Baaghi TV

Tag: ادب

  • اردو کے مایہ ناز شاعر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش

    اردو کے مایہ ناز شاعر ناصر کاظمی کا یوم پیدائش

    اردو زبان کے مایہ ناز شاعر، اردو غزل کو نیا پیرہن عطا کرنے والے تقسیم اور ہجرت کی تکلیف اور اثرات کو موضوع سخن بنایا.

    اردو کے مایہ ناز شاعر ناصر کاظمی 8 ، دسمبر، 1925ء کو بھارتی ریاست ہریانہ کے ضلع انبالہ میں پیدا ہوئے، 1945ء میں ان کا پہلا شعری مجموعہ برگ نے شائع ہوا جس نے شائع ہوتے ہی انہیں اردو غزل کے صف اول کے شعرامیں لاکھڑاکیا۔ناصر کاظمی غزل کو زندگی بنا کر اسی کی دھن میں دن رات مست رہے۔

    ناصر نے غزل کی تجدید کی اور اپنی جیتی جاگتی شاعری سے غزل کا وقار بحال کیا جن میں میڈیم نور جہاں کی آواز میں گائی ہوئی غزل ’’دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا ‘‘ناصر کاظمی نے پیروی میر کرتے ہوئے ذاتی غموں کو شعروں میں سمویا لیکن ان کا اظہار غم پورے عہد کا عکاس بن گیا۔ ناصر کے اظہار میں شدت اور کرختگی نہیں بلکہ احساس کی ایک دھیمی جھلک ہے جو روح میں اترتی محسوس ہوتی ہے اور جب ان کے اشعار سر اور تال کے ساتھ مل کر سماعتوں تک پہنچتے ہیں تو ایک خوشگوار احساس دلوں میں ہلکورے لیتا ہے۔

    ناصر کاظمی 2 مارچ، 1972ء کو لاہور میں وفات پاگئے اور مومن پورہ کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں، ان کی لوح مزار پر انہی کا یہ شعر تحریر ہے۔ دائم آباد رہے گی۔

    ناصر کاظمی کا یوم وفات پر ان کے کچھ منتخب اشعار بطورِ خراج عقیدت.

    اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
    محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یاد ہے اب تک تجھ سے بچھڑنے کی وہ اندھیری شام مجھے
    تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل دھڑکنے کا سبب یاد آیا
    وہ تری یاد تھی اب یاد آیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے
    تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تیری مجبوریاں درست مگر
    تو نے وعدہ کیا تھا یاد تو کر
    ۔۔۔۔۔۔۔
    بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
    جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دن بھر تو میں دنیا کے دھندوں میں کھویا رہا
    جب دیواروں سے دھوپ ڈھلی تم یاد آئے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نیت شوق بھر نہ جائے کہیں
    تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    گرفتہ دل ہیں بہت آج تیرے دیوانے
    خدا کرے کوئی تیرے سوا نہ پہچانے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    مجھے یہ ڈر ہے تری آرزو نہ مٹ جائے
    بہت دنوں سے طبیعت مری اداس نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے
    تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں
    آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دل تو میرا اداس ہے ناصر
    شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
    وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
    آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ دل نواز ہے لیکن نظر شناس نہیں
    مرا علاج مرے چارہ گر کے پاس نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    یہ حقیقت ہے کہ احباب کو ہم
    یاد ہی کب تھے جو اب یاد نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دن گزارا تھا بڑی مشکل سے
    پھر ترا وعدۂ شب یاد آیا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی جن کے تصور سے جلا پاتی تھی
    ہائے کیا لوگ تھے جو دام اجل میں آئے
    ۔۔۔۔۔۔۔
    جنہیں ہم دیکھ کر جیتے تھے ناصر
    وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دائم آباد رہے گی دنیا
    ہم نہ ہوں گے کوئی ہم سا ہوگا.

  • شاعرو ادیب علی جواد زیدی کا یوم وفات

    شاعرو ادیب علی جواد زیدی کا یوم وفات

    گفتگو کے ختم ہو جانے پر آیا یہ خیال
    جو زباں تک آ نہیں پایا وہی تو دل میں تھا

    علی جواد زیدی کرہان اعظم گڑھ میں 10 مارچ 1916 کو پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم گھر پر ہوئی کچھ بڑے ہوئے تو ریاست محمود آباد کے کالون اسکول میں داخلہ لیا۔ 1935 میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ 1937 میں انٹر اور 1939 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے کیا۔

    یہ زمانہ وہ تھا جب آزادی کی جد وجہد تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی اور کمیونسٹ پارٹی نوجوانوں کے لئے خاص کشش رکھتی تھی۔ علی جواد زیدی بھی کمیونسٹ پارٹی کے باقاعدہ ممبر بن گئے اور آزادی کی جد وجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس جد وجہد میں شریک ہونے کی وجہ سے انہیں گرفتار بھی کیا گیا اور چھ مہینے کی سزا ہوئی۔

    ملک کی تقسیم اور آزادی کے بعد وہ سرکاری ملازمت میں آگئے اور مرکزی حکومت میں ذمے دار عہدوں پر فائز رہے۔ جب اندر کمار گجرال کی سربراہی میں اردو زبان کی ترقی کے لئے حکومت نے ایک کمیشن بنایا تو گجرال نے علی جواد زیدی کو کمیشن کے انتظامی امور کی ذمے داری سونپی۔

    علی جواد زیدی نے شاعری اور نثر دونوں صورتوں میں اہم ترین کارنامے انجام دئے۔ ان کی شاعری اور خاص کر نظمیں حب الوطنی اور قوم پرستانہ جذبات کی حامل ہیں۔ ان کے شعری مجموعے ’تیشۂ آواز‘ اور ’رگ سنگ‘ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔ علی جواد زیدی نے کئی اہم تنقیدی کتابیں بھی لکھیں۔ جنمیں ’ دو ادبی اسکول‘ ’قصیدہ نگاران اترپردیش‘ ’تاریخ اردو ادب کی تدوین‘ ’اردو میں قومی شاعری کے سو سال‘ اور دوسری کئی کتابیں شامل ہیں۔

    علی جواد زیدی کو ان کی ادبی اور سماجی خدمات کے لئے 1988 میں پدم شری کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ 7 دسمبر 2004 کو انتقال ہوا۔

    اشعار

    جن حوصلوں سے میرا جنوں مطمئن نہ تھا
    وہ حوصلے زمانے کے معیار ہو گئے

    یہ دشمنی ہے ساقی یا دوستی ہے ساقی
    اوروں کو جام دینا مجھ کو دکھا دکھا کے

    لذت درد ملی عشرت احساس ملی
    کون کہتا ہے ہم اس بزم سے ناکام آئے

    ہجر کی رات یہ ہر ڈوبتے تارے نے کہا
    ہم نہ کہتے تھے نہ آئیں گے وہ آئے تو نہیں

    ہم اہل دل نے معیار محبت بھی بدل ڈالے
    جو غم ہر فرد کا غم ہے اسی کو غم سمجھتے ہیں

    مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن
    ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم

    اب درد میں وہ کیفیت درد نہیں ہے
    آیا ہوں جو اس بزم گل افشاں سے گزر کے

    گفتگو کے ختم ہو جانے پر آیا یہ خیال
    جو زباں تک آ نہیں پایا وہی تو دل میں تھا

    دل میں جو درد ہے وہ نگاہوں سے ہے عیاں
    یہ بات اور ہے نہ کہیں کچھ زباں سے ہم

    نظارۂ جمال کی فرصت کہاں ملی
    پہلی نظر نظر کی حدوں سے گزر گئی

    ایک تمہاری یاد نے لاکھ دیے جلائے ہیں
    آمد شب کے قبل بھی ختم سحر کے بعد بھی

    مونس شب رفیق تنہائی
    درد دل بھی کسی سے کم تو نہیں

    جب چھیڑتی ہیں ان کو گمنام آرزوئیں
    وہ مجھ کو دیکھتے ہیں میری نظر بچا کے

    دل کا لہو نگاہ سے ٹپکا ہے بارہا
    ہم راہ غم میں ایسی بھی منزل سے آئے ہیں

    غضب ہوا کہ ان آنکھوں میں اشک بھر آئے
    نگاہ یاس سے کچھ اور کام لینا تھا

    شوق منزل ہم سفر ہے جذبۂ دل راہبر
    مجھ پہ خود بھی کھل نہیں پاتا کدھر جاتا ہوں میں

    دیار سجدہ میں تقلید کا رواج بھی ہے
    جہاں جھکی ہے جبیں ان کا نقش پا تو نہیں

    مدتوں سے خلش جو تھی جیسے وہ کم سی ہو چلی
    آج مرے سوال کا مل ہی گیا جواب کیا

    دکھا دی میں نے وہ منزل جو ان دونوں کے آگے ہے
    پریشاں ہیں کہ آخر اب کہیں کیا کفر و دیں مجھ سے

    ہار کے بھی نہیں مٹی دل سے خلش حیات کی
    کتنے نظام مٹ گئے جشن ظفر کے بعد بھی

    پی تو لوں آنکھوں میں امڈے ہوئے آنسو لیکن
    دل پہ قابو بھی تو ہو ضبط کا یارا بھی تو ہو

    ہیں وجود شے میں پنہاں ازل و ابد کے رشتے
    یہاں کچھ نہیں دو روزہ کوئی شے نہیں ہے فانی

    جب کبھی دیکھا ہے اے زیدیؔ نگاہ غور سے
    ہر حقیقت میں ملے ہیں چند افسانے مجھے

    آنکھوں میں لیے جلوۂ نیرنگ تماشا
    آئی ہے خزاں جشن بہاراں سے گزر کے

    اب نہ وہ شورش رفتار نہ وہ جوش جنوں
    ہم کہاں پھنس گئے یاران سبک گام کے ساتھ

  • معروف نقاد، محقق اور مترجم مظفر علی سید کا یوم پیدائش

    معروف نقاد، محقق اور مترجم مظفر علی سید کا یوم پیدائش

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے
    وہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو

    6 دسمبر 1929ء اردو کے معروف نقاد، محقق اور مترجم مظفر علی سید کی تاریخ پیدائش ہے۔

    مظفر علی سید امرتسر میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کی تصانیف میں تنقید کی آزادی اور تراجم میں فکشن، فن اور فلسفہ اور پاک فضائیہ کی تاریخ کے نام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے مشفق خواجہ کے کالموں کے تین مجموعے خامہ بگوش کے قلم سے، سخن در سخن اور سخن ہائے گفتنی کے نام سے مرتب کئے۔

    مظفر علی سید نے 28 جنوری 2000ء کو لاہور میں وفات پائی۔وہ لاہور میں کیولری گرائونڈ قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بہت نحیف ہے طرز فغاں بدل ڈالو
    نظام دہر کو نغمہ گراں بدل ڈالو

    دل گرفتہ تنوع ہے زندگی کا اصول
    مکاں کا ذکر تو کیا لا مکاں بدل ڈالو

    نہ کوئی چیز دوامی نہ کوئی شے محفوظ
    یقیں سنبھال کے رکھو گماں بدل ڈالو

    نیا بنایا ہے دستور عاشقی ہم نے
    جو تم بھی قاعدۂ دلبراں بدل ڈالو

    اگر یہ تختۂ گل زہر ہے نظر کے لیے
    تو پھر ملازمت گلستاں بدل ڈالو

    جو ایک پل کے لیے خود بدل نہیں سکتے
    یہ کہہ رہے ہیں کہ سارا جہاں بدل ڈالو

    تمہارا کیا ہے مصیبت ہے لکھنے والوں کی
    جو دے چکے ہو وہ سارے بیاں بدل ڈالو

    مجھے بتایا ہے سیدؔ نے نسخۂ آساں
    جو تنگ ہو تو زمیں آسماں بدل ڈالو

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    جوانی مگر اس قدر مستیاں
    شب و روز شام و سحر مستیاں
    نہ دل میں ذرا بھی ندامت ہوئی
    مچاتے رہے رات بھر مستیاں
    ہواؤں میں لو تھرتھراتی رہی
    ادھر تھی حیا اور ادھر مستیاں
    ہوس کاریوں کو مسرت نہ کہہ
    محبت میں اتنی نہ کر مستیاں
    جوانی گنواتے ہیں جو زہد میں
    بڑھاپے میں کرتے ہیں خر مستیاں
    کبھی خلوتوں میں تکلف بہم
    کبھی ہیں سر رہ گزر مستیاں
    بڑی مشکلوں سے شب احتیاط
    جو گزری تو پچھلے پہر مستیاں
    وہیں دوستی ہے جہاں عشق ہے
    جدھر خواریاں ہیں ادھر مستیاں
    اداؤں کو الفت سمجھتا ہے تو
    نہیں اے مرے بے خبر مستیاں
    ثوابوں سے ان کا سہی فاصلہ
    گناہوں سے ہیں دور تر مستیاں
    یہاں حکمتیں بھی اترتی رہیں
    اچھلتی رہی ہیں اگر مستیاں
    پیاپے ترے نام پر گردشیں
    دما دم ترے نام پر مستیاں
    کوئی کام سیدؔ نے چھوڑا نہیں
    کمالات سیر و سفر مستیاں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سنیے پیام شمس و قمر رقص کیجیے
    اس دائرے میں شام و سحر رقص کیجیے
    پاکیزگی فضا کی ترنم نسیم کا
    کیا چاندنی ہے پچھلے پہر رقص کیجیے
    تالی بجا رہے ہیں شگوفے نئے نئے
    آواز دے رہے ہیں شجر رقص کیجیے
    کیا چھپ چھپا کے چھت کے تلے ناچ میں مزا
    عریاں نکل کے در سے بدر رقص کیجیے
    جی چاہتا ہے آج فرشتوں سے بھی کہوں
    پرواز کیا ہے کھینچ کے پر رقص کیجیے
    فرصت نہیں فقیہ کو زر کی تلاش سے
    مطلق نہ کیجے خوف و خطر رقص کیجیے
    گر اضطرار قابل تعزیر ہے تو ہو
    ہے اپنے بس میں خیر نہ شر رقص کیجیے
    دوزخ جلا کے درد کا اور آگہی کی آگ
    دونوں کے درمیان اتر رقص کیجیے
    تنہائیوں کے گیت نہ سب کو سنائیے
    پاؤں ملا کے جوڑ کے سر رقص کیجیے
    مت پوچھیے کہ پیار کا انجام کیا ہوا
    پیارا چلا گیا ہے کدھر رقص کیجیے
    مانند قیس ریت نہ صحرا کی چھانیے
    کس کو ملی ہے کس کی خبر رقص کیجیے
    کیجے طواف کوچۂ جاناں کو تیز تر
    مضمر ہے اس میں سیر و سفر رقص کیجیے
    سیدؔ قرار کو تو پڑی ہے تمام عمر
    اک اور بھی غزل ہے اگر رقص کیجیے

  • نامور ادیب، صحافی ڈاکٹر انورسدید کا یوم پیدائش

    نامور ادیب، صحافی ڈاکٹر انورسدید 04 دسمبر 1928ء کو ضلع سرگودھاکے دور افتادہ قصبہ مہانی میں پید اہوئےابتدائی تعلیم سرگودھا اور ڈیرہ غازی خان کے عام اسکولوں میں حاصل کی۔ میٹرک کا امتحان فرسٹ ڈویژن میں پاس کیا مزید تعلیم کےلیےاسلامیہ کالج لاہور میں داخل ہوئے ان کا اصلی نام محمد انوارالدین تھا-

    ان کا رجحان ادب کی طرف تھا لیکن والدین سائنس کی تعلیم دلا کر انجینئر بنانا چاہتے تھے۔ اس دور میں اسلامیہ کالج لاہور میں تحریک پاکستان کی سرگرمیاں زور پکڑ چکی تھیں، انور سدید بھی ان میں شرکت کرنے لگے اور ایف ایس سی کا امتحان نہ دیا۔ اس وقت ان کے افسانے رسالہ بیسوی صدی، نیرنگ خیال اور ہمایوں میں چھپنے لگے تھے۔ عملی زندگی کی ابتدا محکمہ آبپاشی میں لوئر گریڈ کلرک سے کی۔ بعد ازاں گورنمنٹ انجینئرنگ سکول رسول(منڈی بہائو الدین) میں داخل ہو گئے۔

    اگست1948ء میں اول آنے اور طلائی تمغہ پانے کے بعد اری گیشن ڈپارٹمنٹ میں سب انجینئر کی ملازمت پر فائز ہو گئے۔ یہاں انھوں نے ناآسودگی محسوس کی تو دوبارہ تعلیم کی طرف راغب ہوئے اور ایف اے، بی اے اور ایم اے کے امتحان پرائیویٹ امیدوار کی حیثیت سے دئیے۔ ایم سے فرسٹ کلاس حاصل کی اور خارجہ طلبہ میں ریکارڈ قائم کیا۔

    انور سدیدنے’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ کے موضوع پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے نگراں راہ نما وزیر آغا تھے۔ پنجاب یونیورسٹی نے ڈاکٹر سید عبداللہ اور ڈاکٹر شمس الحسن صدیقی کو ان کا ممتحن مقرر کیا۔ دونوں نے ان کے مقالے کو نظیر قرار دیا جو آئندہ طلبہ کو راہنمائی فراہم کر سکتا تھا۔ ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘ کےاب تک نو اڈیشن چھپ چکے ہیں۔ اس دوران انور سدید نے انجینئرنگ کا امتحان اے ایم آئی، انسٹی ٹیوٹ آف انجینئر ڈھاکا سے پاس کیا۔

    محکمہ آبپاشی پنجاب سے ایگز یکٹو انجینئر کے عہدے سے 60 برس کی عمر پوری ہونے پر دسمبر 1988ء میں ریٹائر ہو گئے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے صحافت کا پیشہ اختیار کیا۔ ماہنامہ ’’قومی ڈائجسٹ ‘‘ہفت روزہ’’زندگی‘‘ روزنامہ ’’خبریں‘‘ لاہور میں چند سال کام کرنے کے بعد وہ ملک کے نظریاتی اخبار’’نوائے وقت‘‘ کے ادارے میں شامل ہوگئے۔

    اس ادارے سے انھوں نے’’دوسری ریٹائرمنٹ‘‘جولائی2003ء میں حاصل کی لیکن مجید نظامی چیف ایڈیٹر’’نوائے وقت ‘‘ نے انھیں ریٹائر کرنے کی بجائے گھر پر کام کرنے کی اجازت دے دی ۔ ’’نوائے وقت‘‘ کے ساتھ سلسلہ آخر دم تک قائم رہا۔ تنقید، انشائیہ نگاری، شاعری اور کالم نگاری ان کے اظہار کی چند اہم اصناف ہیں۔

    ڈاکٹر انور سدید نے اپنے بچپن میں ہی ادب کو زندگی کی ایک بامعنی سرگرمی کے طور پر قبول کر لیا تھا۔ ابتدا بچوں کے رسائل میں کہانیاں لکھنے سے کی، افسانے کی طرف آئے تو اس دور کے ممتاز ادبی رسالہ’’ہمایوں‘‘ میں چھپنے لگے۔ ڈاکٹر وزیر آغا نے’’اوراق‘‘ جاری کیا تو انھیں تنقید لکھنے کی ترغیب دی اور اپنے مطالعے کو کام میں لانے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے رسالہ’’اردو زبان‘‘ سرگودھا کے پس پردہ مدیر کی خدمات انجام دیں۔ ڈاکٹر وزیر آغا کے ساتھ’’اوراق‘‘ کے معاون مدیر کی حیثیت میں بھی کام کیا۔

    روزنامہ ’’جسارت‘‘، روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘، ’’مشرق‘‘، ’’حریت‘‘، ’’امروز‘‘، ’’ زندگی‘‘، ’’قومی زبان‘‘اور ’’خبریں ‘‘ میں ان کے کالم متعدد ناموں اور عنوانات سے چھپتے رہے۔ ’’دی اسٹیٹسمن‘‘اور ’’دی پاکستان ٹائمز‘‘میں انگریزی میں ادبی کالم لکھے۔ انھیں تعلیمی زندگی میں تین طلائی تمغے عطا کیے گئے۔ ادبی کتابوں میں سے ’’اقبال کے کلاسیکی نقوش‘‘، ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘اور ’’اردو میں حج ناموں کی روایت‘‘پر ایوارڈ مل چکے ہیں۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی نے انھیں بہترین کالم نگار کا اے پی این ایس ایوارڈ عطا کیا۔ 2009 میں ادبی خدمات پر صدر پاکستان نے تمغہ امتیاز سے نوازا-

    جناب انور سدید نے 88 کتابیں تصنیف و تالیف کی ہیں، چند کتابوں کے نام حسب ذیل ہیں:
    ۔ (1)فکرو خیال
    ۔ (2)اختلافات
    ۔ (3)کھردرے مضامین
    ۔ (4)اردو افسانے کی کروٹیں
    ۔ (5)موضوعات
    ۔ (6)بر سبیل تنقید
    ۔ (7)شمع اردو کا سفر
    ۔ (8)نئے ادبی جائزے
    ۔ (9)میر انیس کی اقلم سخن
    ۔ (10)محترم چہرے
    ۔ (11)اردو ادب کی تحریکیں
    ۔ (12)اردو ادب کی مختصر تاریخ
    ۔ (13)پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ
    ۔ (14)اردو ادب میں سفر نامہ
    ۔ (15)اردو ادب میں انشائیہ
    ۔ (16)اقبال کے کلاسیکی نقوش
    ۔ (17)اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش
    ۔ (18)؟
    ۔ (19)غالب کے نئے خطوط
    ۔ (20)دلاور فگاریاں
    ۔ (21)قلم کے لوگ
    ۔ (22)ادیبان رفتہ
    ۔ (23)آسمان میں پتنگیں
    ۔ (24)دلی دور نہیں
    ۔ (25)ادب کہانی 1996ء
    ۔ (26)ادب کہانی 1997ء
    ۔ (27)اردو افسانہ: عہد بہ عہد
    ۔ (28)میر انیس کی قلمرو
    ۔ (29)وزیر آغا ایک مطالعہ
    ۔ (30)مولانا صلاح الدین احمد، فن اور شخصیت
    ۔ (31)حکیم عنایت اللہ سہروردی، حالات و آثار
    ۔ (32)جدید اردو نظم کے ارباب اربعہ
    ۔ (33)کچھ وقت کتابوں کے ساتھ
    ۔ (34)مزید ادبی جائزے
    ڈاکٹر انور سدید کی چند کتابوں مثلاً ’’اردو ادب کی تحریکیں‘‘، ’’اردو افسانے میں دیہات کی پیشکش‘‘،’’ اردو ادب میں سفر نامہ‘‘،’’ پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ‘‘، ’’اردو ادب میں انشائیہ‘‘ کو موضوع کے اعتبار سے اولین تصنیف ہونے کا درجہ حاصل ہے۔

    انور سدید ان دنوں ’’نوائے وقت‘‘ سنڈے میگزین میں کتابوں پر تبصرے بھی لکھتے رہے ہیں۔ 2003ء میں انہوں نے ایک سال میں 225کتابوں پر تبصرے لکھ کر ریکارڈ قائم کیا تھا۔

    انور سدید کے فن اور شخصیت پر پروفیسر سید سجاد نقوی نے ایک کتاب’’گرم دم جستجو‘‘ شائع کی ہے۔ رسالہ ’’اوراق‘‘، ’’تخلیق‘‘، ’’ارتکاز‘‘، ’’جدید ادب‘‘، ’’کوہسارجرنل‘‘، ’’ چہارسو‘‘ اور ’’روشنائی‘‘ میں ان پر گوشے چھپ چکے ہیں۔

    ڈاکٹر انور سدید کی بیشتر کتابیں کالج اور یونیورسٹی طلبا کے علاوہ اعلیٰ ملازمین کے مقابلے کے امتحانوں میں شریک ہونے والوں کی معاونت کرتی ہیں اور کئی یونیورسٹیوں کے اردو نصاب میں شامل ہیں۔

    وہ ڈاکٹر وزیر آغا اور احمد ندیم قاسمی کو اپنا محسن تصور کرتے تھے اور کہتے تھے کہ ان دونوں نے انہیں ہمیشہ متحرک رکھا ہے۔

    چند منتخب اشعار

    شکوہ کیا زمانے کا تو اس نے یہ کہا
    جس حال میں ہو زندہ رہو اور خوش رہو

    بس ایک ہی ریلے میں ڈوبے تھے مکاں سارے
    انور کا وہیں گھر تھا بہتا تھا جہاں پانی

    کھلی زبان تو ظرف ان کا ہو گیا ظاہر
    ہزار بھید چھپا رکھے تھے خموشی میں

    دم وصال تری آنچ اس طرح آئی
    کہ جیسے آگ سلگنے گلابوں میں

  • معروف شاعراستاد دامن کا یوم وفات

    معروف شاعراستاد دامن کا یوم وفات

    8حکمرانوں کے بخیے ادھیڑنے والا درزی شاعر

    استاد دامن کا اصل نام چراغ دین تھا۔ یکم جنوری 1910 کوچوک متی لاہور میں پیدا ہوئے۔ والد میراں بخش درزی تھے۔ گھریلو حالات کے پیش نظر دامن نے بھی بچپن ہی میں تعلیم کےساتھ ٹیلرنگ کا کام بھی شروع کر دیا( بعد میں انہوں نےجرمن فرم جان ولیم ٹیلرز سے ٹیلرنگ کا باقاعدہ ڈپلوما بھی حاصل کیا ) انہوں نے ساندہ کے دیو سماج سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔

    عمر تیرہ سال ہوئی تو خاندان چوک متی سے باغبانپورہ منتقل ہو گیا شعر گوئی کی ابتدا بڑے بھائی کی وفات پر مرثیے سے کی لیکن باقاعدہ شاعری کا آغاز میٹرک کے بعد کیا۔ پہلے ہمدم تخلص کر تے تھے لیکن جلد ہی اسے ترک کرکے دامن اختیار کیا ۔ پنجابی شاعری میں استاد محمد رمضان ہمدم کے شاگرد ہو ئے اور ان کی شاگردی کو باعث فخر سمجھتے تھے۔

    1940 میں میاں افتخار الدین کی صدارت میں ہونے والے میونسپل کمیٹی لاہور کے اجلاس میں کمیٹی کارکردگی پر تنقیدی نظم پیش کی اور خوب داد حاصل کی ۔ ان کے بعد ان کی عوامی مقبولیت میں اضافہ ہو تا گیا اور انہوں نے سیاسی جلسوں میں بھی نظمیں پڑھنے کا آغاز کیا ۔ وہ سید عطا اللہ شاہ بخاری، میاں افتخار الدین اور مزدوروں کےجلسوں کی رونق ہوتے تھےحصولِ آزادی کی جدوجہد میں وہ نیشنل کانگریس کے فعال کارکن تھے۔ لاہور کے ایک جلسے میں جس کی صدارت جواہر لال نہرو کر رہے تھے، دامن نے نظم پڑھی جو نہرو نے بہت پسند کی اور 100 روپے انعام دیا ( آج کے ایک لاکھ روپے سمجھ لیں ) اس کا بہت چرچا ہوا-

    1947 کے فسادات میں ان کی دکان لوٹ لی گئی جس کے سبب زبردست مالی بحر ان کا شکار ہو کر باغبانپورہ سے بادشاہی مسجد کے قریب
    ٹکسالی گیٹ میں واقع مسجد کےاس حجرے میں منتقل ہو گئے جس میں اکبر بادشاہ کے زمانے میں حضرت شاہ حسین بھی مقیم رہے تھے ۔ پھر تادم مرگ یہی حجرہ استاد دامن کا مسکن ٹھہرا۔ کل اثاثہ ان کی چند کتابیں تھیں ۔ 1949 میں استاد دامن کی شادی ہوئی لیکن کچھ ہی عر صہ بعد ان کا کم سن بیٹا اور بیوی انتقال کر گئے اور پھر تمام عمر شادی نہ کی ۔

    دامن نے پنجابی شاعری کی فنی خوبیوں پر ملکہ رکھنے کی بدولت اہل علم وفن سے استاد کا خطاب حاصل کیا ۔استاد دامن مزدوروں ، کسانوں،غریبوں اور مظلوموں کے شاعر تھے ۔انہوں نے ان طبقوں کی حمایت اور حقوق کیلئے آواز اٹھائی اور ہمیشہ استحصالی طبقوں کی مذمت کرتے رہے ۔ انہوں نے پنجابی زبان و ادب کے فروغ کیلئے گراں قدر خدمات سرانجام دیں. پنجابی ادبی سنگت کی بنیاد رکھی اور اس کے سکیرٹری بھی رہے ۔

    استاد دامن کے چاہنے والوں میں بھارتی اداکار اوم پرکاش، پران اور شیام بھی شامل تھے۔ اوم پرکاش کی فرمائش پر ہی استاد نے نورجہاں کی زیر ہدایات بننے والی فلم "چن وے” کے اس گیت کا مکھڑا لکھا۔

    چنگا بنایا ای سانوں کھڈونا
    آپے بناؤنا تے آپے مٹاؤنا

    استاد دامن کی سب سے بڑی خوبی ان کی فی البدیہہ گوئی تھی۔ وہ موقع کی مناسبت سے چند لمحوں میں اشعار کی مالا پرو دیتے تھے ۔ آزادی کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے دلی میں منعقدہ مشاعرے میں یہ فی البدیہہ نظم پڑھی :

    جاگن والیاں رج کے لٹیا اے
    سوئے تسی وی او، سوئے اسیں وی آں
    لالی اکھیاں دی پئی دسدی اے
    روئے تسی وی او، روئے اسیں وی آں

    حاضرین مشاعرہ بے اختیار رونے لگے ۔ مشاعرے میں پنڈت جواہر لعل نہرو (وزیراعظم بھارت) بھی موجود تھے ، انہوں نے استاد دامن سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ مستقل طور پر بھارت میں قیام فرمائیں لیکن انہوں نے جواب دیا کہ میرا وطن پاکستان ہے، میں لاہور ہی میں رہوں گا بے شک جیل ہی میں کیوں نہ رہوں ۔

    اس محب وطن شاعر نے ساری زندگی افلاس میں گزاری مگر مرتے دم تک وطن سے محبت کے گیت گائے ۔ اس دھرتی کو نفرتوں ، بے ایمانیوں اور عیاریوں سے پاک کرنے کیلئے محبتوں کے پھول بکھیرتا رہا اور ان برائیوں کی علانیہ نشاندہی اور مذمت کر تا رہا ۔ استاد دامن نے آزادی کے بعد سیاست دانوں کی کوتاہیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان پر بھرپور تنقید کی اور عوامی شعور کو بیدار کیا ۔ ملک کے دن بدن زوال کی تصویر کشی کرتے ہوئے استاد دامن کہتے ہیں :

    بھج بھج کے وکھیاں چور ہوئیاں
    مڑ کے و یکھیا تے کھوتی بوہڑ ہیٹھاں

    استاد دامن عام بول چال کی زبان میں اپنا خیال پیش کرکے سامعین و قارئین کے دلوں کی گہرائیوں کوچھو لیتےاستاد دامن کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف فیض احمد فیض نے ایک نجی محفل میں یہ کہہ کر کیا کہ میں پنجابی میں صرف اس لئے شاعری نہیں کرتا کہ پنجابی میں شاہ حسین ، وارث شاہ اور بلھے شاہ کے بعد استاد دامن جیسے شاعر موجود ہیں ۔

    استاد دامن کی یادداشت بہت اچھی تھی ۔ قیام پاکستان کے بعد کچھ شر پسندوں نے ان کی ذاتی لائبریری اور دکان کو آگ لگا دی تو ان کی ذاتی تحریریں ، ہیر کا مسودہ جسے وہ مکمل کر رہے تھے اور دوسری کتابیں جل کر راکھ ہو گئیں تو انہوں نے دل برداشتہ ہو کر اپنا کلام کاغذ پر محفوظ کر نا چھوڑ دیا اور صرف اپنے حافظے پر بھر وسہ کرنے لگے ۔ ان کا کافی کلام ضائع ہو گیا لیکن ان کی یاد میں قائم ہونے والی استاد دامن اکیڈمی کے عہدیداروں نے بڑی محبت وکاوش سے ان کے مختلف ذہنوں میں محفوظ اور ادھر ادھر بکھر ے ہو ئے کلام کو یکجا کر کے’’دامن دے موتی‘‘ کے نام سے ایک کتاب پیش کی۔

    استاد دامن نے فلموں کیلئے بھی گیت لکھے ۔ ان کا فلم’’ غیرت دا نشان ‘‘ میں شامل یہ گیت بہت مشہور ہوا۔

    منیوں دھرتی قلعی کرا دے میں نچاں ساری رات
    نہ میں سونے دی نہ چاندی دی میں پتل بھری پرات

    استاد دامن ، پنجابی کے علاوہ اردو سنسکرت ، ہندی اور انگریزی زبانوں پر بھی دسترس رکھتے تھے لیکن انہوں نے وسیلہ اظہار اپنی ماں بولی پنجابی ہی کو بنایا ۔ استاد دامن بلھے شاہ اکیڈمی کےسرپرست، مجلس شاہ حسین کے سرپرست اور ریڈیو پاکستان شعبہ پنجابی کے مشیر بھی تھے ۔ ان مختلف حیثیتوں میں انہوں نے پنجابی زبان وادب کی ناقابل فراموش خدمات سر انجام دیں ۔

    استاد دامن کہا کرتے تھے کہ اگر کسی نے میرا اردو ایڈیشن دیکھنا ہو تو وہ حبیب جالب کو دیکھ لےاستاد دامن کو فیض اور جالب سے محبت تھی۔ 80 کی دہائی میں جب انکے منہ بولے بیٹے فلم سٹار علاؤالدین کا انتقال ہوا تو گویا استاد دامن کی کمر ٹوٹ گئی۔ بستر پر ہی پڑے رہتے ،کبھی ہسپتال اور کبھی گھر، پھر تھوڑے ہی عرصے کے بعد فیض صاحب بھی خالق حقیقی سے جاملے۔

    استاد سے محبت کرنے والوں نےلاکھ روکا، وہ نہ مانے اور اپنےیاردیرینہ کے جنازے پر پہنچ گئےلوگوں نے استاد دامن کو پہلی بار دھاڑیں مارتے ہوئے دیکھا۔ ایسے معلوم ہوتا تھا کہ گویا تقسیم سے لے کر آج تک ٹوٹنےوالی ساری قیامتوں کی اذیت فیض صاحب کے جانے کے بعد ہی ان تک آئی ہےفیض صاحب کا انتقال 20 نومبر 1984ء کو ہوا اور اسی شام دامن کی ہمت بھی جواب دے گئی۔ایسے ٹوٹے کے صرف تیرہ دن بعد 3 دسمبر 1984 کو فیض صاحب کے پیچھے روانہ ہو گئے۔ آج ان کی برسی ہے.

    انہیں ان کی وصیت کے مطابق شاہ حسین کے مزار کے سائے میں دفن کیا گیا ۔

    منقول

  • عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا کا یوم پیدائش

    عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا کا یوم پیدائش

    چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
    میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

    ہندوستان کے عالمی شہرت یافتہ شاعر منور رانا 26؍نومبر 1952ء کو اتر پردیش کے شہر رائے بریلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام سید منور علی اور تخلص رانا ہے ۔ان کے رشتہ دار مع دادی اور نانی، تقسیم ہندوستان کے وقت پاکستان ہجرت کر گئے۔ لیکن ان کے والد صاحب بے ہندوستان سے اٹوٹ محبت کی وجہ سے بھارت ہی کو اپنا مسکن بنا لیا۔ بعد میں ان کا خاندان کولکتہ منتقل ہو گیا۔ یہیں پر منور راناؔ کی ابتدائی تعلیم ہوئی۔ منور راناؔ کی شاعری میں غزل گوئی ہی نے جگہ لی۔ ان کے کلام میں ” ماں” پر لکھا کلام کافی شہرہ یافتہ ہے۔ ان کی غزلیں، ہندی، بنگلہ (بنگالی) اور گرومکھی زبانوں میں بھی ہیں۔

    منور راناؔ نے اپنے کلام میں روایتی ہندی اور اودھی زبان کو بخوبی استعمال کیا ہے۔ جس کی وجہ سے انہیں کافی شہرت اور مقام ملا۔ ان کی غزلوں میں شوخی کم اور حقیقت پسندی زیادہ پائی جاتی ہے۔

    تخلیقات
    نیم کے پھول (1993ء)
    کہو ظل الہیٰ سے (2000ء)
    بغیرنقشے کا مکان (2001ء)
    سفید جنگلی کبوتر (2005ء)
    امیر خسرو ایوارڈ 2006ء

    ایوارڈز و اعزازات

    کویتا کا کبیر سمان اُپادھی 2006، اندور
    میر تقی ایوارڈ 2005ء
    شہود عالم آفاقی ایوارڈ، 2005ء، کولکتہ
    غالب ایوارڈ 2005ء، ادئے پور
    ڈاکٹر ذاکر حسین ایوارڈ 2005ء، نئی دہلی
    سرسوتی سماج ایوارڈ 2004ء
    مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی ایوارڈ 2011ء (مغربی بنگال اردو اکیڈمی)
    سلیم جعفری ایوارڈ 1997ء
    دلکش ایوارڈ 1995ء
    رئیس امروہی ایوارڈ 1993ء، رائے بریلی
    بھارتی پریشد ایوارڈ، الہ آباد
    ہمایون کبیر ایوارڈ، کولکتہ
    بزم سخن ایوارڈ، بھوساول
    الہ آباد پریس کلب ایوارڈ
    حضرت الماس شاہ ایوارڈ
    سرسوتی سماج ایوارڈ
    ادب ایوارڈ
    میر ایوارڈ
    مولانا ابوالحسن ندوی ایوارڈ
    استاد بسم اللہ خان ایوارڈ
    کبیر ایوارڈ

    منور راناؔ صاحب کی شاعری سے چند منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں سے اذاں دیکھی ہے
    میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے

    ابھی زندہ ہے ماں میری مجھے کچھ بھی نہیں ہوگا
    میں گھر سے جب نکلتا ہوں دعا بھی ساتھ چلتی ہے

    اس طرح میرے گناہوں کو وہ دھو دیتی ہے
    ماں بہت غصے میں ہوتی ہے تو رو دیتی ہے

    کسی کو گھر ملا حصے میں یا کوئی دکاں آئی
    میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا مرے حصے میں ماں آئی

    ایک آنسو بھی حکومت کے لیے خطرہ ہے
    تم نے دیکھا نہیں آنکھوں کا سمندر ہونا

    جب بھی کشتی مری سیلاب میں آ جاتی ہے
    ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آ جاتی ہے

    سو جاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
    مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے

    کل اپنے آپ کو دیکھا تھا ماں کی آنکھوں میں
    یہ آئینہ ہمیں بوڑھا نہیں بتاتا ہے

    کچھ بکھری ہوئی یادوں کے قصے بھی بہت تھے
    کچھ اس نے بھی بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا

    تیرے دامن میں ستارے ہیں تو ہوں گے اے فلک
    مجھ کو اپنی ماں کی میلی اوڑھنی اچھی لگی

    منور ماں کے آگے یوں کبھی کھل کر نہیں رونا
    جہاں بنیاد ہو اتنی نمی اچھی نہیں ہوتی

    برباد کر دیا ہمیں پردیس نے مگر
    ماں سب سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا مزے میں ہے

    تمام جسم کو آنکھیں بنا کے راہ تکو
    تمام کھیل محبت میں انتظار کا ہے

    فرشتے آ کر ان کے جسم پر خوشبو لگاتے ہیں
    وہ بچے ریل کے ڈبوں میں جو جھاڑو لگاتے ہیں

    یہ ایسا قرض ہے جو میں ادا کر ہی نہیں سکتا
    میں جب تک گھر نہ لوٹوں میری ماں سجدے میں رہتی ہے

    کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گا
    اگر بہنیں نہیں ہوں گی تو راکھی کون باندھے گا

    میں نے کل شب چاہتوں کی سب کتابیں پھاڑ دیں
    صرف اک کاغذ پہ لکھا لفظ ماں رہنے دیا

    یہ سوچ کے ماں باپ کی خدمت میں لگا ہوں
    اس پیڑ کا سایا مرے بچوں کو ملے گا

    دن بھر کی مشقت سے بدن چور ہے لیکن
    ماں نے مجھے دیکھا تو تھکن بھول گئی ہے

    لپٹ جاتا ہوں ماں سے اور موسی مسکراتی ہے
    میں اردو میں غزل کہتا ہوں ہندی مسکراتی ہے

    تمہارے شہر میں میت کو سب کاندھا نہیں دیتے
    ہمارے گاؤں میں چھپر بھی سب مل کر اٹھاتے ہیں

    شہر کے رستے ہوں چاہے گاؤں کی پگڈنڈیاں
    ماں کی انگلی تھام کر چلنا بہت اچھا لگا

    ماں خواب میں آ کر یہ بتا جاتی ہے ہر روز
    بوسیدہ سی اوڑھی ہوئی اس شال میں ہم ہیں

    مرے بچوں میں ساری عادتیں موجود ہیں میری
    تو پھر ان بد نصیبوں کو نہ کیوں اردو زباں آئی

    مٹی کا بدن کر دیا مٹی کے حوالے
    مٹی کو کہیں تاج محل میں نہیں رکھا

    پھینکی نہ منورؔ نے بزرگوں کی نشانی
    دستار پدستار پرانی ہے مگر باندھے ہوئے ہے

    نکلنے ہی نہیں دیتی ہیں اشکوں کو مری آنکھیں
    کہ یہ بچے ہمیشہ ماں کی نگرانی میں رہتے ہیں

    میں اسی مٹی سے اٹھا تھا بگولے کی طرح
    اور پھر اک دن اسی مٹی میں مٹی مل گئی

    تھکن کو اوڑھ کے بستر میں جا کے لیٹ گئے
    ہم اپنی قبر مقرر میں جا کے لیٹ گئے
    تمام عمر ہم اک دوسرے سے لڑتے رہے
    مگر مرے تو برابر میں جا کے لیٹ گئے

    تلاش و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • معروف شاعرہ سیدہ شاہدہ حسن  کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ سیدہ شاہدہ حسن کا یوم پیدائش

    میں مثل موسم غم تیرے جسم و جاں میں رہی
    کہ خود بکھر گئی لیکن تجھے نکھار گئی

    سیدہ شاہدہ حسن نام اور تخلص شاہدہ ہے۔ 24 نومبر 1953ء کو چٹاگانگ میں پیدا ہوئیں۔ گورنمنٹ گرلز کالج کراچی سے انٹر کا امتحان پاس کرنے کے بعد کراچی یونیورسٹی سے پہلے انگریزی ادب میں بی اے(آنرز) اور پھر 1975ء میں ایم اے کی سند حاصل کی۔ کراچی میں تدریس سے وابستہ رہیں۔ وقتاً فوقتاً ان کا کلام ادبی رسائل میں شائع ہوتا رہتا ہے۔ ا ن کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’ایک تارا ہے سرہانے میرے‘‘، ’’یہاں کچھ پھول رکھے ہیں‘‘۔ 1992ء میں فانی بدایونی عالمی ایوارڈ کا مستحق قرار دیا گیا ۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:418

    تصنیفات

    ۔ (1)ادا جعفری فن و شخصیت-2007
    ۔ (2)یہاں کچھ پھول رکھے ہیں-2002
    ۔ (3)ایک تارہ ہے سرہانے میرے-1995
    ۔ (4)شام کی بارشیں

    غزل

    احساس تو مجھی پہ کر رہی ہے
    چھوکر جو ہوا گزر رہی ہے
    جس نے مجھے شاخ پر نہ چاہا
    خوشبو مری اس کے گھر رہی ہے
    بے سمتیٔ اشک کی ندامت
    اس بار بھی ہم سفر رہی ہے
    ٹھہرا ہے وہ جب سے رہ گزر میں
    مٹی مری رقص کر رہی ہے
    چپکے سے گھڑی گھڑی مسافرت کی
    دہلیز پہ پاؤں دھر رہی ہے
    تارے بھی نظر نہ آئیں گھر میں
    آنکھ ایسی گھڑی سے ڈر رہی ہے
    ٹوٹا ہوا عکس لے کے لڑکی
    آئینے میں پھر سنور رہی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    سواد شام سے تا صبح بے کنار گئی
    ترے لیے تو میں ہر بار ہار ہار گئی
    کہاں کے خواب کہ آنکھوں سے تیرے لمس کے بعد
    ہزار رات گئی اور بے شمار گئی
    میں مثل موسم غم تیرے جسم و جاں میں رہی
    کہ خود بکھر گئی لیکن تجھے نکھار گئی
    کمال کم نگہی ہے یہ اعتبار ترا
    وہی نگاہ بہت تھی جو دل کے پار گئی
    عجب سا سلسلۂ نارسائی ساتھ رہا
    میں ساتھ رہ کے بھی اکثر اسے پکار گئی
    خبر نہیں کہ یہ پوچھوں تو کس سے پوچھوں میں
    وہاں تلک میں گئی ہوں کہ رہ گزار گئی

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    چراغ شام ہی تنہا نہیں ہے
    ہوا میں نے بھی گھر دیکھا نہیں ہے
    وہ بادل ہے مگر اس دشت جاں پر
    ابھی دل کھول کر برسا نہیں ہے
    محبت اک حصار بے نشاں ہے
    لہو میں دائرہ بنتا نہیں ہے
    بکھرتی جا رہی ہوں اور خوش ہوں
    سمٹنے میں کوئی سچا نہیں ہے
    خوشا اے روئے شاخ سبز تجھ پر
    سراب آئینہ کھلتا نہیں ہے
    تجھے دیکھا ہے جب سے شام آلودہ
    مری آنکھوں میں دن اترا نہیں ہے
    میں کیوں دیکھوں ہجوم مہر و مہ کو
    مری تنہائیوں میں کیا نہیں ہے
    نہیں جاتے ہیں دکھ اب آ کے گھر سے
    کہ یہ آنا ترا آنا نہیں ہے
    بھٹک جائیں گی راتیں جس کے ہاتھوں
    ابھی اس خواب کا چرچا نہیں ہے
    زباں گم تھی اثر کے ذائقوں میں
    ترا مجرم لب گویا نہیں ہے

    تلاش و ترسیل :آغانیاز مگسی

  • معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کا یوم پیدائش

    معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کا یوم پیدائش

    پت جھڑ کی رت پہ بھی کوئی دیکھے مرا ہنر
    دامان تار تار سیے جا رہی ہوں میں

    معروف شاعرہ اور ادیبہ سیدہ مہناز وارثی کلکتہ میں 22 نومبر 1969ء کو ،سید غلام محی الدین وارثی (مرحوم) اور گہر جان (مرحومہ) کے ہاں پیدا ہوئیں انہوں نے ایم اے، پی ایچ ڈی کی اور خدمتِ خلق میں لگ گئیں ان کی تصانیف میں جاگتی آنکھوں کا سپنا (شعری مجموعہ) زیرِ ترتیب ہیں جس نے ان کو شناخت دی-

    ان کی خدمات کی بدولت انہیں کئی ملکی و بین الاقوامی انعامات و اعزازات سے نواز اگیا جن میں (1)جھانسی کی رانی لکشمی بائی استری شکتی ایوارڈ (حکومت ہند) ، (2) ویمنس آف دی ایئر انٹرنیشنل ایوارڈ (حکومت ہند)، (3)رول ماڈل (حکومت ہند)، (4)فخرِ ہندوستان (حکومت ہند)، (5)مدر ٹریسا ایوارڈ (حکومت ہند)، (6)ملینیم مدر ٹریسا ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال)، (7)ٹیلنٹیڈ لیڈیز ایوارڈ (8)ٹیلنٹیڈ لیڈیز نیشنل ایوارڈ، ویمنس آف دی ایئر (امریکن بائیوگرافیکل انسٹی ٹیوٹ، کیلی فورنیا)، (10)دی ٹیلی گراف ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال)، (11)بیگم رقیہ ایوارڈ (حکومت مغربی بنگال) مکمل پتا:پریم آشا، 41/C، جان نگر روڈ کلکتہ-700017 شامل ہیں-

    غزل

    دادِ جفا وفا ہے دیے جارہی ہوں میں
    اُن سے مگر نباہ کیے جارہی ہوں میں
    خونِ دل و جگر ہو کہ ہوں میرے اشکِ غم
    اُن کا ہی نام لے کے پیے جارہی ہوں میں
    پت جھڑ کی رُت پہ بھی کوئی دیکھے مرا ہنر
    دامانِ تارتار سیے جارہی ہوں میں
    وارفتگی کہوں اِسے یا بے خودی کہوں
    بس آپ ہی کا نام لیے جارہی ہوں میں
    شاید کہ زندگی کے کسی موڑ پر ملوں
    یہ سوچتی ہوں اور جیے جارہی ہوں میں
    کیا رنگ لائے خدمتِ مخلوق دیکھیے
    خدمت کا حوصلہ ہے ، کیے جارہی ہوں میں
    مہنازؔ وہ بھی یاد کریں گے مری وفا
    دل دے کے اُن سے درد لیے جارہی ہوں میں

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    حسرتوں کا مزار ہے سینہ
    دفن ہیں دل میں دل کے افسانے
    اس تبسم فروش دنیا میں
    غم کے ماروں کو کون پہچانے
    تم حقیقت کو کیسے سمجھو گے
    جب سمجھتے نہیں ہو افسانے
    میں تو پیاسی ہی لوٹ آئی ہوں
    پوچھ مت کیا کہا ہے دریا نے
    مجھ کو مہنازؔ یہ پتا بھی نہیں
    ڈھونڈتے ہیں کسے یہ پروانے

    اشعار

    زندگی بھر بلندی نہ ملتی ہمیں
    ہار جاتے اگر حوصلے آپ ہم
    کچھ نہ کچھ ہاتھ اس میں پڑوسی کا ہے
    ورنہ کل تک تھے اچھے بھلے آپ ہم
    دوستی کے ہیں انجام سے آشنا
    چونکہ مہنازؔ ہیں دل جلے آپ ہم

    آغا نیازمگسی

  • مولانا سید سلیمان ندوی کا یوم پیدائش اور وفات

    مولانا سید سلیمان ندوی کا یوم پیدائش اور وفات

    مولانا سید سلیمان ندوی (22 نومبر 1884ء — 22 نومبر 1953ء) اردو ادب کے نامور سیرت نگار، عالم، مؤرخ اور چند قابل قدر کتابوں کے مصنف تھے جن میں سیرت النبی کو نمایاں حیثیت حاصل ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم: مولانا سید سیلمان ندوی ضلع پٹنہ کے ایک قصبہ دیسنہ میں 22 نومبر 1884ء کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد حکیم سید ابو الحسن ایک صوفی منش انسان تھے۔ تعلیم کا آغاز خلیفہ انور علی اور مولوی مقصود علی سے کیا۔ اپنے بڑے بھائی حکیم سید ابو حبیب سے بھی تعلیم حاصل کی۔ 1899ء میں پھلواری شریف (بہار (بھارت)) چلے گئے جہاں خانقاہ مجیبیہ کے مولانا محی الدین اور شاہ سلیمان پھلواری سے وابستہ ہو گئے۔ یہاں سے وہ دربھنگا چلے گئے اور مدرسہ امدادیہ میں چند ماہ رہے۔ 1901ء میں دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ میں داخل ہوئے جہاں سات سال تک تعلیم حاصل کی۔ 1913ء میں دکن کالج پونا میں معلم السنۂ مشرقیہ مقرر ہوئے۔ 1940ء میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی سند عطا کی۔

    علمی خدمات:

    عالمِ اسلام کو جن علما پر ناز ہے ان میں سید سلیمان ندوی بھی شامل ہیں۔ ان کی علمی اور ادبی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جب ان کے استاد علامہ شبلی نعمانی سیرت النبی کی پہلی دو جلدیں لکھ کر 18 نومبر، 1914ء کو انتقال کر گئے تو باقی چار جلدیں سید سلیمان ندوی نے مکمل کیں۔ اپنے شفیق استاد کی وصیت پر ہی دار المصنفین، اعظم گڑھ قائم کیا اور ایک ماہنامہ، معارف جاری کیا۔

    تصانیف:

    سیرت النبی
    عرب و ہند کے تعلقات
    حیات شبلی
    رحمت عالم
    نقوش سلیمان
    حیات امام مالک
    اہل السنہ والجماعہ
    یاد رفتگاں
    سیر افغانستان
    مقالات سلیمان
    خیام
    دروس الادب
    خطبات مدراس
    ارض القرآن
    ہندوؤں کی علمی و تعلیم ترقی میں مسلمان حکمرانوں کی کوششیں
    بہائیت اور اسلام

    ہجرت و وفات:

    تقسیم ہند کے بعد جون 1950ء میں ساری املاک ہندوستان میں چھوڑ کر ہجرت کر کے پاکستان آ گئے اور کراچی میں مقیم ہوئے۔ یہاں مذہبی و علمی مشاغل جاری رکھے۔ حکومت پاکستان کی طرف سے تعلیمات اسلامی بورڈ کے صدر مقرر ہوئے۔ 69 سال کی عمر میں کراچی میں ہی 22 نومبر 1953ء کو انتقال کیا۔

    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • اشفاق احمد کی 18 ویں  برسی

    اشفاق احمد کی 18 ویں برسی

    گفتگو کا بادشاہ سمجھے جانے والے ڈرامہ رائٹر ، دانشور، ادیب ، تجزیہ نگار، براڈ کاسٹر ، سفر نامہ نگار اشفاق احمد کو ہم سے بچھڑے 18 برس بیت گئے ہیں. علم و ادب کی یہ بہت بڑی ہستی قیام پاکستان کے بعد اپنے والدین کے ہمراہ پاکستان آئی. پاکستان آنے بعد انہوں نے گورنمنٹ کالج میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا یہاں بانو قدسیہ بھی پڑھتی تھیں وہ ان کی ہم جماعت تھی ان کی یہیں دوستی ہوئی اور یہ دوستی شادی میں بدل گئی. اشفاق احمد کا پہلا افسانہ 1953 میں آیا. اشفاق احمد کا شمار ان ادبی شخصیات میں ہوتا ہے جو قیام پاکستان کے بعد ادب کے افق پر چمکے. 1968 میں وہ مرکزی اردو بورڈ کے ڈائریکٹر منتخب ہوئے 89 تک یہ سلسلہ چلا . ضیاء الحق کے دور میں وفاقی وزیر تعلیم کے مشیر بھی مقرر

    ہوئے. 1965 میں ریڈیو پاکستان سے وابستہ ہوئے یہاں انہوں نے ہفتہ وار پروگرام شروع کیا جو کہ 30 سال تک چلتا رہا. 70 کی دہائی کے شروع میں انہوں نے ایک محبت سو افسانے لکھا. طوطا کہانی اور من چلے کا سودا سے اشفاق احمد تصوف کی طرف مائل ہوئے. اشفاق احمد کو ڈرامہ کی کہانی لکھنے کے فن پر جو عبور حاصل تھا وہ کسی کسی کو نصیب ہوا ، اشفاق احمد پلاٹ سے زیادہ مکالموں پر زور دیتے ان کے کردار طویل گفتگو کرتے. اشفاق احمد نے پی ٹی وی پر زاویے کے نام سے پروگرام بھی کیا یہ پروگرام بہت زیادہ سراہا گیا. جگر کا عارضہ لاحق ہونے کے باعث آج ہی کے دن 2004 میں خالق حقیقی سے جا ملے .