Baaghi TV

Tag: اردو

  • لاہور ہائیکورٹ  کا ٹرائل کورٹس میں گواہوں کے بیانات اردو میں لکھنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ کا ٹرائل کورٹس میں گواہوں کے بیانات اردو میں لکھنے کا حکم

    لاہور ہائیکورٹ نے ایک اہم عدالتی فیصلے میں ٹرائل کورٹس کو ہدایت جاری کی ہے کہ گواہوں کے بیانات انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو میں بھی تحریر کیے جائیں-

    عدالت نے یہ فیصلہ محمد عرفان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے سے متعلق کیس میں سنایا تحریری فیصلے میں کہا گیا ہے کہ محمد عرفان پر شہری عبدالناصر کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا الزام ہے، تاہم مقدمے کے دوران اہم قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے گواہوں کے بیانات کا اردو ترجمہ عدالتی ریڈر نے ملزم کی غیر موجودگی میں کیا، جو قانونی خلاف ورزی ہے پریزائیڈنگ آفیسر سے انگلش ٹائپنگ کی غلطی ہوئی جس سے بیان میں تضاد پیدا ہوا قانون کی منشا یہی ہے کہ ماتحت عدالتوں میں اردو زبان کا استعمال کیا جائے اور بیانات گواہوں کی مادری زبان میں درج کیے جائیں، تاکہ شفاف اور درست عدالتی کارروائی یقینی بنائی جا سکے۔

    عدالت نے کیس میں موجود تضادات اور ترجمے کی خامیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے محمد عرفان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا حکم جاری کر دیا ساتھ ہی رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کو ہدایت کی گئی ہے کہ عدالتی فیصلے کی کاپی تمام ماتحت عدالتوں کے ججز کو فوری طور پر بھجوائی جائے تاکہ آئندہ ایسے نقائص سے بچا جا سکے۔

  • ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسپیکر کا الیکشن لڑنے کا امکان ہ

    ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسپیکر کا الیکشن لڑنے کا امکان ہ

    امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر کیون میک کارتھی کو دو روز قبل ہٹادیا گیا جس کے بعد سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسپیکر کا الیکشن لڑنے کا امکان ہے۔ سابق صدر کے سیاسی حریف سمجھتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ مقدمات سے بچنے کیلئے اسپیکر بننے کی تیاری کررہےہیں جبکہ امریکا میں ایوان نمائندگان کا نیا اسپیکر کون ہوگا اس حوالے سے سیاسی بحث کا سلسلہ جاری ہے۔

    سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ جو اس وقت مقدمات کا سامنا کررہے ان کے اسپیکر بننے کا خیال ظاہر کیا جارہا ہے۔ سابق امریکی صدر ٹرمپ کی قانونی مشکلات یہ ہیں کہ ان کے خلاف چلنے والے مقدمات میں دو وفاقی الزامات بھی شامل ہیں، میڈیا رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے نیویارک سٹی کی ایک عدالت کے باہر کہا، کہ بہت سے لوگ مجھے اسپیکر کے حوالے سے فون کر رہے ہیں لیکن میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم وہ سب کچھ کریں گے جو ملک اور دیگر ریپبلکن پارٹی اور عوام کے لیے بہتر ہوگا۔

    آج کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ان کی توجہ دوبارہ صدارتی انتخاب جیتنے پر مرکوز ہے، یاد رہے کہ دو روز قبل امریکی ایوان نمائندگان کے اسپیکر میک کارتھی کو عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا۔ امریکی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب ایوان نمائندگان نے اپنے ہی رہنما کو ہٹانے کے حق میں ووٹ دیا۔ میک کارتھی کو معزول کرنے کے لیے کامیاب ووٹنگ کے فوری بعد حامیوں کی جانب سے ٹرمپ کا نام پیش کیا گیا اور ٹرمپ کے ایک مشیر نے منگل کی رات این بی سی نیوز کو بتایا کہ ایوان نمائندگان کے ریپبلکن ارکان پہلے ہی ٹرمپ کو عبوری اسپیکر کے طور پر کام کرنے کے لیے کہہ رہے تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    فٹ بال اسٹار فرانسسکو ٹوٹی کی کینسر کے مریضوں سے ملاقات
    آئی سی سی ورلڈ کپ 2023 ، نیوزی لینڈ نے آنگلینڈ کو 9 وکٹو ں سے ہرا دیا
    فیفا ورلڈ کپ 2034 کا انعقاد؛ میزبانی کیلئے بحرین اور کویت نے سعودیہ کی حمایت کردی
    جی میل نے نیا فیچر متعارف کروا دیا
    گزشتہ رات فاکس نیوز کے شان ہینیٹی شو میں اوہائیو کے ریپبلیکن رکن جم جورڈن نے ٹرمپ کے ’عبوری‘ اسپیکر بننے سے متعلق سوالات سے بچنے کی کوشش کرتے ہوئے بار بار کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ وہ دوبارہ صدر بنیں۔ تاہم میزبان کے زور دینے پر جم جورڈن نے آخر کار کہا کہ وہ ٹرمپ کو “1600 پنسلوانیا ایونیو پر چاہتے ہیں لیکن اگر وہ اسپیکر بننا چاہتے ہیں تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ تاہم واضح رہےکہ امریکی ایوان نمائندگان میں ریپبلکنز نے ہاؤس آف اسپیکر کیون میک کارتھی کوعدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے عہدے سے ہٹایا، یہ ان کی اپنی پارٹی کے اندراندرونی لڑائی اور دائیں بازو کی جانب سے مسلسل چیلنجز کا نتیجہ ہے۔

    ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس سے تعاون پر ریپبلکن اراکین مک کارتھی سے سخت ناراض تھے، اسی لیے خلاف اُن کے خلاف قرارداد پیش کی گئی، میک کارتھی کو منگل کی شام 216 کے مقابلے میں 210 ووٹوں سے ان کے عہدے سے برطرف کیا گیا۔

  • اردو کے ممتاز ہندوستانی شاعر ارتضی نشاط

    اردو کے ممتاز ہندوستانی شاعر ارتضی نشاط

    کرسی ہے، تمھارا یہ جنازہ تو نہیں ہے
    کچھ کر نہیں سکتے تو اتر کیوں نہیں جاتے

    اردو کے ممتاز ہندوستانی شاعر ارتضی نشاط 6 ماہ کی طویل علالت کے بعد 84 سال کی عمر میں ممبئی میں انتقال کر گئے ۔ ارتضی نشاط 15 اکتوبر 1938 میں اردو کے نامور شاعر رضا حسین شاہد کے گھر بدایوں میں پیدا ہوئے ۔ نشاط صاحب کے والد بھی شاعر، دادا مسکین حسین مسکین بدایونی بھی شاعر اور پر دادا خادم حسین خادم بدایونی بھی معروف شاعر تھے۔ نشاط کے والد رضا حسین شاہد آل انڈیا ریڈیو میں بحیثیت پروڈیوسر ملازم تھے انہوں نے 1950 کی دہائی میں بدایوں سے نقل مکانی کر کے ممبئی میں مستقل بنیادوں پر رہائش اختیار کی ۔ نشاط نے ابتدائی تعلیم بدایوں میں حاصل کی اور مزید تعلیم ممبئی میں حاصل کی ۔

    تعلیم سے فراغت کے بعد نومبر 1957 میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے ماتحت الیکٹرک پاور سپلائی اینڈ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بطور کلرک ملازمت حاصل کی ۔ 1987 میں ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد روزنامہ انقلاب ممبئی میں بطور فیچر ایڈیٹر اور قطع نگار ملازمت اختیار کی ۔ پاکستان میں رئیس امروہوی کی طرح ہندوستان میں نشاط نے روزنامہ انقلاب میں روزانہ کی بنیاد پر حالات حاضرہ کے مطابق قطع نگاری کی بنیاد ڈالی۔ ارتضی نشاط گزشتہ نصف صدی سے ہندوستانی شعر و ادب کے میدان میں نہایت فعال اور مقبول ترین شعراء کی فہرست کے صف اول میں شامل رہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    دہشتگرد، سہولتکار اُن کے ساتھیوں کا پیچھا کریں گے،آرمی چیف
    شاہد خاقان عباسی کیخلاف ایل این جی ریفرنس، اسپیشل جج سینٹرل کو منتقل
    نوعمرسگریٹ نوشی کرنے والوں کی دماغی ساخت تبدیل ہوتی ہے،تحقیق
    ارتضی نشاط صاحب کے اب تک 4 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں "ریت کی رسی” ، ” کہرام” ، "تکذبان” اور ، ” واقعی” شامل ہیں جبکہ ان کا پانچواں شعری مجموعہ "غزل دل ربا ہے مری” زیر طباعت ہے ۔ نشاط کو کئی کتابوں پر سرکاری ایوارڈ مل چکے ہیں ۔ غیر سرکاری سطح پر بھی ان کی ادبی خدمات کو سراہا گیا ہے ۔ روزنامہ انقلاب (ممبئی) میں ان کے قطعات الف ۔ نون کے نام سے بلا ناغہ 48 سالوں تک شائع ہوتے رہے ہیں ۔

    ارتضی نشاط کی شاعری سے انتخاب
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    فسادی شرپسندوں میں کتابیں بانٹ دی جائیں
    کہ ملبے سے کسی بچے کا اک بستہ نکلتا ہے

    ہر طرف تھا سمندر مگر
    ہر زمیں کربلا سی رہی

  • محمد حسين ہيكل   کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل کا جنم دن

    محمد حسين ہيكل مصری شاعر، ادیب اور سیاست دان ہیں۔ ایک اعلی پائے کے سیرت نگار؛ جن کی سب سے بہترین تالیف "حیات ِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم” ہے۔ محمد حسین ہیکل کی پیدائش 20 اگست 1888ء بمطابق 12 ذو الحج 1305ھ میں حنين الخضراء مصر میں ہوئی۔ انہوں نے قاہرہ میں لا اسکول الخدویہ سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور 1909ء میں گریجویشن مکمل کی 1912ء میں فرانس میں سوربون یونی ورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، 10 سال تک ایک وکیل کے طور پر کام کیا۔ صحافت میں بھی رہے۔ احمد لطفی کے خیالات سے متاثر تھے۔

    1923 ء میں اس قانون ساز اسمبلی کے وزیرِ تعلیم رہے۔ جس نے صدارتی نظام کا قانون تیار کیا جو مصر کا پہلا آئین شمار کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد 1940 ء سے 1942ء تک دوبارہ وزیر رہے اور 1945ء میں سماجی امور کی وزارت دی گئی۔ لبرل پارٹی کے ڈپٹی اور صدر کے عہدوں پر کام کرتے رہے۔ سعودی عرب میں جب عرب ریاستوں کی لیگ کے چارٹر پر دستخط کیے گئے تو اقوام متحدہ میں مصری وفد کے سربراہ کے طور پر شامل تھے۔
    محمد حسین ہیکل کی وفات سوموار 5 جمادى الاول 1376ھ بمطابق 08 دسمبر 1956ء میں ہوئی۔
    تالیفات

    روايۃ زينب۔
    روايۃ سہيلہ فی الظلمۃ – 1914.
    سير حياة شخصيات مصريۃ وغربيۃ – 1929.

    حياتِ محمد – 1933.
    فی منزل الوحى – 1939.
    مذكرات فی السياسۃ المصريہ – 1951 / 1953.
    الصديق ابو بكر۔
    الفاروق عمر – 1944 / 1945.
    عثمان بن عفان – 1968.
    ولدی۔
    يوميات باريس۔
    الامبراطوريہ الإسلاميہ والأماكن المقدسہ – 1964.
    قصص سعوديہ قصيرہ – 1967.
    فی اوقات الفراغ،
    الشرق الجديد

    محمد حسین ہیکل کا نام تاریخ میں سیرت طیبہ کے مولف کی حیثیت سے زندہ و جاوید رہے گا۔ یہ ذکرِ محمد کا اعجاز ہے۔۔ انہوں نے عربی میں شاہکار کتابیں لکھیں۔انہوں نے حیات محمدﷺ کتاب1933ء میں لکھی اور اسی نہج پر حضرت عمر فاروق ؓ کی سیرت مبارکہ1944میں لکھی۔ حیات محمد ﷺ کا اردو ترجمہ ابویحیٰ امام خان نے کیا۔ اور اردو میں اس کتاب کو مقبولیت دوام حاصل ہوا۔

    ”حیات محمد ﷺ‘‘ کا اردو ترجمہ ہندوستان میں تاج کمپنی دہلی نے شائع کیا۔ اس کتاب کے تعارف میں یوں لکھا گیا۔’’ انیسویں صدی اور بیسویں صدی میں جب دنیا کی مختلف اقوام نے سیرت پاک ﷺ کا مطالعہ شروع کیا تو تہذیب عالم کی اس عظیم شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو سمجھنے میں انہیں کافی الجھنوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اس سے مسلمانوں کے ہاں سیرت نگاری کا ایک خاص اسلوب پیدا ہوا۔ جس پر کلامی انداز غالب تھا۔ عہد جدید میں سیرت مبارکہ پر جن تحریروں کو سند کا درجہ دیا جاتا ہے ان میں محمد حسین ہیکل کی ”حیات محمد ﷺ‘‘ صف اول کی کتاب سمجھی جاتی ہے۔عربی زبان میں یہ کتاب کلاسیک کا درجہ اختیار کرچکی ہے۔ اور دنیا کی مختلف زبانوں میں اس کے تراجم شائع ہوئے ہیں۔ عہد جدید میں سیرت نبوی ﷺ پر حوالے کی اس بنیادی کتاب کا ترجمہ مولانا ابویحی امام خاں نوشہروی نے اس خاص اسلوب میں کیا جس کی پختگی فن ترجمہ میں انہیں ایک بلند حیثیت دیتی ہے۔ عربی اسالیب کی بلاغت پوری صحت کے ساتھ ترجمے میں منتقل کی گئی ہے۔ اور اس اعتبار سے اردو میں سیرت نبوی ﷺ کے ذخیرہ ادب میں ایک اہم اور قابل قدر اضافہ ہے۔(ناشر ”حیات محمد ﷺ‘‘ دہلی)
    کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ جس عقیدت و احترام سے لکھی گئی اس کا اندازہ کتاب کے آغاز میں لکھے گئے مولف کے مقدمہ اول کے ابتدائی جملوں سے ہوتا ہے جب وہ کہتے ہیں:
    ’’ حضرت محمد علیہ الصلوۃ السلام یہ ہے وہ مبارک نام جو ہر روز کروڑوں لبوں پر آتا اور کروڑوں دلوں کو سرور و تازگی سے مالا مال کرتا ہے۔ ہمارے لب اور ہمارے یہ دل اسی نام سے ساڑھے تیرہ سو برس سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔ یہی نہیں لبوں اور دلوں کی بہرہ مندی قیامت تک جاری رہنے والی ہے۔اذان پنچگانہ میں:ادھر صبح صادق نے رات کی سیاہی پر نور چھڑکا موذن نے الصلوۃ خیر من النوم پکار کر بنی آدم کو اللہ تعالی کے سامنے سجدے میں سر رکھنے کی تلقین کی اور اس کے ساتھ ہی کرہ ارض کے چپے چپے پر کروڑوں انسانوں نے درود و سلامتی کے تحفے پیش کئے۔۔ آں حضرت سے مسلمانوں کی محبت و عقیدت کا یہ حال ہے کہ نمازوں میں جب بھی آں حضرت کا ذکر آیا دل فرط مسرت سے پہلو میں اچھل پڑا۔ آں حضرت کی ذات کے ساتھ احترام و محبت کے یہ جذبات ہمیشہ وابستہ رہے ہیں۔ اور آئیندہ بھی اسی طرح وابستہ رہیں گے۔ یہاں تک کہ اسلام دنیا کے ذرے ذرے پر غالب آجائے‘‘۔ ( ”حیات محمد ﷺ‘‘ محمد ہیکل۔ ص۔ 3 دہلی۔ پہلا ایڈیشن 1988)
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    کتاب کے مقدمے میں محمد ہیکل نے ابتدائے آدم سے زمانہ جاہلیت کے مختلف ادوار کا ذکر کیا۔ اور پس منظر کے طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وصلم کے اس دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعد مستشرقین کی جانب سے اسلام اور آپ ﷺ سے متعلق پیدا کیے جانے والے شکوک و شبہات اور ان کے ازالے کے لیے مستند کتب سیرت کی ضرورت اجاگر کی۔ اس تصنیف کی وجہ تالیف بیان کرتے ہوئے محمد ہیکل لکھتے ہیں:
    ’’علمی زندگی طے کرنے کے بعد میں نے عملی دور میں قدم رکھا ہی تھا کہ دنیا کے ہر گوشے میں بسنے والے مسلمانوں کو ان مسائل سے متاثر دیکھا جو اسلام اور اس کے بانی کے متعلق پیدا کیے جاچکے تھے۔ کیا اسلامی ممالک اور کیا ان ملکوں کے اندر جہاں مسلمان رعایا کی حیثیت سے زیر نگیں تھے میں ان مسائل کی تحقیق میں ڈوب گیا۔ جن کی غلط بیانی اور فریب دہی کے چکر میں آکر مسلمان اور مشرق دونوں پریشان تھے۔ مغرب کے عیار اہل قلم اور اسلام کے جامد علماء کی اس کج روی سے صرف دین ہی کو خطرہ نہ تھا بلکہ یہ علمی حادثہ تمام عالم کے لیے مصائب کا پیش خیمہ تھا۔ کیوں کہ مسلمان جو صدیوں تک دنیا کے ہر خطے میں علم و تمدن کے نقیب رہے اگر انہی کے عقائد اور ان کے بانی کے اطوار و کردار میں ظلم و جہالت کی تیرگی ثابت ہوجائے تو جن قوموں نے ان کی برکت سے علم و دانش کے خزانے حاصل کیے وہ تہذیب و فنون میں کس حد تک کامیاب ہوئیں۔ تو میں اپنا فرض سمجھ کر ان مسائل کی تحقیق و مطالعے میں منہمک ہوگیا۔حتی کہ کتاب ”حیات محمد ﷺ‘‘ کی تدوین پر میری توجہ مرکوز ہوگئی۔( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔ 23)

    مولف کتاب محمد ہیکل نے اس کتاب کو ترتیب دینے کے دوران قرآان و احادیث کتب اور دیگر حوالوں کو جس انداز میں مطالعہ کیا اور اسے اختیار کیا اس کی تفصیلات اس مقدمے میں دی ہیں۔ مقدمہ ثانی میں انہوں نے کچھ اضافے بھی کیے ہیں۔ وحی سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
    وحی کا تجزیہ موجودہ آلات سے نہیں ہوسکتا:حضرت محمد مصطفی ﷺ پر نزول وحی کے زمانے میں جو مسلمان موجود تھے جب کوئی آیت قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر نازل ہوتی تو ان کے ایمان میں اضافہ ہوتا۔ اس دور کے مسلمانوں میں بعض افراد نہایت دیدہ ور اور صاحب فراست بھی تھے۔یہود و نصاری میں سے بھی کچھ ایسے علماء مسلمان ہوچکے تھے جو ایمان لانے سے قبل پیغمبر اسلام کے ساتھ مناظرہ کرتے رہتے۔مگر مسلمان ہونے کے بعد انہوں نے بھی قرآن کے وحی ہونے سے انکار کا دامن نہیں چھوڑا۔۔ان تمام صورتوں کی موجودگی میں علم گوارا نہیں کرسکتا کہ وحی کو اس کی اصلیت سے ہٹا کر کسی اور نام سے پکارا جائے( ”حیات محمد ﷺ‘‘ ص۔45)
    مقدمے کے آخر میں محمد حسین ہیکل نے سیرت نبوی ﷺ کی جانچ کا حتمی پیمانہ بیان کرتے ہوئے لکھا کہ:’’قرآن مجید کی تعلیم اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ وہ معجزہ ہے۔ جو حضرت محمد ﷺ کو دیا گیا۔ اس کے انداز اور ہمہ گیری سے ثابت ہوتاہے کہ وہ اپنے زمانہ نزول سے لے اس وقت تک دنیا میں جلوہ آرا رہے گا۔ جب تک یہ نظام مربوط ہے۔ اس لیے مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ کی سیرت کو قرآن مجید پر عرض(پیش) کریں اور آپ ﷺ کے متعلقہ روایات میں جو چیز قرآن مجید کے موافق ہو اسے قبول کرنے میں تامل نہ کریں۔ مگر قرآن کے سوا دوسرے ذرائع سے جو ایسے امور آنخصرت ﷺ کی سیرت کے متعلق منقول ہوں کہ وہ قرآن کے معیار پر پورتے نہ اتر سکیں ان سے انکار میں انہیں تردد نہ کرنا چاہئے( ص۔68)

    کتاب حیات محمد کے آخر میں اسلامی تمدن اور اسلامی تمدن اور مستشرقین کے عنوان سے آپ ﷺ کے دنیا سے پردہ فرما جانے کے بعددنیا کے حالات پیش کئے۔مجموعی طور پر محمد حسین ہیکل کی کتاب’’ حیات محمد ﷺ‘‘ سیرت النبی ﷺ پر عربی میں لکھی ہوئی شاہکار کتاب ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کا اردو ترجمہ بھی اسی قدر شاہکار ہے۔ اس کتاب کا اسلوب رواں سلیس اور دل کو چھو لینے والاہے ۔ ذکر رسول ﷺ کو انہوں نے ادب و احترام اور واقعات کی سچائی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

  • نہ جانے کون سے عالم ميں اس کو ديکھا تھا،جدید اردو غزل کےمعروف شاعر شاذ تمکنت

    نہ جانے کون سے عالم ميں اس کو ديکھا تھا،جدید اردو غزل کےمعروف شاعر شاذ تمکنت

    شاذ تمکنت جدید اردو غزل کا ایک معتبر حوالہ ہیں آپ کا اصل نام ڈاکٹر سید مصلح الدین ہے آپ حیدر آباد ( آندھرا پردیش ) میں 31 جنوری 1933ء کو پیدا ہوئے آپ نے عثمانیہ یونیورسٹی حیدرآباد سے پی ایچ ڈی کیاجدید اردو شاعری میں شاذ تمكنت اپنے وقت کے مشہور شاعروں میں خود کو درج کرواچکے ہیں . دكن کے نامی گرامی شعرائے کرام میں شاذ کا شمار ہوتا ہے روایتی اور جدید شاعری کے درمیان جس پل کی تعمیر شاذ تمكنت نے کی وہ خود میں ایک دور کاآئینہ دار ہےان کی غزلوں اور نظموں میں جہاں ذاتی زندگی کے دکھ درد ظاہر ہیں، وہیں ان کا دکھ زمانہ کاعممومی طور پر تجربہ کرتا ہے آپ کا انتقال حیدر آباد ( آندھرا پردیش ) میں 18 اگست 1985ء کو ہوا –
    …..
    منتخب کلام
    …..
    نہ جانے کون سے عالم ميں اس کو ديکھا تھا
    تمام عمر وہ عالم رہا ہے آنکھوں ميں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کل اس کے ساتھ ہي سب راستے روانہ ہوئے
    ميں آج گھر سے نکلتا تو کس کے گھر جاتا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہر صبح سب سے پوچھتے پھرتے ہيں ہم کہ آج
    بندے ہيں کون؟ کس کو خدا مانتے ہيں لوگ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ميں يہ کہتا ہو کہ مجھ سا نہيں تنہا کوئي
    آپ چاہيں تو ميري بات ميں ترميم کرليں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کوئي گلہ کوئی شکوہ ذرا رہے تم سے
    يہ آرزو ہے کہ اک سلسلہ رہے تم سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کيا قيامت ہے مجھے حوصلہ ضبط ہے شاذ
    کيا غضب ہے کہ ترے درد کا اندازہ ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    يہ جہاں ہے مجلس بے اماں کوئي سانس لے تو بھلا کہاں
    ترا حسن آگيا درمياں يہي زندگي کا جواز ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ميں جسے ديکھنا چاہوں وہ نظر نہ آسکے
    ہائے ان آنکھوں پہ کيوں تہمتِ بينائي ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اے ارض و سما تجھ ميں دل بن کے دھڑکتے ہيں
    کچھ يونہي نہيں ہم کو آداب ِغزل آئے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    يوں بھي کچھ دن کيلئے دور رہا ہوں تجھ سے
    ليکن اس بار سفر کي يہ تھکن اور ہي ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کچھ دير رو بھي لے ، طبعيت بحال ہو
    کيا سوچنے سے فائدہ کيوں سوچتا ہے پھر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ذرا سي بات تھي بات آگئي جدائي تک
    ہنسي نے چھوڑ ديا لا کے جگ ہنسائي تک
    بھلے سے اب کوئي تيري بھلائي گنوائے
    کہ ميں نے چاہا تھا تجھ کو تری برائی تک
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پھر کوئي آئے جسے ٹوٹ کے چاہا جائے
    ہميں ايک عمر ہوئي ہے کف افسوس ملے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خدا نہيں ہے تو کيا ہے ہمارے سينوں ميں
    وہ اک کھٹک سي جسے ہم ضمير کہتے ہيں

  • ضیاء الدین  یوسفزئی  کی  کتاب  اسے  پرواز کرنے  دو کا پشتو ترجمہ  شائع  ہوگیا

    ضیاء الدین یوسفزئی کی کتاب اسے پرواز کرنے دو کا پشتو ترجمہ شائع ہوگیا

    ماہر تعلیم اور ملالہ فنڈ کے شریک بانی ضیاء الدین یوسف زئی کی کتاب "اسے پرواز کرنے دو” اب آپ پشتو ترجمہ میں بھی پڑھ سکتے ہیں۔ حال ہی میں پشتو زبان میں شائع ہونے والی ضیاء الدین یوسف زئی کی کتاب کا پشتو عنوان ہے "ھغہ الوت تہ پریردی” اس کا ترجمہ کیا ہے مصنف ہمدرد یوسفزئی نے اور تدوین و ترمیم کی ہے معروف لکھاری فضل ربی راہی نے جبکہ اس سے قبل بھی راہی انگریزی کتاب "لٹ ہر فلائی” کا اردو ترجمہ "اسے پرواز کرنے دو’ میں کرچکے ہیں۔ واضح رہے انگریزی کتاب میں شریک مصنف معروف مصنف لوئس کارپینٹر تھی۔

    اس حوالے سے ضیاء الدین یوسف زئی نے ان کی کتاب کا پشتو میں ترجمہ کرنے پر مصنف ہمدرد یوسفزئی اور تدوین و ترمیم کیلئے مصنف فضل ربی راہی کا شکریہ ادا کیا۔

    ضیاء الدین یوسفزئی کی اردو کتاب کے مترجم  فضل ربی راہی
    ضیاء الدین یوسفزئی کی اردو کتاب کے مترجم فضل ربی راہی

    ضیاء الدین لکھتے ہیں: "یہ کتاب میری زندگی کے مسلسل اتار چڑھاو کی کہانی ہے جو زندگی میں پہلی بار شائع ہوئی تھی” 

    یہ کتاب شائع کی ہے شعیب سنز پبلیکیشن والوں نے اور اس کتاب کو سوات شعیب سنز پبلشرز اینڈ بک سیلرز سوات مارکیٹ مینگورہ سے جبکہ پشاور میں یونیورسٹی بک ایجنسی (خیبر بازار) بک ہاؤس (شیخ یاسین ٹاور، ارباب روڈ) اور اسلام آباد سے سعید بک بینک جناح سپر مارکیٹ سے حاصل کیا جا سکتا ہے.


    یہ کتاب اب تین زبانوں اردو، پشتو اور انگریزی ترجمہ میں موجود ہے۔ 

    ضیاء الدین یوسفزئی کی پشتو کتاب کے مترجم  ہمدرد یوسفزئی
    ضیاء الدین یوسفزئی کی پشتو کتاب کے مترجم ہمدرد یوسفزئی

    سوشل میڈیا پر "اسے پرواز کرنے دو” کا پشتو ترجمہ آنے کے بعد صارفین خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ضیاء الدین یوسف زئی کو مبارک باد دے رہے ہیں اور اس کتاب کو پڑھنے کیلئے بے تاب بھی دکھائی دیتے ہیں۔


    سینئر صحافی رحمان بونیری ضیاء الدین یوسف زئی کو مبارک باد دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ: "اس کتاب کا مترجم ہمدرد یوسفزئی بہت باصلاحیت اور ذہین لکھاری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ترجمہ بھی بہت خوبصورت ہوگا۔

    اگرچہ میں نے یہ کتاب انگریزی میں پڑھی ہے لیکن پشتو میں بھی پڑھوں گا۔”

  • اردو اپنانے سے ہی انگریز کی باقیات سے جان چھوٹے گی. حمزہ شفقات

    اردو اپنانے سے ہی انگریز کی باقیات سے جان چھوٹے گی. حمزہ شفقات

    ‏ماہر لسانیات ٹام مکارتھر کے مطابق پاکستان میں انگلش لکھنے والے لوگ  چار فیصد سے بھی کم ہیں۔ 

    پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 251 کے مطابق سپریم کورٹ اردو کو دفتری زبان کے طور پر رائج کرنے کا حکم دے چکی ہے۔ لیکن ابھی تک اس کو عملی جامہ پہنانے میں بیوروکریسی کامیاب نہ ہو پائی۔

    ماضی قریب میں اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر رہ چکے حمزہ شفقات نے اپنے ٹوئیٹر تھریڈ میں ماہر لسانیات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ پاکستان میں انگریزی زبان لکھنے والے چار فیصد ہیں۔

    وہ مزید کہتے ہیں: ‏مقابلے کے تمام امتحانات، سرکاری محکموں کی فائلیں سبھی انگلش میں ہیں۔ اس وجہ سے اکثریت کام کرتے وقت الجھی رہتی ہے۔ اور انہیں %4 کی اجارہ داری رہتی ہے۔ شاید یہ بھی طبقاتی تقسیم کا ایک ذریعہ بن چکا ہے۔ اللہ نے قرآن میں فرمایا کہ رسولوں کو ان کی قوم ہی کی زبان میں بھیجا تاکہ ‏پیغام صحیح پہنچے۔


    انکے مطابق: اردو زبان پورے پاکستان میں سمجھی جاتی ہے اور ہمارے قومی تشخص کی ضامن ۔ زندہ قومیں اپنی زبان کو بولتی بھی ہیں، سیکھتی بھی ہیں اور اس پر فخر بھی کرتی ہیں۔ انگلش کو سٹیٹس سمبل نہ بنائیں ۔ انگریزی کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن اس کی حاکمیت سے انکار ضروری ہے۔

    شفقات نے کہا: ‏اردو اپنانے سے ہی انگریز سرکار کی باقیات سے جان چھٹے گی۔ ہماری زبان تو عربی اور فارسی کا حسین امتزاج ہے ۔ دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانے والی پہلی دس زبانوں میں ہے۔ داغ دہلوی کیا اچھا فرماگئے ہیں
    انہوں نے آخر میں ایک شعر کہا کہ:
    اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ​

    سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے

    حمزہ شفقات کے تھریڈ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسلام آباد پریس کلب کے صدر انور رضا کہتے ہیں: ‏‎بلاشبہ آپ نے درست نشاندہی کی لیکن آپ بخوبی جانتے ہیں کہ بیوروکریسی جب کوئی کام کرنا چاہتی ہے اسے دنیا کی کوئی طاقت  نہیں روک سکتی اور جب اگر بیوروکریسی نے کوئی کام نہ کرنا ہو تو کوئی طاقت ان سے وہ نہیں کروا سکتی۔

    ان کا کہنا تھا: یقیناً ہمیں اردو کو فروغ دینے کے لئے مل جل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

    انجینئر محمد شہزاد نے توجہ دلائی کہ: ہمارا وفاق اور صوبے آزاد کشمیر کے اردو کے پروٹوکول کی پیروی کیوں نہیں کرتا کیونکہ وہاں سرکاری طور قومی زبان اردو میں اعلامیے جاری کئے  جاتے ہیں۔

    یہاں پر انہوں نے آزاد کشمیر حکومت کا جاری کردہ اعلامیہ جو اردو میں ہے بھی پیش کیا۔

  • انتہاپسند اینکرپروڈکٹ کا اردومیں نام دیکھ کرآگ بگولہ،مینیجرکا منہ توڑ جواب ، ویڈیو وائرل

    انتہاپسند اینکرپروڈکٹ کا اردومیں نام دیکھ کرآگ بگولہ،مینیجرکا منہ توڑ جواب ، ویڈیو وائرل

    نئی دہلی: بھارت میں گائے کے گوشت،حجاب اوراذان پرپرپابندی کے بعداب اردو زبان بھی ہندوانتہاپسندوں کے نشانے پرآگئی۔

    باغی ٹی وی : بھارت میں انتہما پسند ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں پر ظلم و ستم اور پابندیوں کے سلسلے میں روز بروز شدت بڑھتی جا رہی ہے گوشت ،حجاب اور اذان پر پابندیوں کے بعد اب انتہاپسند اینکرپیکٹ پراردو میں لکھا نام دیکھ کراسٹورمینجرپربرس پڑی۔

    78 سالہ خاتون نے اپنی تمام تر جائیداد راہول گاندھی کے نام کردی

    https://twitter.com/Cryptic_Miind/status/1511371566608961539?s=20&t=3ffA3WefY_5p6J8rnVwtyg
    سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے مقامی ٹی وی چینل سدرشن نیوز ٹی وی کی اینکر اسٹور مینجر سے پیکٹ پر اردو میں لکھا نام دیکھ کرنہایت بد تمیزی اور غیر پیشہ وارانہ رویے سے سوال جواب کر رہی ہے-

    وائرل ویڈیو میں ہندو انتہا پسند اینکرکو نمکو اورمٹھائی کی مشہوردکان کی خاتون مینجرکوپیکٹ پراردو میں نام لکھنے پرمینجرسے بدتمیزی کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اردو کی نفرت میں آگ بگولہ انتہاپسند اینکر نے کھانے کی چیز کاتعلق گائے کی چربی سے بھی جوڑنے کی کوشش کی کہا کہ وہ پیکٹ میں اردو میں نام لکھ کچھ چھپانا چاہ رہی ہیں-

    بھارت میں مساجد کے باہر اذان کے وقت ’رام بھجن اور شیو بھجن‘ کا اعلان

    مینیجرنے بدتمیز اینکرسے ڈرنے کے بجائے کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اسے اردو میں لکھے نام پراعتراض کا کوئی حق نہیں اسٹور مینجرنے اینکرکواسٹورسے نکل جانے کو بھی کہا اسٹور مینجر نے کہا کہ اگر پ کو یہاں سے کچھ خریدنا ہے تو خریدیں اگر نہیں تو یہاں سے چلی جائیں –

    انتہاپسند ہندواینکر کی بدتمیزی ،کم عقلی اور بے وقو فانہ سوالاتا پرسوشل میڈیا صارفین نے اسے آڑے ہاتھوں لے لیا جبکہ مٹھائی کی دکان بھارت میں سوشل میڈیا پرٹاپ ٹرینڈ بن گئی۔


    ایک صارف نے کہا کہ اب سے کچھ بھی چھپانا ہو گا تو اردو میں لکھ دیں گے یہ صحیح جوگاڈ ہاتھ لگا ہے کوئی دی خوڈ بھی نہیں کر پائے گا –

    مودی سے مدارس پر چھاپے مارنے کا مطالبہ ، ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے…


    ایک صارف نے بھارتی متنازع فلم کشمیر فائلز کے ساتھ جوڑت ہوئے کہا کہ وویک مسلم ممالک میں عربی (اردو نہیں) سب ٹائٹلز کے ساتھ کشمیر کی فائلیں دکھا رہا ہے۔ دیکھو مجھے لگتا ہے کچھ چھپا ہوا ہے۔


    ایک صارف نے لکھا کہ اردو میں لکھنے میں کیا حرج ہے؟ کیا یہ ہندوستان کی سرکاری زبان میں سے ایک نہیں ہے؟


    ایک صارف نے کہا کہ اردو کی ابتدا ہندوستان میں ہوئی ہے اگر میں غلط نہیں ہوں؟

    بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کا مسلمان صحافیوں پر حملہ

    https://twitter.com/LuckyKandpal4/status/1511559730267058185?s=20&t=3ffA3WefY_5p6J8rnVwtyg
    ایک صارف نے لکھا کہ اتنی نفعت کسی ایک کمیونٹی لینگوئج کے لئے ہم اپنی آنے والی نسل کے لئے کیسی نفرت کے بیج بو رہے ہیں اب تو ایسا لگتا ہے کہ بھارت میں صرف ایک ہی مذہب ہے-

    ایک صارف نے لکھا کہ بے شرمی سے ہنستے ہوئے میڈم جی یعنی ایکنر نے اپنا اور چینل کا ایجنڈا دکھایا۔

    3 افراد نےحاملہ بکری کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا کرمار ڈالا،ایک ملزم گرفتار

  • واہ کیا خوب کہا شہبازگل نے اورسچ کہا

    واہ کیا خوب کہا شہبازگل نے اورسچ کہا

    لاہور:واہ کیا خوب کہا شہبازگل نے اورسچ کہا ،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہبازگل نے کہا ہے کہ بلاول بھٹو اس ملک کا لیڈر بننا چاہتے ہیں جس کی انہیں زبان تک نہیں آتی۔

    معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ ڈاکٹر شہباز گل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج دو سیاسی جماعتیں کہہ رہی ہیں عمران حکومت گرانے جا رہے ہیں، کہا جا رہا ہےکہ عمران حکومت اب 2 سے تین روز میں جانے والی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پہلے یہ لوگ چھپ کر خریدو فروخت کرتے تھے اب سینہ تان کر کہتے ہیں کہ ہم نے اتنے بندے خرید لیے، بھٹو صاحب نے آئین دیا لیکن دوسرے ہی دن کہا کہ یہ استعمال نہیں کرنا۔

    شہبازگل نے کہا ہے کہ ماضی میں چھپ کر چھانگامانگا میں خرید وفروخت کی سیاست کی گئی، بلاول بھٹو اس ملک کا لیڈر بننا چاہتے ہیں جس ملک کی انہیں زبان تک نہیں آتی، یہ کس قدر نالائق بچہ ہے جو 10سال سے اردو سیکھ رہا ہے اور آج تک نہیں سیکھ سکا۔

    معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ نے کہا کہ ہم نے 5ویں چھٹی جماعت میں انگریزی سیدھی کرلی تھی اور یہ آج تک اردو نہیں سیکھ سکا، بلاول کو لیڈر بعد میں بنا لیجیے گا پہلے اسے اردو سکھائیں۔

    انہوں نے کہا کہ ماضی میں پاکستان کوغیروں کی جنگ میں جھونک دیا گیا، ماضی کی حکومتوں میں غریب عوام ڈرون حملوں میں مارے جاتے تھے، عمران خان نے آپ کو وہ کچھ دیا ہے جو گزشتہ 13 سالوں میں نہیں ملا۔

    شہبازگل نے کہا ہے کہ ن لیگ کے دور اقتدار میں مسئلہ کشمیر پر کبھی بات نہیں کی گئی، دہشتگردی کیخلاف جنگ میں 150ارب ڈالر کا معیشت کو نقصان ہوا، پیٹرولیم مصنوعات میں کمی سے متعلق گزشتہ 4 ماہ سے کام کررہے تھے۔

    معاون خصوصی برائے سیاسی ابلاغ نے کہا کہ 70 سال بعد ایسا وزیراعظم آیا ہے جو کہتا ہے کہ پاکستان کا فیصلہ پاکستان میں ہوگا، پی ٹی آئی کا سندھ میں مارچ نکالنے کا مقصد سندھ حکومت کے کارنامے بتانا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اپنے صوبے کے عوام کو جوابدہ ہے، سندھ میں پیپلزپارٹی بتائے ٹرانسپورٹ اور پانی کے کون سے منصوبے دیئے؟

    چرچا ہر ایک آن ہے اردو زبان کا​
    گرویدہ کل جہان ہے اردو زبان کا

    اس لشکری زبان کی عظمت نہ پوچھیے
    عظمت تو خود نشان ہے اردو زبان کا

    گم نامیوں کی دھوپ میں جلتا نہیں کبھی
    جس سر پہ سائبان ہے اردو زبان کا

    مشرق کا گلستاں ہو کہ مغرب کا آشیاں
    ویران کب یہ مکان ہے اردو زبان کا

    سوداؔ و میرؔ و غالبؔ و اقبالؔ دیکھ لو
    ہر ایک پاسبان ہے اردو زبان کا

    اردو زبان میں ہے گھلی شہد کی مٹھاس
    لہجہ بھی مہربان ہے اردو زبان کا

    ترویج دے رہا ہے جو اردو زبان کو
    بے شک وہ باغبان ہے اردو زبان کا

    مہمان کہہ رہا ہے بڑا خوش نصیب ہے
    جو شخص میزبان ہے اردو زبان کا

    یہ ارضِ پاک صورتِ کشتی ہے دوستو!
    اور اس میں بادبان ہے اردو زبان کا

    لوگو! کہیں بھی اس میں پس و پیش کچھ نہیں
    اک معترف جہان ہے اردو زبان کا

    بولی ہے رابطے کی یہی جوڑتی ہے دل
    ہر دل میں ایسا مان ہے اردو زبان کا

    روشن ہے حرف حرف مفہوم اس کا آفریں
    شیریں سخن بیان ہے اردو زبان کا

    وسعت پذیر دامنِ اردو ہے اآج بھی
    ہر گوشہ اک جہان ہے اردو زبان کا

    کرتا ہے آبیاری لہو سے ادیب جو
    وہ دل ہے ، جسم و جان ہے اردو زبان کا

    آئیں رکاوٹیں جو ترقی میں اس کی کچھ
    سمجھو یہ امتحان ہے اردو زبان کا

    پائے گا جلد منزلِ مقصود بالیقیں
    جاری جو کاروان ہے اردو زبان کا

    عزت سخنورانِ ادب کی اسی سے ہے
    شاعرؔ بھی ترجمان ہے اردو زبان کا

  • اردو ہے جس کا نام وہ بے نام ہورہی ہے:سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا حکم آگیا

    اردو ہے جس کا نام وہ بے نام ہورہی ہے:سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا حکم آگیا

    اسلام آباد:اردو ہے جس کا نام وہ بے نام ہورہی ہے:سپریم کورٹ آف پاکستان کا بڑا حکم آگیا،اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ نے اردو زبان رائج نا کرنے پر وزارت تعلیم سے جواب طلب کرلیا۔

    سپریم کورٹ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج نہ کرنے پر توہین عدالت کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ کے اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے کے حکم پر عمل ہونا چاہیے، تعلیم کے علاوہ ایک چیز تربیت بھی ہوتی ہے۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ اپنی زبان کو زندہ رکھیں، اردو کو عالمی زبان بنانا چاہیے، تعلیمی اداروں میں اردو زبان کو کوئی فروغ نہیں مل رہا، وفاقی حکومت نشاندہی کرے کہ اردو زبان رائج کرنے کے کون سے ادارے ہیں۔

    جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ باقی صوبے اپنی زبانوں کا تحفظ کر رہے ہیں تو پنجاب کیوں پیچھے ہے، اردو زبان رائج کرنے کے معاملے کو اب سنجیدگی سے دیکھیں گے۔

    عدالت نے اردو زبان رائج نہ کرنے پر وزارت تعلیم سے جواب طلب کر لیا، جبکہ پنجاب میں پنجابی لٹریچر نہ پڑھائے جانے پر پنجاب حکومت سے بھی جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔