قصور
ڈسٹرکٹ ریسکیو سروس 1122 کا ماہانہ اجلاس کل ہوا
تفصیلات کے مطابق کل 4 نومبر کو ریسکیو سروس کی ماہانہ کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر سلطان محمود کی سربراہی میں اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ضلع کے تمام اسٹیشن انچارجز نے شرکت کی اور ایمرجنسی گاڑیوں کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے خصوصی ہدایت جاری کی گئیں
ڈسٹرکٹ ایمرجینسی آفیسر انجینئر سلطان محمود نے کہا کہ عوام کو بہتر ریسکیو سروس کی فراہمی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے نیز دوران کانفرنس بتایا گیا کہ پچھلے ماہ اکتوبر کے مہینے میں 1862 ایمرجنسی متاثرین کو ریسکیو کیا گیا جن میں 761 روڈ ٹریفک ایکسیڈنٹ ہوئے جبکہ میڈیکل ایمرجنسی کی تعداد 749 رہی، لڑائی جھگڑے اور فائرنگ کے 55 واقعات رونما ہوئے
ڈسٹرکٹ ایمرجینسی آفیسر انجینئر سلطان محمود نے کہا کہ ریسکیو 1122 عوام کی خدمت میں ہمہ وقت مصروف عمل ہے
Tag: اراضی ریکارڈ سنٹر قصور

ریسکیو 1122 کا ماہانہ اجلاس ،اہم فیصلے

کچھ دو کچھ لو ورنہ گھر جاؤ،اراضی ریکارڈ سنٹر قصور
قصور
اراضی ریکارڈ سنٹر قصور کرپشن کا گڑھ بن گیا رشوت دو کام لو ورنہ گھر جاؤ ملازمین بھی ٹائوٹ مافیا بن گئے فرد اور پاس شدہ رجسڑیوں کے انتقالات کا حصول ناممکن دور دراز سے آنیوالی متاثرہ عوام شدید سراپا احتجاج حکام بالا سے کاروائی کا مطالبہتفصیلات کے مطابق اراضی ریکارڈ سنٹر قصور کے ملازمین سائلین سے ایکسپریس فیس کے نام پر 2000 روپے وصول کئے جا رہے ہیں جبکہ سرکاری خزانے میں صرف 400 روپے جمع کرواتے ہیں
شہریوں کے مطابق ہر ملازم نے آفس سے باہر اپنے اپنے ٹاؤٹ مقرر کر رکھے ہوئے ہیں جو مبینہ طور پرشہریوں سے مک مکا کرکے پیسے وصول کرتے ہیں اور ملازمین سے ملی بھگت کرکے جلدی فردیں لیکر دیتے ہیں فردوں کے حصول کے لیے آنیوالے شہریوں کو ہیڈ آفس اندراج کے باوجود کئی کئی گھنٹے انتظار کروانے کے بعد یہ کہہ کر واپس بھیج دیا جاتا ہے کہ سسٹم میں خرابی ہے آپ کل آجانا جبکہ اراضی ریکارڈ سنٹر کے ملازمین اندر سے دروازہ لاک کرکے رشوت دینے والے افراد کے کام کرنے میں مصروف عمل ہوتے ہیں مزید حکومت کیطرف سے عائد کردہ قانون کے مطابق بوقت تصدیق رجسٹری انتقالات کی سرکاری فیس بذریعہ رجسٹری برانچ وصول کی جاتی ہے مگر عرصہ سے پاس شدہ رجسٹریوں کے بیشتر انتقالات پینڈنگ چلے آرہے ہیں اس سلسلہ میں جب اراضی ریکارڈ سنٹر قصور کے انچارج محمد صغیر احمد سے رابطہ کیا گیا تو انکا کہنا تھا کہ ہم ایس او پیز کے تحت افراد کو اندر آنے دیتے ہیں دروازہ لاک کرکے کام کرناہماری مجبوری ہے انہوں نے کہا کہ پیسے لینے والی بات میرے علم میں نہیں، متاثرہ عوام ، سول سوسائٹی کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلاء نے پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی ، بورڈ آف ریونیو، گورنر پنجاب، وزیر اعلیٰ پنجاب ، چیف سیکرٹری سمیت ڈی سی،اے ڈی سی آر،اے اے سی، دیگر اعلیٰ حکام سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

