Baaghi TV

Tag: ارسلان محسود

  • ارسلان محسود کو کس کی ایما پر قتل کیا گیا ؟اہم انکشافات نے اہم شخصیات کو بے نقاب کردیا

    ارسلان محسود کو کس کی ایما پر قتل کیا گیا ؟اہم انکشافات نے اہم شخصیات کو بے نقاب کردیا

    کراچی :ارسلان محسود کو کس کی ایما پر قتل کیا گیا ؟اہم انکشافات نے اہم شخصیات کو بے نقاب کردیا،اطلاعات کے مطابق ارسلان محسود قتل کیس میں پولیس نے عبوری چالان عدالت میں پیش کردیا ، جس میں بتایا گیا کہ ملزمان نے سابقہ ایس ایچ اواعظم گوپانگ کی ایماپر ارسلان کو قتل کیا۔

    تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت میں ارسلان محسود قتل کیس پر سماعت ہوئی، سماعت میں پولیس نے مقدمے کا عبوری چالان عدالت میں پیش کیا۔

    چالان میں بتایا گیا کہ ملزم انٹیلی جنس اہلکار توحید اور دوست عمیر نے سابقہ ایس ایچ او اعظم گوپانگ کی ایما پر موٹر سائیکل چھیننے کے دوران مزاحمت پر ارسلان کو قتل کیا۔

    چالان میں کہا کہ زخمی نوجوان یاسر اور عینی شاہدین نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو ملزمان کو شناخت کیا، فارنسک رپورٹ میں جائے وقوعہ سے ملنے والے خول ملزم توحید کے اسلحے سے میچ کرتے ہیں۔

    عبوری چالان کے مطابق سابق ایس ایچ او اعظم گوپانگ نے ذاتی ملکیت کا پستول اور تین خول جائے وقوعہ پر رکھ کر مقابلہ ظاہر کیا اور ذاتی پستول رکھ کر واقعے کا رخ تبدیل کرنے کی کوشش کی۔

    پولیس نے چالان کہا کہ ملزم اعظم گوپانگ کے خلاف سندھ آرمز ایکٹ کے تحت ایک اور مقدمہ درج کیا گیا ہے، ملزم توحید اور سابق ایس ایچ او اعظم گوپانگ کے اسلحے لائسنس کی تصدیق کے لئے بلوچستان اور کے پی خطوط تحریر کئے ہیں، اسلحہ لائسنس کی تصدیق اور پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ تاحال موصول نہیں ہوسکی ہے۔

    خیال رہے 7 دسمبر کو تھانہ اورنگی کی حدود میں پولیس اہلکار کی فائرنگ سے سولہ سالہ ارسلان محسود جاں بحق جبکہ دوست یاسر زخمی ہوا تھا،ارسلان اور یاسر ٹیوشن سے واپس گھر جارہے تھے۔

  • ارسلان محسود قتل کیس.گرفتار ایس ایچ او جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    ارسلان محسود قتل کیس.گرفتار ایس ایچ او جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    ارسلان محسود قتل کیس میں گرفتار معطل ایس ایچ او اعظم گوپانگ 9 دسمبر تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے,

    طالب علم ارسلان قتل کیس کی سماعت انسداد دہشتگردی عدالت میں ہوئی, جہاں گرفتار معطل ایس ایچ او کو سخت کسٹڈی میں عدالت کے روبرو پیش کیا گیا,دوران سماعت پولیس حکام نے بتایا کہ ملزم کو پولیس نے غیر قانونی اسلحہ کیس میں گرفتار کیا ھے,جس پر پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ کا قتل کیس سے کوئی تعلق نہیں بنتا, اس موقع پر ایس پی عابد قائم خانی نے کہا کہ ہم نے تفتیش کرنی ھے کہ یہ اسلحہ وقوعہ میں استعمال ہوا ھے یا نہیں؟

    اس کیس میں ریمانڈ متعلقہ میجسٹریٹ سے لینا چائیے تھا تفتیشی افسر نے کہا کہ ریمانڈ میں اسلحہ کی ایف ایس ایل کروانی ھے ملزم کے ماتحتوں کا اے ٹی سی سے ریمانڈ ہوچکا ہے۔بعد ازاں عدالت نے معطل ایس ایچ او اعظم گوپانگ کو 19 دسمبر تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا, عدالت نے پولیس حکام کو کیس میں گرفتار تمام ملزمان کو 20 دسمبر کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔دوران سماعت معطل ایس ایچ او اعظم نے عدالت میں کہا کہ میرا اس کیس سے کوئی تعلق نہیں میں بے گناہ ہوں میری درخواست ہے کہ اس مقدمے میں جے آئی ٹی بنائی جائے۔

    سماعت کے موقع پر مقتول طالب علم کے رشتےداروں سمیت اہل علاقہ نے عدالت کےباہر احتجاج کیا انصاف نہ ملنے پر ارسلان محسود کے چچا نے ملک گیر احتجاج کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز صرف کال کاانتظار کر رہی ہیں ہمارا یک ہی مطالبہ ھے کہ تینوں ملزمان کو پھانسی دی جائے ۔

  • کراچی :قتل ہونےوالےطالبعلم  ارسلان محسود کی نمازجنازہ  کردی گئی

    کراچی :قتل ہونےوالےطالبعلم ارسلان محسود کی نمازجنازہ کردی گئی

    کراچی :قتل ہونےوالےطالبعلم ارسلان محسود کی نمازجنازہ کردی گئی ،اطلاعات کے مطابق کراچی کے علاقے اورنگی ٹاون میں پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے طالب علم ارسلان محسود کی نمازجنازہ ادار کردی گئی ہے

    ادھر اورنگی ٹاون سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ علاقے میں پولیس اور رینجرز کی نفری بھی تعینات ہے اوراس نماز جنازہ میں کراچی بھرسے اہم شخصیات ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان سمیت سماجی اور مذہبی شخصیات سے شرکت کی ہے

    وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید نے کراچی میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں مبینہ مقابلے میں نوجوان ارسلان محسود کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔

    ادھر وفاقی وزیر برائے مواصلات مراد سعید کا کہنا تھا کہ کراچی میں پولیس اہلکار کے ہاتھوں نوجوان کے قتل نے پرانے زخم ہرے کردیے، پولیس میں پیپلزپارٹی کے بھرتی غنڈے وردی میں موت بانٹتے ہیں۔

    مراد سعید نے کہا کہ اس سے پہلے سندھ کے بہادر بچے نے نقیب اللہ محسود کو قتل کردیا تھا، راؤ انوار کی وحشت نے پورے ملک میں نفرت کی آگ کو سلگایا۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ زرداری اور فرزند زرداری نے فتنہ گروں کے گروہ سے راہ و رسم پیدا کیے اور ملک دشمن ایجنڈے کو اپنا کندھا فراہم کیا، عزیر بلوچ اور بابا لاڈلہ جیسے کرداروں کی حقیقت آشکار کے لیے کافی ہے، زرداری سندھ میں پولیس کو مجرموں سے پاک کرنے کو تیار نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ تھر میں سندھ پولیس کے خلاف سراپا احتجاج لوگ گھروں کو نہیں لوٹتے، اپنی آنکھوں سے سندھ میں پولیس گردی کی صورت حال دیکھ کر لوٹا ہوں۔

    مراد سعید نے کہا کہ زرداریوں کے راج میں قاتل آزاد، عوام موت کے شکنجے میں ہیں، ارسلان کو نقیب محسود بننے نہیں دیں گے اور نہ ہی حکومت سندھ کو یہ معاملہ دبانے دیں گے۔

    یاد رہے کہ گذشتہ روز کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں پیر کی شب ہونے والا پولیس مقابلہ مشکوک قرار دیا گیا تھا ، نوجوان ارسلان محسود کی ہلاکت پر فائرنگ کرنے والے ‏اہلکار کو گرفتار کر لیا گیا تھا جبکہ ایس ایچ او اعظم گوپانگ کو معطل کردیا گیا تھا۔

    مقتول ارسلان ڈمپر ایسوسی ایشن کے عہدیدار کا بیٹا ہے جس کی عمر 20 سال ہے، اہلخانہ کا کہنا تھا کہ بیٹا ‏کوچنگ سینٹر سے واپس جا رہا تھا کہ اسے نشانہ بنایا گیا۔