Baaghi TV

Tag: اساتذہ

  • "ہم یہ فوجی بغاوت نہیں چاہتے”: میانمار کے اساتذہ بھی احتجاج میں شریک ہوئے

    "ہم یہ فوجی بغاوت نہیں چاہتے”: میانمار کے اساتذہ بھی احتجاج میں شریک ہوئے

    میانمار میں اساتذہ جمعہ کے روز ایک فوجی نافرمانی کی مہم میں شامل ہونے کے لئے ایک تازہ ترین گروپ بن گئے جس میں کچھ لیکچروں نے فوج کے اقتدار پر قبضے کے خلاف احتجاج میں حکام سے تعاون کرنے یا تعاون کرنے سے انکار کردیا تھا۔ سول نافرمانی کی مہم پیر کے روز بغاوت کے فورا بعد ہی طبی کارکنوں میں شروع ہوئی تھی لیکن اس کے بعد سے یہ پھیلا ہوا ہے سرکاری اور نجی دونوں شعبوں میں طلباء ، نوجوانوں کے گروہوں اور کچھ کارکنوں کو شامل کرنا۔

    ینگون یونیورسٹی آف ایجوکیشن کی کیمپس عمارتوں کے سامنے سرخ رنگ کے ربن پہننے اور احتجاجی نشانات کے انعقاد ، سیکڑوں لیکچررز اور اساتذہ جمع ہوئے۔”ہم یہ فوجی بغاوت نہیں چاہتے جس نے ہماری منتخب حکومت سے غیر قانونی طور پر اقتدار پر قبضہ کیا۔”
    ہم اب ان کے ساتھ کام نہیں کریں گے۔ ہم چاہتے ہیں کہ فوجی بغاوت ناکام ہوجائے ، "انہوں نے مزید کہا ، دوسرے عملے نے گھیر لیا جنہوں نے میانمار میں بہت سے مظاہرین کے ذریعہ اب تین انگلیوں کی سلامی رکھی ہے۔

    عملے کے ایک ممبر نے تخمینہ لگایا کہ یونیورسٹی کے 246 میں سے 200 عملہ احتجاج میں شامل ہوا۔انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد انتظامیہ کے نظام کو روکنا ہے۔ ایک اور لیکچرار ہنی لیوین نے کہا کہ اب ہم پرامن ہڑتال کررہے ہیں۔ یانگون میں ڈاگن یونیورسٹی میں بھی اسی طرح کے احتجاج کی اطلاعات ہیں۔

    ڈاکٹروں اور اساتذہ جیسے پیشہ ور گروپوں میں مخالفت اس وقت سامنے آئی ہے جب دیگر کم رسمی مظاہرے ہوئے ہیں جن میں لوگوں نے کین اور ساسپین پیٹنے اور بغاوت کی مخالفت کی نشاندہی کرنے کے لئے کاروں کے سینگوں سے نوازا تھا۔ جمعہ کے روز جنوب مشرقی شہر داؤئی میں بھی بغاوت کے متعدد مظاہرین نے مارچ کیا ، جس کے بعد موٹرسائیکلوں کے حامی بھی آئے۔“ہم اعلان کرتے ہیں کہ ہم آج ہی داؤئی میں جمہوریت کے لئے اپنی جنگ شروع کرتے ہیں۔ ہم لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ساتھ شامل ہوں اور ہمارے ساتھ کھڑے ہوں۔ فوج نے براہ راست جنوب مشرقی ایشیائی ملک ، جس کو برما بھی کہا جاتا ہے ، پر 1962 کے بغاوت کے بعد تقریبا almost 50 سالوں تک حکومت کی اور سالوں کے دوران متعدد بار جمہوریت کے حامی مظاہروں کو کچل دیا۔

  • موجودہ بجٹ سرکاری ملازمین کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوا ہے. تنخواہیں بڑھائی جائیں. چیئرمین متحدہ محاذ اساتذہ پنجاب

    موجودہ بجٹ سرکاری ملازمین کے لیے تکلیف دہ ثابت ہوا ہے. تنخواہیں بڑھائی جائیں. چیئرمین متحدہ محاذ اساتذہ پنجاب

    اوکاڑہ (علی حسین) چیئرمین متحد محاذ استاتذہ پنجاب حافظ عبد الناصر نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری ملازمین، پنشنرزاور خاص طور پر اساتذہ کی تنخواہوںاور پنشنوں میں فوری طور پر اضافہ کیا جائے۔ ایڈ ہاک الاؤنسز کو بنیادی تنخواہوں کا حصہ بنایا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال پی ٹی آئی کی حکومت کی پہلا بجٹ ریلیف کی بجائے تکلیف میں اضافہ کرگیا۔ رہی سہی کسر موجودہ بجٹ میں کسی قسم کا ریلیف نہ دیکر پوری کردی گئی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام سرکاری ملازمین کو یکساں تنخواہیں اور مراعات دی جائیں ۔

  • طاہرالقادری کا اساتذہ کو خراج تحسین

    طاہرالقادری کا اساتذہ کو خراج تحسین

    قائد تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے دوران آن لائن تعلیم دینے والے اساتذہ فرض شناس اور قابل عزت ہیں. انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران منہاج القرآن کے تعلیمی ادارے کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز اور ای لرننگ کی طرف سے آن لائن کلاسز کے کامیاب اور بلاتعطل اجراء پر کالج انتظامیہ کو مبارکباد دی ہے. انہوں نے کہا کہ مشکل ترین حالات میں طلبہ و طالبات کو تعلیم فراہم کرنا ایک بہت بڑی انسانی خدمت اور عبادت ہے.

    ڈاکٹر طاہرالقادری نے منہاج یونیورسٹی کی ایڈمنسٹریشن کو بھی آن لائن کلاسز کے کامیاب اجراء پر مبارکباد دی. انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ تحریک منہاج القرآن کے جملہ تعلیمی اداروں. فورمز نے لاک ڈاؤن کے دوران وقت کا بہترین استعمال کیا اور عامۃ الناس کو ہر ممکن رہنمائی مہیا کی، ڈاکٹر طاہرالقادری نے منہاج القرآن ای لرننگ کی طرف سے درجنوں ممالک میں مسلم فیملیز کے بچوں کو قرآن پاک کی آن لائن تعلیم دینے کے عمل کو سراہا. انہوں نے منہاج القرآن ویمن لیگ انٹرنیشنل،منہاج القرآن ویمن لیگ پاکستان،سسٹر لیگ، یوتھ لیگ، ایم ایس ایم، نظامت دعوت، نظامت تربیت،علماء کونسل اور جملہ نائب ناظمین اعلیٰ کو آن لائن اصلاحی، تربیتی لیکچرز کا اہتمام کرنے پر مبارکباد دی. انہوں نے کہا کہ ہر شخص اسلام کا سفیر اور مبلغ ہے. اسلامی تعلیمات کو دوسروں تک پہنچانا بطو رمسلمان ہمارا دینی فریضہ ہے. انہوں نے کہا کہ الحمداللہ منہاج القرآن عالمگیر سطح پر دعوت و تبلیغ کے فریضے کو احسن انداز سے پہنچارہی ہے۔

  • مہلت مل گئی ، اور اساتذہ کی جان میں جان آگئی

    مہلت مل گئی ، اور اساتذہ کی جان میں جان آگئی

    لاہور: اساتذہ کے لیے کبھی اچھی خبرین تو کبھی تکلیف دہ خبریں مگر جس خبر کی بات میں کررہا ہوں وہ تو اچھی اور سکون دینے والی خبر ہے ، اطلاعات کےمطابق سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے اساتذہ کے کوائف کے اندراج کیلئے تاریخ میں 16 ستمبر تک توسیع کر دی، 5 ہزار اساتذہ کے کوائف جمع ہونا ابھی بھی باقی ہیں۔

    سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم کے ذرائع کے مطابق اس رعایت کا فائدہ فی الحال صرف ہیڈ ٹیچرز اور سپروائزر اساتذہ اٹھا سکیں‌گے ، ہیڈ ٹیچرز اور اساتذہ سپروائزرز ہی اندراج کیے گئے کوائف میں تبدیلی کر سکیں گے، تاریخ گزرنے کے بعد بھی سینکڑوں اساتذہ کے کوائف ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم میں درج نہیں ہوسکے۔

    محکمہ تعلیم سکول ایجوکیشن کے ذرائع کا کہنا ہےکہ ابھی تک 3 لاکھ 43 ہزار اساتذہ نے کوائف جمع کرائے، جبکہ 5 ہزار سے زائد اساتذہ کے کوائف جمع کرانا باقی ہیں، سکول ایجوکیشن کے مطابق 16 ستمبر تک کوائف کا اندراج نہ کرنے والے اساتذہ خلاف محکمہ تعلیم حرکت میں آجائے گا اور حکم عدولی کرنے والوں کو سزا چکھنی پڑے گی