Baaghi TV

Tag: ادیبہ

  • شاعرہ،ادیبہ اور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن

    شاعرہ،ادیبہ اور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن

    تجھ سے اک راز کی سرگوشی بھی کرنا چاہوں
    پھر وہی راز نگل جانے کو جی چاہتا ہے

    بشری رحمان بلبل پاکستان

    تاریخ پیدائش: 29 اگست
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نامور پاکستانی ،ادیبہ،مصنفہ، شاعرہ ، ناول نگار،افسانہ نگار،ڈرامہ نویس،کالم نگاراور سینئر پارلیمنٹرین بشریٰ رحمن 29 اگست 1944میں بہاولپور پنجاب میں پیدا ہوئی انہوں نے ابتدائی تعلیم بہاولپور سے اور ایم اے صحافت کی ڈگری پنجاب یونیورسٹی لاہور سے حاصل کی 1960 میں لاہور کے ایک معروف صنعتکار میاں عبدالرحمن سے شادی ہوئی ۔ بشریٰ رحمن کی 14 کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں ناول،افسانے، شاعری، ڈرامے اور کہانیاں شامل ہیں ۔ ان کو پی ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے لکھے ڈرامہ سیریل” لازوال” سے شہرت حاصل ہوئی ۔ وہ ایک اخبار میں "چادر چار دیواری اور چاندنی” کے عنوان سے کالم نگاری بھی کرتی تھیں سائرہ ہاشمی کے ساتھ مل کر انہوں نے ایک ادبی تنظیم ” بزم ہم نفساں ” کا قیام عمل میں لایا جس کے زیر اہتمام وہ ہر ماہ اپنی رہائش گاہ پر ماہانہ مشاعرے کا انعقاد کرتی تھیں جس میں لاہور کے نامور شعراء اور شاعرات شریک ہو کر اپنا کلام پیش کرتے تھے-

    بشری صاحبہ نے ایک ادبی ماہنامہ ” وطن دوست ” کا بھی اجراء کیا تھا ۔ انہوں نے ادب و سیاست اور صحافت کے شعبے میں بڑا نام کمایا۔ وہ دو بار پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی رکن اور دوبارقومی اسمبلی کی رکن منتخب ہوئیں اسمبلی میں ان کی خوش گفتاری اور بہترین فقروں اور الفاظ کے استعمال کی بنا پر انہیں ” بلبل پاکستان” کے خطاب سے نوازا گیا تھا ۔ 7 فروری 2022 کو 78 برس کی عمر میں کرونا وائرس میں مبتلا ہو کر لاہور میں ان کا انتقال ہوا۔ معروف شاعرہ نیلما ناہید درانی نے ان کی وفات پر بڑے دکھ اور کرب کا اظہار کرتے ہوئے ان کو ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا” خوب صورت شخصیت، دلفریب مسکراہٹ، غزالی آنکھوں اور رس بھرے لہجے کی مالک بشری رحمان سے جو بھی ایک بار ملتا وہ اس کا گرویدہ ہو جاتا اور میں بھی ان کے عشق میں مبتلا ہو گئی”. ۔

    بشری صاحبہ کی شائع ہونے والی کتابوں میں ،بت شکن، چپ، پشیمان ، پیاسی،چارہ گری ،خوب صورت ، عشق عشق، قلم کہانیاں ، مولانا ابوالکلام آزاد،ایک مطالعہ، چاند سے نہ کھیلو، بہشت،لازوال،دانا رسوائی ، صندل میں سانسیں چلتی ہیں ،بے ساختہ، کس موڑ پر ملے ہو، الله میاں جی اور ، تیرے سنگ در کی تلاش ” شامل ہیں ان کی آخری تصنیف "سیرت طیبہ صلی الله علیہ وسلم” ہے ۔

    ان کی خوش قسمتی ہے کہ انہوں نے سیرت طیبہ کی کتاب مکمل کر کے وفات پائی ہے امید ہے کہ یہ تصنیف ان کی عاقبت سنوارنے کا باعث بنے گی جبکہ انہوں نے آخری افسانہ "_گیسو” دسمبر 2021 میں لکھا جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ مرد کو باغی بنانے میں عورت کا کردار زیادہ ہے شادی شدہ خواتین اپنے شوہر کو بلا جواز شک کی نظر سے دیکھتی ہیں اور ان کی ٹوہ میں لگی رہتی ہیں جس کی وجہ سے شوہر تنگ آ کر اپنے گھر سے باہر غیر محرم خواتین سے رابطہ استوار کرنے پر طرف مائل ہو جاتے ہیں ۔ بشریٰ رحمن صاحبہ کو حکومت پاکستان کی جانب سے 2007 میں صدارتی ایوارڈ ستارہ امتیاز سے نوازا گیا۔

    چند منتخب اشعار

    تیرے ہاتھوں میں پگھل جانے کو جی چاہتا ہے
    آتش شوق میں جل جانے کو جی چاہتا ہے

    وحشت آباد مکانوں میں نہیں جی لگتا
    شہر سے دور نکل جانے کو چاہتا ہے

    ہم سے یہ رسم کی زنجیر بھی کب ٹوٹ سکی
    دل کی ضد پر بھی مچل جانے کو جی چاہتا ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہمارے شہر کے ہر موڑ پر اک یاد بیٹھی ہے
    نظاروں کی یہ برساتیں ہمیں واپس عطا کر دو

    مرے سجدوں کی رعنائی محبت میں نہ کام آئی
    معطر باوضو راتیں ہمیں واپس عطا کر دو

  • گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں، ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں
    ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

    عابدہ تقی ( ادیبہ و شاعرہ)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تعارف و تبصرہ : آغا نیاز مگسی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پاکستان کی نامور ادیبہ، شاعرہ، نقاد، افسانہ نویس اور سفر نامہ نگار سیدہ عابدہ تقی صاحبہ کا تعلق اسلام آباد سے ہے لیکن ان کی ولادت 11 نومبر 1969 میں ان کے ننہیال کے گھر راولپنڈی میں ہوئی ۔ ان کے والد صاحب کا نام سید تقی حسین اور والدہ محترمہ کا نام رابعہ خاتون ہے ۔ عابدہ اپنے 7 بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں۔ وہ 4 بہنیں اور 3 بھائی ہیں۔ ان کا تعلق سادات نقوی البھاکری اور علمی و ادبی خاندان سے ہے ۔

    عابدہ کے والد نے اردو میں نعت، منقبت اور سلام پر مبنی شاعری کی ہے پیشے کے لحاظ سے وہ پاکستان ایئر فورس کے فلائنگ ونگ سے وابستہ رہے ہیں جبکہ ان کے دادا جان سید باغ حسین شاہ نقوی کربلائی نے فارسی اور پنجابی میں مدحت رسول، سلام اور منقبت پر مبنی شاعری کی ہے۔ عابدہ تقی صاحبہ کی مادری زبان پنجابی ہے ۔ انہیں اردو اور انگریزی زبان پر عبور حاصل ہے جبکہ وہ عربی اور فارسی زبانیں بھی جانتی ہیں۔ انہوں نے ابتدائی و میٹرک اور سیکنڈری تعلیمات کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے Msc Geography کیا ہے۔ عابدہ نے اپنے کالج لائف کے زمانے سے شاعری شروع کی۔

    معروف شاعر نیساں اکبر آبادی شاعری میں ان کے استاد رہے ہیں ۔ عابدہ تقی کی شاعری حمد، نعت، سلام ، منقبت ، غزل اور نظمیہ اصناف پر مبنی ہے ان کی شاعری میں سماجی ، معاشی و معاشرتی مسائل پر نظر ہے اور قلبی واردات بھی شامل ہے ان کو اپنی ذات کا دکھ بھی ہے تو زمانے کا غم بھی ہے ان کی شاعری میں خوف، مایوسی، ہجر و فراق، احساس محرومی، کسی انہونی کا خوف اور شکوہ شامل ہے تو کہیں وہ خود اعتمادی کا مظاہرہ کرتی نظر آتی ہیں لیکن ان کی شاعری میں وصل کا احوال نہیں ملتا، مجموعی طور پر ان کی شاعری متاثر کن اور دلپذیر ہے جو قاری اور سامع کو اپنی طرف متوجہ کرنے پر مجبور کرنے کی قوت رکھتی ہے۔

    عابدہ تقی ایک بھرپور اور فعال علمی و ادبی زندگی گزار رہی ہیں ۔ انہیں حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کی پہلی خاتون سیکریٹری مقرر ہونے کا اعزاز حاصل ہوا ہے وہ 2011 سے 2013 تک اس عہدے پر فائز رہی ہیں وہ اسلام آباد ادبی فورم کی بھی 2 سال سیکریٹری رہی ہیں۔ وفاقی اردو یونیورسٹی اسلام آباد کی جانب سے ایم فل کی ایک طالبہ مدیحہ فاطمہ نے ” عابدہ تقی کی ادبی خدمات” کے عنوان سے صدر شعبہ اردو ڈاکٹر محمد وسیم کی نگرانی میں تھیسس مکمل کیا ہے۔

    پیشے کے لحاظ سے وہ ایک نجی ادارے میں اپنی خدمات سر انجام دے رہی ہیں ۔ انہوں نے تنقید و افسانہ نگاری کے علاہ ایک سفر نامہ بھی لکھا ہے جو کہ ایران ، عراق اور شام کے مقامات مقدسہ کی زیارت و روداد اور مشاہدات پر مبنی ہے۔ عابدہ نے ایران ، عراق اور شام کے علاوہ امریکہ، برطانیہ اور کویت کی بھی سیاحت کی ہے۔ عابدہ کی اب تک شائع ہونے والی تصانیف کی فہرست درج ذیل ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)دوسرا فرشتہ-2005
    ۔ (2)فصیل خواب سے آگے-2003
    ۔ (3)دستک باب ِعلم پر-2002
    ۔ (4)منبر سلونی کی اذاں-1999

    عابدہ تقی صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوئے تھے خوابوں کے معمار بھی اکیلے ہی
    تو اب گرائیں یہ میناربھی اکیلے ہی

    کسی کی پور پہ رکنے کی آس میں آنسو
    ڈھلک گیا سرِ _رخسار بھی اکیلے ہی

    الجھ رہا تھا تلاطم سے کیسے کچا گھڑا
    گواہ تھا کوئی اُس پار بھی اکیلے ہی

    یہ عشق شامل ِ دستورِ قصر ہو کہ نہ ہو
    ہے سرخرو تہہِ دیوار بھی اکیلے ہی

    جب ایک ضرب ہی ٹھہری ہے جیت کی منصف
    تو رن میں جائیں گے اس بار بھی اکیلے ہی

    یہ کہہ کے اٹھ گئے چوپال سے پرانے لوگ
    سنیں گے اب تو سماچاربھی اکیلے ہی

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوا سے خوشبو کا کوئی پیام آیا نہیں
    دیے جلائے مگر خوش خرام آیا نہیں

    اسی کا متن تب و جاں کا کر رہا ہے حصار
    وہ ایک خط جو ابھی میرے نام آیا نہیں

    ابھی چاند کی خاطر دریچے کھولنا کیا
    ابھی تو شام ہے ، ماہِ تمام آیا نہیں

    ہمارے ہاتھ بھی در کھٹکھٹانا چاہتے ہیں
    جو انتخاب ہو دل کا وہ باب آیا نہیں

    دلوں کے سودے میں نقصان ہو بھی سکتا ہے
    شعور تھا تو سہی میرے کام آیا نہیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گھر کی کھوئی رونق پلٹ آئی ہے تو اب
    غم ستانے لگا ہے شہر کی ویرانی کا

    ان دنوں زیست کا اطراف میں ہے ایک ہی ڈھب
    خوف انہونی کا دھڑکا کسی انجانی کا

    ایک خطبے سے بدل آئی ہوں طاقت کا نصاب
    تخت کو جیت کے زندان سے آئی ہوں

    مرا ہم قدم کسی چاندنی کی جلو میں تھا
    اسے کیا خبر کہ میں چل رہی تھی غبار میں

    دشت احساس میں اڑتی ہے اسی درد کی دھول
    جانے والے نے پلٹ کے بھی نہ دیکھا ہم کو

    یک بہ یک رونق کدوں کے درمیاں سے کٹ گئے
    ایک اس سے کٹ کے ہم سارے جہاں سے کٹ گئے

    یاد رکھتا کون ایسے میں کسی عنوان کو
    مرکزی کردار ہی جب داستاں سے کٹ گئے

    گھر کے تمام بچوں میں تھوڑی بڑی تھی میں
    ورثے میں دکھ تھے سو مجھے حصہ بڑا ملا

  • میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی ، کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی ، کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    منصورہ احمد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یکم جون 1958: یوم پیدائش

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو کی معروف شاعرہ اور ادیبہ منصورہ احمد یکم جون 1958 کو حافظ آباد میں معروف قانون دان مرزا حبیب احمد کے گھر میں پیدا ہوئیں ۔ انہوں نے پرائمری سے انٹر تک حافظ آباد میں تعلیم حاصل کی جبکہ گریجویشن لاہور میں کیا۔ شاعری کا انہیں بچپن میں شوق تھا ۔ احمد ندیم قاسمی شاعری میں ان کے استاد تھے۔ 1998 میں انہیں ان کے شعری مجموعے "طلوع” پر اکادمی ادبیات پاکستان نے وزیراعظم ادبی ایوارڈ عطا کیا تھا۔ وہ ادبی جریدے” مونتاج” کی مدیرہ بھی تھیں۔ احمد ندیم قاسمی کی منہ بولی بیٹی تھیں. وہ 1986 سے 2006 تک ادبی جریدہ "فنون” سے وابستہ رہیں ۔ انہوں نے زندگی بھر شادی نہیں کی ۔ 8 جون 2011 کو لاہور میں وفات پاگئیں اور حافظ آباد میں آسودہ خاک ہوئیں۔

    منصورہ احمد صاحبہ کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تمام شہر میں تیرہ شبی کا چرچا تھا
    یہ اور بات کہ سورج افق پہ نکلا تھا

    عجیب وجہ ملاقات تھی مری اس سے
    کہ وہ بھی میری طرح شہر میں اکیلا تھا

    میں سب سمجھتی رہی اورمسکراتی رہی
    مرا مزاج ازل سے پیمبروں سا تھا

    میں اس کو کھو کے بھی اس کو پکارتی ہی رہی
    کہ سارا ربط تو آواز کے سفر کا تھا

    میں گل پرست بھی گل سے نباہ کر نہ سکی
    شعور ذات کا کانٹا بہت نکیلا تھا

    سب احتساب میں گم تھے ہجوم یاراں میں
    خدا کی طرح مرا جرم عشق تنہا تھا

    وہ تیرے قرب کا لمحہ تھا یا کوئی الہام
    کہ اس کے لمس سے دل میں گلاب کھلتا تھا

    مجھے بھی میرے خدا کلفتوں کا اجر ملے
    تجھے زمیں پہ بڑے کرب سے اتارا تھا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کس قدر دشوار ہے ان اجنبی شہروں میں رہنا
    گھر کی چوکھٹ ڈھونڈنے میں ہجرتوں کے درد سہنا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    زندگی بانجھ سی عورت تھی کہ جس کے دل میں
    بوند کی پیاس بھی تھی آنکھ میں سیلاب بھی تھے

  • کملا داس ثریا انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ

    کملا داس ثریا انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ

    کملا داس ثریا ہندوستان میں انگریزی اور ملیالم زبان کی مشہور و معروف شاعرہ اور ادیبہ تھیں ملیالم ادب میں آپ کو مادھوی کٹی کہا جاتا تھا۔ آپ کو انگریزی اور ملیالم ادب میں کمال حاصل تھا۔

    خاندانی پس منظر
    ۔۔۔۔۔۔
    کملا داس 31مارچ 1934 کو بھارت کے شہر کیرالا کے ایک برھمن خاندان میں پیدا ہوئیں۔ آپ کے والد وی ایم نائر اور والدہ اس دور کی مشہور ملیالم شاعرہ بالامانیمیمّا تھیں۔ بھارتی وزیر داخلہ اے کے انتھونی بھی آپ کے رشتہ دار بتا‎‎ئے جاتے ہیں۔

    ادبی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    آپ کی ادبی زندگی کا آغاز 8 سال کی عمر میں ہی ہو گیا تھا جب آپ نے وکٹر ہیوگو کی تحریروں کا اپنی مادری زبان میں ترجمہ کیا۔ آپ کی پہلی کتاب ”سمران کلکتہ“ تھی جس نے آپ کو انقلابی ادیبوں کی صف میں لاکھڑا کیا۔ ان کی تحریروں میں مردوں کے تسلط والے سماج میں خواتین کی بے بسی کا ذکر ہے اور ان کی آزادی کے لیے آواز اٹھائی گئی ہے۔ انھوں نے اپنے پڑھنے والوں کو عدم مساوات کو ختم کرنے پر سوچنے پر راغب کیا۔

    قبول اسلام
    ۔۔۔۔۔۔
    کئی برس اسلامی تعلیمات کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ نے اسلام قبول کر لیا جس کے باعث بھارت اور کیرالہ کے ادبی و سماجی حلقوں میں ایک طوفان آ گیا تاہم ان کے اہل خانہ نے ان کے اس فیصلے کو قبول کر لیا۔ قبول اسلام کے بعد آپ کا نام ثریا رکھا گیا۔ اپنے قبول اسلام کی بڑی وجہ جو وہ بیان کیا کرتی تھیں وہ ان کے الفاظ میں ”اسلام نے خواتین کوجوحقوق دیئے ہیں وہ جان کر میں حیران ہوں میرے قبول اسلام کے پس پردہ اسلام کی جانب سے خواتین کو دیے جانے والے حقوق کا بڑا کردار ہے 31مئی 2009 کو آپ پونا کے جہانگیر ہسپتال میں خالق حقیقی سے جاملیں۔ آپ کی عمر پچھتر برس تھی۔

    مشہور تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)این اٹروڈکشن
    ۔ (2)دی ڈیزیڈنٹ
    ۔ (3)الفابیٹ آف لسٹ
    ۔ (4)اونلی سول نوز ہاؤ ٹو سنگ
    ۔ (5)مائی سٹوری (خود نوشت)

    اہم اعزازات
    ۔ (1)Ezhuthachchan Puraskaram
    ۔ Vayalar Award
    ۔ (2)ساہتیہ اکیڈمی اعزاز
    ۔ (3) Asan World Prize
    ۔ (4)Asian Poetry Prize
    ۔ (5)Kent Award
    ۔ (6)ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ
    ۔ (7)کیرالا ساہتیہ

  • معروف بنگالی مختصر افسانہ نگار، ناول نگار اور ادیبہ پرتیبھا باسو

    معروف بنگالی مختصر افسانہ نگار، ناول نگار اور ادیبہ پرتیبھا باسو

    پرتیبھا باسو( پیدائش:13 مارچ 1915ء،وفات: 13 اکتوبر 2006ء) معروف بنگالی مختصر افسانہ نگار، ناول نگار اور ادیب ہیں جن کا حلقۂ قارئین نہ صرف بہت وسیع ہے بلکہ ادبی حلقوں میں انھیں قابلِ احترام سمجھاجاتا ہے۔

    حالاتِ زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ ڈھاکا کے نزدک ایک گاؤں میں آسوتوش شوم اور سرجوبالا شوم کے گھر پیدا ہوئیں تھیں۔ بنگالی مصنف بدھا دیب باسو سے شادی سے پہلے وہ رانو شوم کے نام سے مشہور تھیں۔ اس کی دو بیٹیاں ہیں میناکشی دتا اور دماینتی باسو سنگھ اور ایک بیٹا سدھاسیل بوس جو 42 سال کی عمر میں انتقال کرگیا۔ ان کی ایک پوتی کنکابتی دتا بھی بنگالی زبان میں ایک معروف ادیبہ ہے۔

    پرتیبھا بوس مقبول گانوں کی معروف گلوکارہ بھی تھیں۔ ممتاز بنگالی شاعر نذر الاسلام، گلوکار دلیپ کمار رائے اوررابندر ناتھ ٹیگور نے ان کی گلوکاری کی تعریف کی بلکہ اپنے کلام ان کو پڑھنے کے لیے بلکہ اس سلسلے میں ان کی تربیت بھی کی۔

    انھوں نے 12 سال کی عمر میں پہلی ایل پی بنائی اور 1940 کی دہائی تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ انھوں نے جب گلوکاری ترک کی،تبھی سے لکھنا شروع کیا۔

    پرتیبھا باسو کی تقریباً 200 شائع ہوئیں جو تجارتی لحاظ سے بہت کامیاب رہی ہیں۔ مونولینا ان کا پہلا ناول تھا جو 1940 میں شائع ہوا تھا۔ ان کے متعدد ناول پر کامیاب فلمیں بنائی جاچکی ہیں۔

    انھیں جانوروں سے بے پناہ عشق تھا۔ 1972ء میں انھیں پاگل کتوں کے خلاف مہم کے دوران ایک پاگل کتے کو بچاتے ہوئےگولی لگی تھی اور وہ معذور ہوگئی تھیں۔

    ایوارڈ اور اعزاز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    بنگالی زبان اور ادب میں ان کی خدمات کے لیے انہیں کلکتہ یونیورسٹی سے بھوبونو موہنی گولڈ مڈل اور آند پرسکار سے سرافراز کیا گیا۔

  • سیمین دانشور ایران کی نامور ادیبہ ،مصنفہ،ناول نگار اور مترجم

    سیمین دانشور ایران کی نامور ادیبہ ،مصنفہ،ناول نگار اور مترجم

    سیمین دانشور کی ولادت بروز جمعرات 19 شعبان 1339ھ مطابق 28 اپریل 1921ء مطابق 8 اُردی بہشت 1300 شمسی ہجری کو شہر شیراز میں ہوئی۔

    والدین، ابتدائی حالات و تحصیل علم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سیمین کے والد محمد علی دانشور ماہر طبیعیات تھے۔ سیمین کی والدہ مصورہ تھیں۔ ابتدا میں اُنہیں ایک ایسے اسکول میں داخل کروایا گیا جہاں فارسی اور انگریزی کی ترویج جاری تھی۔ 1938ء کے موسم خزاں میں سیمین نے تہران یونیورسٹی میں فارسی ادب کے شعبہ میں داخلہ لیا۔ 1941ء میں جب وہ یونیورسٹی کے تیسرے سال میں تھیں تو اُن کے والد محمد علی دانشور کا اِنتقال ہو گیا۔ والد کے اِنتقال کے بعد اُنہوں نے بطور کفیل خاندان ریڈیو تہران کے لیے کچھ مکالمے ” گمنام شیرازی“ کے نام سے لکھنا شروع کیے۔ علاوہ ازیں وہ کھانوں کی ترکیبوں کے متعلق بھی لکھتی رہیں۔

    سیمین دانشور بطور ادیبہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1948ء میں جب وہ 27 سال کی تھیں، تو سیمین کا پہلا کہانیوں کا مجموعہ ” آتش خاموش“ شائع ہوا۔ یہ اِیران میں شائع ہونے والا پہلا مجموعہ تھا جو کسی خاتون نے شائع کیا۔ یہ سیمین کی وجہ شہرت بن گیا۔ لیکن بعد کی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ آئندہ چند سالوں میں وہ طباعت و اشاعت کے کام سے بیزار ہوتی گئیں۔ دوبارہ وہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کے واسطے تہران یونیورسٹی میں داخلی لینے چلی گئیں۔ 1949ء میں سیمین کا ایک مقالہ پی ایچ ڈی کے لیے بنام Beauty as Treated in Persian Literature سے پروفیسر بدیع الزماں فروزانفر (پیدائش 12 جولائی 1904ء- وفات 6 مئی 1970ء ) نے مصدقہ مہر کے ساتھ پاس کیا۔

    مزید اعلیٰ تعلیم کا حصول
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1950ء میں سیمین دانشور کی شہرت یافتہ ادیب جلال آل احمد (پیدائش 2 دسمبر 1923ء- وفات 9 ستمبر 1969ء) سے شادی ہوئی۔ 1952ء میں سیمین اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے امریکا روانہ ہوئیں جہاں اُنہوں نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے ادب کی مزید تعلیم حاصل کی۔ قیام امریکا کے دوران سیمین نے دو ناول شائع کیے۔ 1954ء میں اِیران واپس آئیں اور تہران یونیورسٹی نے اُنہیں اعزازء رکن منتخب کیا اور اعزازی ڈگری سے نوازا۔

    سیمین بطور مترجمہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    1960ء کی دہائی میں سیمین نے چند انگریزی کتب کا فارسی میں ترجمہ کیا جس سے اُن کی شہرت عامہ میں مزید اِضافہ ہوا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے شوہر جلال آل احمد سے زیادہ کمانے لگی تھیں۔ 1961ء میں ایک انگریزی ناول A city like paradise کا فارسی ترجمہ ”شہری چوں بہشت“ کے نام سے طبع ہوا۔ یہ ترجمہ پہلی کتاب کے 12 سال بعد منظر عام پر آیا تھا۔ 1963ء میں سیمین نے ہارورڈ یونیورسٹی کے تحت منعقدہ ایک اِجلاس International Summer Session میں شرکت کی جس میں پوری دنیا سے 40 افراد نے شرکت کی تھی۔

    سیمین دانشوربحیثیت ادیبہ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    سیمین دانشور بحییثیتِ قومیت ایرانی تھیں، اُنہیں فارسی ادب میں پہلی خاتون فارسی ناول نگار ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ وہ جاسوسی ناول نگار، مترجم بھی تھیں۔ 1948ء میں سیمین کی مختصر کہانیوں کا ایک مجموعہ شائع ہوا اور اِس مجموعہ سے اُنہیں فارسی ادب میں پہلی خاتون ادیبہ ہونے کا اعزار حاصل ہوا۔

    1969ء میں سیمین کا پہلا ناول ” سووشون“ شائع ہوا جس کا اِسی سال انگریزی ترجمہ بنام A Persian Requiem ہوا۔ مزید کہ 16 زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ یہ دوسری جنگ عظیم میں شیراز میں ایک متاثر ہونے والے خاندان کی کہانی تھی۔ سال اشاعت میں ہی اِس کی پانچ لاکھ سے زیادہ کاپیاں فروخت ہوئیں اور سیمین فارسی ادب کی سر اول کی ادیبہ بن گئیں تھیں۔ سیمین بہت اچھی مترجمہ بھی تھیں۔ انگریزی میں اُنہوں نے اپنے شوہر کی سوانح the Dawn of jalal کے نام سے لکھی تھی۔ 1968ء میں سیمین Iranian Writers Union کی چیئرمین بن گئیں۔[3] 1969ء میں سیمین کا شہرہ آفاق فارسی ناول ”سووشون“ شائع ہو کر منظر عام پر آیا تو سیمین کی شہرت میں پہلے سے زیادہ اِضافہ ہوا۔ وہ سرکاری طور پر ایک مستند ادیبہ کی حیثیت سے پہچانی جانے لگیں۔

    سیمین کی بیوگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    09 ستمبر1969ء کو سیمین کے شوہر جلال آل احمد کا ناگہانی اِنتقال ہوا جب وہ بحیرہ خزر کے قریب اپنے گرمائی گھر میں مقیم تھے۔ شوہر کی وفات سے وہ اکیلی رہنے لگیں اور تقریبًا 43 سال حالتِ بیوگی میں گزارے۔1981ء سے اُنہوں نے تہران یونیورسٹی میں بطور معلم یعنی لیکچرر ملازمت اِختیار کرلی اور ریٹائر ہونے تک شعبہ تدریس سے وابستہ رہیں۔ ریٹائر ہونے کے بعد اُنہوں نے زندگی لکھنے کے لیے وقف کر رکھی تھِی۔

    وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    2005ء میں سیمین کافی علالت میں مبتلا ہوئیں تھیں مگر ایک ماہ تک زیر علاج رہتے ہوئے شفا یابی ہوئی اور وہ اگست 2005ء میں گھر آگئیں۔ بروز جمعرات 14 ربیع الثانی 1433ھ مطابق 08 مارچ 2012ء کو 90 سال کی عمر میں مرض انفلوئنزا کے باعث فارسی کی پہلی ناول نگار خاتون نے اپنے گھر میں داعی اجل کو لبیک کہا۔ بروز ہفتہ 17 ربیع الثانی 1433ھ مطابق 11 مارچ 2012ء کو سیمین کی میت قبرستان بہشتِ زہرا لائی گئی جہاں اُن کی تدفین کی گئی حالانکہ اِس سے قبل حکومتِ اِیران سے اعلان کیا تھا کہ سیمین دانشور کو اُن کے شوہر جلال آل احمد کے قریب فیروزآبادی مسجد بمقام رَے میں دفن کیا جائے گا مگر یہ فیصلہ بعد ازاں واپس لے لیا گیا۔

    ناول
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1969ء میں سیمین کا شہرہ آفاق
    ۔۔۔ فارسی ناول ” سووشون ” شائع ہوا۔
    ۔۔۔ 1981ء میں اپنے شوہر کی سوانح حیات بنام
    ۔۔۔ ”غروب الجلال“ کے نام سے لکھی۔
    1992ء میں جزیرہ سرگردانی شائع ہوا۔
    ۔۔۔ 2001ء میں سریبان سرگردانی شائع ہوا۔
    ۔۔۔ اِن دو کتابوں کا تیسرا حصہ کوہِ سرگردانی
    ۔۔۔ نامعلوم وجوہات کی بنا پر شائع نہ ہو سکا۔
    ۔۔۔ 2007ء میں ”اِنتخابات“ شائع ہوئی جو سیمین
    ۔۔۔ کی کئی کہانیوں کے اِقتباسات تھے۔

    مختصر کہانیاں
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ آتش خاموش: 1948ء
    ۔۔۔ شہری چوں بہشت : 1961ء
    ۔۔۔ بی کہ سلام کنم : 1980ء

    انگریزی کتب کے فارسی تراجم
    ۔۔۔۔۔۔۔
    ۔۔۔ 1949ء/ 1328 شمسی ہجری میں
    ۔۔۔ جارج برنارڈشا کے
    ۔۔۔ Arms and the Man
    ۔۔۔ کا فارسی ترجمہ بنام ” سرباز شکلاتی“
    ۔۔۔ 1953ء میں آرتھر سکنشزلر کے
    ۔۔۔ Beatrice کا ترجمہ۔
    ۔۔۔ 1954ء میں نیتھنیال ہاوتھورن کے
    ۔۔۔ The Scarlet Letter
    ۔۔۔ کا فارسی ترجمہ بنام ” داغ ننگ“۔
    ۔۔۔ 1954ء میں ولیم سارویان کے
    ۔۔۔ The Human Comedy کا ترجمہ
    ۔۔۔ 1972ء/ 1351 شمسی ہجری میں
    ۔۔۔ ایلان پیٹن کے
    ۔۔۔ Cry, the Beloved Country
    ۔۔۔ کا فارسی ترجمہ بنام ”بنال وطن“۔
    ۔۔۔ 2003ء/ 1381 شمسی ہجری میں
    ۔۔۔ اینٹون چیکوف کے
    ۔۔۔ The Cherry Orchard
    ۔۔۔ کا فارسی ترجمہ بنام ”باغ آلبالو“۔
    ۔۔۔ ماہ عسل آفتابی (مجموعہ داستان)
    ۔۔۔ Alberto Moravia and
    ۔۔۔ Ryūnosuke Akutagawa