Baaghi TV

Tag: ازخود نوٹس سماعت

  • سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ نے رولز بنائے جانے تک ازخود نوٹس کے تمام کیسز ملتوی کرنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے ازخود نوٹس اور آئینی اہمیت کے مقدمات پر سماعت مؤخر کرنے کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا سپریم کورٹ میں حافظ قرآن کو 20 اضافی نمبر دینے کے از خود نوٹس میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی خصوصی بینچ نے فیصلہ جاری کیا خصوصی بینچ میں جسٹس امین الدین اور جسٹس شاہد وحید شامل ہیں اور فیصلہ دو ایک کے تناسب سے جاری کیا گیا 9 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا-

    جو کہتا تھا قانون سب کے لیے برابر ہے وہ آج قانون کا سب سے …

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ رولز بنائے جانے تک آرٹیکل 184 تھری کے تمام کیسز کو ملتوی کردیا جائے چیف جسٹس پاکستان کو خصوصی بینچ بنانے کا اختیار نہیں ہے اسپیشل بینچ میں مختلف بینچز سے ایک ایک جج کو شامل کیا گیا، عدالتی وقت ختم ہونے کے وقت کیس سماعت کیلئے مقررکیا گیا-

    تحریری فیصلے میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ پیمرا کی جانب سے ججز پر تنقید پر پابندی آئین اور اسلام کیخلاف ہےدوران سماعت عدالت کی توجہ پیمرا کی جانب سے ججز پر تنقید نشر کرنے کی پابندی پر دلائی گئی، پیمرا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دے کر پابندی عائد کی، عدالتی فیصلہ پیمرا کو ایسا حکم نامہ جاری کرنے کی اجازت نہیں دیتا،ضلعی عدلیہ کے ججز سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ ججز سے زیادہ کام کرتے ہیں پیمرا نے کبھی ضلعی عدلیہ کے ججز پر تنقید کے خلاف پابندی عائد نہیں کی، دوسروں کو قابل احتساب بنانے والے ججز کا احتساب نہ ہونا آئین اور شریعت کیخلاف ہے، عوام کا اعتماد اداروں کو خود جیتنا ہوتا ہے۔

    نیا عدالتی اصلاحاتی بل، نواز،ترین اور گیلانی کو اپیل کا حق مل گیا

    فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے عوام اراکین پارلیمنٹ کے انتخاب کے وقت ان کا احتساب کرتے ہیں، اراکین پارلیمنٹ الیکشن میں عوام کو جوابدہ ہوتے ہیں، قوانین کے تحت بیوروکریسی حکومت کو جوابدہ ہوتی ہے، عدلیہ اس طرح کسی کو بھی جوابدہ نہیں ہے۔

    فیصلے میں قرار دیا گیا کہ چیف جسٹس کے پاس اختیار نہیں بینچ کی تشکیل کے بعد کسی جج کو بینچ سے الگ کریں، ایک جج سپریم جوڈیشل کونسل کوجوابدہ ہوسکتا ہے لیکن جوڈیشری نہیں چیف جسٹس اپنی دانش کو آئین کی حکمت کی جگہ نہیں دےسکتے، آئین نے چیف جسٹس کو یکطرفہ اورمرضی کااختیارنہیں دیا، سپریم کورٹ کےتمام ججز کو اجتماعی طورپرتعین کاکام چیف جسٹس انجام نہیں دے سکتے۔

    بینچ میں جسٹس شاہد وحید نے فیصلے سے اختلاف کیا اور نوٹ میں لکھا کہ جن معاملات پرفیصلہ دیا گیا وہ ہمارے سامنے ہی نہیں تھے۔

    پریکٹس اینڈ پروسیجربل پرسپریم کورٹ کو اعتماد میں لینے کی ضرورت ہے،صدر عارف علوی

    واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا انتخابات کا ازخود نوٹس کیس بھی زیر سماعت ہے جس میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ سماعت کر رہا ہے۔

  • حافظ قرآن ہونے پر اضافی نمبرز دینے پر ازخود نوٹس سماعت کیلئے مقرر

    حافظ قرآن ہونے پر اضافی نمبرز دینے پر ازخود نوٹس سماعت کیلئے مقرر

    اسلام آباد: سپریم کورٹ میں میڈیکل طلبہ کو حافظ قرآن ہونے پر اضافی 20 نمبرز دینے پر ازخود نوٹس سماعت کیلئے مقرر کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی : جسٹس قاضی فائزعیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 15مارچ کو سماعت کرے گا، جسٹس یحییٰ آفریدی اور جسٹس شاہد وحید بینچ کا حصہ ہوں گے۔

    اسلام آباد اورکوئٹہ میں مقدمات درج: عمران خان کا حفاظتی ضمانت کیلئےہائیکورٹ سے رجوع

    عدالت نے پاکستان میڈیکل کمیشن اور اٹارنی جنرل سمیت دیگرفریقین کو نوٹس جاری کردیا۔

    خیال رہے کہ سپریم کورٹ نےگزشتہ سال سماعت کے دوران معاملہ سامنے آنے پر ازخود نوٹس لیا تھا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس سپریم کورٹ نے بولان یونیورسٹی میں طالبہ کو میڈیکل میں داخلہ نہ دینے کیخلاف مسماۃ شہلا کی درخواست مسترد کردی تھی عدالت عظمی نے وفاق، پاکستان میڈیکل کمیشن اور دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ حافظ قرآن کو داخلے کیلئے اضافی نمبروں سے متعلق سماعت الگ ہوگی۔

    جسٹس قاضی فائرعیسیٰ کی سربراہی میں بینچ کے روبروبولان یونیورسٹی کوئٹہ میں طالبہ کو میڈیکل میں داخلہ نہ دینےسےمتعلق درخواست پر سماعت کی تھی درخواست گزار کے وکیل نے کہا تھا کہ حافظہ قرآن کوٹہ کے 20 نمبرز اضافی مل جاتے تو میرٹ پر داخلہ ہوجاتا۔

    تنخواہوں میں کٹوتی اور کپتانوں کےاستعفی کا معاملہ،پالپا کا موقف سامنے آ گیا

    عدالت نے ریمارکس دیئے تھے کہ قرآن حفظ کی بنیاد پر میڈیکل اور دیگر جامعات داخلہ میں اضافی نمبرز کیوں دیئے جائیں؟ سپریم کورٹ نے حفظ قرآن کی بنیاد ہر داخلوں پر اہم سوال اٹھا یا

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے تھے کہ اہم معاملہ ہے ہم اس پر فریقین کو سن کر فیصلہ دیں گے۔ حافظ قرآن کو 20 نمبرز زیادہ کیوں دیں؟امام مسجد لگانا ہو یا لیکچرر بھی رکھنا ہو تو یہ قابلیت دیکھی جاسکتی ہے۔

    درخواست گزار مسمات شہلا نے کہا تھ کہ میرٹ کیلئے حافظ قرآن کوٹہ کے 20 اضافی نمبرز نہیں دیئے گئے۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے تھے یہ بتائیں کیا حافظ قرآن طالب علم بہتر ڈاکٹر بن جائے گا؟ حافظ قرآن ہونا مقدس عمل ہے مگر اس بنیاد پر میڈیکل میں داخلہ کیوں دیا جائے؟ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ یہ بہت حساس معاملہ ہوجائیگا۔

    جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس میں کہا کہ آپ مذہب سے گھبراتے کیوں ہیں؟ مذہب تو بہت آسانی پیدا کرتا ہے۔

    تاہم سپریم کورٹ نے مسمات شہلا کی درخواست مسترد کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ حافظ قرآن کو داخلے کیلئے اضافی نمبروں سے متعلق سماعت الگ ہوگی۔

    6 ملکی خارجہ اجلاس:مغربی ممالک پرافغانستان کے منجمد فنڈزبحال کرنے کا مطالبہ