Baaghi TV

Tag: اسد مجید

  • سابق امریکی سفیر اسد مجید نے ٹویٹر اکاؤنٹ بارے وضاحت جاری کر دی

    سابق امریکی سفیر اسد مجید نے ٹویٹر اکاؤنٹ بارے وضاحت جاری کر دی

    سابق امریکی سفیر اسد مجید نے واضح کیا ہے کہ انکا ٹویٹر پر ایک اکاؤنٹ ہے اور وہ ویریفایڈ ہے ۔فیک اکاؤنٹ سے ٹویٹ کی جا رہی ہیں جس سے انکا کوئی تعلق نہیں

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پراپنے تصدیق شدہ اکاؤنٹ سے کی گئی ٹوئٹ میں اسد مجید خان نے بتایا کہ سب کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ یہ میرا واحد ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے – ایک تصدیق شدہ اکاؤنٹ۔ میرے نام سے کسی دوسرے اکاؤنٹ سے جو بھی ٹویٹ کیا جا رہا ہے وہ جعلی ہے۔

    اغوا کے مقدمہ میں ملوث ملزم شرجیل کو عدالت نے بری کر دیا

    واضح رہے کہ گزشتہ روز قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد اسد مجید کے ٹویٹر اکاؤنٹ کے حوالہ سے کہا جا رہا تھا کہ انہوں نے ایک ٹویٹ کی جس کے بعد انکے اکاؤنٹ کو معطل کر دیا گیا ہے وہ ٹویٹ سابق وزیراعظم عمران خان کے حق میں تھی تا ہم اب انہوں نے وضاحت جاری کی ہ

    قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے بعد اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کی حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں ہوئی-

    قانون کے برخلاف حلف برداری کو رکوایا گیا،عطا تارڑ

    امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان اپنی مدت ملازمت مکمل ہونے کے بعد 24 مارچ کو اسلام آباد آئے تھےاسد مجید خان اپنے پیشرو جہانگیر صدیقی کے 25 دسمبر 2018 کو عہدہ چھوڑنے کے فوراً بعد واشنگٹن گئے اور 11 جنوری 2019 کو اُس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنی اسناد پیش کیں۔

    ان کی مدت ملازمت 11 جنوری 2022 کو ختم ہوگئی تھی لیکن نامزد سفیر سردار مسعود خان کے امریکا پہنچنے تک اسد مجید 24 مارچ تک واشنگٹن میں رہے اب اسد مجید خان کو بیلجیئم میں پاکستان کا سفیر نامزد کر دیا گیا ہے۔

    پی ٹی آئی رہنما اسد قیصرکیجانب سے خلاف ضابطہ بھرتیوں اور ترقیاں دینے کا انکشاف

    خیال رہے کہ مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے اسد مجید خان کو مبینہ ‘دھمکی آمیز خط’ کا مرکزی کردار قرار دیا تھا مریم نواز نے دعویٰ کیا تھا کہ یہ مبینہ خط ایک ڈرامہ تھا جس کی وجہ سے اسد مجید خان کو ‘راتوں رات’ برسلز بھیج دیا گیا۔

    لیکن سفارتی ذرائع نے بتایا تھا کہ پاکستانی سفارتخانے کے ریکارڈ اور میڈیا رپورٹس سے معلوم ہوا کہ سفیر اسد مجید خان کی امریکا سے آمد اور بیلجیئم روانگی کے بارے میں کچھ بھی اچانک نہیں ہوا اُن کے امریکا سے ‘اچانک’ روانہ ہونے کی خبریں غلط ہیں۔

    عمران خان نے خطرناک کھیل کھیلا، کسی بھی رحم یا رعایت کا مستحق نہیں،مریم نواز

  • امریکی اہلکار کی ذاتی رائے کو سازش نہیں کہا جا سکتا، اسد مجید

    امریکی اہلکار کی ذاتی رائے کو سازش نہیں کہا جا سکتا، اسد مجید

    امریکی اہلکار کی ذاتی رائے کو سازش نہیں کہا جا سکتا، اسد مجید

    قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستانی سفارتکار اسد مجید نے اپنی بریفنگ میں بتایا ہے کہ امریکی عہدیدار ڈونلڈ لو کے ساتھ ان کی ایک ڈنر پر ملاقات ہوئی،

    قومی اخبار نوائے وقت میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق سابق امریکی سفیر اسد مجید کا کہنا تھا کہ ڈنر پر ہونے والی گفتگو پر مبنی سائفر انہوں نے پاکستان میں وزارت خارجہ کے حکام کو بھجوا دیا تھا ذرائع کے مطابق انہوں نے وزارت خارجہ کو تجویز کیا تھا کہ امریکی عہدیدار کی اس گفتگو کے متعلق امریکہ کو ڈی مارش دیا جائے اور امریکی حکام سے پوچھا جائے کہ ڈونلڈ لونے جو کچھ بھی کہا ہے کیا یہ امریکی انتظامیہ کی سرکاری پوزیشن ہے یا اس کو عہدیدارکی ذاتی رائے سمجھا جائے لیکن سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی تھی

    ذرائع کا کہنا ہے کہ سکیورٹی ایجنسیوں نے بھی اسی موقف کی تائید کی کہ یہ امریکی اہلکار کی ذاتی رائے تھی اور چونکہ ڈیلی گیشن سطح کی ملاقات نہیں تھی اس لئے اس کو سازش نہیں کہا جا سکتا۔ ذرائع کے مطابق امریکی عہدیدار کے ساتھ پاکستانی سفیر کی ہونے والی اس ملاقات میں واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے کے ملٹری اتاشی سمیت دیگر عہدیدار بھی موجود تھے اور اس ملاقات کے منٹس بھی موجود تھے جن کا جائزہ لینے کے بعد سکیورٹی ایجنسیوں کے حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ مذکورہ امریکی عہدیدار کی گفتگو کوئی سازش نہیں ہے۔

    ذرائع کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں اس پہلو کا بھی جائزہ لیا گیا کہ امریکہ میں پاکستانی سفیر کی جانب سے بھیجے گئے مراسلہ پر سابق حکومت کو فوری طور پر جائزہ لینے کے بعد ایکشن لینا چاہیے تھا اور انہیں امریکی سفارتخانے کو ایک مراسلہ بھیج کر اس بات کی تصدیق کرنی چاہیے تھی کہ اس مراسلے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے کیا وہ امریکی حکومت کی ہے یا کسی ایک عہدیدار کی ذاتی رائے ہے لیکن سابق حکومت نے فوری طور پر کوئی اقدام نہیں اٹھایا اور بعدازاں اس کو سیاسی فائدہ حاصل کرنے کے لئے استعمال کیا گیا جو کہ پاکستان کی وزارت خارجہ کے لئے مستقبل میں مشکلات بھی پیدا کر سکتا ہے

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کس نے بھیجا؟ بحث جاری

    دھمکی آمیز خط کونسی شخصیت کو دکھانا چاہتے ہیں؟ حکومت کا بڑا اعلان

    وزیراعظم کو دھمکی آمیز خط کا معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا

    دھمکی آمیز خط ،وزیراعظم نے سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کر دیا

    دھمکی آمیز خط کے بارے تہلکہ خیز انکشافات سامنے آ گئے

    قوم سے خطاب مؤخر،خط کس نے لکھا ؟کتنی سخت زبان،کیا پیغام،عمران خان نے سب بتا دیا

    پیکنگ ہو گئی ،عمران خان کابینہ کے وزرا بیرون ملک بھاگنے کو تیار

  • اے آر وائی کا گھیرا مزید تنگ:قومی سلامتی کمیٹی کی خبرکوذرائع سے چلانے پرشوکازنوٹس

    اے آر وائی کا گھیرا مزید تنگ:قومی سلامتی کمیٹی کی خبرکوذرائع سے چلانے پرشوکازنوٹس

    اسلام آباد:اے آر وائی کا گھیرا مزید تنگ:قومی سلامتی کمیٹی کی خبرکوذرائع سے چلانے پرشوکازنوٹس ،اطلاعات کے مطابق اس وقت پیمرا کی طرف سے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پربہت زیادہ دباوبڑھا دیا گیا ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ اے آر وائی کو شوکاز نوٹس بھی بھیج دیا گیا ہے ،

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جھوٹی خبر چلانے پر اے آ ر وائی نیوز کو پیمرا نے شو کاز نوٹس جا ری کر دیا۔ قومی سلامتی کمیٹی کی خبر کو ذرائع سے چلانے پر جواب طلب کر لیا۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیرنے واضح کردیا ہے کہ امریکا پاکستان میں رجیم چینج میں ملوث ہے ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کے معاملے میں حکومتی دباؤ کے باوجود امریکا میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید ڈٹ گئے۔

    نجی ٹی وی اے آر وائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق پاکستانی سفیر اسد مجید پر بیان بدلوانے کے لیے حکومتی دباؤ کام نہ آیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسد مجید نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ خط میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی ہے، کیسے کہوں کہ یہ اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہے۔

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی تحقیقات کے مطابق مراسلے میں کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی ہے۔

    جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نے توثیق کی ہے کہ امریکی مراسلہ سازش نہیں مداخلت ہے، خفیہ اداروں نے اعلامیہ کی تحقیقات کی، واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کو ٹیلی گرام موصول ہوا، تمام ترمعلومات اور مراسلوں کی بنیاد پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ غیر ملکی سازش نہیں تھی۔

    قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے جاری اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوران تحقیقات غیر ملکی سازش کے کوئی ثبوت نہیں ملے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر نے قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دی۔ کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کا اعادہ بھی کیا گیا۔

  • حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید کردی

    حکومتی دباؤ مسترد:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید کردی

    اسلام آباد: حکومتی دباؤ:امریکا میں سابق پاکستانی سفیر ڈٹ گئے:عمران خان کے موقف کی تائید کردی ،اطلاعات کے مطابق امریکا میں پاکستان کے سابق سفیرنے واضح کردیا ہے کہ امریکا پاکستان میں رجیم چینج میں ملوث ہے ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ مبینہ دھمکی آمیز مراسلے کے معاملے میں حکومتی دباؤ کے باوجود امریکا میں سابق پاکستانی سفیر اسد مجید ڈٹ گئے۔

    نجی ٹی وی اے آر وائی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق پاکستانی سفیر اسد مجید پر بیان بدلوانے کے لیے حکومتی دباؤ کام نہ آیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق اسد مجید نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ خط میں دھمکی آمیز زبان استعمال کی گئی ہے، کیسے کہوں کہ یہ اندرونی معاملات میں مداخلت نہیں ہے۔

    قبل ازیں وزیر اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سکیورٹی اداروں کی تحقیقات کے مطابق مراسلے میں کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی ہے۔

    جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی نے توثیق کی ہے کہ امریکی مراسلہ سازش نہیں مداخلت ہے، خفیہ اداروں نے اعلامیہ کی تحقیقات کی، واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کو ٹیلی گرام موصول ہوا، تمام ترمعلومات اور مراسلوں کی بنیاد پر کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ غیر ملکی سازش نہیں تھی۔

    قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے جاری اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ دوران تحقیقات غیر ملکی سازش کے کوئی ثبوت نہیں ملے امریکا میں پاکستان کے سابق سفیر نے قومی سلامتی کمیٹی کو بریفنگ دی۔ کمیٹی کے اجلاس میں گزشتہ اجلاس کے فیصلوں کا اعادہ بھی کیا گیا۔

  • ’پاکستانی باصلاحیت نوجوان امریکی تعلیمی اداروں میں اہم کردار ادا کررہے ہیں: ڈاکٹر اسد مجید خان

    ’پاکستانی باصلاحیت نوجوان امریکی تعلیمی اداروں میں اہم کردار ادا کررہے ہیں: ڈاکٹر اسد مجید خان

    واشنگٹن :’پاکستانی باصلاحیت نوجوان امریکی تعلیمی اداروں میں اہم کردار ادا کررہے ہیں:اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان نے کہا ہے کہ پاکستانی باصلاحیت نوجوان امریکی تعلیمی اداروں میں اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

    ڈاکٹر اسد مجید خان نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو سیکیورٹی کے معاملات کے علاوہ وسیع تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کیلئے امریکہ ایک اہم پارٹنر ہے، امریکہ اب بھی ہماری سب سے بڑی برآمدی منڈی اور غیر ملکی ترسیلات کا بڑا ذریعہ ہے۔

    اسد مجید نے کہا کہ پاکستانی امریکی کمیونٹی سیاسی طور پر متحرک ہےجو ہمارے دونوں ممالک کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتی ہے۔انکا کہنا ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ وسیع البنیاد تعلقات استوار کرنے کا خواہاں ہے اور ہمارے تعلقات تجارت، سرمایہ کاری اور عوام سے عوام کے روابط میں جڑے ہوئے ہیں۔

    پاکستان کے سفیر نے کہا کہ موجودہ حالات میں پاکستان کی توجہ جیو اکنامکس کی جانب ہے اور ہم علاقائی تجارت اور اقتصادی انضمام کو بڑھانے کے لیے کنیکٹیویٹی انفراسٹرکچر کا بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان، امریکہ کو اہم اسٹریٹجک پارٹنر کے طور پر دیکھتا ہے، پاکستان جغرافیائی طور پر انتہائی اہم خطہ ہے اور جنوبی اور وسطی ایشیا کے سنگم پر موجود 220 ملین لوگوں کی تجارتی منڈی ہے۔

    اسد مجید نے کہا کہ پاکستانی نوجوان انتہائی قابل ہیں، پاکستانی حکومت کی توانائی کے شعبے کی پالیسیی ، قابل تجدید توانائی میں مہارت رکھنے والی امریکی کمپنیوں کے لیے زبردست مواقع فراہم کرتی ہے۔

    پاکستانی سفیر کا کہنا ہے کہ اقتصادی طور پر مضبوط پاکستان خطے میں استحکام کی ضمانت ہے، پاکستان ڈیولپمنٹ فنانشل کارپوریشن کے ذریعے امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان افغانستان سرحد پر اقتصادی سرگرمیاں بڑھا سکتا ہے۔

    ڈاکٹر اسد مجید نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہشمند ہیں لیکن بھارتی وزیراعظم مودی کی قیادت میں بی جے پی حکومت انتہا پسند اور پاکستان مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مسئلہ کشمیر اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں اورکشمیری عوام کی خواہشات کے عین مطابق حل ہونا چاہیے۔