Baaghi TV

Tag: ادب

  • نہ جانے کیوں مجھے سچ بولنے کی عادت ہے

    نہ جانے کیوں مجھے سچ بولنے کی عادت ہے

    نہ جانے کیوں مجھے سچ بولنے کی عادت ہے
    یہ جان کر کہ ہر اک گام سر قلم ہوگا

    رشیدہ عیاں
    رشیدہ عیاں کا اصل نام سیدہ رشیدہ بیگم ہے وہ کہنہ مشق، مشہور، پُرگو شاعرہ اور نثر نگار تھیں 04 مارچ 1932ء میں اتر پردیش مراد آباد میں پیدا ہوئیں انھوں نے جوش اور جگر کے ساتھ مشاعرے پڑھے تھے۔ شاعری کا سفر 1951 سے شروع ہوا۔

    کتابیں:حرف حرف آئینہ- کرن کرن اجالا- آئینوں کےچہرے- ابھی پرواز جاری ہے- سوچ سمند-حرف اعتبار- موسموں کے بدلتے رنگ (شعری مجموعے)- روشنی کا سفر(کلیات،دو جلدیں)۔ میری کہانی(منظوم سوانح)- فانوس ہفت رنگ (نعتیں)- سنگم (گیتوں کا مجموعہ)۔ عشق پر زور نہیں- جائزہ(مثنوی)- شمیم کے نام (یادیں)۔

    پاکستان اورامریکہ میں متعدد اعزازات سےنوازی گئیں: میرتقی میرؔ ایوارڈ برائے اردو غزل1988 نیشنل ایسوسی ایشن آف پاکستانی امریکن، اعزاز برائے خدمت اردو زبان و ادب1991-کمیونٹی سروس اچیومینٹ ایوارڈ پاکستانی ٹیلی ویژن نیٹ ورک نیویارک 2000- خیبر سوسائیٹی آف یو ایس اے، نیو یارک 2002 اور کئی دیگراعزازات۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    مرے قلم کا اگر سر کبھی قلم ہوگا
    نیا فسانۂ درد و الم رقم ہوگا
    یہ مانتی ہوں مٹا دے گا میرا دور مجھے
    نئے زمانے کا اس خاک سے جنم ہوگا
    میں اپنے آپ کی پہچان بھول بیٹھی ہوں
    اب اس سے اور بڑا کیا کوئی ستم ہوگا
    نہ جانے کیوں مجھے سچ بولنے کی عادت ہے
    یہ جان کر کہ ہر اک گام سر قلم ہوگا
    چلو اٹھاتے ہیں ایوان وقت کا ملبہ
    اسی میں دفن مری ذات کا صنم ہوگا
    فلک نے موند لیں آنکھیں زمیں نے روکی سانس
    عیاںؔ کا آج نئی راہ پر قدم ہوگا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    ہر ایک دور میں منظر بدلتے رہتے ہیں
    ہماری فکر کے محور بدلتے رہتے ہیں
    حریم جاں کو منور کریں گے کیا وہ چراغ
    کہ جن کے طاق برابر بدلتے رہتے ہیں
    نہ حوصلہ تھا جنہیں قسمتیں بدلنے کا
    وہ کم سواد فقط گھر بدلتے رہتے ہیں
    طرح طرح کے ملے زخم دل تو حیرت کیا
    کہ چارہ ساز بھی نشتر بدلتے رہتے ہیں
    عجیب شخص مری زندگی میں آیا ہے
    کہ جس کے پیار کے محور بدلتے رہتے ہیں
    کبھی بقا کا جزیرہ کبھی فنا ساحل
    سفینہ ایک ہے لنگر بدلتے رہتے ہیں
    گریں درخت سے پتے تو کیوں خزاں کہئے
    لباس ہی تو ہیں اکثر بدلتے رہتے ہیں
    ہمارے دور میں ایسے پرند بھی ہیں عیاںؔ
    کہ رت کے ساتھ ہی وہ پر بدلتے رہتے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اسی کی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    اسی میں کھو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    میں کشت زیست میں فصلوں کی صورت
    کچھ آنسو بو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    گزاری ہیں ہزاروں دکھ کی راتیں
    بہادر ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    ستم سہہ کر رہی خاموش صدیوں
    وہ سمجھا سو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    میں ہو کر بے خطا مجرم ہی ٹھہری
    تو باغی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    جفا خو سے وفائیں کرتے کرتے
    دوانی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ
    عیاںؔ پتھر کے سینے میں ٹھہر کر
    میں پانی ہو گئی ہوں رفتہ رفتہ

  • ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے،زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے،زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    امیر مینائی

    پیدائش: 21 فروری 1829
    وفات: 13 اکتوبر 1900ء
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    امیر مینائی اردو کے مشہور و معروف شاعر و ادیب تھے۔ وہ 1829ء میں شاہ نصیر الدین شاہ حیدر نواب اودھ کے عہد میں لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ امیر احمد نام مولوی کرم محمد کے بیٹے اور مخدوم شاہ مینا کے خاندان سے تھے۔ لکھنؤ میں پیداہوئے درسی کتب مفتی سعد اللہ اور ان کے ہمعصر علمائے فرنگی محل سے پڑھیں۔ خاندان صابریہ چشتیہ کے سجادہ نشین حضرت امیر شاہ سے بیعت تھی۔

    شاعری میں اسیر لکھنوی کے شاگرد ہوئے۔ 1852ء میں نواب واجد علی شاہ کے دربار میں رسائی ہوئی اور حسب الحکم دو کتابیں شاد سلطان اور ہدایت السلطان تصنیف کیں۔ 1857ء کے بعد نواب یوسف علی خاں کی دعوت پر رامپور گئے۔ ان کے فرزند نواب کلب علی خاں نے اُن کو اپنا استاد بنایا۔ نواب صاحب کے انتقال کے بعد رامپور چھوڑنا پڑا۔ 1900 میں حیدرآباد گئے وہاں کچھ دن قیام کیا تھا۔ کہ بیمار ہو گئے۔ اور وہیں انتقال کیا۔

    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    متعدد کتابوں کے مصنف تھے۔ ایک دیوان غیرت بہارستان، 1857ء کے ہنگامے میں ضائع ہوا۔ موجودہ تصانیف میں دو عاشقانہ دیوان مراۃ الغیب، صنم خانہ عشق اور ایک نعتیہ دیوان محمد خاتم النبین ہے۔ دو مثنویاں نور تجلی اور ابرکرم ہیں۔ ذکرشاہ انبیا بصورت مسدس مولود شریف ہے۔ صبح ازل آنحضرت کی ولادت اور شام ابد وفات کے بیان میں ہے۔

    چھ واسوختوں کاایک مجموعہ بھی ہے۔ نثری تصانیف میں انتخاب یادگار شعرائے رام پور کا تذکرہ ہے، جو نواب کلب علی خان کے ایما پر 1890ء میں لکھا گیا۔ لغات کی تین کتابیں ہیں۔ سرمہ بصیرت ان فارسی عربی الفاظ کی فرہنگ ہے جو اردو میں غلط مستعمل ہیں۔ بہار ہند ایک مختصر نعت ہے۔ سب سے بڑا کارنامہ امیر اللغات ہے جس کی دو جلدیں الف ممدودہ و الف مقصورہ تک تیار ہو کر طبع ہوئی تھیں کہ انتقال ہو گیا۔

    چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔ
    سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

    تم کو آتا ہے پیار پر غصہ
    مجھ کو غصے پہ پیار آتا ہے

    وصل کا دن اور اتنا مختصر
    دن گنے جاتے تھے اس دن کے لیے

    ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
    زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

    ابھی آئے ابھی جاتے ہو جلدی کیا ہے دم لے لو
    نہ چھیڑوں گا میں جیسی چاہے تم مجھ سے قسم لے لو

    ہنس کے فرماتے ہیں وہ دیکھ کے حالت میری
    کیوں تم آسان سمجھتے تھے محبت میری

    مانگ لوں تجھ سے تجھی کو کہ سبھی کچھ مل جائے
    سو سوالوں سے یہی ایک سوال اچھا ہے

    آنکھیں دکھلاتے ہو جوبن تو دکھاؤ صاحب
    وہ الگ باندھ کے رکھا ہے جو مال اچھا ہے

    امیرؔ اب ہچکیاں آنے لگی ہیں
    کہیں میں یاد فرمایا گیا ہوں

    فراق یار نے بے چین مجھ کو رات بھر رکھا
    کبھی تکیہ ادھر رکھا کبھی تکیہ ادھر رکھا

    کسی رئیس کی محفل کا ذکر ہی کیا ہے
    خدا کے گھر بھی نہ جائیں گے بن بلائے ہوئے

    آہوں سے سوز عشق مٹایا نہ جائے گا
    پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

    پھر بیٹھے بیٹھے وعدۂ وصل اس نے کر لیا
    پھر اٹھ کھڑا ہوا وہی روگ انتظار کا

    ہٹاؤ آئنہ امیدوار ہم بھی ہیں
    تمہارے دیکھنے والوں میں یار ہم بھی ہیں

    اللہ رے سادگی نہیں اتنی انہیں خبر
    میت پہ آ کے پوچھتے ہیں ان کو کیا ہوا

    جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ
    حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

    بعد مرنے کے بھی چھوڑی نہ رفاقت میری
    میری تربت سے لگی بیٹھی ہے حسرت میری

    کون اٹھائے گا تمہاری یہ جفا میرے بعد
    یاد آئے گی بہت میری وفا میرے بعد

    سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ
    نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

    جو چاہئے سو مانگیے اللہ سے امیرؔ
    اس در پہ آبرو نہیں جاتی سوال

  • ماہر طبیب اور ممتاز شاعر آسی غازی پور

    ماہر طبیب اور ممتاز شاعر آسی غازی پور

    درد دل کتنا پسند آیا اسے
    میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی

    آسی غازی پوری

    آسی غازی پوی کا شمار اردو کے ممتاز ترین شاعروں میں ہوتا ہے ۔ ان کی پیدائش 21 دسمبر 1834ء کو سکندر پور ضلع بلیا (یوپی) میں ہوئی ۔ نام محمد عبدالعلیم تھا۔ پہلے عاصی تخلص اختیار کیا پھر آسی۔ ابتدائی تعلیم اپنے نانا سے حاصل کی اس کے بعد جونپور چلے گئے اور مولانا عبدالحلیم فرنگی محلی سے معقولات کی تعلیم حاصل کی۔

    عاصی ایک ماہر طبیب بھی تھے ۔ انھوں نے طب کی کوئی رسمی تعلیم حاصل نہیں کی تھی بلکہ اپنے ذوق اور ذاتی مطالعے سے اس فن میں مہارت حاصل کی ۔ طالب علمی کے زمانے ہی سے شعر وسخن میں دلچسپی تھی ۔ ناسخ کے شاگرد افضل الہ آبادی سے مشورہ سخن کیا ۔ آسی کا دیوان ’’ عین المعارف ‘‘ کے نام سے شائع ہوا ۔ 24 جنوری 1917ء کو غازی پور میں انتقال ہوا ۔

    آسی کی شاعری متصوفانہ فکر کا تخلیقی بیان ہے ۔ آسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ میر درد کے بعد تصوف کے موضوعات کو شاعری میں برتنے والے وہ سب سے کامیاب شاعر ہیں۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    دل دیا جس نے کسی کو وہ ہوا صاحب دل
    ہاتھ آ جاتی ہے کھو دینے سے دولت دل کی

    درد دل کتنا پسند آیا اسے
    میں نے جب کی آہ اس نے واہ کی

    میری آنکھیں اور دیدار آپ کا
    یا قیامت آ گئی یا خواب ہے

    اے جنوں پھر مرے سر پر وہی شامت آئی
    پھر پھنسا زلفوں میں دل پھر وہی آفت آئی

    وہ کہتے ہیں میں زندگانی ہوں تیری
    یہ سچ ہے تو ان کا بھروسا نہیں ہے

    وہ پھر وعدہ ملنے کا کرتے ہیں یعنی
    ابھی کچھ دنوں ہم کو جینا پڑے گا

    لب نازک کے بوسے لوں تو مسی منہ بناتی ہے
    کف پا کو اگر چوموں تو مہندی رنگ لاتی ہے

    خدا سے ترا چاہنا چاہتا ہوں
    میرا چاہنا دیکھ کیا چاہتا ہوں

    بیمار غم کی چارہ گری کچھ ضرور ہے
    وہ درد دل میں دے کہ مسیحا کہیں جسے

    طبیعت کی مشکل پسندی تو دیکھو
    حسینوں سے ترک وفا چاہتا ہوں

    وہ خط وہ چہرہ وہ زلف سیاہ تو دیکھو
    کہ شام صبح کے بعد آئے صبح شام کے بعد

    کس کو دیکھا ان کی صورت دیکھ کر
    جی میں آتا ہے کہ سجدا کیجیے

    ملنے والے سے راہ پیدا کر
    اس سے ملنے کی اور صورت کیا

  • ابراہیم اشک معروف شاعر اور نغمہ نگار

    ابراہیم اشک معروف شاعر اور نغمہ نگار

    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    ابراہیم اشک کا اصل نام ابراہیم خاں غوری تھا (20 جولائی 1951ء اجین ہندوستان، 16 جنوری 2022ء) ان کا شمار معروف شاعروں اور نغمہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے کئی مقبول فلموں اور سیریلوں کے لیے نغمے اور اسکرپٹ لکھیں۔ نغمہ نگاری کا آغاز فلم ”کہو نہ پیار ہے“ سے کیا۔ اس فلم کے نغمے آج بھی اسی دلچسپی کے ساتھ سنے جاتے ہیں۔ نغموں کے علاوہ ان کی غزلوں کے متعدد البم ریلیز ہوئے۔

    اشک کی پیدائش 20 جولائی 1951ء کو اجین، مدھیہ پردیش میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم اجین میں ہی حاصل کی۔ اس کے بعد ہندی ادبیات میں ایم اے کیا۔

    اشک بہت زرخیز تخلیقی طبیعت کے مالک تھے۔ انھوں نے متعدد شعری اصناف میں بہت کثرت سے شاعری کی۔ غزلیں کہیں، نظمیں کہیں، دوہے کہے۔ ان کی شاعری کے کئی مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ’الہام‘ اور ’ آگہی‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اشک نے شاعری کے ساتھ تنقید بھی لکھی ۔ اقبال اور غالب پر ان کی کتابیں ان کی ثروت مند تنقیدی فکر کی اعلامیہ ہیں۔

    متفرق اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے
    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    خود اپنے آپ سے لینا تھا انتقام مجھے
    میں اپنے ہاتھ کے پتھر سے سنگسار ہوا

    زندگی وادی و صحرا کا سفر ہے کیوں ہے
    اتنی ویران مری راہگزر ہے کیوں ہے

    دنیا بہت قریب سے اٹھ کر چلی گئی
    بیٹھا میں اپنے گھر میں اکیلا ہی رہ گیا

    نہ دل میں کوئی غم رہے نہ میری آنکھ نم رہے
    ہر ایک درد کو مٹا شراب لا شراب دے

    کریں سلام اسے تو کوئی جواب نہ دے
    الٰہی اتنا بھی اس شخص کو حجاب نہ دے

    بس ایک بار ہی توڑا جہاں نے عہد وفا
    کسی سے ہم نے پھر عہد وفا کیا ہی نہیں

    چلے گئے تو پکارے گی ہر صدا ہم کو
    نہ جانے کتنی زبانوں سے ہم بیاں ہوں گے

    زندگی اپنی مسلسل چاہتوں کا اک سفر
    اس سفر میں بارہا مل کر بچھڑ جاتا ہے وہ

    کوئی بھروسہ نہیں ابر کے برسنے کا
    بڑھے گی پیاس کی شدت نہ آسماں دیکھو

    کوئی تو ہوگا جس کو مرا انتظار ہے
    کہتا ہے دل کہ شہر تمنا میں لے کے چل

    کس لیے کترا کے جاتا ہے مسافر دم تو لے
    آج سوکھا پیڑ ہوں کل تیرا سایا میں ہی تھا

    نام کو بھی نہ کسی آنکھ سے آنسو نکلا
    شمع محفل میں جلاتی رہی پروانے کو

    مجھے نہ دیکھو مرے جسم کا دھواں دیکھو
    جلا ہے کیسے یہ آباد سا مکاں دیکھو

    تھی حوصلے کی بات زمانے میں زندگی
    قدموں کا فاصلہ بھی یہاں ایک جست تھا

    نہیں ہے تم میں سلیقہ جو گھر بنانے کا
    تو اشکؔ جاؤ پرندوں کے آشیاں دیکھو

    بکھرے ہوئے تھے لوگ خود اپنے وجود میں
    انساں کی زندگی کا عجب بندوبست تھا

    یہ اور بات ہے کہ برہنہ تھی زندگی
    موجود پھر بھی میرے بدن پر لباس تھا

  • اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    اردو کے معروف شاعرسید محسن نقوی کا یوم وفات

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے

    محسن نقوی

    پیدائش:سید غلام عباس نقوی 05 مئی 1947ء ڈیرہ غازی خان، برطانوی ہند، وفات:15 جنوری 1996ءسادات گاؤں، ڈیرہ غازی خان

    سید محسن نقوی اردو کے مشہور شاعر تھے۔ ان کا مکمل نام سید غلام عباس تھا۔ لفظ محسن اُن کا تخلص تھا اور لفظ نقوی کو وہ تخلص کے ساتھ استعمال کرتے تھے۔ لہٰذا بحیثیت ایک شاعر انہوں نے اپنے نام کو محسن نقوی میں تبدیل کر لیا اور اِسی نام سے مشہور ہو گئے۔ محسن نقوی 5، مئی 1947ء کو محلہ سادات، ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہوئے- انہوں نے گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن اور پھر جامعہ پنجاب سے ایم اے اردو کیا تھا۔ گورنمنٹ کالج بوسن روڈ ملتان سے گریجویشن کرنے کے بعد جب یہ نوجوان جامعہ پنجاب کے اردو ڈیپارٹمنت میں داخل ہوا تو دنیا نے اسے محسنؔ نقوی کے نام سے جانا۔ اس دوران ان کا پہلا مجموعۂ کلام چھپا۔ بعد میں وہ لاہور منتقل ہو گئے۔ اور لاہور کی ادبی سرگرمیوں میں حصہ لیتے رہے جہاں انہیں بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ بعد میں محسن نقوی ایک خطیب کے روپ میں سامنے آئے مجالس میں ذکرِ اہل بیت اور واقعاتِ کربلا کے ساتھ ساتھ اہلبیت پہ لکھی ہوئی شاعری بیان کیا کرتے تھے۔

    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    محسن نقوی شاعری کے علاوہ مرثیہ نگاری میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں واقعہ کربلا کے استعارے جابجا استعمال کیے۔ ان کی تصانیف میں بند قبا،عذاب دید، خیمہ جان، برگ صحرا، طلوع اشک، حق ایلیا، رخت شب ،ریزہ حرف ، موج ادراک اور دیگر شامل ہیں۔ محسن نقوی کی شاعری میں رومان اور درد کا عنصر نمایاں تھا۔ ان کی رومانوی شاعری نوجوانوں میں بھی خاصی مقبول تھی۔ ان کی کئی غزلیں اور نظمیں آج بھی زبان زد عام ہیں اور اردو ادب کا سرمایہ سمجھی جاتی ہیں۔ محسن نے بڑے نادر اور نایاب خیالات کو اشعار کا لباس اس طرح پہنایا ہے کہ شاعری کی سمجھ رکھنے والا دنگ رہ جاتا ہے۔

    اِک ”جلوہ“ تھا، سو گُم تھا حجاباتِ عدم میں
    اِک ”عکس“ تھا، سو منتظرِ چشمِ یقیں تھا

    محسن نقوی کے غزل اور نظم کے قادر الکلام شاعر ہونے کے بارے میں دو آراء نہیں ہو سکتیں۔ محسن کی نثر جو اُن کے شعری مجموعوں کے دیباچوں کی شکل میں محفوظ ہو چکی ہے بلا شبہ تخلیق تحریروں کی صفِ اوّل میں شمار کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ایک اور صنفِ سخن یعنی قطعہ نگاری کے بھی بادشاہ ہیں۔ اِن کے قطعا ت کے مجموعے ” ردائے خواب” کو ان کے دیگر شعری مجموعوں کی طرح بے حد پزیرائی حاصل ہوئی۔ نقادانِ فن نے اسے قطعہ نگاری میں ایک نئے باب کا اِضافہ قرار دیا۔ مذہبی نوعیت کے قطعات ” میراثِ محسن ” میں پہلے ہی درج کیے جا چکے ہیں۔ محسن نے اخبارات کے لیے جو قطعات لکھے ان کی زیادہ تر نوعیت سیاسی تھی لیکن ان کا لکھنے والا بہر حال محسن تھا – 1994ء میں حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی عطا کیا تھا۔ محسن نقوی شاعر اہلِ بیت کے طور پر بھی جانے جاتے تھے ۔

    اردو غزل کو ہر دور کے شعرا نے نیا رنگ اور نئے رجحانات عطا کیے۔ محسن نقوی کا شمار بھی انہی شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کی کلاسیکی اٹھان کا دامن تو نہیں چھوڑا تاہم اسے نئی شگفتگی عطا کی۔ محسن نقوی کے کلام میں صرف موضوعات کا تنوع ہی موجود نہیں بلکہ زندگی کی تمام کیفیتوں کو انہوں نے جدید طرز احساس عطا کیا۔ محسن نقوی کی شاعری کا ایک بڑا حصہ اہل بیت سے منسوب ہے۔ انہوں نے کربلا پر جو شاعری لکھی وہ دنیا بھر میں پڑھی اور پسند کی جاتی ہے۔ ان کے مذہبی کلام کے بھی کئی مجموعے ہیں جن میں بندِ قبا، برگِ صحرا، ریزہ حرف، عذابِ دید، طلوعِ اشک، رختِ شب، خیمہ جاں، موجِ ادراک اور فراتِ فکر زیادہ مقبول ہیں۔

    محسن نقوی نے شاعری کا آغاز زمانہ طالب علمی سے کیا ان کا سب سے اہم حوالہ تو شاعری ہے۔ لیکن ان کی شخصیت کی اور بھی بہت سی جہتیں ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری صرف الف- لیلٰی کے موضوع تک ہی محدود نہ رکھی بلکہ انہوں نے دینا کے حکمرانوں کے بارے میں بھی بہت کچھ لکھا جنہیں اپنے لوگوں کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کی شاعری کا محور معاشرہ، انسانی نفسیات، رویے، واقعۂ کربلا اور دنیا میں ازل سے جاری معرکہ حق و باطل ہے۔ اپنے عروج کی انتہا کو پہنچ کر محسن نقوی نے کالعدم تحریکِ طالبان،سپاہ صحابہ اور اس کی ذیلی شاخوں کو اپنی شاعری کے ذریعے بے نقاب کرناشروع کیا تو پھر وہی ہوا جو اس ملک میں ہر حق گو کا مقدر ہے۔ اردو ادب کا یہ دمکتا چراغ 15 جنوری 1996ء کو مون مارکیٹ لاہور میں اپنے دفتر کے باہر دہشت گردوں کی فائرنگ سے بجھ گیا تھا تاہم اس کی روشنی ان کی شاعری کی صورت میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق 45 گولیاں محسنؔ کے جسم میں لگیں
    یہ جاں گنوانے کی رُت یونہی رائیگاں نہ جائے –

    سر سناں، کوئی سر سجاؤ ! اُداس لوگو
    شہادت سے چند لمحے قبل محسن نقوی نے ایک لازوال شعر کہا تھا کہ
    سفر تو خیر کٹ گیا
    میں کرچیوں میں بٹ گیا

    محسنؔ نے بے انتہا شاعری کی جس میں حقیقی اور مجازی دونوں پہلو شامل تھے۔ ان کی پہچان اہلبیتِ محمدؐکی شان میں کی گئی شاعری بنی۔

    مجموعۂ کلام
    ۔۔۔۔۔
    ان کے کئی مجموعہ کلام چھپ چکے ہیں جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں
    ٭ بندِ قبا۔ 1969ء
    ٭ برگِ صحرا۔ 1978ء
    ٭ ریزہ حرف۔ 1985ء
    ٭ عذابِ دید۔ 1990ء
    ٭ طلوعِ اشک۔ 1992ء
    ٭ رختِ شب۔ 1994ء
    ٭ خیمہ جاں۔ 1996ء
    ٭ موجِ ادراک
    ٭ فراتِ فکر

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
    تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

    تمہیں جب روبرو دیکھا کریں گے
    یہ سوچا ہے بہت سوچا کریں گے

    اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا
    بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں

    وفا کی کون سی منزل پہ اس نے چھوڑا تھا
    کہ وہ تو یاد ہمیں بھول کر بھی آتا ہے

    صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو
    کچھ سوالی بڑے خوددار ہوا کرتے ہیں

    ذکر شب فراق سے وحشت اسے بھی تھی
    میری طرح کسی سے محبت اسے بھی تھی

    کل تھکے ہارے پرندوں نے نصیحت کی مجھے
    شام ڈھل جائے تو محسنؔ تم بھی گھر جایا کرو

    یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ
    وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں

    وہ اکثر دن میں بچوں کو سلا دیتی ہے اس ڈر سے
    گلی میں پھر کھلونے بیچنے والا نہ آ جائے

    جب سے اس نے شہر کو چھوڑا ہر رستہ سنسان ہوا
    اپنا کیا ہے سارے شہر کا اک جیسا نقصان ہوا

    کہاں ملے گی مثال میری ستم گری کی
    کہ میں گلابوں کے زخم کانٹوں سے سی رہا ہوں

    کتنے لہجوں کے غلافوں میں چھپاؤں تجھ کو
    شہر والے مرا موضوع سخن جانتے ہیں

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا
    اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

    یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا
    ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخ رو کر کے

    گہری خموش جھیل کے پانی کو یوں نہ چھیڑ
    چھینٹے اڑے تو تیری قبا پر بھی آئیں گے

    ازل سے قائم ہیں دونوں اپنی ضدوں پہ محسنؔ
    چلے گا پانی مگر کنارہ نہیں چلے گا

    لوگو بھلا اس شہر میں کیسے جئیں گے ہم جہاں
    ہو جرم تنہا سوچنا لیکن سزا آوارگی

    موسم زرد میں ایک دل کو بچاؤں کیسے
    ایسی رت میں تو گھنے پیڑ بھی جھڑ جاتے ہیں

    کیوں ترے درد کو دیں تہمت ویرانیٔ دل
    زلزلوں میں تو بھرے شہر اجڑ جاتے ہیں

    جن اشکوں کی پھیکی لو کو ہم بے کار سمجھتے تھے
    ان اشکوں سے کتنا روشن اک تاریک مکان ہوا

    ہم اپنی دھرتی سے اپنی ہر سمت خود تلاشیں
    ہماری خاطر کوئی ستارہ نہیں چلے گا

    جو دے سکا نہ پہاڑوں کو برف کی چادر
    وہ میری بانجھ زمیں کو کپاس کیا دے گا

    وہ لمحہ بھر کی کہانی کہ عمر بھر میں کہی
    ابھی تو خود سے تقاضے تھے اختصار کے بھی

    شاخ عریاں پر کھلا اک پھول اس انداز سے
    جس طرح تازہ لہو چمکے نئی تلوار پر

    پلٹ کے آ گئی خیمے کی سمت پیاس مری
    پھٹے ہوئے تھے سبھی بادلوں کے مشکیزے

    دشت ہستی میں شب غم کی سحر کرنے کو
    ہجر والوں نے لیا رخت سفر سناٹا

    چنتی ہیں میرے اشک رتوں کی بھکارنیں
    محسنؔ لٹا رہا ہوں سر عام چاندنی

  • اردو کےعظیم شاعرخواجہ میر درد کا یوم وفات

    اردو کےعظیم شاعرخواجہ میر درد کا یوم وفات

    تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
    دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں

    خواجہ میر درد

    یوم وفات : 7جنوری 1785
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کے عظیم شعراء کی فہرست میں شامل سیدخواجہ میر درد، میر تقی میر کے ہمعصر 1721ء میں دلی میں پیدا ہوئے خواجہ میر دردؔ کو اردو میں صوفیانہ شاعری کا امام کہا جاتا ہے۔ دردؔ اور تصوف لازم و ملزوم بن کر رہ گئے ہیں۔ یقیناً دردؔ کے کلام میں تصوف کے مسائل اور صوفیانہ حسّیت کے حامل اشعار کی کثرت ہے لیکن انہیں محض اک صوفی شاعر کہنا ان کی شاعری کے ساتھ ناانصافی ہے۔ ابتدائی تذکرہ نویسوں نے ان کی شاعری کو اس طرح محدود نہیں کیا تھا، صوفی شاعر ہونے کا ٹھپہ ان پر بعد میں لگایا گیا۔

    میر تقی میرؔ نے، جو اپنے سوا کم ہی کسی کو خاطر میں لاتے تھے، انہیں ریختہ کا "زور آور” شاعر کہتے ہوئے انہیں "خوش بہار گلستان، سخن” قرار دیا۔ محمد حسین آزاد نے کہا کہ دردؔ تلواروں کی آبداری اپنے نشتروں میں بھر دیتے ہیں، مرزا لطف علی صاحب، "گلشن سخن” کے مطابق دردؔ کا کلام "سراپا درد و اثر "ہے۔

    میر حسن نے انھیں، آسمان، سخن کا خورشید قرار دیا، پھر امداد اثر نے کہا کہ معاملات تصوف میں ان سے بڑھ کر اردو میں کوئی شاعر نہیں گزرا اور عبد السلام ندوی نے کہا کہ خواجہ میر دردؔ نے اس زبان (اردو) کو سب سے پہلے صوفیانہ خیالات سے آشنا کیا۔ ان حضرات نے بھی دردؔ کو تصوف کا ایک بڑا شاعر ہی مانا ہے ان کے کلام کی دوسری صفات سے انکار نہیں کیا ہے۔ شاعری کی پرکھ، یوں بھی "کیا کہا ہے” سے زیادہ ” کیسے کہا ہے” پر مبنی ہوتی ہے دردؔ کی شاعری کے لئے بھی یہی اصول اپنانا ہو گا۔

    دردؔ ایک صاحب اسلوب شاعر ہیں۔ ان کے بعض سادہ اشعار پر میرؔ کے اسلوب کا دھوکہ ضرور ہوتا ہے لیکن توجہ سے دیکھا جائے تو دونوں کا اسلوب یکسر جداگانہ ہے۔ درد کی شاعری میں غور و فکر کا عنصر نمایاں ہے جبکہ میرؔ فکر کو احساس کا تابع رکھتے ہیں البتہ عشق میں سپردگی اور گداز دونوں کے یہاں مشترک ہے اور دونوں آہستہ آہستہ سلگتے ہیں۔ دردؔ کے یہاں مجازی عشق بھی کم نہیں۔ جیتے جاگتے محبوب کی جھلکیاں جابجا ان کے کلام میں مل جاتی ہیں۔ ان کا مشہور شعر ہے۔

    کہا جب میں ترا بوسہ تو جیسے قند ہے پیارے
    لگا تب کہنے پر قند مکرر ہو نہیں سکتا

    دردؔ کی شاعری بنیادی طور پر عشقیہ شاعری ہے ان کا عشق مجازی بھی ہے، حقیقی بھی اور ایسا بھی جہاں عشق و مجاز کی سرحدیں باقی نہیں رہتیں۔ لیکن ان تینوں طرح کے اشعار میں احساس کی صداقت واضح طور پر نظر آتی ہے، اسی لئے ان کے کلام میں تاثیر ہے جو صناعی کے شوقین شعراء کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے۔

    دردؔ نے خود کہا ہے "فقیر نے کبھی شعر آورد سے موزوں نہیں کیا اور نہ کبھی اس میں مستغرق ہوا۔کبھی کسی کی مدح نہیں کی نہ ہجو لکھی اور فرمائش سے شعر نہیں کہا” درد ؔکے عشق میں بیچینی نہیں بلکہ ایک طرح کی طمانیت قلب، سکون اور پاکیزگی ہے جعفر علی خاں اثر کے بقول دردؔ کے پاکیزہ کلام کے لئے پاکیزہ نگاہ درکار ہے۔

    دردؔ کے کلام میں عشق و عقل، جبر و اختیار، خلوت اور انجمن، سفر در سفر، بے ثباتی و بے اعتباری، بقا اور فنا، مکان و لامکاں، وحدت و کثرت، جزو و کل توکل اور فقر کے مضامین کثرت سے ملتے ہیں۔ فی زمانہ، تصوف کا وہ برانڈ، جس کے دردؔ تاجر تھے، اب فیشن سے باہر ہو گیا ہے۔ اس کی جگہ سنجیدہ طبقہ میں سرمد اور رومی کا برانڈ اور عوام میں بلھے شاہ، سلطان باہو اور "دمادم مست قلندر” والا برانڈ زیادہ مقبول ہے۔

    غزل کی شاعری برملا کم اور اشاروں میں زیادہ بات کرتی ہے اس لئے اس میں معانی کی حسب منشاء جہات تلاش کر لینا کوئی مشکل کام نہیں یہ غزل کی ایسی طاقت ہے کہ وقت کے تند جھونکے بھی اس چراغ کو نہیں بجھا سکے ایسے میں اگر مجنوںؔ گوکھپوری نے دردؔ کے کلام میں "کہیں دبی ہوئی اورکہیں اعلانیہ، کبھی زیر لب اور کبھی کھلے ہونٹوں شدید طنز کے ساتھ زمانہ کی شکایت اور زندگی سے بیزاری کی علامتیں” تلاش کیں تو بہرحال ان کا ماخذ دردؔ کا کلام ہی تھامجنوں کہتے ہیں درردؔ اپنے زمانہ کے حالات سے ناآسودگی کا اظہار کرتے ہیں۔

    دردؔ کے کلام کو ان کے زمانہ کے معاشرتی اور فکری ماحول اور ان کی نجی شخصیت کے حوالہ سے پڑھنا چاہئے۔ جہاں تک پیرایۂ بیان کا تعلق ہے اپنی بات کو دبے لفظوں میں تشنۂ وضاحت چھوڑ جانا دردؔ کو تمام دوسرے شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔ اس طرح کے اشعار میں ان کہی بات، وضاحت کے مقابلہ میں زیادہ اثردار ہوتی ہے۔ حیرت و حسرت کا یہ دھندھلا سا اظہار ان کے اشعار کا خاص جوہر ہے۔ اس سلسلہ میں رشید حسن خاں نے پتے کی بات کہی ہے وہ کہتے ہیں "دردؔ کے جن اشعار میں خالص تصوف کی اصطلاحیں استعمال ہوئی ہیں یا جن میں مجازیات کو صاف صاف پیش کیا گیا ہے وہ نہ دردؔ کے نمائندہ اشعار ہیں نہ ہی اردو غزل کے۔

    یہ بات ہم کو مان لینی چاہئے کہ اردو میں فارسی کی صوفیانہ شاعری کی طرح بلند پایہ متصوفاننہ شاعری کا فقدان ہے۔ ہاں، اس کے بجائے اردو میں حسرت، تشنگی اور یاس کا جو طاقتور آہنگ کارفرما ہے، فارسی غزل اس سے بڑی حد تک خالی ہے-

    مجموعی طور پر دردؔ کی شاعری دل اور روح کو متاثر کرتی ہے۔ جذباتیت اور شاعرانہ "استادی” کا اظہار ان کا شعار نہیں، دردؔ موسیقی کے ماہر تھے، ان کے کلام میں بھی موسیقیت ہے۔ دردؔ تبھی شعر کہتے تھے جب شعر خود کو ان کی زبان سے کہلوا لے۔ اسی لئے ان کا دیوان بہت مختصر ہے۔

    خواجہ میر دردؔ 07؍جنوری 1785ء کو دہلی میں انتقال کر گئے۔

    ریختہ ڈاٹ کام سے ماخوذ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    خواجہ میر درد کی شاعری سے انتخاب
    . ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں
    زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں
    ——–
    زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے!
    ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
    ——–
    اذیت مصیبت ملامت بلائیں
    ترے عشق میں ہم نے کیا کیا نہ دیکھا
    ——–
    تر دامنی پہ شیخ ہماری نہ جائیو
    دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں
    ——–
    نہیں شکوہ مجھے کچھ بے وفائی کا تری ہرگز
    گلا تب ہو اگر تو نے کسی سے بھی نبھائی ہو
    ——–
    جگ میں آ کر ادھر ادھر دیکھا
    تو ہی آیا نظر جدھر دیکھا
    ——–
    میں جاتا ہوں دل کو ترے پاس چھوڑے
    مری یاد تجھ کو دلاتا رہے گا
    ——–
    کبھو رونا کبھو ہنسنا کبھو حیران ہو جانا
    محبت کیا بھلے چنگے کو دیوانہ بناتی ہے
    ——–
    ارض و سما کہاں تری وسعت کو پا سکے
    میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سما سکے
    ——–
    جان سے ہو گئے بدن خالی
    جس طرف تو نے آنکھ بھر دیکھا
    ——–
    ہے غلط گر گمان میں کچھ ہے
    تجھ سوا بھی جہان میں کچھ ہے
    ——–
    ان لبوں نے نہ کی مسیحائی
    ہم نے سو سو طرح سے مر دیکھا
    ——–
    دشمنی نے سنا نہ ہووے گا
    جو ہمیں دوستی نے دکھلایا
    ——–
    حال مجھ غم زدہ کا جس جس نے
    جب سنا ہوگا رو دیا ہوگا
    ——–
    ہر چند تجھے صبر نہیں درد ولیکن
    اتنا بھی نہ ملیو کہ وہ بدنام بہت ہو
    ——–
    درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
    ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں
    ——–
    تمنا تری ہے اگر ہے تمنا
    تری آرزو ہے اگر آرزو ہے
    ——–
    مجھے یہ ڈر ہے دل زندہ تو نہ مر جائے
    کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے
    ——–
    کاش اس کے رو بہ رو نہ کریں مجھ کو حشر میں
    کتنے مرے سوال ہیں جن کا نہیں جواب
    ——–
    آگے ہی بن کہے تو کہے ہے نہیں نہیں
    تجھ سے ابھی تو ہم نے وے باتیں کہی نہیں
    ——–
    کھل نہیں سکتی ہیں اب آنکھیں مری
    جی میں یہ کس کا تصور آ گیا
    ——–
    دل بھی اے دردؔ قطرۂ خوں تھا
    آنسوؤں میں کہیں گرا ہوگا
    ——–
    قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے
    اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
    ——–
    ساقی مرے بھی دل کی طرف ٹک نگاہ کر
    لب تشنہ تیری بزم میں یہ جام رہ گیا
    ——–
    ایک ایمان ہے بساط اپنی
    نہ عبادت نہ کچھ ریاضت ہے
    ——–
    ہم تجھ سے کس ہوس کی فلک جستجو کریں
    دل ہی نہیں رہا ہے جو کچھ آرزو کریں

  • برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت،عطیہ فیضی

    برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت،عطیہ فیضی

    برِ صغیر کی معروف علمی، ادبی اور سماجی شخصیت

    عطیہ فیضی (ولادت: 1 اگست 1877ء، وفات: 4 جنوری 1967)

    عطیہ فیضی کون تھی؟

    یہ تین بہنیں تھیں۔ سب سے بڑی نازی بیگم، ان سے چھوٹی زہرا بیگم اور آخری عطیہ بیگم۔ صرف عطیہ نے اپنا نام اپنے خاندانی لقب فیضی کی نسبت سے عطیہ فیضی رکھا۔ ان کے والد علی حسن آفندی کا تعلق ایک عرب نژاد خاندان سے تھا جو اپنے ایک بزرگ فیض حیدر کے نام کی نسبت سے فیضی کہلاتا تھا۔ یہ لوگ تجارت پیشہ تھے اور تجارتی کاموں کے سلسلے میں بمبئی سے لے کر کاٹھیاواڑ تک پھیل گئے تھے۔ عرب، ترکی اور عراق کے عمائد اور عوام سے بھی تعلقات تھے۔ اس خاندان میں علم وادب کا چرچا تھا۔ عطیہ کبھی کبھی دعویٰ کیا کرتی تھیں کہ ان کا خاندان ترکی النسل ہے لیکن عام طور پر انھیں عرب نژاد ہی خیال کیا جاتا تھا۔

    نازی بیگم: علی حسن آفندی کی سب سے بڑی بیٹی عطیہ فیضی سے نو سال بڑی تھیں۔ یہ بھی استنبول میں ۱۸۷۲ء کو پیدا ہوئیں۔ نازی بیگم نے ترکی کے اعلیٰ تعلیمی اداروںمیں تعلیم حاصل کی۔ ان کو ترکی، انگریزی، عربی اور فارسی میں اچھی دستگاہ حاصل تھی۔ بعد میں انھوں نے گجراتی اور اُردو زبان میں بھی مہارت پیدا کر لی۔ ابھی ۱۳ برس کی تھیں کہ ان کی شادی بمبئی کے قریب واقع ایک چھوٹی سی ریاست جنجیرہ کے نواب سرسیدی احمد خاں سے کر دی گئی۔

    سرسیدی احمد خاں کے اجداد حبشہ (ایتھیوپیا) کے ساحل پر آباد تھے۔ وہاں سے نقل مکانی کر کے یہ بمبئی آئے اور جنجیرہ کے جزیرے میں آباد ہو گئے۔ بعد میں وہ اس جزیرے کے حکمران بن گئے۔ یہ تحقیق نہیں ہو سکی کہ یہ خاندان جنجیرہ میں کب آباد ہوا اور کب وہاں ان کی حکمرانی قائم ہوئی۔ سسرال میں نازی بیگم کو رفیعہ سلطان کا لقب دیا گیا اور وہ ہر ہائی نس نازی رفیعہ سلطان آف جنجیرہ کہلائیں۔

    اپنے حسنِ عمل کی بدولت یہ جزیرے میں کافی ہر دل عزیز تھیں۔ ان کو علم و ادب سے گہرا لگائو تھا اور وہ اربابِ علم کی بے حد قدر دان تھیں۔ مولانا شبلی نعمانی کی شہرہ آفاق تصنیف سیرت النبیﷺ کی تیاری میں ان کی تحریک اور اعانت بھی شامل تھی۔ مولانا نے اس کا کافی حصہ جنجیرہ کی پر سکون فضا میں رہ کر مکمل کیا۔

    سفرِ یورپ کے دوران نازی بیگم کو علامہ اقبال اور کئی دوسرے مشاہیر سے بھی ملاقات کا موقع ملا۔ علامہ اقبال ان کی علمی وجاہت سے بہت متاثر ہوئے اور یہ شعر ان کی نذر کیے:
    اے کہ تیرے آستانے پر جبیں گستر قمر
    اور فیضِ آستاں بوسی سے گل برسر قمر
    روشنی لے کر تیری موجِ غبارِ راہ سے
    دیتا ہے ایلائے شب کو نور کی چادر قمر

    نازی بیگم نے شبلی نعمانی کی میزبانی کے علاوہ کئی بار علامہ اقبال، مولانا محمد علی جوہر، مولانا شوکت علی، قائد اعظم محمد علی جناح، مسز سروجنی نائیڈو اور ملک کے متعدد دوسرے نامور اربابِ علم اور اہل سیاست کی میزبانی کا شرف بھی حاصل کیا۔ بقول نازی بیگم قائد اعظم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ مجھے جنجیرہ آ کر بہت آرام اور سکون ملتا ہے۔ وہ جنجیرہ میں اپنا بیشتر وقت محل سے ملحق باغ میں گزارا کرتے تھے۔

    عطیہ فیضی نے بھی اپنی بہنوں کی طرح استنبول میں اعلیٰ تعلیم پائی اور ترکی، عربی، فارسی، انگریزی، اُردو اور گجراتی میں اچھی استعداد بہم پہنچائی۔ ان کی بڑی بہن نازی بیگم کی شادی ۱۸۸۵ء میں نواب جنجیرہ (بمبئی) سے ہوئی تو یہ بھی ان کے ساتھ جنجیرہ میں رہنے لگیں۔ عطیہ اپنے والدین کی بہت لاڈلی تھیں اور سب بہنوں میں زیادہ شوخ وچنچل بھی۔ اس کے ساتھ ہی وہ بڑی ذہین و فطین اور علم و ادب کی شیدائی بھی تھیں۔ جنجیرہ ایک پُر فضا جزیرہ تھا۔

    نازی بیگم کی دعوت پر ملک کے بڑے بڑے اہلِ سیاست اور اربابِ علم کی یہاں آمد آمد ہوئی ان میں مولاناشبلی نعمانی بھی شامل تھے۔ ان کو عطیہ کی ذہانت، علم وادب سے شغف اور دوسرے اوصاف نے بے حد متاثرکیا اور وہ ان کے مداح بن گئے۔ عطیہ بھی شبلی نعمانی کی بہت قدر دان تھیں۔ ان کے درمیان خط وکتابت بھی ہوتی رہتی تھی۔ جس میں بے تکلفی کا ایک مخصوص رنگ پایا جاتا تھا۔ بالخصوص مولانا شبلی کے خطوں میں، بعض اصحاب نے اس بے تکلفی کو کوئی اور رنگ دینے کی کوشش کی ہے لیکن یہ بے تکلفی ہمیشہ ایک حد کے اندر رہی اور عطیہ ہمیشہ انھیں (شبلی کو) عزت کا ایک مقام دیتی رہیں۔

    ۱۹۰۳ء میں عطیہ کی شادی ایک عالمی شہرت یافتہ مصور رحیمن (رحمین) سے ہوئی۔ وہ یہودی نژاد تھے لیکن مسلمان ہو گئے تھے۔ یہ ڈاکٹر فیضی رحیمن کے نام سے مشہور تھے۔ ان کی بنائی ہوئی تصویریں دنیا کے مختلف عجائب گھروں اور آرٹ گیلریوں کی زینت رہیں۔ ہندوستان میں پیدا ہوئے لیکن تعلیم و تربیت یورپ میں ہوئی۔ وہیں مصوری، افسانہ نگاری اور مضمون نویسی میں شہرت حاصل کی۔ وہاں سے اچانک ہندوستان آ گئے اور پھر یہیں کے ہو رہے۔

    قیام پاکستان کے بعد نازی بیگم اور عطیہ فیضی کے ساتھ یہ پاکستان آ گئے اور کراچی میں مستقل اقامت اختیار کی۔ کراچی میں ان کی زندگی کے آخری چند سال بڑی پریشانیوں میں گزرے اس کی کچھ تفصیل آگے آئے گی۔ بعض لوگوں نے اس شادی پر اعتراض کیا، شبلی نعمانی کو خبر ہوئی تو انھوںنے یہ شعر کہے:

    عطیہ کی شادی پہ کسی نے نکتہ چینی کی
    کہا میں نے جاہل ہے یا احمق ہے یا ناداں ہے
    بتانِ ہند کافر کر لیا کرتے تھے مسلم کو
    عطیہ کی بدولت آج اک کافر مسلماں ہے

    مولانا شبلی نے ایک مرتبہ قیامِ جنجیرہ کے دوران عطیہ کو مخاطب کر کے یہ اشعار کہے:

    کسی کو یاں خدا کی جستجو ہو گی تو کیوں ہو گی
    خیالِ روزہ و فکرِ وضو ہو گی تو کیوں ہو گی
    ہوائے روح پرور بھی یہاں کی نشہ آور ہے
    یہاں فکرِ مے وجام و سبو ہو گی تو کیوں ہو گی
    کہاں یہ لطف، یہ سبزہ یہ منظر یہ بہارستان
    عطیہ تم کو یادِ لکھنو ہو گی تو کیوں ہو گی

    اور جب ان کو لکھنو میں جنجیرہ کی یاد ستاتی تو کہتے:

    یاد میں صحبت ہائے رنگیں جو جزیرے میں ہیں
    وہ جزیرے کی زمین تھی یا کوئی مے خانہ تھا

    ۷،۱۹۰۶ء میں نازی بیگم اپنے شوہر اور دوسرے اہل خاندان کے ساتھ یورپ گئیں تو عطیہ بھی ان کے ساتھ تھیں۔ انگلستان میںان کی علامہ اقبال سے خوب ملاقاتیں رہیں اور ابنِ عربی کے فلسفۂ تصوف پر طویل مباحث ہوتے (علامہ اس وقت بسلسلۂ تعلیم انگلستان میںتھے) علامہ اقبال عطیہ سے اس قدر متاثر ہوئے کہ ان کو راز دار بنا لیا۔ اپنے ذاتی حالات اور ذہنی کیفیات تک سے ان کو آگاہ کرتے تھے اور اپنا کلام بھی انھیں بھیجتے تھے۔ اقبال کے خطوط عطیہ بیگم کے نام طبع ہو چکے ہیں۔

    ان کو دیکھ کر دونوں کے باہمی روابط کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ عطیہ فیضی بڑی خوبیوں کی مالک تھیں لیکن فی الحقیقت ان کو ملک گیر شہرت مولانا شبلی کی شاعری اور علامہ اقبال کے قلم نے عطا کی اور وہ برصغیر کی نامور خواتین میں شمار ہوئیں۔ ماہر القادری نے عطیہ سے بعض ذاتی ملاقاتوں اور ان مجالس کا کچھ احوال بھی لکھا ہے جو عطیہ کے خصوصی ذوق اور خود ان کے رونقِ محفل ہونے کی وجہ سے منعقد ہوئیں اور ساتھ ہی ساتھ ان کے آخری ایام کی دھندلی سی ایک تصویر ہمیں دکھاتے ہیںجس سے پتا چلتا ہے کہ دھوپ چھائوں کا کھیل بھی کیا کھیل ہے۔ لکھتے ہیں:

    ’’یہ قصہ نشاطیہ تو ہے ہی مگر کسی حد تک المیہ (ٹریجڈی) بھی ہے۔ شبلی نعمانی کے تذکرے میں عطیہ فیضی کا نام آتا ہے۔ مولانا شبلی نعمانی سے مجھے بے انتہا محبت بھی ہے اور عقیدت بھی۔ اسی نسبت اور تعلق کے سبب عطیہ فیضی کے نام سے میں بہت دنوں سے واقف تھا۔ فنون لطیفہ سے عطیہ کو جو خاص شغف تھا اس کے تذکرے بھی لوگوں کی زبانی سنے تھے۔

    ماہرالقادری

  • صفی لکھنوی کا یوم پیدائش

    صفی لکھنوی کا یوم پیدائش

    جنازہ روک کر میرا وہ اس انداز سے بولے
    گلی ہم نے کہی تھی تم تو دنیا چھوڑے جاتے ہو

    صفی کا نام سید علی نقی زیدی (پیدائش 03جنوری 1862ء،وفات:25 جون 1950ء) تھا، صفی تخلص کرتے تھے والد کا نام سید فضل حسن تھا۔ ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کرنے کے بعد نجم الدین کاکوروی سے فارسی اور مولوی احمد علی سے عربی زبان سیکھی۔ کیننگ کالج میں انٹرنس کی تعلیم حاصل کی اور کیننگ کالج سے متعلقہ اسکول میں انگریزی زبان کے استاد کی حیثیت سے معلمی کے فرائض انجام دیئے۔ 1883 میں سرکاری ملازمت اختیار کی اور محکمہ دیوانی میں مختلف عہدوں پر فائز رہے۔

    صفی نے لکھنؤ کے عام شعری مزاج سے الگ ہٹ کر شاعری کی ، ان کا یہی انفراد ان کی شناخت بنا۔ مولانا حسرت موہانی انھیں ’ مصلح طرز لکھنؤ ‘ کہا کرتے تھے۔ صفی نے غزل کی عام روایت سے ہٹ کر نظم کی صنف میں خاص دلچسپی لی۔ انھوں نے سلسلہ وار قومی نظمیں بھی کہیں جو خاص طور سے ان کے عہد کے سماجی ، سیاسی اور تہذیبی مسائل کی عکاس ہیں۔ اس کے علاوہ قصیدہ، رباعی اور مثنوی جیسی اصناف میں بھی طبع آزمائی کی۔ صفی کی نظمیں اور غزلیں پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ وہ شعوری یا غیرشعوری طور پر لکھنو کی خاص روایتی طرز کو بدلنے کی طرف مائل تھے۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    غزل اس نے چھیڑی مجھے ساز دینا
    ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

    مری نعش کے سرہانے وہ کھڑے یہ کہہ رہے ہیں
    اسے نیند یوں نہ آتی اگر انتظار ہوتا

    کل ہم آئینے میں رخ کی جھریاں دیکھا کیے
    کاروان عمر رفتہ کا نشاں دیکھا کیے

    جنازہ روک کر میرا وہ اس انداز سے بولے
    گلی ہم نے کہی تھی تم تو دنیا چھوڑے جاتے ہو

    بناوٹ ہو تو ایسی ہو کہ جس سے سادگی ٹپکے
    زیادہ ہو تو اصلی حسن چھپ جاتا ہے زیور سے

    دیکھے بغیر حال یہ ہے اضطراب کا
    کیا جانے کیا ہو پردہ جو اٹھے نقاب کا

    پیغام زندگی نے دیا موت کا مجھے
    مرنے کے انتظار میں جینا پڑا مجھے

    دیں بھی جواب خط کہ نہ دیں کیا خبر مجھے
    کیوں اپنے ساتھ لے نہ گیا نامہ بر مجھے

    ختم ہو جاتے جو حسن و عشق کے ناز و ادا
    شاعری بھی ختم ہو جاتی نبوت کی طرح

  • روس کے غنائی شاعر سرگیئی الیکساندرووچ یسینن کا یوم وفات

    روس کے غنائی شاعر سرگیئی الیکساندرووچ یسینن کا یوم وفات

    سرگیئی الیکساندرووچ یسینن روسی (پیدائش: 3 اکتوبر 1895ء – وفات: 27 دسمبر 1925ء) روس کے غنائی شاعر تھے۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    یسینن 3 اکتوبر 1895ء کو روسی سلطنت کے صوبے ریازان کے گاؤں کنستن تینووہ میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے کلیسائی استادوں کے اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ سرگیئی یسینن سولہ سترہ سال کی عمرمیں پہلی نظمیں لکھیں اور سینٹ پیٹرزبرگ گئے جہاں ان کی ملاقات الکساندر بلوک، گرودیتسکی، کلیوئیف اور دوسرے شاعروں ادیبوں سے ہوئی۔ ڈیڑھ سال انھوں نےسینٹ پیٹرزبرگ یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد اپنے گاؤں واپس آگئے۔

    انھوں نے اپنی خود نوشت میں 1925ء میں لکھا کہ ”انقلاب کے برسوں میں پوری طرح سےانقلاب اکتوبر کی طرف تھا لیکن ہر چیز کو میں نے اپنی طرح سے کسانی رجحانات کے ساتھ قبول کیا۔“

    باکو کے 26 کمیساروں کے بارے میں (جنہیں رجعت پرست انقلاب دشمنوں نے مصالحت کا دھوکا دے کر قتل کر دیا تھا) ان کی نظم یسینن کی بے مثال طبائی کی بہترین مثالوں میں ہے۔ یہ نظم انھوں نے ماورائے قفقاز میں اپنے قیام کے دوران میں لکھی۔

    نظمیں
    ۔۔۔۔۔۔
    ماں کے نام خط
    روس سوویت والا
    الوداع
    خزاں
    میں اپنے گاؤں کا آخری شاعر ہوں
    پوگاچیف
    ایک خاتون کے نام خط
    کالاشخص
    کچلوف کا کتا

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    روس کے غنائی شاعر سرگیئی یسینن 30 سال کی عمر میں 28 دسمبر 1925ء کو لینن گراد (موجودہ سینٹ پیٹرزبرگ)، سویت یونین میں انتقال کر گئے۔

  • تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے،معروف شاعرہ شبینہ ادیب  کا یوم پیدائش

    تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے،معروف شاعرہ شبینہ ادیب کا یوم پیدائش

    تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے

    معروف شاعرہ شبینہ ادیب 27 دسمبر 1974ء کو کانپور، اترپردیش میں عزیز احمد اور ریبو بیگم کے ہاں پیدا ہوئیں ان کی شادی جوہر کان پوری سے ہوئی ان کے ہاں ایک بیٹی طوبیٰ جوہر پیدا ہوئی ان کی تصنیف میں تم میرے پاس رہو“ (شعری مجموعہ) شامل ہے-

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں، دلوں میں اُلفت نئی نئی ہے
    ابھی تکلف ہے گفتگو میں، ابھی محبت نئی نئی ہے

    ابھی نہ آئے گی نیند تمکو، ابھی نہ ہمکو سکوں ملے گا
    ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ، ابھی یہ چاہت نئی نئی ہے

    بہار کا آج پہلا دن ہے، چلوچمن میں ٹہل کے آئیں
    فضا میں خوشبو نئی نئی ہے، گلوںمیں رنگت نئی نئی ہے

    جو خاندانی رئیس ہیں وہ مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا
    تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے

    ذرا سا قدرت نے کیا نوازا، کہ آ کے بیٹھے ہو پہلی صف میں
    ابھی سے اڑنے لگے ہوا میں، ابھی تو شہرت نئی نئی ہے

    بموں کی برسات ہو رہی ہے،پُرانے جانباز سو رہے ہیں
    غلام دُنیا کو کر رہاہے، وہ جسکی طاقت نئی نئی ہے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمہارا چہرہ چراغوں میں کون رکھتا ہے
    مری طرح تمہیں آنکھوں میں کون رکھتا ہے

    خدا کی ذات پہ ہم کو یقین ہے ورنہ
    دئیے جلاکے ہواؤں میں کون رکھتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی