ن لیگی رہنما،سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ گولڈ میڈل جیتنے والے پاکستان کے ہیرو ارشد ندیم نے نہ صرف پاکستان کا مقدمہ لڑا بلکہ جیتا بھی ان کا شایان شان استقبال کیا جائے گا
کھڈیاں میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ ارشد ندیم آج رات پاکستان پہنچ رہے ہیں، ارشد ندیم کو بھر پور استقبال کیا جائے گا، صوبائی وزرا بھی استقبال کے لئے ایئر پورٹ جائیں گے، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہدایت کی ہے کہ ارشد ندیم کا شایان شان استقبال کیا جائے،وزیراعلیٰ پنجاب نے ارشد ندیم کے لئے نقد انعام کا اعلان بھی کیا ہے.
ملک محمد احمد خان نے سیاسی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن ارکان کی غیر اخلاقی حرکات برداشت نہیں کی جا سکتی تھیں، اپوزیشن لیڈر کی تقریر کے دوران حکومتی بینچز کو خاموش رہنے کا پابند کرتا ہوں،اپوزیشن ارکان نے جس کی ایما پر غیر اخلاقی حرکات کیں وہ آج معافی مانگ رہا ہے،معاملہ سیاسی ڈیل کا نہیں معاملہ جرائم کا ہے، سرحدوں کی حفاطت کرتے ہوئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والے میرا فخر ہیں
اولمپک چیمپئین ارشد ندیم پاکستان روانگی کے لیے ائیرپورٹ پہنچ گئے ہیں
ارشد ندیم پیرس سے استنبول پہنچیں گے ،استنبول ایئرپورٹ پر قومی ہیرو ارشد ندیم دو گھنٹے قیام کے بعد لاہور ایئرپورٹ کے لیے اڑان بھریں گے،ارشد ندیم پیرس سے آج رات ایک بجے لاہور پہنچیں گے،لاہور ایئر پورٹ پر ارشد ندیم کا شاندار استقبال کیا جائے گا،وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ ارشد ندیم کا ایئر پورٹ پر استقبال کیا جائے گا،کھیلوں کے میدان سے بہت عرصے بعد پاکستان کو کوئی بڑی کامیابی ملی ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اس بار کے جشن آزادی کو ارشد ندیم صاحب کی کامیابی کے بعد چار چاند لگ گئے ہیں،ارشد ندیم کوچ سلمان بٹ اور ساؤتھ ایشیئن اتھلیٹکس کے چیئرمین ریٹائرڈ میجر جنرل محمد اکرم ساہی کے ہمراہ لاہور پہنچیں گے
دوسری جانب ارشد ندیم نے پیرس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے گاؤں لیول سے آغاز کیا، کرکٹ کی میری اچھی گیم تھی،باؤلر تھا میں لیکن کرکٹ چھوڑنی پڑی، فٹبال کی بھی میری اچھی گیم تھی، کبڈی بھی کھیلی، لیکن پھر یہ سب چھوڑ دیا ،کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ جیولین تھروور بنیں گے بلکہ ان کی خواہش تھی کہ وہ کرکٹر بنیں، کیونکہ ان کی باؤلنگ بہت بہترین ہے اور ماضی میں پنجاب سے صوبائی سطح پر کھیل چکے ہیں،عدم سہولت کی وجہ سے مجھے کرکٹ چھوڑنی پڑی، میرا شوق تھا کرکٹ میں جاؤں، لیکن ایک ٹیم ہوتی ہے کرکٹ میں نام اور جگہ بنانا بڑا مشکل ہو جاتا ہے،میں نے پھر تمام کھیل چھوڑ کر اسکول میں ہی ایتھلیٹکس شروع کی، ابتدا مقامی سطح پر جیولین تھرو کے علاوہ فار تھرو، شارٹ گڈو، لانگ جمپ، ہائی جمپ، ٹرپل جمپ، 100 میٹر وغیرہ مختلف کھیل کھیلے، ہمیشہ بہترین ایتھلیٹ رہا، انہوں نے صوبائی سطح پر مختلف ایتھلیٹس کھیلوں میں پرفارم کیا اور ہمیشہ پوزیشن حاصل کی، ان کے کوچ نے جیولین تھرو کو مستقل طور پر اپنانے کا مشورہ دیا کیونکہ ان کی جسامت اچھی ہے، بعدازاں بھائی نے بھی یہ ہی مشورہ دیا کیونکہ کرکٹ میں بطور ٹیم کھیلنا ہوتا ہے اور ٹیم میں اپنی جگہ بنانا مشکل کام ہے جبکہ ایتھلیٹ انفرادی طور پر کھیلتا ہے، جتنے ایونٹس میں نے کھیلے سب میں پوزیشن لیتا تھا آل پنجاب میں
واضح رہے کہ ارشد ندیم نے پیرس اولمپکس میں پاکستان کو 40 سال بعد گولڈ میڈل جتوایا ہے، یہ انفرادی مقابلوں میں پاکستان کا پہلا گولڈ میڈل بھی ہے ،ارشد ندیم کی اس تاریخی کامیابی پر پوری قوم جشن منا رہی ہے، اور ان کی محنت، عزم اور لگن کی بدولت پاکستان نے ایک بار پھر عالمی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔ ارشد ندیم نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے کھیلوں کے شائقین کے دلوں میں اپنی جگہ بنالی ہے۔ارشد ندیم کی اس شاندار کامیابی نے پوری قوم کو خوشی سے سرشار کر دیا ہے، اور ان کے اس کارنامے کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی محنت، عزم اور لگن نے انہیں اولمپکس کے سب سے بڑے اسٹیج پر نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا کے سامنے سرخرو کیا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نےکہا ہے کہ ماشاء اللہ پاکستان نے بتیس سال بعد پیرس اولمپکس میں صرف اور صرف ارشدندیم کی محنت کی وجہ سے گولڈ میڈل جیتا ہے۔میں اتنا جانتا ہوں کہ اس میں کارکردگی اور کامیابی میں ارشد کا کسی نے ساتھ نہیں دیا ۔
مبشر لقمان یوٹیوب چینل پر وی لاگ میں مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یقینا قوم کی دعائیں اور نیک خواہشات ضرور ان کے ساتھ تھی مگرہماری حکومت سمیت اسپورٹس بورڈ اور اولمپکس ایسوسی ایشن ہمیشہ سے صرف اپنے ساتھ ہیں ۔ انھوں نےکبھی کسی ٹیلنٹ کونہ تو ڈھونڈا ہے نہ ہی پرکھا ہے ۔ بس اپنے ہی پیٹ بھرے ہیں ۔ بہرحال ا س موقع پر ارشد ندیم کے گولڈ میڈل کا کریڈٹ پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے سابق صدر جنرل (ر)عارف حسن کو نہ دینا بھی زیادتی ہوگی،میری بات کسی کو اچھی لگے یا بری لگے ،کیونکہ اگر جنرل صاحب بیماری کے باعث عہدہ نہ چھوڑتے تو شاید اس دفعہ بھی میڈل مشکل ہی تھا،انکے عہدہ چھوڑنے کے بعد ہی میڈل ملا، اگر وہ کہہ دیتے کہ میں نے مرنے کے بعد ہی عہدہ چھوڑنا ہے تو ہم کیا کر لیتے،کیونکہ حقائق یہ ہیں کہ عارف حسن مارچ دوہزار چار سے جنوری دو ہزار چوبیس تک پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر رہے اور ان دو دہائیوں کے دوران پاکستان نے کبھی کوئی تمغہ نہیں جیتا۔میر ی نظر میں ارشدکو کسی نے سپورٹ کیاہے تو وہ اس کے گھر والے اور گاوں والے ہیں ،پاکستان سپورٹس بورڈ نے اسکے ساتھ کیا کیا، 25 لاکھ تب دیا جب ایشیا میں ٹوکیو میں میڈل لیا تھا، اسکے لئے ٹریننگ کا کوئی انتظام نہیں دیا گیا، جب اس نے اولمپک سے 15 دن قبل ٹریننگ کی اجازت مانگی تھی وہ بھی رد ہو گئی تھی سات بہن بھائیوں میں ارشد ندیم کا تیسرا نمبر ہے۔ ان کے والد محمد اشرف ایک مزدور تھے اور پوری فیملی کے واحد کفیل تھے اس لیے ان کی معاشی حالت زیادہ مضبوط نہیں تھی۔ اس لیے جب اُنہوں نے ایتھلیٹ بننے کا فیصلہ کیا تو ان کے پاس ٹریننگ کے اخراجات پورے کرنے اور بیرون ممالک میں ہونے والے مقابلوں میں حصّہ لینے کے لیے سفر کرنے کے پیسے نہیں تھے۔ اس حوالے سے ارشد ندیم کے والد محمد اشرف نے انکشاف کیاہے کہ ارشد ندیم کو ابتدائی دنوں میں ٹریننگ اور بیرون ملک سفر کرنے کے لیے گاؤں والوں اور رشتہ داروں نے پیسے دیے۔
مبشر لقمان کا مزید کہناتھا کہ آج ایک ویڈیو میرے سامنے آئی جس میں شہباز شریف صاحب کھڑے ہیں اور کہتے ہیں شاباش ارشد،رانا مشہود بھی واہ واہ کر رہے ہیں، میں انکے لئے انا للہ ہی پڑھا سکتا ہوں، ہر چیز پر ایسا کرنا ضروری ہے، اسکی مدد کریں ،اسکا تو گردہ پچھلے سال زخمی ہو گیا تھا اسکے پاس علاج کے پیسے نہیں تھے، ارشد ندیم نے ٹریننگ کے لیے نئی جیولین خریدنے کے لیے مدد کی اپیل کی تھی توبھارتی اتھلیٹ نیرج چوپڑا نے بھی ان کے لیے سوشل میڈیا پر اپنی آواز اُٹھائی تھی پھر حکومت کو شرم آئی اور حکومت نے انہیں جیولین فراہم کی۔ ارشد ندیم کو صحت کے حوالے سے بھی کچھ مسائل کا سامنا رہا ہے اور گزشتہ سال اُنہیں اپنے گھٹنے کی سرجری بھی کروانی پڑی۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ صحت اور دیگر ممالک کے ایتھلیٹس جیسی اعلیٰ ترین سہولتوں اور سازوسامان کی عدم دستیابی کے باوجود بھی وہ قوم کی کرکٹ سے ایتھلیٹکس کی طرف کچھ توجہ مرکوز کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں،ارشد ندیم کو حکومت نے کسی قسم کی کوئی سہولیات فراہم نہیں کیں.
مبشر لقمان کا مزید کہنا تھا کہ اچھا کچھ اسپورٹس جرنلسٹ ہیں جنہوں نے اس کامیابی کاجیسے رپورٹ کیاہے۔ اس سے آپکو اندازہوگا کہ ارشد نے کتنا بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ سب سے پہلے برطانیہ سے موسی وڑائچ ہیں وہ کہتےہیں کہ نہ کوئی سینٹرل کنٹریکٹ،،نہ کوئی غیر ملکی کوچز،،نہ کوئی انٹرنیشنل لیگز،،نہ کوئی فون کمپنیوں کا سپانسر،نہ پیپسی،کوکا کولا سپانسر،نہ کوئی بینک سپانسر،نہ کوئی پراپر سپورٹنگ سٹاف،نہ کوئی پروفیشنل طریقے سے تیاری کے مواقع،پھر بھی گولڈ میڈل جیتنا اور وہ بھی اولمپک مقابلوں میں اسے کہتے ہیں ہیرا اسے کہتے ہیں چیمپئین۔۔ہماری قوم کو صرف کرکٹ کا ہی پتا ہے کیونکہ میڈیا نے ہمیشہ کرکٹ کو پرموٹ کیا ہے،اس ملک میں صرف کرکٹرز کو پیسہ دیا جاتا ہے،کسی دوسرے کھیل پہ توجہ نہیں دی جاتی،ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے جس نے تین اولمپک گولڈ میڈل جیتے ہیں چار ورلڈ کپ مقابلے جیتے ہیں پر اب کہاں ہے جس کی وجہ صرف نان پروفیشنل لوگوں کو انکی بھاگ دوڑ دی گئی سفارشی کلچر پہ ایسوسی ایشنوں اور فیڈریشنز کے صدر اور سیکرٹری لگائے گئے۔ویل ڈن ارشد ندیم آپ ایک چیمپئین ہو اور مجھے آپ پہ فخر ہے۔اب کئی لوگ سامنے آئیں گے کہ انہوں ارشد کے لئے یہ کیا ۔فلاں کیا ۔کئی کریڈٹ لینے والے آئیں گے۔
27 سالہ پاکستانی ایتھلیٹ ارشد ندیم نے پاکستان کا پہلا انفرادی اولمپک چیمپئن بن کر تاریخ میں اپنا نام لکھوادیا ہے۔ پیرس اولمپکس میں ان کی 92.97 میٹر کی شاندار جیولن تھرو نے پچھلے اولمپک ریکارڈ توڑ دیئے ہیں اور آل ٹائم گریٹز میں سے انہوںنے ایک مقام حاصل کیا ہے، ارشد ندیم کے اس یادگار کارنامے نے نہ صرف پاکستان کو ایتھلیٹکس میں پہلا اولمپک گولڈ میڈل ملا بلکہ تین دہائیوں میں کسی بھی کھیل میں پہلا تمغہ بھی حاصل کیا۔
ارشد ندیم کی کامیابی کا سفر آسان نہیں تھا۔ جدید ترین تربیتی سہولیات تک رسائی نہ ہونے کے باوجود، وہ ثابت قدم رہے اور اولمپکس میں ٹریک اینڈ فیلڈ فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے والے پہلے پاکستانی بنے۔ 2023 ورلڈ چیمپیئن شپ میں ارشدندیم کی جانب سےچاندی کا تمغہ اور ٹوکیو میں پانچویں پوزیشن پر فائز ہونا اس کی شروعات تھی،ارشد ندیم اس سے پہلے اولمپکس میں اپنے مشکل سفر کے بارے میں بات کر چکے ہیں، کہتے ہیں کہ وہ اس کھیل میں سرفہرست پہنچ گئے تھے جس کے پاس جدید ترین میدانوں یا تربیتی سہولیات تک رسائی نہیں تھی۔
دی گارڈین کو ایک انٹرویو میں ارشد ندیم کا کہنا تھا کہ "اس دن اور دور میں، آپ کو کھلاڑیوں کو تیار کرنے کے لیے عالمی معیار کی سہولیات فراہم کرنی ہوں گی کیونکہ مقابلہ سخت سے سخت ہوتا جا رہا ہے۔ آپ انہیں یہ سہولتیں دیے بغیر دوسرا ارشد پیدا نہیں کر سکتے۔
اپنی تاریخی جیت کے بعد ارشد ندیم نے فتح کی خواہش رکھنے والی قوم کے لیے بے پناہ خوشی کا پیغام پہنچایا ہے۔ ان کا جذباتی ردعمل، خوشی کے آنسو، اور مداحوں کے ساتھ دلی گلے ملنا وائرل ہو چکا ہے۔ اس کے آبائی شہر میاں چنوں میں روایتی ڈھول بجائے گئے، رقص کیا گیا اور خوشیوں کی نمائش کرنے والی جشن کی ویڈیوز نے انٹرنیٹ کو اپنے سحر میں جکڑ لیا ہے۔ اس کی ماں کے فخر کے آنسو اور اپنے بیٹے کو گلے لگانے کی آرزو نے اس لمحے کی شدت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ارشد ندیم کا کارنامہ ان کی ذاتی فتح سے آگے بڑھتا ہے۔ وہ پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے امید کی کرن بن گئے ہیں، انہوں نے ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے کے لیے عالمی معیار کی سہولیات کی ضرورت پر زور دیا۔ امید ہے کہ آنے والی نسلیں ان کے نقش قدم پر چلیں گی۔ پاکستان ارشد ندیم کی کامیابی کی وجہ سے سرشار ہے، ان کی میراث قوم کو تحریک اور ترقی دیتی رہے گی۔
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اظہارخیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سیاست دان اتنی سیاست نہیں کرتے جتنی سپورٹس ایسوسی ایشن والے کرتے ہیں، مبارک ہو پوری قوم کو کہ انہوں نے اس عہدے کی جان چھوڑ دی ہے، یعنی ان کو بھی میڈل شیڈل دے دیں
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ مبارک ہو پاکستانی قوم کو، آج پاکستان کے لئے فخر کا دن ہے، ارشد ندیم نے قوم کا سر فخر سے بلند کیا، تین دہائیوں بعد پاکستان کو میڈل ملا، جس طرح بے سروسامانی میں ہمارے ہیرو زندگی گزارتے ہیں ا س نے سب کو بتا ہے ،ہماری کھیلوں کی تنظیمیں بشمول اولمپکس کے جو اس میں بیٹھ جاتا ہے پھر بیٹھ ہی جاتا ہے، کھلاڑیوں کو کوئی سہولیات نہیں ملتی،پی سی بی صرف فعال ادارہ ہے، ہم سیاستدان اتنی سیاست نہیں کرتے جتنی کھیلوں کی تنظیم والے نہیں کرتے،قوم کو مبارک ہو کہ اولمپکس کے صدر بدلے انکو بھی میڈل دے دیں کہ وہ قوم کی جان چھوڑ گئے، کئی حکومتیں آئیں اور گئیں لیکن وہ ڈٹے رہے اور پاکستان کوئی گولڈ میڈل نہیں جیت سکا،ہاکی اور فٹبال کو دیکھیں، پیسے آتے ہیں سٹیڈیم نہیں بنائے جاتے اور کہا جاتا ہے کہ سیلاب آیا سٹیڈیم ختم ہو گیا، ہمارا فرض ہے کہ ان تنظیموںپر توجہ دیں، قوم جنرل ر عارف کی بڑی شکر گزار ہے کہ انہوں نے قوم کی جان چھوڑی.
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ارشد ندیم کو پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد دی ہے
سماجی رابطے کی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے مبشر لقمان نے پاکستان اولپمکس ایسوسی ایشن کے سابق سربراہ جنرل ریٹائرڈ عارف حسن پر بھی کڑی تنقید کی، مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ارشد ندیم نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا۔ ارشد ندیم کی کامیابی کا ایک بڑا کریڈٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کو دیا جانا چاہیے جنہوں نے ایک بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کو چھوڑ دیا، اگر وہ عہدے پر رہتے تو مجھے یقین ہے کہ ہم آج یہ جشن نہ منا رہے ہوتے۔ یہ شخص 22 سال سے زیادہ عرصے تک تمام کھیلوں کے لیے ایک لعنت تھا جب اس نے پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کی سربراہی کی۔
Arshad Nadeem has done the impossible. A major credit must be given to General (Retd) Arif Hassan who left POA after contracting an illness that forced him out of office. Had he remained in office I am sure we would not be celebrating this today. The man was a curse for all…
جنرل ریٹائرڈ عارف حسن تقریباً 20 سال تک پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کے چیئرمین رہے، پاکستان کوئی تمغہ نا جیت سکا، وہ جوں ہی ریٹائرڈ ہوئے ان کے بعد پہلی اولمپکس میں ہی پاکستان نے گولڈ میڈل حاصل کر لیا۔
مبشر لقمان کی پوسٹ پر عارف سندھیلہ کا کہنا تھا کہ شہبازشریف کا کوئی کریڈٹ نہیں جس نے 2012میں یوتھ فیسٹول سے ارشد ندیم کو ہنٹ کیا ،جس نے مارچ میں ارشد ندیم کو تیاری اور جیولن خریدنے کے لئے 25لاکھ کا چیک دیا،جس نے ارشد ندیم کے ویزے کا بندوبست کیا،اور پاکستان اولیمپک ایسوسی ایشن کے جنرل عارف کا سارا کریڈٹ ہے جس نے صرف تباہی کی،واہ لفافے واہ،جیسے ہی عارف حسن کو فارغ کیا گیا اس کے بعد رزلٹ آیا،عارف حسن نے تو کئی سال عدالتی اسٹے آرڈرز پر عہدے پر سانپ بن کر بیٹھنا پسند کیا اور سپورٹس کا بیڑاغرق کیا.
واضح رہے کہ جنرل ر عارف حسن 20 سال تک پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر رہے، پاکستان اولمپکس ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبران کے نام ایک خط میں 73 سالہ عارف حسن نے لکھا کہ وہ یکم جنوری 2024 کو عہدہ چھوڑ دیں گے، وہ خرابیٴ صحت کی وجہ سے اپنی ذمے داریوں سے سبک دوش ہو رہے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ یہ ان کے لیے ایک مشکل فیصلہ تھا۔ ان کے طویل دورِ صدارت کے دوران پاکستان نے اولمپک کے کسی بھی کھیل میں، کوئی بھی میڈل نہیں جیتا جس کی وجہ سے انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا،ان کی کارکردگی پر سیاسی رہنماؤں کی جانب سے بھی کئی بار ان کی برطرفی کا کئی بار مطالبہ سامنے آتا رہا،لیکن انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی حمایت کی وجہ سے وہ بار بار اس عہدے پر منتخب ہوتے رہے،
قومی اسمبلی اجلاس، پیرس اولمپکس میں ارشد ندیم کی تاریخی کامیابی پر قرارداد پیش کر دی گئی
قومی اسمبلی میں قرارداد پیپلز پارٹی کی رکن سحر کامران نے پیش کی،سحر کامران کا کہنا ہے تھا کہ ارشد ندیم کو اولمپکس میں کامیابی اور سونے کا تمغہ جیتنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں،قومی اسمبلی اجلاس کے دوران پیش کی گئی قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ” ارشد ندیم نے 92.97 میٹر جیولین تھرو پھینک کر پیرس اولمپکس 2024ء میں ریکارڈ قائم کردیا ہے، ایوان ارشد ندیم کی مسلسل محنت اور کاوشوں کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہے، ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ ارشد ندیم کی بھرپور عزت افزائی کرے، حکومت کھیلوں کے فروغ کے لیے اقدامات اُٹھائے تاکہ دنیا میں پاکستان کا نام روشن ہو”.
ارشد ندیم نے حکومت ،اپوزیشن کو ایک پیج پر لا کھڑا کیا، متفقہ قرارداد منظور
قومی اسمبلی میں ارشد ندیم کو خراج تحسین پیش کرنےکی قرار داد متفقہ طورپر منظور کی گئی ہے،قومی اسمبلی میں قرارداد وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کی، پاکستان کا نام روشن کرنے والے ارشد ندیم کے لئے حکومت و اپوزیشن ایک پیج پر آ گئے، وزیر قانون نے قرارداد پیش کی تو اپوزیشن نے بھی حمایت کی،قرارداد میں قومی ہیرو کو اعلیٰ ترین ایوارڈ سے نوازنے کی بھی سفارش کی گئی ہے،قومی اسمبلی اجلاس کے دوران بلاول زرداری،مولانا فضل الرحمان، خواجہ آصف، عمر ایوب سمیت دیگر نے ارشد ندیم کو زبردست خراج تحسین پیش کیا ہے
سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین سیدال خان کی زیرصدارت پارلیمنٹ ہاوس میں ہوا۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہاکہ ارشد ندیم نے اولمپکس میں پاکستان کا نام روشن کیا ہے ہم اس کو مبارک باد پیش کرتے ہیں ،ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سیدال خان نے کہاکہ ارشد ندیم کو سینیٹ کی طرف سے مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہاکہ سینیٹ میں مدعو کیا جائے گا اور ان کو انعام بھی دیا جائے گا ،سینیٹر ذیشان خان زادہ نے کہاکہ ایوان میں ان کے لیے قرارداد پاس کی جائے۔
وقفہ سوالات کے دوران وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے جواب دیا کہ بیرون ملک سفارت خانوں میں پاکستان کے 57 کمرشل اتاشی/ٹریڈ قونصلرز تعنیات ہیں۔مخلتف ملکوں میں دس مزید اسامیاں قائم کی گئی ہیں۔یہ کمرشل اتاشی گریڈ اٹھارہ سے گریڈ اکیس تک ہوتے ہیں۔ان کمرشل اتاشیوں کا انتخاب باقاعدہ تحریری امتحان ، انٹرویو کے بعد اعلیٰ سطح سلیکشن بورڑ کرتا ہے۔ان کمرشل اتاشیوں کا انتخاب شفاف طریقے سے ہوتا ہے۔
ڈاکٹر زرقا تیمور نے کورم کی نشاندہی کردی کہ ایوان میں وزیر موجود نہیں ہیں ،کورم مکمل نہ ہونے پر اجلاس ڈپٹی چیئرمین نے اجلاس غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردیا گیا
ارشد ندیم کی جانب سے پیرس اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتنے پر بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ سروج دیوی نے بھی خوشی کا اظہار کیا ہے،بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا کی والدہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے
بھارتی میڈیا کو انٹرویو میں سروج دیوی کا کہنا تھا کہ ہم نیرج چوپڑا کے سلور میڈل جیتنے پر بھی خوش ہیں، ہمارے لیے سلور بھی گولڈ جیسا ہی ہے، ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا وہ بھی میرا بیٹا ہے وہاں تک پہنچنے کے لیے سب محنت کرتے ہیں، ہم نیرج کی کارکردگی سے بہت خوش ہیں اور اس بار بھی نیرج کے گھر واپس آنے پر ان کا پسندیدہ کھانا بناؤں گی،میدان میں سب کھیلنےکے لیے اترتے ہیں، کسی ایک کو جیتنا ہی ہوتاہے، بات ہریانہ اورپاکستان کی نہیں،یہ خوشی کی بات ہے۔
نیرج چوپڑا کے والد ستیش کمار کا کہنا تھا کہ ہر کھلاڑی کی کامیابی کا دن ہوتا ہے، یہ دن ارشد ندیم کے لیے اچھا تھا اس لیے وہ گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب رہے، مقابلے میں 12 ممالک مدِ مقابل تھے اور ان 12 ممالک میں سے ایک پاکستان جیتا ہے، ان کا دن اچھا تھا اسی لیے وہ جیت گئے، اولمپکس میں ہم لگاتار دوسری بار میڈل جیتنے میں کامیاب رہے یہ ہمارے لیے بہت خوشی کی بات ہے۔
یاد رہے کہ بھارتی جیولین تھرور نیرج چوپڑا نے ٹوکیو اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا اور اس بار انہیں سلورمیڈل ملا ہے،
بھارتی میڈیا پر پاکستانی ارشد ندیم کے چرچے ہیں، بھارتی شہری بھی سوشل میڈیا پر ارشد ندیم کی کارکردگی کو سراہ رہے ہیں اور گولڈ میڈل جیتنے پر مبارکباد دے رہے ہیں، بھارتی میڈیا اینسٹینٹ بالی ووڈ نے ارشد ندیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں ارشد ندیم کو ناقابل یقین حد تک ہنر مند قرار دیا گیا،
واضح رہےکہ پاکستان نے آخری مرتبہ 8 اگست 1992 کو اولمپکس میڈل پوڈیم پر قدم رکھا تھا جب قومی ہاکی ٹیم نے بارسلونا اولمپکس میں نیدرلینڈز کو تین کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیتا تھا ، پاکستان نے آخری مرتبہ 1984 میں اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا جوکہ ہاکی ٹیم نے ہی دلوایا تھا،ارشد ندیم پاکستان کو انفرادی مقابلوں میں گولڈ میڈل دلوانے والے پہلے ایتھلیٹ ہیں
پیرس اولمپکس میں پاکستان کو 40 سال بعد پہلا گولڈ میڈل جتوانے والے پاکستانی قوم کا فخڑ ارشد ندیم کی والدہ کا کہنا ہے کہ میں اپنے بیٹے کے استقبال کیلئے پھول لے کر جاؤں گی،
ارشد ندیم نے گولڈ میڈل جیتا توانکے گھر کے باہر شہریوں نے جشن منایا، ارشد ندیم کی والدہ کو مبارکباد دی،ڈھول کی تھاپ پر شہریوں نے بھنگڑے ڈالے، اس موقع پر ارشد ندیم کی والدہ کا کہنا تھا کہ بیٹے کی کامیابی کیلئے بہت دعائیں کی ہیں خوشی ہے کہ میرے بیٹے نے ملک کا نام روشن کیا،نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ارشد ندیم کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کیلئے بہت خوش ہیں، پورے پاکستان سے بھی زیادہ خوش ہیں اور وہ اپنے بیٹے کو گلے لگانے کیلئے بے چین ہیں، میرے بیٹے نے میڈل جیت کر پاکستان کا نام روشن کیا،ارشد ندیم کی بہن کا کہنا تھا کہ آج اتنے خوش ہیں کہ سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا بانٹیں، اس نے جو پاکستان والوں سے وعدہ کیا تھا وہ پورا کیا وہ گولڈ میڈل لے کر آیا ہے، ارشد ندیم کے بھائی کا کہنا تھا کہ میرے بھائی نے پاکستان کو جیت دی، ہم پرجوش ہیں، بھائی کا بھر پور استقبال کریں گے، ایئر پورٹ جائیں گے.
ارشد ندیم کی تاریخ ساز کامیابی پر اہل محلہ کا کہنا تھا کہ ارشد ندیم نے میاں چنوں کا نام پوری دنیا میں روشن کردیا ہے، ارشد ندیم نے اپنی مہارت کا کمال کرتے ہوئے اولمپکس کی تاریخ میں نئے باب کا اضافہ کر دیا ساتھ ہی 40 سال بعد پاکستانیوں کے چہروں پر خوشیاں ہی خوشیاں بکھیر دیں، ارشد ندیم نے تاریخ رقم کی تو خود بھی سجدہ ریز ہوگئے اورخوشی سے آنکھیں اشکبار ہوگئیں
واضح رہےکہ پاکستان نے آخری مرتبہ 8 اگست 1992 کو اولمپکس میڈل پوڈیم پر قدم رکھا تھا جب قومی ہاکی ٹیم نے بارسلونا اولمپکس میں نیدرلینڈز کو تین کے مقابلے میں چار گول سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیتا تھا ، پاکستان نے آخری مرتبہ 1984 میں اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتا تھا جوکہ ہاکی ٹیم نے ہی دلوایا تھا،ارشد ندیم پاکستان کو انفرادی مقابلوں میں گولڈ میڈل دلوانے والے پہلے ایتھلیٹ ہیں