Baaghi TV

Tag: استعفے

  • پی آئی اے کے 110ایئرکرافٹ انجینئرز اور ٹیکنیشنز نے  استعفے دے دیے

    پی آئی اے کے 110ایئرکرافٹ انجینئرز اور ٹیکنیشنز نے استعفے دے دیے

    پی آئی اے کے 110ایئرکرافٹ انجینئرز اور ٹیکنیشنز نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا، قومی ایئرلائن میں انجینئرز اور ٹیکنیشنز کی کمی کا خدشہ پیدا ہوگیا۔

    ذرائع کے مطابق قومی ائیرلائن کے 110ایئرکرافٹ انجینئرز اور ٹیکنیشنز نے ملازمت سے استعفے دینے کا انکشاف ہوا ہے، استعفے دینے والوں میں 45انجینئر اور 65ٹیکنیشنز شامل ہیں، ان تمام ملازمین کا تعلق پی آئی اے کے شعبہ انجینئرنگ سے ہے۔ذرائع کے مطابق پی آئی اے میں تنخواہوں میں اضافہ نہ ہونے اور دیگر ایئرلائنز میں ملازمت کے بہتر مواقع ملنے کی وجہ سے سے ملازمین ادارے کو چھوڑ کر جارہے ہیں۔110ملازمین کے استعفوں سے قومی ایئرلائن میں ائیرکرافٹ انجینئرز اور ٹیکنیشنز کی شدید قلت ہوگئی ہے اور طیاروں کی مینٹیننس اور مرمت کے کاموں پر پی آئی اے ایئرکرافٹ انجینئرز اور ٹیکشنینز پر کام کا دباؤ دگنا ہوگیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق انجینئرز اور ٹیکنیشنز نے فوری طور پر تنخواہوں میں اضافہ ناگزیر قرار دیا ہے۔ دریں اثناء پی آئی اے نے ائیرکرافٹ انجینئرز اور ٹیکنیشنز کے استعفوں کی تصدیق کردی ہے۔ ترجمان پی آئی اے نے بتایاکہ انجینئرز اور ٹیکنیشنز کی یہ تعداد گزشتہ دو سال کے دوران چھوڑ کر گئی ہے جس کی وجہ بیرون ملک ہوابازی کی صنعت میں تجربہ کار افراد کی مانگ میں ہونے والا اضافہ ہے۔ ترجمان کے مطابق مہنگائی کی مناسبت سے گزشتہ کئی سالوں سے تنخواہ میں اضافہ نہ ہونے کا انتظامیہ کو ادراک ہے اور تنخواہوں میں اضافے کیلئے انتظامیہ حکومت اور بورڈ سے منظوری کیلئے کوشاں ہے۔

    وزیراعظم کی مختلف ممالک میں پاکستان کے نئے سفرا کی تعیناتی

    پنجاب پولیس کی کچے میں کارروائی، خطرناک ڈاکو ہلاک

    پی ٹی آئی کے دور ، پنجاب کے سرکاری اسکولوں میں بوگس داخلوں کا انکشاف

    آئی پی ایل اتنی خاص کیوں ہے؟، مارک بچر کی انگلش بورڈ پر کڑی تنقید

    کرم میں آپریشن شروع، ایف سی قلعے سے فورسز کی شیلنگ

  • لاہور ہائیکورٹ،سیکرٹری قومی اسمبلی کی اپیلیں غیر موثر

    لاہور ہائیکورٹ،سیکرٹری قومی اسمبلی کی اپیلیں غیر موثر

    لاہور ہائیکورٹ: تحریک انصاف کے ممبران قومی اسمبلی کی بحالی کے فیصلے کیخلاف اپیلوں پر سماعت ہوئی

    عدالت نے سیکرٹری قومی اسمبلی کی اپیلیں غیر موثر ہونے پر نمٹا دیں،وکیل اپیل کنندہ نے کہا کہ دو رکنی بنچ نے سنگل بنچ کے خلاف حکم امتناعی جاری کر رکھا ہے،قومی اسمبلی مدت معیاد مکمل ہونے پر تحلیل ہوچکی ہے، قومی اسمبلی کی تحلیل اور ممبران کی مدت ختم ہونے پر اپیلیں غیر موثر ہوگئی،جسٹس شجاعت علی خان کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے اپیلوں پر سماعت کی

    سیکریٹری قومی اسمبلی طاہر حسین نے انٹرا کورٹ اپیل ہائیکورٹ میں دائر کی ،اپیل میں ملک کرامت علی کھوکھر، ملیکہ بخآری سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے اپیل میں سپیکر قومی اسمبلی، الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کو پروفارما فریق بنایا گیا ہے،لاہورہائیکورٹ میں دائر اپیل میں موقف اختیار کیا گیا کہ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے پر تحریک انصاف کے 123 ممبران قومی اسمبلی نے استعفیٰ دیئے دو پی ٹی آئی ممبران قومی اسمبلی پرنس محمد نواز اور جواد حسین نے استعفوں کا انکار کیا، قائم مقام سپیکر قاسم سوری نے غیر قانونی طور پر 16 اپریل کو استعفے منظور کئے، 16 فروری کو ہی سپیکر قومی اسمبلی پوائنٹ آف آرڈر پر استعفوں کی تصدیق کی ہدایت کی 30 مئی کو استعفوں کی تصدیق کیلئے پی ٹی آئی ممبران کو خط لکھا گیا28 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی نے 11 ممبران کے درست استعفے منظور کرلئےسپیکر قومی اسمبلی نے قانون کے مطابق 17 جنوری کو باقی پی ٹی آئی ممبران کے استعفے منظور کرلئے سنگل بنچ نے قانون کے برعکس 19 مئی کو ممبران کی بحالی کا فیصلہ دیا عدالت انٹرا کورٹ اپیل منظور کرکے سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دے ،عدالت اپیل کے فیصلے تک سنگل بنچ کے فیصلے کیخلاف حکم امتناعی جاری کرے،

    قیام پاکستان سے اب تک توشہ خانہ کے تحائف کی تفصیلات کا ریکارڈ عدالت میں پیش

    نیب ٹیم توشہ خانہ کی گھڑی کی تحقیقات کے لئے یو اے ای پہنچ گئی، 

    وفاقی دارالحکومت میں ملزم عثمان مرزا کا نوجوان جوڑے پر بہیمانہ تشدد،لڑکی کے کپڑے بھی اتروا دیئے

    بزدار کے حلقے میں فی میل نرسنگ سٹاف کو افسران کی جانب سے بستر گرم کی فرمائشیں،تہلکہ خیز انکشافات

    10جولائی تک فیصلہ کرنا ہے،آپ کو 7 اور 8 جولائی کے دو دن دیئے جا رہے ہیں 

  • پی ٹی آئی اراکین کے استعفوں سے متعلق درخواست خارج

    پی ٹی آئی اراکین کے استعفوں سے متعلق درخواست خارج

    اسلام آباد: سپریم کورٹ نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفوں سے متعلق درخواست کو 9 سال بعد غیر موثر قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق شاہد اورکزئی نے 2014 میں تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی سپریم کورٹ میں تحریک انصاف کے استعفوں کے حوالے سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔

    پی ٹی آئی کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ 2013 کی اسمبلی میعاد پوری کرکے ختم ہوچکی ہے، استعفی سے متعلق درخواست غیر موثر ہو چکی ہے اس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست کو غیر موثر قرار دے کر خارج کردیا۔

    ایمان مزاری اور علی وزیر 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    الیکشن کمیشن کا نئی حلقہ بندیاں کرانے کا نوٹیفکیشن لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج

    آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے تحت ملک بھر کیلئےاسلام آباد میں خصوصی عدالت قائم

  • پی ٹی آئی اراکین کے استعفے منظور کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن کالعدم قرار

    پی ٹی آئی اراکین کے استعفے منظور کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن کالعدم قرار

    لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی اراکین کے استعفے منظور کرنے سے متعلق نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا

    جسٹس شاہد کریم نے محفوظ فیصلہ سنا دیا ،عدالت نے تحریک انصاف کے اراکین کو سپیکر قومی اسمبلی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا ،لاہور ہائیکورٹ نے پی ٹی آئی کے 72 اراکین قومی استعفوں کی منظور ی کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سنا دیا عدالت نے اراکین کو استعفے واپس لینے کے لیے اسپیکر کے سامنے پیش ہونے کی ہدایت کردی عدالت نے اسپیکر قومی اسمبلی کو تمام ممبران کو دوبارہ سن کر فیصلہ کرنے کی ہدایت کردی جسٹس شاہد کریم نے ریاض فتیانہ سمیت کی درخواستوں پر فیصلہ سنایا

    لاہور ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے پنجاب سے منتخب 72 اراکین اسمبلی کی رکنیت بحال کردیا۔ سپیکر کی جانب سے منظور کئے گئے استعفے کالعدم قراردے دیئے گئے،فواد چوہدری ،حماد اظہر ،شاہ محمود قریشی،شفقت محمود ، ریاض فتیانہ ، کے استعفی منظوری کا نوٹیفکیشن بھی کالعدم قرار دے دیا گیا،

    تحریک انصاف کے سینیٹر علی ظفر نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے پر ردعمل میں کہا ہے کہ ایم این ایز انکوائری میں پیش ہو کر استعفیٰ واپس لیں گے عمران خان اپوزیشن لیڈر کے طور پر قوم کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے امید ہے سپیکرقومی اسمبلی قانون کے مطابق انکوائری مکمل کریں گے امید ہے سپیکر پی ٹی آئی ایم این ایز کو واپس آنے دیں گے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

  • پہلے استعفی پھرمکر جانا،پاکستان کی عوام کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے؟ عدالت برہم

    پہلے استعفی پھرمکر جانا،پاکستان کی عوام کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے؟ عدالت برہم

    اسلام آباد ہائی کورٹ ،ممبر قومی اسمبلی شکور شاد کے استعفے کی منظوری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    عدالت نے سیکرٹریٹ قومی اسمبلی سے اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے شکور شاد کے استعفی منظور کرنے کا آرڈر 28 اپریل کو طلب کر لیا،کیس کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کی. دوران سماعت چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق وکیل درخواست گزار پر برہم ہو گئے، اور کہا کہ آپ نے استعفی دیا اس ہر دستخط کیے تھے ، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ جی ہمارے دستخط تھے لیکن وہ استعفی پارٹی پریشر میں دیا گیا تھا ،جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا دستخط بس ایسے ہی کیے گئے کیا کوئی جوق ہے یہ ، کیا ہو رہا ہے آج آپ یہ کر رہے ہیں کل آپ ملک کے لیے کیا کریں گے، آپ آرٹیکل 62 پر کیسے پورا اتریں گے،آپ اپنے لوگوں اور ووٹرز کے امانت دار ہیں آپ کیا کر رہے ہیں،9 مارچ کا آدڈر تھا کہ آپ نے اپنے استعفے سے انکار کیا تھا، وہ لیٹر ہے آپ کے پاس.وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 29 جولائی کو استعفیٰ منظور ہوا، اس کورٹ نے ستمبر میں فیصلہ معطل کیا.

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے دستخط اصلی نہیں تھے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ دستخط تو اصلی تھے، مگر پارٹی پالیسی پر استعفیٰ دیا تھا. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استعفے پر پارٹی پالیسی کے خلاف جانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا، وہ تو منی بجٹ بل اور عدم اعتماد پر فرق پڑتا ہے. آپ نے پارٹی پریشر پر استعفیٰ دے دیا آپ ملک کے لیے کیسے سٹینڈ لے سکتے ہیں. پہلے استعفی پھر مکر جانا،پاکستان کی عوام کے ساتھ مذاق ہو رہا ہے؟ آپ کی ٹرسٹ والی کیا پوزیشن ہے، کیا آپ سسٹم کے ساتھ مذاق کر رہے ہیں،آپ سسٹم کو فن سمجھ رہے ہیں، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہم مانتے ہیں اصل سٹیک ہولڈر عوام ہے،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر مذاق بھی تو عوام کے ساتھ ہو رہا یے،اسی طرح کی دیگر رٹ پر بھی ابھی آنا ہے ہم نے کہ اس ملک میں کیا ہورہا ہے ،وکیل شکور شاد نے کہا کہ ہم نے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہا کہ پارٹی پریشر پر استعفیٰ دیا، مگر اسپیکر نے کہا کہ وہ جواب سے مطمئن نہیں. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اسپیکر نے ایسا کوئی لیٹر جاری کیا ہے؟ 3 مارچ 2023 کے لیٹر کو ریکارڈ پر لے کر آئیں. پارٹی لیڈر شپ نے آپ کو پریشرائیز کیا اس کے خلاف دعویٰ دائر کریں.رٹ میں میں شہادتیں نہیں لے سکتا.ہر چیز کو ہم نے مزاق بنا کر رکھ دیا یے آپ نے پورے ملک کے لیے قانون سازی کرنی ہوتی ہے،اس پر کیا سب کو شاباش ملنی چاہیے،آپ قبول کریں کہ آپ نے غلط کیا ہے.

  • ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے ذمہ دار کون ہیں؟پشاور ہائیکورٹ

    ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے ذمہ دار کون ہیں؟پشاور ہائیکورٹ

    پشاور ہائیکورٹ میں تحریک انصاف ممبرز کی قومی اسمبلی استعفوں کی منظوری کیخلاف درخواستوں پر سماعت ہوئی

    سماعت جسٹس محمد ابراہیم اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل 2 رکنی بنچ نے کی ، بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ ہم نے الیکشن کمیشن اور سپیکر کے نوٹیفکیشن کو چیلنج کیا ہے ،جسٹس ابراہیم خان نے استفسار کیا کہ ممبران نے استعفیٰ کیوں دیا؟ بیرسٹر گوہر خان نے عدالت میں کہا کہ ممبران نے رجیم چینج کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دیا، جسٹس ابراہیم خان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اب آپ واپس اسمبلی جانا چاہتے ہیں ؟

    جسٹس اعجاز انور نے کہا ان کو یہ بچوں کا کھیل لگتا ہے، آپ کہتے ہیں،واپس جانا چاہتے ہیں،جسٹس ابراہیم خان نے کہا کہ ملک میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے ذمہ دار کون ہیں،جسٹس اعجاز انور نے کہا کہ مجھے الیکشن ٹربیونل کا جج تعینات کیا گیا اس کیس کو کوئی اور بنچ سنے ،بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ آج ہی اس کو سماعت کیلئے مقرر کیا جائے،عدالت نے کہا کہ کل اس کیس کو کوئی اور بنچ سنے گا

    واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد تحریک انصاف نے قومی اسمبلی سے استعفے دیئے تھے جن کی منظوری تاخیر سے ہوئی تا ہم استعفے منظور ہو گئے،اسکے بعد پی ٹی آئی نے یوٹرن لیا اور استعفوں کی منظوری کے عمل کو عدالت میں چیلنج کردیا اوراعلان کیا کہ اب ہم اسمبلیوں میں جا کر بیٹھیں گے

  • ڈپٹی اسپیکر کے پی اسمبلی سمیت پی ٹی آئی کے دیگر اراکین کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

    ڈپٹی اسپیکر کے پی اسمبلی سمیت پی ٹی آئی کے دیگر اراکین کا مستعفی ہونے کا فیصلہ

    پشاور:پی ٹی آئی کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور خیبر پختونخوا وزیرزادہ ،ممبر خیبرپختونخوا اسمبلی آسیہ خٹک اور ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی محمود جان نے صوبائی اسمبلی سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا۔

    معاون خصوصی برائے اقلیتی امور خیبر پختو نخوا وزیر زادہ نے اپنے ویڈیو بیان میں کہا کہ عمران خان کے اعلان پر صوبائی اسمبلی سے استعفیٰ وزیراعلیٰ کو بھیج دیا ہے۔ عمران خان کا جو فیصلہ ہوگا ہمیں منظور ہوگا ہم چاہتے ہے دوبارہ انتخابات ہوجائے۔

    تحریک انصاف کےاجلاس میں صوبائی اسمبلیاں تحلیل کرنےکےفیصلےکی توثیق

    پی ٹی آئی کی ممبر خیبرپختونخوا اسمبلی آسیہ خٹک نے اسپیکر کے نام استعفیٰ لکھ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی پالیسی کے مطابق صوبائی اسمبلی سے استعفیٰ دیتی ہوں۔ صوبائی اسمبلی میں نمائندگی دینے پر پارٹی کا شکریہ ادا کرتی ہوں۔اس کے علاوہ ڈپٹی اسپیکر خیبر پختو نخوا اسمبلی محمود جان نے بھی اپنا استعفیٰ لکھ دیا۔ محمود جان کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اسمبلیوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے احکامات پر ڈپٹی اسپیکر شپ سمیت بطور رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سے بھی استعفیٰ دیتا ہوں۔

    قومی اسمبلی کا الیکشن 6 ماہ آگے لے جا سکتےہیں: رانا ثناء اللہ

    خیال رہے کہ گزشتہ روز سابق وزیراعظم و پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلیوں سے مستعفی ہونے سے متعلق مشاورتی اجلاس ہوا جس میں اہم فیصلے کیے گئے۔

    “ہریانہ بنے گا خالصتان تھیم”سکھوں نے میلبورن میں مہم شروع کردی

    اجلاس کے بعد لاہور زمان پارک کے باہر میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کی توثیق کردی گئی ہے، پارلیمانی پارٹی کی مشاورت کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی کو تحلیل کرنے کی تاریخ کا اعلان کر دیا جائے گا۔

  • اسپیکر شکور شاد کو بلائیں اوران سے ان کی منشا پوچھیں،عدالت

    اسپیکر شکور شاد کو بلائیں اوران سے ان کی منشا پوچھیں،عدالت

    اسپیکر شکور شاد کو بلائیں اوران سے ان کی منشا پوچھیں،عدالت

    کراچی سے پی ٹی آئی ایم این اے شکور شاد کی استعفیٰ منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    الیکشن کمیشن نے شکور شاد کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے حکم معطلی میں دو ہفتے کی توسیع کر دی،ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ اسپیکر معاملے کو دیکھیں گے، دو ہفتے کا وقت دے دیں،عدالت نے استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت دو ہفتے کیلئے ملتوی کردی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی

    دوران سماعت وکیل نے کہا کہ شکور شاد کو قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت نہیں کرنے دی جا رہی،عدالت شکور شاد کو پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت کا حکم دے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر اور پارلیمنٹ کا بڑا احترام ہے، پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت سے متعلق عدالت حکم نہیں دے سکتی، اسپیکر شکور شاد کو بلائیں اور ان سے ان کی منشا پوچھیں، اسپیکر شکور شاد سے پوچھیں کہ وہ سیٹ خالی کرنا چاہتے ہیں یا نہیں،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    قبل ازیں ایف آئی اے کے ہراساں کرنے کے خلاف عمر ایوب کی درخواست نمٹا دی گئی اسلام آباد ہائیکورٹ نے عمر ایوب کی گرفتاری عدالتی اجازت سے مشروط کر دی، جسٹس طارق محمود جہانگیری نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج ہے؟ ایف آئی اے حکام نے کہا کہ درخواست گزار کا نہ ہی اس انکوائری میں نام ہے اور نہ ہی کوئی ایف آئی آر درج ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیا آپ درخواست گزار کو گرفتار کرنا چاہتے ہیں ؟ ایف آئی اے حکام نے کہا کہ ہمیں اس انکوائری میں فی الحال درخواست گزار کی گرفتاری نہیں چاہیے،عدالت نے کہا کہ ایف آئی اے جب گرفتاری چاہے تو عدالت سے رجوع کرنا پڑے گا اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمر ایوب کی درخواست نمٹا دی

  • بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف رخواست پر سماعت دوبارہ ہوئی ،

    پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر کی جانب سےاسلام آباد ہائیکورٹ میں دلائل دیئے گئے، وکیل نے کہا کہ عدالتی سوال پر بعد میں جواب دونگا،اسپیکر نے استعفے منظور کرتے وقت طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا،درحقیقت اسپیکر نے پی ٹی آئی رہنماؤں کے استعفے منظور ہی نہیں کیے اسپیکر نے استعفے منظور کرنے کا فیصلہ بھی خود نہیں کیا، لیکڈ آڈیو سامنے آ چکی ہے عدالت اسکا ٹرانسکرپٹ دیکھ لے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا انکا اپنا فیصلہ تھا؟ کیا قاسم سوری کا استعفے منظور کرنے کا فیصلہ انکا اپنا فیصلہ تھا؟ ہر ایک کو عوام سے مخلص ہونا چاہیے، یہ سیاسی عدم استحکام عوام کے مفاد میں نہیں ہےاگر کوئی پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کرتا تو کیا عدالت سیاسی عدم استحکام کا حصہ بن جائے؟ ہمارا ماضی بھی کوئی اتنا اچھا نہیں ہے،ملکی معیشت اس سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے خراب ہوئی ہے،ہمیں تاریخ سے سیکھنا چاہیے اور وہ دہرانا نہیں چاہیے، منتخب نمائندے پارلیمنٹ کا احترام نہیں کر رہے جو انکو کرنا چاہیے، یہ ارکان پارٹی پالیسی کو تسلیم کرتے ہوئے دوبارہ پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کر کے بیٹھیں گے،اگر پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرنا ہے تو پھر تو موقف میں تضاد ہے،علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پارلیمنٹ جانا نہ جانا پارٹی کا کام ہے، عدالت اس سے دور رہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت آپکو پارلیمنٹ جانے کا نہیں کہہ رہی لیکن آپکے موقف میں تضاد ہے،یہ عدالت درخواست گزاروں اور انکی پارٹی کے کنڈکٹ کو دیکھ رہی ہے، اگر پارلیمنٹ میں نہیں جانا تو یہ ارکان بحالی کیوں چاہ رہے ہیں؟ علی ظفر نے کہا کہ اگر پانچ دن بعد پارٹی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کرتی ہے تو یہ ارکان موجود نہیں ہونگے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکو پانچ دن کا وقت دے دیتی ہے، پانچ دن میں ثابت کریں کہ آپ کلین ہینڈز کے ساتھ آئے ہیں،علی ظفر نے کہا کہ عدالت نے استعفے کی منظوری کا طریقہ کار طے کر دیا تھا ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان نے جینوئن استعفے دیئے تھے یا اپنے لیڈر کی خوشنودی کیلئے؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پی ٹی آئی نے استعفے دیئے کہ تمام 124 منظور کیے جائیں، اب 11 کو منتخب کر کے استعفے منظور کیے گئے، استعفے درست طور پر منظور نہیں ہوئے اس لیے پارٹی اب استعفے نہیں دینا چاہتی،پارٹی کی پالیسی ہے کہ ہم اب ایم این ایز برقرار ہیں، علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ درخواست گزار بیان حلفی دینے کو تیار ہیں کہ وہ اپنے حلقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کرینگے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکی پارٹی کی لیکن یہ پالیسی نہیں ہے، تضاد آ جاتا ہے، آپ اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی نہیں بلکہ سیاسی بنیاد پر واپسی چاہتے ہیں،کیا عدالت درخواست گزاروں کو پارلیمنٹ کا بائیکاٹ کرانے کیلئے درخواست منظور کرے؟ اسمبلی کا ممبر ہو کر اسمبلی سے باہر رہنا اس مینڈیٹ کی توہین ہے،علی ظفر صاحب آپ پہلی رکاوٹ ہی دور نہیں کر پا رہے، آپ یہ ثابت کریں کہ غلطی ہو گئی تھی واپس پارلیمنٹ جانا چاہتے ہیں،یہ بتا دیں کہ آپکو کسی نے استعفے دینے پر مجبور کیا تھا، پارٹی نے فیصلہ کرنا ہے کہ کیا پارلیمنٹ اور عوام کے مفاد میں ہے، عوامی بہترین مفاد میں یہ ہے کہ سیاسی عدم استحکام نہ ہو،عوامی مفاد یہ ہے کہ پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے، یہ عدالت اسپیکر قومی اسمبلی کے پی ٹی آئی کو دوبارہ پارلیمنٹ جانے کا موقع دینے پر سراہتی ہے،اسپیکر نے پی ٹی آئی کو سیاسی افراتفری ختم کر کے واپس پارلیمنٹ جانے کا موقع دیا،کوئی سیاسی جماعت پارلیمنٹ سے بالاتر نہیں، اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہےپارلیمنٹ صرف ایک عمارت نہیں ہے، آج بھی کوئی سول سپرمیسی کی بات نہیں کر رہا ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھر دس بیان حلفی دیدیں کہ آپ اپنی پارٹی پالیسی کو نہیں مانتے، یہ بیان حلفی دیں تو عدالت آپکی درخواست منظور کر لے گی، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارٹی کی پالیسی کو تو تسلیم کرتے ہیں،عدالت نے کہا کہ سپریم کورٹ نے تو پارلیمنٹ کی تحلیل کو غیرآئینی قرار دیا تھا،یہ پارٹی تو سپریم کورٹ کے فیصلے کو ہی نہیں مان رہی،یہ پارٹی کہتی ہے کہ ہماری طرف سے یہ اسمبلی تحلیل ہو چکی ہم اسکو نہیں مانتے، جو وہ براہ راست نہیں کر سکتے وہ اس عدالت کے ذریعے کرانا چاہتے ہیں،یہ اگر الیکشن چاہتے ہیں تو پھر تو دو ہی طریقے ہیں، پہلا یہ کہ سیاسی عدم استحکام پیدا کرنا، پھر عدالتیں آپکو ریسکیو نہیں کرینگی،دوسرا طریقہ آئین کا احترام کرتے ہوئے پارلیمنٹ میں مسائل حل کرنا ہے، یہ بھی کہہ دیں کہ میں مانتا بھی کسی چیز کو نہیں اور الیکشن بھی ہو جائیں،
    اگر سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوتا تو پی ٹی آئی آج پارلیمنٹ میں ہوتی،یہ عدالت صرف آئین کے تحت چلے گی، کوئی پارٹی کہے کہ ہم آئین اور پارلیمنٹ کو نہیں مانتے لیکن ہمیں بحال کر دیں، یہ بہت مشکل کام ہے آپ اس میں سے نہیں نکل سکتے، یہ عدالت بہت واضح ہے کہ آئین اور پارلیمنٹ سپریم ہیں،

    بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بیان حلفی پر مشاورت کیلئے ہمیں وقت دیدیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت درخواست کو لمبے عرصے کیلئے ملتوی کر دیتی ہے، جب پارٹی پارلیمنٹ جانے کا فیصلہ کر لے تو متفرق درخواست دیدیں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ تب کوئی فائدہ نہیں تب تک تو الیکشن ہو جائیں گے، جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا یہ درخواست صرف اس الیکشن کو روکنے کیلئے دائر کی گئی ہے؟ یہ عدالت پارلیمنٹ کے تقدس کو پامال کرنے والی کوئی درخواست منظور نہیں کریگی، 123 ممبران پارلیمنٹ نے کہا کہ ہم استعفے دے رہے ہیں، سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مان رہے لیکن کہتے ہیں کہ انہیں بحال کر دیں، یہ موقف کا تضاد ہے، سماعت ملتوی کر دیتے ہیں،یہ عدالت آپکی درخواست پر نوٹس بھی جاری نہیں کریگی، اگر چاہتے ہیں تو آج ہی فیصلہ کر دیتے ہیں،پہلے پٹیشنر مطمئن کریں کہ حقیقی معنوں میں کلین ہینڈز کے ساتھ آئے ہیں، یہ بھی کہیں کہ جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں،یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کہیں کہ میری مرضی کے مطابق چیزیں ہوئیں تو مانیں گے، یہ کورٹ اس معاملے پر فیصلہ کرے یا ملتوی کر دے؟ پی ٹی آئی کے وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ فی الحال اس معاملے کو ملتوی کر دیں،عدالت نے سماعت ملتوی کر دی جسے رجسٹرار آفس دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کرے گا

    قبل ازیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی کی استعفوں کی منظوری کے خلاف درخواست پر سماعت ہوئی ،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ استعفوں کی منظوری میں طریقہ کار پرعمل نہیں کیا گیا، یہ عدالت پارلیمنٹ کا احترام کرتی ہے، درخواست گزاروں کو پہلے اپنی نیک نیتی ثابت کرنی ہو گی،کیا یہ درخواست گزار پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ اس عدالت کو معلوم تو ہو کہ کیا یہ پارٹی کی پالیسی ہے؟ درخواست گزاروں کو ثابت کرنا ہو گا کہ وہ پارلیمنٹ کا سیشن اٹینڈ کرتے رہے ہیں، حلقے کے عوام نے اعتماد کر کے ان لوگوں کو پارلیمنٹ میں بھیجا،یہ سیاسی تنازعے ہیں اور انکے حل کیلئے پارلیمنٹ موجود ہے کیا یہ تمام ارکان اپنی پارٹی پالیسی کے خلاف جائیں گے؟ وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ اراکین پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں ہیں،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پھرتو درخواست قابل سماعت نہیں ، پارٹی تو کہتی ہے کہ ہم نے استعفے دیئے، اگر یہ پارٹی پالیسی کے ساتھ ہیں پھر تو تضاد آ جاتا ہے، یہ عدالت اسپیکر کو ڈائریکشن تو نہیں دے سکتی، ہم نے دیکھنا ہے کہ پٹیشنرز کلین ہینڈز کے ساتھ عدالت آئے یا نہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ پٹیشنرز اپنی پارٹی کی پالیسی کے خلاف عدالت نہیں آئے، اس شرط پر استعفے دیئے گئے تھے کہ 123 ارکان مستعفی ہوں گے، اسپیکر نے تمام استعفی منظور نہیں کیے اور صرف 11 استعفے منظور کیے،ہم کہتے ہیں کہ دیے گئے استعفے مشروط تھے،اگر تمام ارکان کے استعفے منظور نہیں ہوئے تو شرط بھی پوری نہیں ہوئی،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جن کے استعفے منظور نہیں ہوئے انکو پارلیمنٹ میں بیٹھنا چاہیے، جب تک استعفے منظور نہیں ہوتے انکو پارلیمنٹ میں موجود ہونا چاہیے، اراکین کی ذمہ داری ہے کہ اپنے حلقے کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کریں یہی پارٹی کے موقف میں تضاد ہے، اسی لیے نیک نیتی ثابت کرنے کا کہا،اگر دیگر ارکان پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوتے تو شاید یہ عدالت درخواست منظور کر سکتی، ایک طرف پارلیمنٹ میں بیٹھ نہیں رہے دوسری طرف نشستیں واپس چاہتے ہیں،اگر وہ پارٹی پالیسی کے خلاف نہیں آئے تو درخواست منظور نہیں ہو گی،اس عدالت نے آج تک کبھی پارلیمنٹ یا اسپیکر کو ڈائریکشن نہیں دی، یہ پارلیمنٹ کیلئے احترام ہے جو 70 سال سے کسی نے نہیں دی، اپنے سارے سیاسی تنازعے پارلیمنٹ میں حل کریں، ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے اور انہیں منظور کیا جائے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، عدالت یہ تصور کیوں نہ کرے کہ اسپیکر پی ٹی آئی کو دوبارہ اسمبلی واپس جانے کا موقع دے رہے ہیں؟سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کریں، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ اگر استعفے واپس لے لیے جائیں تو پھر پی ٹی آئی اسمبلی واپسی کا سوچ سکتی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ارکان خود مانتے ہیں کہ استعفے جینوئن تھے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ارکان اسمبلی کے استعفے جینوئن مگر مشروط تھے،ہم کہتے ہیں کہ تمام استعفے جینوئن تھے اور انہیں منظور کیا جائے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزار اسپیکر کے پاس جا کر کہہ سکتے ہیں کہ ہم پارلیمنٹ میں واپس آنا چاہتے ہیں، وکیل نے کہا کہ ہم اسپیکر کے پاس تو نہیں جا سکتے، یہ عدالت نوٹیفکیشن معطل کرے پھر جا سکتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت آپکی سیاسی ڈائیلاگ کیلئے سہولت کاری تو نہیں کریگی،عدالت یہ تصور کیوں نہ کرے کہ اسپیکر پی ٹی آئی کو دوبارہ اسمبلی واپس جانے کا موقع دے رہے ہیں؟ سیاسی تنازعات عدالتوں میں لانے کی بجائے پارلیمنٹ میں حل کریں،پہلے اسمبلی جائیں اور پھر یہ درخواست لے آئیں عدالت درخواست منظور کر لے گی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہم اسمبلی واپس نہیں جا سکتے انہوں نے ہمیں نکال دیا ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت سیاسی پوائنٹ سکورنگ کیلئے استعمال نہیں ہو گی، جائیں اور اپنی سیاسی لڑائی اس عدالت سے باہر لڑیں، جب استعفے دیدیے تو اسپیکر نے اپنی مرضی سے منظور کرنے ہیں،ملک میں غیریقینی صورتحال پیدا کر دی گئی ہے، معیشت کا یہ حال اسی غیریقینی صورتحال کی وجہ سے ہے،باتوں سے نہیں ہو گا اپنےعمل سے کر کے دکھائیں،اس عدالت نے اس پارلیمنٹ کو مسلسل احترام کیا ہے، جائیں اور اپنے عمل سے ثابت کریں کہ آپ پارلیمنٹ کا احترام کرتے ہیں، ایک طرف آپ کہہ رہے ہیں ہم پارلیمنٹ کو نہیں مانتے، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم پارلیمنٹ کو مانتے ہیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کوئی کہے کہ عدالت کو مانتا ہوں اور عدالت کو جو مرضے آئے کہتا رہے،سیاسی غیریقینی ملکی مفاد میں نہیں،یہ عدالت درخواست منظور کیوں کرے؟جب تک پارلیمنٹ کے احترام کا اظہار نہیں کرینگے درخواست منظور نہیں ہو سکتی،پارلیمنٹ مانتے بھی نہیں اور کہہ رہے ہیں کہ پارلیمنٹ میں بھیج دیں،سیاسی جماعت پارلیمنٹ میں واپس جا کر سیاسی عدم استحکام کو ختم کرے، سیاسی عدم استحکام سے ملک کا نقصان ہو رہا ہے، اسپیکر قومی اسمبلی تو پی ٹی آئی کو موقع دے رہے ہیں کہ آئیں اور عوام کی خدمت کریں، بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ مجھے ایک گھنٹہ دیں میں مشاورت کر کے عدالت کو آگاہ کرتا ہوں،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا

  • استعفوں کی منظوری سے متعلق پی ٹی آئی ارکان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    استعفوں کی منظوری سے متعلق پی ٹی آئی ارکان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر

    استعفوں کی منظوری سے متعلق پی ٹی آئی ارکان کی درخواست سماعت کے لیے مقرر کر لی گئی

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ درخواست پرکل سماعت کریں گے ،قبل ازیں استعفوں کی منظوری سے متعلق پی ٹی آئی ارکان اسمبلی نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ عدالت اسپیکر کو ہدایت دے وہ استعفے منظوری سے متعلق آئینی ذمہ داری پوری کرے ، عدالت اسپیکر کو حکم دے کہ وہ درخواست گزاروں اور دیگر 112 ارکان کو بلائے ،اسپیکر تحقیق کرلے جنھوں نے استعفے دیئے انہوں نے آرٹیکل 64 کے تحت دیئے قانون کے مطابق پٹشنرز کو سنے بغیر اسپیکر استعفوں سے متعلق اطمینان نہیں کر سکتا ،ابھی الیکشن کا اعلان نہیں ہوا 123 ارکان کے استعفوں کو ایک ساتھ دیکھا بھی نہیں گیا ، پٹشنرز کا استعفوں سے متعلق لیٹر موثر نہیں رہا ،شکور شاد کا استعفٰی منظور ہوا تو انہوں نے درخواست دی اسپیکر نے سنے بغیر منظور کر لیا ،شکور شاد کی درخواست پر ہائیکورٹ نے انکا استعفیٰ منظوری کا نوٹیفکیشن معطل کردیا

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد قومی اسمبلی کے فلور پر مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا،شاہ محمود قریشی نے وزارتِ عظمیٰ کے الیکشن کے دوران تقریر میں کہا تھا ہم اس ایوان سے مستعفی ہوتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے الیکشن کروائے جائیں سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے 30 مئی کو سپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کو استعفوں کی تصدیق کے لیے طلب کیا تھا