Baaghi TV

Tag: ارجنٹینا

  • ارجنٹائن کو دھچکا، میسی ورلڈکپ سے قبل انجری کا شکار ہوگئے

    ارجنٹائن کو دھچکا، میسی ورلڈکپ سے قبل انجری کا شکار ہوگئے

    دوحہ:ارجنٹائن کے اسٹار فٹبالر لیونل میسی قطر فٹبال ورلڈکپ شروع ہونے سے 2 ہفتے قبل انجری کا شکار ہوگئے۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق میسی کے فٹبال کلب پیرس سینٹ جرمین (پی ایس جی) نے اسٹار فٹبالر کے انجرڈ ہونے کی تصدیق کردی ہے۔

    گزشتہ روز پی ایس جی کلب کے بیان میں کہا گیا کہ لیونل میسی پاؤں میں انجری ہونے کے باعث اتوار کو ہونے والے لیگ ون کا میچ نہیں کھیل سکیں گے۔تاہم کلب کی جانب سے امید کی جارہی ہے کہ میسی اگلے ہفتے تک مکمل صحت یاب ہوکر ٹریننگ کا آغاز کریں گے۔

    دوسری جانب ارجنٹائن فٹبال ٹیم کے شائقین اپنے اہم کھلاڑی کے ورلڈکپ سے قبل انجرڈ ہونے پر تشویش کا اظہار کررہے ہیں۔

    واضح رہے کہ رواں سال قطر میں ہونے والا فٹبال ورلڈ کپ ارجنٹائن کے اسٹار فٹبالر لیونل میسی کے کیریئر کا آخری ورلڈکپ ہوگا۔

    گزشتہ ماہ ارجنٹائن کے میڈیا سے بات کرتے ہوئے 35 سالہ میسی نے کہا کہ’ یقیناً یہ میرا آخری ورلڈ کپ ہے، میں جسمانی طور پر اچھا محسوس کر رہا ہوں، میں اس سال اچھا پری سیزن کھیلنے میں کامیاب رہا،جو میں پچھلے سال نہیں کر سکا تھا’۔

    یاد رہے کہ میسی نے 2016 میں انٹرنیشنل فٹبال سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا لیکن جلد ہی انہوں نے اپنے فیصلے کو واپس لے لیا تھا۔

    میسی نے 2005 میں انٹرنیشنل کیریئر کا آغاز کیا تھا اور اس کے بعد سے انہوں نے ارجنٹائن کے لیے 164میچز کھیلے اور 90 گولز کیے۔

    خیال رہے کہ قطر میں ہونے والے ورلڈکپ کا آغاز 20 نومبر کو میزبان ملک اور ایکواڈور کے درمیان مقابلے سے ہوگا۔

  • طوطوں کی سب سے بڑی کالونی دریافت

    طوطوں کی سب سے بڑی کالونی دریافت

    ارجنٹینا کے جنوبی ریگستان پیٹاگونیا کے پہاڑ پر طوطوں کی سب سے بڑی کالونی دریافت ہوئی ہے۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ال کونڈو نامی پہاڑی پر سبز پروں اورآنکھوں کے گرد سفید حلقوں والے طوطوں کے 37 ہزار گھونسلے پائے جاتے ہیں۔

    سائنسدانوں نے ان طوطوں کو باروئنگ پیرٹس کا نام دیا ہے ہے کیونکہ یہ طوطے سرنگ کھود کر اپنا گھونسلہ بناتے ہیں، یہ یہ سرنگیں 9.8 فٹ (تقریباً 3 میٹر) تک گہری ہو سکتی ہیں۔

    ایل کونڈور کی چٹانیں ایک ایسی انواع کے لیے گھونسلے کے طور پر کام کرتی ہیں جو کبھی پورے جنوبی امریکہ میں نمودار ہوتی تھی، لیکن طوطے کی آبادی اب کم ہو رہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق طوطے جب اپنے پنکھ پھیلا کر اڑتے ہیں تو نیلا آسمان ان سے ڈھک جاتاہے اور دلفریب منظر پیش کرتا ہے۔

    تشویش کی بات یہ ہے کہ باروئنگ پیرٹس کی نسل میں مسلسل کمی آ رہی ہے، سائنسدانوں کے مطابق خوراک میں کمی کے باعث ان طوطوں کو میلوں سفر کرنا پڑتا ہے جو ان کی نسل میں کمی کی بڑی وجہ بن رہی ہے۔

    اس کے علاوہ سیاحتی مقامات میں اضافہ اور انسانی عمل دخل بھی ان طوطوں کی کالونی کے لیے بڑا خطرہ ہے۔

    یوکرینی مسلمانوں کی نمازِعید کےاجتماعات میں روس کا قبضہ ختم ہونےکی دعائیں

    ارجنٹائن مونٹی میں طوطوں کی خوراک کا ذریعہ ایمیزون کے بارشی جنگل سے زیادہ تیزی سے غائب ہو رہا ہے۔ صحرائی گھاس کے میدانوں اور جھاڑیوں کا یہ کمزور علاقہ، جسے طوطے ترجیح دیتے ہیں، جنگلات کی کٹائی کا شکار ہے۔

    طوطوں کو اپنے گھونسلوں سے تین گھنٹے کی دوری پر اڑنا پڑتا ہے تاکہ وہ بیج اور بیر تلاش کر سکیں تاکہ وہ چٹان کے گھونسلوں میں اپنے بچوں کو واپس لے سکیں۔

    جرمنی کی جسٹس لیبیگ یونیورسٹی گیسن کے سائنسدانوں کے مطابق، ہر سال، پرندوں کو کھانے کے لیے کچھ تلاش کرنے کے لیے دور تک سفر کرنا پڑتا ہے، اور یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ بالغ افراد روزانہ 164 میل (264 کلومیٹر) تک پرواز کرتے ہیں۔

    گیارہ ذی الحج ایام تشریق کا آغاز ،ایام تشریق کیا ہیں؟