Baaghi TV

Tag: اردو زبان

  • اردو کی پہلی خاتون قوال شکیلہ بانو بھوپالی

    اردو کی پہلی خاتون قوال شکیلہ بانو بھوپالی

    جو شخص مدتوں مرے شیدائیوں میں تھا
    آفت کے وقت وہ بھی تماشائیوں میں تھا

    شکیلہ بانو بھوپالی

    اردو کی پہلی خاتون قوال، صاحب دیوان شاعرہ، ادکارہ اور موسیقار 9 مئی 1942 کو پیدا ہوئیں

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو زبان و ادب اور فنون لطیفہ کی تاریخ میں شکیلہ بانو بھوپالی واحد خاتون ہیں جو بہ یک وقت اداکارہ ، شاعرہ، گلوکارہ، موسیقار اور قوال تھیں جن کی خداداد صلاحیتوں اور حسن و جمال کی دھوم ، شہرت اور مقبولت اتنی تھی کہ مخدوم محی الدین کو شکیلہ بانو کے بارے میں یہ شعر لکھنا پڑا

    شہر میں دھوم ہے اک شعلہ نوا کی مخدوم
    تذکرے رستوں میں چرچے ہیں پری خانوں میں

    اپنے دور کی مشہور و معروف علمی، ادبی، فن موسیقی اور دلیپ کمار سمیت فلمی شخصیات بھی ان کی صلاحیتوں کے معترف اور متاثر تھیں۔ شکیلہ بانو کا ایک شعری مجموعہ ” اک غزل اور ” کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔ وہ ایک صاحب دیوان شاعرہ تھیں ۔ بحیثیت موسیقار انہوں نے کئی فلمی و غیر فلمی غزلوں ، گیتوں اور نغموں کی دھنیں ترتیب دیں قوال کی حیثیت سے ان کا بہت بڑا مقام تھا جبکہ انہوں نے 26 اردو فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔ شکیلہ کے خاندان کی کفالت کی ذمہ داری خود ان کے کاندھوں پہ تھی اپنے گھریلو حالات کے باعث وہ شادی بھی نہ کر سکیں ، 16 دسمبر2002 انتقال کر گئیں-

    شکیلہ بانو کی شاعری سے انتخاب

    وہ جو ہر دم مرے خیال میں ہے
    جانے کس پردۂ جمال میں ہے

    چاہتے ہو تو ٹوٹ کر چاہو
    خود جواب آپ کے سوال میں ہے

    ہاں مرا فن کمال کو پہونچا
    زیست لیکن مری زوال میں ہے

    فکر کیا سرخ رو ہو یا ٹوٹے
    دل مرا ان کی دیکھ بھال میں ہے

    کیا ضروری ہے ہم جواب ہی دیں
    ایک تلوار چپ کی ڈھال میں ہے

    ان کو فرصت کہاں جو یہ سوچیں
    بانوؔ امسال کس وبال میں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جو شخص مدتوں مرے شیدائیوں میں تھا
    آفت کے وقت وہ بھی تماشائیوں میں تھا

    اس کا علاج کوئی مسیحا نہ کر سکا
    جو زخم میری روح کی گہرائیوں میں تھا

    وہ تھے بہت قریب تو تھی گرمئ حیات
    شعلہ ہجوم شوق کا پروائیوں میں تھا

    کوئی بھی ساز ان کی تڑپ کو نہ پا سکا
    وہ سوز وہ گداز جو شہنائیوں میں تھا

    بزم تصورات میں یادوں کی روشنی
    عالم عجیب رات کی تنہائیوں میں تھا

    اس بزم میں چھڑی جو کبھی جاں دہی کی بات
    اس دم ہمارا ذکر بھی سودائیوں میں تھا

    کچھ وضع احتیاط سے بانوؔ تھے ہم بھی دور
    کچھ دوستوں کا ہاتھ بھی رسوائیوں میں تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میری راتوں میں سیاہی کے سوا کچھ بھی نہیں
    شہر میں کیسے نکلتے ہیں ستارے لکھنا

    ہم سے اچھے تو پرندے ہیں کہ پر رکھتے ہیں
    ہوں قفس میں بھی تو اڑنے کا ہنر رکھتے ہیں

  • سینیٹ میں سود کے خاتمے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور

    سینیٹ میں سود کے خاتمے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور

    اسلام آباد: سینیٹ نے سود کے خاتمے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی: سینیٹ میں رباء کے خاتمے سے متعلق قرارداد پیش ہوئی قرار داد جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے پیش کی وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث بخش پاشا نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح ہے ملک کی اکنامی سود فری ہو ، حکومت سود کے خاتمے کے حوالے سے اقدامات کررہی ہے سینیٹ نے سود کے خاتمے سے متعلق قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی۔

    کےالیکٹرک صارفین کیلئےفی یونٹ بجلی 6 روپےتک مہنگی ہو گی

    یاد رہے کہ حکومت نے شرعی عدالت کے سود کے خاتمے کے فیصلے کیخلاف اسٹیٹ بینک اور نیشنل بینک کی اپیلیں سپریم کورٹ سے واپس لے لی ہیں۔ چیف جسٹس نے اپیلیں واپس لینے کی بنیاد پر خارج کردی ہیں۔

    دوسری جانب سینیٹر مشتاق نے توشہ خانہ کی دیکھ بھال اور انتظام و انصرام کا ترمیمی بل اور اردو کو بطور قومی زبان قرار دیے جانے کے حوالے سے ایک تحریک ایوان میں پیش کی-

    سینیٹ اجلاس کے دوران توشہ خانہ کی دیکھ بھال اور انتظام و انصرام کا ترمیمی بل پیش کیے جانے پر چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ توشہ خانہ سے متعلق ایک اور بل کمیٹی میں التوا کا شکار ہےکیوں نہ یہ ترمیمی بل بھی قائمہ کمیٹی کو بھجوا دیں؟۔بعد ازاں سینیٹ نے توشہ خانہ کی دیکھ بھال ،انتظام و انصرام ترمیمی بل قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔

    مریم نواز کیخلاف توہین عدالت کی کاروائی،درخواست پر مزید دلائل طلب

    سینیٹر مشتاق احمد نے اردو کو بطور قومی زبان قرار دیئے جانے کے حوالے سے کہا کہ بابر اعظم کرکٹ کی دنیا کا ایک برانڈ ہے شعیب اختر کہتے ہیں بابر اعظم انگلش نہیں بول سکتا اس لیے وہ اسٹار نہیں بن سکا پاکستان کے آئین کے مطابق اُردو کو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا ہےسپریم کورٹ نے اردو کو سرکاری زبان قرار دینے کا فیصلہ کیااردو کو سرکاری زبان قرار دیا جائےتمام دفاتر میں اردو زبان رائج کی جائے۔ عدلیہ خود اپنے فیصلے اردو میں صادر کرے۔

    سینیٹر محسن عزیز نے سینیٹ میں منشیات پر مبنی مواد کی روک تھام کا ترمیمی بل پیش کیا، جسے ایوان نے منظور کرلی پاکستان انسٹیوٹ برائے تحقیق اور رجسٹریشن کوالٹی ایشورینس بل 2023ء بھی سینیٹ سے منظور کرلیا گیا علاوہ ازیں سینیٹر مہر تاج روغانی نے سینیٹ میں حقوق اطفال کا ترمیمی بل 2023 پیش کیاجسےسینیٹ نےکمیٹی کےسپرد کردیاعلاوہ ازیں سینیٹ نےایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اتھارٹی بل بھی کمیٹی کے سپرد کردیا-

    دنیا بھر میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان

  • اردو زبان کی معروف شاعرہ عائشہ ایوب

    اردو زبان کی معروف شاعرہ عائشہ ایوب

    مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا
    اور وہ مجھ میں اپنا قصہ چھوڑ گیا

    عائشہ ایوب نئی نسل کی شاعرات میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ آپ 18 جنوری 1983ء کو ممبئی میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم ممبئی اور سعودی عرب میں حاصل کی۔ فی الحال کئی سال سے لکھنؤ میں مقیم ہیں اورمختلف ادبی اور سماجی تنظیموں سے وابستہ رہ کر اپنی خدمات انجام دے رہی رہیں۔ اردو شاعری سے شغف آپ کو بچپن ہی سے رہا ہے یہی وجہ ہے کہ آپ نے” مخاطب فاؤنڈیشن ” کی بنیاد ڈالی اور اس کے ذریعے اردو کو فروغ دینے میں پیش پیش رہتی ہیں۔

    جہاں تک آپ کی شاعری کا تعلق ہے آپ نے اپنے تجربات اور احساسات کو خوبصورت انداز میں شعری پیراہن میں ڈھال کر اظہار کے وسیلے کو احساس کی گرمی سے مالامال کیا اور اپنی آزاد و پابند شاعری میں احتجاج کے لہجے کے ساتھ نسائی احساسات و جذبات کو بھی خوبصورتی کے ساتھ قلمبند کیا ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    عجلت میں وہ دیکھو کیا کیا چھوڑ گیا
    اپنی باتیں اپنا چہرہ چھوڑ گیا
    مجھ سے ایک کہانی سننے آیا تھا
    اور مجھ میں وہ اپنا قصہ چھوڑ گیا
    خواب زدہ تھا باتیں کرتا رہتا تھا
    رونے والوں کو بھی ہنستا چھوڑ گیا
    دل کے اک کونے میں آہیں رکھی ہیں
    جانے والا اپنا حصہ چھوڑ گیا
    جتنی یادیں لے کے ہم کو مرنا تھا
    اتنی سانسیں دے کے زندہ چھوڑ گیا
    دیواروں سے لگ کے رو لیتے ہوں گے
    جن کو ان کا سایا تنہا چھوڑ گیا
    کمرے سے جس دن اس کی تصویر ہٹی
    آئینے نے دیکھ کے پوچھا چھوڑ گیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    اگر وہ خود ہی بچھڑ جانے کی دعا کرے گا
    تو اس سے بڑھ کے مرے ساتھ کوئی کیا کرے گا
    سنا ہے آج وہ مرہم پہ چوٹ رکھے گا
    مجھی سے مجھ کو بھلانے کا مشورہ کرے گا
    ترس رہی ہیں یہ آنکھیں اس ایک منظر کو
    جہاں سے لوٹ کے آنے کا دکھ ہوا کرے گا
    اگر یہ پھول ہے میری بلا سے مرجھائے
    اگر یہ زخم ہے مالک اسے ہرا کرے گا
    میں جانتی ہوں کہ جتنا خفا بھی ہو جائے
    وہ میرے شہر میں آیا تو رابطہ کرے گا
    میں اس سے اور محبت سے پیش آؤں گی
    جو میرے حق میں کوئی عائشہؔ برا کرے گا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    تم سے آتا نہیں جدا ہونا
    تم مری آخری سزا ہونا
    جس کو تم روز دکھ ہی جاتے ہو
    اس کی قسمت ہے آئنہ ہونا
    اس کے ہونے کی یہ گواہی ہے
    ان درختوں کا یوں ہرا ہونا
    کتنا مشکل ہے بچپنا اب تو
    کتنا آسان تھا بڑا ہونا
    میں تو حل ہوں کسی کی مشکل کا
    مجھ کو آیا نہ مسئلہ ہونا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    خوشی میں یوں اضافہ کر لیا ہے
    بہت سا غم اکٹھا کر لیا ہے
    ہمیں ہم سے بچانے کون آتا
    سو اب خود سے کنارہ کر لیا ہے
    مری تنہائی کا عالم تو دیکھو
    زمانے بھر کو یکجا کر لیا ہے
    تجھے جانے کی جلدی تھی سو خود سے
    ترے حصے کا شکوہ کر لیا ہے
    نہیں مانگیں گے تجھ کو اب دعا میں
    خدا سے ہم نے جھگڑا کر لیا ہے
    ترستے ہیں جسے ملنے کی خاطر
    اسی کو اپنی دنیا کر لیا ہے
    وہ کیا ہے عشق ہم نے اب کی جاناں
    تکلف میں زیادہ کر لیا ہے
    اندھیروں میں تو رکھتے ہی تھے خود کو
    اجالوں میں بھی تنہا کر لیا ہے
    کھلے پنجرے میں بھی جس کو ہے وحشت
    یہ دل ایسا پرندہ کر لیا ہے

  • اردو بھارتی ریاست آندھرا پردیش کی دوسری سرکاری زبان بن گئی

    اردو بھارتی ریاست آندھرا پردیش کی دوسری سرکاری زبان بن گئی

    حیدرآباد: ریاست آندھرا پردیش میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کی حیثیت دیتے ہوئے ریاستی کابینہ میں ترمیمی بل منظور کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق رواں ماہ 7 مارچ کو آندھرا پردیش کی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت وزیر اعلیٰ وائی ایس جگن موہن ریڈی گارو نے کی۔

    کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی،چیف جسٹس پاکستان

    اجلاس میں آندھرا پردیش میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف دینے کی قرارداد پیش کی گئی اور متفقہ طور پراسے منظور کرلیا گیا۔

    واضح رہے کہ قبل ازیں صرف چند منتخب اضلاع ہی میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا موقف حاصل تھا۔ اب ریاستی سطح پر اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ مل گیا ہے۔

    خیال رہے کہ ریاستی کابینہ کے اے پی آفیشل لینگویجز ایکٹ میں ترمیم کے بعد ہی اردو زبان کو یہ درجہ ملا ہے۔

    کشمیریوں پر مظالم سے باز آجائیں:یورپی پارلیمنٹ کا نریندر مودی سے بڑا مطالبہ

    دوسری جانب سپریم کورٹ آف پاکستان میں اردو کوملک کی سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل کو چیف جسٹس پاکستان نے انگریزی بولنے پر ٹوک دیاچیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی۔

    راجیوگاندھی کے قتل میں ملوث مجرم 32 سال بعد ضمانت پر رہا

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ اچھی بات نہیں کہ حکومت اردو زبان کے نفاذ میں تاخیر کر رہی ہے وکیل کوکب اقبال نے کہا کہ امیر کا بچہ سی ایس ایس کر لیتا ہے اور غریب بس کلرک ہی بنتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتا، ہمارے بزرگ انگریزی کے بجائے عربی اور فارسی جانتے تھے۔

    بھارتی وزیر اعلیٰ گوبرکے بریف کیس کے ساتھ اسمبلی پہنچ گئے

    واضح رہے کہ ستمبر 2015 میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پرنافذ کرنے کا حکم دیا تھا اور تحریری فیصلہ بھی اردو میں جاری کیا تھا سائلین بھی متعدد بار یہ شکایت کرچکے ہیں کہ کیس کی کارروائی انگریزی میں ہونے کی وجہ سے انہیں سمجھ ہی نہیں آتی، جو بعد میں انہیں وکیل سے پوچھنی پڑتی ہے۔

    بھارت:واٹس گروپ میں پاکستانی پرچم کی تصویر پوسٹ کرنیوالی طالبہ پربغاوت کا مقدمہ…

  • کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی،چیف جسٹس پاکستان

    کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی،چیف جسٹس پاکستان

    اسلام آباد: چیف جسٹس پاکستان نے درخواست گزار کے وکیل کو انگریزی بولنے پر ٹوک دیا،چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی-

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پر رائج کرنے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ کیس کی سماعت اردو میں کریں، ہمیں انگریزی سمجھ نہیں آ رہی۔

    درخواست گزار کے وکیل کوکب اقبال نے موقف اپنایا کہ اردو زبان کے نفاذ کا حکم 2015 میں دیا گیا لیکن آج تک عمل نہیں ہوا جبکہ سپریم کورٹ کے حکم کے تحت سی ایس ایس امتحانات میں بھی اردو شامل کرنے کا کہا گیا تھا۔

    وکیل کوکب اقبال نے عدالت سے کہا کہ میں نے 2003 میں درخواست دائر کی تھی اور چاہتا ہوں میری زندگی میں کیس کا فیصلہ ہو جائے، سپریم کورٹ وزیر اعظم کو ہدایات دیں کہ اردوزبان کو سرکاری زبان کےطور پر رائج کرے بیوروکریسی سپریم کورٹ کےبجائےوزیراعظم کے حکم کو مانتی ہے۔

    سپریم کورٹ کے از خود دائرہ اختیار کو ریگولیٹ کرنے والی آئینی ترمیم منظور

    چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ یہ اچھی بات نہیں کہ حکومت اردو زبان کے نفاذ میں تاخیر کر رہی ہے وکیل کوکب اقبال نے کہا کہ امیر کا بچہ سی ایس ایس کر لیتا ہے اور غریب بس کلرک ہی بنتا ہے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ اس بات سے اتفاق نہیں کرتا، ہمارے بزرگ انگریزی کے بجائے عربی اور فارسی جانتے تھے۔

    سپریم کورٹ نے وفاق اور پنجاب حکومت کو جواب جمع کرانے کے لیے وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی۔

    شوکت عزیز صدیقی کی برطرفی سے متعلق کیس کی سماعت ملتوی

    واضح رہے کہ ستمبر 2015 میں سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے اردو کو سرکاری زبان کے طور پرنافذ کرنے کا حکم دیا تھا اور تحریری فیصلہ بھی اردو میں جاری کیا تھا سائلین بھی متعدد بار یہ شکایت کرچکے ہیں کہ کیس کی کارروائی انگریزی میں ہونے کی وجہ سے انہیں سمجھ ہی نہیں آتی، جو بعد میں انہیں وکیل سے پوچھنی پڑتی ہے۔

    گذشتہ برس اردو زبان رائج نہ کرنے پر وکیل کوکب اقبال نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کی تھی گذشتہ برس ستمبر اور رواں ماہ جنوری میں بھی اس کیس کی ایک سماعت ہوئی تھی جس میں حکومت سے جواب طلب کیا گیا تھا۔

    یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی اور کوکنگ آئل کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ

    ستمبر 2015 میں جاری کیے گئے اردو زبان کیس کا تفصیلی فیصلہ

    آئین کا آرٹیکل 251 اس معاملے پر واضح ہے، جس کی شق نمبر ایک کے مطابق پاکستان کی قومی زبان اردو ہے اور سرکاری سطح پر اس کے فروغ کے انتظامات ہونے چاہییں شق نمبر دو کے مطابق دفتری زبان انگریزی رہے گی، جب تک اردو کو اُس کا مکمل متبادل نہیں بنا دیا جاتا اسی طرح شق نمبر تین کے مطابق صوبائی اسمبلی قومی زبان کے ساتھ ساتھ صوبائی زبانوں کی ترویج کے لیے بھی اقدامات کرے۔

    اسی بنیاد پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھا تھا کہ ‘آرٹیکل 251 کے احکامات کو بلا تاخیر فوراَ نافذ کیا جائے۔’

    کرکٹ قوانین میں بڑی تبدیلیاں

    بارہ صفحات پر مشتمل اس فیصلے میں مزید لکھا گیا تھا:

    قومی زبان کے رسم الخط میں یکسانیت پیدا کرنے کے لیے وفاقی اورصوبائی حکومتیں باہمی ہم آہنگی پیدا کریں، تین ماہ کے اندر اندر وفاقی اور صوبائی قوانین کا ترجمہ کر لیا جائے بغیر کسی غیر ضروری تاخیر کے نگرانی کرنے والے اور باہمی ربط قائم رکھنے والے ادارے آرٹیکل 251 کو نافذ کریں اور تمام متعلقہ اداروں میں اس دفعہ کا نفاذ یقینی بنائیں وفاقی سطح پر مقابلے کے امتحانات میں قومی زبان کے استعمال کے بارے میں حکومتی ادارے مندرجہ بالا سفارشات پر عمل کریں۔

    عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ’ان عدالتی فیصلوں کا، جو عوامی مفاد سے تعلق رکھتے ہوں، جو آرٹیکل189 کے تحت اصولِ قانون کی وضاحت کرتے ہوں، لازماَ اردو میں ترجمہ کروایا جائے اور عدالتی مقدمات میں سرکاری محکمے اپنے جوابات حتیٰ الامکان اردو میں پیش کریں تاکہ شہری اس قابل ہو سکیں کہ اپنے قانونی حقوق نافذ کروا سکیں۔‘

    مزید کہا گیا تھا کہ اس فیصلے کے اجرا کے بعد اگر کوئی سرکاری ادارہ یا اہلکار آرٹیکل 251 کے احکامات کی خلاف ورزی جاری رکھے گا تو جس شہری کو بھی اس کی خلاف ورزی کے نتیجے میں نقصان یا ضرر پہنچے گا، اسے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔

    پاکستان کو 60 کی دہائی کی معیشت بنانا چاہتے ہیں،وزیر خزانہ

  • ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    گزشتہ شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک دوست نے سوال کیا ہوا تھا کہ ہم انگلش کیوں بولتے ہیں. یہ ایشو صرف میرا اور آپ کا نہیں ہے بلکہ تقریباً سارے پاکستان کا ہی مسئلہ ہے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف فورمز پر، مہمانوں اور اجنبی لوگوں کے سامنے، کالج و یونیورسٹی میں، میڈیا و سوشل میڈیا پر ہم انگریزی بول پائیں تاکہ سننے والوں پر رعب پڑ جائے کہ اس کو انگریزی آتی ہے. کچھ ہمارے جیسے انگریزی کے سفید پوش تو ایسے بھی ہوتے بلکہ اکثر ہی ایسے ہوتے کہ جن کو انگریزی تو بولنی نہیں آتی لیکن ہماری بھی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ دوران گفتگو کوئی نہ کوئی لفظ انگریزی کا ضرور بولیں یہ اور بات ہے کہ لب و لہجہ مقامی ہوتا ہے اور سننے والے پر وہ تاثر نہیں پڑتا جو ہمیں مطلوب ہوتا ہے شرمندگی سی مقدر بنتی ہے.

    مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی کا رویہ بھی بڑا منافرت سموئے ہوئے ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر ملکی اپنے لب و لہجے میں ہماری قومی زبان بولنے کی کوشش کرے اور اکثر الفاظ کی ادائیگی غلط ہی کرتا ہے تو ہم سبھی بڑے خوش ہوتے ہیں لیکن جب کوئی اپنا ہی دیسی بندہ مقامی لب و لہجے میں انگریزی بولنے کی کوشش کرے تو سبھی اس پر ہنسنا شروع ہوجاتے ہیں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے. بہرحال ہم بات کرتے ہیں کہ ہم انگریزی کو اپنی قومی یا مقامی زبانوں پر ترجیح کیوں دیتے ہیں.

    ‏‎سب سے پہلی بات کیونکہ من حیث القوم ہم احساس کمتری کا شکار ہیں کہ شاید انگریزی ہی واحد معیار ہے اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور مہذب دکھانے کا تو دہرے تہرے ہوکر بولنی انگریزی ہی ہے.

    دوسری بات موجودہ ایام میں چونکہ دنیا میں ڈنکا امریکہ اور یورپین ممالک کا بجتا ہے اور وہ سپر پاور سمجھے جاتے ہیں تو انہی کی کرنسی اور زبان اک معیار سمجھی جاتی ہے جب ان کی برتری ختم ہوجائے گی تو یہ کرنسی و زبان کا برتر ہونا بھی ‏‎ختم ہوجائے گا.

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے. کولڈ وار سے قبل اور کولڈ وار کے دوران، دوسرے لفظوں میں افغان جہاد سے قبل دنیا میں روسی کرنسی کا دور چلتا تھا بچے بچے کو پتا تھا کہ روس کی کرنسی کا نام روبل ہے. مگر جب افغان جہاد میں روس کو شکست ہوئی اور وہ ٹکڑوں میں بٹا تو آج دنیا کو روبل کا نام بھی یاد نہیں ہے. اسی طرح جب دنیا سے امریکہ و یورپ کی شکل میں سامراجیت کا خاتمہ ہوگا تو ان کی ثقافت، زبان، کرنسی وغیرہ کا بھی دنیا سے خاتمہ ہوجائے گا.

    کیونکہ سادہ سی بات ہے کہ جو دنیا میں برتر ہوتا ہے نظام بھی اسی کے چلتے ہیں وہ نظام چاہے معاشی ہوں، لسانی، عسکری یا علمی. ہم لاکھ نعرے ماریں امریکہ لیکن امریکہ ایک سپر پاور ہے تو ‏‎چونکہ ہم ذہنی طور پر اس کی برتری کو قبول کرچکے ہیں اگرچہ ہم ظاہری طور پر نعرہ تو لگاتے ہیں امریکہ و برطانیہ کی برتری ختم کرنے کالیکن ہمارے دل اس میں ہمارا ساتھ نہیں دیتے کیونکہ ہمیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ دنیا سے سامراجیت کا بھی خاتمہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہم اس کی کوئی واضح پلاننگ نہیں رکھتے ہیں نہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اور نہ عسکریت و معیشت کے میدان میں. نتیجہ اس کا یہی ہےکہ ہم ان کے نظاموں کو اپنانے میں مجبور ہیں اور آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ہم ان کے نظاموں اور ان کی ثقافتوں کو اپنانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ہیں.

  • اردو ہے جس کا نام:روس کے تین اعلیٰ اداروں میں سیکھائی جانے لگی

    اردو ہے جس کا نام:روس کے تین اعلیٰ اداروں میں سیکھائی جانے لگی

    اردو زبان کی چاشنی اور حسن کے اب روس کے تعلیمی اداروں میں چرچے اور مقبولیت .روس کے اعلیٰ اداروں میں اردو زبان کو سیکھایا جانے لگا .اس وقت اردو زبان ماسکو کے تین اعلیٰ اداروں میں سکھائ جاتی ہے یعنی ماسکو ریاستی یونیورسٹی کے تحت ایشیائ اور افریقی ملکوں کے انسٹی ٹیوٹ، بین الاقوامی تعلقات کے انسٹی ٹیوٹ اور روسی ہیومینٹیرین یونیورسٹی میں جہاں اردو اسی سال 2007 میں پڑھائ جانے لگی-

    دلچسپ بات ہے کہ خواہش مند نوجوان سینٹ پیٹرزبرگ کی یونیورسٹی، سائبریا اور مشرق بعید کے چند اعلیٰ تعلیمی اداروں سے بھی اردو سیکھ سکتے ہیں- تاہم علم شرقیات کا سب سے مشہور اور باوقار روسی اعلیٰ تعلیمی ادارہ ماسکو ریاستی یونیورسٹی کے تحت ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ ہے- ویسے تو ریڈیو "صداۓ روس” کے شعبۂ اردو کے زیادہ تر آناؤنسر اور مترجم اسی انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل ہیں- مطلب یہ کہ آپ ہمارے پروگرام سنتے ہوۓ اس انسٹی ٹیوٹ کی تعلیم کے معیار کا اندازہ لگا سکتے ہیں-

    افریقی اور ایشیائی ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ 50 سے زیادہ سال پہلے قائم کیا گیا- یہ ایک انوکھا تعلیمی ادارہ ہے، جہاں اسلام شناسی، ہندوستان شناسی، چین شناسی اور دوسرے علوم کے مطالعہ کی روسی روایات برقرار رکھی جاتی ہیں- ایشیائ اور افریقی ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ ماسکو یونیورسٹی کا ایک شعبہ سمجھا جاتا ہے اس لیے وہاں طلباء کو ہمہ گیر معلومات فراہم کی جاتی ہیں- مگر اہمترین مقام علم شرقیات کو حاصل ہے