Baaghi TV

Tag: ادب

  • معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم پیدائش

    معروف شاعر قتیل شفائی کا یوم پیدائش

    دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
    جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا

    قتیل شفائی

    قتیل شفائی یا اورنگزیب خان (پیدائش 24 دسمبر، 1919ء – وفات 11 جولائی، 2001ء) پاکستان کے ایک مشہور و معروف اردو شاعر تھے۔ قتیل شفائی خیبر پختونخوا، ہری پور، ہزارہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد لاہور میں سکونت اختیار کی۔ یہاں پر فلمی دنیا سے وابستہ ہوئے اور بہت سی فلموں کے لیے گیت لکھے۔

    ابتدائی زندگی اور کیرئر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی 1919ء میں برطانوی ہند (موجوہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ ان کا پیدائشی نام محمد اورنگ زیب تھا۔ انھوں نے 1938ء میں قتیل شفائی اپنا قلمی نام رکھا اور اردو دنیا میں اسی نام سے مشہور ہیں۔ اردو شاعری میں وہ قتیل تخلص کرتے ہیں۔ شفائی انھوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحیی شفاؔ کانپوری کے نام کی وجہ سے اپنے نام کے ساتھ لگایا۔ 1935ء میں ان کے والد کی وفات ہوئی اور ان پر اعلیٰ تعلیم چھوڑنے کا دباؤ بنا۔ انھوں نے کھیل کے سامان کی ایک دکان کھول لی مگر تجارت میں وہ ناکام رہے اور انھوں نے اپنے چھوٹے سے قصبے سے راولپنڈی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا جہاں انھوں نے ایک ٹرانسپورٹ کمپنی کے لیے کام کرنا شروع کیا۔ بعد میں 1947ء میں انھوں نے پاکستانی سنیما میں قدم رکھا اور نغمہ لکھنے لگے۔ ان کے والد ایک تاجر تھے اور ان کے گھر میں شعر و شاعری کا کوئی رواج نہ تھا۔ ابتدا میں امھوں حکیم یحیی کو اپنا کلام دکھانا شروع کیا اور بعد میں احمد ندیم قاسمی سے اصلاح لینے لگے اور باقاعدہ ان کے شاگرد بن گئے۔ قاسمی ان کے دوست بھی تھے اور پڑوسی بھی۔

    فلمی دنیا
    ۔۔۔۔۔۔
    1948ء میں ریلیز ہونے والی پاکستان کی پہلی فلم ’’تیری یاد‘‘ کی نغمہ نگاری سے ان کے فلمی سفر کا آغاز ہوا۔ جس کے بعد انھوں نے مجموعی طور پر 201 فلموں میں 900 سے زائد گیت تحریر کیے۔ وہ پاکستان کے واحد فلمی نغمہ نگار تھے جنھیں ہندستانی فلموں کے لیے نغمہ نگاری کا اعزاز بھی حاصل ہوا تھا۔ انھوں نے کئی فلمیں بھی بنائیں جن میں پشتو فلم عجب خان آفریدی کے علاوہ ہندکو زبان میں بنائی جانے والی پہلی فلم ’’قصہ خوانی‘‘ شامل تھی۔ انھوں نے اردو میں بھی ایک فلم ’’اک لڑکی میرے گائوں کی‘‘ بنانی شروع کی تھی مگر یہ فلم مکمل نہ ہوسکی تھی۔ فلمی مصروفیات کے ساتھ ساتھ قتیل شفائی کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ اپنی عمر کے آخری دور میں متعدد مرتبہ ممبئی کا بھی سفر کیا اور ’سر‘، ’دیوانہ تیرے نام کا‘، ’بڑے دل والا‘ اور ’پھر تیری کہانی یاد آئی‘ جیسی ہندستانی فلموں کے لیے بھی عمدہ گیت لکھے۔

    اُن کے گیتوں کی مجموعی تعداد ڈھائی ہزار سے زیادہ بنتی ہے، جن میں ’صدا ہوں اپنے پیار کی‘، ’اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں‘، ’یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی‘ کے ساتھ ساتھ ’یہ وادیاں، یہ پربتوں کی شاہزادیاں‘ جیسے زبان زدِ خاص و عام گیت بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کئی گیتوں پر اُنھیں خصوصی اعزازات سے نوازا گیا-

    کلام کی خصوصیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    قتیل شفائی نہایت ہی مقبول اور ہردلعزیز شاعر ہیں۔ ان کے لہجے کی سادگی و سچائی، عام فہم زبان کا استعمال اور عوام الناس کے جذبات و محسوسات کی خوبصورت ترجمانی ہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ یوں تو انھوں نے مختلف اصنافِ سخن میں طبع آزمائی کی مگر ان کا اصل میدان غزل ہے۔ ان کی شاعری میں سماجی او رسیاسی شعور بھی موجود ہے۔ اور انھیں صف اول کے ترقی پسند شعرا میں اہم مقام حاصل ہے۔ فلمی نغمہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک معتبر مقام حاصل کیا۔ ان کا کلام پاکستان اور ہندستان دونوں ملکوں میں یکساں طور پر مقبول ہے۔

    نمونہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بانٹ رہا تھا جب خدا سارے جہاں کی نعمتیں
    اپنے خدا سے مانگ لی میں نے تیری وفا صنم‘

    ’حالات کے قدموں پہ قلندر نہیں گِرتا
    ٹوٹے بھی جو تارہ تو زمیں پر نہیں گِرتا‘

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا
    ۔۔۔
    ’اے دِل کسی کی یاد میں
    ہوتا ہے بے قرار کیوں‘

    سنہ 1946میں نذیر احمد نےآپ کو لاہور بلایا اورماہنامہ ’ ادبِ لطیف‘ میں بطور اسسٹنٹ ایڈیٹر کے کام کرنے کو کہا۔
    ’آ میرے پیار کی خوشبو
    منزل پہ تجھے پہنچائے
    آ میرے پیار کی خوشبو‘

    ہفت روزہ اسٹار میں آپ کی پہلی غزل چھپی، اِس کے بعد آپ کو ایک فلم کے گیت لکھنے کو کہا گیا۔
    آپ نے پہلی مرتبہ فلم ’تیری یاد‘ کے گیت لکھے۔ اِس کے بعد یہ سفر آگے ہی آگے بڑھتا چلا گیا۔

    ’حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    اُن کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں‘

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
    جو ظلم تو سہتا ہے، بغاوت نہیں کرتا

    اعزازت
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی 1994ء، آدم جی ادبی انعام، امیر خسرو ایورڈ، نقوش ایورڈ۔ نیز ہندستان کی مگدھ یونیورسٹی کے ایک پروفیسر نے ’’قتیل اور ان کے ادبی کارنامے‘‘ کے عنوان سے ان پر پی ایچ ڈی کی۔ صوبہ مہاراشٹر میں ان کی دو نظمیں شامل نصاب ہیں۔ علاوہ ازیں بہاول پور یونیورسٹی کی دو طالبات نے ایم اے کے لیے ان پر مقالہ تحریر کیا۔

    فلمی نغمہ نگاری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد سے نغمہ نگاری کا آغاز کیا۔ اڑھائی ہزار سے زائد نغمے لکھے۔ انہیں نیشنل فلم ایورڈ کے علاوہ دو طلائی تمغے اور بیس ایورڈ بھی دیے گئے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہریالی
    گجر
    جلترنگ
    روزن
    جھومر
    مطربہ
    چھتنار
    گفتگو
    پیراہن
    آموختہ
    ابابیل
    برگد
    گھنگرو
    سمندر میں سیڑھی
    پھوار
    صنم
    پرچم
    انتخاب (منتخب مجموعہ)
    کلیات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    رنگ خوشبو روشنی (تین جلدیں)
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    11 جولائی 2001ء کو قتیل شفائی لاہور میں وفات پاگئے اور علامہ اقبال ٹائون کے کریم بلاک کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے
    منسوبات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    لاہور جہاں رہتے تھے وہاں سے گزرنے والی شاہراہ کو ان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جبکہ ہری پور میں ان کے رہائشی محلے کا نام محلہ قتیل شفائی رکھ دیا گیا۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ہمیں بھی نیند آ جائے گی ہم بھی سو ہی جائیں گے
    ابھی کچھ بے قراری ہے ستارو تم تو سو جاؤ

    جب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
    جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں

    آخری ہچکی ترے زانوں پہ آئے
    موت بھی میں شاعرانہ چاہتا ہوں

    یوں لگے دوست ترا مجھ سے خفا ہو جانا
    جس طرح پھول سے خوشبو کا جدا ہو جانا

    چلو اچھا ہوا کام آ گئی دیوانگی اپنی
    وگرنہ ہم زمانے بھر کو سمجھانے کہاں جاتے

    اف وہ مرمر سے تراشا ہوا شفاف بدن
    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    دل پہ آئے ہوئے الزام سے پہچانتے ہیں
    لوگ اب مجھ کو ترے نام سے پہچانتے ہیں

    دور تک چھائے تھے بادل اور کہیں سایہ نہ تھا
    اس طرح برسات کا موسم کبھی آیا نہ تھا

    ہم اسے یاد بہت آئیں گے
    جب اسے بھی کوئی ٹھکرائے گا

    یہ ٹھیک ہے نہیں مرتا کوئی جدائی میں
    خدا کسی کو کسی سے مگر جدا نہ کرے

    تھک گیا میں کرتے کرتے یاد تجھ کو
    اب تجھے میں یاد آنا چاہتا ہوں

    گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا
    لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

    لے میرے تجربوں سے سبق اے مرے رقیب
    دو چار سال عمر میں تجھ سے بڑا ہوں میں

    احباب کو دے رہا ہوں دھوکا
    چہرے پہ خوشی سجا رہا ہوں

    تم پوچھو اور میں نہ بتاؤں ایسے تو حالات نہیں
    ایک ذرا سا دل ٹوٹا ہے اور تو کوئی بات نہیں

    میرے بعد وفا کا دھوکا اور کسی سے مت کرنا
    گالی دے گی دنیا تجھ کو سر میرا جھک جائے گا

    گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
    ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں

    وہ میرا دوست ہے سارے جہاں کو ہے معلوم
    دغا کرے وہ کسی سے تو شرم آئے مجھے

    اچھا یقیں نہیں ہے تو کشتی ڈبا کے دیکھ
    اک تو ہی ناخدا نہیں ظالم خدا بھی ہے

    جیت لے جائے کوئی مجھ کو نصیبوں والا
    زندگی نے مجھے داؤں پہ لگا رکھا ہے

    یوں برستی ہیں تصور میں پرانی یادیں
    جیسے برسات کی رم جھم میں سماں ہوتا ہے

    کیا جانے کس ادا سے لیا تو نے میرا نام
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ سچ مچ ترا ہوں میں

    کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیں
    میرا نہیں تو دل کا کہا مان جائیے

    گنگناتی ہوئی آتی ہیں فلک سے بوندیں
    کوئی بدلی تری پازیب سے ٹکرائی ہے

    اب جس کے جی میں آئے وہی پائے روشنی
    ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا

    مجھ سے تو پوچھنے آیا ہے وفا کے معنی
    یہ تری سادہ دلی مار نہ ڈالے مجھ کو

    رہے گا ساتھ ترا پیار زندگی بن کر
    یہ اور بات مری زندگی وفا نہ کرے

    وہ دل ہی کیا ترے ملنے کی جو دعا نہ کرے
    میں تجھ کو بھول کے زندہ رہوں خدا نہ کرے

    حالات سے خوف کھا رہا ہوں
    شیشے کے محل بنا رہا ہوں

    ہم کو آپس میں محبت نہیں کرنے دیتے
    اک یہی عیب ہے اس شہر کے داناؤں میں

    یارو یہ دور ضعف بصارت کا دور ہے
    آندھی اٹھے تو اس کو گھٹا کہہ لیا کرو

    جو بھی آتا ہے بتاتا ہے نیا کوئی علاج
    بٹ نہ جائے ترا بیمار مسیحاؤں میں

    ابھی تو بات کرو ہم سے دوستوں کی طرح
    پھر اختلاف کے پہلو نکالتے رہنا

    حسن کو چاند جوانی کو کنول کہتے ہیں
    ان کی صورت نظر آئے تو غزل کہتے ہیں

    جس برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچھا ہے
    اس کو دفناؤ مرے ہاتھ کی ریکھاؤں میں

    نہ جانے کون سی منزل پہ آ پہنچا ہے پیار اپنا
    نہ ہم کو اعتبار اپنا نہ ان کو اعتبار اپنا

    رابطہ لاکھ سہی قافلہ سالار کے ساتھ
    ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ

    مفلس کے بدن کو بھی ہے چادر کی ضرورت
    اب کھل کے مزاروں پہ یہ اعلان کیا جائے

    سوکھ گئی جب آنکھوں میں پیار کی نیلی جھیل قتیلؔ
    تیرے درد کا زرد سمندر کاہے شور مچائے گا

    ستم تو یہ ہے کہ وہ بھی نہ بن سکا اپنا
    قبول ہم نے کیے جس کے غم خوشی کی طرح

    میں اپنے دل سے نکالوں خیال کس کس کا
    جو تو نہیں تو کوئی اور یاد آئے مجھے

    وہ تیری بھی تو پہلی محبت نہ تھی قتیلؔ
    پھر کیا ہوا اگر وہ بھی ہرجائی بن گیا

    کیا مصلحت شناس تھا وہ آدمی قتیلؔ
    مجبوریوں کا جس نے وفا نام رکھ دیا

    یوں تسلی دے رہے ہیں ہم دل بیمار کو
    جس طرح تھامے کوئی گرتی ہوئی دیوار کو

    آیا ہی تھا ابھی مرے لب پہ وفا کا نام
    کچھ دوستوں نے ہاتھ میں پتھر اٹھا لیے

    حوصلہ کس میں ہے یوسف کی خریداری کا
    اب تو مہنگائی کے چرچے ہیں زلیخاؤں میں

    شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
    ہم اسی آگ میں گم نام سے جل جاتے ہیں

    مانا جیون میں عورت اک بار محبت کرتی ہے
    لیکن مجھ کو یہ تو بتا دے کیا تو عورت ذات نہیں

    انگڑائی پر انگڑائی لیتی ہے رات جدائی کی
    تم کیا سمجھو تم کیا جانو بات مری تنہائی کی

    تمہاری بے رخی نے لاج رکھ لی بادہ خانے کی
    تم آنکھوں سے پلا دیتے تو پیمانے کہاں جاتے

    ترک وفا کے بعد یہ اس کی ادا قتیلؔ
    مجھ کو ستائے کوئی تو اس کو برا لگے

    اپنے لیے اب ایک ہی راہ نجات ہے
    ہر ظلم کو رضائے خدا کہہ لیا کرو

    ہم ان کے ستم کو بھی کرم جان رہے ہیں
    اور وہ ہیں کہ اس پر بھی برا مان رہے ہیں

    کس طرح اپنی محبت کی میں تکمیل کروں
    غم ہستی بھی تو شامل ہے غم یار کے ساتھ

    کیوں شریک غم بناتے ہو کسی کو اے قتیلؔ
    اپنی سولی اپنے کاندھے پر اٹھاؤ چپ رہو

    دشمنی مجھ سے کئے جا مگر اپنا بن کر
    جان لے لے مری صیاد مگر پیار کے ساتھ

    ثبوت عشق کی یہ بھی تو ایک صورت ہے
    کہ جس سے پیار کریں اس پہ تہمتیں بھی دھریں

    اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں سجا لے مجھ کو
    میں ہوں تیرا تو نصیب اپنا بنا لے مجھ کو

    یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
    کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے

    تھوڑی سی اور زخم کو گہرائی مل گئی
    تھوڑا سا اور درد کا احساس گھٹ گیا

    تیز دھوپ میں آئی ایسی لہر سردی کی
    موم کا ہر اک پتلا بچ گیا پگھلنے سے

    اپنی زباں تو بند ہے تم خود ہی سوچ لو
    پڑتا نہیں ہے یوں ہی ستم گر کسی کا نام

    قتیلؔ اب دل کی دھڑکن بن گئی ہے چاپ قدموں کی
    کوئی میری طرف آتا ہوا محسوس ہوتا ہے

    قتیل اپنا مقدر غم سے بیگانہ اگر ہوتا
    تو پھر اپنے پرائے ہم سے پہچانے کہاں جاتے

    رقص کرنے کا ملا حکم جو دریاؤں میں
    ہم نے خوش ہو کے بھنور باندھ لیا پاؤں میں

    تم آ سکو تو شب کو بڑھا دو کچھ اور بھی
    اپنے کہے میں صبح کا تارا ہے ان دنوں

    داد سفر ملی ہے کسے راہ شوق میں
    ہم نے مٹا دئے ہیں نشاں اپنے پاؤں کے

    زندگی میں بھی چلوں گا ترے پیچھے پیچھے
    تو مرے دوست کا نقش کف پا ہو جانا

    نکل کر دیر و کعبہ سے اگر ملتا نہ بت خانہ
    تو ٹھکرائے ہوئے انساں خدا جانے کہاں جاتے

    میں جب قتیلؔ اپنا سب کچھ لٹا چکا ہوں
    اب میرا پیار مجھ سے دانائی چاہتا ہے

    سوچ کو جرأت پرواز تو مل لینے دو
    یہ زمیں اور ہمیں تنگ دکھائی دے گی

    میں گھر سے تیری تمنا پہن کے جب نکلوں
    برہنہ شہر میں کوئی نظر نہ آئے مجھے

    بہ پاس دل جسے اپنے لبوں سے بھی چھپایا تھا
    مرا وہ راز تیرے ہجر نے پہنچا دیا سب تک

    نہ چھاؤں کرنے کو ہے وہ آنچل نہ چین لینے کو ہیں وہ بانہیں
    مسافروں کے قریب آ کر ہر اک بسیرا پلٹ گیا ہے

    صدمہ تو ہے مجھے بھی کہ تجھ سے جدا ہوں میں
    لیکن یہ سوچتا ہوں کہ اب تیرا کیا ہوں میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : . آغا نیاز مگسی

  • قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    قرون وسطی کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ عائشہ بنت یوسف

    عائشہ بنت یوسف باعونیہ مرشدہ( پیدائش سنہ 1460 ء وفات21 دسمبر 1516ءدمشق) اور صوفی شاعرہ تھیں، یہ قرون وسطیٰ کی پہلی خاتون صوفی شاعرہ تھیں۔ وہ بیسویں صدی کی دیگر خواتین کی بہ نسبت بجا طور پر سب سے زیادہ عربی کلام لکھنے والی خاتون ہیں۔ ان کی تحریروں میں ادبی صلاحیت، ان کے خاندان کا صوفیانہ رجحان صاف جھلکتا ہے۔ دمشق میں پیدا ہوئیں اور وہیں وفات پائیں حالانکہ کا ان آبائی اصلی وطن اردن کا ”باعون“ شہر ہے، اسی کی طرف نسبت کی وجہ سے باعونیہ کہا جاتا ہے۔

    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عائشہ باعونیہ کے والد یوسف (مولود 805/1402 قدس، متوفی 880/1475 دمشق) صفد، طرابلس، حلب اور دمشق کے قاضی القضاۃ تھے اور اپنے مشہور خاندان ”باعونی“ کے اہم رکن تھے۔ پندرہویں صدی عیسوی کے مشہور علما، فقہا اور شعرا میں شمار ہوتا تھا۔ عائشہ باعونیہ نے ابتدائی تعلیم و تربیت اپنے والد محترم اور خاندان کے دوسرے ذی علم حضرات سے حاصل کیا۔ ان سے قرآن، حدیث، فقہ اور شاعری پڑھی، آٹھ سال کی عمر سے پہلے ہی قرآن کو حفظ کر لیا تھا۔

    عائشہ نے صوفی جمال الدین اسماعیل ہواری اور ان کے خلیفہ محی الدین یحیی اورماوی سے ملاقات کی اور ان سے روحانی فیض حاصل کیا، دونوں مرشد پندرہویں اور سولہویں صدی کے مشہور اور عظیم مرشد تھے سنہ 1475 عیسوی میں عائشہ باعونیہ نے مکہ کا سفر کیا اور حج ادا کیا۔

    عائشہ باعونیہ کی شادی احمد بن محمد بن نقیب اشرف (متوفی 909/1503) سے ہوئی، جو دمشق کے مشہور علمی خاندان ”علید“ سے تھے۔ ان سے دو اولاد، ایک لڑکا عبد الوہاب اور ایک لڑکی برکت ہوئی۔

    قاہرہ میں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سنہ 919 ہجری مطابق 1513 عیسوی میں عائشہ اور ان کے بیٹے دمشق سے قاہرہ ہجرت کر گئے، پھر 923ھ/1517ء میں دمشق واپس آ گئے۔ مصر جانے کا مقصد بیٹے کے عملی میدان کی حفاظت کرنا تھا، راستے میں ”بلبیس“ کے قریب ڈاکوؤں کے گروہ نے انھیں لوٹ لیا اور سارا سامان جس میں عائشہ کی کتابیں بھی شامل تھیں سب کو چھین لیا۔ قاہرہ میں ماں اور بیٹے محمود بن محمد بن اجا کی ضیافت میں تھے، جو مملوکی سلطان الاشرف قانصوہ غوری کے خاص معتمد اور وزیر خارجہ تھے۔ ابن اجا نے علمی اور فکری حلقوں میں شامل کرنے کے لیے عائشہ کی بہت مدد کی، عائشہ نے ان کے لیے ایک تعریفی قصیدہ بھی تحریر کیا تھا۔ قاہرہ میں عائشہ نے قانون کی تعلیم حاصل کی، انھیں قانون کی تعلیم دینے اور شرعی قوانین (فتاوی) جاری کرنے کا اجازت نامہ (لائسنس) میں ملا تھا اور ایک فقیہہ کی حیثیت مل گئی۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سنہ 922ھ مطابق 1516ء میں سلطان الاشرف قانصوہ غوری کی حلب میں جنگ مرج دابق میں شکست کے بعد عائشہ، اپنے بیٹے، ابن اجا، شمس سفیری اور دوسرے علما کے ساتھ قاہرہسے رخصت ہو گئیں۔ یہ ان کی زندگی کا غیر معمولی حادثہ تھا۔ عائشہ باعونیہ دمشق واپس چلی گئیں، جہاں سنہ 923ھ مطابق 1517ء میں وفات ہوئی۔

    علمی کارنامے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عائشہ باعونیہ بیسویں صدی کی سب سے زیادہ لکھنے والی خاتون ہیں، تھامس ایمیل ہومرین کے مطابق عائشہ کے بیشتر کام ابھی تک نا معلوم ہیں، پھر بھی جو کام منظر عام پر آئے ہیں ان میں سب کچھ یہ ہیں:

    ۔ (1)دیوان الباعونیہ
    ۔ (2)درر الغائص فی بحر المعجزات و الخصائص
    ۔ (3)الفتح الحقی من فیح التلقی
    ۔ (4)الفتح المبین فی مدح الامین
    ۔ (5)الفتح القریب فی معراج الحبیب
    ۔ (6)فیض الفضل و جمع الشمل
    ۔ (7)فیض الوفا فی اسماء المصطفی
    ۔ (8)الاشارات الخفیہ فی منازل العالیہ
    ۔ (9)مدد الودود فی مولد المحمود
    ۔ (10)الملامح الشریفہ فی الآثار اللطیفہ
    ۔ (11)المورد الاہنی فی المولد الاسنی
    ۔ (12)المنتخب فی اصول الرتب
    ۔ (13)القول الصحیح فی تخمیس بردۃ المدیح
    ۔ (14)صلاۃ السلام فی فضل الصلاۃ و السلام
    ۔ (15)تشریف الفکر فی نظم فوائد الذکر
    ۔ (16)الزبدۃ فی تخمیس البردہ

  • معروف شاعر نجم آفندی کا یوم وفات

    معروف شاعر نجم آفندی کا یوم وفات

    ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور
    مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور

    نجم آفندی اردو کے نامور مرثیہ گو شاعر تھے۔ وہ اردو شاعری کے جدید اصناف شاعری میں نئے تجربوں کے لیے بھی شہرت رکھتے تھے۔

    نام اور خاندان
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    نجم آفندی کا اصل نام میرزا تجمل حسین تھا۔ وہ 1893ء میں آگرہ کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد بزم آفندی، دادا مرزا عباس علی ملیح، پردادا مرزا نجف علی بلیغ اور پردادا کے بھائی مرزا جعفر علی فصیح، سب شاعر تھے۔ مرزا جعفر علی فصیح کو حاجیوں کی خدمت کرنے پر سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آفندی کا خطاب ملا اور یہی اس خاندان کے ناموں کا حصہ بن گیا تھا۔

    کلام کی قدر دانی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    خاندانی احوال کے زیر اثر نجم کم عمری سے شاعری کرنے لگے۔ انھوں نے اپنی مشہور نظم در یتیم لکھنؤ میں سنائی تھی۔ اس نظم پر بولی لگائی گئی تھی اور سب سے زیادہ بولی لگانے والے راجا راولپنڈی نے اسے 5600 روپیوں میں خریدا تھا (جو 1910ء میں ایک چونکانے والی قیمت تھی)۔ رقم کی وصولی کے بعد نجم نے اسے یتیم خانے کے حوالے کر دیا تھا۔

    ترقی پسند تحریک کے وجود میں آنے سے پہلے ہی نجم ”کسان“، ”مزدور کی آواز“، ”ہماری عید“ جیسے موضوعات کو اپنے شاعرانہ کلام کا حصہ بنا چکے تھے نجم اپنی زندگی کے بعد کے ایام میں خالصتًا مذہبی شاعری اور مرثیہ نگاری کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا۔

    مجموعہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔
    نجم نے کئی مرثیے، نوحے، قصائد اور رباعیات قلم بند کیں جنھیں بعد میں ”کلیاتِ کائناتِ نجم“ کے نام سے دو جلدوں میں شائع کیا گیا تھا۔

    ہجرت اور انتقال
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    اپریل 1971ء میں نجم آفندی ہندستان سے ہجرت کرکے پاکستان چلے گئے۔ وہ کراچی میں بس گئے اور 21 دسمبر 1975ء کو کراچی ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ سخی حسن کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    ہستی کوئی ایسی بھی ہے انساں کے سوا اور
    مذہب کا خدا اور ہے مطلب کا خدا اور
    پھر ٹھہر گیا قافلۂ درد سنا ہے
    شاید کوئی رستے میں مری طرح گرا اور
    اک جرعۂ آخر کی کمی رہ گئی آخر
    جتنی وہ پلاتے گئے آنکھوں نے کہا اور
    منبر سے بہت فصل ہے میدان عمل کا
    تقریر کے مرد اور ہیں مردان وغا اور
    اللہ گلہ کر کے میں پچتایا ہوں کیا کیا
    جب ختم ہوئی بات کہیں اس نے کہا اور
    کیا زیر لب دوست ہے اظہار جسارت
    حق ہو کہ وہ ناحق ہو ذرا لے تو بڑھا اور
    دولت کا تو پہلے ہی گنہ گار تھا منعم
    دولت کی محبت نے گنہ گار کیا اور
    یہ وہم سا ہوتا ہے مجھے دیکھ کے ان کو
    سیرت کا خدا اور ہے صورت کا خدا اور

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    محبت کی وہ آہٹ پا نہ جائے
    اداؤں میں تکلف آ نہ جائے
    تری آنکھوں میں آنکھیں ڈال دی ہیں
    کریں کیا جب تجھے دیکھا نہ جائے
    کہیں خود بھی بدلتا ہے زمانہ
    زبردستی اگر بدلا نہ جائے
    محبت راہ چلتے ٹوکتی ہے
    کسی دن زد میں تو بھی آ نہ جائے
    وہاں تک دین کے ساتھی ہزاروں
    جہاں تک ہاتھ سے دنیا نہ جائے
    ترے جوش کرم سے ڈر رہا ہوں
    دل درد آشنا اترا نہ جائے
    کہاں تم درد دل لے کر چلے نجمؔ
    مزاج درد دل پوچھا نہ جائے

  • پاکستان کے قومی ترانہ اور شاہنامہ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری کا یوم وفات

    پاکستان کے قومی ترانہ اور شاہنامہ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری کا یوم وفات

    تشکیل و تکمیل کے فن میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
    نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں

    ابو الاثر حفیظ جالندھری پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور مقبول رومانی شاعر اور افسانہ نگار تھے جنہوں نے پاکستان کے قومی ترانہ کے خالق کی حیثیت سے شہرتِ دوام پائی۔ ملکہ پکھراج نے ان کی نظم ابھی تو میں جوان ہوں کو گا کر شہرت دی۔

    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    حفیظ جالندھری ہندوستان کے شہر جالندھر میں 14 جنوری 1900ء کو پیدا ہوئے۔ آزادی کے وقت 1947ء میں لاہور آ گئے۔ آپ نے تعلیمی اسناد حاصل نہیں کی، مگر اس کمی کو انہوں نے خود پڑھ کر پوری کیا۔ انھیں نامور فارسی شاعر مولانا غلام قادر بلگرامی کی اصلاح حاصل رہی۔ آپ نے محنت اور ریاضت سے نامور شعرا کی فہرست میں جگہ بنالی۔ حفیظ جالندھری پاک فوج میں ڈائریکٹر جنرل مورال، صدر پاکستان کے چیف ایڈوائزر اور رائٹرز گلڈ کے ڈائریکٹر کے منصب پر بھی فائز رہے۔

    ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    حفیظ جالندھری گیت کے ساتھ ساتھ نظم اور غزل دونوں کے قادرالکلام شاعر تھے۔ تاہم ان کا سب سے بڑا کارنامہ شاہنامہ اسلام ہے جو چار جلدوں میں شائع ہوا۔ اس کے ذریعہ انہوں نے اسلامی روایات اور قومی شکوہ کا احیا کیا جس پر انہیں فردوسی اسلام کا خطاب دیا گیا۔ حفیظ جالندھری کا دوسرا بڑا کارنامہ پاکستان کا قومی ترانہ ہے اس ترانے کی تخلیق کی وجہ سے وہ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔ حفیظ جالندھری نے یہ خوب صورت قومی ترانہ احمد جی چھاگلہ کی دھن پر تخلیق کیا تھا اور حکومت پاکستان نے اسے 4 اگست 1954ء کو پاکستان کے قومی ترانے کے طور پر منظور کیا تھا۔

    حفیظ جالندھری کی شاعری کی خوبی اس کی غنائیت ہے۔ وہ خود بھی مترنم تھے اس لیے انہوں نے ایسی لفظیات کا انتخاب کیا جو غنائیت کے پیکر پر پورے اترتے ہیں۔ غنائیت کا سبب ان کی گیت نگاری بھی ہے۔ انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے زمانے میں فوجی گیت لکھے تھے اور گیت کو بھی انہوں نے نئے پیکر عطا کیے۔ شاید اسی لیے آج تک حفیظ جالندھری کی شناخت ابھی تو میں جوان ہوں کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ بلا شبہ یہ ایک پر اثر گیت ہے کیوں کہ اس میں جو الفاظ استعمال کیے گئے ہیں وہ اپنی جگہ پر نگینے کی طرح جڑے ہوئے ہیں اور سامع کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ حفیظ کی غزلوں کا سرمایہ کافی ہے اور حفیظ خود کو غزل گو کہلوانا پسند کرتے تھے۔ انہوں نے غزل میں بہت سے نئے تجربات کیے۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سلیس زبان کا استعمال کیااور گرد و پیش کے واقعات کو اپنی غزلوں کا موضوع بنایا۔ ایک طرح سے انہوں نے غزل کو فطری پوشاک عطا کی۔ ان کے یہاں روایت سے بغاوت ملتی ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    حفیظ جالندھری کے شعری مجموعوں میں نغمہ بار، تلخابہ شیریں، سوزو ساز، افسانوں کا مجموعہ ہفت پیکر،گیتوں کے مجموعے ہندوستان ہمارا،پھول مالی، بچوں کی نظمیں اپنے موضوع پر ایک کتاب چیونٹی نامہ، شاہنامہِ اسلام 4جلد، بزم نہیں رزم، چراغِ سحر، تصویرِکشمیر، بہار کے پھول

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کے قومی ترانہ اور شاہنامہ اسلام کے خالق حفیظ جالندھری 21 دسمبر 1982ء کو لاہور پاکستان میں 82 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ وہ مینار پاکستان کے سایہ تلے آسودہ خاک ہیں۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔
    ارادے باندھتا ہوں سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
    کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ایسا نہ ہو جائے

    دوستوں کو بھی ملے درد کی دولت یا رب
    میرا اپنا ہی بھلا ہو مجھے منظور نہیں

    حفیظؔ اپنی بولی محبت کی بولی
    نہ اردو نہ ہندی نہ ہندوستانی

    دیکھا جو کھا کے تیر کمیں گاہ کی طرف
    اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی

    آنکھ کمبخت سے اس بزم میں آنسو نہ رکا
    ایک قطرے نے ڈبویا مجھے دریا ہو کر

    وفا جس سے کی بے وفا ہو گیا
    جسے بت بنایا خدا ہو گیا

    یہ ملاقات ملاقات نہیں ہوتی ہے
    بات ہوتی ہے مگر بات نہیں ہوتی ہے

    وفاؤں کے بدلے جفا کر رہے ہیں
    میں کیا کر رہا ہوں وہ کیا کر رہے ہیں

    دل کو خدا کی یاد تلے بھی دبا چکا
    کم بخت پھر بھی چین نہ پائے تو کیا کروں

    کوئی چارہ نہیں دعا کے سوا
    کوئی سنتا نہیں خدا کے سوا

    بے تعلق زندگی اچھی نہیں
    زندگی کیا موت بھی اچھی نہیں

    بھلائی نہیں جا سکیں گی یہ باتیں
    تمہیں یاد آئیں گے ہم یاد رکھنا

    دل لگاؤ تو لگاؤ دل سے دل
    دل لگی ہی دل لگی اچھی نہیں

    زندگی فردوس گم گشتہ کو پا سکتی نہیں
    موت ہی آتی ہے یہ منزل دکھانے کے لیے

    ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
    تم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے

    کوئی دوا نہ دے سکے مشورۂ دعا دیا
    چارہ گروں نے اور بھی درد دل کا بڑھا دیا

    ہم سے یہ بار لطف اٹھایا نہ جائے گا
    احساں یہ کیجئے کہ یہ احساں نہ کیجئے

    الٰہی ایک غم روزگار کیا کم تھا
    کہ عشق بھیج دیا جان مبتلا کے لیے

    ہاتھ رکھ رکھ کے وہ سینے پہ کسی کا کہنا
    دل سے درد اٹھتا ہے پہلے کہ جگر سے پہلے

    اب مجھے مانیں نہ مانیں اے حفیظؔ
    مانتے ہیں سب مرے استاد کو

    مری مجبوریاں کیا پوچھتے ہو
    کہ جینے کے لیے مجبور ہوں میں

    او دل توڑ کے جانے والے دل کی بات بتاتا جا
    اب میں دل کو کیا سمجھاؤں مجھ کو بھی سمجھاتا جا

    آنے والے جانے والے ہر زمانے کے لیے
    آدمی مزدور ہے راہیں بنانے کے لیے

    تشجیل و تکمیل فن میں جو بھی حفیظ کا حصہ ہے
    نصف صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں

    اے حفیظؔ آہ آہ پر آخر
    کیا کہیں دوست واہ وا کے سوا

  • معروف شاعر ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے کا یوم ولادت

    معروف شاعر ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے کا یوم ولادت

    ڈاکٹر منورؔ احمد کنڈے،عبدالغنی صراف کنڈے کے ہاں 20 دسمبر 1949ء کو قصبہ پیرمحل ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں پیدا ہوئے انہوں نے اے لیول اردو، کامرس ، اکائونٹنگ، بیچلرزساوئتھ ایشن سٹڈیز اینڈ اردولندن، ماسٹر آف ہومیوپیتھی لندن (M.Hom) سے تعلیم حاصل کی اور پیشے کے طور پرہومیوپیتھک ڈاکٹر تھے-

    ان کی پسندیدہ ادبی شخصیت:خواجہ الطاف حسین حالیؔ جن کی مسدس کی سحر انگیزی سے متاثر ہوکر میرا قیاس ہے شاعرِ مشرق کا قلم شکوہ جواب شکوہ لکھنے پر متحرک ہوا پسندیدہ غیر ادبی شخصیت ہومیوپیتھک طریقِ علاج کے بانی ڈاکٹر ہنی مین جن کی تحقیق و پیشکش کی بدولت دنیا کے کروڑوں انسان مستفید ہو رہے ہیں۔

    مرزا غالب نے بیدل کو اپنا معنوی استاد تسلیم کیا تھا۔ غالبؔ میر تقی میر کو اپنا پیش رو مانتے تھے۔ غالب کے یہاں ردّ ومقبول کے واقعات موجود ہیں۔ غالب کسی کی شخصیت کو قبول کر لیتے ہیں کسی کی شخصیت کو ردّ کر دیتے ہیں۔ اس کے پیچھے غالب کی نفسیات کار فرما ہے جسے احساسِ برتری اور احساس کمتری کہا جاتا ہے۔ غالب اپنے آپ کو سب سے بڑا شاعر بھی مانتے تھے اور اس کا اظہار بھی کرتے تھے مثلاً

    ہیں یوں تو زمانے میں سخن ور بہت اچھّے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور

    ہمارے عہد کے اہلِ قلم کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے آپ کو بڑا شاعر تسلیم کریں۔ یہ کوئی عیب نہیں، نہ ہی اسے تعلّی کہا جا سکتا ہے۔ یہ اپنے آپ کی اہمیت کو تسلیم کرانے کا ایک طریقہ ہے۔ ڈاکٹر منور احمد کنڈے کے بعض اشعار میں یہ احساس موجود ہے۔ وہ جب تنہائی میں بیٹھ کر اپنے آپ کے بارے میں غور وفکر کرتے ہیں تو انھیں خیال گزرتا ہے کہ وہ اپنے ہم عصروں میں کہیں نہ کہیں، کسی نہ کسی طریقے سے الگ سے ضرور ہیں۔ وہ ذرا دور سے، پردوں کے اس طرف سے۔ اس بات کا احساس ضرور دلاتے ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں۔

    جس کو ہوں دل میں چھپائے رات دن
    بس وہی موتی منورؔ اصل ہے

    اس کا مطلب ہے۔ دنیا کے سارے جواہر نقلی ہیں، سارے موتی پھیکے ہیں جو خزانہ میری تحویل میں اللہ تعالیٰ نے دے دیاہے ، اور جومیرے تصرف میں ہے وہی اصلی ہے، آب دار ہے، یہی وجہ ہے کہ شاعر اپنے موتی کی حفاظت کرتا ہے۔ یہی خیال شاعر کو اپنی قیمت بڑھانے کی ترغیب بھی دیتا ہے۔ شاعر کو اپنے مقابلے میں دنیا کی ہر کرنسی کم قیمت لگتی ہے :

    جہاں بھر کی کرنسی سے بالاتر ہوں میں
    فروخت کرنا ہو خود کو پانچ دس میں نہیں

    یہاں نفی اور اثبات کا معاملہ بھی ہے۔ کوئی اپنی ذات کا اثبات کرتا ہے تو خود بہ خود بہت سی چیزوں کی نفیہو جاتی ہے۔ یہ احساس اردو غزل کو غالب نے دیا ہے۔ غالب نے ہمیشہ اپنے آپ کو نایاب سمجھا۔ غالب آسانی سے کبھی کسی کو دستیاب نہیں ہوئے۔ منور احمد کے بعض اشعار میں ہمیں یہ احساس ملتا ہے۔ جب وہ کہتے ہیں:

    طے کرے فاصلہ وہ بھی تو کچھ
    ہم سے ملنا ہے تو اِس پار آئے

    اُس پار سے اِس پار آنا جواں مردی کا کام ہے۔ سمندر کو پار کرنا ۔ لہروں سے نبرد آزمائی، طوفانوں سے دو دو ہاتھ۔ ان خطروں سے بچ گئے تو ہم سے مل پاؤگے۔ ورنہ ممکن نہیں۔ ہم وہ گوہرِ نایاب ہیں جو آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے۔
    غالب نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے کئی طرح کے اشعار کہے ہیں۔ ایک شعر اس طرح بھی کہا ہے :

    بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
    ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

    تمنا کے دوسرے قدم کے متلاشی غالب کی نظر میں دنیا کبھی کبھی بہت حقیر ہو جاتی ہے۔ بچوں کا کھلونا، کھیلو اور توڑ دو۔ دنیا کی کوئی حقیقت نہیں۔ منور احمد نے بھی اس طرح کی راہ سے گزرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن اپنے زمانے اور مزاج کے لحاظ سے ذرا سا بدلا ہوا مزاج ہے ان کا :

    میرے ماضی کے کھلونے ہیں منورؔ یہ تو سب
    تم نے بس قصّہ سنا ہے خنجر و شمشیر کا

    عالم انسانیت کی ایک مکمل تاریخ سمٹ آئی ہے اس شعر میں۔ یہ خنجر، یہ شمشیر، یہ تیر وتفنگ ایسے کھلونوں کی مانند ہیں جن سے میں ماضی میں کھیل چکا ہوں۔ یہاں موضوعات میں یکسانیت ضرور ہے۔ لیکن اظہار کا طریقہ بدل چکا ہے۔ماضی کے اللہ والوں کی جوانمردیاں شاعر کے احساسات کو گھیرے ہوئے ہیں ، منورؔ ابوابِ تاریخ کے بحور میں ڈوب چکا ہے، الفاظ بدل چکے ہیں۔ اسلوب نگارش میں تبدیلی آ چکی ہے۔ غالب کا زمانہ اور تھا اور منور کا زمانہ اور ہے۔ غالب کی زبان دوسری تھی منور کی زبان دوسری ہے۔ لیکن دنیا کی حقیقت جو دوسو سال پہلیغالب کی نظروں میں تھی آج دو سو سال بعد بھی دنیا کی حقیقت منورؔ احمد کی نظروں میں کوئی قیمت نہیں رکھتی۔دلّی کے اسد اللہ خان غالب ؔنے کہا تھا ؎
    ہوتا ہے شب و روز ہمیشہ مرے آگے

    پیرمحل کے پیرِ سخنوراں منورؔ احمد کنڈے کہتے ہیں تم جو آج خنجر وشمشیر کی باتیں کرتے ہو۔ میرے بازو کل ان کھلونوں سے کھیل چکے ہیں۔

    مرزا غالب اور منور احمد کے درمیان یہاں موازنے کی ہرگز کوئی بات نہیں۔ دو صدیاں بیت چکی ہیں۔۔۔ دونوں نے اپنے اپنے زمانوں کی عکاسی کی ہے۔ دردمندی اور تفکر کا احساس ہر زمانے میں ہر آدمی کو ایک جیسا ہی ہوتا ہے۔ برتری کا جذبہ جب اذہان سے پھوٹ کر زبانوں پر آتا ہے تو ذرے بھی خود کو سورج کے پیکر میں ڈھال لیتے ہیں۔ انسان تو ان ذرّوں سے بالاتر ہے۔ منورؔ احمد کنڈے ایک شاعر کا نام ہے ، اورشاعر عام انسان سے بالاتر ہوتاہے۔ یہ حسن و عظمت خالقِ کائنات کی طرف سے بہت بڑا تحفہ ہوتا ہے۔

    نمونہ تحریر:
    ۔۔۔۔۔
    (نظم)
    ۔۔۔۔۔
    بُلبلے
    ۔۔۔۔۔
    تھا کنارہ وہ کسی تالاب کا
    محو تھا میں سوچ میں ڈوبا ہوا
    آ رہا تھا صاف پانی میں نظر
    بادلوں نے آسماں گھیرا ہوا
    پھر گھٹا سے اِک چمک پیدا ہوئی
    اور منور ہو گئی ساری زمیں
    ابر سے آئی گرج کی اِک صدا
    اور بارش کا سماں پیدا ہوا
    سطحِ پانی پر ابھرتے جا بجا
    بلبلے لگتے تھے کتنے خوشنما
    ایک لمحہ رُک کے مِٹ جاتے تھے وہ
    اِک پتے کی بات کہہ جاتے تھے وہ
    زندگی کی ہے حقیقت اس قدر
    کیوں نہیں آتا بشر کو یہ نظر
    موت کیا ہے اور کیا ہے زندگی
    ہم سے پاؤ اے منورؔ آگہی
    ہے ہماری اور تمھاری بات ایک
    اور قضا کے سامنے اوقات ایک
    بلبلے نے اک سبق سکھلا دیا
    رہ گیا میں سوچ میں ڈوبا ہوا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آسماں سے زمین پر اُترا
    لفظ روحِ حسین پر اُترا
    دورِ قدما سے اِرتقا پا کر
    ذہنِ انساں مشین پر اُترا
    ہم ہیں شاہد کہ دورِ حاضِر میں
    رنگِ حِرفت ہے چین پر اُترا
    مارِ قاتِل ہے جس کا شیدائی
    وہ سپیرے کی بین پر اُترا
    ہم تو محکوم لاالہ کے رہے
    اُن کا ایماں ہے تین پر اُترا
    ایک سجدہ دعا کا مسکن تھا
    مہ جبیں کی جبین پر اُترا
    جس نے پائی قلم کی سُلطانی
    وہ ہی دل کے یقین پر اُترا
    راز ہر صدق کا منورؔ جی
    ہے محمدؐ کے دین پر اُترا

    تصنیفات:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1) پنجابی شاعری کا پہلا مجموعہ
    ۔ ’باغاں دے وچکار‘ ۲۰۰۳ء
    ۔ (2) اردو شاعری کا پہلا مجموعہ
    ۔ 2005ء ’بیداردل‘
    ۔ (3)طاقِ دل
    ۔ (اردو شاعری کا مجموعۂ دوم)
    ۔ (4)پنجابی شاعری کا مجموعۂ دوم
    ۔ ’پینگ ہُلارے‘
    ۔ (5)ابرِ قبلہ (مذہبی منظومات
    ۔ 2010ء)
    ۔ (6)حرفِ منورؔ منظومات
    ۔ 400 صفحات 2010ء
    ۔ (7)لختِ دل
    ۔ اردو وپنجابی کلام
    ۔ 2011ء
    ۔ (8)بحرِ خاموش
    ۔ اردو کلام غزلیات ومنظومات
    ۔ 2012ء
    ۔ (9)اوراقِ شفاء ہومیوپیتھی
    ۔ 2012ء
    ۔ (10)رودِ وفا
    ۔ شعری مجموعہ (اردو)
    ۔ 2012ء
    ۔ (11)برگِ شفاء
    ۔ ہربل ہومیوپیتھی 2012ء
    ۔ انگریزی زبان میںہربلزم
    ۔ او رہومیوپیتھی پرعلی الترتیب
    ۔ چار اور پانچ جلدوں پر
    ۔ مشتمل کار سپانڈس کورس)
    ۔ (12)بامِ دل
    ۔ (اردو شاعری)
    ۔ (13) دُرِ منور
    ۔ (مذہبی مثنوی منظومات)
    ۔ (14)شبیہِ دل
    ۔ (زیرِ ترتیب)

    ایوارڈ:
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)فیلو آف دی چارٹرڈ سوسائٹی آف ہومیوپیتھی اینڈ نیچرل تھیراپیوٹکس لندن۔۔۔
    ۔ (2)پولنگ پرنسپیلیٹی سے متعدد اعزازات (نوبل بردہڈ ممبر شپ۔۔۔ نائٹ ہڈ۔
    ۔ (3)ڈاکٹر آنریز کوسا۔۔۔۔ اور مزید نوبیلیٹی ٹائٹلز

  • ہندوستان کے معروف شاعر سید ساغر مہدی بہرائچی

    ہندوستان کے معروف شاعر سید ساغر مہدی بہرائچی

    ہندوستان کے معروف شاعر سید ساغر مہدی بہرائچی 14؍جولائی 1936ء کو شہر بہرائچ کے محلہ سیدواڑہ قاضی پورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام سید خورشید حسن زیدی اور والدہ کا نام محترمہ رقیہ بیگم تھا۔ سید ساغرؔ مہدی کے والد کا انتقال آپ کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا۔ آپ کے بڑے بھائی سید اصغر مہدی نجمیؔ 1954ء میں کراچی پاکستان گئے اور وہیں بس گئے۔

    والد کی وفات کے بعد آپ کی کفالت کی ذمہ داری آپ کے ماموں سید ہدایت حسین زیدی قمرؔ نے لی اور بہن اور بھانجوں کی کفالت مذہبی ذمہ داری کے ساتھ نبھائی۔ ساغرؔ مہدی کے ماموں سید ہدایت حسین زیدی کو شعر و شاعری کا شوق تھا،ان کی رہائش گاہ پر اکژ ادبی محفلیں ہوتی رہتی تھی۔ جس کی وجہ سے ساغرؔ مہدی کو بھی شعری ذوق پیدا ہوا۔

    بچپن میں آپ کی والدہ میر انیسؔ کے مرثیے انہیں یاد کراتی تھی اور سنا بھی کرتی تھیں۔ جس کی وجہ سے ان طبعت میں ایک خاص قسم کی موزونیت اور سوزوگراز پیدا ہوا۔ 1958ء میں انٹر کا امتحان پاس کیا۔ 1967ء میں مقامی آزاد انٹر کالج سے تعلیم مکمل کی اوربعد میں مقامی مہاراج سنگھ انٹر کالج میں اردو کے استاد ہوئے۔

    ساغرؔ مہدی بہرائچی اپنے وقت میں ضلع بہرائچ میں سب سے زیادہ مشہور شاعر ہوئے۔ آپ کا ادبی حلقہ بہت وسیع تھا جس میں فراقؔ گورکھپوری، کیفیؔ اعظمی، ڈاکڑ عرفان عباسیؔ لکھنؤ، جمالؔ بابا، و صفیؔ بہرائچی، ڈاکٹر نعیم ﷲ خیالیؔ بہرائچی، شفیعؔ بہرائچی، محسنؔ زیدی، اثرؔ بہرائچی، حاجی لطیف نوری لطیفؔ بہرائچی، عمرؔ قریشی گورکھپوری، عبرتؔ بہرائچی، واصف القادری نانپاروی، ایمن چغتائی نانپاوری، محشرؔ نانپاروی، فناؔ نانپاروی، رفعتؔ بہرائچی، نعمتؔ بہرائچی، شاعرؔ جمالی، جون ایلیا، خماؔر بارہ بنکوی ملک زادہ منظورؔ احمد، پروفیسر احتشام حسین، رزمیؔ صاحب، اطہرؔ رحمانی وغیرہ سے آپ کے قریبی تعلوقات تھے۔

    ادبی کاوشیں
    ساغرؔ مہدی بہرائچی صاحب کے دو مجموعہ کلام کے دو شعری مجموعے ’حرف جاں‘ اور ’دیوانجلی‘ کے نام سے شائع ہو کر منظر عام پر آئے جبکہ نثری مضامین کا مجموعہ ’تحریر اور تحلیق‘ بھی شائع ہوا اور داد تحسین حاصل کی۔ دیوانجلی پر اردو اکادمی اتر پردیش اور صوبہ بہار نے انعام سے بھی نوازا تھا۔
    سید ساغرؔ مہدی 20؍دسمبر 1980ء کو بہرائچ میں انتقال کر گئے۔

    ویکیپیڈیا سے ماخوذ

    سید ساغرؔ مہدی بہرائچی کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    کچھ تو وفا کا رنگ ہو دست جفا کے ساتھ
    سرخی مرے لہو کی ملا لو حنا کے ساتھ

    ہم وحشیوں سے ہوش کی باتیں فضول ہیں
    پیوند کیا لگائیں دریدہ قبا کے ساتھ

    صدیوں سے پھر رہا ہوں سکوں کی تلاش میں
    صدیوں کی بازگشت ہے اپنی صدا کے ساتھ

    پرواز کی امنگ نہ کنج قفس کا رنج
    فطرت مری بدل گئی آب و ہوا کے ساتھ

    کیا پتھروں کے شہر میں دوکان شیشہ گر
    اک شمع جل رہی ہے غضب کی ہوا کے ساتھ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    طوفان تھم چکا ہے مگر جاگتے رہو
    کس وقت کی ہے کس کو خبر جاگتے رہو

    شعلے بجھا کے ہم سفرو مطمئن نہ ہو
    پوشیدہ راکھ میں ہے شرر جاگتے رہو

    اب روشنی میں بھی ہے اندھیروں کا مکر و فن
    کیا اعتبار شام و سحر جاگتے رہو

    ہر ذرۂ چمن میں ہے لعل و گہر کا رنگ
    لٹنے نہ پائیں لعل و گہر جاگتے رہو

    اب رات خود ہے اپنی سیاہی سے بیقرار
    آواز دے رہی ہے سحر جاگتے رہو

    ساغرؔ یہ غم کی رات یہ راہوں کے پیچ و خم
    دشمن بھی ہے شریک سفر جاگتے رہو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مرے غموں کا کسی نے خیال بھی نہ کیا
    کسی سے میں نے مگر عرض حال بھی نہ کیا

    میں دور تک اسے دیکھا کیا نہ جانے کیوں
    ٹھہر کے جس نے ذرا سا ملال بھی نہ کیا

    پھرا میں باغ میں مانند برگ آوارہ
    شمیم گل نے مگر پائمال بھی نہ کیا

    حریف ہو گئی دنیا یہ کیا کیا میں نے
    کسی ہنر میں کچھ ایسا کمال بھی نہ کیا

    شکست جام پہ میں پھوٹ پھوٹ کر رویا
    شکستہ شیشۂ دل کا خیال بھی نہ کیا

    مری سرشت میں وہ لا شریک تھا کہ مجھے
    خدائے صاحب اہل و عیال بھی نہ کیا

    ستم کشوں نے ہزاروں سوال سوچے تھے
    ستم شعار نے لیکن سوال بھی نہ کیا

  • معروف شاعرہ اور ادیبہ  فرزانہ پروین کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ اور ادیبہ فرزانہ پروین کا یوم پیدائش

    کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
    میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    معروف شاعرہ اور ادیبہ فرزانہ پروین مرحوم مشتاق انور اور امینہ خاتون کے ہاں کولکاتا میں 19 دسمبر 1999 پیدا ہوئیں، انہوں نے
    ایم-اے (اردو، بی-ایڈ اور ڈی-ایل-ایڈ تک تعلیم حاصل کی اور درس و تدریس کے شعبہ سے وابستہ رہیں انہوں نے 2017 میں باقاعدی شاعری کا آغاز کیا-

    ان کے پسندیدہ شاعر میر تقی میر، مرزا غالب، احمد فراز، فیض احمد فیض، پروین شاکراور احمد کمال حشمی، خورشید طلب ہیں ان کا مشغلہ شعری و نثری کتب کا مطالعہ کرنا، سیر و تفریح کرنا، کلاسیکی شعرا کی غزلیں اور پرانے گانے سننا ہے-

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    پانے کا ذکر کیا کہ گنوانا بہت ہوا
    دل اس کی بے رخی کا نشانہ بہت ہوا
    خوابوں کی گٹھری لاد کے کب تک جئیں گے ہم
    پلکوں پہ ان کا بار اٹھانا بہت ہوا
    ہوتا ہے درد، جب کبھی آ جائے اس کا ذکر
    گو زخمِ دل ہمارا پرانا بہت ہوا
    مجھ کو نہیں قبول تمہارا کوئی جواز
    اب روز روز کا یہ بہانہ بہت ہوا
    اوروں کے درد و غم کا پتا چل گیا ہے نا
    اب تو ہنسو کہ رونا رلانا بہت ہوا
    تعبیر چاہیے مجھے، تدبیر کیجئے
    آنکھوں کو خواب واب دکھانا بہت ہوا
    فرزاؔنہ کوئی بات غزل میں نئی کہو
    ذکرِ وصال و ہجر پرانا بہت ہوا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    میں منتظر ہوں، تُو کر ہجر کا گِلہ تو سہی
    گزارے کیسے شب و روز یہ بتا تو سہی
    میں ہم قدم ہی نہیں ہم سفر بھی ہوں تیری
    میں اپنا ہاتھ بڑھاؤں گی لڑکھڑا تو سہی
    پگھل نہ جاؤں ترے جذبوں کی تپش سے میں
    نگاہیں اپنی مرے چہرے سے ہٹا تو سہی
    لحاظ پچھلے تعلق کا اس نے کچھ تو کیا
    مری صدا پہ وہ پل بھر کو ہی رکا تو سہی
    میں اپنے شعروں کے پیکر میں ان کو ڈھالوں گی
    تو اپنا حالِ غمِ دل کبھی سنا تو سہی
    طلب نہیں نئے قول و قرار کی مجھ کو
    کیا تھا مجھ سے جو وعدہ کبھی، نبھا تو سہی
    میں کیسے کہہ دوں کہ الفت میں کچھ نہیں پایا
    ملا نہ وہ، نہ سہی، اس کا غم ملا تو سہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    کوئی بھی یہاں ہوش سے بیگانہ نہیں ہے
    اس دور میں دیوانہ بھی دیوانہ نہیں ہے”
    تم یاد تو آتے ہو مگر آتے نہیں ہو
    یہ طور کسی طرح شریفانہ نہیں ہے
    ہے دور تلک پھیلا ہوا شورِ خموشی
    اس دل سے بڑا کوئی بھی ویرانہ نہیں ہے
    گہرائی کا اندازہ نہیں سطح سے ممکن
    جذبات کو جو ناپے وہ پیمانہ نہیں ہے
    اے شمع دوانے ترے ہیں کتنے پتنگے
    ہو جائے جو قربان وہ پروانہ نہیں ہے
    اندازِ سخاوت مرا شاہانہ ہے لیکن
    اندازِ طلب اُس کا فقیرانہ نہیں ہے
    دریافت کیا میں نے کہ ہے کیوں یہ اداسی
    لوگوں نے کہا بزم میں فرزاؔنہ نہیں ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    لفظوں کے جال میں کیوں الجھا ہے نادان ہے کیا
    اذن ملنا غمِ دل کہنے کا، آسان ہے کیا
    کسی کی یاد مرے دل میں اذاں دیتی ہے
    میرے دل میں جو بسا ہے وہ مسلمان ہے کیا
    آگ لگتی ہے تو ہوتا ہے دھواں بھی ہر سو
    اب تلک میری محبت سے وہ انجان ہے کیا
    سارے زخموں کو ہرے کرتا ہے اک تیرا خیال
    یاد تیری مرے زخموں کی نگہبان ہے کیا
    زخم اب کوئی نیا دیتا نہیں ہے مجھ کو
    بے وفا اپنی جفاؤں پہ پشیمان ہے کیا
    آشنائی کی جھلک اس کی نگاہوں میں نہیں
    آنے والے کسی خطرے کا یہ امکان ہے کیا
    ایک اک پل یہ جدائی کا ہے صدیوں پہ محیط
    اور اس طرح سے جینا کوئی آسان ہے کیا
    درد اتنا ترے لہجے میں کہاں سے آیا
    تیرے کمرے میں کہیں میر کا دیوان ہے کیا
    آندھی سی اٹھتی ہے فرزاؔنہ کے دل میں ہر پل
    اس کے سینے میں بھی برپا کوئی طوفان ہے کیا

  • رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی شاعر

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی شاعر

    آخری شب دید کے قابل تھی بسمل کی تڑپ
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا

    رام پرساد بسمل ہندوستان کے مجاہد آزادی اورانقلابی 11 جون 1897ء کو اتر پردیش کےگاؤں شاہ جہان پور میں پیدا ہوئے رام پرساد بسمل ہندوستان کے ایک انقلابی اور معروف مجاہد آزادی تھے نیز وہ معروف شاعر، مترجم، ماہر السنہ، مورخ اور ادیب بھی تھے ہندوستان کی آزادی کے لیے ان کی کوششوں کو دیکھ کر انگریزوں نے انہیں خطرہ جانتے ہوئے پھانسی کی سزا دے دی تھی۔

    وہ کانگریس کے رکن تھے اور ان کی رکنیت کے حوالے سے کانگریسی رہنما اکثر بحث کرتے تھے، جس کی وجہ بسمل کا آزادی کے حوالے سے انقلابی رویہ تھا، بسمل کاکوری ٹرین ڈکیتی میں شامل رہے تھے، جس میں ایک مسافر ہلاک ہو گيا تھا۔

    بسمل ان کا اردو تخلص تھا جس کا مطلب مجروح (روحانی طور پر ) ہے۔ بسمل کے علاوہ وہ رام اور نا معلوم کے نام سے بھی مضمون لکھتے تھے اور شاعری کرتے تھے۔ انہوں نے سن 1916ء میں 19 سال کی عمر میں انقلابی راستے میں قدم رکھا اور 30 سال کی عمر میں پھانسی چڑھ گئے۔

    11 سال کی انقلابی زندگی میں انہوں نے کئی کتابیں لکھیں اور خود ہی انہیں شائع کیا۔ ان کتابوں کو فروخت کرکے جو پیسہ ملا اس سے وہ ہتھیار خریدا کرتے اور یہ ہتھیار وہ انگریزوں کے خلاف استعمال کیا کرتے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں، جن میں 11 کتابیں ہی ان زندگی کے دور میں شائع ہوئیں۔ برطانوی حکومت نے ان تمام کتابوں کو ضبط کر لیا۔

    بنكم چندر چٹوپادھیائے نوشتہ وندے ماترم کے بعد رام پرساد بسمل کی تخلیق سرفروشی کی تمنا نے کارکنانِ تحریکِ آزادی میں بہت مقبولیت پائی۔

    بسمل ان کا تخلص تھا بسمل کے علاوہ رام اور نامعلوم کے نام سے مضمون وغیرہ لکھتے تھےرام پرساد کو 30 سال کی عمر میں 19 دسمبر 1927ء کو برطانوی حکومت نے گورکھپور جیل میں پھانسی دے دی۔

    كاكوری سانحہ کا مقدمہ لکھنؤ میں چل رہا تھا۔ پنڈت جگت نارائن ملا سرکاری وکیل کے ساتھ اردو کے شاعر بھی تھے۔ انہوں نے ملزمان کے لئے ” ملازم ” لفظ بول دیا۔ پھر کیا تھا، پنڈت رام پرساد بسمل نے جھٹ سے ان پر یہ چٹیلی پھبتی کسی:

    ملازم ہم کو مت کہئے، بڑا افسوس ہوتا ہے
    عدالت کے ادب سے ہم یہاں تشریف لائے ہیں
    پلٹ دیتے ہیں ہم موج حوادث اپنی جرات سے
    کہ ہم نے آندھیوں میں بھی چراغ اکثر جلائے ہیں

    جب بسمل کو شاہی كونسل سے اپیل مسترد ہو جانے کی اطلاع ملی تو انہوں نے اپنی ایک غزل لکھ کر گورکھپور جیل سے باہر بھجوائی

    مٹ گیا جب مٹنے والا پھر سلام آیا تو کیا !
    دل کی بربادی کے بعد انکا پیام آیا تو کیا !

    مٹ گئیں جب سب امیدیں مٹ گئے جب سب خیال ،
    اس گھڑی گر نام اور لیکر پیام آیا تو کیا !

    اے دل نادان مٹ جا تو بھی کوئے یار میں ،
    پھر میری ناکامیوں کے بعد کام آیا تو کیا !

    کاش! اپنی زندگی میں ہم وہ منظر دیکھتے ،
    یوں سرے تربت کوئی محشرخرام آیا تو کیا !

    آخری شب دید کے قابل تھی ‘بسمل’ کی تڑپ ،
    صبح دم کوئی اگر بالائے بام آیا تو کیا !

  • بلوچستان کی دبنگ دیبہ، افسانہ بگار، ناول  نویس اور شاعرہ فرحین چوہدری

    بلوچستان کی دبنگ دیبہ، افسانہ بگار، ناول نویس اور شاعرہ فرحین چوہدری

    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا ہے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فرحین چوہدری صاحبہ ایک دبنگ قسم کی ممتاز پاکستانی ادیبہ، افسانہ بگار، ناول نویس ، اسکرپٹ رائٹر ، سفر نامہ نگار اور شاعرہ ہیں جن کی شہرت بیرون ممالک تک پھیلی ہوئی ہے۔ وہ 19 دسمبر 1960 کو ، کوئٹہ بلوچستان میں پیدا ہوئیں جہاں ان کےوالد انور مبشر صاحب ایک بینک آفیسر کی حیثیت سے تعینات تھے۔ ان کی مادری زبان ہندکو ہے مگر وہ اردو، پنجابی، انگریزی اور فارسی زبانیں روانی سے بولتی ہیں-

    فرحین چوہدری کا اصل نام شہابہ انور ہے شادی کے بعد شہابہ گیلانی بنیں لیکن پی ٹی وی کراچی سینٹر کے ڈائریکٹر قاسم جلالی نے ان کا نام شہابہ انور سے تبدیل کر کے فرحین چوہدری رکھ دیا حالانکہ فرحین چوہدری بننے سے قبل ان کا بہت بڑا مواد شہابہ انور اور شہابہ گیلانی کے نام سے چھپ چکا ہے۔ فرحین چوہدری نے اسلام آباد کی قائد اعظم یونیورسٹی سے انٹر نیشنل ریلیشنز میں ایم اے کر رکھا ہے۔

    انہوں نے دوران تعلیم 7 سال کی عمر سے ہی اپنے ادبی سفر کا آغاز کر دیا۔ وہ بچپن سے اب تک ادب تخلیق کر رہی ہیں ۔افسانہ ، شاعری ، خاکے ، کالم نگاری اور سکرپٹ میں انہوں نے سخت محنت کی بدولت قومی اور بین الاقوامی سطح پر ایک منفرد مقام حاصل کر لیا ہے۔ لٹریری آرٹ اور کلچرل سنںڈیکیٹ کی بانی چئرپرسن کے طور پر بھی گزشتہ 12 سال سے ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں پیش پیش رہیں ۔

    وہ ممتاز مفتی اور قدرت اللہ شہاب جیسی دیوقامت ادبی اور روحانی شخصیات کے بہت قریب رہی ہیں اور ان کی تنظیم” رابطہ” کی پہلی کم عمر ترین رکن اور بعد میں خاتون سیکریٹی رہیں۔ وہ” حلقہ ارباب ذوق” کی دوسری خاتون سیکریٹری بھی منتخب ہوئیں۔ فرحین چوہدری نے سارک ممالک میں کئی سال تک ادبی و ثقافتی طائفوں کی سربراہی کرنے صوفی کانفرنسز کے سیشن کی صدارت کرنے کا بھی اعزاز حاصل کیا ہے 2013 میں سنگارپور میں منعقد ہونے والی عالمی کانفرنس میں پہلی خاتون پاکستانی لکھاری کی حیثیت سے شرکت کی اور ” جنوبی ایشیا میں خواتین لکھاری اور ان کے موضوعات” کے عنوان سے انگریزی میں مقالہ پڑھا ۔

    لوک ورثہ میں پروگرام ایگزیکٹو ، مین ہیٹن انٹرنیشنل میں ڈائرکٹر پروڈکشن، ایورنیو کانسیپٹ میں ڈائرکٹر پروڈکشن اور ہنجاب اور سٹار ایشیا ٹی وی چینل کی سٹیشن ہیڈ اسلام آباد کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکی ہیں۔ ۔ پی ٹی وی کے لئے کئی مشہور سیریل سیریز اور ٹیلی فلمز لکھیں ۔ جن میں دام رسائی ، ماٹی کی گڑیا ، اشتہار لگانا منع ہے ، چاند میرا بھی تو ہے ، خوشبو ، خواب جو د یکھے آنکھوں نے وغیرہ شامل ہیں ۔

    "پانی پہ نام” سیریل لکس سٹائل انٹرنیشنل ایوارڈ کے لئے بھی نامزد ہوا تھا۔ آئی ایس پی آر اور آئی او ایم کے لئے ڈاکومنٹریز کے علاوہ بھی کئی ڈاکومنٹریز اور ٹی وی پروگرامز بطور ڈائرکٹر بنائے ۔ چار افسانوی مجموعے ، سچے جھوٹ آدھا سچ میٹھا سچ ، شوگر کوٹڈ شعری مجموعہ، سورج پہ دستک اور یاداشتوں کی کتاب ، "مفتی جی اور میں ” چھپ چکی ہیں ۔

    2013 میں سارک لٹریری اور کلچرل ایوارڈ 2019 ممتاز مفتی گولڈ میڈل برائے ادب 2022 گولڈ میڈل منجانب امن کمیٹی برائے بین المذاہب ہم آہنگی گورنمنٹ آف پاکستان کی جانب سے نوازا گیا ۔ اس کے علاوہ 23 ایوارڈ مختلف اداروں اور تنظیموں کی جانب سے ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں دیے گئے ان کی 4 نئی تصانیف جلد منظر عام پر آنے والی ہیں۔ فرحین صاحبہ گزشتہ طویل عرصے سے اسلام آباد میں مقیم ہیں ان کے دو بیٹے ہیں اور دونوں شادی شدہ ہیں۔ ان کے بڑے فرزند مسقط اومان میں مقیم ہیں جبکہ ان کے چھوٹے فرزند ان کے ساتھ اسلام آباد پاکستان میں مقیم ہیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نمونہ کلام

    ہم سادہ دل تھے لوگ سکھی
    ہمیں دھوکہ دے گئے لوگ سکھی

    ہم ہنس کر بازی ہار گئے
    کیوں جیت بناتے روگ سکھی

    جو راہ ہمارا حصہ تھی
    اس راہ میں پڑگئے لوگ سکھی

    یہ جیون کھیل تماشا ہے
    ہمیں لینے پڑ گئے جوگ سکھی

    خود اپنے آپ کو مار دیا
    پھر ہم نے منایا سوگ سکھی

    اب کیا پرواہ کس حال میں ہیں
    اب کیا کہتے ہیں لوگ سکھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا یے
    مگر ایڑی سے میری معجزہ باندھا نہیں ہے

    مجھ میں پھیلے ہوئے صحرائوں کی وسعت ہے عجب
    ایک درویش کی مٹھی میں سما جاتے ہیں

    وہاں کاغذوں کے گھر تھے
    جہاں آگ جل رہی تھی

    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی

  • جین آسٹن:ایک پادری کی لڑکی کی ادبی کہانی

    جین آسٹن:ایک پادری کی لڑکی کی ادبی کہانی

    پیدائش:16 دسمبر 1775ء
    وفات:18 جولا‎ئی 1817ء
    ونچیسٹر
    مدفن:ونچیسٹر کیتھیڈرل
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:مملکت برطانیہ عظمی
    مادری زبان:انگریزی
    کارہائے نمایاں:تکبر اور تعصب، شعور و احساس

    جین آسٹن(16دسمبر 1775ء – 18جولائی 1817ء) انگریزی کے عظیم ناول نگاروں میں سے ایک، موجودہ دور کے بعض نقادوں کے نزدیک اس کے ناول ”پرائڈ اینڈ پریجوڈس“ کا شمار دنیا کے دس عظیم ناولوں میں کیا جا سکتا ہے۔
    سوانح
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    جین ایک پادری کی لڑکی تھی۔ اپنی زندگی کے ابتدائی 25 سال اس نے ہیمپ شائر میں اپنے باپ کے ساتھ گرجا میں گزارے۔ یہیں اس نے اپنے تین مشہور ناول تکبر و تعصب (Pride and Prejudice)، شعور و احساس (Sense and Sensibility) اور نارتھینجر ایبے (Northanger Abbey) لکھے جو بہت بعد میں شائع ہوئے۔ باپ کے انتقال کے بعد پورا خاندان ہمپ شائر میں چاٹن کاٹیج منتقل ہو گیا۔ آخر عمر تک جین یہیں رہی۔ ایک پادری کی لڑکی کے قلم سے ایسی ناول نگاری اس دور کے سماج کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔ اس لیے یہ ناول لکھنے کے کافی عرصہ بعد چھپے اور وہ بھی فرضی نام سے البتہ قریبی دوست احباب کو اس کا علم تھا۔ اس کا ناول نارتھینجر ایبے مسز ریڈ کلف کے اسکول کے رومانوں پر ایک نہایت پر لطف اور طنزیہ ناول ہے جس کا مسودہ 1803ء میں صرف دس پاؤنڈ میں فروخت ہوا تھا۔ جین نے ان ناولوں پر خاص طور سے ان کی زبان پر کافی محنت کی تھی لیکن اس کی زندگی میں اسے کوئی شہرت نہ ملی۔ اس کے سارے ناول صوبائی سماج میں رہنے والے شرفا کے اطراف گھومتے ہیں۔ اکثر قصوں میں شادی کے قابل لڑکیوں کے لیے شوہر کی تلاش اصل موضوع ہے۔ جین اپنی اعلیٰ نثر کے لیے مشہور ہے۔ وہ اپنے ناولوں میں کرداروں کو شطرنج کے مہروں کی طرح بڑی چابک دستی کے ساتھ گھماتی ہے۔ اخلاقی قدریں بڑی گہری ہیں۔ پلاٹ میں ہلکا طنز ومزاح ہے۔ وہ بیوقوف، بر خود غلط سیدھے سادے لوگوں کا خوب مذاق اڑاتی ہے۔ اس کا شمار انگریزی زبان کے بڑے ناول نگاروں میں ہوتا ہے۔ اس کی تصنیفات الگ الگ مجموعے کی شکل میں بھی چھپتی رہتی ہیں۔ اس کی سوانح حیات بھی شائع ہوئی ہے۔
    ایک نیلامی میں جین آسٹن کی ہاتھ سے لکھی ہوئی دستاویزات 993250 پاؤنڈ میں فروخت ہوئی ہیں۔
    تصنیفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تکبر و تعصب (Pride and Prejudice)
    شعور و احساس (Sense and Sensibility)
    مینزفیلڈ پارک (Mansfield Park)
    ایما (Emma)
    نارتھینجر ایبے (Northanger Abbey)
    ترغیب (Persuasion)