Baaghi TV

Tag: ادویات

  • شیخ زید ہسپتال لاہور میں زائد المیعاد ادویات بیچے جانے کا انکشاف.

    شیخ زید ہسپتال لاہور میں زائد المیعاد ادویات بیچے جانے کا انکشاف.

    لاہور (ہیلتھ رپورٹر) شیخ زید ہسپتال لاہور میں موجود فارمیسی انسانی زندگی سے کھیلنے میں مصروف، انتظامیہ خاموش تماشائی.
    تفصیلات کے مطابق شیخ زید ہسپتال لاہور کی فارمیسی میں ایکسپائرڈ ادویات فروخت ہونے کا انکشاف.
    زائد المیعاد انجکشن مریض کوتین دن سے لگائے جا رہے تھے، اس بات کی نشاندہی خود مریض کے ساتھ موجود فیملی کے افراد کی جانب سے غور کرنے پر ہوئی، جبکہ ہسپتال انتظامیہ اس حوالے سے بے خبر تھی.

    لاہور کے اس بڑے ہسپتال میں مریضوں کی بڑی تعداد زیراعلاج رہتی ہے، جب کہ ایک اندازے کے مطابق یہ ایکسپائری انجکشن کئی مریضوں کے لئے فارمیسی سے بیچے جاچکے ہیں.
    نشاندہی کرنے والے اکمل سومرو کا بتانا ہے کہ شیخ زید ہسپتال لاہور کی فور ڈی فارمیسی پر ایکسپائری انجکشن فروخت کیے جا رہے ہیں میری والدہ کو تین روز تک ایکسپائری انجکشن لگتے رہے، ڈرگ انسپکٹر اور ڈپٹی سیکرٹری ہیلتھ پہنچے تو مزید ادویات ایکسپائری پکڑی گئیں.

  • دل کے مریضوں کے ساتھ ناانصافی

    دل کے مریضوں کے ساتھ ناانصافی

    قصور
    محکمہ ڈاک دکھی انسانیت کی خدمت کی بجائے مذید دکھی کرنے لگا،دل کے مریضوں کی ادویات خورد برد
    تفصیلات کے مطابق قصور ڈاکخانہ کے ملازمین کی ریکارڈنگ منظر عام پر آ گئی ہے
    ڈاکخانہ ملازمین دل کے مریضوں کو کارڈیالوجی ہسپتال سے آنے والی سرکاری میڈیسن میں خرد برد کر رہے ہیں جس سے دل کے مریض پریشانی میں مبتلا ہو گئے ہیں جبکہ ڈاکخانہ کا عملہ ایک ہزار روپے کی وصولی لے کر مریضوں تک ادویات پہنچانے کا مطالبہ کر رہا ہے
    ڈاکخانہ کی طرف سے دل کی دوائی بروقت نہیں دی جاتی جس سے کٸی مریض شدید بیمار ہو چکے ہے یا موت کی وادی میں جا چکے ہیں حالانکہ ڈاکخانہ میں دل کے مریضوں کی دوائی وافر مقدار میں پڑی ہے لیکن خالد اور انور نامی ڈاکخانہ کے ملازم مریضوں کو لوٹ رہے ہیں
    ایک دل کے مریض کی طرف سے ڈاکخانہ ملازم کی کال ریکارڈنگ بھی وائرل کی گئی ہے جس میں اہلکار نذرانے کا مطالبہ کر رہا ہے
    لوگوں نے وزیراعلی پنجاب اور محکمہ ڈاکخانہ سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • غلط طریقہ گورنمنٹ کا ٹیکہ

    غلط طریقہ گورنمنٹ کا ٹیکہ

    قصور
    چونیاں بنیادی مرکز صحت بونگی کلیاں کے ملازم جاوید نے سرکاری ادویات بازارمیں فروخت کرنا شروع کردیں
    تفصیلات کے مطابق نواحی قصبہ بونگی کلیاں میں قائم بنیادی مرکز صحت میں تعینات ملازم جاوید نے سرکاری ادویات کو غیر قانونی طور پر بیچنا وطیرہ بنا لیا ملزم جاوید ہسپتال میں رہتے ہوئے ایک پرائیویٹ کلینک گاؤں مچھانہ چلا رہا ہے
    گذشتہ روز ڈی ڈی ایچ او چونیاں نے اسسٹنٹ کمشنر چونیاں عدنان بدر کی ہدائیت پر مخبر کی اطلاع کے مطابق نواحی قصبہ بھاگیوال اور مچھانہ میں کارروائی کی جس کے نتیجہ میں بونگی کلیاں بنیادی مرکز صحت میں تعینات ملازم جاوید ہسپتال سے ادویات چوری کرکے اپنے کلینک اور اپنے بھائی عمران کے کلینک پر دیتا تھا جس پر ڈی ڈی ایچ او چونیاں نے کارروائی کرتے ہوئے مذکورہ کلینک کو سیل کردیا ملزم جاوید کے بھائی عمران جو کہ عطائی ڈاکٹر ہے سیل کردہ کلینک کو غیر قانونی طور پر ڈی سیل کردیا سرکاری نوکری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزم محمد جاوید نے اتائیت کو تقویت دی اور قانون کو ہاتھ میں لیا جبکہ اہل علاقہ سمیت دیگر سماجی شخصیات نے اسسٹنٹ کمشنر چونیاں اور دیگر اداروں سے اپیل کی ہے کہ سرکاری ادویات کو چوری کرکے اپنے پرائیویٹ کلینک پر استعمال کرنے اور سرکاری ملازم ہونے کے ناطے سیل کردہ کلینک کو ڈی سیل کرنے پر اسکے خلاف جلد کارروائی عمل میں لائی جائے

  • ادویات ساز کمپنیاں بے لگام لوگ پریشان

    ادویات ساز کمپنیاں بے لگام لوگ پریشان

    قصور
    گورنمنٹ کے آرڈر کے باوجود ادویات مہنگی ادویات ساز کمپنیاں بے لگام گورنمنٹ بے بس عوام پریشان
    تفصیلات کے مطابق رواں گورنمنٹ کے دور حکومت میں سب سے زیادہ مہنگی ادویات ہوئی ہیں تقریبا 200 سے 250 فیصد تک ادویات رواں دور حکومت میں مہنگی ہوئی جس پر گورنمنٹ نے ادویات ساز کمپنیوں کو تنبیہہ بھی کی مگر گورنمنٹ کی بات ان سنی کرکے ادویات ساز کمپنیاں پھر قیمتیں بڑھا رہی ہیں جس سے غریب عوام کی پہنچ سے ادویات دور ہو رہی ہیں اور اس کے علاوہ ادویات کی بلیک مارکیٹنگ کرکے فروخت کا سلسلہ بھی جاری ہے جس سے شہری سخت پریشان ہیں
    لوگوں نے وزیراعظم,وزیراعلی اور ڈرگ کنٹرول اتھارٹی سے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ رکوانے کی استدعا کی ہے

  • ادویات کی قیمتوں میں پھر اضافہ

    ادویات کی قیمتوں میں پھر اضافہ

    ادویہ ساز کمپنیوں نے دواؤں کی قیمتیں ایک بار پھر بڑھاتے ہوئے 7 فیصد اضافہ کردیا ہے۔

    پی ٹی آئی حکومت کے دور میں ادویات کی قیمتیں مجموعی طور پر 77 فیصد بڑھ چکی ہیں۔

    ڈریپ حکام کے مطابق شوگر، بلڈ پریشر اور السر کی دوائیں 46 روپے تک مہنگی کردی گئی ہیں۔ تیزابیت سے چھٹکارا دلانے والے سیرپ کی قیمت میں بھی 46 روپے اضافہ کردیا گیا۔

    شوگرکنڑول کرنے والی گولیوں کے پیکٹ میں 30 روپے اور بلڈ پریشر کم کرنے والی دوا کی قیمت میں 12 روپے اضافہ کردیاگیا۔

    السر اور درد بھگانے کی دوائیں 2 ، 2 روپے مہنگی جبکہ کیلشیئم کی کمی پوری کرنے والی گولیوں کا پیکٹ خریدنے کیلئے بھی 5 روپے اضافی ادا کرنا ہوں گے۔

    یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ادویہ سازکمپنیوں نے دوائیں 300 سے 400 فیصد مہنگی کر دی تھیں جس کے بعد وزیراعظم عمران خان کے نوٹس پر معاون خصوصی صحت ڈاکٹر ظفر اللہ مرزا نے 70 فیصد سے زائد اضافہ واپس کراتے ہوئے قیمتیں منجمد کر دی تھیں۔

    حالیہ اضافے سے متعلق ڈریپ حکام کا موقف ہے کہ دوائیں تیار کرنے والی کمپنیوں کو ہرسال نرخ 7 فیصد بڑھانے کا اختیار ہے اوراسی کے تحت قیمتوں میں اضافہ کیا گیا۔