Baaghi TV

Tag: ارب

  • جاز کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے 1 ارب روپے مالیت کی مدد کا اعلان

    جاز کی جانب سے سیلاب متاثرین کیلئے 1 ارب روپے مالیت کی مدد کا اعلان

    اسلام آباد:جاز کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے 1 ارب روپے مالیت کی معاونت کا اعلان کیا گیا ہے۔اس حوالے سے جاز سی ای او عامر ابرہیم کا کہنا ہے کہ معاونت سے فلاحی اداروں کے اشتراک سے بالخصوص ایمرجنسی سپلائی اور سبسڈائزڈ ٹیلی کام خدمات ودیگر امور انجام دیئے جائیں گے۔

    عامر ابرہیم نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں سیلاب سے متاثرہ اپنے لوگوں کی امداد کرنا ہمارا فرض ہے، شدید مشکلات کے باوجود سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ٹیلی کام سروسز جاری رکھنے کے لیے کوشاں ہیں۔جاز سی ای او نے مزید کہا کہ سیلاب کے باعث ڈیجیٹل انفراء اسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، جہاں جہاں ممکن ہے بحالی کی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔

    واضح رہے کہ اس معاونت میں جاز کیش اور موبی لنک مائیکرو فنانس بینک کا حصہ بھی شامل ہے۔

    یوفون نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مفت کالز کی سہولت فراہم کردی،ترجمان یوفون کے مطابق یوفون 4G نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں رابطے کیلئے مفت کالز کی سہولت فراہم کردی ہے۔اس حوالے سے ترجمان کا کہنا ہے کہ مفت کالز کی بدولت سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو اپنے پیاروں سے رابطہ قائم رکھنے میں مدد ملے گی۔

    ترجمان یوفون نے مزید کہا کہ یوفون سے یوفون نیٹ ورک اور پی ٹی سی ایل نمبروں پر مفت کالز کی سہولت پیش کی جارہی ہے، یوفون کے صارفین #4357* ڈائل کر کے یہ آفر حاصل کرسکتے ہیں۔

    ادھر ملک بھر میں مسلسل بارشوں کے بعد سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 1033 سے تجاوز کرگئی ہے۔گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران سندھ میں 74، خیبر پختونخوا میں 31، پنجاب میں 1، بلوچستان میں 4، گلگت بلتستان 6 اور آزاد کشمیر میں بھی 1 شخص زندگی کی بازی ہار گیا۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ (این ڈی ایم اے) کی جانب سے جاری کردہ اعداد وشمار کے مطابق بارشوں کے بعد سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں میں 32 بچے 56 مرد 9 خواتین شامل ہیں جبکہ متاثرین کی تعداد 57 لاکھ 73 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

    گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سیلاب کے سبب 9 لاکھ 49 ہزار گھر ،7 لاکھ 19 ہزار سے زائد لائف اسٹاک سیلاب کی نظر ہوئے، 2 لاکھ 67 ہزار 719گھر ملیا میٹ، 3 ہزار 116 کلومیٹر شاہراہیں، 149 پُل سیلاب میں بہہ گئے۔

    سیلاب زدہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیوں جاری
    ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں پاک فوج کی امدادی سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے، متاثرین میں 5487 راشن کے پیکٹ اور 1200 سے زائد خیمے تقسیم کیے گئے ہیں۔

    آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ملک بھر میں 117 ریلیف کیمپ بھی قائم کیے گئے ہیں، آرمی ایئر ڈیفنس کمانڈ ہیڈ کوارٹرز میں فلڈ ریلیف سینٹر قائم کیا گیا ہے، سینٹر کا مقصد فلڈ ریلیف اقدامات کو کوآرڈنیٹ کرنا ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق اب تک 25 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے، آرمی فلڈ ریلیف کورڈینیشن سینٹر قائم کیا گیا ہے، ملک بھر میں امداد کلیکشن پوائنٹس قائم کیے جا رہے ہیں۔

  • 250 ارب ٹیکس پیپلزپارٹی کے حکمران خاندان کو جاتا ہے:اب اس نظام کو بدلنا ہوگا: خالدمقبول صدیقی

    250 ارب ٹیکس پیپلزپارٹی کے حکمران خاندان کو جاتا ہے:اب اس نظام کو بدلنا ہوگا: خالدمقبول صدیقی

    کراچی :250 ارب ٹیکس پیپلزپارٹی کے حکمران خاندان کو جاتا ہے:اب اس نظام کو بدلنا ہوگا،اطلاعات کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول شہر قائد کے تاجروں کو مطالبات کی فہرست لیکر عدالت جانے کا مشورہ دے دیا۔

    ان خیالات کا اظہار کراچی کے مسائل سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ مہذب معاشروں کے سارے طریقے ہم نے استعمال کئے اس کے باوجود تین کروڑ کے شہر کی سرکاری نمائندگی 50 لاکھ بھی نہیں۔

    خالد مقبول نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ حق اور سچائی کےلیے کھڑا ہونا سب سے بڑا جہاد ہے اور ہم نے سچائی کے ساتھ ایوانوں اور عدالتوں میں اپنا مقدمہ رکھا مگر نتیجہ صفر نکلا۔

    متحدہ قومی موؤمنٹ پاکستان کے کنوئنیر خالد مقبول نے کہا کہ کراچی کے عوام کے ٹیکس سے نکاسی آب کا نظام چلتا ہے، ٹیکس سے پولیس کو تنخواہ ملتی ہے لیکن جان و مال کا تحفظ نہیں۔

    انہوں نے دعویٰ کیا کہ 250 ارب روپے ٹیکس پیپلز پارٹی کے حکمران خاندان کو جاتا ہے جب کہ ایک حکمران خاندان کی جیب میں ایک ہزار ارب سالانہ جاتا ہے۔

    ایم کیو ایم رہنما کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی جیب میں پیسہ جائے گا تو وہ پاکستان کےلیے کھڑا نہیں ہوگا لیکن ہمیں ملکر کوئی پالیسی اور حکمت عملی ترتیب دینی ہوں گی کیوں کہ شناخت ہی حقوق کا تعین کرتی ہے۔

    خالد مقبول نے کہا کہ اقلیت کی حکومت اس شہر کی اکثریت پر قابض ہے، ہم نے ایوانوں اور عدالتوں میں اپنا مقدمہ رکھ دیا لیکن نتیجہ صفر ہے۔خالد مقبول صدیقی نے تاجروں کو مشورہ دیا کہ تاجروں کو ضرورت ہے مطالبات کی فہرست عدالت لے جائیں اور صنعت کاروں سے بھی کہتے ہیں کہ ہمارا ساتھ دیں۔

    ایم کیو ایم رہنما نے آخر میں واضح کیا کہ سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں نے بلدیاتی ایکٹ کو مسترد کیا لیکن صوبائی وزرا عوام کو گمراہ کررہے ہیں پہلے اس کالے بلدیاتی قانون کو ختم کریں پھر بات ہوگی۔