سے ملا لیکن اس سلسلے میں جومحنت ان کی والدہ فہمیدہ انوار نے کی،نورین اپنی تمام کامیابیوں کا سہرا ان کے سرباندھتی ہیں دور طالب علمی میں ہی ان کی غزلیں، پرویز مہدی، اقبال باہو، اور عطااللہ عینی خیلوی جیسے بڑے گلوکاروں نے گائیں۔

    دور طالب علمی ہی میں اپنے بہترین لہجے شاندار تلفظ اور متاثر کن آواز کی بدولت وہ ریڈیو پاکستان اور پاکستان ٹیلی ویِژن کی ضرورت بن گئیں۔ اسکرپٹ رائٹنگ کی صلاحیت کے باعث ڈھیروں شوز لکھے اور میزبانی کے فرائض سر انجام دیئے۔

    مشاعروں کی نظامت پی ٹی وی سے جاری تھی کہ نیوز کاسٹر کی حیثیت سے منتخب کر لی گئیں۔ ریڈیو پر پنجابی اور پاکستانی ٹیلی ویژن سے اردو میں بیک وقت خبریں پڑھنے والی پہلی نیوز کاسٹر بنیںجدہ میں قیام کے دوران وہاں خواتین کی پہلی ادبی و ثقافتی تنظیم ’’سلسلہ‘‘ کے نام سے بنا کر اس کی بانی صدر بنیں۔

    2002 میں ان کی نعتیہ شاعری پر مشتمل کتاب ’’حاضری‘‘ 72 نعتوں کے ساتھ کسی بھی شاعرہ کا پہلا نعتیہ مجموعہ ہے جس پر صوبائی اور قومی سطح پر صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ وہ اپنی تینوں کتابوں پر صدارتی ایوارڈ پانے والی پاکستانی شاعرہ ہیں آج کل امریکہ کی ریاست ورجینیا واسٹنگٹن ڈی سی میں قیام پذیر ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    عجب جنوں ہے کہ احوال کی خبر بھی نہیں
    ہم اپنے گھر بھی نہیں اور در بدر بھی نہیں
    وہ آنے والی رتوں کا حساب لیتے ہیں
    ہمیں تو لمحۂ موجود کی خبر بھی نہیں
    بھلا ہماری شہادت کو کون جانے گا
    ہماری آدھی گواہی تو معتبر بھی نہیں
    بجھا سکوں نہ اسے میں ترے اشارے پر
    چراغ جاں سے مجھے پیار اس قدر بھی نہیں
    یہ در کھلے گا خدا جانے کس کی کوشش سے
    ہمارے ہاتھ میں اب کے کوئی ہنر بھی نہیں
    میں اک نشست میں سارا تجھے سنا ڈالوں
    مرا فسانۂ غم اتنا مختصر بھی نہیں
    ترا یہ ترک تعلق بھی حوصلہ کن ہے
    کہ اب کسی سے بچھڑنے کا دل کو ڈر بھی نہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    نمو کو شاخ کے آثار تک پہنچنا ہے
    بکھر کے پھول نے مہکار تک پہنچنا ہے
    ہم اپنی سلطنت شعر میں بہت خوش ہیں
    وہ اور ہیں جنہیں دربار تک پہنچنا ہے
    غریب شہر کے بہتے لہو کا ذکر فقط
    وہ سرخیاں جنہیں اخبار تک پہنچنا ہے
    ہمیں جو چپ سی لگی ہے یہ بے سبب تو نہیں
    کسی خیال کو اظہار تک پہنچنا ہے
    طلسم عمر کی تعریف ساری اتنی سی
    اک آئنہ جسے زنگار تک پہنچنا ہے
    کچھ ایسے لوگ جو شانوں پہ سر نہیں رکھتے
    مگر یہ زعم کہ دستار تک پہنچنا ہے
    وہ دن گئے کہ کوئی اشک پونچھنے آئے
    یہاں تو آپ کو غم خوار تک پہنچنا ہے
    ۔۔۔۔
    اگر آداب کے اعلیٰ قرینے سے نکل جائے
    دل گستاخ سے کہہ دو مدینے سے نکل جائے
    یہ شہر علم ہے اس میں ابو جہلی نہیں چلتی
    اٹھے جاہل اٹھے اور اس خزینے سے نکل جائے