Baaghi TV

Tag: ادیب

  • رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    رقیہ غزل کا منفرد ادبی رنگ،تحریر:سعدیہ ہاشم

    ادب کے وسیع آسمان پر کچھ شخصیات ستاروں کی طرح نہیں، ماہتاب کی طرح طلوع ہوتی ہیں؛ ان کی روشنی میں چاندنی بھی ہوتی ہے، لطافت بھی، اور ایک ایسی شائستگی بھی جو نگاہ کو ٹھہرنے پر مجبور کر دے۔رقیہ غزل انہی ماہتاب چہروں میں سے ایک ہیں،ایک مکمل جمالیاتی تجربہ،ایک دلنشیں احساس،اور ایک ایسی خالص روشنی جو لفظوں کے کینوس پر اپنا عکس چھوڑ جاتی ہے۔

    رقیہ غزل کی خوبصورتی صرف ظاہری رنگ و نگار کا نام نہیں،یہ ایک تہذیبی جمال ہے، جس میں پاکستانی اقدار کی مہک اور نسائی وقار کی چمک ہم آہنگ ہو کر دل پر اترتی ہے۔ان کی موٹی، خواب رنگ آنکھیں ایسے لگتی ہیں جیسے ہر پل کسی نئے استعارے کو جنم دینے والی ہوں۔ان کی موجودگی میں یوں محسوس ہوتا ہے کہ محفل کا موسم بدل گیا ہو،ہوا میں نرمی گھل گئی ہو،لفظوں میں تازگی اتر آئی ہو،اور فضا میں ایک مسحورکن سا سکوت بکھر گیا ہو۔

    جب وہ پاکستان کے روایتی لباس میں ملبوس، سر پر نفاست سے رکھا ہوا دوپٹہ اوڑھے محفل میں قدم رکھتی ہیں، تو دیکھنے والے کے دل میں پہلی ہی نظر میں یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ ادب ابھی زندہ ہے، اقدار ابھی سانس لے رہی ہیں۔
    دوپٹے کی نرم لہریں ان کے وجود پر یوں مہکتا ہوا سایہ ڈالتی ہیں جیسے شخصیت کے گرد روشنی کا ہالہ ہو،پاکیزگی، ذہانت اور لطافت کا امتزاج،رقیہ غزل جب بولتی ہیں تو لگتا ہے الفاظ زبان سے نہیں، نیلے آسمان سے اترتے ہیں۔ان کے لہجے میں نرم روشنی بھی ہے اور ہمت بھی،وہ سچ کہتی ہیں، وہ دلیل دیتی ہیں، مگر دل کی زمین کو زخمی نہیں کرتیں۔

    نوائے وقت میں ان کے کالم پڑھنے والا جانتا ہے کہ یہ صرف تحریر نہیں،سوچ کے دریچوں میں پڑتی ہوئی وہ دھوپ ہے جس سے بصیرت کا جگنو روشن ہوتا ہے۔ادبی محفل ہو اور رقیہ غزل موجود نہ ہوں تو محفل ایک رنگ کم محسوس ہوتی ہے۔وہ آتی ہیں تو محفل کا لہجہ بدل جاتا ہے،مشاعرہ گویا ایک نعتیہ سکون میں ڈھل جاتا ہے،اور سامعین ہمہ تن گوش ہو جاتے ہیں جیسے کوئی نادر نسخۂ کمال کھلنے ہی والا ہو۔ان کی شخصیت، ان کے لب و لہجے، ان کے اندازِ نشست و برخاست میں ایک ایسا جمال ہے جو ایک پوری محفل کو معنوی بنادیتا ہے۔

    اگر ایک جملے میں ان کا تعارف ممکن ہو تو یوں کہا جائے رقیہ غزل وہ خوبصورت تحریر ہے جسے خدا نے انسان کی صورت میں لکھا۔رقیہ غزل ادب کی وہ شخصیت ہیں جن کے ہونٹوں سے نکلا ہوا ہر شعر، ہر کالم، ہر جملہ ایک نئے سفر کی دعوت دیتا ہے۔ وہ صرف لکھتی نہیں وہ زندگی کے تجربات کو لفظوں میں ڈھال کر دوسروں کے دلوں میں رکھ دیتی ہیں۔
    ادب کے ایسے چراغ کم جلتے ہیں، مگر جب جلتے ہیں تو صدیوں تک روشنی دیتے رہتے ہیں

  • نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    نمرہ ملک،فخر تلہ گنگ، صحافت میں ایک قابل فخر نام

    صحافت ایک ایسا مقدس پیشہ ہے جس کی اہمیت اور اثرات معاشرتی ترقی میں بے شمار ہیں۔ یہ پیشہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جس میں صرف سچائی، ایمانداری، اور محنت کی بنیاد پر کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم، یہ بات بھی حقیقت ہے کہ صحافت کے میدان میں قدم رکھنا ہر کسی کے لیے آسان نہیں۔ خصوصاً ایک خاتون کے لیے اس میدان میں جگہ بنانا اور اپنے لیے ایک معتبر مقام پیدا کرنا اور بھی زیادہ چیلنجنگ ہو سکتا ہے۔ایسی ہی ایک جرات مندانہ مثال نمرہ ملک کی ہے، جو تلہ گنگ سے تعلق رکھتی ہیں۔ نمرہ ملک نے نہ صرف صحافت کے میدان میں قدم رکھا بلکہ اس میدان میں اپنی محنت، لگن اور قابل رشک کامیابیوں کے ذریعے نہ صرف اپنا نام بنایا بلکہ اپنے علاقے کا بھی نام روشن کیا۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا صحافت سے تعلق کئی برسوں پر محیط ہے، اور ان کی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بہت محنت سے ہوا۔ انہوں نے کئی اہم اخبارات اور میڈیا اداروں سے وابستہ رہ کر صحافت کے اصولوں کو سیکھا اور اپنے کام میں بہترین مہارت حاصل کی۔ ان کی تحریریں نہ صرف پڑھنے والوں کو معلومات فراہم کرتی ہیں بلکہ ان کے دلوں تک پہنچ کر انہیں متحرک بھی کرتی ہیں۔
    nimra malik talagang
    نمرہ ملک نہ صرف صحافت کی دنیا میں بلکہ ادب کی دنیا میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ وہ کئی کتابوں کی مصنفہ ہیں، جن میں مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا گیا ہے۔ ان کی تحریریں اپنے اندر ایک منفرد زاویہ اور گہرا پیغام رکھتی ہیں، جو نہ صرف قارئین کو سوچنے پر مجبور کرتی ہیں بلکہ انہیں دنیا کو ایک نیا نقطہ نظر بھی فراہم کرتی ہیں۔نمرہ ملک نے اپنی محنت اور لگن کے ذریعے صحافت میں بے شمار ایوارڈز جیتے ہیں۔ ان کے نام نو سو سے زائد ایوارڈز ہیں، جو ان کی محنت اور پیشہ ورانہ قابلیت کا غماز ہیں۔ یہ اعزازات ان کی جدو جہد اور کمیونٹی میں ان کی خدمات کو تسلیم کرنے کا واضح اظہار ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تلہ گنگ کے کسی بھی "مرد صحافی” کو اتنی عزت نہیں ملی جو نمرہ ملک نے حاصل کی ہے۔
    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کی کامیابی صرف ان کی محنت کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کی مستقل مزاجی، لگن، اور جرات کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے صحافت کے میدان میں قدم رکھتے وقت جہاں ایک طرف خواتین کے لیے اس میدان میں اپنے آپ کو ثابت کرنا ایک بڑا چیلنج تھا، وہیں دوسری طرف انہوں نے اپنے کام کے ذریعے ثابت کیا کہ اگر انسان میں عزم و ہمت ہو تو کوئی بھی مشکل راستہ رکاوٹ نہیں بن سکتا۔نمرہ ملک کی کہانی ایک ایسی کامیاب خاتون کی کہانی ہے جس نے نہ صرف اپنے علاقے کا نام روشن کیا بلکہ صحافت کے میدان میں عورتوں کے لیے نئی راہیں کھولیں۔ ان کی کامیابی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اگر انسان اپنی محنت، ایمانداری اور لگن کے ساتھ کسی بھی شعبے میں قدم رکھے، تو وہ نہ صرف اپنے خوابوں کو حقیقت بنا سکتا ہے بلکہ اپنے معاشرتی دائرے میں بھی ایک تبدیلی لا سکتا ہے۔نمرہ ملک کی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی جدو جہد کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ ایک پیغام بھی ہے کہ کامیابی کا کوئی واحد راستہ نہیں ہوتا، اور محنت اور عزم کے ساتھ اپنی راہ بنانے کا جذبہ کبھی ناکام نہیں جاتا۔
    نمرہ ملک کے لیے ڈھیروں دعائیں۔۔۔۔
    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    nimra malik talagang

    نمرہ ملک کا مختصر تعارف،نمرہ ہی کی زبانی
    پروفیسر نمرہ ملک پرائڈ آف پرفارمنس مصنفہ ادیبہ
    ماسٹرز ان اردو،ماس کمیونکیشنز۔بی ایڈ ،میڈیکل
    مختلف زبانوں میں انٹرپریٹر ہوں۔
    مبصرہ ناولسٹ
    افسانہ نگار
    کالم نگار(میرے کالمز پہ سوموٹو ہو چکے ہیں۔)
    کمپیئر
    اینکر پرسن
    سفر نامہ نگار
    صحافی
    چیئرپرسن ضلع پریس کلب تلہ گنگ
    ضلع چکوال کی پہلی ورکنگ جرنلسٹ۔۔۔۔نیشنل جرنلسٹ
    مختلف قومی چینلز اور اداروں کے ساتھ جرنلزم کا اعزاز حاصل ہے
    قومی،صوبائی اور علاقائی ایوارڈز یافتہ
    حالیہ ملٹی لیگنوہجز نظمیہ کتاب "کہیں تھل میں سسی روتی ہے”کو گینز بک آف دی ورلڈ ریکارڈ کے لیے منتخب کیا جاچکا ہے جب کہ ملک بھر میں اس پہ چار گولڈ میڈلز،اٹھارہ پزیرائیاں اور سترہ شیلڈز مل چکی ہیں۔
    "شاہ سائیں” ناول کو پاکستان کا 2020 کا بیسٹ رائٹر ایوارڈ مل چکا ہے۔
    پنجابی مجموعہ "مہنڈی روح دے یوسف بولیں ناں”کو پنجاب گورنمنٹ کی جانب سے باقاعدہ سراہا جا چکا ہے۔
    پندرہ کتب کی مصنفہ ہوں۔
    میری پانچ مختلف زبانوں میں کتب آچکی ہیں
    پندرہ زبانوں میں شاعری کا اعزاز حاصل ہے
    انٹرنیشنل حجاب ایوارڈ یافتہ ہوں
    ریڈیو ،ٹی وی اور مختلف چینلز سے لاتعداد شیلڈز،ایوارڈز اور سرٹیفیکیٹس مل چکے ہیں جن کی تعداد آٹھ سو سے زائد ہے
    کئی ادبی،و سماجی تنظیموں سے وابستگی ہے۔
    میرا سب سے بڑا تعارف یہ ہے کہ میں آن لائن تفسیر پڑھاتی ہوں اور حافظہ کے ساتھ عالمہ بھی ہوں۔الحمدللہ

    ضلع تلہ گنگ کی پہلی خاتون صحافی ہوں۔پانچ مختلف زبانوں میں لکھتی ہوں۔پندرہ مختلف زبانوں کواپنی شاعری کا حصہ بنایا۔ادب اطفال کی جانب سے متعدد بار ایوارڈز مل چکے ہیں۔بچوں کے رسالے "پھول” میں پہلی کہانی شائع ہوئی تھی۔
    nimra malik talagang
    میری کتابوں کی تفصیل ۔
    مہنڈی روح دے یوسف۔(پنجابی شاعری)
    شاہ سائیں(ناول)
    دریچہ (کالمز)
    کہیں تھل میں سسی روتی ہے(ملٹی لینگویجز نظمیں)
    بہ نوکِ خار می رقصم(فارسی کلام)
    مرحبا یا سیدی(عربی کلام)
    کتاب زیست(ناول)
    عشق کی تال تا تھیا!!(ناول)
    آؤ خواب خواب کھیلیں(اردو غزل)
    ah my dreams!!(انگلش )
    مائے نی (پنجابی ماہیا،)
    6.(افسانے)
    مرشد خانہ (سفر نامہ)
    میں کملی دا ڈھولا(اردو ،پنجابی ناولٹ،افسانے)
    پیمانہ بدہ(فارسی کلام)

    من محرم کہ رب محرم(ناول۔۔۔زیرتکمیل)
    جیا عالم ہے (زیر تکمیل مجموعہ افسانے)
    (نمرہ ملک)

  • افسانہ نگار، مترجم، صحافی اور  مولف سید قاسم محمود

    افسانہ نگار، مترجم، صحافی اور مولف سید قاسم محمود

    سید قاسم محمود

    ممتاز افسانہ نگار، مترجم، صحافی اور مولف سید قاسم محمود 17 نومبر 1928ء کو کھرکھودہ ضلع روہتک میں پیدا ہوئے تھے۔ مڈل کے بعد 1946 میں ہمدرد دواخانہ اور مکتبہ جامعہ دہلی میں ملازمتیں کیں. 1947 میں میٹرک پاس کیا. قیام پاکستان کے بعد لاہور میں ابتدائی عرصہ مہاجر کیمپ میں رضاکار کے طور پر خدمات انجام دیں. بعد میں بجلی کے لائن مینوں کے سیڑھی بردار معاون، اخبار زمیندار میں چپراسی اور ناشرین اور کتب فروشوں کے ملازم رہے. 1950 میں پنجاب یونیورسٹی میں کلرک ہوگئے. 1951ء میں مجلس زبان دفتری،حکومت پنجاب میں مترجم کی اسامی کا اشتہار آیا تو انہوں نے خط لکھا کہ اپنے شوق سے کیے ہوئے اصطلاحات کے تراجم پیش کرنا چاہتا ہوں. وہ مطلوبہ تعلیمی سنا نہیں رکھتے تھے لیکن انہیں غلطی سے ٹیسٹ کیلئے بلالیا گیا. مقابلے میں گریجویٹ اور ایم اے تھے لیکن یہ اول آگئے. بہت سوچ بچار کے بعد انہیں مترجم رکھ لیا گیا۔بعدازاں صادق، لیل و نہار، صحیفہ،علم، کتاب، سیارہ ڈائجسٹ، ادب لطیف، قافلہ، عالمی ڈائجسٹ، روزنامہ نوائے وقت کراچی کے مدیر یا نائب مدیر رہے۔ 1970ء میں لاہور سے انسائیکلو پیڈیا معلومات کا اجرا کیا۔ 1975ء میں مکتبہ شاہکار کے زیر اہتمام شاہکار جریدی کتب شائع کرنا شروع کیں۔ 1980ء سے 1998ء تک کراچی میں مقیم رہے جہاں انہوں نے ماہنامہ افسانہ ڈائجسٹ، طالب علم اور سائنس میگزین کے نام سے مختلف جرائد جاری کئے اور اسلامی انسائیکلو پیڈیا، انسائیکلو پیڈیا فلکیات، انسائیکلو پیڈیا ایجادات، بچوں کا انسائیکلو پیڈیا اور انسائیکلو پیڈیا پاکستانیکا شائع کئے۔ متعدد کام ان کی وفات کی وجہ سے ادھورے رہ گئے۔ ان کے افسانوں کے مجموعے دیوار پتھر کی، قاسم کی مہندی اور وصیت نامہ کے نام سے شائع ہوئے ،انہوں نے 31 مارچ 2010ء کو لاہور میں وفات پائی اور جوہر ٹاؤن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہوئے.

    تصانیف
    انسائیکلوپیڈیا پاکستانیکا
    اسلامی انسائیکلوپیڈیا
    مسلم سائینس
    اسلامی دنیا
    سیرت النبی کا انسائیکلوپیڈیا
    پیام اقبال
    دیوار پتھر کی(افسانے)
    قاسم کی مہندی (افسانے)
    وصیت نامہ (افسانے)
    چلے دن بہار کے(ناول)
    پنڈت جلال الدین نہرو(ناولٹ)
    آدم اور آدمی
    داستان گلکامش
    مذہب اور دیوتا
    قلوپطرہ ہفتم
    اصول سیاسیات
    ہٹلر کی خفیہ زندگی
    وادی دجلہ و فرات
    حکومت اور فرعونیت
    ابراہیم سے یوسف تک
    داستان فرعون
    معاشیات کے جدید نظریے
    تراجم
    شیکسپیئر کے میکبتھ، اوتھیلو، ہیملٹ ،جیولیٹ سیزر،
    صوفیہ لورین اور شاہ ایران کی آپ بیتیاں، ٹالسٹائی، موپاساں، دوستووسکی، ایملی برونٹ، چارلس ڈکنز، جان گالسوردی، ارونگ سٹون، ٹی ایس ایلیٹ، سی ای ایم جوڈ، جان ماسٹرز کے ناول اور دوسری کتابیں

  • انگریزی کے  ممتاز شاعر و ادیب،جان ملٹن

    انگریزی کے ممتاز شاعر و ادیب،جان ملٹن

    جان ملٹن ، انگریزی کے ممتاز شاعر و ادیب

    جان ملٹن انگریزی کا ایک عظیم شاعر اور مصنف تھا جس کے کلام کو نہ صرف انگریزی ادب میں بلکہ دنیا کے ادب میں اہم مقام حاصل ہے۔ اس کی بعض نظمیں دنیا کے اعلٰی ترین ادب میں شمار کی جاتی ہیں۔ جان ملٹن کی شاعری کی عظمت پر سب کو اتفاق ہے لیکن اس کی نجی زندگی، اس کی سیاست اور اس کے مذہبی خیالات کے بارے میں اس کے نقادوں میں ہمیشہ سخت اختلاف رہا ہے۔

    ملٹن لندن میں پیدا ہوا اور سینٹ پال اسکول اور کرائسٹ کالج کیمبرج میں تعلیم حاصل کی۔ اس نے انگریزی اور لاطینی دونوں میں شاعری کی۔ شروع میں وہ چرچ میں داخل ہونا چاہتا تھا۔ بعد میں اس نے یہ ارادہ ترک کر دیا۔ اس لیے کہ برطانوی چرچ میں رسم پرستی بہت آ گئی تھی۔ آخر کار اس نے شاعری پر پوری توجہ صرف کرنے کا فیصلہ کیا اور کیمبرج میں تعلیم ختم کرنے کے بعد وہ اپنے باپ کی دیہی جائیداد پر رہنے لگا۔ یہاں اس نے کئی نظمیں لکھیں جن میں اس کی ایک نہایت عظیم نظم لسی ڈس (Lycidas) بھی ہے جو اس نے اپنے دوست ایڈورڈکنگ کی وفات پر لکھی تھی۔ ۱۶۳۸ میں اپنی ماں کے انتقال کے بعد وہ اٹلی گیا۔ وہاں سیر کے علاوہ کافی مطالعہ بھی کیا اور اہم شخصیتوں سے ملا۔ ان میں گیلیلیو بھی تھا۔ ایک سال بعد واپس آیا اور بڑے زور شور کے ساتھ چرچ میں اصلاح کی مہم میں لگ گیا۔ کئی رسالے لکھے۔ ۱۶۴۳ میں اس نے میری پاول کے ساتھ شادی کی جو ایک سال بعد اسے چھوڑ کر چلی گئی۔

    اسی سال ملٹن نے چار رسالے لکھنے شروع کیے جن پر طوفان کھڑا ہو گیا۔ ایک میں اس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی تھی کہ اگر شوہر اور بیوی کی ایک دوسرے کے ساتھ نبھ نہ سکے تو طلاق لے لینا اخلاقاً جائز ہے۔ اس نے ایک اور رسالہ پریس کی آزادی پر لکھا جس کا عنوان "آریوپوگٹیکا” (Areopogitica) تھا۔ اسے اس کی نثری تصنیفات میں اہم مقام حاصل ہے۔ اس میں پارلیمنٹ کی پریس پر لگائی ہوئی سنسر شپ پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ ایک اور رسالہ میں اس نے اس پر بحث کی ہے کہ رعایا اپنے نااہل بادشاہ کو تخت سے ہٹا سکتی ہے اور اسے موت کی سزا بھی دے سکتی ہے۔ اس کے نتیجہ کے طور پر اسے کرامول نے اپنی حکومت میں سکریٹری یا وزیر بنا لیا اور اسے بیرونی زبانوں کا محکمہ سپرد کیا گیا۔اسی زمانہ میں اس نے برطانوی عوام کی مدافعت میں کئی رسالے لکھے۔

    ملٹن کی آنکھیں بچپن سے بہت خراب تھیں جب اتنا سرکاری کام اس کے سر پر آ پڑا تو آنکھیں بالکل جواب دے گئیں اور وہ بالکل اندھا ہو گیا اور اپنے سکریٹری کی مدد سے کام چلانے لگا۔

    ۱۶۶۳ میں ملٹن نے ایلزبیتھ من شل سے شادی کر لی۔ وہ آخر تک کامن ویلتھ کی حمایت کرتا رہا اور جب شاہیت دوبارہ قائم (۱۶۶۰) ہو گئی تو وہ کچھ عرصہ کے لیے روپوش ہو گیا۔ اس کی بعض کتابیں جلا دی گئیں۔ عام معافی میں اسے بھی معاف کر دیا گیا اور اس کے بعد سے وہ خاموش زندگی گزارنے لگا۔

    وہ ایک زمانہ سے ایک شاہکار نظم لکھنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس نے ایک طویل نظم "بلینک ورس” میں لکھی جو ۱۶۶۷ میں مکمل ہوئی۔ یہ بارہ جلدوں میں پھیلی ہوئی ہے۔ اس کا نام اس نے "جنت کی گمشدگی” (Paradise Lost) رکھا۔ ہم عصروں نے بے حد تعریف کی اور اس کے بعد سے یہ عظیم رزمیہ نظموں میں شمار ہونے لگی۔ اس میں حضرت آدم اور حضرت حوا کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ جب وہ باغ عدن میں تھے۔ اس کے ذریعہ اس نے اس دنیا میں پھیلی ہوئی برائیوں کی وجہ سمجھائی ہے۔ "جنت کی بازیافت” (Paradise Regained) اس کی ایک اور طویل بلینک ورس نظم ہے جو چار جلدوں میں ہے۔ اس میں اس نے یہ بتایا ہے کہ کس طرح حضرت عیسٰی حضرت آدم سے برتر تھے۔ کس طرح شیطان ان کو ترغیب دینے میں ناکام رہا۔ اسی کے ساتھ اس نے یونانی ٹریجڈی کے نمونہ پر ایک منظوم ڈرامہ بھی لکھا جس کا قصہ انجیل ہی سے لیا گیا تھا۔ ملٹن اگرچہ بنیادی طور پر پروٹسٹنٹ مذہب کا تھا لیکن بہت ساری چیزوں کے بارے میں اس کے اپنے ذاتی عقائد تھے جو اس نے اپنے ایک رسالہ میں تفصیل سے بیان کیے ہیں۔ یہ رسالہ اس کی زندگی میں شائع نہیں ہوا۔ اس کا سراغ بہت بعد میں لگا اور پھر یہ شائع ہوا۔

  • ادیب، مصنف ، ڈرامہ نگار اور میزبان انور مقصود

    ادیب، مصنف ، ڈرامہ نگار اور میزبان انور مقصود

    اردو کے ممتاز ادیب، مصنف ، ڈرامہ نگار اور میزبان انور مقصود 7ستمبر 1935 میں حیدر آباد دکن ہندستان کے ایک ادبی خاندان میں پیدا ہوئے۔

    باغی ٹی وی : انہوں نے ابتدائی تعلیم حیدر آباد میں حاصل کی ۔ تقسیم ہند کے بعد وہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی پاکستان منتقل ہو گئے ۔ انور مقصود کی دو بہنیں ثریا بجیا اور زہرہ نگاہ مشہور ادبی شخصیات ہیں ۔ ان کی اہلیہ عمرانہ مقصود ایک ناول نگار ہیں جبکہ انہوں نے اپنے شوہر انور مقصود کے بارے میں ایک کتاب ” الجھے سلجھے انور” لکھ کر شائع کی ہے ۔ انور کے بھائی احمد مقصود سندھ کے چیف سیکرٹری رہ چکے ہیں انور کے بیٹے بلال مقصود گلوکار اور موسیقار ہیں ۔ انور نے معین اختر اور بشریٰ انصاری کے ساتھ کافی عرصے تک کام کیا۔ انور مقصود کے تحریر کردہ مشہور ڈراموں میں ، ففٹی ففٹی ، آنگن ٹیڑھا، شو ٹائم، ہاف پلیٹ ، اور نادان نادیہ وغیرہ شامل ہیں ۔ انور مقصود کو حکومت پاکستان کی جانب سے ملک دو بڑے ایوارڈز سے نوازا گیا ہے ۔

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  • اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا

    اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا

    ممتاز شاعر،ادیب ،ایڈیٹر ، پبلشر، ماورا پریس کلب اور ماورا بک ڈپو کے مالک خالد شریف 18 جون 1947ء میں انبالہ (بھارت) میں پیدا ہوئے۔ بعدازاں خاندان کے ساتھ راولپنڈی میں آگئے۔ اسی شہر سے پرائمری اور ہائی سکول کی تعلیم حاصل کی۔ 1967ء میں گورنمنٹ کالج راولپنڈی سے ایم اے اکنامکس کرنے کے بعد انہوں نے انکم ٹیکس کا محکمہ جوائن کر لیا اور مختلف شہروں میں خدمات سر انجام دیں لیکن کتاب سے رغبت نے ان کو پبلشنگ کی طرف مائل کیا اور 1970ء میں انہوں نے اشاعتی کاروبار کا آغاز کیا۔ خالد شریف نے 1964ء میں شعر کہنا شروع کئے۔اس وقت یہ کالج کے طالب علم تھے اور کالجوں کے بین الکلیاتی مشاعروں میں حصہ لیتے تھے۔

    خالد شریف کی پہلی کتاب 1990ء میں ’’نارسائی‘‘ کے نام سے شائع ہوئی جس کےدرجن سے زائد ایڈیشن آچکے ہیں اس کے بعد ’’بچھڑنے سے ذرا پہلے‘‘ شائع ہوئی اور پھر’’وفاکیا ہے‘‘ اور ’’گزشتہ‘‘ شائع ہوئیں۔ ’’رت ہی بدل گئی‘‘ 2003ء میں مارکیٹ میں آئی۔ دیگر کئی کتابیں زیر طبع ہیں۔

    چند منتخب اشعار

    کاش ایسا ہو کہ اب کے بےوفائی میں کروں
    تو پھرے قریہ بہ قریہ کو بہ کو میرے لئے
    میں تو لامحدود ہوجاؤں سمندر کی طرح
    تو بہے دریا بہ دریا جو بہ جو میرے لئے

    آنکھ کس لفظ پہ بھر آئی ہے
    کون سی بات پہ دل ٹوٹا ہے

    آج کچھ رنگ دگر ہے مرے گھر کا خالدؔ
    سوچتا ہوں یہ تری یاد ہے یا خود تو ہے

    آج سے اک دوسرے کو قتل کرنا ہے ہمیں
    تو مرا پیکر نہیں ہے میں ترا سایہ نہیں

    آسماں جھانک رہا ہے خالدؔ
    چاند کمرے میں مرے اترا ہے

    بچھڑا کچھ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئی
    اک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا

    خالدؔ میں بات بات پہ کہتا تھا جس کو جان
    وہ شخص آخرش مجھے بے جان کر گیا
    ناکام حسرتوں کے سوا کچھ نہیں رہا
    دنیا میں اب دکھوں کے سوا کچھ نہیں رہا

    وہ تو گیا اب اپنی انا کو سمیٹ لے
    اے غم گسار دست دعا کو سمیٹ لے

    زخم رسنے لگا ہے پھر شاید
    یاد اس نے کیا ہے پھر شاید

    اب نہ چڑیاں ہیں نہ اخبار نہ کپ چائے کا
    ایک کرسی ہے جو دالان میں رکھی ہوئی ہے

  • اردو کے نامور ادیب، شاعر، نقاد اور براڈ کاسٹر عزیز حامد مدنی

    اردو کے نامور ادیب، شاعر، نقاد اور براڈ کاسٹر عزیز حامد مدنی

    وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
    گئے تو کیا تری بزم خیال سے بھی گئے

    عزیز حامد مدنی

    اردو کے نامور ادیب، شاعر، نقاد اور براڈ کاسٹر عزیز حامد مدنی 15جون 1922ءکو رائے پور (سی پی) میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا تعلق ایک ذی علم گھرانے سے تھا۔ ان کے والد نے 1898ءمیں علی گڑھ سے گریجویشن کیا تھا اور وہ علامہ شبلی نعمانی کے شاگرد تھے۔ عزیز حامد مدنی نے انگریزی ادبیات میں ایم اے کیا۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز تدریس کے شعبے سے کیا۔ بعدازاں وہ ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوگئے اور پھر اسی ادارے سے ریٹائر ہوئے۔

    عزیز حامد مدنی کا شمار اردو کے جدید ترین اور اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے۔ وہ ایک جداگانہ اسلوب کے مالک تھے اور ان کے موضوعات کی انفرادیت پر کسی کو کوئی شبہ نہیں۔ان کے شعری مجموعے چشم نگراں، دشت امکاں اور نخل گماں کے نام سے اور ان کی تنقیدی کتب جدید اردو شاعری اور آج بازار میں پابجولاں چلو ان کے نام سے اشاعت پذیر ہوئیں۔حال ہی میں ان کے کلام کی کلیات بھی شائع ہوچکی ہے ۔

    عزیز حامد مدنی نے عمر بھر شادی نہیں کی 23 اپریل 1991ءکوکراچی میں ان کی وفات ہوئی۔ وہ کراچی میں لیاقت آباد کے قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔

    چند منتخب اشعار

    وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
    گئے تو کیا تری بزم خیال سے بھی گئے

    جب آئی ساعت بے باکی تیری بے لباسی کی
    تو آئینے میں جتنے زاویے تھے رہ گئے جل کر

    کہہ سکتے تو احوال جہاں تم سے ہی کہتے
    تم سے تو کسی بات کا پردا بھی نہیں تھا

  • معروف ادیب اور مترجم ستار طاہر

    معروف ادیب اور مترجم ستار طاہر

    حالات زندگی و ادبی خدمات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ستار طاہر یکم مئی، 1940ء میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے کئی اہم جرائد کے ادارتی فرائض انجام دیے جن میں سیارہ ڈائجسٹ، قومی ڈائجسٹ، ویمن ڈائجسٹ اور کتاب کے نام سرفہرست ہیں۔ ستار طاہر نے 250 سے زائد کتابیں مرتب کیں، تین روسی کتب کا ترجمہ بھی کیا۔ ان کی تحریر کردہ کتب میں سورج بکف و شب گزیدہ، حیات سعید، زندہ بھٹو مردہ بھٹو، صدام حسین، مارشل لا کا وائٹ پیپر، تعزیت نامے اور تنویر نقوی: فن اور شخصیت کے نام سرفہرست ہیں۔

    وہ ایک اچھے مترجم بھی تھے اور ان کی ترجمہ شدہ کتب میں ری پبلک، حسن زرگر، دو شہروں کی ایک کہانی، شہزادہ اور فقیر، سرائے، تاراس بلبا اور دنیا کی سو عظیم کتابیں سرِ فہرست ہیں۔ وعدے کی زنجیر اور میرا نام ہے محبت جیسی شہرہ آفاق فلموں کی کہانیاں بھی ستار طاہر کے قلم نے لکھیں،ستار طاہر پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو کے نامور ادیب، مترجم، کالم نگار، صحافی اور محقق تھے۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اک عالم ہے ثنا خواں آپﷺ کا (سیرت)
    تعزیت نامے
    سورج بکف و شب گزیدہ
    حیات سعید
    دنیا کی سو عظیم کتابیں
    غریب کی جورو (ترجمہ)
    تحریک پاکستان (تاریخ)
    عشق اور چھکا (ترجمہ)
    ری پبلک (ترجمہ)
    حسن زرگر (ترجمہ)
    تاراس بُلبا (گوگول کے ناول کا ترجمہ)
    عذرا (ہینری رائیڈر ہیگرڈ کے ناول کا ترجمہ)
    عذرا کی واپسی
    (ہینری رائیڈر ہیگرڈ کے ناول کا ترجمہ)
    دو شہروں کی ایک کہانی
    (چارلس ڈکنز کے ناول کا ترجمہ)
    شہزادہ اور فقیر (ترجمہ)
    سرائے (ترجمہ)
    گلیور کی سیاحتیں
    (جوناتھن سوئفٹ کے ناول کا ترجمہ)
    مونٹی کرسٹو کا نواب
    (الیگزنڈر ڈوما کے ناول کا ترجمہ)
    الوداع مسٹر چپس
    (جیمز ہلٹن کے ناول کا ترجمہ)
    روبنسن کروسو (ڈینیل ڈیفو کے ناول کا ترجمہ)
    بھٹو، مقدمہ اور سزا (سیاسیات)
    زندہ بھٹو مردہ بھٹو (سیاسیات)
    صدام حسین (سیاسیات)
    مارشل لا کا وہائٹ پیپر (سیاسیات)
    تقریر کا فن (تحقیق)
    تنویر نقوی:فن و شخصیت (تنقید و تحقیق)
    مذہب، خدا اور انسان
    زیرو ہاور
    اپنی قوت ارادی بڑھائیے
    آسانی سے دوست بنائیے
    حلقۂ دامِ خیال (کالم)
    سیر پکا دل (پنجابی ناول)
    مدیر
    ۔۔۔۔۔
    سیارہ ڈائجسٹ
    قومی ڈائجسٹ
    ویمن ڈائجسٹ
    کتاب

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حکومت پاکستان نے ستار طاہر کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر 14 اگست، 1996ء میں بعد از مرگ صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی کا اعزاز عطا کیا۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    ستار طاہر 25 مارچ، 1993ء کو لاہور، پاکستان میں حرکت قلب بند ہونے کے باعث وفات پاگئے۔ وہ لاہور میں اسلام پورہ کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • اردو کے نامور شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات احسان دانش

    اردو کے نامور شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات احسان دانش

    احسان دانش

    اردو کے نامور شاعر، ادیب اور ماہر لسانیات احسان دانش 10؍فروری1914ء میں کاندھلہ، مظفر نگر (یوپی) میں پیدا ہوئے تھے۔ والدین کی غربت کی وجہ سے چوتھی جماعت سے آگے نہ پڑھ سکے تاہم اپنے طور پر اردو، فارسی اور عربی زبان کا مطالعہ کیا، تلاش معاش میں لاہور آگئے اور پھر تمام عمر یہیں گزاری۔ یہاں انھوں نے مزدوری، چوکی داری، چپراسی اور باغ بانی کے فرائض انجام دیے۔ فرصت کے اوقات میں کتابوں کا مطالعہ کرتے تھے۔

    دوران مطالعہ انھیں شعروسخن سے دل چسپی ہوگئی۔ تاجور نجیب آبادی سے اصلاح لینے لگے۔جب کچھ رقم جمع ہوگئی تو ’’مکتبۂ دانش‘‘ کے نام سے اپنا ذاتی کتب خانہ قائم کیا۔ ان کا سرمایۂ شعری زیادہ تر نظموں پر مشتمل ہے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انھیں ’’ستارۂ امتیاز‘‘ کے خطاب سے حکومت نے نوازا ۔ احسان دانش کو مذہب سے گہرا لگاؤ تھا۔ انھیں حج بیت اللہ اور روضۂ اقدس پر حاضری کی سعادت نصیب ہوئی 22 مارچ1982ء کو لاہور میں انتقال کرگئے۔

    دانش میں خوف مرگ سے مطلق ہوں بے نیاز
    میں جانتا ہوں موت ہے سنت حضورؐ کی

    اب کے یوں دل کو سزا دی ہم نے
    اس کی ہر بات بھلا دی ہم نے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یوں نہ مل مجھ سے خفا ہو جیسے
    ساتھ چل موج صبا ہو جیسے
    لوگ یوں دیکھ کے ہنس دیتے ہیں
    تو مجھ بھول گیا ہو جیسے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی تجھ سے شکایت ہی کہاں تھی لیکن
    تیری تلخی میرے لہجے سے عیاں تھی لیکن
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    نظر فریب کھا گئی تو کیا ہو گا
    حیات موت سے ٹکرا گئی تو کیا ہو گا
    غم حیات سے ہے بے شک خودکشی آساں
    مگر جو موت بھی شرما گئی تو کیا ہو گا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    وفا کا عہد تھا دل کو سنبھالنے کے لیے
    وہ ہنس پڑے مجھے مشکل میں ڈالنے کے لیے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    احسانؔ ہے بے سود گلہ ان کی جفا کا
    چاہا تھا انھیں ہم نے خطا وار ہمی تھے
    ….
    رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے
    احسان دانش
    رعنائی کونین سے بے زار ہمیں تھے
    ہم تھے ترے جلووں کے طلب گار ہمیں تھے

    ہے فرق طلب گار و پرستار میں اے دوست
    دنیا تھی طلب گار پرستار ہمیں تھے

    اس بندہ نوازی کے تصدق سر محشر
    گویا تری رحمت کے سزاوار ہمیں تھے

    دے دے کے نگاہوں کو تصور کا سہارا
    راتوں کو ترے واسطے بیدار ہمیں تھے

    بازار ازل یوں تو بہت گرم تھا لیکن
    لے دے کے محبت کے خریدار ہمیں تھے

    کھٹکے ہیں ترے سارے گلستاں کی نظر میں
    سب اپنی جگہ پھول تھے اک خار ہمیں تھے

    ہاں آپ کو دیکھا تھا محبت سے ہمیں نے
    جی سارے زمانے کے گنہ گار ہمیں تھے

    ہے آج وہ صورت کہ بنائے نہیں بنتی
    کل نقش دو عالم کے قلم کار ہمیں تھے

    پچھتاؤگے دیکھو ہمیں بیگانہ سمجھ کر
    مانوگے کسی وقت کہ غم خوار ہمیں تھے

    ارباب وطن خوش ہیں ہمیں دل سے بھلا کر
    جیسے نگہ و دل پہ بس اک بار ہمیں تھے

    احسانؔ ہے بے سود گلہ ان کی جفا کا
    چاہا تھا انہیں ہم نے خطاوار ہمیں تھے

  • پاکستان کے نامور سول سرونٹ اور اردو ادیب قدرت اللہ شہاب

    پاکستان کے نامور سول سرونٹ اور اردو ادیب قدرت اللہ شہاب

    پاکستان کے نامور سول سرونٹ اور اردو ادیب قدرت اللہ شہاب 26 فروری 1917ء کو گلگت میں پیدا ہوئے تھے۔ 1941ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کرنے کے بعد وہ انڈین سول سروس میں شامل ہوئے۔

    ابتدا میں انھوں نےبہار، اڑیسہ اور بنگال میں خدمات انجام دیں۔ قیام پاکستان کےبعد وہ متعدد اہم انتظامی عہدوں پرفائز رہے جن میں حکومت آزاد کشمیرکے سکریٹری جنرل، وفاقی سیکریٹری وزارت اطلاعات، ڈپٹی کمشنر جھنگ، ڈائریکٹر انڈسٹریز حکومت پنجاب اور گورنر جنرل غلام محمد، اسکندر مرزا اور صدر ایوب خان کے پرائیویٹ سیکریٹری، سیکریٹری اطلاعات، ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر اور سیکریٹری تعلیم کے مناصب شامل تھے۔

    یحییٰ خان کے دور حکومت میں وہ اپنے عہدے سے مستعفی ہوکر اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسکو سے وابستہ ہوگئے۔ اس زمانے میں انھوں نے مقبوضہ عرب علاقوں میں اسرائیل کی شرانگیزیوں کا جائزہ لینے کے لیے ان علاقوں کا خفیہ دورہ کیا اور اسرائیل کی زیادتیوں کا پردہ چاک کیا۔ شہاب صاحب کی اس خدمات کی بدولت مقبوضہ عرب علاقوں میں یونیسکو کا منظور شدہ نصاب رائج ہوگیا جو فلسطینی مسلمانوں کی ایک عظیم خدمت تھی۔

    قدرت اللہ شہاب کا ایک اہم کارنامہ پاکستان رائٹرز گلڈ کی تشکیل تھا۔ وہ خود بھی اردو کے ایک اچھے ادیب تھے ان کی تصانیف میں یاخدا، نفسانے، ماں جی اور سرخ فیتہ کے علاوہ ان کی خودنوشت سوانح عمری شہاب نامہ شامل ہے 24 جولائی 1986ء کو قدرت اللہ شہاب اسلام آباد میں وفات پاگئے اور وہیں آسودۂ خاک ہوئے۔