Baaghi TV

Tag: اسامہ ستی

  • اسامہ ستی قتل کی: مجرم پولیس اہل کاروں نے سزا کا فیصلہ چیلنج کردیا

    اسامہ ستی قتل کی: مجرم پولیس اہل کاروں نے سزا کا فیصلہ چیلنج کردیا

    اسلام آباد: اسامہ ستی قتل کیس میں مجرم قرار دیے گئے پولیس اہل کاروں نے سزا کا فیصلہ چیلنج کردیا۔

    باغی ٹی وی: کیس میں سزائے موت پانے والے 2 پولیس اہل کاروں نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا پولیس اہلکاروں کی اپیل پر اسلام آباد ہائی کورٹ کا جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس طارق محمود جہانگیری پر مشتمل 2 رکنی بینچ آج سماعت کرے گا ۔

    اسامہ ستی قتل کیس، فیصلہ آ گیا،عدالت نے ملزمان کو سنائی سزا

    درخواست میں پولیس اہلکار افتخار احمد اور محمد مصطفی کی سزائے موت کو کالعدم قرار دینے کی استدعا کی گئی ہے درخواست مزید کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ کا فیصلہ قانون سے متصادم ہے ، کالعدم قرار دیا جائے ۔ ٹرائل کورٹ کی طرف سے سنائی گئی سزا کو ختم کر کے مقدمے سے بری کیا جائے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) پولیس کے اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے نوجوان اسامہ ستی قتل کیس میں عدالت نے 2 ملزمان کو سزائے موت اور 3 کو عمر قیدکی سزا سنائی تھی

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد میں ایڈیشنل سیشن جج زیبا چوہدری نے اسامہ ستی کیس کا محفوظ فیصلہ سنایا تھا عدالت نے 31 جنوری کو ٹرائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کیا تھا، کیس کا ٹرائل دو سال اور ایک ماہ جاری رہا،اسامہ ستی قتل کیس میں سزا پانے والے تمام افراد کا تعلق اینٹی ٹیررازم اسکواڈ سے ہے۔

    ملزم افتخار احمد اور محمد مصطفیٰ کو سزائے موت جب کہ سعید احمد، شکیل احمد اور مدثر مختار کو عمرقیدکی سزاسنائی گئی، افتخار احمد اور محمد مصطفیٰ پر ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا-

    اسامہ ستی قتل کیس،گواہان پر دوبارہ جرح کی درخواست سماعت کیلیے مقرر

    واضح رہےکہ 22 سالہ اسامہ ندیم ستی کی تعلق کوٹلی ستیاں سے تھا اور وہ ایف ایس سی کے طالبعلم تھے اور اسلام آباد میں ہی رہائش پذیر تھے۔ وہ اپنے تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھےاسامہ ستی کو جنوری 2021 کو اسلام آباد میں سری نگر ہائے وے پر رات ڈیڑھ بجے اینٹی ٹیررازم اسکواڈ (اے ٹی ایس) کے اہلکاروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا تھا۔

    ابتدائی طور پر پولیس نے واقعےکو ڈکیتی کا رنگ دیا تھا،بعد ازاں پانچ پولیس اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کے خلاف انسداد دہشت گردی اور قتل کی دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی نوجوان طالب علم کی ہلاکت کے واقعے کی فوری جوڈیشل انکوائری کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    اس واقعے پر پولیس کا مؤقف تھا کہ ڈکیتی کی کال چلنے کے بعد مشکوک معلوم ہونے والی کالے شیشوں والی گاڑی کو اے ٹی ایس اہلکاروں نے روکنے کی کوشش کی اور گاڑی نہ روکنے پر فائرنگ کے نتیجے میں اسامہ ستی کی ہلاکت ہوئی تھی۔

    پولیس کے مطابق فائرنگ کے واقعے کے وقت مقتول گاڑی میں اکیلا تھا اور تھانہ رمنا کی جانب سے فائرنگ کے واقعے میں ملوث پانچ اہلکاروں کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    اسامہ ستی قتل کیس، وفاقی کابینہ کا اہم فیصلہ، وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    اسامہ ستی قتل کیس ، پولیس افسران ملزمان کو بچانے کے لیے سرگرم

    مقتول کے والد ندیم ستی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر میں ان پانچ اہلکاروں کو نامزد کیا گیا تھا اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ’اسامہ نے گذشتہ روز ان سے ذکر کیا تھا کہ ان کی پولیس کے کچھ اہلکاروں سے تلخ کلامی ہوئی تھی جس پر انھوں نے یہ دھمکی دی تھی کہ ہم تمھیں مزہ چکھائیں گے۔‘

    ایف آئی آر کے مطابق اسامہ کی گاڑی پر مختلف اطراف سے تقریباً 17 گولیاں چلائی گئیں جبکہ ملزمان پر دفعہ 302 اور دہشتگردی کی دفعہ 7 اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

    اسامہ ستی کی مدعیت میں درج کروائی گئی ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ ’دو جنوری کی رات دو بجے کے قریب میرا بیٹا اپنے دوست کو ایچ الیون نزد نسٹ یونیورسٹی چھوڑنے گیا۔ واپسی پر مذکورہ بالا پولیس اہلکاروں نے اس کی گاڑی کا پیچھا کیا اور گاڑی کو ٹکر مارنے کے بعد فائرنگ کی جس سے میرا بیٹا موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔‘

    اس واقعے کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز اسلام آباد کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے کی گئی ایک ٹویٹ میں واقعے کی ابتدائی تفصیلات بتائی گئی تھیں۔ ان کے مطابق پولیس کو رات کو کال ملی کہ گاڑی میں سوار ڈاکو شمس کالونی کے علاقہ میں ڈکیتی کی کوشش کر رہے ہیں، اے ٹی ایس پولیس کے اہلکاروں نے جو علاقہ میں گشت پر تھے، مشکوک گاڑی کا تعاقب کیا۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ ’پولیس نے کالے شیشوں والی مشکوک گاڑی کوروکنے کی کوشش کی تو ڈرائیور نے گاڑی بھگا دی پولیس نے متعدد بار جی 10 تک گاڑی کا تعاقب کیا نہ رکنے پر گاڑی کے ٹائروں میں فائر کیے، بدقسمتی سے دو فائر گاڑی کے ڈرائیور کو لگ گئے جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔‘

    جبکہ اس مقدمے کی سماعت کے دوران اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے ریمارکس دیے تھے کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پولیس ملزمان سے ملی ہوئی ہے اور اپنے پیٹی بند بھائیوں کو بچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

    پولیس فائرنگ سے جاں بحق اسامہ سٹی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی،کتنی گولیاں لگیں؟

    اسامہ ستی کی ہلاکت کے مقدمے کی سماعت کے لیے پاکستان کہ ایوان بالا یعنی سینیٹ کی انسانی حقوق سے متعلقہ قائمہ کمیٹی نے اس مقدمے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کو کہا تھا کہ وہ متاثرہ خاندان کو تحقیقاتی عمل کا حصہ بنائیں۔

    اسامہ ستی کے لواحقین نے قائمہ کمیٹی میں قتل کی تحقیقات پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ گاڑی کے چاروں اطراف سے گولیاں چلائی گئیں جبکہ گاڑی کے اندر خون کے نشانات نہیں ہیں۔

    اُنھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ گاڑی کو تھانے میں کھڑا کر کے گولیاں ماری گئیں جو اس مقدمے کو خراب کرنے کی ایک کوشش ہے۔ لواحقین نے قائمہ کمیٹی کو یہ بھی بتایا کہ اُنھیں نہ جے آئی ٹی میں بلایا گیا اور نہ ہی ابھی تک جوڈیشل انکوائری کے سامنے طلب کیا گیا۔

    جس طرح تحقیقات کروانا چاہیں حکومت تیار ہے، شیخ رشید کا اسامہ ستی کے والد کو فون

    پولیس اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے،مقتول اسامہ ستی کے والد کی درخواست

  • اسامہ ستی قتل کیس، فیصلہ آ گیا،عدالت نے ملزمان کو سنائی سزا

    اسامہ ستی قتل کیس، فیصلہ آ گیا،عدالت نے ملزمان کو سنائی سزا

    اسامہ ستی قتل کیس ،افتخار احمد اور محمد مصطفی کو سزائے موت سنا دی گئی

    سیشن کورٹ اسلام آباد نے کیس کا فیصلہ یکم فروری کو محفوظ کیا تھا جو آج سنا دیا گیا ہے، عدالت نے دو ملزمان کو سزائے موت، تین ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی ہے، عدالت نے افتخار اور مصطفیٰ کو سزائے موت، سعید احمد ، شکیل احمداور مدثر مختار کو عمر قید کی سزا سنائی ہے،عدالت نے افتخار احمد اور محمد مصطفی کو ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ کی بھی سزا سنائی ہے جج زیباچودھری نے اسامہ ستی قتل کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنا دیا

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،اسامہ ستی قتل کیس میں عدالت نے پانچوں مجرمان کے وارنٹ جاری کردیے ،عدالت نے مجرمان محمد مصطفیٰ اور افتخار احمد کے سزائے موت کے وارنٹ جاری کردیے ،عدالتی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ محمد مصطفیٰ اور افتخار احمد ایک ایک لاکھ روپے مدعی کو بطور کمپینسیشن ادا کریں،مجرمان مصطفیٰ اور افتخار کی جانب سے مدعی کو کمپینسیشن رقم ادا نہ کرنے پر مزید ایک ایک سال قید کی سزا ہوگی،دیگر دفعات کےتحت مجرمان مصطفیٰ اور افتخار کو تین تین سال قید اور بیس بیس ہزار روپے جرمانے کی سزا دی گئی، عدالت نے مجرمان شکیل احمد، سعید احمد اور مدثر مختار کے عمر قید کے وارنٹ سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کو جاری کردیے ،عدالتی فیصلہ میں کہا گیا کہ مجرمان شکیل، سعید اور مدثر ایک ایک لاکھ روپے بطور کمپینسیشن مدعی کو ادا کریں، دیگر دفعات کے تحت مجرمان شکیل، سعید اور مدثر کو تین تین سال قید اور بیس بیس ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا،ایڈیشنل سیشن جج زیباچوہدری نے سپریڈنٹ اڈیالہ جیل کو تمام مجرمان کے وارنٹ جاری کردیے

    اسامہ ستی قتل کیس، عدالتی فیصلے پر اسلام آباد پولیس کا ردعمل بھی آیا، ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس اور پراسیکیوشن نے مل کر کیس کی تمام کارروائی مکمل کی۔پولیس خود احتسابی کے عمل میں ہرگز نرمی نہیں کرے گی۔ طاقت کے استعمال کے حوالے سے ناکوں پرموجود تمام جوانوں کی تربیت کی جائے گی۔ تاکہ دوبارہ ایسے واقعات پیش نہ آئیں۔ عدالتوں کے مشکور ہیں جنہوں نے شواہد اور واقعات کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی کی۔

    واضح رہے 2 جنوری کو اسلام آباد جی ٹین میں اے ٹی ایس اہل کاروں کی فائرنگ سے کار سوار نوجوان 21 سالہ اسامہ ستی جاں بحق ہوگیا تھا۔ والد اسامہ ستی نے کہا کہ میرے بیٹے کو جان بوجھ کر گولیاں ماری گئیں، وفاقی پولیس نے قتل میں ملوث 5 اہل کاروں سب انسپکٹر افتخار، کانسٹیبل مصطفیٰ، شکیل، مدثر اور سعید کو قصور وار ثابت ہونے پر پولیس سروس سے برطرف کر دیا تھا،

    پولیس فائرنگ سے جاں بحق اسامہ سٹی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی،کتنی گولیاں لگیں؟

    اسامہ ستی قتل کیس، وفاقی کابینہ کا اہم فیصلہ، وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    اسامہ ستی قتل کیس ، پولیس افسران ملزمان کو بچانے کے لیے سرگرم

    جس طرح تحقیقات کروانا چاہیں حکومت تیار ہے، شیخ رشید کا اسامہ ستی کے والد کو فون

    پولیس اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے،مقتول اسامہ ستی کے والد کی درخواست

    اسامہ ستی کے والد ندیم ستی نے چیف جسٹس اور وزیر اعظم سے انصاف کی اپیل کی تھی ،ندیم ستی کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے اسامہ ستی کو 2 جنوری 2021 کو نا حق قتل کیا گیا، رات 2 بجے بیٹے کو پولیس اہلکاروں نے شہید کیا جس سے شہر میں خوف وہراس پھیلا ،واقعے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے مجھے ملاقات کے لیے بلایا عمران خان سے ملاقات کے بعد واقعے کی جوڈیشل انکوائری، اور جے آئی ٹی بنائی گئی،جوڈیشل انکوائری اور جے آئی ٹی کی رپورٹس عدالت میں پیش ہوئیں انسداد دہشت گردی عدالت میں ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ،کئی گواہوں کے بیانات بھی قلمبند ہو چکے لیکن کیس سست روی کا شکار رہا، ، اسامہ ستی کیس کے بعد نور مقدم، عثمان مرزا اور سری لنکن شہری کے کیس سامنے آئے، تینوں کیسوں کے فیصلے آ چکے لیکن اسامہ ستی کیس کا فیصلہ آج سنایا گیا، عدالت نے ملزمان کو سزا سنا دی ہے

  • اسامہ ستی قتل کیس،گواہان پر دوبارہ جرح کی درخواست سماعت کیلیے مقرر

    اسامہ ستی قتل کیس،گواہان پر دوبارہ جرح کی درخواست سماعت کیلیے مقرر

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیشن کورٹ اسلام آباد میں اسامہ ستی قتل کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے ٹرائل کےدوران 33 گواہان کے بیانات قلمبند کئے،مقدمے میں بننے والی جے آئی ٹی کے ممبران کے بیانات بھی قلمبند کئے گئے،وکیل مدعی نے دو گواہان پر دوبارہ جرح کی درخواست سیشن کورٹ اسلام آباد دائرکر دی ہے ،وکیل نے نقشہ نویس اور وقوعے کے وقت تھانہ شمس کالونی کے ایس ایچ او پر دوبارہ جرح کی استدعا کر دی،عدالت نے گواہان پر دوبارہ جرح کی درخواست پیر کو سماعت کے لیے مقررکر دی،

    سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کیس اے ٹی سی سے سیشن عدالت منتقل ہوا تھا اسامہ ستی قتل کیس میں گرفتار 4پولیس اہلکار جیل میں قید ہیں اب تک ایک ملزم پولیس اہلکار کی ضمانت ہائیکورٹ نے منظور کر رکھی ہے نوجوان اسامہ ستی کو پونے دو سال قبل جی نائن کے قریب فائرنگ سے قتل کردیا گیا تھا

    پولیس فائرنگ سے جاں بحق اسامہ سٹی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی،کتنی گولیاں لگیں؟

    اسامہ ستی قتل کیس، وفاقی کابینہ کا اہم فیصلہ، وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    اسامہ ستی قتل کیس ، پولیس افسران ملزمان کو بچانے کے لیے سرگرم

    جس طرح تحقیقات کروانا چاہیں حکومت تیار ہے، شیخ رشید کا اسامہ ستی کے والد کو فون

    پولیس اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے،مقتول اسامہ ستی کے والد کی درخواست

    واضح رہے 2 جنوری کو اسلام آباد جی ٹین میں اے ٹی ایس اہل کاروں کی فائرنگ سے کار سوار نوجوان 21 سالہ اسامہ ستی جاں بحق ہوگیا تھا۔ والد اسامہ ستی نے کہا کہ میرے بیٹے کو جان بوجھ کر گولیاں ماری گئیں، وفاقی پولیس نے قتل میں ملوث 5 اہل کاروں سب انسپکٹر افتخار، کانسٹیبل مصطفیٰ، شکیل، مدثر اور سعید کو قصور وار ثابت ہونے پر پولیس سروس سے برطرف کر دیا ہے،

    اسامہ ستی کے والد ندیم ستی نے چیف جسٹس اور وزیر اعظم سے انصاف کی اپیل کی ہے ،ندیم ستی کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے اسامہ ستی کو 2 جنوری 2021 کو نا حق قتل کیا گیا، رات 2بجے بیٹے کو پولیس اہلکاروں نے شہید کیا جس سے شہر میں خوف وہراس پھیلا ،واقعے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے مجھے ملاقات کے لیے بلایا عمران خان سے ملاقات کے بعد واقعے کی جوڈیشل انکوائری، اور جے آئی ٹی بنائی گئی،جوڈیشل انکوائری اور جے آئی ٹی کی رپورٹس عدالت میں پیش ہوئیں انسداد دہشت گردی عدالت میں ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ،کئی گواہوں کے بیانات بھی قلمبند ہو چکے لیکن کیس سست روی کا شکار ہے، اسامہ کیس کے بعد نور مقدم، عثمان مرزا اور سری لنکن شہری کے کیس سامنے آئے، تینوں کیسوں کے فیصلے آ چکے لیکن ہم اب بھی انتظار کر رہے ہیں، چیف جسٹس اور وزیر اعظم سے اپیل ہے کہ انصاف کیا جائے اسامہ ستی کیس کا فیصلہ بھی جلد سنایا جائے ،

  • اے ٹی سی اسلام آباد میں اسامہ ستی قتل کیس کا ٹرائل التوا کا شکار

    اے ٹی سی اسلام آباد میں اسامہ ستی قتل کیس کا ٹرائل التوا کا شکار

    اے ٹی سی اسلام آباد میں اسامہ ستی قتل کیس کا ٹرائل التوا کا شکار ہو گیا

    اسامہ ستی کے والد ندیم ستی نے چیف جسٹس اور وزیر اعظم سے انصاف کی اپیل کی ہے ،ندیم ستی کا کہنا تھا کہ میرے بیٹے اسامہ ستی کو 2 جنوری 2021 کو نا حق قتل کیا گیا، رات 2بجے بیٹے کو پولیس اہلکاروں نے شہید کیا جس سے شہر میں خوف وہراس پھیلا ،واقعے کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے مجھے ملاقات کے لیے بلایا عمران خان سے ملاقات کے بعد واقعے کی جوڈیشل انکوائری، اور جے آئی ٹی بنائی گئی،جوڈیشل انکوائری اور جے آئی ٹی کی رپورٹس عدالت میں پیش ہوئیں انسداد دہشت گردی عدالت میں ملزمان پر فرد جرم عائد ہو چکی ،کئی گواہوں کے بیانات بھی قلمبند ہو چکے لیکن کیس سست روی کا شکار ہے، اسامہ کیس کے بعد نور مقدم، عثمان مرزا اور سری لنکن شہری کے کیس سامنے آئے، تینوں کیسوں کے فیصلے آ چکے لیکن ہم اب بھی انتظار کر رہے ہیں، چیف جسٹس اور وزیر اعظم سے اپیل ہے کہ انصاف کیا جائے اسامہ ستی کیس کا فیصلہ بھی جلد سنایا جائے ،

    پولیس فائرنگ سے جاں بحق اسامہ سٹی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی،کتنی گولیاں لگیں؟

    اسامہ ستی قتل کیس، وفاقی کابینہ کا اہم فیصلہ، وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    اسامہ ستی قتل کیس ، پولیس افسران ملزمان کو بچانے کے لیے سرگرم

    جس طرح تحقیقات کروانا چاہیں حکومت تیار ہے، شیخ رشید کا اسامہ ستی کے والد کو فون

    پولیس اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے،مقتول اسامہ ستی کے والد کی درخواست

    واضح رہے 2 جنوری کو اسلام آباد جی ٹین میں اے ٹی ایس اہل کاروں کی فائرنگ سے کار سوار نوجوان 21 سالہ اسامہ ستی جاں بحق ہوگیا تھا۔ والد اسامہ ستی نے کہا کہ میرے بیٹے کو جان بوجھ کر گولیاں ماری گئیں، وفاقی پولیس نے قتل میں ملوث 5 اہل کاروں سب انسپکٹر افتخار، کانسٹیبل مصطفیٰ، شکیل، مدثر اور سعید کو قصور وار ثابت ہونے پر پولیس سروس سے برطرف کر دیا ہے،

  • اسامہ ستی قتل کیس، ضمانت منسوخی کی درخواست پرسماعت ملتوی

    اسامہ ستی قتل کیس، ضمانت منسوخی کی درخواست پرسماعت ملتوی

    اسامہ ستی قتل کیس، ضمانت منسوخی کی درخواست پرسماعت ملتوی

    سپریم کورٹ میں اسامہ ستی کے قتل میں ملوث ملزم کی ضمانت منسوخی کا کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے ملزم کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر طلب کر لیا دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کی ملزمان کی درخواست پر بھی فریقین کو نوٹس جاری کر دیئے گئے،وکیل والد اسامہ ستی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے حقائق کے برعکس ملزم کو ضمانت دی،جب ملزم کو ضمانت دی گئی تب دہشت گردی کی دفعہ نہیں لگی تھی ،جسٹس سردار طارق مسعود نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ملزم کو طلب کر کے کیس کو مزید سنیں گے،عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی

    مقتول اسامہ ستی کے والد نوید ستی کی مدعیت میں پانچ پولیس اہلکار ملزمان کے خلاف اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں قتل اور دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمہ درج ہے

    اسلام آباد میں پولیس کی فائرنگ سے جا ں بحق ہونیوالے اسامہ ستی قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ جاری کر دی گئی ہے،جوڈیشل کمیشن کی انکوائری رپورٹ میں اینٹی ٹیررازم اسکواڈ اسلام آباد کے اہلکاروں کو اسامہ ستی کے قتل کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔ جوڈیشل انکوائری رپورٹ میں پانچوں اہلکاروں کے خلاف دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ چلانے کی سفارش کی گئی ہے۔

    چیف کمشنر نے رپورٹ وزارت داخلہ میں جمع کرا دی، جوڈیشل انکوائری ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر رانا محمد وقاص نے کی ۔چیف کمشنر نے اس کیس کی ہائی کورٹ کے جج سے جوڈیشل انکوائری کرانے کی سمری بھی وزارت داخلہ کو ارسال کر دی۔ متعلقہ ایس پی اور ڈی ایس پی نے غیر ذمہ داری دکھائی، دونوں افسران کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، اسامہ ستی کیس پر عوامی ردِ عمل شدید تھا، ملزمان کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلایا جائے۔

    پولیس فائرنگ سے جاں بحق اسامہ سٹی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی،کتنی گولیاں لگیں؟

    اسامہ ستی قتل کیس، وفاقی کابینہ کا اہم فیصلہ، وزیراعظم کا دبنگ اعلان

    اسامہ ستی قتل کیس ، پولیس افسران ملزمان کو بچانے کے لیے سرگرم

    جس طرح تحقیقات کروانا چاہیں حکومت تیار ہے، شیخ رشید کا اسامہ ستی کے والد کو فون

    پولیس اہلکاروں کو بچانے کی کوشش کی جارہی ہے،مقتول اسامہ ستی کے والد کی درخواست

    رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اے ٹی ایس کمانڈوز کی تعیناتی ماہر نفسیات کی رائے اور کارکردگی کی بنیاد پر ہونی چاہیے، اے ٹی ایس اہل کاروں کو فورسز کے ساتھ کام کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، اور ان کی خدمات ایس پی کی منظوری کے بغیر نہیں لی جانی چاہیے۔ وائرلیس ریکارڈ اہم ہوتا ہے، آئی جی نظام کی بہتری کے لیے اقدامات کریں، آئی جی اہل کاروں کو ہدایت دیں کہ سنسنی کی بجائے حقیقی تفصیل دیں، پولیس مانیٹرنگ کا نظام کمزور ہے، سینئر افسر کو صورت حال کا کنٹرول لینا چاہیے۔

    واضح رہے 2 جنوری کو اسلام آباد جی ٹین میں اے ٹی ایس اہل کاروں کی فائرنگ سے کار سوار نوجوان 21 سالہ اسامہ ستی جاں بحق ہوگیا تھا۔ والد اسامہ ستی نے کہا کہ میرے بیٹے کو جان بوجھ کر گولیاں ماری گئیں، وفاقی پولیس نے قتل میں ملوث 5 اہل کاروں سب انسپکٹر افتخار، کانسٹیبل مصطفیٰ، شکیل، مدثر اور سعید کو قصور وار ثابت ہونے پر پولیس سروس سے برطرف کر دیا ہے،