Baaghi TV

Tag: اسامہ بن لادن

  • اسامہ بن لادن کس بھارتی گلوکارہ کے مداح تھے،ان کے کمپیوٹر سے کیا نکلا؟

    اسامہ بن لادن کس بھارتی گلوکارہ کے مداح تھے،ان کے کمپیوٹر سے کیا نکلا؟

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اسامہ بن لادن بھارتی گلوکارہ الکا یاگنک کے گانوں کے بہت بڑے مداح تھے ان کے کمپیوٹر سے الکا یاگنک کے 100 سے زائد گانوں کی ریکارڈنگز برآمد ہوئیں۔

    باغی ٹی وی : القاعدہ کے بانی اسامہ بن لادن، جسے 11 ستمبر 2001 کے امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جاتا تھا، 2 مئی 2011 کو ایبٹ آباد، پاکستان میں امریکی اسپیشل فورسز کے ایک خفیہ آپریشن میں مارا گیا تھا یہ آپریشن اس وقت کے امریکی صدر براک اوباما کے حکم پر سی آئی اے نے انجام دیا تھا۔

    امریکی فوجی یونٹ نے ایبٹ آباد میں بن لادن کے محفوظ ٹھکانے پر چھاپہ مارا جہاں سے انہیں کئی اہم شواہد ملے، جن میں ایک کمپیو ٹر بھی شامل تھا حیران کن طور پر، اس کمپیوٹر میں بھارتی فلموں کے درجنوں گانے موجود تھے، جنہیں زیادہ تر اُدِت نارائن، کمار سانو اور الکا یاگنک نے گایا تھا۔

    شمالی وزیرستان: سی ٹی ڈی سے فائرنگ کے تبادلے میں 2 دہشت گرد ہلاک

    بھارتی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، اسامہ بن لادن بھارتی گلوکارہ الکا یاگنک کے گانوں کے بہت بڑے مداح تھے۔ ان کے کمپیوٹر سے الکا یاگنک کے 100 سے زائد گانوں کی ریکارڈنگز برآمد ہوئیں۔

    اس انکشاف پر ردعمل دیتے ہوئے الکا یاگنک نے ایک انٹرویو میں کہا کہ اس میں میری کیا غلطی ہے؟ اسامہ بن لادن چاہے جو بھی تھا، مگر اس کے اندر ایک چھوٹا سا فنکار بھی چھپا ہوا ہوگا اگر اسے میرے گانے پسند تھے تو یہ اچھی بات ہے، نا؟‘

    ملزم ارمغان کےوالد کی اسپیشل پراسیکیوٹر کو دھمکیاں

    اسامہ بن لادن کے کمپیوٹر میں موجود گانوں میں ”اجنبی مجھ کو اتنا بتا“ (فلم: پیار تو ہونا ہی تھا)، ”دل تیرا عاشق“ (فلم: دل تیرا عاشق) اور ”تو چاند ہے پونم کا“ (فلم: جانے تمنا) جیسے مقبول نغمے شامل تھے۔

  • نائن الیون حملوں کے مبینہ ملزم خالد شیخ کا مفاہمتی معاہدہ بحال

    نائن الیون حملوں کے مبینہ ملزم خالد شیخ کا مفاہمتی معاہدہ بحال

    امریکی ملٹری جج نے نائن الیون کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر افراد کے پلی بارگین ایگریمنٹس بحال کر دیے

    واشنگٹن: امریکا کے ایک ملٹری جج نے نائن الیون حملوں کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور دیگر دو ملزمان کے ساتھ طے شدہ پلی بارگین ایگریمنٹس (مفاہمتی معاہدے) کو بحال کرنے کا حکم دیا ہے، جو کہ تین ماہ قبل امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن نے ختم کر دیے تھے۔ ان معاہدوں کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ یہ سزائے موت کی سزا کو ختم کرنے کی راہ ہموار کرتے ہیں،

    گوانتاانامو بے میں ایک فوجی جج نے فیصلہ دیا کہ 9/11 حملوں کے مبینہ ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد اور اس کے دو ساتھیوں کے لیے درخواستوں کے معاہدے قانونی اور درست ہیں، جس کے نتیجے میں ان افراد کو ممکنہ طور پر سزائے موت سے بچنے کا موقع مل سکتا ہے، بشرطیکہ وہ عمر قید کی سزا قبول کریں۔ایئر فورس کے کرنل میتھیو مک کال نے اپنے فیصلے میں کہا کہ امریکی وزیر دفاع لوئڈ آسٹن کے پاس ان معاہدوں کو منسوخ کرنے کا اختیار نہیں تھا، جیسا کہ 2 اگست کو پینٹاگون کی جانب سے ان معاہدوں کے اندراج کے بعد آسٹن نے انہیں کالعدم کر دیا تھا۔خالد شیخ محمد اور اس کے دو اہم ساتھی، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الہوسوی نے اس بات پر رضا مندی ظاہر کی تھی کہ وہ 2,976 افراد کے قتل اور دیگر الزامات میں قصوروار قرار پائیں گے، اس کے بدلے میں ان کے خلاف سزائے موت کی سزا ختم کر دی جائے گی۔ یہ معاہدے ان افراد کے خلاف مقدمہ چلانے کی ایک اہم پیش رفت تھی، تاہم انہیں متنازعہ قرار دیا گیا۔ معاہدوں کے اعلان کے فوراً بعد آسبن نے انہیں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

    آسٹن نے اس فیصلے کے بارے میں ایک یادداشت میں کہا تھا کہ "میرے لیے یہ فیصلہ کرنا ضروری تھا کہ ملزمان کے ساتھ مقدمے سے پہلے کی کارروائیوں میں میں خود کو ذمہ دار سمجھوں”۔ تاہم، جج مک کال نے بدھ کے روز کہا کہ آسٹن کا یہ فیصلہ دیر سے آیا تھا اور انہوں نے اس بنیاد پر کہ آسٹن کو اس کیس پر اتنی وسیع اختیار حاصل نہیں تھا، ان معاہدوں کو برقرار رکھا۔9/11 کے متاثرین کے خاندانوں میں ان معاہدوں پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض خاندانوں نے ان معاہدوں کی حمایت کی ہے، جب کہ کچھ اس بات پر مصر ہیں کہ مقدمہ ٹرائل کی صورت میں چلے اور ان افراد کو سزائے موت دی جائے۔امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے متاثرین کے خاندانوں کو بھیجے گئے ایک خط میں کہا گیا ہے کہ ان معاہدوں سے انہیں اگلے سال کی سزا کی سماعت میں اپنے پیاروں کے ساتھ ہونے والے حملے کے اثرات پر بات کرنے کا موقع ملے گا، اور وہ القاعدہ کے حملے میں ان کے کردار اور محرکات کے بارے میں سوالات بھی پوچھ سکیں گے۔

    اس فیصلے سے یہ واضح ہوا کہ اب نائن الیون حملوں میں ملوث تینوں ملزمان خالد شیخ محمد، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوزی کے خلاف مقدمات کا کوئی منطقی نتیجہ نکلنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ اس سے پہلے ان کیسز کو کئی سالوں تک التوا میں رکھا گیا تھا اور قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے ان کی سماعت کو آگے نہیں بڑھایا جا رہا تھا۔

    امریکی عہدیداروں نے اس فیصلے کی تصدیق کی ہے کہ ملٹری جج نے اس بات کا فیصلہ کیا ہے کہ تینوں ملزمان کے مقدمات کے لیے جو ایگریمنٹس کیے گئے تھے وہ بالکل درست اور قابلِ نفاذ ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب ان ملزمان کے مقدمات کسی منطقی انجام کی طرف بڑھ سکتے ہیں۔ استغاثہ کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق حاصل ہے، تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ وہ ایسا کریں گے یا نہیں۔امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان میجر جنرل پیٹ رائیڈر نے اس فیصلے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ "ہم اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور فی الحال اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔”

    نائن الیون حملوں کے تین ملزمان خالد شیخ محمد، ولید بن عطاش اور مصطفیٰ الحوزی اس وقت گوانتا نامو بے جیل میں قید ہیں، جہاں انہیں طویل عرصے سے قید رکھا گیا ہے۔ ان ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2001 میں ہونے والے نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی کی تھی، جس کے نتیجے میں تقریباً 3000 افراد ہلاک ہوئے تھے۔طویل عرصے سے جاری قانونی کارروائیوں اور تشویشات کے باوجود، ملٹری جج کا حالیہ فیصلہ ان مقدمات کو ایک نئے موڑ پر لے آیا ہے، اور یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا استغاثہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گا یا نہیں۔

  • اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی امین الحق کی پولیس حراست میں تصویر سامنے آ گئی

    اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی امین الحق کی پولیس حراست میں تصویر سامنے آ گئی

    اسامہ بن لادن کے سابق قریبی ساتھی، ڈاکٹر امین الحق کی پولیس حراست میں تصویر سامنے آ گئی

    امین الحق کو پنجاب کے شہر گوجرانوالہ سے گرفتار کیا گیا تھا، جو تصویر سامنے آئی ہے اس میں پولیس سخت سیکورٹی میں امین الحق کو عدالت پیشی کے لیے لے کر جار ہی ہے،امین الحق نے سفید لبا س پہنا ہوا ہے اورپولیس نے ملزم کو ہتھکڑی لگائی ہوئی ہے،

    امین الحق افغان شہری ہے،اور اسکے پاس پاکستان کا شناختی کارڈ موجود ہے، امین الحق کے پاس موجود شناختی کارڈ کی کاپی پر سال 2020 کی تاریخ درج ہے پاکستانی شناختی کارڈ کے اجرا پر بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے، دوران تحقیقات امین الحق نے انکشاف کیا کہ کہ اس کی القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن سے 15 نومبر 2001 کو آخری ملاقات ہوئی تھی،

    ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سینئر جنگجو امین الحق کو سرائے عالمگیر سے گرفتار کرلیا ۔القاعدہ کے سینئر جنگجو امین الحق کی گرفتاری دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔ ترجمان کے مطابق عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا سینئر جنگجو امین الحق 1996 سے اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی اور کئی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا ۔ گرفتار دہشت گرد امین الحق کا نام اقوام متحدہ کی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے ۔سی ٹی ڈی نے دہشت گرد کی گرفتاری کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ۔ امین الحق کی گرفتاری پاکستان اور دنیا بھر میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جاری کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

    بنوں واقعہ پر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا تحقیقاتی کمیشن بنانے کا اعلان

  • اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی پنجاب سے گرفتار

    اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی پنجاب سے گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کاروائی، القاعدہ سربراہ اسامہ بن لادن کا انتہائی قریبی ساتھی گرفتار کر لیا

    سی ٹی ڈی پنجاب نے کاروائی کی ہے اور بڑی کامیابی ملی ہے،سی ٹی ڈی پنجاب کیمطابق القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے قریبی ساتھی اور عالمی سطح پہ مطلوب امین الحق کو گرفتار کرلیا گیا گیا ہے، القاعدہ کمانڈر جعلی دستاویزات کیساتھ پنجاب میں مقیم اور القاعدہ کی تنظیم نو کر رہا تھا ،

    ترجمان سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق سی ٹی ڈی نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کے سینئر جنگجو امین الحق کو سرائے عالمگیر سے گرفتار کرلیا ۔القاعدہ کے سینئر جنگجو امین الحق کی گرفتاری دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔ ترجمان کے مطابق عالمی دہشت گرد تنظیم القاعدہ کا سینئر جنگجو امین الحق 1996 سے اسامہ بن لادن کا قریبی ساتھی اور کئی دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث تھا ۔ گرفتار دہشت گرد امین الحق کا نام اقوام متحدہ کی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل ہے ۔سی ٹی ڈی نے دہشت گرد کی گرفتاری کا مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ۔ امین الحق کی گرفتاری پاکستان اور دنیا بھر میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے جاری کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہے ۔
     ترجمان سی ٹی دی نے بتایا کہ گرفتار دہشت گردامین الحق ملک میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کے منصوبے کو پلان کررہا تھا، یہ گرفتاری دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے میں حکومت پنجاب نے سی ٹی ڈی کی کاوشوں کو سراہا اور پوری قوت سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عزم کا اعادہ کیا۔ کاو ¿نٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب تندہی سے محفوظ پنجاب کے اپنے ہدف پر عمل پیرا ہے اور دہشت گردوں اور ریاست دشمن عناصر کو سلاخوں کے پیچھے پہنچانے کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جائے گی،انہوں نے کہا کہ کسی بھی متعلقہ معلومات کی صورت میں ہیلپ لائن پر کال کریں ۔ کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ پنجاب0800-11111 ۔

  • اسامہ بن لادن کوقتل کرنے والا امریکی فوجی گرفتار

    اسامہ بن لادن کوقتل کرنے والا امریکی فوجی گرفتار

    ٹیکساس: ایبٹ آباد میں ہونے والے فوجی آپریشن کے دوران القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کو گولیاں مارنے کا دعویٰ کرنے والا امریکی بحریہ کے اہلکار کو نشے کی حالت میں توڑ پھوڑ کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

    باغی ٹی وی: امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی بحریہ کے سابق اہلکار رابرٹ او نیل کو عوامی مقام پر نشے کی حالت میں ہنگامہ آرائی کرنے اور ایک خاتون پر حملہ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا گیا امریکی بحریہ کے سابق سیلر کو عوامی مقام پر نشہ کی حالت میں حملہ کرکے جسمانی چوٹ پہنچانے الزام میں کلاس اے اور بدعنوانی کے الزام میں سی کلاس کے مقدمے میں گرفتار کیا گیا بعد ازاں امریکی بحریہ کے سابق اہلکار رابرٹ او نیل کو 3 ہزار 500 ڈالر کی ضمانت پر رہا کردیا گیا تاہم اب کیس عدالت میں چلے گا جہاں ممکنہ طور پر قید اور جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔

    خواتین مردوں سے زیادہ دھوکے باز ہوتی ہیں، نئی تحقیق

    یاد رہے کہ امریکی بحریہ کا یہ اہلکار اُس وقت توجہ کا مرکز بنا تھا جب اس نے اپنی شناخت کو خفیہ نہ رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے فوکس نیوز پر ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ 2011 میں پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں امریکی فوج کی کارروائی میں اُسامہ بن لادن کو گولیاں میں نے ہی ماری تھیں امریکی بحریہ کے سابق اہلکار نے یہ کہانی اپنی 2017 کی یادداشت “دی آپریٹر” میں سنائی تھی اور ’دی نیویارک پوسٹ‘ کے مطابق امریکی حکومت نے کبھی بھی اس کہانی کی تصدیق یا تردید نہیں کی سابق امریکی اہلکار اس سے قبل بھی تنازعات کا شکار رہے ہیں اور 2016 میں بھی نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے الزام میں گرفتار ہوچکے ہیں۔

    افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا

  • اسامہ بن لادن آپریشن کے دن وائٹ ہاؤس کی خصوصی تصاویر پہلی بار منظر عام پر آگئیں

    اسامہ بن لادن آپریشن کے دن وائٹ ہاؤس کی خصوصی تصاویر پہلی بار منظر عام پر آگئیں

    واشنگٹن: کالعدم القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے خلاف کیے جانے والے امریکی فوجی آپریشن کو اس وقت کے امریکی صدر بارک اوبامہ، نائب صدر جوبائیڈن اور سیکریٹری خارجہ ہیلری کلنٹن سمیت دیگر اوبامہ انتظامیہ کے اعلیٰ ترین حکام نے براہ راست دیکھا تھا جس کی مزید خصوصی تصاویر پہلی مرتبہ منظر عام پر آگئی ہیں۔

    وائٹ ہاؤس میں موجود رہ کر امریکی فوجی کارروائی دیکھنے والوں میں اس وقت کے سیکریٹری دفاع باب گیٹس بھی شامل تھے۔ اسامہ بن لادن کیخلاف امریکی فوجی کارروائی پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں کی گئی تھی۔


    امریکی حکام کی جانب سے دیکھی جانے والی کارروائی کی تصاویر اور ویڈیوز بھی بنائی گئی تھیں جن میں سے ایک تصویر باقاعدہ ریلیزہوئی تھی تاکہ دنیا کو بتایا جا سکے کہ فوجی کارروائی کو براہ راست امریکی قیادت کی جانب سے مانیٹر بھی کیا گیا۔

    امتحانات میں ناکامی پر 9 طلبہ کی نے خودکشی کر لی

    امریکہ کے مؤقر انگریزی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اس وقت کھینچی گئیں مزید تصاویر کے حصول کے لیے فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ کے تحت درخواست دی جس کے جواب میں بارک اوبامہ کی صدارتی لائبریری سے مزید تصاویر حاصل کر کے شائع کردی ہیں۔


    واضح رہے کہ امریکی اخبار نے یکم مئی 2011 میں کیےجانے والے آپرشن کی تصویر اس وقت شائع کی ہیں جب دنیا ایک مرتبہ پھر یکم مئی منانے والی ہے۔

    مؤقر امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے شائع کی جانے والی تصاویر کے حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے سیچویشن روم میں اس وقت کے امریکی صدر بارک اوبامہ اور ان کے نائب صدر ( جو اس وقت امریکی صدر ہیں) جو بائیڈن کے چہروں پر تناؤ واضح تھا۔

    اے آئی چیٹ بوٹس کسی انسان جتنے ہی اچھے استاد ثابت ہو سکتے ہیں،بل گیٹس

    وائٹ ہاؤس میں اس وقت کے سیکریٹری دفاع باب گیٹس بھی موجود تھے۔ تصاویر میں اس وقت کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن اور اوبامہ انتظامیہ کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے جنہوں نے براہ راست امریکی فوجی سیل کی کارروائی دیکھی تھی۔

    شائع ہونے والی تصاویر میں اوبامہ کو سب کچھ غور سے دیکھتے اورسوالات پوچھتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے اور جب یہ بات سامنے آئی کہ کارروائی کامیاب ہو گئی ہے تو گیٹس کا ہاتھ ہلاتے ہوئے بھی تصویر کھینچی گئی ہے،گیٹس نے اس کے بعد سابق امریکی صدور جارج ڈبلیو بش اور بل کلنٹن سمیت دیگر عالمی رہنماؤں کو بتانے کے لیے فون کال بھی کی تھی۔

    امریکا میں ہیلی کاپٹرز کاخوفناک حادثہ، تمام ایوی ایشن یونٹس گراؤنڈ کردیئے گئے

    دی گارڈین نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اوبامہ لائبریری کے جاری کردہ ورژن میں میز پر موجود ایک دستاویز دھندلا ہوا ہے۔ لائبریری نے 307 تصاویر کو دکھایا ان کے مواد کو ‘قومی سلامتی کی درجہ بندی کی معلومات’ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

    لائبریری نے جو تصاویر جاری کیں وہ اوباما اور معاونین کے درمیان بات چیت کو ظاہر کرتی ہیں جن میں لیون پنیٹا، اس وقت کے سی آئی اے ڈائریکٹر بھی شامل ہیں۔ جیمز کلیپر، نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر؛ ٹام ڈونیلون، قومی سلامتی کے مشیر؛ اور بل ڈیلی، وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف شامل تھے،2020 میں، اوباما نے اپنی یادداشت، A Promised Land میں چھاپے کے بارے میں ہونے والی بات چیت کو بیان کیا۔

    ٹیکساس میں شور سے روکنے پربچے سمیت 5 افراد قتل

    سابق نائب صدر کی جانب سے وائٹ ہاؤس کے لیے ٹرمپ کو شکست دینے کے فوراً بعد جاری ہونے والی کتاب میں، اوباما نے بائیڈن کے بارے میں لکھا، "جو نے آپریشن کے خلاف وزن کیا۔”

    اوبامہ نے لکھا کہ جیسا کہ میں نے صدر کے طور پر کیے گئے ہر بڑے فیصلے میں سچ ثابت ہوا تھا، میں نے جو کی موجودہ مزاج پر قابو پانے اور سخت سوالات کرنے کی خواہش کی تعریف کی، اکثر مجھے وہ جگہ دینے کے مفاد میں جس کی مجھے اپنے اندرونی غور و فکر کے لیے ضرورت تھی۔

    بائیڈن واحد مشیر نہیں تھے اور واشنگٹن کے تجربہ کار چھاپے کے خلاف مشورہ دینے والے۔ اوباما نے لکھا کہ "وہ جانتے تھے کہ گیٹس کی طرح جو بھی ڈیزرٹ ون کے دوران واشنگٹن میں تھا۔

    سرکاری لائن سے تیل چرانے والے دو افراد مٹی میں دب کر ہلاک

    اپریل 1980 میں صدر جمی کارٹر کی طرف سے حکم دیا گیا، ڈیزرٹ ون ایران میں امریکی یرغمالیوں کو بچانے کی ایک کوشش تھی جو بری طرح غلط ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایک ہیلی کاپٹر کے حادثے میں آٹھ امریکی ہلاک ہوئے اور کارٹر کے دوبارہ انتخاب کی امیدوں کو شدید نقصان پہنچا۔ اوباما اپنی دوبارہ انتخابی مہم سے ایک سال باہر تھے جب انہوں نے بن لادن کے خلاف آپریشن کا حکم دیا۔

  • کراچی پولیس نے اسٹریٹ کرائمز میں ملوث اسامہ بن لادن کو گرفتار کر لیا

    کراچی پولیس نے اسٹریٹ کرائمز میں ملوث اسامہ بن لادن کو گرفتار کر لیا

    کراچی پولیس نے اسٹریٹ کرائمز میں ملوث اسامہ بن لادن کو گرفتار کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں پولیس کی جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں

    ضلع ویسٹ پولیس نے اسٹریٹ کرائم میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔ تھانہ اورنگی پولیس نے چھاپہ مار کاروائی کرکے ملزم اسامہ بن لادن ولد محمد انور کو گرفتار کیا۔ گرفتار ملزم کے قبضے سے وارداتوں میں استعمال ہونے والا اسلحہ بمعہ ایمونیشن برآمد کر لیا گیا،گرفتار ملزم کیخلاف ضابطے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملزم کی شناخت و تفتیش جاری ہے، ترجمان پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کا سابقہ کرمنل ریکارڈ مختلف اضلاع سے حاصل کیا جا رہا ہے۔

    علاوہ ازیں ضلع ویسٹ پولیس نے خود کو جعلی سرکاری ملازم ظاہر کرنے والے ملزم کو گرفتار کرلیا۔ملزم نے تھانہ اورنگی میں آکر خود کو پولیس ملازم ظاہر کیا۔ تھانہ اورنگی پولیس نے مشکوک جان کر بائیومیٹرک تلاش ڈیوائیس کے ذریعے ملزم کی تصدیق کی۔ بعد تصدیق ملزم عبدالرفیق ولد عبدالجلیل کو ضابطے کے تحت گرفتار کیا گیا۔گرفتار ملزم کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، ملزم قبل از بھی قتل اور غیر قانونی اسلحہ کے ذیل مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جاچکا ہے۔

    کراچی کی مچھر کالونی کی سن لی گئی،سی پیک سے متعلق سست روی کا تاثر غلط ہے،خالد منصور

    شہر قائد میں سی ٹی ڈی کی کاروائی، دو دہشت گرد گرفتار

  • نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    نائن الیون اور خطے پر اس کے اثرات — نعمان سلطان

    آج سے 21 برس قبل 11 ستمبر 2001 بروز منگل خودکش حملہ آوروں نے چار امریکی مسافر بردار طیارے اغوا کئے ان میں سے دو طیاروں کا ہدف ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی عمارت تیسرے طیارے کا ہدف پینٹاگون اور چوتھے طیارے کا ہدف ممکنہ طور پر واشنگٹن میں واقع امریکی پارلیمان کی عمارت کیپیٹل ہل تھی ۔

    چار طیارے اغوا کرنے والے ہائی جیکروں کی کل تعداد 19 تھی جن میں سے کم از کم چار پائلٹ تھے اور انہوں نے جہاز اڑانے کی تربیت بھی امریکہ میں ہی حاصل کی تھی ان لوگوں کا مقصد ایک ہی دن امریکہ کے اہم اور حساس مقامات پر حملہ کر کے دنیا کی توجہ امریکہ کے مظالم کی طرف مبذول کروانی تھی ۔

    امریکی وقت کے مطابق صبح 08.46 منٹ پر پہلا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے شمالی ٹاور سے ٹکرایا جس کی وجہ سے ٹاور کی 93 نمبر سے 99 نمبر تک منزلوں کو شدید نقصان پہنچا، میڈیا کے لئے یہ انتہائی اہم خبر تھی موقع پر فوراً میڈیا کوریج شروع ہو گئی اور لائیو کوریج کے دوران ہی پہلا طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرانے کے تقریباً 18 منٹ بعد 09.03 منٹ پر دوسرا اغوا شدہ طیارہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جنوبی ٹاور سے ٹکرایا جسے کروڑوں لوگوں نے لائیو اپنی ٹیلی ویژن سکرینوں پر دیکھا۔

    طیاروں کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے اس ٹکراؤ کے نتیجے میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دونوں ٹاور منہدم ہو گئے اور تقریباً 2606 افراد کی ہلاکت ہوئی ان ہلاک شدگان میں امدادی کارکن بھی شامل ہیں جو حادثے کے بعد جائے حادثہ پر امدادی کارروائیاں کرتے ہوئے ہلاک ہوئے اور کچھ لوگ حادثے میں زخمی ہو کر زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں ہلاک ہوئے ۔

    تیسرے اغوا شدہ طیارے نے امریکی محکمہ دفاع کی عمارت پینٹاگون کے مغربی حصے کو مقامی وقت کے مطابق 09.37 پر نشانہ بنایا اس حملے میں عمارت میں موجود 125 لوگ ہلاک ہوئے، چوتھا طیارہ اپنی ممکنہ منزل پر طیارے میں موجود مسافروں یا عملے کی مزاحمت کی وجہ سے نہ پہنچ سکا اور مقامی وقت کے مطابق 10.03 منٹ پر گر کر تباہ ہو گیا ۔

    ان حملوں میں 19 ہائی جیکروں، تمام طیاروں کے مسافروں عملے اور ہدف عمارتوں میں موجود لوگوں سمیت مجموعی طور پر 2977 افراد مارے گئے مرنے والوں کی اکثریت کا تعلق نیویارک سے تھا، حملہ کرنے والے ہائی جیکروں نے اپنے تین اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جبکہ وہ اپنے ایک ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہے ۔

    امریکہ نے تحقیقات کے نتیجے میں ان حملوں کا الزام القاعدہ پر عائد کیا اور القاعدہ کے اس وقت کے سربراہ اسامہ بن لادن پر خالد شیخ محمد کے ذریعے دہشت گرد حملے کی پلاننگ کرنے اور حملے کے لئے دہشت گردوں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا، اسامہ بن لادن کا اس وقت قیام افغانستان میں تھا چنانچہ امریکی حکومت نے اس وقت کی افغانستان کی حکومت کے سربراہ ملا عمر سے مطالبہ کیا کہ اسامہ بن لادن کو غیر مشروط طور پر امریکہ کے حوالے کیا جائے تاکہ ان کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے ۔

    افغانستان کی حکومت نے امریکہ کو اسامہ بن لادن کی حوالگی کے حوالے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ اسامہ افغانستان میں ہمارے مہمان ہیں اور مہمان نوازی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم انہیں ان کے دشمنوں کے حوالے نہ کریں لیکن اگر انہوں نے بےگناہ انسانوں کا خون بہانے کے لئے افغانستان کی سرزمین کا استعمال کیا ہے تو ہم ان کے اس طرزِ عمل کی بالکل حمایت نہیں کرتے آپ ہمیں اسامہ کے نائن الیون میں ملوث ہونے کے ثبوت فراہم کریں ہم ان کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی کریں گے ۔

    طاقت کے نشے میں چور جارج ڈبلیو بش نے ملا عمر کی اس آفر کو حقارت سے ٹھکرا دیا اور افغانستان کو سنگین نتائج کی دھمکی دی لیکن ملا عمر اپنے موقف پر ڈٹے رہے چنانچہ جارج بش نے اتحادیوں کے ہمراہ افغانستان پر حملہ کر دیا اس حملے کے نتیجے میں افغانستان سے طالبان کی حکومت کا خاتمہ ہو گیا لیکن امریکہ اسامہ بن لادن کو ختم نہ کر سکا۔

    امریکہ نے افغانستان پر حملہ کرنے سے پہلے پاکستان کو بھی اتحاد میں شامل ہونے کی دعوت دی اور انکار پر پتھر کے دور میں پہنچانے کی دھمکی دی اس وقت ملک میں جنرل پرویز مشرف کی حکومت تھی انہوں نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر امریکہ کی حمایت کا اعلان کر دیا، افغانستان کی جنگ کی وجہ سے بہت بڑی تعداد میں لوگ ہجرت کر کے پاکستان آئے ۔

    پاکستان کی افغانستان میں جنگ کے دوران مبہم پالیسیوں کی وجہ سے طالبان اور القاعدہ دونوں پاکستان سے بدظن ہو گئے اور ان کے مختلف گروپوں نے ردعمل کے طور پر پاکستان میں خودکش دھماکے شروع کر دیئے ان دھماکوں کی وجہ سے پاکستان کو بےپناہ جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا جبکہ مہاجرین کی وجہ سے پاکستان کی معیشت پر شدید بوجھ پڑا جبکہ ان مہاجرین میں موجود جرائم پیشہ افراد کی وجہ سے پاکستان میں امن و امان کا مسئلہ پیدا ہوا اور سیاحت تقریباً ختم ہو گئی ۔

    ملاعمر بعد میں بیمار ہو کر فوت ہوئے،نائن الیون کے مبینہ منصوبہ ساز خالد شیخ محمد کو 2003 میں پاکستان سے گرفتار کر کے گوانتانا موبے رکھا گیا جہاں سے ان کے بارے میں مزید خبر نہیں ہے جبکہ اسامہ بن لادن 2011 میں ایبٹ آباد میں ایک امریکی آپریشن کے دوران مارے گئے ابھی حال ہی میں اسامہ کے بعد القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی بھی افغانستان میں ڈرون حملے میں ہلاکت کی خبریں ہیں ۔

    امریکہ 20 سال افغانستان میں اپنا گولہ بارود ضائع کر کے اور معیشت کی تباہی کر کے واپس جا چکا ہے افغانستان میں دوبارہ طالبان کی حکومت آ گئی ہے القاعدہ بھی اپنے نئے سربراہ کے ساتھ پرانے نظریات پر کام کر رہی ہے، القاعدہ سے بڑی شدت پسند تنظیم داعش کا بھی ظہور اور قلع قمع ہو چکا ہے لیکن امریکہ کے اس گناہ بے لذت کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کی تباہی نکل گئی ہے اور اس وقت پاکستان ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑا ہے اس ساری گیم میں سب سے زیادہ نقصان پاکستان نے اٹھایا کہ اب اس کے اتحادی اور مخالف دونوں اسے ناقابل اعتبار سمجھتے ہیں ۔

  • ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ

    ریاست پاکستان کا بیانیہ …. محمد عبداللہ

    باجوہ صاحب کے ساتھ ہوتے ہوئے کوئی بھی بیان بازی خان صاحب کی ذاتی نہیں ہوسکتی بلکہ جو بھی اسٹیٹمنٹس دی جائیں گی وہ اسٹیبلیشمنٹ اور حکومت کا متفقہ بیانیہ ہوگا.
    اور مان لیجیئے کہ ریاست پاکستان کا فی زمانہ بیانیہ یہی ہے. ماضی قریب میں وقوع پذیر والے واقعات کو ہی بطور مثال لے لیں، مذہبی و جہادی سوچ کی حامل جماعتوں پر پابندی اور انکی قیادت کی گرفتاری، کشمیر میں موجود جہادی گروہوں کے بارے میں بھارت کو انٹیلیجنس معلومات دینا، سلامتی کونسل میں بھارت کو ووٹ دینا، کشمیر کے ایشو پر وقتی چپ سادھ لینا، افغانستان ایشو پر دو ٹوک موقف رکھنا، افغان پناہ گزینوں کی واپسی، مغربی سرحد پر باڑھ کا لگنا ، پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنا، کرپشن چارجز پر جیلیں بھرنا اور اب امریکہ کے دورے میں ٹرمپ کی ہاں میں ہر طرح سے ہاں ملانا اور اسامہ بن لادن تک سی آئی اے کی رسائی میں آئی ایس آئی کے کردار کا اعتراف کرنا یہ سب ماضی قریب ہی کہ واقعات ہیں جو واضح کرتے ہیں کہ ریاست پاکستان اپنا چہرہ واقعی ہی میں تبدیل کرنے جا رہی ہے. جنرل مشرف کے نئے پاکستان کی طرز پر یہ بھی اک بالکل نیا پاکستان بننے جا رہا ہے. جنرل مشرف نے جو حکمت عملی اپنائی تھی فی زمانہ اسی کی وسیع و عریض شکل کو رائج کیا جا رہا ہے. اس لیے آپ حالیہ بیانات کو چولیں کہیں یا کچھ اور، ان کا دفاع کریں یا کہ تنقید، پاکستان کی حکومت اور اسٹیبلیشمنٹ ایک پیج پر ہیں تو یہ سب کچھ وقوع پذیر ہونا ہے. آپ مزید کی بھی توقع رکھ سکتے ہیں.

     

    Muhammad Abdullah