Baaghi TV

Tag: از خود نوٹس

  • فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس،سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

    فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس،سپریم کورٹ کا ازخود نوٹس

    سپریم کورٹ آف پاکستان نے سینیٹر فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کا ازخود نوٹس لے لیا ہے

    سینٹر فیصل واوڈا کی پریس کانفرنس کا سپریم کورٹ نے ازخودنوٹس لے لیا ہے،از خود نوٹس کیس کی سماعت کل سپریم کورٹ میں ہو گی،سپریم کورٹ نے تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا، ازخود نوٹس کل سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا،چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کل سماعت کرے گا ، جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس نعیم اختر بنچ کا حصہ ہونگے

    گزشتہ روز سینیٹر فیصل واوڈا نے پریس کانفرنس کر کے اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا، فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ اداروں کی دخل اندازی کے ثبوت دیں!میرے خط کا جواب کیوں نہیں دیا؟کیا آپ انصاف کررہے ہیں؟ جج دوہری شہریت کے ساتھ کیسے بیٹھے ہوئے ہیں؟ میری ماں کے لیے سوشل میڈیا پر بیان بازی ہو رہی تھی اس وقت بھی نوٹس لیا جاتا، کل پنجاب میں بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا اس پر بھی نوٹس لیا جاتا، جسٹس بابر ستار کو ایک سال بعد باتیں یاد آرہی ہیں، اب الزامات کے شواہد بھی دینا پڑیں گے، مداخلت کے شواہد لے آئیں ہم آپ کیساتھ کھڑے ہیں، بتایا جائے کس نے آپکے کام میں مداخلت کی،ججز کو شفاف اور الزامات سے دور ہونا چاہیئے، قانون بنانے والے دہری شہریت نہیں رکھ سکتے تو جج کیسے رکھ سکتے ہیں ،

    بحریہ ٹاؤن،چوری کا الزام،گھریلو ملازمین کو برہنہ کر کے تشدد،الٹا بھی لٹکایا گیا

    بحریہ ٹاؤن کے ہسپتال میں شہریوں کو اغوا کر کے گردے نکالے جانے لگے

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    ایبٹ آباد میں "ہم جنس پرستی کلب” کے قیام کے لیے درخواست

    ہنی ٹریپ،لڑکی نے دوستوں کی مدد سے نوجوان کیا اغوا

    بچ کر رہنا،لڑکی اور اشتہاریوں کی مدد سے پنجاب پولیس نے ہنی ٹریپ گینگ بنا لیا

    طالبات کو نقاب کی اجازت نہیں،لڑکے جینز نہیں پہن سکتے،کالج انتظامیہ کیخلاف احتجاج

    امجد بخاری کی "شادی شدہ” افراد کی صف میں شمولیت

    مجھے مسلم لیگ ن کے حوالے سے نہ بلایا جائے میں صرف مسلمان ہوں،کیپٹن ر صفدر

  • قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف سے سپریم کورٹ بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور

    قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف سے سپریم کورٹ بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس ہوا
    اجلاس چیئرمین کمیٹی چوہدری محمود بشیر ورک کی صدارت میں ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر سید نوید قمر،وزیر مملکت قانون شہادت اعوان و دیگر شامل تھے ،اجلاس میں سپریم کورٹ( کاروائی اور قواعد و ضوابط) بل 2023 زیر بحث آیا، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ آئین کا آرٹیکل 4 ، 10 اور آرٹیکل 25 شفاف ٹرائل اور انصاف کے بنیادی اصولوں کو پورا کرتا ہے۔ نفیسہ شاہ کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ از خود نوٹس کے اختیارات کو ریگولیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے بعد آنے والے 3 چیف جسٹس نے از خود نوٹس کا بہت کم استعمال کیا۔ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے از خود نوٹس کا استعمال کیا۔وزارت قانون و انصاف کافی دیر سے اس حوالے سے کام کر رہی ہے۔ گزشتہ روز معزز ججز کا فیصلہ سب کے سامنے ہے۔جب بھی عدلیہ کی آزادی کی بات ہوتی ہے تو بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز کرتی ہیں۔ بار کونسلز اور بار ایسوسی ایشنز اس بل کی حمایت کر رہے ہیں۔ کمیٹی نے سپریم کورٹ (کاروائی اور قواعد و ضوابط) بل 2023 ترامیم کے ساتھ منظور کر لیا

    قبل ازیں وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ گزشتہ قومی اسمبلی اجلاس میں پیش ہونے والے بل کو اس کمیٹی میں بھجوایا گیا،سپریم کورٹ میں انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے یہ بل پیش کیا گیا،184(3) کے دائرہ اختیار کو زیر بحث لایا جائے، بنیادی حقوق کے حوالے سے وزارت قانون کام کر رہی تھی، گزشتہ دنوں سپریم کورٹ کے فیصلوں کی صورت میں بھی آوازیں آئیں،ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مناسب وقت ہے کہ پارلیمنٹ اپنا کردار ادا کرے

    دوسری جانب ممتاز ماہر قانون اعتزاز احسن کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے عدلیہ کی اصلاحات کے بل کا اطلاق ماضی سے نہیں ہوگا، 90 دن کے آس پاس انتجابات کروانے ہونگے،تین دو سے سپریم کورٹ کے فیصلے پر پانچوں جج کے دستخط ہیں کہ یہ اکثریتی فیصلہ ہے حکومت کے عدلیہ بارے بل کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر اس کے کوئی اثرات نہیں ہونگے، چیف جسٹس پاکستان آئین کے آرٹیکل 184 تین کے تحت اپنے اختیارات کا استعمال کر رہے ہیں

    عمران فتنے نے اشتعال انگیزی پھیلا رکھی ہے نوازشریف کو بالکل واپس نہیں آنا چاہیے عفت عمر
    گھر سے بھاگنے کے محض ڈیڑھ دو سال کے بعد میں اداکارہ بن گئی کنگنا رناوت
    انتخابات ملتوی کرنےکامعاملہ،الیکشن کمیشن ،گورنر پنجاب اورکے پی کو نوٹس جاری
    اسلام آباد ہائیکورٹ؛ کراچی کی 6 یوسز میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی روکنے کا حکم

     سادہ سا سوال ہے کہ الیکشن کمیشن تاریخ آگے کرسکتا ہے یا نہیں

  • ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے،سپریم کورٹ

    حکومتی عہدیداروں کی مداخلت سے متعلق سپریم کورٹ کے از خود نوٹس کی سماعت،تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا، سپریم کورٹ کا تحریری حکم نامہ5صفحات پر مشتمل ہے چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بنچ نے سماعت کی تھی تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ تمام افسران تحریری طور پر اپنے جواب عدالت میں جمع کرائیں، سیکریٹری داخلہ، ڈی جی ایف آئی اے ، چیئرمین اور ریجنل ڈائریکٹرز نیب کو نوٹس جاری کئے گئے،چاروں صوبوں کے ایڈوکیٹ جنرلز اور پراسکیوٹر جنرلز اورایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کو نوٹس جاری کئے گئے،نیب اور ایف آئی اے کے پراسیکیوشن سربراہوں کو بھی نوٹس جاری کئے گئے نیب اور ایف آئی اے میں ہائی پروفائل مقدمات میں گزشتہ6ہفتوں میں تبادلوں کی تفصیل جمع کرانے کا حکم دیا گیا تقرریوں اور افسران کے ہٹائے جانے سے متعلق بھی تفصیلات جمع کرانے کا حکم دیا گیا عدالت نے گزشتہ 6ہفتوں میں ای سی ایل سے نکالے گئے ناموں کی تفصیلات طلب کرلی ای سی ایل پر اسٹیسٹس کو آئندہ سماعت تک برقرار رہے گا نیب عدالتوں، اسپیشل کورٹس میں استغاثہ اور تحقیقات کا ریکارڈ محفوظ کرنے کا طریقہ کار طلب کر لیا گیا

    قبل ازیں سپریم کورٹ میں حکومتی شخصیات کے کیسز میں مداخلت کے تاثر پر از خود نوٹس کی سماعت ہوئی ،چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے ازخودنوٹس کی سماعت کی سپریم کورٹ میں اٹارنی جنرل اشترواوصاف پیش ہوئے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے پیپر بک پڑھا ہے؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ جی میں نے پیپر بک پڑھا ہے پیپر بک جج کی جانب سے مداخلت کے بارے میں ہے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ نوٹس لینے کی جو وجوہات ہیں، وہ صفحہ نمبر 2 پر موجود ہیں،

    پیپر بک نمبر 2 میں ڈی جی ایف آئی اے ثنا اللہ عباسی اور ڈاکٹر رضوان کی موت کا ذکر موجود ہے ازخود نوٹس کیس میں تیارکی گئی پیپر بک میں مختلف اخبارات کے تراشے شامل تھے ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں ایک کیس کے دوران ایف آئی اے کے استغاثہ کو پیش نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہم آپ سے گارنٹی چاہتے ہیں کہ استغاثہ کا ادارہ مکمل آزاد ہونا چاہیے، ایسا کیوں ہوا، ڈی جی ایف آئی اے جوخیبرپختونخوا کے آئی جی تھے کاتبادلہ کیوں کیا گیا؟ ڈاکٹر رضوان قابل افسر تھے،ان کو کیوں ہٹایا گیا ،یہ سب پیش رفت بظاہر کریمنل جسٹس سسٹم میں مداخلت کے مترادف ہے

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے اٹارنی جنرل کو ہدایت دی کہ آپ اس ساری صورتحال کا جائزہ لیں،ای سی ایل سے 4 ہزار سے زائد افراد کے نام نکالے گئے، ای سی ایل سے نام نکالنے کا طریقہ کار کیا تھا؟ہمارے ملک میں جوکرمنل جسٹس سسٹم ہے اس کے بارے میں خبریں آئیں، اس وقت ہم کوئی رائے نہیں دے رہے ہم نے لوگوں سے رول آف لا کا وعدہ کیا ہے اس کی حفاظت کرنے والے ہیں، میں امید کرتا ہوں کی وفاقی حکومت پولیس کے ساتھ تعاون کریگی،ان تمام کرمنل کیسز کو سنبھالنے رکھنا استغاثہ کی ذمے داری ہے،اس سماعت کا مقصد کسی کو خفا کرنا نہیں، عدالت نوٹس جاری کرتی ہے،

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پیپر بک نمبر دو میں ڈاکٹر رضوان کو اچانک دل کا دورہ پڑنے کی وجہ سے موت کا ذکر ہے،ازخود نوٹس کیس میں تیارکی گئی پیپر بک میں مختلف اخبارات کے تراشے شامل ہیں، رپورٹس کے مطابق وزیر اعظم کے خلاف تحقیقات کرنے والے افسران تبدیل کیے گئے، ڈی جی ایف آئی اے جیسے قابل افسر کو ہٹا یا گیا بتایا جائے ہائی پروفائل کیسز میں افسران کے تقرر تبادلے کیوں کیے گئے

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ لگتا ہے کہ تقرریاں اور تبادلے جان بوجھ کر کیے گئے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ آپ ای سی ایل سے نام براہ راست نہیں نکال سکتے،ہم نے دیکھا ہے کہ ای سی ایل سے نام نکلوانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کیا جاتا،اٹارنی جنرل نے کہا کہ ای سی ایل میں نام ڈالنے کے لیے ایک طریقہ کار ہوتا ہے تو نکالنے کا بھی ہے ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بار پھر کہتا ہوں کہ ازخود نوٹس لینے کا ہمارا مقصد کرمنل جسٹس سسٹم کی مضبوطی ہے،ہم یہاں پوائنٹ اسکور کرنے کے لیے اکٹھے نہیں ہوئے،ہم کسی کی تنقید سے گھبرانے والے نہیں ہیں،عدالت فیصلہ کرتے ہوئے کبھی نہیں گھبرائی،آج کئی سیاسی پارٹیوں کےمضبوط سوشل میڈیا سیکشنز ہیں، ہم سوشل میڈیا کی تمام چیزوں کو نوٹ کرتے ہیں اور آپس میں بات کرتے ہیں چاہتے ہیں آرٹیکل 10فوراے اور 25 پر عمل کیا جائےہم متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کررہے ہیں، یہ کارروائی کسی کو ملزم ٹھہرانے یا کسی کو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں ہے یہ کارروائی فوجداری نظام اور قانون کی حکمرانی کو بچانے کے لیے ہے

    عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے، چیئرمین نیب ، سیکریٹری داخلہ کو نوٹسزجاری کردیئے عدالت نے حکم دیا کہ سیکریٹری داخلہ بتائیں کہ کیوں استغاثہ کے کام میں مداخلت کرتے ہیں؟ وضاحت کریں مقدمات میں مداخلت کیوں ہورہی ہے؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے مداخلت پر بیان دیا ،کراچی اور لاہور میں عدالتوں میں ججز موجود نہیں کیا آپ کواس بارے میں معلوم ہے ، ججز کو بھی جوڈیشل نظام میں محتاط رہنا ہوگا ، اس کا ہم قریب سے جائزہ لیتے ہیں،وہ نام جمع کرائے جائیں جن کے نام ای سی ایل سے اس دوران نکالے گئے،

    عدالت نے حکم دیا کہ ہائی پروفائل کیسز کی تفتیش کرنے والوں کے تبادلے تا حکم ثانی نہیں کیے جائینگے چھ ماہ میں استغاثہ اور تفتیشی اداروں میں تقرریوں کے بارے میں تفصیل جمع کرائی جائیں، حکومتی شخصیات کے کیسز میں مداخلت کے تاثر پر از خودنوٹس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی گئی

    شیریں مزاری کے خود کش حملے،کرتوت بے نقاب، اصل چہرہ سامنے آ گیا

    اداروں کے خلاف بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔جلیل احمد شرقپوری

    عمران خان نے کل اداروں کے خلاف زہر اگلا ہے،وزیراعظم

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    خدارا ملک کا سوچیں،مجھے فخر ہے میں ایک شہید کا باپ ہوں،ظفر حسین شاہ

    ایک بیٹا شہید،خواہش ہے دوسرے کو بھی اللہ شہادت دے،پاک فوج کے شہید جوانوں کے والدین کے تاثرات

    شہادت سے سات ماہ پہلے بیٹے کی شاد ی کی تھی،والدہ کیپٹن محمد صبیح ابرار شہید