Baaghi TV

Tag: ارطغرل غازی

  • ارطغرل غازی کا اختتام،پی ٹی وی پر اب کونسا تاریخی ڈرامہ نشر کیا جائے گا؟

    ارطغرل غازی کا اختتام،پی ٹی وی پر اب کونسا تاریخی ڈرامہ نشر کیا جائے گا؟

    پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) پر گزشتہ شب مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی شہرہ آفاق ترک سیریز ‘ارطغرل غازی’ کے پانچویں سیزن کی آخری قسط نشر کی گئی۔

    باغی ٹی وی :تفصیلات کے مطابق پی ٹی وی کی جانب سے ناظرین کے لیے اس ڈرامے کی جگہ اب ایک اور ترک ڈرامہ نشر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جس کا نام ‘پایہ تخت، سلطان عبدالحمید’ ہے، اس ڈرامے کا آغاز 9 فروری بروز بدھ سے ہوگا پایہ تخت، سلطان عبدالحمید ہر بدھ سے اتوار کی شب 7:55 پر نشر کیا جائے گا۔

    ماضی میں ٹک ٹاک کو کینسر قرار دینے والے فیروز خان بھی ایپ کا حصہ بن گئے

    ترکی کے چینل ٹرکش ریڈیو ٹیلی ویژن کارپوریشن (ٹی آرٹی) پر اس ڈرامے کا آغاز 2017 میں ہوا تھا جس کے 5 سیزنز دکھائے گئے ہیں، یہ ڈرامہ ترکی میں 2021 میں ختم ہوا۔


    پایہ تخت عبدالحمید میں 1876 سے 1909 تک عثمانی سلطنت کے سلطان رہنے والے سلطان عبدالحمید دوئم کی زندگی کے نشیب و فراز دکھائے گئے ہیں، انہیں عثمانی سلطنت کا آخری بااختیار سلطان بھی کہا جاتا ہے۔

    نیلم منیر کی مسٹری تھرلر فلم ’چکر‘ کا ٹیزر جاری،فلم عید الفطر پرریلیز کرنے کا…

    ڈرامے میں ان کے عہد کے آخری 13 برسوں کی کہانی بیان کی گئی ہے، سیریز میں یورپی ممالک اور یہودیوں کی سازشوں کو دکھایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ وزیراعظم کی ہدایت پر مسلمانوں کی اسلامی فتوحات پر مبنی ڈرامہ سیریل ارطغرل غازی کو اپریل 2020 میں سرکاری ٹی وی پر اردو میں ڈب کر کے نشر کیا گیا تھا ڈرامے اور کرداروں کو پاکستان میں خوب پذیرائی ملی اور مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کئے-

    سلمان خان کے لیے سعودی عرب کا "پرسنالٹی آف دی ایئر” ایوارڈ

  • ارطغرل غازی کے معروف اداکار انتقال کر گئے

    ارطغرل غازی کے معروف اداکار انتقال کر گئے

    دنیا بھر میں مقبول و معروف ارطغرل غازی سیریز میں آرتوک بے کا کردار ادا کرنے والے ترک اداکار ایبرک پیکن انتقال کر گئے۔

    باغی ٹی وی : سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مرسین انڈسٹریلسٹ اینڈ بزنس مین ایسوسی ایشن (MESIAD) کے بورڈ ممبر نے51 سالہ اداکار کی موت کی افسوسناک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ میرے پیارے، دوست، میرے بھائی اور ترک سنیما کے ایک تجربہ کار اداکار ایبرک پیکن کو کھو دیا ہے-

    انہوں نے اداکار کے لئے دعائے مغفرت بھی کی-

    واضح رہے کہ اداکار کینسر کے مرض میں مبتلا تھے انہوں نے اکتوبر میں کمر درد کی شکایت کی تھی جس کے بعد ہسپتال علاج کے دوران معلوم ہوا کہ ٹیومر جگر اور ایڈرینل غدود میں پھیل گیا ہےان کا علاج چل رہا تھا-

    پیکن نے سوشل میڈیا پر بتایا تھا کہ پیارے دوستو جس ڈاکٹر کے پاس میں دس دن پہلے کمر درد کی شکایت لے کر گیا تھا اس سے شروع ہونے والا عمل آج اس مقام پر پہنچا ہے۔ مجھے پھیپھڑوں کا کینسر ہے۔ ٹیومر جگر اور ایڈرینل غدود میں بھی پھیل گیا ہے۔ بدقسمتی سے، اس بیماری نے اپنے ابتدائی مراحل میں کوئی علامات ظاہر نہیں کیں۔

    اداکار کا کہنا تھا کہ کیموتھراپی کا پہلا دن۔ میرا سب سے بڑا سہارا میرا خاندان ہے۔ تو میرے قریب کے دوست بھی ہیں۔ میں اپنی صحت کو بحال کرنے کی پوری کوشش کروں گا انہوں نے مداحوں سے دعاؤں کی درخواست کی تھی-

    واضح رہے کہ ترک سنیما اور ٹی وی سیریز کے اداکار ایبرک پیکن 22 مئی 1970 کو مرسین میں پیدا ہوئے انہوں نے اپنا بچپن اور جوانی ادانا اور مرسین میں گزاری۔ مرسین کے اڈانا اور ہائی اسکول میں اپنی ابتدائی اور ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، مرسن یونیورسٹی، فائن آرٹس کی فیکلٹی، شعبہ پرفارمنگ آرٹس، شعبہ تھیٹر سے گریجویشن کیا۔ بعد ازاں انہوں نے استنبول میں اداکاری کا آغاز کیا۔

    2010 میں، فیچر فلم ہیئر، جس میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا، کو قومی اور بین الاقوامی فلمی فیسٹولز میں ایوارڈز ملے انہیں 23 ویں انقرہ انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں 2012 میں ریلیز ہونے والی فلم Aşk ve Devrim میں ان کی اداکاری کے لیے بہترین معاون اداکار کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس اگست میں شہرۂ آفاق تُرک سیریز ارطغرل غازی کے مرکزی کردار ’ارطغرل‘ کے ماموں کا کردار ادا کرنے والے اداکار حسین اوزے 62 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے –

  • بابراعظم پاکستان کاارطغرل غازی:کس نے یہ خطاب دیانام منظرعام پرآگیا

    بابراعظم پاکستان کاارطغرل غازی:کس نے یہ خطاب دیانام منظرعام پرآگیا

    لاہور:بابراعظم پاکستان کاارطغرل غازی:کس نے یہ خطاب دیانام منظرعام پرآگیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان ٹیم کے فاسٹ بولرنے کپتان بابر اعظم کو شہرہ آفاق ترک سیریز کے مرکزی کردار ارطغرل غازی قرار دے دیا۔

    اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کےفاسٹ باولر شاہین آفریدی کا اپنے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ میں اور وکٹ کیپر بیٹر محمد رضوان ہمیشہ بابر کو کہتے ہیں کہ آپ بتائیں ہمیں کیا کرنا ہے کیونکہ وہ ہمارے ارطغرل غازی اور ہم ان کے سپاہی ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف میچ میں بھارتی کرکٹر کے ایل راہول کی وکٹ میرے کیرئیر کی بہترین وکٹوں میں سے ایک ہے۔

    نوجوان فاسٹ بولر نے پاک بھارت میچ کے حوالے سے کہا کہ ٹاکرے سے قبل عجیب سا ماحول بن جاتا ہے کہ یہ پاکستان اور انڈیا کا میچ ہے۔

    روہت شرما کو آؤٹ کرنے سے متعلق سوال پر شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ روہت کے خلاف پلاننگ سے بولنگ کرائی، مجھے معلوم تھا کہ وہ عامر کے خلاف ان سوئنگ گیند پر آؤٹ ہوئے تھے جس کا میں نے بھی فائدہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ میں نے سوچا ہوا تھا جب بھی بھارت کے خلاف موقع ملا تو اچھی کارکردگی دکھاؤں گا۔

    شاہین شاہ آفریدی نے بابراعظم کوارطغرل غازی اس لیے بھی کہا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے مینز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر میں شامل کھلاڑیوں کے ناموں کا اعلان کرتےہوئے پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کو آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر کا کپتان مقرر کیا گیا ہے جبکہ محمد رضوان ٹیم میں وکٹ کیپر کی حیثیت سے شامل ہیں۔

     

    پاکستان کے شاہین شاہ آفریدی بھی آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر میں شامل ہیں جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں جوز بٹلر، ایڈن مارکرم، مچل مارش اور ڈیوڈ ملر شامل ہیں۔اس کے علاوہ تبریز شمسی، جوش ہیزل ووڈ، وانندو ہسارنگا اور مستفیض الرحمان بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ٹیم آف دی ایئر میں کوئی بھی بھارتی کرکٹر شامل نہیں ہے۔

  • ارطغرل غازی نے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے، تحریر طہ منیب

    ارطغرل غازی ترکی کی ایک معروف ڈرامہ سریل ہے جو ترکی کے سرکاری چینل ٹی آر ٹی کی پروڈکشن ہے، تین سو سے زائد اقساط اور پانچ سیزنز پر مبنی یہ سیریل خلافت عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے ترک قائی قبیلے ایک سردار ارطغرل غازی کی زندگی کے نشیب و فراز ، سازشوں و چالوں اور بیک وقت عیسائیوں، منگولوں اور اندرونی سازشوں کا مقابلہ کرکے ترک ریاست کے قیام کی کہانی ہے جو بعد ازاں اسکے تیسرے بیٹے عثمان کے نام سے ایک ترک ریاست سے بڑھ کر خلافت عثمانیہ کی بنیاد پر منتج ہوتی ہے۔ کورلش عثمان کے نام سے ایک نئی سیریز ارطغرل کا تسلسل ہے اور اسکے بیٹے عثمان کی زندگی پر بنائی گئی ہے جسکا پہلا سیزن ٹی آر ٹی ترک سرکاری چینل پر دکھایا جا رہا ہے۔

    ارطغرل اسلامی روایات جہاد، عدل و انصاف اور دیگر شعائر کی ترجمانی کرتا فلم و ڈرامہ انڈسٹری کا شاہکار ہے، جس نے دنیا بھر میں مقبولیت کے ریکارڈ توڑے ہیں۔ متعدد تراجم اور سب ٹائٹلز کے ساتھ چوبیس سے زیادہ ممالک کے سرکاری و غیر سرکاری چینلز پر دکھایا جانے والا یہ ڈرامہ ہالی وڈ انڈسٹری پر بم بن کر گرا ہے۔ نیویارک ٹائمز تک کو آرٹیکل لکھنا پڑ گیا کہ ترکی اس ڈرامے کو بنیاد بنا کر خلافت عثمانیہ تجدید نو پر گامزن ہے۔ سعودیہ عرب، متحدہ عرب امارات نے فتویٰ کی بنیاد پر سرکاری طور پر ارطغرل کو بین کیا جبکہ بھارت نے بھی بین کیا ہے۔

    ارطغرل یوٹیوب چینل پرصرف دو ہفتوں میں ایک ملین سبسکرائبرز

    چند ماہ قبل وزیراعظم پاکستان کی ترک صدر طیب ارگان سے ملاقات کے بعد ارطغرل کے اردو ترجمہ کی پاکستانی سرکاری چینل پی ٹی وی پر آن ائر کرنے کی خواہش کا اظہار کیا جو تسلیم کیا گیا، ٹی آر ٹی ارطغرل پی ٹی وی کے نام سے رمضان سے چند دن قبل یوٹیوب پر ایک نیا چینل بنایا اور روزانہ کی بنیاد پر شام سات بج کر پینتالیس منٹ پر نئی قسط اپلوڈ کی جاتی ہے جس کی ری پیٹ رات اور اگلے دن بارہ بجے دکھائی جاتی ہے۔ ارطغرل اردو کا یوٹیوب چینل مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے صرف دو ہفتوں میں ایک ملین سبسکرائبرز کا عدد عبور کر چکا ہے جبکہ یوٹیوب پر ورلڈ ریکارڈ ایک مہینے میں چھے اعشاریہ چھے ملین سبسکرائبرز کا ہے، اب پی ٹی وی کا اگلا ہدف یقیناً پچیس اپریل تک چھے ملین سے زائد سبسکرائبرز لے کر ورلڈ ریکارڈ بنانے کا ہے یہ ہدف مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس مقبولیت نے پی ٹی وی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال دی ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے زوال کا شکار تھا۔

    پی ٹی وی کی پروموشنل ٹویٹ

    یوٹیوب پر اب تک اپلوڈ کی گئی ہر قسط کے ویوز ملینز میں ہیں

    ارطغرل ڈرامہ سیریل یوٹیوب پر اب تک اپلوڈ ہوئی تمام چودہ اقساط میں ہر ایک کے ویوز ملینز میں ہیں۔ ارطغرل غازی ٹویٹر پاکستان پر اب تک متعدد بار ٹرینڈنگ ٹاپک بن چکا ہے اس وقت بھی ٹاپ ٹرینڈ ارطغرل سے متعلق ہی ہے۔ #ErtugrulYoutubeRecord ۔فیس بک پر گزشتہ دو ہفتوں سے ارطغرل زیر بحث ہے، جہاں ارطغرل کے حامیوں کی بڑی تعداد اس کے فوائد و ثمرات گنوا رہی ہے وہاں فریق مخالف بھی فتاویٰ اور دیگر دلائل کے ہمراہ میدان میں ہے۔ ٹک ٹاک پاکستان پر بھی ہر دوسری ویڈیو کا عنوان ارطغرل ہی ہے۔

    پی ٹی وی کا یوٹیوب ریکارڈ ٹویٹر پر بھی ٹاپ ٹرینڈ

    جہاں پاکستان کے بہت سے معروف لوگوں حمزہ علی عباسی و دیگر نے اسکی حمایت کی اور دیکھنے کی درخواست کی وہاں لالی وڈ انڈسٹری کے کچھ بڑے نام جیسا کہ شان شاہد نے اسکی مخالفت کی اور اپنے ہیروز پر کام کرنے کی تجویز دی۔قطع نظر اختلافات کے ارطغرل غازی ڈرامہ سیریل اس سے بہت بہتر ہے جو پروڈکشن پاکستانی اور انڈین ڈرامہ و فلم انڈسٹری پیدا کر رہی ہے۔

  • ارطغرل غازی اسلام کےعظیم مجاہد ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    ارطغرل غازی اسلام کےعظیم مجاہد ۔۔۔ ملک سعادت نعمان

    مسلمان جب سے ہدایت و جہاد کے راستے سے دور ہوئے تو غلامی اور ذلت ان کا مقدر بن گئی۔ ہمارا تابناک ماضی ہماری پہچان ہے تاریخ اسلام میں خلفاے راشدین کے بعد بہت سے مجاہد سلاطین گزرےجو بہت مشہور ہیں جنہوں نے صلیبیوں کے دانت کھٹے کیے۔ ان میں سلطان صلاح الدین ایوبی، سلطان نورالدین زنگی، سلطان رکن الدین بیبرس، سلطانِ الپ ارسلان وغیرہ شامل ہیں۔
    میں تاریخ اسلام سے ایک ایسے عظیم مجاہد کا ذکر کرنے جا رہا ہوں جن کے نام سےبہت کم لوگ واقف ہیں۔ جنہوں نے مسلمانوں کی آزادی کی جدوجہد کے لیے جہاد کا راستہ اپنایا اوربہت سی قربانیاں دیں اور اس طرح مسلمانوں کے لیے ایک روشن دورکا آغاز ہوا۔

    خلافت عباسیہ کا خاتمہ ہو چکا تھا۔ اس وقت تمام ترک قبیلوں کی صورت میں رہتے تھے۔ یہ تمام قبیلے خانہ بدوش تھے یہ سفر کرتے اور جہاں سر سبز علاقہ دیکھتے وہاں پر آباد ہو جاتے۔ ان میں ایک قائی قبیلہ تھا جو افراد کے لحاظ سے کافی مضبوط اور طاقتور تھا۔
    سلیمان شاہ قائی قبیلہ کے سردار تھے جو سچے مسلمان نڈر اور رحمدل انسان تھے۔
    ان کے مقاصد میں اسلام کی اشاعت اور انصاف کا بول بالا کرنا شامل تھا کیونکہ یہی وہ وقت تھا جب مسلمان ہر جگہ کمزوری کا شکار تھے۔ منگول ہلاکو خان کی سربراہی میں بڑھتے چلے آ رہے تھے اور خلافت عباسیہ کے بعد سلجوق سلطنت انکی منزل تھی۔ بازنطینی سلطنت کےصلیبی اپنی سازشوں کے جال بن رہے تھے۔ مسلمانوں کی مضبوط اور طاقتور سلجوک سلطنت اب زوال کے قریب تھی۔ ان حالات میں ضروری تھا کہ مسلمانوں کی تعداد کو بڑھایا جائے۔ سردار سلیمان شاہ کے چار بیٹے تھے جو بہت بہادر اور جنگجو تھے۔ سلمان شاہ تمام ترک قبائل کو متحد کرنا چاہتے تھے۔ تاکہ مسلمانوں کو صلیبیوں کی ریشہ دوانیوں سے بچایا جا سکے شام کے علاقے پر سلطان صلاح الدین ایوبی کے پوتے سلطان ملک العزیز ایوبی کی حکومت تھی جبکہ انا طولیہ میں سلجوق سلطان علاؤالدین کیقباد کی حکومت تھی۔ صلیبی دونوں سلطانوں کو آپس میں لڑانا چاہتے تھے تاکہ اس خطے میں مسلمانوں کو کمزور کر کے ان کا خاتمہ کرسکیں۔
    سردار سلیمان شاہ نے ان سازشوں کو ختم کرنے میں بڑا کردار ادا کیا جس کی وجہ سے ایوبی سلطان قائی قبیلے کے دوست بن گئے۔ اور سلجوق سلطان کی بھتیجی حلیمہ سلطان کی سلیمان شاہ کے بیٹے ارتغرل سے شادی ہوگئی۔
    سردار سلیمان شاہ کی وفات کے بعد ارتغرل قائی قبیلہ کے سردار بنے وہ بہت ذہین اور بہترین جنگجو تھے۔ جہادی سوچ ورثہ میں ملی تھی۔ انہوں نے سردار بننے کے بعد صلیبیوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ان کی سازشوں کو ناکام کیا اوران کے مشہور قلعے کارہ چاہسار کوفتح کیا۔
    بہادری شجاعت اور وفاداری کی وجہ سے سلطان علاؤالدین کیقباد نے ارطغرل غازی کو تمام اغوض قبائل کا سردار اعلیٰ اور اناطولیہ کے سرحدی علاقے، جو بازنطین کے قریب تھے، کا نگران بنا دیا۔
    ارطغرل غازی کے ہاں تین بیٹے گندوز، ساوچی اور عثمان پیدا ہوئے۔ عثمان سب بھائیوں میں چھوٹے تھے۔ ارطغرل غازی نے ان کی دینی اور جنگی تربیت کی اور وہ بڑے ہو کر والد کے شانہ بشانہ جہاد میں شامل ہوتے رہے۔ارطغرل غازی ایک مقصد کے لیے لڑ رہے تھے انہوں نے منگولوں کے بڑے بڑے سپہ سالار قتل کیے جن میں نویان اور آلنچک مشہور ہیں۔
    سلجوک سلطنت منگولوں کے ہاتھوں ختم ہوچکی تھی۔ اور ارطغرل نے تمام ترک قبیلوں کو سوگوت میں اکٹھا کیا۔ صلیبیوں سے چھینے گئے علاقوں کوایک ریاست کی شکل دی۔
    اور تعلیم و تربیت کے لیے درسگاہیں تعمیر کی گئیں تاکہ لوگ جدید علوم سے بہرہ ور ہوں اور اس طرح مضبوط اسلامی معاشرے کی بنیاد رکھی جا سکے۔
    ارطغرل غازی نےمنگولوں کا خاتمہ کرنے کے لیے فیصلہ کن جنگ کا ارادہ کیا اور اس مقصد کے لیے منگول سلطان برکا خان جو مسلمان ہو چکے تھے اورمصر کے سلطان رکن الدین بیبرس کو آمادہ کیا اور طے پایا کہ ایک بڑی فوج تیار کی جائے جس میں تمام ترک قبائل بھی شامل ہوں۔ اناطولیہ میں فیصلہ کن جنگ کا آغاز کیا گیا۔ اس جنگ میں منگولوں کو عبرتناک شکست ہوئی اور مسلمان فتح یاب ہوئے۔شکست کے غم کی وجہ سے چند ماہ کے بعد ہلاکو خان مر گیا۔
    غازی ارطغرل صلیبیوں اور منگولوں کو اس علاقے سے نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ سوگوت اب ایک ریاست بن چکی تھی غازی ارطغرل کی وفات کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے عثمان قائی قبیلہ کے سردار بنے اور ریاست سوگوت کو مضبوط کرتے رہے۔ وہ اب ریاست سوگوت کے سلطان کہلائے جاتے تھے۔ 1299ء میں خلافت قائم کی جو خلافت عثمانیہ کے نام سے مشہور ہوئی۔
    سلطان عثمان غازی اپنے والد غازی ارطغرل کی طرح دلیر اور باصلاحیت مجاہد تھے انہوں نے اس خلافت کو مضبوط کیا۔ غازی ارطغرل کی اولاد سے سلطنت عثمانیہ کے ساتویں سلطان محمد ثانی جنہوں نے قسطنطنیہ کو فتح کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بشارت کے حقدار ٹھہرے اور سلطان محمد الفاتح کے نام سے مشہور ہوئے۔
    اپنے عروج کے زمانے میں (16 ویں – 17 ویں صدی) یہ سلطنت تین براعظموں پر پھیلی ہوئی تھی اور جنوب مشرقی یورپ، مشرق وسطٰی اور شمالی افریقہ کا بیشتر حصہ اس کے زیر نگیں تھا۔ اس عظیم سلطنت کی سرحدیں مغرب میں آبنائے جبرالٹر، مشرق میں بحیرۂ قزوین اور خلیج فارس اور شمال میں آسٹریا کی سرحدوں، سلوواکیہ اور کریمیا (موجودہ یوکرین) سے جنوب میں سوڈان، صومالیہ اور یمن تک پھیلی ہوئی تھیں۔ مالدووا، ٹرانسلوانیا اور ولاچیا کے باجگذار علاقوں کے علاوہ اس کے 29 صوبے تھے۔
    سلطنت عثمانیہ پر 1299سے 1922 تک 623 سالوں میں 36 سلاطین نے فرماروائی کی۔ مسلمانوں کو ایک پرچم تلے جمع کیا۔ بلاشبہ یہ دور مسلمانوں کی عظمت اور عروج کا دور تھا اس دور میں مسلمان جہاد کرتے رہے۔ یہودی اور صلیبی سلطنت عثمانیہ کے جاہ و جلال اور عظمت سے لرزاں رہتے تھے۔

    اللہ پاک عظیم مجاہد غازی ارطغرل اور سلطان عثمان غازی پر اپنی رحمتیں فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے۔