Baaghi TV

Tag: ازبکستان

  • پاک افغان ٹرانزٹ ریل لنک پراجیکٹ:پشاور،کابل،ترمذ ازبکستان تک مشترکہ سروے مکمل

    پاک افغان ٹرانزٹ ریل لنک پراجیکٹ:پشاور،کابل،ترمذ ازبکستان تک مشترکہ سروے مکمل

    کابل:پاک افغان ٹرانزٹ ریل لنک پراجیکٹ:پشاور،کابل،ترمذ ازبکستان تک مشترکہ سروے مکمل،اطلاعات کے مطابق پاک افغان ٹرانزٹ ریل لنک پراجیکٹ میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

    754 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پشاور جلال آباد سے کابل، مزار شریف اور ترمذ تک جائے گا۔ 5 ارب ڈالر کے منصوبے کے لئے پشاور، کابل، ترمذ ازبکستان تک مشترکہ سروے مکمل کرلیا گیا۔

    افغان ٹرانزٹ ریل لنک معاہدہ کی تقریب،وزیراعظم نے کس ملک کے دورہ کا اعلان کر دیا؟

    مشترکہ سروے میں پاکستان ریلوے کی 3 رکنی ٹیم نے حصہ لیا جس میں چیف انجینئر قمرزمان ٹیم کے سربراہ،ڈپٹی چیف فرمان غنی اور معلم آفریدی شامل تھے۔

    افغان شہریوں کی واپسی کے لئے چمن، طورخم بارڈر کتنے روز کیلیے کھول دیا گیا؟

    سی ای او فرخ تیمور غلزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلوے کے لئے مشترکہ سروے کی تکمیل اہم سنگ میل ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ مہینے پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغان دارالحکومت کابل میں منعقدہ مذاکرات میں دو طرفہ تجارت بڑھانے، تاجروں کو ٹرانزٹ ٹریڈ میں درپیش مشکلات ختم کرنے سمیت بس سروس بھی بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    پاکستان چیمبر آف کامرس کے صدر کی رزاق داؤد سے ملاقات، پاک افغان بارڈر ٹریڈ

    اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پشاور تا کابل اور کوئٹہ تا قندھار کے درمیان بس سروس شروع کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ بس سروس اس سال شروع کر دی جائے۔

    573 کلومیٹر طویل ریلوے لنک بچھایا جائے گا، اس ٹریک پر 27 سٹیشن، 912 مختلف النوع تعمیرات اور سات ٹنل تعمیر کیے جائیں گے۔

  • ازبکستان نے افغانستان کو ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز واپس کرنے سے انکار کردیا

    ازبکستان نے افغانستان کو ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز واپس کرنے سے انکار کردیا

    ازبکستان نے افغانستان کو ہوائی جہاز اور ہیلی کاپٹرز واپس کرنے سے انکار کردیا ہے۔

    باغی ٹی وی :امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق ازبکستان نے اپنے بیان میں کہا کہ گزشتہ برس طالبان کے برسراقتدار آنے کے دوران سابق سرکاری فوجیوں کی جانب سے لائے گئے ہیلی کاپٹرز اور طیارے امریکا کی ملکیت ہیں اس لئے انہیں امریکی مرضی کے بغیر طالبان کے حوالے نہیں کیا جائے گا۔

    طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کا عالمی برادری سے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ

    ازبک صدر شوکت مرزائیف کے ایک سینئر مشیر عصمت اللہ ارگاشیف نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ امریکا سابق افغان حکومت کی مالی امداد کررہا تھا، امریکا نے ہی ان ہیلی کاپٹرز اور طیاروں کی ادائیگی کی ہے، اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مکمل طور پر امریکی انتظامیہ پر منحصر ہے کہ وہ ان کے ساتھ کیا کرتا ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس طالبان کے برسراقتدار آنے کے دوران افغان فضائیہ کے درجنوں پائلٹس بڑی تعداد میں ہیلی کاپٹرز اور جنگی و تربیتی طیارے ازبکستان اور تاجکستان لے گئے تھے صرف ازبکستان میں سابق افغان فوج کے زیر استعمال 50 ہیلی کاپٹرز اور 4 طیارے آئے تھے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی یوم القدس پر فلسطینیوں سے اظہاریکجہتی

    امریکی محکمہ دفاع کے ایک ترجمان میجر روب لاڈوک کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ تاجکستان اور ازبکستان کا طالبان کو طیارے واپس کرنے کا کوئی ارادہ نہیں، یہ طیارے ازبکستان اور تاجکستان کے ساتھ مشترکہ علاقائی سیکیورٹی تعاون کے نتیجے میں موجود ہیں۔

    دوسری جانب طالبان کا کہنا ہے کہ طیارے افغان عوام کی ملکیت تھے، انہیں افغان حکومت کے حوالے کیا جانا چاہیے۔

    قبل ازیں طالبان سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ نے عید الفطر کی نسبت سے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج کی دنیا سمٹ کر ایک گاؤں بن چکی ہے افغانستان کا عالمی امن و سلامتی میں اپنا ایک کردار ہے اور اسے پورا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری اسلامی اماراتِ افغانستان کو تسلیم کرے۔

    افغانستان کے شہر مزار شریف کی مسجد میں دھماکہ،5 افراد جاں بحق درجنوں زخمی

  • وزیراعظم عمران خان سے ازبکستان کے ڈپٹی وزیراعظم کی ملاقات:اہم معاہدے

    وزیراعظم عمران خان سے ازبکستان کے ڈپٹی وزیراعظم کی ملاقات:اہم معاہدے

    اسلام آباد:وزیراعظم عمران خان سے ازبکستان کے ڈپٹی وزیراعظم کی ملاقات:اہم معاہدے،اطلاعات کے مطابق ازبکستان کے ڈپٹی وزیراعظم نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے اور اس دوران پاکستان ٹرانس افغان ریلوے پروجیکٹ کی تکمیل کے حوالے سے اہم مشاورت بھی ہوئی ہے

    ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان ٹرانس افغان ریلوے پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے پرعزم ہے۔

    وزیراعظم عمران خان سے ازبکستان کے ڈپٹی وزیراعظم نے ملاقات کی جس میں دوطرفہ تعلقات، تجارت ، سرمایہ کاری بڑھانے پر اور ازبک صدر کے ممکنہ دورہ پاکستان پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں ازبکستان کے غیرملکی سرمایہ کاری کے وزیر بھی موجود تھے۔

    عمران خان نے کہا کہ پاکستان ٹرانس افغان ریلوے پروجیکٹ کی تکمیل کیلئے پرعزم ہے، دونوں ملکوں کےدرمیان عوامی سطح پر روابط کا فروغ ضروری ہے ملاقات میں دونوں رہنماؤں کے درمیان افغانستان کی تازہ صورتحال پر بھی گفتگو کی گئی۔

    وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پرامن اور مستحکم افغانستان کے لئے عالمی سطح پر کردار ادا کرنا ہو گا۔ملاقات میں عمران خان نے لاہور سے تاشقند تک براہ راست پرازوں کی بحالی پر اور دونوں ملکوں کے درمیان زیرالتوا معاہدوں کو جلد مکمل کرنے پر زور دیا۔

    وزیراعظم نے لاہور اور تاشقند کے درمیان سیاحت، کاروباری روابط اور عوام کے درمیان رابطوں کو بڑھانے کے لیے براہ راست فضائی پروازوں کی بحالی کی اہمیت پر زور دیا۔

    انہوں نےتمام زیر التواء دو طرفہ مفاہمت ناموں اور معاہدوں کوحتمی شکل دینےپر بھی زوردیا،خاص طورپر ترجیحی تجارتی معاہدے کو.نائب وزیر اعظم سردار عمر زاکوف نے وزیر اعظم کے لیے ازبک صدر کی طرف سے مبارکباد پیش کی۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار آفریدی کی ملاقات ہوئی ہے، وزیراعظم کو کشمیر کمیٹی کی جانب سے مختلف بین الاقوامی فورمز بالخصوص اسلامی ممالک کی تنظیم (OIC)، یورپی یونین (EU)، امریکن کانگریس اور دیگر بین الاقوامی پارلیمانی اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم کو کوہاٹ ڈویژن میں جاری ترقیاتی سکیموں پر پیش رفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

    وزیراعظم نے کشمیر کا مقدمہ بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کے لیے کشمیر کمیٹی کی کاوشوں کو سراہا اور انہیں اس مقصد کے لیے اپنی کاوشیں مزید تیز کرنے کی ہدایت کر دی، وزیراعظم نے چیئرمین کشمیر کمیٹی کو ہدایت کی کہ وہ کوہاٹ ڈویژن میں جاری مختلف ترقیاتی سکیموں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنائیں تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف اور سہولت فراہم کی جا سکے۔

    قبل ازیں وزیراعظم عمران خان سے وزیرخزانہ شوکت ترین اور وفاقی وزیر خسرو بختیار کی ملاقات ہوئی ہے ،وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ملکی انڈسٹریل بیس بڑھانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے،صنعتی ترقی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی نہیں کر سکتا،حکومت نے پہلی مرتبہ چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعت کیلئے جامع پالیسی دی،حکومت کی کاروبار دوست پالیسیوں کی بدولت صنعتی شعبہ ترقی کر رہا ہے صنعتوں کے مکمل استعداد پر چلنے کی بدولت روزگار میں اضافہ ہوا ہے،وزیراعظم نے ملکی انڈسٹریل بیس بڑھانے کیلئے اقدامات کو تیز کرنے کی ہدایات کی ہے

  • وزیراعظم عمران خان سےچینی وزیراعظم،قطری امیر،   مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں

    وزیراعظم عمران خان سےچینی وزیراعظم،قطری امیر، مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں

    بیجنگ: وزیراعظم عمران خان سے چینی وزیراعظم ،قطری امیر،مصری اورازبک صدرسمیت عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں جاری،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم پاکستان اس وقت چین میں موجود ہیں جہاں ان سے چینی وزیراعظم ،امیر قطر،مصری ارو ازبک صدرسمیت بڑے بڑے عالمی رہنماوں کی ملاقاتیں جاری ہیں اور یہ ملاقاتیں اس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بھی ہیں‌

     

     

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چودھری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر لکھا کہ وزیراعظم عمران خان نے چینی وزیراعظم لی کی چیانگ اور ازبکستان کے صدر شوکت مرزایوف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی۔

     

    فواد چودھری نے مزید لکھا کہ دونوں ملاقاتوں میں کشمیر اور افغانستان گفتگو کے اہم موضوعات رہے، چین پاکستان کی سیاسی، اقتصادی اور سٹریٹجک پارٹنر کی حیثیت سے ہمیشہ اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔

    اُدھر وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم

     

     

     

    عمران خان نے چینی وزیراعظم لی کو سی پیک اور خصوصی ٹیکنالوجی زونز میں چینی سرمایہ کاری کو بڑھانے کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم نے پاکستان میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت کے لیے حکومت کے اقدامات سے آگاہ کیا۔

    وزیر اعظم نے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال، کشمیری عوام کی تکالیف کو کم کرنے کے لیے عالمی برادری کی طرف سے فوری اقدام کی اہمیت کو اجاگر کیا، وزیراعظم نے افغانستان میں امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ مقاصد کے لیے پاکستان اور چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔

     

     

     

    اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اقتصادی روابط کو مزید گہرا کرنے پر مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا، کثیر جہتی تزویراتی تعاون پر مبنی تعلقات کو مزید آگے بڑھانے اور نئے دور میں مشترکہ مستقبل کی پاک چین کمیونٹی کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کیا۔

     

    وزیراعظم عمران خان دورہ چین کے دوران دارالحکومت بیجنگ کے گریٹ ہال پہنچے جہاں انہوں نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے دیے گئے ظہرانے میں شرکت کی۔

    وزیراعظم عمران خان نے چائنہ انرجی اینڈ انجینئرنگ کارپوریشن اور پاور چائنا کے چیئرمینز سے آن لائن ملاقات کی۔ آن لائن ملاقاتوں میں پاکستان کے توانائی کےشعبے کی بہتری اورسرمایہ کاری سے متعلق گفتگو ہوئی۔

     

     

    دوسری جانب دورے کے حوالے سے وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھاکہ وزیراعظم عمران خان کا دورہ چین انتہائی کامیاب جا رہاہے، چین کے صدر اور وزیراعظم سے معاشی، تجارتی تعاون پر بات ہوگی۔

    اُدھر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے ٹویٹر پر ایک ٹویٹ کو ری ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی چین میں مصری صدر عبد الفتح السیسی اور قطری امیر تمیم بن حماد التھانی سے ملاقات کی۔

     

     

     

    وزیراعظم عمران خان کی بیجنگ میں ازبک صدر سے ملاقات ہوئی، سرمائی اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے موقع پرملاقات ہوئی، دونوں رہنماؤں کا دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

     

     

     

    دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ازبکستان کے درمیان شراکت داری کے فروغ کےعزم کا اعادہ کیا گیا۔

    وزیراعظم عمران خان نے تجارتی اور اقتصادی تعاون کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا، دو طرفہ ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدہ کو فعال کرنے اور ترجیحی تجارتی معاہدے پر بھی گفتگو کی گئی۔

    وزیراعظم نے ریلوے منصوبے کے لیے پاکستان کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا جبکہ عمران خان نے سیاحت کے فروغ کے لیےبراہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا۔

    دونوں رہنماؤں نے تعلیم اور ثقافت میں تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات میں علاقائی امن و استحکام پر بھی غور کیا گیا، دونوں رہنماوں کاعالمی برادری سے افغانستان کی اقتصادی امداد جاری رکھنے کی ضرورت پر زور دیا اور وزیراعظم نے ازبک صدر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی۔

    اُدھر وفاقی وزیرمنصوبہ بندی، ترقی ، اصلاحات وخصوصی اقدامات اسدعمر نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے دورے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ، زراعت اور صنعت کے شعبہ میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

    ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ دورہ چین کے دوران ہماری چینی سرمایہ کاروں کے ساتھ ملاقاتیں ہو رہی ہیں جو پاکستان میں مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ وزیراعظم خود ان کی براہ راست بات بھی سن رہےہیں اور جو نکات وہ اٹھارہے ہیں ان کا جواب اور تمام وزارتوں کو اس حوالے سے عملدرآمد کے لئے احکامات جاری بھی کررہے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان چینی وزیراعظم لی سے ملاقات بھی کررہے ہیں اور پاکستان جن شعبوں میں سرمایہ کاری کے لئے درخواست کررہا ہے ان پر بھی غور ہو گا ۔ چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اتوار کو ہونے والی ملاقات میں وزیراعظم عمران خان یہی نکات اٹھائیں گے ۔امید ہے کہ اس دورے کے بعد انفارمیشن ٹیکنالوجی ، زراعت اور صنعت کے شعبہ میں چینی سرمایہ کاری میں اضافہ ہو گا۔

    چین میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے فواد چودھری نے کہا کہ عمران خان کی کل چین کے صدرشی جن پنگ سے اہم ملاقات ہوگی، چین نے ہمیشہ ہرمشکل میں ہمارا ساتھ دیا ہے۔ وزیراعظم کے دورہ چین سے دوستی مزید مضبوط ہوگی۔ چین کشمیرکے معاملے پرپاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔

  • ہیلی کاپٹرہمارے اورفائدہ آپ اُٹھائیں،یہ نہیں ہوسکتا:افغان حکومت کا ہمسائیہ ممالک سے مطالبہ

    ہیلی کاپٹرہمارے اورفائدہ آپ اُٹھائیں،یہ نہیں ہوسکتا:افغان حکومت کا ہمسائیہ ممالک سے مطالبہ

    کابل :ہیلی کاپٹرہمارے اورفائدہ آپ اُٹھائیں،یہ نہیں ہوسکتا:افغان حکومت کا ہمسائیہ ممالک سے مطالبہ،اطلاعات کے مطابق افغانستان کی طالبان حکومت نے پڑوسی ممالک سے اپنے ہیلی کاپٹر واپس مانگ لیے۔

    افغانستان کی طالبان عبوری حکومت نے اُزبکستان اور تاجکستان کو منتقل کیے گئے ہیلی کاپٹروں کی واپسی کے لیے مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔

    طالبان عبوری حکومت کے نائب ترجمان امام اللہ سمن غنی نے میڈیا کو بتایا ہے کہ سابق حکومت نے ازبکستان اور تاجکستان کو 40 سے زائد ہیلی کاپٹر منتقل کیے تھے۔

    افغانستان کی سابق ​​حکومت کے پاس 164 سے زائد ہیلی کاپٹر تھے جن میں سے بہت سے امریکا نےعطیے میں دیے تھے۔

    مذکورہ ممالک کے حکام سے ہیلی کاپٹروں کی واپسی کے لیے بات چیت شروع ہونے کا اعلان کرنے والے نائب ترجمان طالبان سمن غنی کا کہنا تھا کہ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ ہیلی کاپٹر کب واپس کیے جائیں گے۔

    طالبان کی عبوری حکومت کی وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے بتایا کہ ہیلی کاپٹروں کی واپسی کی درخواستیں اس سے قبل ازبکستان اور تاجکستان کی حکومتوں کو بھیجی جا چکی ہیں اور وہاں سے ابھی تک کوئی مثبت جواب نہیں ملا ہے۔

    15 اگست کو طالبان کے کابل پر قبضے کے بعد سابق حکومتی ارکان نے بہت سے ہیلی کاپٹر پڑوسی ممالک کو منتقل کر دیے تھے۔اس کے علاوہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان فضائیہ کے درجنوں پائلٹ بھی ملک چھوڑ کر فرار ہو گئے تھے۔

    طالبان انتظامیہ کو پائلٹوں کی شدید کمی کا سامنا ہے اور وہ کئی بار بیرون ملک فرار ہوجانے والے پائلٹس کی واپسی کا مطالبہ کر چکی ہے۔

    ادھر یہ بھی اطلاعات ہیں کہ وادی پنجشیر اور دیگرعلاقوں میں ان ملکوں کی طرف سے جوہیلی کاپٹرافغانستان کی سرحدوں میں آکرمداخلت کرتے ہیں وہ بھی افغانستان کی ملکیت ہیں‌

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ازبکستان اور تاجکستان نے افغآن حکومت کے اس مطالبہ کو نظرانداز کردیا ہے اورکوئی مثبت جواب نہیں دیا جس کی وجہ سے افغانستان اور ہمسائیہ ممالک کے درمیان حالات سردمہری کا شکار ہوسکتے ہیں