Baaghi TV

Tag: ادویات

  • حکومت نے ادویات مہنگی کرنے کی اجازت دے دی

    حکومت نے ادویات مہنگی کرنے کی اجازت دے دی

    اسلام آباد: وفاقی حکومت اور فارماسوٹیکل کمپنیوں کے درمیان پیراسیٹامول ٹیبلٹ (نارمل) کی قیمت کم جب کہ پیراسیٹامول (ایکسٹرا) اور سیرپ مہنگا کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔

    ادویہ ساز کمپنیوں کے حکام کی وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارسے تفصیلی ملاقات کے بعد وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ کمپنیوں کے حکام سے پیراسیٹا مول کی قیمت پر بات چیت ہوئی ہے اور ملاقات میں پیراسیٹامول نارمل کی ٹیبلٹ 2.35 روپے میں فروخت کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔

    آزاد جموں و کشمیر میں سیاحت کے فروغ کیلئے کمرشل ہیلی کاپٹر سروس کا افتتاح

    اعلامیے کے مطابق پیراسیٹامول ایکسٹرا اور سیرپ مہنگا کرنے پر اتفاق رائے کیا گیا۔ حکومت نے پیراسیٹامول ایکسٹرا اور سیرپ کا ریٹ بڑھانے کے مطالبے کا نصف منظور کرلیا ہے اور پیراسیٹامول ایکسٹرا کی ٹیبلٹ کی قیمت 2.75 روپے کرنے کی منظوری دی گئی جب کہ پیراسیٹامول سیرپ کی قیمت 117.60 روپے مقرر کرنے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی؛ ایک دن میں اربوں روپے ڈوب گئے

    یاد رہے کہ پاکستان میں قیمت پر اختلاف کی وجہ سے دوا ساز کمپنیوں نے بخار اور دیگر معمولی تکالیف میں تجویز کی جانے والی پیناڈول سمیت 100 سے زائد سستی ادویات کی پیداوار بند کر رکھی ہے، جس سے مارکیٹ میں ان کی قلت ہوگئی ہے اور ان کی متبادل دوائیں مزید مہنگی ہوگئی ہیں۔

    میڈیسن مینوفیکچرز ایسوسی ایشن کے مطابق غیر ملکی دوا ساز کمپنیوں نے ڈالر مہنگا ہونے پر بیرون ملک سے آنے والے خام مال کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے حکومت سے دواؤں کی قیمتیں بڑھانے کا مطالبہ کیا تھا، تاہم کابینہ نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) کی سفارش کے باوجود 100 سے زائد سستی ادویات کی قیمتیں بڑھانے سے انکار کردیا ہے، جس کے بعد کمپنیوں نے پیداور روک دی تھی۔

  • ادویات کی قیمتوں میں اضافےکےساتھ ہی کھانےپینے کی اشیاء 48 فیصد مہنگی کردی گئیں

    ادویات کی قیمتوں میں اضافےکےساتھ ہی کھانےپینے کی اشیاء 48 فیصد مہنگی کردی گئیں

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر دالوں کی قیمت میں 48 روپے فی کلو تک اضافہ کر دیا گیا۔ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز پر مختلف دالوں کی قیمت میں اڑتالیس روپے کلو تک اضافہ کردیا گیا ہے، اور اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے، جس کا اطلاق فوری ہوگا۔

    پاکستان میں مہنگائی12فیصد سے بڑھ کر21فیصد تک پہنچ گئی:ایشین ترقیاتی بینک

    نوٹیفکیشن کے مطابق مختلف دالیں 48 روپے فی کلو تک مہنگی کی گئی ہیں، کالے چنے کی فی کلو قیمت میں 48 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد کالے چنے کی قیمت 172 روپے سے بڑھا کر 220 روپے مقرر کی گئی ہے۔

    نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ دال مسور 40 روپے اضافے بعد 310 روپے فی کلو ہوگئی ہے، جب کہ لال لوبیا 35 روپے مہنگا کرکے نئی قیمت 270 روپے فی کلو مقرر کی گئی ہے۔

    مہنگائی کی شرح 14 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر اب ثابت مسور بھی 35 روپے مہنگی میسر ہوگی، اور اس کی نئی قیمت 310 روپے فی کلو ہوگئی ہے، دال مونگ 30 روپے اضافے بعد 200 روپے فی کلو میں ملے گی، جب کہ دال چنا کی قیمت 190 روپے سے بڑھا کر 220 روپے کر دی گئی ہے۔

    اس سے پہلےادویات کی قیمتوں میں 300فیصد تک اضافہ ہونے سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا ہے، جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں جان نکالنے لگیں۔میڈیسن مارکیٹ میں ادویات کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں۔شوگر ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات مہنگی۔انفلوویک ویکسین کی قیمت 600سے بڑھا کر 1989کردی گئی۔

    شہر میں محکمہ صحت اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی شہر میں ادویات کی قیمتوں پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔میڈیسن مارکیٹ میں جان بچانے والی ادویات کی قیمتیں اب آسمان سے باتیں کرنے لگی ۔

    حکمران مفادات کے لیے دست وگریبان، عوام مہنگائی کی آگ میں جل گئے،سراج الحق

    شوگر ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات منگی ،شوگر ،بلڈ پریشر اور دل کی بیماریوں میں استعمال ہونے والی ادویات منگی ہونے کیساتھ عام اسٹورز پر غائب بھی ہیں۔ جس کی وجہ سے لواحقین پریشان ہیں۔انفلوویک ویکسین کی قیمت 600سے بڑھا کر 1989کردی گئی۔

  • ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہونے کا امکان

    ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہونے کا امکان

    اسلام آباد: ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہونے کا امکان، ادویہ ساز کمپنیوں نے حکومت سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کی ادویہ ساز کمپنیوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ کیا جائے اگر ایسا نہ کیا گیا تو ملک میں ادویات قلت بڑھتی جائے گی جس کے نتیجے میں مریضوں اور ان کے اہل خانہ کو شدید مشکلات پیش آئیں گی۔

    پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے وفد نے وائس چیئرمین عاطف اقبال کی قیادت میں وزیراعظم کی ہدایت پر ادویات کی قلت کے معاملے پر بنائی گئی پی ایم انسپیکشن کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کی۔پرائم منسٹر انسپیکشن ٹیم نے ادویات کی قلت سے متعلق انکوائری شروع کر رکھی ہے۔

    کمیٹی میں محکمہ صحت سمیت دیگر اداروں کے اعلی حکام بھی شامل ہیں۔

    پاکستان فارما سیوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن کے چیئرمین قاضی منصور دلاور نے بتایا کہ پی پی ایم اے کے اراکین نے وزیراعظم انسپیکشن کمیٹی سے ملاقات کی اور کمیٹی کے سامنے اپنے مطالبات اور تجاویز رکھی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ڈالر کی قیمتوں میں اضافے، خام مال کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کی وجہ سے 30 سے 40 فیصد ادویات وائبل ہی نہیں ہیں، ان ساری چیزوں سے انڈسٹری متاثر ہورہی ہے ہم خود سے قیمتیں بڑھا نہیں سکتے، جو کم قیمت ادویات ہیں ان پر لاگت زیادہ آرہی ہے، وہ مارکیٹ میں نہیں مل رہیں، جب لاگت زیادہ آئے گی تو انڈسٹری کیسے چلے گی۔

    انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر لکھتے ہی ملٹی نیشنل کمپنی کی ادویات ہیں، لوگ مانگتے ہی وہ ہیں اس لئے ان کا پتہ چل جاتا ہے کہ ان ادویات کی قلت ہے۔ہم نے بتایا کہ ہم سے سیلز ٹیکس کی مد میں 35سی 40 کروڑ لے لیا جو واپس نہیں ملا، ڈالر اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اس کا انڈسٹری پر فرق پڑا ہے۔قاضی منصور کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ سال پہلے 20 فٹ کنٹینر کا انٹرنیشنل فریٹ ریٹ 1200 ڈالر تھا جو اب 10 ہزار ڈالر ہوگیا، اس وجہ سے ادویات کی لاگت کہیں سے کہیں جاپہنچی ہے، ہم نے حکومت سے ادویات کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے، ساری سفارشات اور تجاویز انہیں دی ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہم سے انہوں نے پوچھا ہے اس بحران سے نکلنے میں کتنا وقت لگے گا ، تو ہم نے کمیٹی کو بتایا ہے کہ اگر فوری قیمتیں دے دی جائیں تو 90 دن لگیں گے اور صرف قیمتیں نہیں بلکہ ہمیں ہمارا سیلز ٹیکس کی مد میں لیا گیا پیسہ بھی واپس کرائیں، اگر یہ تاخیر کریں گے تو مزید ادویات کی قلت ہوگی۔

  • ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ

    ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ

    صوبائی وزیر خواجہ عمران نزیر کی زیر صدارت مارکیٹ میں ادویات کی قلت کے باعث عوامل کا جائزہ لینے کے سلسلہ میں ہنگامی اجلاس منعقد ہوا.اجلاس میں سیکرٹری صحت علی جان خان، سپیشل سیکرٹری صالحہ سعید، ڈی جی ڈرگز کنٹرول محمد سہیل، ایڈیشنل سیکرٹری ٹیکنیکل عاصم الطاف، چیف ڈرگز کنٹرولر اظہر سلیمہ اور سیکرٹری پنجاب کوالٹی کنٹرول بورڈ شفیق خان نے شرکت کی.

    صوبائی وزیر خواجہ عمران نزیر نے تمام سرکاری ہسپتالوں اور مارکیٹوں میں موجود ادویات کے سٹاک کا تفصیلی جائزہ لیا،ڈی جی ڈرگز کنٹرول کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی.

    پاکستان جیسے زرعی ملک میں گزشتہ حکومت میں غذائی بحران آئے۔ وزیر اعظم

    صوبائی وزیر خواجہ عمران نزیر نے بتایا کہ محکمہ صحت کے پاس جان بچانے والی ادویات کا وافر سٹاک موجود ہے۔ محکمہ صحت کے پاس اس وقت 38 کروڑ 30 لاکھ سے زائد پیراسٹامول کی گولیاں موجود ہیں۔ مارکیٹوں میں 3 کروڑ 80 لاکھ سے زائد پیراسٹامول کی گولیاں موجود ہیں۔

     

    کورونا وائرس سے مزید دو افراد انتقال کر گئے

     

    خواجہ عمران نزیرنے کہا کہ مارکیٹوں میں ادویات کی مصنوعی قلت پیدا کرنے والے عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ادویات کی قلت پیدا کرنے والے عوامل اور عناصر پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مارکیٹوں میں ادویات کی قلت پیدا کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائیگی۔

     

     

     

    خواجہ عمران نزیرنے تمام ڈرگز انسپکٹرز کو ادویات کی قلت پیدا کرنے والے عناصر کے خلاف کیسز مکمل کر کے کارروائی کے لئے پنجاب کوالٹی کنٹرول بورڈ کو جلد بھجوا نے کی ہدایت کر دی.

  • لاہور: میو اسپتال سے ادویات چوری کے الزام میں 7 ملازمین کیخلاف مقدمہ درج

    لاہور: میو اسپتال سے ادویات چوری کے الزام میں 7 ملازمین کیخلاف مقدمہ درج

    لاہور کے میو اسپتال سے ادویات چوری کرنے کے الزام میں 7 ملازمین کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا-

    باغی ٹی وی : ذرائع کا کہنا ہے کہ میو اسپتال سے ادویات چوری کا مقدمہ تھانہ گوالمنڈی میں ڈی ایم ایس ڈاکٹر زین العابدین کی مدعیت میں درج کیا گیا مقدمے میں مریضوں کی جان خطرے میں ڈالنے اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی دفعات شامل ہیں۔

    خیبرپختونخواہ میں جرائم، لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کے واقعات ،مردان کا پہلا نمبر

    ایف آئی آر کےمطابق وارڈ اٹینڈنٹ مبشر زکریا ادویات چوری کرتے ہوئےرنگے ہاتھوں پکڑا گیا، ملزم کا کہنا تھا کہ اسٹورکیپر وقاص اور ڈسپنسر لطیف اسے چوری پر مجبور کرتے تھے۔

    ملزم نے مزید بتایا کہ اس کام میں سکیورٹی سپروائزر اعظم،گارڈ اعجاز اورعلی رضا بھی ملوث ہیں جبکہ چوری کی ادویات بلال نامی شخص کو بیچتے تھے ۔

    پولیس کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کے لیے دو ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

    قبل ازیں پنجاب انسٹیٹیوٹ آف نیورو سائنسز(پنیز) جنرل ہسپتال لاہور میں بھی ادویات چوری کرنے والا بڑا گینگ پکڑا گیا تھا گینگ کے زیادہ تر اراکین مقامی یونین کے عہدیدارتھے جنہیں رواں ماہ 5 جولائی کو پیر کے روز رنگے ہاتھوں ادویات سمیت پکڑا گیا تھا-

    سیکیورٹی عملے نے لاکھوں روپے کی ادویات برآمد کر کے میڈیکل سپریٹنڈنٹ کے حوالے کردیں تھیں، جس کے بعد ایم ایس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی تھی ۔

    بتایا گیا تھا کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر خالد بن اسلم کو خفیہ ذرائع سے اطلاع ملی کہ سرکاری ملازمین جن میں اکثریت یونین عہدیداروں کی ہے ایک گینگ تشکیل دے رکھا ہے یہ پینز اور جنرل ہسپتال کے سٹورز سے مہنگی ترین ادویات چوری کرتے ہیں۔

    ایم ایس نے فوری طور پر ایڈیشنل ایم ایس پر چیز اور چیف فارماسسٹ کو موقع پر طلب کیا اور فوری تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی۔ اس حوالے سے ایم ایس ڈاکٹر خالد بن اسلم سے کہا تھا کہ انہوں نے کہا کہ تحقیقات شروع کر دی ہیں جو ذمہ دار ہوں گے ان کے خلاف کارروائی ہو گی۔

    جبکہ اس سے قبل پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں بھی ادویات چوری کرنے والا بڑا گینگ پکڑا گیا تھا-

  • وزیراعظم نے ہسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی کے لیے تجاویز مانگ لیں

    وزیراعظم نے ہسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی کے لیے تجاویز مانگ لیں

    اسلام آباد:وزیر اعظم نے پنجاب کے اسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی کیلئے تجاویز مانگ لیں وزیر اعظم شہباز شریف نے پنجاب کے تمام اسپتالوں میں ادویات کی مفت فراہمی مریضوں تک یقینی بنانے کے حوالے سے تجاویز مانگ لیں۔

    اطلاعات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اہم اجلاس ماڈل ٹاؤن لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر ہوا جو دوگھنٹے جاری رہا ۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس میں چیف سیکرٹری پنجاب کامران افضل ،سابق وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق ،خواجہ عمران نذیر اور پنجاب کے محکمہ صحت کے افسران نے شرکت کی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ پاکستان کڈنی اینڈ لیور اسپتال میں غریبوں کا مفت علاج کیا جائے۔اس کے علاوہ انہوں نے چیف سیکرٹری پنجاب کو ہدایت کی کہ عید کے بعد آٹے کی فراہمی کو عوام تک سستا بنایا جائے۔

    ادھر آج وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے کوٹ لکھپت جیل کا دورہ کیا، ا نتظامات کا جائزہ لیا اور قیدیوں کی سزاؤں میں 60 روز کی معافی، سپاہیوں کی تنخواہیں بڑھانے کا اعلان کر دیا۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز نے سنٹرل جیل کوٹ لکھپت کے دورہ کے موقع پر سکیورٹی وارڈ ٹو میں قائم مرکز تدریس القرآن و حدیث کا افتتاح کردیا، اس وارڈ میں حمزہ شہباز 22 ماہ قید میں رہے۔

    اپنے دورہ کے موقع پر وزیراعلیٰ حمزہ شہباز کا قیدیوں کی سزاؤں میں 60 روز کی معافی اور جیل کے سپاہیوں کی تنخواہیں بڑھانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جیل کے سپاہیوں کو پولیس کے سپاہیوں کے برابر تنخواہ ملے گی۔

    وزیراعلیٰ نے قیدیوں میں عید کے تحائف تقسیم کیے، جیل کے لان میں پودا بھی لگایا جبکہ حمزہ شہباز کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا، وزیراعلیٰ نے گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔

    اراکین پنجاب اسمبلی عبد العلیم خان، خواجہ عمران نذیر، خواجہ سلمان رفیق، حافظ محمد نعمان، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ، انسپکٹر جنرل جیل خانہ جات، کمشنر لاہور، ڈپٹی کمشنر لاہور اور دیگر حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔

  • ادویات کی15سے 20 فیصد قیمتیں کم ہونے کا امکان

    ادویات کی15سے 20 فیصد قیمتیں کم ہونے کا امکان

    اسلام آباد :ادویات کی15سے 20 فیصد قیمتیں کم ہونے کا امکان ،اطلاعات کے مطابق ضمنی مالیاتی ترمیمی بل کی منظوری کی صورت میں جہاں بعض شعبہ ہوئے زندگی میں مہنگائی کا طوفان بدتمیزی آنے والا ہے وہاں کچھ یہ بھی خیال کیا جارہا ہے کہ اس سے ادویات کی قیمتوں میں بھی کمی آنے والی ہے ،

    ان دعووں کی تصدیق میں وزارت خزانہ کے ترجمان مزمل اسلم نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ منی بجٹ سے عام آدمی زیادہ متاثر نہیں ہوگا، سبزیوں، چکن، انڈے، گوشت اور آٹے پر ٹیکس نہیں لگایا گیا، ادویات کے خام مال پر ڈیوٹی لگنے سے 15سے 20 فیصد قیمتیں کم ہوجائیں گی، زیادہ تر ٹیکسزامپورٹڈ اشیا پر لگائے گئے ہیں، امپورٹڈ دودھ پر سیلزٹیکس لگایا ہے۔

    بڑی گاڑیوں اور بیرون ملک ڈراموں پر ٹیکس لگایا ہے، ہم نے مقامی انڈسٹری کو تحفظ دیا ہے۔ ٹیکس ریونیو ہدف سے زیادہ اکٹھا کر رہے ہیں، منی بجٹ لانے کا مقصد ٹیکس حاصل کرنا نہیں تھا۔

    مزمل اسلم کا مزید کہنا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں مہنگائی کی شرح میں خاطرخواہ اضافہ ہوا،عالمی ادارے کے مطابق پورے سال میں عالمی سطح پرمہنگائی کا10سالہ ریکارڈ ٹوٹا، امریکا میں40 سالہ، جرمنی میں1992 کے بعد پہلی بار اور چین میں26 سال بعد مہنگائی کا ریکارڈ ٹوٹ گیا ہے۔

    ایگری کلچر اور اسٹاک مارکیٹ نے تمام ریکارڈ توڑ دیئے، رواں سال آئی ٹی سیکٹر میں 4 ارب ڈالر ایکسپورٹ ہوجائے گی، مالی سال2021ء میں شرح نمو4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ آٹے اور چینی کی قیمتوں میں استحکام آچکا ہے، سال2022 میں چینی درآمد نہیں کرنا پڑے گی،آلو ، پیاز اور ٹماٹر کی قیمت کم ہوئی ہے،نومبر سے دسمبر تک مہنگائی بالکل نہیں بڑھی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بھی نیچے آنا شروع ہوگئی ہیں۔

  • پیناڈول نایاب،75 پیسے والی گولی 6 روپیہ میں

    پیناڈول نایاب،75 پیسے والی گولی 6 روپیہ میں

    قصور
    ملک بھر کی طرح قصور سے بھی پیناڈول گولی کو غائب ہوئے 2 ماہ ہو گئے،لوگ پیناڈول کے متبال لوکل کمپنیوں کی گولیاں مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ،ڈریپ ،صوبائی و وفاقی حکومت بے بس

    تفصیلات کے مطابق گزشتہ دو ماہ سے پیناڈول گولی نایاب ہو چکی ہے
    ملک بھر کی طرح قصور میں بھی پیناڈول گولی غائب ہے
    جس کے باعث لوگ عام کمپنیوں کی پیناڈول گولی ( پیراسیٹامول) مہنگے داموں خریدنے پر مجبور ہو چکے ہیں
    گزشتہ ڈیڑھ سال قبل پیناڈول فی بلسٹر ( 10 گولی پیکنگ) کی قیمت محض 7 روپیہ تھی جو کہ بڑھتے بڑھتے 22 روپیہ تک جا پہنچی اور اب گزشتہ دو ماہ سے مکمل غائب ہو چکی ہے
    اکثر مقامات پر پیناڈول کا بلسٹر 60 روپیہ میں فروخت ہو رہا ہے
    یعنی محض ڈیڑھ سال قبل 75 پیسہ کی گولی اب 6 روپیہ میں فروخت ہو رہی ہے
    واضع رہے کہ موجودہ دور حکومت میں ادویات کی قیمتیں اندازاً 13 ویں مرتبہ بڑھ چکی ہیں جس سے ادویات کی قیمتوں میں 500 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے
    ادویات کی پرائس کنٹرول پر ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی ( ڈریپ) صوبائی و وفاقی گورنمنٹ مکمل ناکام ہے اور ایسا لگتا ہے کہ ادویات کی آئے روز کی قیمتوں میں اضافہ و نایابی حکومتی سرپرستی میں ہو رہی ہے جس سے غریب آدمی انتہائی پریشان ہو کر رہ گیا ہے
    چونکہ ایم بی بی ایس ڈاکٹر صاحبان کی فیسیں مزودر کی ایک دن کی مزدوری سے زیادہ ہیں اس لئے غریب غرباء اور سفید پوش لوگ جسم درد،بخار،زکام وغیرہ میں پیناڈول جیسی سستی گولیاں کھا کر گزارہ کرتے تھے تاہم اب غریب سے یہ گزارہ بھی چھین لیا گیا ہے اور سرکاری ہسپتالوں میں زیادہ رش کے باعث لوگوں کو اپنی دیہاڑی ضائع کرکے جانا پڑتا ہے پھر آگے سے ڈاکٹر صاحبان کی مرضی لکھی پرچی تھما دیں یا دو گولی پیناڈول 800 روپیہ کی دیہاڑی کے عیوض

  • گزشتہ تین سالوں کے دوران تسلسل کیساتھ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،حکومت کا اعتراف

    گزشتہ تین سالوں کے دوران تسلسل کیساتھ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا،حکومت کا اعتراف

    اسلام آباد: وفاقی وزارت قومی صحت نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران تسلسل کے ساتھ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی : وفاقی وزارت قومی صحت کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ تحریری جواب میں اعتراف کیا کہ 2018 میں ادویات کی قیمتوں میں 2.7 سے 3.9 فیصد اضافہ ہوا، 2019 میں ادویات 7 سے 10 فیصد تک مہنگی ہوئیں جبکہ2020 میں ادویات کی قیمتوں میں 5.1 سے 7.3 فیصد اضافہ ہوا۔

    وفاقی وزارت قومی صحت کے مطابق ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کنزیومر پرائس انڈیکس کے تحت کیا گیا وزارت قومی صحت نے تحریری جواب کے ذریعے قومی اسمبلی کو آگاہ کیا کہ کورونا کے علاج کے لیے درکار انجکشن کی قیمت میں تین مرتبہ کمی ہوئی ہے-

    سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکل ٹیسٹ کی سہولت ناپید

    22 اکتوبر 2020 انجکشن کی قیمت 9244 روپے تھی، 7 دسمبر 2020 کو قیمت کم ہو کر 5680 روپے ہو گئی اور 22 ستمبر 2021 کو انجکشن کی قیمت 3967.34 روپے ہو گئی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ دنوں فارماسوٹیکل مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے خبردار کیا تھا کہ اگر سیلز ٹیکس عائد کیا گیا ادوایات کی قیمتیں بڑھانا پڑیں گی۔

    دوسری جانب سرکاری ہسپتالوں میں میڈیکل ٹیسٹ کی سہولت ناپید ہونے کے خلاف تحریک التوا کار پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی تحریک التوا کار مسلم لیگ ن کی رکن عنیزہ فاطمہ کی جانب سے جمع کرائی گئی، متن میں کہا گیا کہ صوبائی دارلحکومت کے ہسپتالوں میں میڈیکل ٹیسٹ کی سہولیات نا پید ہیں،مشینیں خراب ہونے کے باعث مریض ذلیل و خوار ہونے لگے سید مٹھا ہسپتال میں ڈائلسز مشین خراب ہونے کی وجہ سے مریضوں کو لمبی تاریخیں دینامعمول بن گیاایکو اور ای ٹی ٹی کی مشین 6ماہ سے خراب ہے سید مٹھا ہسپتال کے ایم ایس کے پاس عارضی چارج کے باعث ہسپتال کے انتظامی معاملات بری طرح متاثر ہیں-

    جناح اسپتال کی سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کی گاڑی پرلگنے والی گولی کا معمہ حل…

    ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے لئے 2 مشینیں مختص کی گئی ہیں مریضوں کو روزانہ 4شفٹوں میں ڈائلسز کرنا ہوتا ہے روزانہ 24مریض آتے ہیں دو مشینیں خراب ہونے کے باعث مریضوں کو دوسرے ہسپتالوں میں ریفر کیا جاتا ہے مریضوں کو ڈائلسز کروانے میں شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ دل کے الٹرا سائو نڈ کرنے والی ایکو مشین اور ای ٹی ٹی ٹیسٹ مشین بھی گزشتہ چھ ماہ سے خراب ہے محکمہ صحت کی جانب سے ایم ایس میاں منشی ہسپتال ڈاکٹر عدنان قمر کوسید مٹھا ہسپتال کا عارضی چارج دینے کے بعد انتظامی معاملات بری طرح متاثر ہورہے ہیں قائمقام ایم ایس سید مٹھا ہسپتال کا کہنا تھا کہ ایکو اور ای ٹی ٹی مشین کا ٹینڈر جاری کردیا گیا ہے جلد مشینیں ٹھیک ہو جائیں گی ۔

    سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر بھر گئے، پیپلز پارٹی کا بڑا مطالبہ آ گیا

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    بلاول کے تھر پارکر میں رواں برس کتنے بچے جاں بحق ہوئے؟ حکومتی نااہلی کی بدترین مثال

    سندھ کے علاقہ تھر پارکر میں غذائی قلت اور وبائی امراض سے بچوں کی اموات کا سلسلہ جاری ہے،

  • 9 ارب روپے کی خطیر رقم سرکاری ہسپتالوں میں ادویات و علاج معالجہ کی غرض سے جاری

    9 ارب روپے کی خطیر رقم سرکاری ہسپتالوں میں ادویات و علاج معالجہ کی غرض سے جاری

    فیصل آباد (عثمان صادق ) صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد نے کہا ہے کہ فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی سے الحاق شدہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو ادویات وعلاج معالجہ کی فراہمی اور ہسپتالوں کی ڈویلپمنٹ کے لئے 9 ارب روپے کے خطیر فنڈز کی منظوری دی گئی ہے جن میں سے 2 ارب روپے کا بجٹ ادویات کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ مریضوں کو لوکل پرچیز کے ذریعے ادویات فرا ہم کی جا ئیں گی۔انہوں نے یہ بات دورہ فیصل آباد کے دوران فیصل آباد میڈیکل یونیورسٹی کے سنڈیکیٹ اجلاس کی صدارت کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔وائس چانسلر ڈاکٹر ظفرعلی چوہدری، ایم پی اے عادل پرویز گجر اور دیگر ارکان بھی موجود تھے۔صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ ادویات کے فنڈز سے مریضوں کو لوکل میڈیسن کے علاوہ مہنگی ادویات بھی دستیاب ہونگی۔انہوں نے کہا کہ ڈینگی کا مسئلہ سر اٹھا رہا ہے اگرچہ فیصل آباد میں صورتحال سنگین نہیں لیکن احتیاط ناگزیر ہے۔انہوں نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے ذریعے شہریوں سے اپیل کی کہ گھروں میں کسی جگہ پانی جمع نہ ہونے دیں،بارشوں کے دوران زیادہ احتیاط برتیں۔انہوں نے کہا کہ کورونا کی چوتھی لہر میں اگرچہ کمی ہوئی ہے لیکن ایس اوپیز پر عملدرآمد میں کمی نہیں ہونی چاہیے۔صوبائی وزیر نے کہا کہ بھرپور کوشش ہے کہ اس سال کے آخر تک صوبہ کے 70 فیصد لوگوں کو ویکسینیٹ کردیا جائے جبکہ اب تک 4 کروڑسے زائدافراد کو کورونا ویکسین لگائی جاچکی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے آئندہ 10لاکھ روپے تک علاج معالجہ فری ہوگا،جن افراد نے ابھی تک شناختی کارڈ نہیں بنوایا وہ فوری بنوالیں تاکہ ہیلتھ کارڈ کی سہولت سے محروم نہ رہیں۔صوبائی وزیر نے کہا کہ الائیڈ ہسپتال میں آکسیجن جنریٹنگ پلانٹ لگا رہے ہیں جس سے آکسیجن کی کمی دور ہوگی جبکہ کینسر کے مریضوں کے علاج کے لئے کیموتھراپی کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔