Baaghi TV

Tag: اردو

  • مودی حکومت کی اردو دشمنی، اردو الفاظ استعمال نہ کرنے کی ہدایت

    مودی حکومت کی اردو دشمنی، اردو الفاظ استعمال نہ کرنے کی ہدایت

    مدھیہ پردیش :مودی حکومت کی اردو دشمنی، اردو الفاظ استعمال نہ کرنے کی ہدایت،اطلاعات کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں پولیس کو کاغذی کارروائی میں اردو الفاظ استعمال نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ شیو راج چوہان نے ریاستی پولیس کو اردو الفاظ استعمال نہ کرنے کی ہدایت جاری کرکے مکمل طور پر ہندی الفاظ استعمال کرنے کا حکم جاری کر دیا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق مدھیہ پردیش پولیس برطانوی دور سے اردو اور فارسی اصطلاحات استعمال کرتی آ رہی ہے۔

    بھارتی وزارت داخلہ نے بھی وزیر اعلیٰ شیو راج چوہان کے حکم کے بعد محکمہ پولیس کو اردو اور فارسی زبانوں کے الفاظ استعمال کرنے سے روک دیا ہے۔

    ادھر چند ماہ قبل عالمی اداروں نے انکشاف کیا تھا کہ بھارت میں مودی سرکار اردو کا وجود ختم کرنا چاہتی ہے، اور اس سلسلے میں بہت سے خطرناک فیصلے کیے ہیں، یہ رپورٹ کچھ اس طرح تھی

    بھارت میں مودی سرکار نے اردو زبان سے دشمنی نکالتے ہوئے کئی اردو اسکول بند کر دیے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق احمدآباد میں اردو اسکولوں کو تزئین و آرایش کے نام پر بند کرنے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے۔ احمدآباد میونسپل کارپوریشن کے ماتحت چلنے والے 8 سے زائد اردو اسکولوں کو ڈیڑھ برس قبل مرمت کرنے کے لیے بند کیا گیا تھا اور اب تک وہاں تعلیم کا سلسلہ بحال نہیں کیا گیا۔

    ذرائع ابلاغ کے مطابق ریاست گجرات میں منظم انداز میں اردو اسکولوں کو بند کر کے طلبہ کا مستقل تاریک کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے۔ گومتی پور اردو اسکول نمبر ایک اور 2 کو ڈیڑھ سال قبل مرمت کے لیے بند کیا گیا تھا، تاہم مدت گزرنے کے باوجود میونسپل کارپوریشن کا ایک کارندہ بھی کام کے لیے نہیں پہنچا۔ مقامی انتظامیہ کی نااہلی کے باعث طلبہ شدید مشکلات سے دوچار ہیں اور انہیں دور دراز اسکول میں پڑھنے کے لیے جانا پڑتا ہے۔

    مقامی کونسلر کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اسکول کو خستہ حال بتا کر بند کر دیا گیا تھا، لیکن ابھی تک کام شروع نہیں کیا گیا، جس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر اردو اسکولوں کی تعمیراتی کام شروع نہیں کیا جا رہا اور انہیں بند کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار کی اردو زبان سے دشمنی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے اور بی جے پی حکومت کئی بار مقبوضہ علاقوں میں بھی اردو کو ختم کر کے ہندی رائج کرنے کی کوشش کر چکی ہے۔

    قبل ازیں اتراکھنڈ کی حکومت نے تمام ریلوے اسٹیشنوں کے نام اردو سے ختم کر کے ہندی میں لکھنے کا اعلان کیا تھا۔ وہاں تمام ریلوے پلیٹ فارم پر اسٹیشن کے نام انگریزی، اردو اور سنسکرت میں لکھے جاتے تھے، تاہم متنازع اقدامات کے بعد انگریزی، سنسکرت اور ہندی میں لکھنے کا فیصلہ کیا ہے

  • اردو  زبان میں جدید دور کے تمام تقاضے پورے کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، ناصر علی سید

    اردو زبان میں جدید دور کے تمام تقاضے پورے کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے، ناصر علی سید

    پشاور: آئین پاکستان کا تقاضا ہے کہ اردو کو بحیثیت قومی زبان نافذ کیا جائے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز یوم نفاذ اردو کے موقع پر معروف ادیب و شاعر ناصر علی سید نے تحریک نفاذ اردو کے زیر اہتمام ایک تقریب میں کیا تقریب کی صدارت پروفیسر ڈاکٹر فخرالاسلام کر رہے تھے..تقریب میں ماہرین تعلیم, ادباء شعرا اور سیاسی و سماجی شخصیات نے شرکت کی.تقریب سے اپنے خطاب میں ناصر علی سید کا کہنا تھا کہ اردو ہر لحاظ سے ایک معیاری زبان ہے جس میں جدید دور کے تمام تقاضے پورے کرنے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے لہذا اردو کو بلا تاخیر نافذ کیا جائے.تقریب سے صدر مجلس اور پاکستان سڈی سنٹر کے چیئرمین ڈاکٹر فخرالاسلام کا کہنا تھا کہ اردو پورے ملک میں رابطے کی زبان ہے..قومی زبان کو نافذ نہ کر کے ہم آئین اور قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو رہے ہیں.اس موقع پر تحریک نفاذ اردو پشاور کے صدر اور ماہر تعلیم مشتاق حسین بخاری.کالم نگار روشن خٹک, شاعر فاروق جان بابر آزاد, کالم نگار نیئر سرحدی, شاعرہ کلثوم زیب و دیگر نے بھی اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا.

  • مرکز قومی زبان اوکاڑہ کی جانب سے یوم نفاذ اردو منایا گیا۔

    مرکز قومی زبان اوکاڑہ کی جانب سے یوم نفاذ اردو منایا گیا۔

    صدر گوگیرہ(نامہ نگار) یہاں ایک مقامی سکول سسٹم میں مذاکرہ بسلسلہ یوم نفاذ اردو منعقد ہوا۔ مذاکرے کا اہتمام مرکز قومی زبان ضلع اوکاڑہ نے کیا۔ صدارت پروفیسر اللہ دتہ آزاد نے کی جبکہ مہمان خصوصی جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن ڈاکٹر لیاقت علی کوثر تھے۔ عمران جاذب ایڈووکیٹ ،پٹی جنرل سیکریٹری وسطی پنجاب مرکز قومی زبان، جناب افتخار حسین فاخر صدر مرکز قومی زبان ضلع اوکاڑہ اور دیگر نے اردو زبان کی اہمیت اور نفاذ پر زور دیا اور آٹھ ستمبر کے فیصلے جواد ایس خواجہ کے مطابق ملک میں حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ اردو کو نافذ کیا جائے ۔

  • انگریزی سے یاری،اردو سے بیزاری

    انگریزی سے یاری،اردو سے بیزاری

    قصور
    محمکہ تعلیم کا انگریزی سے یارانہ بچوں کو مہنگا پڑ گیا چھٹی کلاس کی ریاضی و سائنس انگلش میں پرنٹ کر دی بچوں کے پوچھنے پر کہا اردص میڈیم خود بازار سے خریدیں
    تفصیلات کے مطابق قصور کے سرکاری سکولوں میں کم و بیش فروری میں آئی کتب بچوں میں تین چار دن سے اب تقسیم کی جا رہی ہیں اس میں بھی محکمہ تعلیم نے انگریز سے یاری کا ثبوت دیا چھٹی کلاس کی سائنس و ریاضی انگلش میڈیم کر دیں جبکہ باقی کتب اردو میڈیم ہی ہیں اس بابت بچوں نے جب اساتذہ سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ کو اردو میڈیم ریاضی و سائنس بازار سے خود خریدنی پڑے گی
    جبکہ والدین مہنگائی،مسلسل لاک ڈاؤن اور کاروبار کی بدولت پہلے ہی سخت پریشان ہیں اوپر سے بچوں کی کتابیں خریدنے کا مسئلہ مگر اس کے علاوہ جو کتابیں انگلش میڈیم چھپ کر آ چکی ہیں وہ بچوں کو کوئی فائدہ نہیں دے سکیں گی کیونکہ سکولوں میں اردو میڈیم نغاب پڑھایا جاتا ہے ان کتب کی مد میں گورنمنٹ کا کروڑوں روپیہ بیکار گیا اس کا نوٹس کون لے گا؟
    والدین نے وزیراعظم،وزیراعلی پنجاب اور وزیر تعلیم سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے

  • ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    ہم انگریزی کیوں بولتے ہیں — محمد عبداللہ

    گزشتہ شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئیٹر پر ایک دوست نے سوال کیا ہوا تھا کہ ہم انگلش کیوں بولتے ہیں. یہ ایشو صرف میرا اور آپ کا نہیں ہے بلکہ تقریباً سارے پاکستان کا ہی مسئلہ ہے کہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ مختلف فورمز پر، مہمانوں اور اجنبی لوگوں کے سامنے، کالج و یونیورسٹی میں، میڈیا و سوشل میڈیا پر ہم انگریزی بول پائیں تاکہ سننے والوں پر رعب پڑ جائے کہ اس کو انگریزی آتی ہے. کچھ ہمارے جیسے انگریزی کے سفید پوش تو ایسے بھی ہوتے بلکہ اکثر ہی ایسے ہوتے کہ جن کو انگریزی تو بولنی نہیں آتی لیکن ہماری بھی کوشش بھی یہی ہوتی ہے کہ دوران گفتگو کوئی نہ کوئی لفظ انگریزی کا ضرور بولیں یہ اور بات ہے کہ لب و لہجہ مقامی ہوتا ہے اور سننے والے پر وہ تاثر نہیں پڑتا جو ہمیں مطلوب ہوتا ہے شرمندگی سی مقدر بنتی ہے.

    مزے کی بات یہ ہے کہ ہماری سوسائٹی کا رویہ بھی بڑا منافرت سموئے ہوئے ہوتا ہے کہ جب کوئی غیر ملکی اپنے لب و لہجے میں ہماری قومی زبان بولنے کی کوشش کرے اور اکثر الفاظ کی ادائیگی غلط ہی کرتا ہے تو ہم سبھی بڑے خوش ہوتے ہیں لیکن جب کوئی اپنا ہی دیسی بندہ مقامی لب و لہجے میں انگریزی بولنے کی کوشش کرے تو سبھی اس پر ہنسنا شروع ہوجاتے ہیں اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے. بہرحال ہم بات کرتے ہیں کہ ہم انگریزی کو اپنی قومی یا مقامی زبانوں پر ترجیح کیوں دیتے ہیں.

    ‏‎سب سے پہلی بات کیونکہ من حیث القوم ہم احساس کمتری کا شکار ہیں کہ شاید انگریزی ہی واحد معیار ہے اپنے آپ کو پڑھا لکھا اور مہذب دکھانے کا تو دہرے تہرے ہوکر بولنی انگریزی ہی ہے.

    دوسری بات موجودہ ایام میں چونکہ دنیا میں ڈنکا امریکہ اور یورپین ممالک کا بجتا ہے اور وہ سپر پاور سمجھے جاتے ہیں تو انہی کی کرنسی اور زبان اک معیار سمجھی جاتی ہے جب ان کی برتری ختم ہوجائے گی تو یہ کرنسی و زبان کا برتر ہونا بھی ‏‎ختم ہوجائے گا.

    یہ کوئی نئی بات نہیں ہے. کولڈ وار سے قبل اور کولڈ وار کے دوران، دوسرے لفظوں میں افغان جہاد سے قبل دنیا میں روسی کرنسی کا دور چلتا تھا بچے بچے کو پتا تھا کہ روس کی کرنسی کا نام روبل ہے. مگر جب افغان جہاد میں روس کو شکست ہوئی اور وہ ٹکڑوں میں بٹا تو آج دنیا کو روبل کا نام بھی یاد نہیں ہے. اسی طرح جب دنیا سے امریکہ و یورپ کی شکل میں سامراجیت کا خاتمہ ہوگا تو ان کی ثقافت، زبان، کرنسی وغیرہ کا بھی دنیا سے خاتمہ ہوجائے گا.

    کیونکہ سادہ سی بات ہے کہ جو دنیا میں برتر ہوتا ہے نظام بھی اسی کے چلتے ہیں وہ نظام چاہے معاشی ہوں، لسانی، عسکری یا علمی. ہم لاکھ نعرے ماریں امریکہ لیکن امریکہ ایک سپر پاور ہے تو ‏‎چونکہ ہم ذہنی طور پر اس کی برتری کو قبول کرچکے ہیں اگرچہ ہم ظاہری طور پر نعرہ تو لگاتے ہیں امریکہ و برطانیہ کی برتری ختم کرنے کالیکن ہمارے دل اس میں ہمارا ساتھ نہیں دیتے کیونکہ ہمیں اس بات کا یقین نہیں آتا کہ دنیا سے سامراجیت کا بھی خاتمہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی ہم اس کی کوئی واضح پلاننگ نہیں رکھتے ہیں نہ سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اور نہ عسکریت و معیشت کے میدان میں. نتیجہ اس کا یہی ہےکہ ہم ان کے نظاموں کو اپنانے میں مجبور ہیں اور آہستہ آہستہ اس مقام پر پہنچ جاتے ہیں کہ ہم ان کے نظاموں اور ان کی ثقافتوں کو اپنانے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ہیں.

  • ارباب اختیار اور نفاذ اردو کی پذیرائی، عملی اقدام کی ضرورت ہے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ارباب اختیار اور نفاذ اردو کی پذیرائی، عملی اقدام کی ضرورت ہے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    گزشتہ روز سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن محترم کنور دلشاد صاحب نے بلدیاتی انتخابات اور اصلاحات کے موضوع پر خوبصورت سیمنار کا انعقاد ایک پنج تارہ ریستوران میں کیا۔ تقریب کے مہمان خصوصی جناب گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور تھے۔ تقریب میں ہر شعبہ زندگی کی نمائندگی تھیں۔اج ایک عرصے کے بعد ڈاکٹر مجاہد منصوری سے ملاقات ہوئی۔ ڈاکٹر مجاھد منصوری ہمارے نفاذ اردو کے بالکل ابتدائی رہنماؤں میں سے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب ہمیشہ نفاذ اردو کی کوششوں کے حوالے سے ہماری حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ انہوں نےہمیں کہا کہ دور جدید کی بہت سی اصطلاحات کا ترجمہ کرنے کی ضرورت ہے۔ہم نے انہیں بتایا کہ ہماری تحریک کے مخلص ساتھی پروفیسر جمیل بھٹی ‘ شاہد ستار شبلی اور پروفیسر اشتیاق احمد اس پر اپنے محدود وسائل کے باوجود سائنس’ معاشیات’ ادب اور کمپیوٹر کی اصطلاحات کا ترجمہ کر رہے ہیں۔ تقریب میں تحریک انصاف کی ترجمان سیماں انوار’ قیوم نظامی’ سلمان عابد’ عظمی ‘ امریکہ میں مقیم سائنسدان اور ماہر تعلیم ڈاکٹر خان ‘ تحریک انصاف کے سپورٹس کے چئیر مین میاں جاوید’ وائس چیئرمین انعام الحق سلیم’ خلیل خان نورزئی’ کاشف سجن’ عبداللہ اعوان’ سے ملاقات ہوئی۔ ہم نے اپنے خطاب میں گورنر صاحب کی توجہ عدالت عظمیٰ کےنفاذ اردو فیصلے پر عملدرآمد پر کروائی۔ ہم نے کہا کہ آپ کی حکومت تبدیلی کے نام پر وجود میں آئی ہے’ آپ ایک عرصہ تک بیرون ملک مقیم رہے ہیں آپ بتائیے کہ دنیا کے کتنے ممالک میں یہ فراڈ ہورہا ہے کہ اراکین اسمبلی جلسے جلوس تو اپنی زبان میں کریں جب رکن اسمبلی بن جائیں تو اس اسمبلی کی کار روائی اپنے آقاؤں کی زبان میں کریں۔کیادنیا کے کسی ملک میں کسی غلامی کی زبان میں کار روائی کا سوچا بھی جاسکتا ہے؟ ہمیں بہت خوشی ہے کہ گورنر پنجاب نے نہ صرف ہمارے خیالات کی تائید و توصیف کی بلکہ انہوں نے اپنی انگریزی میں لکھی ہوئی تقریر کو ایک طرف رکھ دیا۔ کچھ اردو اور پنجابی میں خطاب کیا۔ اپ نےکہا کہ ” اردو دے نال اپنی مادری زبان پنجابی وچ گال کرن دا سواد ای کچھ اور اے” گورنر صاحب نے ساری تقریر فی البدیہہ اور کھلے ڈھلے انداز اور خیالات کی روانی جوش و جذبے کے ساتھ کی۔ یہ فرق ہوتا ہے غلامی کی زبان میں اور اپنی زبان میں بات کرنے کا۔ غلامی کی زبان میں انسان صرف محدود الفاظ کے ساتھ بےتاثرچہرے سے کٹھ پتلی کی مانند بات کرتا ہے۔ حاضرین نے گورنر کے اردو خطاب کو بے حد سراہا۔کنور دلشاد بیورو کریٹ ہیں۔ پہلے وہ اپنا پیغام ہمیشہ انگریزی میں لکھتے تھے ۔لیکن یہ بات انتہائی لائق تحسین ہے کہ اس تقریب کا دعوت نامہ انہوں نے اردو میں بھیجا۔انہوں نے ہمیں مذید بتایا کہ ایک پروگرام ہورہا ہے جس میں تمام مقررین انگریزی میں خطاب کریں گے "میں نے ان سے پیشگی ہی معذرت کرلی ہے کہ میں تقریب میں اردو ہی میں خطاب کرونگا” ہم بھی محترم کنور دلشاد صاحب کو ان کے اس احساس خودی سے بھرپور اقدام پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ اور ہم تہہ دل سے ان کا شکریہ بھی ادا کرتے ہیں کہ ان کی بدولت ہمیں گورنر کو اپنانفاذ اردو مشن پیغام دینے کا موقع ملا۔

  • ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ہوئے تم دوست جس کے ۔۔۔ فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    ملاحظہ کیجئے
    پاکستان کے سب سے
    پہلے نظریاتی اخبار "نوائے وقت” میں انگریزی غلامی میں لتھڑی ہوئی یہ تحریر! ” اس قوم پر رحم کریں”
    فاضل کالم نگار اکرم چوہدری یا تو انتہائی جاہل مطلق ہے’ جنہیں نہ نفسیات کا علم ہے ‘ نہ اقوام متحدہ کے منشور کا علم ہے جو چیخ چیخ کر اعلان کرتا ہے کہ بچے کو ابتدائی تعلیم اس کی مادری اور رابطے کی زبان میں دو۔ پرائمری تعلیم کا مقصد صرف اور صرف طلباء کو اپنی مقامی آبادی سے رابطے کے قابل بنانا ہے بعد میں جس کے ارتقاء میں وہ پورے ملک اور پوری دنیا سے رابطہ کرنے کی اہلیت حاصل کرسکتا ہے ۔
    خود موصوف کالم نگار کے دوغلے پن اور غلامانہ روئیے کا اندازہ یہاں سے لگائیے کہ وہ انگریزی کے حق اور اردو کے خلاف اپنے دلی جذبات کا ظہار خود اردو میں کررہے ہیں۔ یا تو وہ انگریزی کا مقدمہ انگریزی میں لڑنے کی اہلیت سے محروم ہیں یا پھر انہیں پتا ہے کہ ” سودا پاکستان میں صرف اردو ہی میں بکتا ہے”
    حیرت ہے کہ موصوف نہ تو سائنسدان ہیں ‘ نہ ماہر تعلیم ہیں’ نہ ہی فطرت اور تعلیمی نفسیات سے واقف ہیں لیکن انگریزی زریعہ تعلیم کء حق میں سر کھپائی یوں کر رہے ہیں۔ جیسے علم و دانش کا سمندر ہو!
    معزز کالم نگار ! اپ پرائمری تعلیم کو انگریزی میں کرنے کا یہ مشورہ چین ‘ فرانس ‘ ایران’ ترکی’ کوریا’ جرمنی کے سر براہوں کو بھی بھیجیں ۔ اور وہاں سے جو جواب موصول ہو اس سے قوم کو بھی اگاہ کریں ۔
    قوم کو بہتر سال سے پاکستان میں انگریزی دن رات مسلط ہے
    مقابلے کے امتحان ‘ عسکری امتحان’ عدالت کی زبان ‘ سرکار کی زبان ‘ زریعہ تعلیم سب ” بین الاقوامی” زبان میں!
    یہ بتائیے کہ پاکستان نے اج تک کتنی ترقی کی ہے؟
    ویسے افسوس تونوائے وقت پر ہے جس نے مجید نظامی مرحوم کے انکھیں بند کرتے ہی ان کے نظرئیے سے نوے ڈگری کا انحراف کرلیا۔ کاش مجید نظامی مرحوم اپنا جانشین اپنی ہی طرح کا کسی نظریاتی پاکستانی کو بنا کر جاتے ! اے کاش !
    اے کاش!
    لارڈ میکالے کے اصلی اور کھرے غلاموں! تم اس قوم پر رحم کرو!
    انگریزی کی مالا جپنے کے لئے تم پاکستان سے نکل جاؤ! وہاں جاکر اس کی رطب اللسانی اور اہمیت کے گن گاو جن ملکوں کی یہ زبان ہے!
    انگریزی کی غلامی کا پرچار کرنا توہین عدالت
    توہین ائین
    توہین پاکستان
    توہین عوام ہے!

  • اردو بطور ذریعہ تعلیم ۔۔۔ فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    اردو بطور ذریعہ تعلیم ۔۔۔ فا طمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

    معزز وزیر اعلیٰ پنجاب! یہ بات صرف پرائمری سطح تک ہی محدود نہیں کہ انگریزی کو ذریعہ تعلیم بنانے سے توجہ ترجمے کی طرف مرکوز ہوتی ہے اس بات کا اطلاق ہر تعلیمی سطح پر ہوتا ہے کہ غلامی کی زبان میں تعلیم دینے سے علم ہمارے طلباء تک پہنچ ہی نہیں رہا وہ صرف زبان غیر کی گتھیاں سلجھانے میں اپنا وقت برباد کرکے تخلیقیت سے دور ہوجاتے ہیں! رٹہ بازی’ ٹیوشن بازی بوٹی مافیا اس نظام تعلیم کا حصہ بن جاتی ہے۔
    ایک بات اور کہ پرائمری کی سطح تک اردو میں تعلیم اپ کی حکومت کا کارنامہ ہر گز نہیں ہے یہ کام تو پچھلی حکومت بھی کرتی رہی ہے ۔ آپ کا کارنامہ تو یہ ہوتا کہ اپ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں ہر سطح پر زریعہ تعلیم اردو میں کرنے کے احکامات فوری طور پر ایسے صادر فرمائیں۔جیسے سابق حکومت پنجاب اور کے پی کے حکومت نے آئین شکنی کرتے ہوئے تمام سرکاری تعلیمی ادارے راتوں رات انگریزی میڈیم کردیے تھے۔
    ملک میں قومی یکجہتی’ معاشرتی تفریق ختم کرنے کے لئے یکساں نصاب تعلیم یکساں قومی زبان میں نافذ کریں۔جو ضابطہ اخلاق اور اردو زریعہ تعلیم سرکاری تعلیمی اداروں کے لئے طے کریں اس کا نجی تعلیمی اداروں کو بھی پابند بنائیں اور عمل نہ کرنے کی صورت میں بغیر کسی سیاسی وابستگی کے اس تعلیمی ادارے کی رجسٹریشن منسوخ کرکے اس ادارے بحق سرکار ضبط کر لیں۔
    سب سے اہم بات یہ کہ عدالت عظمیٰ کی روشنی میں مقابلے کا امتحان اردو میں لینے کا فخر آپ کی حکومت حاصل کریں یقین کیجئے یہ اپ کی حکومت کا انتہائی مقبول’ جراءت مندانہ فیصلہ ہوگا!
    اور یہی وہ فیصلہ ہوگا جو آپ فخر کے ساتھ اپنی حکومت کے نایاب اور تاریخ ساز کارنامے کے طور پر قوم کے سامنے رکھ سکیں گے۔
    ورنہ جس پرائمری تعلیم کے ذریعہ تعلیم کا فخر اپ کی حکومت اپنے اعزاز کے طور پر بیان کر رہی ہے یہ تو حقیقت میں سابق حکومت کا کارنامہ ہے!

  • نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر

    نفاذِ اردو کے لیے ہمارا سفر ۔۔۔ فاطمہ قمر

    ہم ہر اس پاکستانی کو خوش آمدید کہتے ہیں اور اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں جنہوں نے ہمیں دیکھ کر یا ہماری دعوت پر نفاذ اردو کا جھنڈا اٹھایا ہے۔ ہم نے نفاذ اردو کی آواز عملی طور پر ایسے اجتماعات میں بلند کی جہاں انگریزی کی غلامی کے خلاف بات کرنا ” کفر ” سمجھا جاتا تھا۔ جب ہم پاکستان میں نفاذ اردو کی بات کرتے تھے لوگ ہمیں ہونق ہو کر دیکھتے تھے۔ ہمارا مذاق اڑاتے تھے’ ہم نے نفاذ اردو کا پیغام پاکستان کے سب سے بڑے انگریزی غلامی کے علمبردار ایچی سن کالج سمیت پاکستان کی ہر مقتدر شخصیت کو دیا۔ ہم نے آرمی چیف کو خط لکھا کہ وہ آئین کی پاسداری کرتے ہوئے براہ کرم اپنے عہدے کا حلف اردو میں لیں ۔الحمدللہ! آرمی چیف نے ہماری بات کی لاج رکھی اور پاکستان کے پہلے آرمی چیف بنے جنہوں نے اُردو میں حلف لیا!
    ہم نے موجودہ وزیر خارجہ کو اقوام متحدہ میں اردو میں خطاب کرنے کے لیے قائل کیا۔
    الحمداللہ! انہوں نے ہماری درخواست پر اقوام متحدہ میں پہلی مرتبہ اردو میں بات میں کر کے اقوام عالم میں پاکستان کا وقار بلند کیا!
    ہم نے لاہور ‘ اسلام آباد میں نفاذ اردو کی ملک گیر کامیاب کانفرنسیں منعقد کی ہیں!
    ہم نے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ کو آئین کی شق 251 جو پاکستان کی زبانوں کے حوالے سے ہے اس پر عملدرآمد کی طرف توجہ دلائی۔ اس سلسلے میں ان کو عملی طور پر ان کے مقدمے کے ترجمے بھی اردو میں کر کے دیے جس سے متاثر ہوکر چیف جسٹس جواد ایس خواجہ نے ایک اسلام آباد کے وکیل کوکب اقبال کا پرانا مقدمہ جو 2003 میں مٹی کی گرد میں دبا ہوا تھا جس کی سماعت جسٹس ناصر الملک کررہے تھے۔ انہوں نے عدالت عظمیٰ کو بطور خاص درخواست دے کر اس کی سماعت شروع کی۔۔۔اور اپنی سبکدوشی کے آخری لمحوں میں نفاذ اردو کا تاریخ ساز فیصلہ کرکے اپنا نام تاریخ میں رقم کر گئے۔ اور آج بھی وہ اس مقدمے کے نفاذ سے الگ نہیں ہیں ۔ گاہے بگاہے اس مقدمے کے حوالے سے ہماری رہنمائی کرتے رہتے ہیں۔ لمز یونیورسٹی جیسے انگریزی میڈیم ادارے سے وابستہ ہوکر وہاں طلباء اور اساتذہ میں نفاذاردو کا شعور بیدار کر رہے ہیں۔
    پورا پاکستان نفاذ اردو کے حوالے سے ہماری کوششوں سے واقف ہے۔ ہم نفاذ اردو کی جنگ عدالتوں’ سڑکوں’ ذرائع ابلاغ’ بازاروں’ ریستوران’ تعلیمی اداروں’ دفتروں غرض ہر جگہ لڑ رہے ہیں۔۔
    ہماری کانفرنس میں پاکستان کی ہر مقتدر شخصیت ‘ تمام شعبہ زندگی’تمام سیاسی جماعتوں، سول و عسکری قیادت آتی رہی ہے ۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان’ جنرل حمید گل مرحوم، جنرل راحت لطیف’ بریگیڈیئر حامد سعید’ جنرل غلام مصطفی ‘ اوریا مقبول جان’ عرفان صدیقی’ سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان’ مجیب الرحمٰن شامی’ ڈاکٹر اجمل نیازی’ ڈاکٹر خواجہ ذکریا’ پروفیسر فتح ملک’ اعجاز چوہدری ‘ محمود الرشید’ سعدیہ سہیل’ بشری رحمن’ سابق وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ‘ڈاکٹر فاطمہ حسن’ سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید’ ڈاکٹر جاوید منظر’ سابق وزیر تعلیم رانا مشہود’ سابق وزیر بلوچستان صالح بلوچ’ قیوم نظامی’ ابصار عبدالعلی ‘ ڈاکٹر افتخار بخاری’ جسٹس ناصرہ اقبال’ سمیعہ راحیل قاضی اور ایک لمبی فہرست ہے جو ہماری کوششوں سے واقف ہیں۔ ہم اپنی تحریک کے قائد عزیز ظفر آزاد کی قیادت میں دن رات نفاذ اردو کے لئے سر گرم ہیں۔ ان شاءاللہ اردو کو پاکستان کا نظام زندگی بنا کر ہی دم لیں گے!
    ہم نے تہیہ کیا ہے کہ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اردو کو پاکستان کی عدالتی ‘ سرکاری اور تعلیمی زبان نہ بنادیں!
    ان شاءاللہ! اللہ کے فضل سے پاکستان میں نفاذاردو کی منزل بہت قریب ہے!
    فاطمہ قمر پاکستان قومی زبان تحریک

  • اردو ہے جس کا نام:روس کے تین اعلیٰ اداروں میں سیکھائی جانے لگی

    اردو ہے جس کا نام:روس کے تین اعلیٰ اداروں میں سیکھائی جانے لگی

    اردو زبان کی چاشنی اور حسن کے اب روس کے تعلیمی اداروں میں چرچے اور مقبولیت .روس کے اعلیٰ اداروں میں اردو زبان کو سیکھایا جانے لگا .اس وقت اردو زبان ماسکو کے تین اعلیٰ اداروں میں سکھائ جاتی ہے یعنی ماسکو ریاستی یونیورسٹی کے تحت ایشیائ اور افریقی ملکوں کے انسٹی ٹیوٹ، بین الاقوامی تعلقات کے انسٹی ٹیوٹ اور روسی ہیومینٹیرین یونیورسٹی میں جہاں اردو اسی سال 2007 میں پڑھائ جانے لگی-

    دلچسپ بات ہے کہ خواہش مند نوجوان سینٹ پیٹرزبرگ کی یونیورسٹی، سائبریا اور مشرق بعید کے چند اعلیٰ تعلیمی اداروں سے بھی اردو سیکھ سکتے ہیں- تاہم علم شرقیات کا سب سے مشہور اور باوقار روسی اعلیٰ تعلیمی ادارہ ماسکو ریاستی یونیورسٹی کے تحت ایشیا اور افریقہ کے ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ ہے- ویسے تو ریڈیو "صداۓ روس” کے شعبۂ اردو کے زیادہ تر آناؤنسر اور مترجم اسی انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل ہیں- مطلب یہ کہ آپ ہمارے پروگرام سنتے ہوۓ اس انسٹی ٹیوٹ کی تعلیم کے معیار کا اندازہ لگا سکتے ہیں-

    افریقی اور ایشیائی ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ 50 سے زیادہ سال پہلے قائم کیا گیا- یہ ایک انوکھا تعلیمی ادارہ ہے، جہاں اسلام شناسی، ہندوستان شناسی، چین شناسی اور دوسرے علوم کے مطالعہ کی روسی روایات برقرار رکھی جاتی ہیں- ایشیائ اور افریقی ملکوں کا انسٹی ٹیوٹ ماسکو یونیورسٹی کا ایک شعبہ سمجھا جاتا ہے اس لیے وہاں طلباء کو ہمہ گیر معلومات فراہم کی جاتی ہیں- مگر اہمترین مقام علم شرقیات کو حاصل ہے