Baaghi TV

Tag: ادب

  • معروف شاعرہ امیتا پرسورام کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ امیتا پرسورام کا یوم پیدائش

    تو جتنا بھی انہیں اپنا سمجھ لے
    سیاسی ہستیاں تیری نہ میری

    معروف شاعرہ امیتا پرسورام کا قلمی نام امیتا پرسو رام میتا ہے امیتا 15دسمبر 1955ء میں پیدا ہوئیں-

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    شدت شوق سے افسانے تو ہو جاتے ہیں
    پھر نہ جانے وہی عاشق کہاں کھو جاتے ہیں
    مجھ سے ارشاد یہ ہوتا ہے کہ سمجھوں ان کو
    اور پھر بھیڑ میں دنیا کی وہ کھو جاتے ہیں
    درد جب ضبط کی ہر حد سے گزر جاتا ہے
    خواب تنہائی کے آغوش میں سو جاتے ہیں
    بس یوں ہی کہتے ہیں وہ میرے ہیں میرے ہوں گے
    اور اک پل میں کسی اور کے ہو جاتے ہیں
    ہم تو پابند وفا پہلے بھی تھے آج بھی ہیں
    آپ ہی فاصلے لے آئے تو لو جاتے ہیں
    کوئی تدبیر نہ تقدیر سے لینا دینا
    بس یوں ہی فیصلے جو ہونے ہیں ہو جاتے ہیں
    کچھ تو احساس محبت سے ہوئیں نم آنکھیں
    کچھ تری یاد کے بادل بھی بھگو جاتے ہیں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بن گئے دل کے فسانے کیا کیا
    کھل گئے راز نہ جانے کیا کیا
    کون تھا میرے علاوہ اس کا
    اس نے ڈھونڈے تھے ٹھکانے کیا کیا
    رحمت عشق نے بخشے مجھ کو
    اس کی یادوں کے خزانے کیا کیا
    آج رہ رہ کے مجھے یاد آئے
    اس کے انداز پرانے کیا کیا
    رقص کرتی ہوئی یادیں ان کی
    اور دل گائے ترانے کیا کیا
    تیرا انداز نرالا سب سے
    تیر تو ایک نشانے کیا کیا
    آرزو میری وہی ہے لیکن
    اس کو آتے ہیں بہانے کیا کیا
    راز دل لاکھ چھپایا لیکن
    کہہ دیا اس کی ادا نے کیا کیا
    دل نے تو دل ہی کی مانی میتاؔ
    عقل دیتی رہی طعنے کیا کیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    محبت مہرباں تیری نہ میری
    مکمل داستاں تیری نہ میری
    گنوا دی عمر جس کو جیتنے میں
    وہ دنیا میری جاں تیری نہ میری
    خدا جانے ہے کس کا درد کتنا
    یہ سانجھی سسکیاں تیری نہ میری
    ہیں نا انصافیاں ہر سمت لیکن
    کھلی اب تک زباں تیری نہ میری
    بچا ہے اور نہ کوئی بچ سکے گا
    غموں کی آندھیاں تیری نہ میری
    تو جتنا بھی انہیں اپنا سمجھ لے
    سیاسی ہستیاں تیری نہ میری
    صحافت کو خریدا اہل زر نے
    رہی اب سرخیاں تیری نہ میری
    اداکاری ریا کاری دکھاوا
    حقیقت کی زباں تیری نہ میری

  • ڈاکٹرغلام علی یاسر کا یوم پیدائش

    ڈاکٹرغلام علی یاسر کا یوم پیدائش

    ہمیں لکھنا ہے زمیں والوں کے غم کا نوحہ
    آسمانوں سے کسی روز قلم اتریں گے

    ڈاکٹرغلام علی_یاسر 13؍دسمبر 1976ء کو گوجرانوالہ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام حبیب حیدر تھا۔ انہوں نے عمر کے ابتدائی سولہ سال گوجرانوالہ میں ہی گذارے اور وہ 1994ء میں اسلام آباد چلے گئے۔ علی یاسر نے پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ایم اے (اردو) کی ڈگری حاصل کی اور پھر علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے اردو ادب میں ایم فل اور پھر ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

    علی یاسر نے 1990ء میں شاعری کا آغاز کیا اور ابتدا میں اپنے دادا امیر علی ساتھی سے اصلاح لی۔ ان کی تعلیمی سرگرمیاں بھی اردو کے حوالوں سے جاری رہیں اور یوں ان کا ادبی ذوق اور مہارت بڑھتی رہی۔ انہوں نے ادبی حلقوں میں اپنی مضبوط پہچان اور جدا رنگ قائم کیا۔ علی یاسر نے ادب کی سرپرستی کے لیے قائم حکومتی ادارے اکادمی ادبیات میں ملازمت اختیار کی اور یوں نہ صرف ملک بھر کے ادبی حلقوں سے وابستہ ہو گئے بلکہ شعر و ادب کی خدمت کا بیڑا بھی اٹھایا۔

    وہ اکادمی ادبیات میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر مامور رہے۔شاعری میں اپنی پہچان رکھنے والے علی یاسر میڈیا سے بھی وابستہ رہے اور ریڈیو اور ٹی وی کے پروگرام میں شریک بھی ہوتے اور میزبانی بھی کرتے رہے۔ وہ پاکستان ٹیلی ویژن، ریڈیو پاکستان اور علامہ اقبال یونیورسٹی ایف ایم ریڈیو پر کئی پروگرامز کے میزبان رہے۔

    انہوں نے پی ٹی وی کے لیے بہت سی دستاویزی فلمیں، اسکرپٹس اور نغمے لکھے۔ بطور مترجم انہوں نے انگریزی اور پنجابی سے اردو میں تراجم کیے جن میں ”چین کی محبت کی نظمیں“ اور ”نوبل لیکچر“ وغیرہ شامل ہیں۔ علی یاسر علامہ اقبالؔ یونیورسٹی سے جُز وقتی استاد کے طور پر بھی وابستہ تھے۔

    علی یاسر تواتر سے مشاعروں میں شریک ہوتے تھے اور مشاعروں کی نظامت بھی کرتے تھے۔ وہ پاکستان کے مختلف شہروں میں ادبی محافل اور مشاعروں میں شرکت کے علاوہ دبئی، ابو ظہبی اور نئی دہلی میں مشاعروں میں بھی شریک ہو ئے۔ ”ارادہ“ کے نام سے علی یاسر کی غزلوں کا مجموعہ 2007ء میں منظر عام پر آیا جبکہ 2016ء میں ان کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ ”غزل بتائے گی“ کے عنوان سے شائع ہوا۔

    علی یاسر نے 2008ء اور 2010ء میں اہلِ قلم ڈائری کو مرتب کیا۔ ”کلیاتِ منظور عارف“ اور ”اردو غزل میں تصورِ فنا و بقا“ کے عنوانات سے کتابیں زیرِ طبع ہیں۔ وہ اپنی نعتیں اور نیا مجموعہء غزل بھی مرتب کرنے میں منہمک تھے لیکن موت نے مہلت نہ دی۔

    ڈاکٹر علی یاسرؔ 17؍فروری 2020ء کو برین ہیمرج کے سبب اسلام آباد میں وفات پا گئے اور اپنے آبائی علاقے راہوالی ( گوجرانوالہ) میں مدفون ہوئے۔

    کچھ اس طرح وہ دعا و سلام کر کے گیا
    مری طرف ہی رخ انتقام کر کے گیا

    جہاں میں آیا تھا انساں محبتیں کرنے
    جو کام کرنا نہیں تھا وہ کام کر کے گیا

    اسیر ہوتے گئے بادل نا خواستہ لوگ
    غلام کرنا تھا اس نے غلام کر کے گیا

    جو درد سوئے ہوئے تھے وہ ہو گئے بیدار
    یہ معجزہ بھی مرا خوش خرام کر کے گیا

    ہے زندگی بھی وہی جو ہو دوسروں کے لئے
    وہ محترم ہوا جو احترام کر کے گیا

    یہ سرزمیں ہے جلال و جمال و عظمت کی
    ہے خوش نصیب یہاں جو قیام کر کے گیا

    ہے کون شاعر خوش فکر کون ہے فن کار
    غزل بتائے گی اس میں نام کر کے گیا

    اثر ہوا نہ ہوا بزم پر علی یاسرؔ
    کلام کرنا تھا میں نے کلام کر کے گیا

    دور کرنے کو تری زلف کا خم اتریں گے
    آسمانوں کے ستارے کوئی دم اتریں گے

    حوصلہ اور ذرا حوصلہ اے سنگ بدست
    وقت آئے گا تو خود شاخ سے ہم اتریں گے

    ایک امید پہ تعمیر کیا ہے گھر کو
    اس کے آنگن میں کبھی تیرے قدم اتریں گے

    ہمیں لکھنا ہے زمیں والوں کے غم کا نوحہ
    آسمانوں سے کسی روز قلم اتریں گے

    اتنی آہیں نہ بھرو اشک نہ سارے بہہ جائیں
    طبع نازک پہ ابھی اور بھی غم اتریں گے

    جیسے ہم آنکھ ملا کر ترے دل میں آئے
    لوگ اس زینۂ دشوار سے کم اتریں گے

    شاد و شاداب اسی وقت رہوں گا یاسرؔ
    سر قرطاس جب اشعار کے یم اتریں گے

    ہے روشنی مرا عزم و یقیں چلا آیا
    ستارہ ہوں میں برائے زمیں چلا آیا

    میں سب سے قیمتی خلقت خدائے قدرت کی
    مرا جواز ہے یوں ہی نہیں چلا آیا

    ہے میری آہ مرے قہقہوں کی آہٹ میں
    عزائے زیست میں خندہ جبیں چلا آیا

    بساط دامن صد چاک تیری قسمت ہے
    ترے وصال کو ایسا نگیں چلا آیا

    عجب غضب ہے کہ دل ڈھونڈنے لگا خود کو
    ادھر جو آج وہی دل نشیں چلا آیا

    زمیں سے دادرسی کی امید ٹوٹ چکی
    سو نالہ جانب عرش بریں چلا آیا

    خیال تھا کہ مرے دوستوں کی محفل ہے
    سو دوستو یہ ہوا میں یہیں چلا آیا

    ہر ایک وقت ہے اس کا ہر ایک سر کومل
    غزل میں بن کے وہ اک بھیرویں چلا آیا

    یہ کہہ کے گور بھی مجھ پر کشادہ ہونے لگی
    خوش آمدید کہ میرا مکیں چلا آیا

    اب احتیاط سے مطلب نہیں علی یاسرؔ
    کہ سامنے وہ مرا نکتہ چیں چلا آیا

  • جدید فارسی شاعری کے منفرد نام احمد شاملو کا یوم پیدائش

    جدید فارسی شاعری کے منفرد نام احمد شاملو کا یوم پیدائش

    احمد شاملو جدید فارسی شاعری کا منفرد نام ،ان کا قلمی نام ”بامدار“ تھا۔ 12 دسمبر 1925 میں تہران میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کی پیدائش کابل / افغانستان میں ہوئی تھی۔ شاملو کا تعلق فوجی خاندان سے ہے۔ شاملو شاعر ہونے کے علاوہ قاموس دان، صحافی اور سیاسی کارکن بھی تھے۔ وہ کچھ عرصے نیو جرسی / امریکا میں بھی مقیم رہے۔

    وہ ایک عرصے تک پروفیسر اور مدیر بھی رہے۔ ان کی نظموں کے تراجم لٹریری رویو اور لٹریچر ایسٹ اینڈ ویسٹ میں چھپ چکے ہیں۔ ان کی بارہ/12 کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ ان کی اہم کتابوں میں ،”آہنگ ھائی فراموش شدہ“، ”زن پشت در مقری“، ”ھوائی تازہ“ اور ”قطغامہ“ شامل ہیں۔ شاملو کی تحریروں پر حافظ، خیام، نیما، بیاگی، رلکے،مایاوسکی،آرگن،لانگسٹن ہیوز اور لورکا کے گہرے اثرات ہیں۔

    انھوں نے تین/3 شادیاں کیں۔ وہ ایران کی کمیونسٹ پارٹی کے سرگرم رکن رہے اور شاملو ایک سال سے زائد پابند سلاسل بھی رہے۔ زیباطیس / شوگر کے سبب ان کے دائیں پاوں کی جراحت ہوئی۔ اتوار 23 جولائی2000 میں انتقال ہوا۔ اور ”خراج“ /ایران میں پیوند زمین ہوئے۔

  • گرو رجنیش کا یوم ولادت

    گرو رجنیش کا یوم ولادت

    گرو رجنیش 11 دسمبر 1931 میں مدھیہ پردیش کے ضلع ھوشنگ آباد کچ ودا میں پیدا ھوئے ۔ ان کے والد کپڑے کی تجارت کرتے تھے ۔ رجنیش کا اصل نام چندر موھن جین تھا ۔ ان کے بارے میں مشہور ھے کہ وہ بچپن سے ہی بحث مباحثے کیا کرتے تھے ۔ اس کو اکثر اساتذہ سے شکائتیں رھتی تھیں ۔ بچپن میں ان کے نانا شدید بیمار ہوئے تو رجنیش ان کو بیل گاڑی میں لئے شہر کے کسی ڈاکٹر کی طرف روانہ ہوئے ، راستے میں نانا فوت ہو گئے اس حادثے نے رجنیش کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا وہ اکثر کتھاؤں میں اس کا ذکر کیا کرتے تھے ۔

    1953 میں رجنیش نے جبل پورکے ڈی این جین کے کالج سے ایم اے فلسفہ کا امتحان فرسٹ کلاس میں پاس کیا 1958 میں اسے یونیورسٹی آف جبل پور میں فلسفے کا پروفیسر مقرر کردیا گیا ۔ انہوں نے ہندوستان کے مختلف شہروں میں لیکچر دینے شروع کردئیے ۔ وہ زبردست فصاحت وبلاغت کے مالک تھے ان کی آواز لوگوں پر سحر طاری کردیتی تھی وہ صدیوں پرانے مذہبی عقیدوں کو اپنے فلسفی دلائل سے تہس نہس کردیتے تھے ۔ ھزاروں لوگ جن میں اکثریت تعلیم یافتہ لوگوں کی تھی انکے ھم خیال بن گئے ۔

    1974 میں انہوں نے اپنا پہلا کمیون سنٹر پونا میں کھولا ۔ دیس پردیس کے لوگ وہاں آناشروع ھوگئے اور رجنیش کے پیروکار بننا شروع ھوگئے ۔ وہ صوفیانہ رنگ کے کپڑے اور گلے میں رجنیش کی تصویریں لٹکائے پھرتے ۔

    جب اخباروں اور میگزینوں میں رجنیش کے چیلوں کی ننگے رقص کرتے ھوئے تصویریں چھپی تو وہ ہندوستان میں سیکس گرو (sex guru) کے نام سے مشہور ھوئے ۔ ان کے چیلے انکو بھگوان (خدا) ماننے لگے ۔

    1981 میں اوریگوں امریکہ میں ھزاروں ایکڑ رقبہ پر ایک کمیون رجنیش پورم کے نام سے قائم کیا گیا ۔ امریکی مشہور اور امیر شخصیات پورم میں شامل ھونے لگیں ۔ ایک وقت ایسا آیا جب رجنیش کے پاس کئی مرسڈیز گاڑیوں کے علاوہ 100 سے زیادہ رولز رائس کاریں بھی تھیں ۔

    1985 میں امریکی حکومت نے رجنیش پر دھوکہ دہی ، فراڈ اور چالبازی کے 35 مقدمات درج کئے اور سترہ روز اپنی تحویل میں رکھ کر پھر ملک بدر کردیا رجنیش واپس انڈیا آگئے اور کسی نئے مرکز کی تلاش میں دنیا کے سفر پر روانہ ھوگئے ۔

    دنیا کے 21 ملکوں نے اسے ویزا دینے سے انکار کردیا ، ان کا جہاز کئی ملکوں کے ائرپورٹ پر گھنٹوں کھڑے کھڑے واپس آگیا 1987 میں ایک بار پھر پونا میں کمیون سنٹر کھولا گیا جسے اب اوشو کمیون انٹرنیشنل کہا جانے لگا دراصل اب رجنیش نے اپنے نام سے بھگوان لفظ ختم کرکے جاپانی زبان کاخطاب لفظ اوشو لگادیا تھا ۔

    اوشو میں ,, او ,, کے معنی ھیں پیار محبت احترام ,, شو ,, کا مطلب شعور کا پھیلاؤ آخر میں وہ رجنیش کے نام کو بھی ترک کرکے صرف اوشو کہلوانے لگے ۔

    1988 میں اوشو سخت بیمار پڑ گئے ان کے اپنے خیال کے مطابق امریکہ میں حراست کے دوران انہیں زھر دیا گیا تھا ان کے پیرو بھی اس بات پر یقین رکھتے تھے ۔ وہ ذیابیطس اور دمے کے مریض بن گئے ۔ بہترین علاج کے باوجود ان کا جسم کمزور اور ماند پڑنے لگا اپریل 1989 کو انہوں نے اپنی زندگی کا آخری لیکچر دیا ۔ اپنے خاص اور قریبی چیلوں کو بلاکر کچھ ھدایتیں دیں ۔

    19 جنوری 1990 شام پانچ بجے اوشو نے مرنے سے پہلےآخری جملہ یہ کہا :
    ” I leave you my dream ”
    اوشو نے اپنے پیروکاروں پر سوگ اور رونے کی پابندی عائد کی تھی ، وہ ناچتے گاتے رقص کرتے ھوئے اوشو کی لاش لے کر تلسی رام گھاٹ پہنچے جہاں ان کا اگنی سنسکار ان کے چھوٹے بھائی سوامی وجے بھارتی نے کیا ۔

    اگلے روز انکی راکھ کمیون سنٹر لائی گئی اور اسکے آگے 9 ماہ پہلے اوشو کے اپنے ھاتھ کی لکھی تختی لگائی گئی اس تختی پہ تحریر تھا کہ :

    ” اوشو ۔۔۔۔۔۔۔۔ جونہ کبھی پیدا ھوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہ کبھی مرا “

  • نامورافسانہ نگار خدیجہ مستورکا یوم پیدائش

    نامورافسانہ نگار خدیجہ مستورکا یوم پیدائش

    نامور افسانہ نگار خدیجہ مستور 11 دسمبر 1927 کو بلسر، بریلی میں پیدا ہوئیں۔ 26 جولائی 1982 کو لندن میں وفات پائی۔ گلبرگ لاہور کے قبرستان میں سپرد خاک کی گئیں۔

    ان کےافسانوں کے 5 مجموعےکھیل، بوچھاڑ، چند روز اور، تھکے ہارے، اور ٹھنڈا میٹھا پانی اور 2 ناول آنگن اور زمین شائع ہوئے۔ آنگن پر 1962 کا آدم جی ادبی انعام ملا۔ افسانوں کے آخری مجموعے ٹھنڈا میٹھا پانی پر اکادمی ادبیات پاکستان نے سال کی بہترین کتاب کا ہجرہ ایوارڈ دیا-

    خدیجہ مستور ممتاز صحافی اور افسانہ نگار ظہیر بابر کی اہلیہ اور ہاجرہ مسرور، اختر جمال، خالد احمد اور توصیف احمد خاں کی بہن تھیں۔خدیجہ اور ہاجرہ، احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بہنیں تو خط کتابت سے ہی بن چکی تھیں-

    قیام پاکستان کے بعد یہ خاندان لاہور پہنچا تو احمد ندیم قاسمی پورے خاندان کے سرپرست بن گئے. خدیجہ کی شادی انہوں نے ہی اپنے بھانجے ظہیر بابر سے کرائی.

  • شاعر اور نثر نگار  نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

    شاعر اور نثر نگار نریش کمار شاد کا یوم پیدائش

    نریش کمار شاد کی شخصیت کی مختلف جہتیں تھیں وہ اچھے شاعر بھی تھے ، نثر نگار بھی انہوں نےترجمے بھی کئے اور کئی رسالوں کی ادارت بھی کی ۔ نریش جتنے پرگو شاعر تھے اتنے ہی بڑے بلا نوش بھی ، ان کیلئے شاعری اور شراب دونوں زندگی کی بدصورتیوں کو انگیز کرنے کا ایک ذریعہ تھیں ۔ نریش کی شراب یاد رکھی گئی اور ان کی شاعری بھلا دی گئی ۔ حالانکہ نریش کی غزلیں، نظمیں اور کئی نئی مغربی اصناف میں ان کے تخلیقی تجربے ان کی شاعرانہ اہمیت کو روشن کرتے ہیں ۔

    شاد کی پیدائش ۱۱ دسمبر ۱۹۲۷ کو ہوشیار پور پنجاب میں ہوئی ۔ ان کے والد درد نکودری بھی شاعر تھے اور حضرت جوش ملسیانی کے خاص شاگردوں میں سے تھے ۔ گھر کے شعری ماحول نے شاد کو بھی شاعری کی طرف مائل کردیا اور وہ بہت چھوٹی عمر سے ہی شعر کہنے لگے ۔ شاد کی تعلیم لاہور میں ہوئی انہوں نے گورمینٹ ہائی اسکول چونیاں ضلع لاہور سے فرسٹ ڈویژن میں میٹرک کا امتحام پاس کیا ۔ اس کے بعد بہ سلسلۂ ملازمت راولپنڈی اور جالندھر میں مقیم رہے لیکن جلد ہی سرکاری ملازمت ترک کرکے لاہور آگئے اور وہاں ماہنامہ’ شالیمار ‘ کی ادارت کے فرائض انجام دینے لگے ۔

    تقسیم کے بعد شاد کچھ مدت کانپور میں رہے اور یہاں حفیظ ہوشیارپوری کے ساتھ مل کر ’چندن‘ کے نام سے ایک رسالہ نکالا ۔ اس رسالے کے بند ہو جانے کے بعد دلی اگئے اور بلدیو متر بجلی کے ماہنامہ ’ راہی ‘ سے وابستہ ہوگئے ۔ ایک رسالہ ’ نقوش ‘ کے نام سے بھی نکالا ۔ آخر ہاؤسنگ اینڈ رینٹ آفس میں ملازمت اختیار کی ۔

    شعری مجموعے : بتکدہ ، فریاد ، دستک ، للکار ، آہٹیں ، قاشیں ، آیات جنوں ، پھوار ، سنگم ، میرا منتخب کلام ، میراکلام نو بہ نو ، وجدان ،
    نثری کتابیں: سرخ حاشیے ، راکھ تلے ، سرقہ اور توارد ، ڈارلنگ ، جان پہچان ، مطالعے ، غالب اور اس کی شاعری ، پانچ مقبول شاعر اور ان کی شاعری ، پانچ مقبول طنز ومزاح نگار ۔ ادب اطفال : شام نگر میں سنیما آیا، چینی بلبل اور سمندری شہزادی ۔

    ۲۰ مئی ۱۹۶۹ کو شاد جمنا کے کنارے پر مرے ہوئے پائے گئے۔

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اللہ رے بے خودی کہ ترے پاس بیٹھ کر
    تیرا ہی انتظار کیا ہے کبھی کبھی

    خدا سے کیا محبت کر سکے گا
    جسے نفرت ہے اس کے آدمی سے

    اتنا بھی ناامید دل کم نظر نہ ہو
    ممکن نہیں کہ شام الم کی سحر نہ ہو

    زندگی سے تو خیر شکوہ تھا
    مدتوں موت نے بھی ترسایا

    گناہوں سے ہمیں رغبت نہ تھی مگر یا رب
    تری نگاہ کرم کو بھی منہ دکھانا تھا

    زندگی نام ہے جدائی کا
    آپ آئے تو مجھ کو یاد آیا

    محسوس بھی ہو جائے تو ہوتا نہیں بیاں
    نازک سا ہے جو فرق گناہ و ثواب میں

    محفل ان کی ساقی ان کا
    آنکھیں اپنی باقی ان کا

    خدا سے لوگ بھی خائف کبھی تھے
    مگر لوگوں سے اب خائف خدا ہے

    عقل سے صرف ذہن روشن تھا
    عشق نے دل میں روشنی کی ہے

    کسی کے جور و ستم کا تو اک بہانا تھا
    ہمارے دل کو بہرحال ٹوٹ جانا تھا

    یہ سوچ کر بھی ہنس نہ سکے ہم شکستہ دل
    یاران غم گسار کا دل ٹوٹ جائے گا

    طوفان غم کی تند ہواؤں کے باوجود
    اک شمع آرزو ہے جو اب تک بجھی نہیں

    تو مرے غم میں نہ ہنستی ہوئی آنکھوں کو رلا
    میں تو مر مر کے بھی جی سکتا ہوں میرا کیا ہے

  • روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن کا یوم پیدائش

    روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ الیکزینڈر سلزینسٹائن 11 دسمبر 1918ء کو کیسلووودسک میں پیدا ہوئے الیکزینڈر سلزینسٹائن (1918ء تا 2008ء )روسی زبان کے معروف ناول نگار اور مورخ تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں 1970ء میں نوبل ادب انعام سے نوازا گیا۔

    انہیں ان کی خدمات پر متعدد اعزازتسے نوازا گیا جن میں میخائیل لومونوسف گولڈ میڈل (1998)، نوبل انعام برائے ادب (1970)، آرڈر آف ریڈ اسٹار (1944)، ٹیمپلٹن انعام، آرڈر آف اسٹار آف رومانیہ، آرڈر آف سینٹ اینڈریو سے نوازا گیا-

    2008 میں عارضہ قلب کی وجہ سے ماسکو میں وفات پا گئے تھے-

  • ناموراسکرین لکھاری اور ادیبہ عمیرہ احمد کا یوم پیدائش

    ناموراسکرین لکھاری اور ادیبہ عمیرہ احمد کا یوم پیدائش

    عمیرہ احمد ایک نامور پاکستانی ادیبہ اور اسکرین لکھاری جو اپنی کتاب” پیر کامل” کی بدولت مشہور ہوئیں اور پھر اپنے متعدد ناولوں پر مبنی ٹی وی ڈراموں سے شہرۂ آفاق پر پہنچیں۔

    ان کے ناولوں پر بننے والے ڈراموں میں میری ذات ذرہ بے نشاں، دوراہا،پیر کامل، مٹھی بھر مٹی، شہرذات، میرا نصیب اور زندگی گلزار ہے شامل ہیں۔ عمیرہ احمد مرے کالج، سیالکوٹ سے انگریزی میں ماسٹرز کر کے آرمی پبلک کالج کے کیمبرج ونگ سے منسلک ہیں۔ اپنے تحریری سفر کا آغاز انھوں نے خواتین کے ماہناموں سے کیا اور پھر ٹی وی انڈسٹری میں آگئیں۔

    ان کا پہلا ڈراما ‘‘وجود لاریب‘‘ انڈس ویژن سے 2005 میں آیا جس کے لیے انہوں نے بیسٹ رائٹر کا ایوارڈ لیا۔ اس کے بعد ‘‘دام‘‘، ‘‘قید تنہائی‘‘ اور متعدد ڈرامے وہ لکھ چکی ہیں اور ان کے کئی ناول کی ڈرامائی تشکیل ہو چکی۔ ‘‘نور کا مسکن‘‘ کے نام سے ایک ریڈیو ڈراما بھی لکھا۔
    ناول اور کہانیاں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)پیر کامل
    ۔ (2)زندگی گلزار ہے
    ۔ (3)میری ذات ذرہ بے نشان
    ۔ (4)ایمان امید اور محبت
    ۔ (5)حسنہ اور حسن آرا
    ۔ (6)حرف سے لفظ تک
    ۔ (7)میرے 50 پسندیدہ سین
    ۔ (8)من و سلوا
    ۔ (9)حاصل
    ۔ (10)لا حاصل
    ۔ (11)واپسی
    ۔ (12)شیریں
    ۔ (13)میں نے خوابوں کا شجر دیکھا ہے
    ۔ (14)سحر ایک استعارہ ہے
    ۔ (15)دربار دل
    ۔ (16)امبر بیل
    ۔ (17)عکس
    ۔ (18)آب حیات
    ڈرامے
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)وجود لاریب (2004)
    ۔ (2)دام محبت (2009)
    ۔ (3)ٹی وی ون گلوبل (2009)
    ۔ (4)میری ذات ذرہ بے نشاں (2009)
    ۔ (5)تھوڑا سا آسماں (2009)
    ۔ (6)عمیرہ احمد (2010)
    ۔ (7)اڑان (2010)
    ۔ (8)مات (2011)
    ۔ (9)شہر ذات (2012)
    ۔ (10)کنکر (2013)
    ۔ (11)بے حد (2013)
    ۔ (12)زندگی گلزار ہے (2013)
    ۔ (13)محبت صبح کا ستارہ ہے (2014)
    ۔ (14)ڈائجسٹ رائٹر (2014)

  • تحریک پاکستان کی مشہورخاتون رہنما اور ادیبہ  بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یوم وفات

    تحریک پاکستان کی مشہورخاتون رہنما اور ادیبہ بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ کا یوم وفات

    تحریک پاکستان کی مشہور خاتون رہنما، سفارت کار اور معروف ادیبہ بیگم ڈاکٹر شائستہ اکرام اللہ 22جولائی 1915ء کوکلکتہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ ان کے والد حسان سہروری برطانوی وزیر ہند کے مشیر تھے۔1932ء میں ان کی شادی جناب اکرام اللہ سے ہوئی جو قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے سیکریٹری خارجہ کے عہدے پر فائز ہوئے۔

    بیگم شائستہ اکرام اللہ شادی سے پہلے ہی شائستہ اختر سہروردی کے نام سے افسانہ لکھا کرتی تھیں اور ان کے افسانے اس زمانے کے اہم ادبی جرائد ہمایوں، ادبی دنیا، تہذیب نسواں اور عالمگیر وغیرہ میں شائع ہوتے تھے۔ 1940ء میں انہوں نے لندن یونیورسٹی سے ناول نگاری کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی، وہ اس یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون تھیں۔

    تحریک پاکستان کے دنوں میں انہوں نے جدوجہد آزادی میں بھی فعال حصہ لیا اور بنگال لیجسلیٹو اسمبلی کی رکن رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ پاکستان کی پہلی دستور اسمبلی کی رکن بھی رہیں۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کی اور مراکش میں سفارتی خدمات انجام دیں۔

    ان کی تصانیف میں افسانوں کا مجموعہ کوشش ناتمام، دلی کی خواتین کی کہاوتیں اور محاورے، فرام پردہ ٹو پارلیمنٹ، لیٹرز ٹو نینا، بیہائینڈ دی ویل اور اے کریٹیکل سروے آف دی ڈیولپمنٹ آف دی اردو ناول اینڈ شارٹ اسٹوری شامل ہیں۔ بیگم شائستہ اکرام اللہ کی ایک وجہ شہرت یہ بھی ہے کہ وہ اردن کے سابق ولی عہد شہزادہ حسن اور بنگلہ دیش کے سابق وزیر خارجہ رحمن سبحان کی خوش دامن تھیں۔ حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کے اعتراف کے طور پر نشان امتیاز کا اعزاز عطا کیا تھا۔

    A CRITICAL SURVEY OF THE DEVELOPMENT OF URDU NOVEL AND SHORT STORIES
    شائستہ کی دیگر تصنیفات حسب ذیل ہیں ؎
    LETTERS TO NEENA, published in 1951.
    BEHIND THE VEIL, published in 1953.
    FROM PURDAH TO PARLIAMENT,published in 1963.
    HUSEYN SHAHEED SUHARWARDY:A BIOGRAPHY:published in 1991.
    ENGLISH TRANSLATION OF MIR’ATUL UROOS
    KAHAVAT AUR MUHAVAREY
    انھوں نے FROM PURDAH TO PARLIAMENTکا اردو ترجمہ کیا تاکہ عام لوگ اسے پڑھ سکیں۔اس کے علاوہ سفرنامہ اور دلی کی بیگمات کی کہاوتیں اور محاورے اردو میں ہیں۔بیگم شائستہ اکرام شادی سے پہلے شائستہ اختر سہروردی کے نام سے افسانے لکھا کرتی تھیں۔ان کے افسانے اس وقت کے موقر جریدوں جیسے ہمایوں، ادبی دنیا، عصمت، تہذیب ، عالمگیروغیرہ میں مستقل شائع ہوتے تھے۔ان کے افسانوں کا مجموعہ’کوشش ناتمام ‘کےعنوان سے منظر عام پرآیا شائستہ سہروردی اکرام اللہ کی منتخب تحریریں ماہنامہ عصمت ، ۱۹۳۴ء ؁ سے ۱۹۸۸ء؁ تک ‘ان کے مضامین کا مجموعہ زیور طبع سے آراستہ ہوا۔

    شائستہ کا تعلق ایک متمول اور اعلیٰ تعلیم یافتہ گھرانے سے تھا۔ان کے دادا بحر العلوم مولانا عبید اللہ عبیدی سہروردی مدناپور کے باشندے تھے ۔انھوں نے مدرسۃ العالیہ سے تعلیم حاصل کی ۔۱۸۸۵ء؁ میں ڈھاکہ میں آپ کا انتقال ہوا۔آپ اینگلو اسلامک اسٹڈیز کے حامی تھے۔آپ نے ہی بنگال میں تعلیم نسواں کے لئےموافق فضا تیار کی۔آپ کے دو بیٹے حسّان سہروردی ، عبد اللہ المامون سہروردی اور ایک بیٹی خجستہ اختر بانو تھیں۔

    پاکستان کے پانچویں وزیر اعظم حسین شہید سہروردی (۱۲؍ ستمبر ۱۹۵۶ء؁ تا ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۵۷ء؁) بیگم خجستہ اختر بانو کے صاحبزادے تھے۔بیگم خجستہ اختر پہلی ہندوستانی خاتون تھیں جنھوں نے سینیر کیمبرج پاس کیا تھا۔ وہ اردو رسائل میں لکھا کرتی تھیں۔

    شائستہ کا نانہال نوابین کا گھرانہ تھا اور ان کی والدہ ایک روایتی خاتون تھیں۔شائستہ سہروردی محمد اکرام اللہ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔محمد اکرام اللہ ہندوستان کے ایک معزز خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ان کے والد خان بہادر حافظ محمد ولایت اللہ کا تعلق بھوپال کے شاہی خاندان سے تھا۔ان کی پیدائش ۱۹۰۳ء؁ میں بھوپال میں ہوئی۔

    اکرام اللہ ۱۹۳۴ء؁ میں انڈین سول سروسیزمیں آ گئے۔ ۱۹۴۵ء؁ کے آس پاس انھوں نے اقوام متحدہ لندن اور سان فرانسسکو میں preparatory commissionمیں اہم خدمات انجام دیں۔پاکستان کے قیام کے بعد آپ بھوپال سے کراچی منتقل ہو گئے۔محمد علی جناح نے خارجہ سیکریٹری کا عہدہ آپ کے سپرد کیا۔آپ نے اقوام متحدہ میں کئی مرتبہ پاکستان کی قیادت کی۔ آپ کینیڈا اور یو کے میں پاکستان کے ہائی کمشنر رہے اور پرتگال اور فرانس کے سفیر بھی بنائے گئے۔

    Common wealth Economic Committeeقائم کرنے میں اکرام اللہ پیش پیش رہے۔وہ کامن ویلتھ سیکریٹری جنرل بھی منتخب ہوئے اور اسی عہدے پر رہتے ہوئے ۱۹۶۳ء؁ میں اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔آپ کے چھوٹے بھائی محمد ہدایت اللہ 1968 سے 1970 ء تک ہندوستان کے چیف جسٹس اور ۱۹۷۹ء؁ سے ۱۹۸۴ء؁ تک نائب صدر جمہوریہ ہند رہے۔کچھ وقت تک آپ نے کار گذار صدر جمہوریہ کی حیثیت سے بھی اپنی خدمات انجام دیں۔

    ۸۶؍برس کی عمر میں ۱۹۹۲ء؁ میں ہدایت اللہ کا انتقال ہو گیا۔شائستہ اکرام اللہ کا ایک بیٹا انعام اکرام اللہ(۱۹۳۴ء؁ سے ۲۰۰۴ء؁) اور تین بیٹیاں ناز اشرف(۱۹۳۸ء؁)، سلمیٰ سبحان(۱۹۳۷ء؁ سے ۲۰۰۳ء؁) اور ثروت (۱۹۴۷ء؁)ہیں۔ناز اشرف مشہور آرٹسٹ ہیں جب کہ سلمیٰ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ رحمٰن سبحان کی ہمسر بنیں۔ثروت اردن کے سابق ولی عہد شہزادہ حسن بن طلال سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں۔

    10 دسمبر 2000ء کو بیگم شائستہ اکرام اللہ متحدہ عرب امارات میں وفات پاگئیں۔وہ کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ کے مزار کے احاطے میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • مصر کے معروف شاعر ،ادیب اور سیاستدان محمد حسین ہیکل  کا یوم وفات

    مصر کے معروف شاعر ،ادیب اور سیاستدان محمد حسین ہیکل کا یوم وفات

    محمد حسين ہيکل مصر کے ایک شاعر، ادیب اور سیاست داں تھے۔

    مصنف، صحافی، وزیر، سیاست داں محمد حسین ہیکل کی پیدائش20 اگست 1888ء بمطابق 12 ذو الحج 1305ھ میں حنين الخضراء مصر۔ میں پیدا ہوئے۔

    انھوں نے کہا کہ قاہرہ میں لا اسکول الخدویہ میں قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1909 میں گریجویشن مکمل کی 1912ءمیں فرانس میں سوربون یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 10 سال تک ایک وکیل کے طور پر کام کیا، صحافت میں بھی رہے احمد لطفی کے خیالات سے متاثر تھے۔

    1923 میں اس قانون ساز اسمبلی کے وزیر تعلیم رہے جس نے صدارتی نظام کا قانون تیار کیا جو مصر کا پہلا آئین شمار کیا جاتا ہے اس کے بعد 1940 سے 1942 تک دوبارہ وزیر رہے اور 1945 میں سماجی امور کی وزارت دی گئی۔۔ لبرل پارٹی کے ڈپٹی اور صدر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سعودی عرب میں جب عرب ریاستوں کی لیگ کے چارٹر پر دستخط کیے گئے تو اقوام متحدہ میں مصری وفد کے سربراہ کے طور پر شامل تھے۔

    ہیکل کی وفات سوموار 5 جمادی الاول 1376ھ بمطابق 8 دسمبر 1956ء میں ہوئی جب ان کی عمر68 سال تھی۔

    تالیفات

    ۔ (1)روايۃ سہيلہ فی الظلمۃ – 1914ء
    ۔ (2)سير حياۃ شخصيات مصريۃ وغربيۃ
    ۔ – 1929ء
    ۔ (3)حياۃ محمد – 1933ء
    ۔ (4)فی منزل الوحی – 1939ء
    ۔ (5)مذکرات فی السياسۃ المصريہ
    ۔ – 1951 / 1953ء
    ۔ (6)الصديق ابو بکر
    ۔ (7)الفاروق عمر – 1944 / 1945ء
    ۔ (8)عثمان بن عفان – 1968ء
    ۔ (9)ولدی۔
    ۔ (10)يوميات باريس
    ۔ (11)الامبراطوريہ الإسلاميہ
    ۔ والأماکن المقدسہ – 1964ء
    ۔ (12)قصص سعوديہ قصيرہ – 1967ء
    ۔ (13)فی اوقات الفراغ
    ۔ (14)الشرق الجديد
    ۔ (15)روايۃ زينب