Baaghi TV

Tag: ارمغان

  • صحافی پر حملہ کیس: ملزم ارمغان کا مقدمے کی نقول لینے سے انکار، عدالت برہم

    صحافی پر حملہ کیس: ملزم ارمغان کا مقدمے کی نقول لینے سے انکار، عدالت برہم

    کراچی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مقدمے کی نقول لینے سے انکار پر ملزم ارمغان پر برہمی کا اظہار کیا۔

    مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان کے خلاف صحافی پر حملے کے مقدمے میں جیل حکام نے گرفتار ملزم کو عدالت میں پیش کیا،دوران سماعت ملزم ارمغان نے مقدمے کی نقول لینے سے انکار کر دیا،عدالت نے ملزم ارمغان سے سوال کیا کہ مقدمے کی نقول کیوں نہیں لینا چاہتے؟

    ملزم ارمغان نے عدالت کو بتایا کہ جب تک میرا وکیل موجود نہیں ہو گا میں مقدمے کی نقول نہیں لوں گا عدالت کے بار بار سمجھانے اور تاکید کے باوجود ملزم نے اپنی ضد برقرار رکھی،سماعت کے دوران عدالت اس وقت مزید برہم ہو گئی جب جیل حکام نے عدالتی اجازت کے بغیر ہی ملزم کو واپس لے جانے کی کوشش کی،جس کے بعد عدالت نے کیس کی مزید سماعت ملتوی کرتے ہوئے جیل سپرنٹنڈنٹ اور انتظامیہ سے وضاحت طلب کر لی۔

    نجی ائیرلائن اور ایف آئی اے امیگریشن کو نوٹس جاری

    واضح رہے کہ 19 نومبر 2024 کو ملزم ارمغان نے اپنی ویگو گاڑی میں سوار ہو کر صحافی ندیم احمد خان کو روکا، اس سے تلخ کلامی کی اور پھر جان سے مارنے کی نیت سے فائرنگ کی، جس سے صحافی شدید زخمی ہوگیا ارمغان موقع سے فرار ہوگیا تھا، تاہم بعد ازاں اسے گرفتار کر لیا گیا دوران تفتیش ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا ہے اور تسلیم کیا کہ اس نے دانستہ طور پر صحافی پر جان لیوا حملہ کیا۔ پولیس کے مطابق مدعی مقدمہ نے بھی ملزم ارمغان کی شناخت کر لی ہے، جبکہ مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو ملزم ارمغان نے قتل کر دیا تھا، مصطفیٰ عامر قتل کیس کے ملزم ارمغان اور شیراز گرفتار ہیں۔

    ایف آئی اے کو حکومت کے ساتھ عوام کی توقعات پر پورا اترنا ہو گا،محسن نقوی

  • ارمغان نے مصطفیٰ کو گاڑی میں آگ لگاکر قتل کرنے کا اعتراف کرلیا

    ارمغان نے مصطفیٰ کو گاڑی میں آگ لگاکر قتل کرنے کا اعتراف کرلیا

    کراچی: انسداد دہشتگردی عدالت نے مصطفیٰ عامرقتل کیس کا چالان منظور کرلیا۔

    کراچی کے علاقے ڈیفنس میں مصطفیٰ عامر قتل کی تحقیقات جاری ہیں اور کیس سماعت کے لیے ٹرائل کورٹ منتقل کردیا گیا ہے انسداد دہشتگردی عدالتوں کے منتظم جج نے کیس کا چالان منظور کرلیا جس میں کہا گیا ہےکہ ملزم ارمغان نے مصطفیٰ عامر کو تشدد کرکے زخمی اورگاڑی میں آگ لگا کرقتل کرنے کا اعترا ف کیا ہے۔

    خیال رہے مصطفی عامر قتل کیس سال 2025 کا ہائی پروفائل کیس ہیں ، پولیس نے بتایا کہ 6 جنوری 2025 مصطفیٰ عامر کو قتل کردیا گیا تھا، مصطفی عامر کے قتل کے الزام میں ارمغان اورشیرازگرفتار ہیں۔

    مرکزی مسلم لیگ کی بارشوں سے متاثرہ اضلاع میں تیسرے روز بھی امدادی سرگرمیاں جاری

    حب پولیس کی جانب سے بارہ جنوری کو مصطفی کی لاش لاوارث قرار دے کر ایدھی حکام کے حوالے کی گئی تھی تاہم بعد زاں مصطفی کی لاش سولہ جنوری کو کیماڑی ایدھی قبرستان میں دفن کردی گئی تھی، مصطفی کی لاش حب سے ملزمان کی نشاندہی پر برآمد کی گئی تھی، ملزمان نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد حب میں جاکر لاش جلا دی تھی دونوں ملزم پولیس اور میڈیا کے سامنے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کا اعتراف بھی کرچکے ہیں تاہم دونوں ملزمان نے جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان دینے سے انکار کر دیا تھا۔

    ارمغان نے تفتیش کے دوران قتل کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ خیابان محافظ سے دریجی تک مصطفیٰ کی گاڑی ڈرائیو کر کے پہنچا تھا، پھر مصطفیٰ کی گاڑی کو آگ لگائی تو وہ زندہ اور نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا، اس نے مصطفیٰ عامر کو ہاتھوں اور پیروں پر مار کر زخمی کیا تھا، رائفل سے تین فائر کیے جو مصطفیٰ کو نہیں لگے، مصطفیٰ پر فائرنگ وارننگ دینے کے لیے کیے تھے بعد ازاں آگ لگادی۔

    پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر اور سیکرٹری کے مالی اخراجات کا مکمل ریکارڈ طلب

    ملزم شیراز نے انکشاف کیا تھا کہ ارمغان نے مصطفیٰ کو بہانے سے اپنے گھر بلایا، جہاں تین گھنٹے تک لوہے کی راڈ سے تشدد کیا گیا۔ بعد ازاں، مصطفیٰ کی لاش کو ان کی گاڑی میں ڈال کر حب کے قریب لے جایا گیا اور آگ لگا دی گئی۔

    واضح رہے کہ ڈیفنس کا رہائشی نوجوان مصطفیٰ عامر رواں سال 6 جنوری کو لاپتا ہوا تھا، جس کے بعد اس کی والدہ کی مدعیت میں پہلے گمشدگی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، بعد ازاں 25 جنوری کو تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد اغوا برائے تاوان اور لاش کی نشاندہی ہونے پر قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    پاک بنگلہ دیش ٹی ٹوئنٹی سیریز ، ٹرافی کی رونمائی کر دی گئی

  • ملزم ارمغان کےوالد کی اسپیشل پراسیکیوٹر کو دھمکیاں

    ملزم ارمغان کےوالد کی اسپیشل پراسیکیوٹر کو دھمکیاں

    کراچی: مصطفی عامرقتل کیس کے اسپیشل پراسیکیوٹر کو دھمکیاں ملنے پراسیکیوٹر جنرل نے رجسٹرار انسداد دہشتگردی کورٹس کو خط لکھ دیا۔

    باغی ٹی وی:پراسیکیوٹر جنرل مظفرمہدی کی جانب سے لکھ گئے خط میں کہا گیا ہے کہ ملزم ارمغان کے والد نے پراسیکیوٹر ذوالفقار آرائیں کو دھمکیاں دی ہیں کامران قریشی نے پراسیکیوٹر اور تفتیشی افسر کو گالیاں دیں اور ہراساں کیا،غیر متعلقہ افراد کا انسداد دہشتگردی عدالت میں داخلہ روکا جائے۔

    مظفر مہدی نے خط میں لکھا ہے کہ غیر متعلقہ افراد عدالت میں شور شرابہ کرتے ہیں، اورعدالتی ڈیکورم کا خیال نہیں کرتے، 10 مارچ کو صرف صحافیوں نے جج کے زبانی احکامات پر عمل کیا، صحافی کورٹ روم سے باہر چلے گئے لیکن دیگر لوگ موجود رہے۔

    اٹک میں گیس کے نئے ذخائر دریافت

    خیال رہے کہ خط اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار آرائیں کی شکایت پر لکھا گیا ہے،کیس کی پیروی کرنے والے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر ذوالفقار علی آرائیں نے پراسیکیوٹر جنرل سندھ کو خط لکھا تھا-

    اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کے خط کے مطابق 11 مارچ کو انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) میں ملزم ارمغان کے ریمانڈ کے موقع پر پیش ہوا تھا، جہاں اے ٹی سی کورٹ نے ملزم ارمغان کے ریمانڈ میں 17 مارچ تک کی توسیع کردی تھی، عدالت نے ملزم ارمغان کے والدین کو ملزم سے عدالت میں ملاقات کی اجازت دی تھی۔

    آئی سی سی نےخوشدل شاہ پر جرمانہ عائد کر دیا

    ذوالفقار علی آرائیں نے خط میں انکشاف کیا کہ ملاقات کے دوران ملزم ارمغان کے والد کامران اصغر قریشی نے انہیں اور تفتیشی افسر کو گالیاں دیں اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں۔

    پراسیکیوٹر نے عدالتی عملے سے درخواست کی کہ معزز جج صاحب کو صورتحال سے آگاہ کیا جائے، حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے، انہوں نے ملزم کے وکیل کو مداخلت کرکے صورتحال پر قابو پانے کو کہا تاہم ملزم کے والد اور کچھ نامعلوم افراد جو کالے کوٹ پہن کر خود کو وکیل ظاہر کر رہے تھے انہوں نے مجھ سے جھگڑا شروع کردیا لیکن ریکارڈ کے مطابق یہ افراد وکیل نہیں تھے بلکہ ملزم کے والد کی سیکیورٹی پر مامور تھے۔

    پاکستانی نژاد کرکٹرشدید گرمی کے دوران پچ پر گر کر جاں بحق

    ذوالفقار علی آرائیں نے خط میں مؤقف اختیار کیا کہ وہ ان افراد کو سامنے آنے پر پہچان سکتے ہیں اور متعلقہ حکام سے قانونی کارروائی اور اپنی سیکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی ہے پراسیکیوشن ٹیم نے معاملے کی مکمل تحقیقات اور ملزم کے والد کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

  • ملزم ارمغان نے وکیل کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں  اعتراف جرم کرلیا

    ملزم ارمغان نے وکیل کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں اعتراف جرم کرلیا

    کراچی: ملزم ارمغان کی اپنے خلاف درج مقدمات میں پیش ہونے والے وکیل کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر وکیل کی جانب سے درج کروائے گئے مقدمہ میں اعتراف جرم کرلیا۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کےمطابق ملزم ارمغان کی اپنے خلاف درج مقدمات میں پیش ہونے والے وکیل کو دھمکیاں دینے کے معاملے پر وکیل کی جانب سے درج کروائے گئے مقدمہ میں اہم پیشرفت، پولیس نے چالان میں بتایا کہ ملزم ارمغان نے اعتراف جرم کرلیا۔

    پولیس نے مقدمے کا عبوری چالان عدالت میں جمع کرادیا جس میں کہا گیا کہ ایڈوکیٹ سیف جتوئی ارمغان کے خلاف درج مقدمات میں مدعی کی طرف سے پیش ہوئے، یہ مقدمات ارمغان پر تھانہ گزری اور تھانہ درخشاں میں درج تھے ارمغان نے اپریل 2024 کو وکیل اور اسکی فیملی کو واٹس آپ پر گندی گالیاں دی، ارمغان نے آرمی کی دھمکی بھی دی اور گھر سے اٹھانے کا بولا تھا، ملزم کے خلاف وکیل نے تھانہ بوٹ بیسن میں مقدمہ درج کروایا ہے۔

    جوان اپنے بچو ں کو یتیم کرکے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچا رہے ہیں،وزیراعظم

    ملزم کی عدم گرفتار ی پر چالان داخل دفتر کردیا گیا تھا، 17 فروری کو پولیس نے ارمغان سے تفتیش کے لیے اے ٹی سی کلفٹن سے اجازت لی ، ملزم نے جیل میں تفتیش کے دوران اعتراف جرم کرلیا ہے، ملزم ارمغان کے خلاف مجموعی طور پر 11 مقدمات درج ہونے کا انکشاف ہوا ہےملزم ارمغان ان میں سے دو مقدمات میں صلح نامے کی بنیاد پر بری ہو چکا ہے 2019 میں ساحل تھانے میں شہری کو دھمکانے کا مقدمہ درج ہوا تھا، جس میں کمپرومائز کی بنا پر وہ بری ہو گیا۔

    اسی طرح درخشاں تھانے میں اس پر جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے اور گھر کے باہر ہوائی فائرنگ کے الزامات بھی ہیں اس کے علاوہ گزری تھانے میں گاڑی کی فروخت کے تنازعے پر شہری کو گھر بلا کر تشدد اور دھوکہ دہی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں عدا لت نے ملزم ارمغان کو 15 مارچ کو طلب کر رکھا ہے۔

    میں رابطوں کا حصہ نہیں، نہ کسی نے رابطہ کیا، جنید اکبر

    درخشاں تھانے میں اس پر ٹینکر پر فائرنگ اور ٹائر برسٹ کرنے کے الزام میں مقدمہ درج تھا، جس میں وہ صلح کی بنیاد پر بری ہو چکا ہےبوٹ بیسن میں موبائل فون پر وکیل کو دھمکیاں دینے کا مقدمہ درج ہے، اور اس کیس میں ملزم کو اشتہاری قرار دیا جا چکا ہے در خشاں تھانے میں مصطفیٰ عامر کے اغوا کا مقدمہ بھی درج ہے۔

    اے وی سی سی تھانے میں پولیس مقابلہ اور اقدام قتل کا مقدمہ درج ہےاے وی سی سی میں ہی غیر قانونی اسلحے کے دو مقدما ت درج ہیں اے این ایف کورٹ میں کوریئر کے ذریعے منشیات منگوانے کی کوشش کے دو مقدمات میں عدالت نے 12 مارچ کو ملز م کو طلب کر رکھا ہے۔

    صدر پاکستان کے خطاب پر بات کرنا چاہتا تھا مگر نہیں کرنا چاہتا،فاروق ستار

    مصطفیٰ عامر قتل کیس میں مزید تحقیقات جاری ہیں، جبکہ پولیس ملزم کے دیگر کرمنل ریکارڈز کی بھی چھان بین کر رہی ہے۔

  • وکیل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں، ملزم ارمغان کیخلاف ایک اور مقدمہ درج

    وکیل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں، ملزم ارمغان کیخلاف ایک اور مقدمہ درج

    کراچی: کراچی کی مقامی عدالت میں مصطفی قتل کیس کے ملزم ارمغان کا ایک اور مقدمہ درج کر لیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سٹی کورٹ کراچی میں مصطفی عامرقتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کا ایک اور مقدمہ سامنےآ گیا مقدمے میں ارمغان کے خلاف وکیل کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے کا انکشاف ہوا ہےعدالت نے پولیس کو حکم دیا کہ ملزم ارمغان کو آئندہ سماعت پر عدالت میں پیش کیا جائے۔

    پولیس کے مطابق مرکزی ملزم ارمغان نے وکیل کو دھمکیاں دیں کہ میرے خلاف مقدمات میں پیش ہوئے تو جان سے جاؤ گے یا غائب کرا دوں گا۔

    عالمی طاقتوں کی کشمکش اور پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

    پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم نے قائم مقدمات میں پیش ہونے والے وکیل کو دھمکی آمیز میسج کئے تھے، ملزم ارمغان کے خلاف دو مقدمات میں مدعی کے وکیل سیف ایڈووکیٹ کو دھمکیاں دی گئیں۔

    وکیل سیف ایڈووکیٹ کی مدعیت میں ارمغان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں مدعی سیف ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ 22 اپریل 2024 کوارمغان نے واٹس ایپ پرمیسجز کئے تھے۔

    رمضان المبارک:شاہ سلمان نے بڑے اعلانات کر دیئے

    جبکہ ملزم ارمغان سینئر صحافی ندیم احمد پر بھی فائرنگ میں ملوث نکلا،کرائم رپورٹرزایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ندیم احمد نے شنا خت کر لیا، ملزم ارمغان نے19 نومبرکو ندیم احمد کو فائرنگ کرکے زخمی کیا تھا صحافی ندیم احمد نے ملزم کی شناخت کی تفصیلات پولیس حکام کو فراہم کر دیں، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ارمغان کو ندیم احمد فائرنگ کیس میں شامل تفیش کریں گے۔

    گورنر سندھ کا ڈمپرز حادثات میں جاں بحق ہونیوالوں کے اہلخانہ کو پلاٹ دینے کا اعلان

  • لڑکی سے ناراضگی نے ارمغان کو پاگل کر دیا، مصطفیٰ کے قتل میں شریک ملزم شیراز کے نئے انکشافات

    لڑکی سے ناراضگی نے ارمغان کو پاگل کر دیا، مصطفیٰ کے قتل میں شریک ملزم شیراز کے نئے انکشافات

    کراچی: مصطفیٰ کے اغوا اور قتل کی کہانی میں ارمغان کے دوست شیراز نے مزید تفصیلات بیان کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی : شیراز نے عدالت میں میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ ملزم ارمغان نے مقتول مصطفیٰ کو کئی گھنٹے تشدد کا نشانہ بنایا، کپڑوں سے باندھا اور حب میں جلا دیا، لڑکی سے ناراضی نے ارمغان کو پاگل کردیا تھا، جس کے بعد مصطفیٰ کو قتل کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی۔

    شیراز نے بتایا کہ مصطفیٰ اور ارمغان نے پہلے منشیات کا استعمال کیا، منشیات کے استعمال کے بعد ارمغان نے ڈنڈا نکالا اور تشدد کرنا شروع کردیا، تشدد کرنے کے بعد مصطفیٰ کے ہاتھ پاؤں باندھ دیئے اس کے بعد گھر سے پیٹرول کا ڈرم لے کر مصطفیٰ کی گاڑی میں رکھا، مصظفیٰ کو زخمی حالت میں گاڑی میں ڈالا جس کے ہاتھ اور پاؤں سے خون نکل رہا تھا ، مصطفیٰ کو جب گھر سے گاڑی میں ڈالا تو وہ زندہ تھا۔

    شیراز نے انکشاف کیا کہ نیو ایئر نائٹ کو ارمغان مصطفیٰ عامر سے ناراض ہوگیا تھالالچ اور لگژری لائف نے مجھے متاثر کیا، نوجوانوں کو مشورہ ہے لگژری لائف سے متاثر نہ ہوں ارمغان میرے بچپن کا دوست ہے، تعلیم بھی ساتھ حاصل کی، کچھ عرصے پہلے ارمغان اور میری دوستی ختم ہوگئی تھی، ارمغان گھر آیا تو پھر دوبارہ دوستی ہوگئی، میں ارمغان کا لائف اسٹائل دیکھ کر متاثر ہوگیا تھا، مڈل کلاس کے پاس پیسوں کی ریل پیل نے حیران کردیا تھا۔

    ملزم شیراز کے مطابق ارمغان اپنی والدہ اور والد سے بہت کم ملتا تھا، ارمغان ذہنی طور پر مضبوط انسان ہے، میں نے اور ارمغان نے کئی پارٹیاں ساتھ کی ہیں شیراز نے انکشاف کیا کہ مصطفیٰ اور ارمغان دوست نہیں ہیں مصطفیٰ ارمغان کو منشیات سپلائی کرتا تھا، مصطفیٰ کی گاڑی کو آگ لگانے کے بعد کئی گھنٹے پیدل چلتے رہے۔

    کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت میں مصطفیٰ عامر کے اغوا اور قتل کیس کی سماعت کے دوران تفتیشی افسر کی جانب سے اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ جائے وقوعہ پر کارپٹ پر لگے خون کے ایک نمونے کا ڈی این اے مدعیہ مقدمہ سے میچ کر گیا ہے، جبکہ ملزم ارمغان کے کمرے کے کارپٹ پر موجود دو نمونوں سے ایک نامعلوم خاتون کا ڈی این اے ملا ہے۔

    ملزمان نے دوران انٹروگیشن بتایا کہ وقوعے سے ایک روز قبل زوما نامی لڑکی کو بھی اسی کمرے میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ تفتیشی افسر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ زوما نامی لڑکی کا پتہ لگانے کے لیے ملزمان کی نشاندہی ضروری ہے، تاکہ اس کا بلڈ سیمپل لے کر ڈی این اے ٹیسٹ کیا جا سکے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل کیس میں مارشا اور انجلینا نامی دو لڑکیوں کا نام سامنے آچکا ہے،مزید تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزم ارمغان بوٹ بیسن، کلفٹن، درخشان اور ساحل تھانےمیں درج متعدد مقدمات میں مفرور ہےتفتیشی افسر نے عدالت سے درخواست کی کہ ملزم کے خلاف ان مقدمات میں بھی کارروائی کی جائے۔

    تفتیشی افسر نے بتایا کہ ملزم ارمغان غیر قانونی کال سینٹر اور وئیر ہاؤس چلا رہا تھا، جبکہ اس کے دیگر ساتھیوں، جن میں نعمان سمیت دیگر افراد شامل ہیں، کی تلاش جاری ہے اس کے علاوہ، ملزم ارمغان کے خلاف منی لانڈرنگ کے الزامات کی بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔