Baaghi TV

Tag: اسرائیلی بمباری

  • غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج، جنگ بندی کا مطالبہ

    غزہ پر اسرائیلی حملوں کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج، جنگ بندی کا مطالبہ

    غزہ میں فلسطینیوں پر جاری اسرائیلی بمباری، محاصرے اور مظالم کے خلاف دنیا بھر میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔

    یورپ، ایشیا اور شمالی امریکا کے مختلف ممالک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے جن میں ہزاروں افراد نے شرکت کرتے ہوئے فلسطینی عوام سے یکجہتی اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔کینیڈا کے شہروں ٹورنٹو، وینکوور اور مونٹریال میں ہزاروں مظاہرین نے ریلیاں نکالیں۔ شرکاء نے فلسطینی جھنڈے اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’’فری فلسطین‘‘، ’’غزہ جل رہا ہے‘‘ اور ’’اسرائیلی جارحیت بند کرو‘‘ جیسے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو جنگی جرائم پر جواب دہ بنایا جائے اور فوری طور پر انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

    اسرائیل: تل ابیب میں حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاج

    اسرائیل کے اندر بھی احتجاج کی لہر اٹھی۔ تل ابیب میں ہزاروں اسرائیلی شہری وزیراعظم نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف سڑکوں پر آگئے۔ مظاہرین نے کہا کہ ’’یہ جنگ اسرائیل کی سلامتی نہیں بلکہ اخلاقی شکست ہے‘‘۔ انہوں نے فلسطینیوں پر بمباری کو غیر انسانی اور شرمناک قرار دیتے ہوئے فوری جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ کیا۔

    یونان: ایتھنز میں بڑے پیمانے پر مارچ

    یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں ہزاروں شہریوں نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے لیے مارچ کیا۔ شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر لکھا تھا ’’فلسطینیوں کی نسل کشی بند کرو‘‘، ’’غزہ کو زندہ رہنے دو‘‘ اور ’’انصاف نہیں تو امن نہیں‘‘۔ مظاہرین نے حکومت پر زور دیا کہ اسرائیل سے تعلقات منقطع کیے جائیں اور یورپی یونین و اقوام متحدہ فعال کردار ادا کریں۔

    اسپین: طبی عملے کا علامتی احتجاج

    اسپین میں طبی عملے نے انوکھے انداز میں احتجاج کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو سرخ رنگ سے رنگا۔ یہ علامتی عمل فلسطینی بچوں اور مریضوں کے قتل کی نشاندہی کے طور پر کیا گیا۔ مظاہرین نے اسرائیلی کارروائیوں کو ’’انسانیت کے خلاف جرم‘‘ قرار دیا۔

    جاپان: تنہا احتجاج کرنے والے کارکن کی آواز

    ٹوکیو میں جاپانی سماجی کارکن یوسوکی گزشتہ دو برس سے مسلسل فلسطینی عوام کے حق میں تنہا احتجاج کر رہے ہیں۔ اس بار وہ فلسطینی پرچم اٹھائے سڑک پر نظر آئے اور کہا: ’’خاموشی، ظالم کا ساتھ دینے کے مترادف ہے‘‘۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر یہ احتجاجی لہر جاری رہی تو بڑی طاقتوں پر دباؤ میں اضافہ ہوگا کہ وہ فلسطینی عوام کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کریں۔

    پاک–بھارت میچ میں حارث رؤف اور ابھیشیک شرما کے درمیان گرما گرمی

    پاک سعودی دفاعی معاہدہ اور ‘معرکۂ حق’ نے بھارت کو عبرت دی،وزیراعظم آزادکشمیر

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملہ، 5 افراد شہید

    جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملہ، 5 افراد شہید

    زیارت: اغوا کے بعد اسسٹنٹ کمشنر اور بیٹے کو قتل کردیا گیا

  • غزہ میں قحط اور اسرائیلی حملوں سے مزید درجنوں فلسطینی شہید

    غزہ میں قحط اور اسرائیلی حملوں سے مزید درجنوں فلسطینی شہید

    قحط کے باضابطہ اعلان کے بعد غذائی قلت کے باعث مزید 8 فلسطینی شہید ہوگئے، جن میں 2 بچے بھی شامل ہیں۔

    غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق انسانی بحران کے آغاز سے اب تک بھوک سے جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 281 تک پہنچ گئی ہے، جن میں 114 بچے شامل ہیں۔ وزارتِ صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البُرش نے کہا کہ قحط خاموشی سے شہریوں کو نگل رہا ہے اور خیموں و اسپتالوں کو روزانہ سانحات میں بدل رہا ہے۔قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اسرائیلی بمباری اور حملوں میں آج غزہ بھر میں کم از کم 51 فلسطینی شہید ہوئے، جن میں 16 افراد وہ تھے جو امداد کے منتظر تھے۔ خان یونس کے شمال مغرب میں توپخانے کی فائرنگ سے بے گھر خاندانوں کے خیمے نشانہ بنے جس کے نتیجے میں 16 افراد شہید ہوئے، جن میں 6 بچے شامل تھے۔

    وسطی غزہ کے مغازی پناہ گزین کیمپ میں ایک گھر پر ڈرون حملے میں 2 افراد شہید ہوئے، جبکہ خان یونس کے جنوب مشرق میں امداد کے انتظار میں کھڑے ایک شہری کو گولی مار دی گئی۔ اسی طرح نتساریم کوریڈور کے قریب امداد لینے جانے والا ایک اور فلسطینی بھی اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہوا۔اقوام متحدہ نے 22 اگست کو غزہ میں باضابطہ قحط کا اعلان کیا، جو مشرقِ وسطیٰ میں اپنی نوعیت کا پہلا اعلان ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 14 ہزار فلسطینی شدید بھوک کا شکار ہیں، جو ستمبر کے آخر تک بڑھ کر 6 لاکھ 41 ہزار تک پہنچ سکتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ نے اسرائیل پر امدادی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنے کا الزام لگاتے ہوئے قحط کو "انسانی ہاتھوں سے پیدا کردہ سانحہ” قرار دیا۔

    رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی فوج غزہ میں 62 ہزار 600 سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہے۔

    بلاول بھٹو کا سندھ پیپلز ہاؤسنگ کا دورہ ،عوام سے ملاقات

    شیر افضل مروت کا پارٹی چھوڑنے کا اعلان، عمران خان و ٹیم پر سنگین الزامات

    مودی کے فیصلے زلیل کروائیں گے، امریکہ سے بھارتی ملک بدر،چین آگے سرنڈر

    ایم کیو ایم نے سینٹرل آرگنائزنگ اینڈ کوآرڈینیشن کمیٹی قائم کردی

  • غزہ، خان یونس اور جبالیہ پر اسرائیلی بمباری، امدادی مراکز پر حملے، 54 ہزار سے زائد شہداء

    غزہ، خان یونس اور جبالیہ پر اسرائیلی بمباری، امدادی مراکز پر حملے، 54 ہزار سے زائد شہداء

    اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ سٹی، خان یونس اور جبالیہ پر تازہ فضائی حملوں میں 26 فلسطینی شہید ہوگئے، جبکہ امدادی مراکز کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں درجنوں افراد جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔

    فلسطینی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، اسرائیلی فورسز نے جان بوجھ کر ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں بھوک سے بےحال افراد امدادی سامان کی امید پر جمع تھے۔ امدادی مراکز کو عملاً مذبح خانے بنا دیا گیا ہے۔رات گئے اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں امداد کے منتظر مزید 27 فلسطینی شہید اور 90 زخمی ہوگئے، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

    انسانی حقوق کی تنظیموں نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی فوج جان بوجھ کر بھوک سے مجبور فلسطینیوں کو خوراک کی لالچ دے کر ایک جگہ جمع کرتی ہے اور پھر ان پر براہ راست فائرنگ کر دیتی ہے، جسے جنگی جرم قرار دیا جا رہا ہے۔اسپتال ذرائع کے مطابق تازہ حملے اس وقت ہوئے جب سیکڑوں فلسطینی ایک امدادی قافلے کے انتظار میں کھلے آسمان تلے موجود تھے کہ ان پر گولیاں برسا دی گئیں، نتیجتاً 27 افراد موقع پر ہی شہید ہوگئے۔

    غزہ کی وزارت صحت کے مطابق، اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں اب تک مجموعی شہداء کی تعداد 54 ہزار 510 ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔اسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولیات ختم ہو چکی ہیں، ادویات نایاب اور ایمبولینسیں بھی حملوں کی زد میں آ رہی ہیں۔

    یوم نکبہ کے موقع پر بھی اسرائیلی بمباری سے مزید 15 افراد شہید ہوئے، جب کہ ایک اور فضائی حملے میں 24 فلسطینیوں کی جانیں چلی گئیں۔بین الاقوامی برادری کی خاموشی، اور اسرائیل کی مسلسل درندگی کے خلاف فلسطینی عوام سراپا احتجاج ہیں، تاہم صورتحال میں بہتری کے کوئی آثار تاحال نظر نہیں آ رہے۔

    آئندہ بجٹ میں چھوٹی گاڑیوں پر سیلز ٹیکس 12.5 سے بڑھا کر 18 فیصد کیے جانے کا امکان

    پاک امریکہ تعلقات نئے دور میں داخل، معاشی استحکام اور علاقائی امن اولین ترجیح ہے،وزیرِاعظم

    نیٹ میٹرنگ ختم نہیں ہو رہی، شفاف اور پائیدار نظام کی طرف جا رہے ہیں، اویس لغاری

    ایران میں قتل ہونے والے 8 مزدوروں کے لواحقین کو 10 لاکھ فی خاندان امداد

  • غزہ پر فضائی حملوں کے بعد اسرائیل کے زمینی حملے شروع

    غزہ پر فضائی حملوں کے بعد اسرائیل کے زمینی حملے شروع

    اسرائیل کی فوج نے کہا ہے کہ اس کی فورسز نے غزہ کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں زمینی کارروائی شروع کردی ہے جبکہ تازہ کارروائیوں میں 38 فلسطینی شہید ہوگئے۔

    غیر ملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے کہا کہ فورسز نے نیتزارم راہداری کا کنٹرول سنبھال لیا جو شمال اور جنوبی علاقوں کے درمیان جزوی بفرزون ہے۔حماس نے بیان میں کہا کہ نیتزارم راہداری میں مداخلت دو مہینوں کی جنگ بندی کے دوران نئی اور بدترین خلاف ورزی ہے تاہم حماس نے معاہدے پر عمل پیرا رہنے کا اعادہ کیا اور مصالحت کاروں کو اپنی ذمہ داریاں شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔

    ادھر اقوام متحدہ نے بیان میں کہا کہ اسرائیلی فضائی کارروائیوں سے غیرملکی اہلکار جاں بحق اور عملے کے دیگر 5 ارکان زخمی ہوگئے ہیں جبکہ اسرائیل نے اس حملے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے حماس کو نشانہ بنایا ہے۔فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے تازہ حملوں میں شمالی غزہ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں 4 افراد شہید اور 10 زخمی ہوگئے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بیت الاہیا میں اسرائیلی فوج نے خیمے پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید ہوگئے ہیں۔

    خیال رہے کہ اسرائیل کی جانب سے اکتوبر 2023 میں غزہ پر شروع کیے گئے حملوں میں اب تک 49 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں اور فلسطینی حکام نے بتایا کہ غزہ پٹی میں اشیائے خوردنوش اور دیگر بنیادی ضرورت کی اشیا کی قلت کا سامنا ہے۔

    عثمان خواجہ ایک بار پھر فلسطین کے لیے بول پڑے

    دبئی حکومت کا کم قیمت گھروں کی تعمیر کا اعلان

    کراچی سےحوالہ ہنڈی میں ملوث دو ملزمان گرفتار، غیر ملکی کرنسی برآمد

    ایسا امن معاہدہ لایا جائے جو روس کو دوبارہ حملہ کرنے سے روکے، فرانسیسی صدر

  • عثمان خواجہ ایک بار پھر فلسطین کے لیے بول پڑے

    عثمان خواجہ ایک بار پھر فلسطین کے لیے بول پڑے

    پاکستانی نژاد آسٹریلوی کرکٹرعثمان خواجہ بھی اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر تازہ حملوں اور 400 سے زائد افراد کی شہادت پر بول پڑے۔

    رپورٹ کے مطابق عثمان خواجہ نے سوشل میڈیا پرجاری پیغام میں کہا کہ ایک روز میں 130 سے زائد بچوں کو مارا گیا، بغیر کسی وجہ کے جنگ بندی معاہدے کو توڑا گیا۔کرکٹر عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ تصور کریں اگر یہ سب مخالف کی طرف سے ہوتا تو کیسا ردعمل آتا، تمام زندگیاں برابر نہیں ہیں، یہ بچے بس تاریخ میں نمبرز بن کر رہ جائیں گے۔

    واضح رہے کہ اسرائیل نے گزشتہ روز جنگ بندی معاہدہ توڑتے ہوئے سحری کے وقت امریکی ساختہ بموں سے وحشیانہ بم باری کی۔فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کے تازہ حملوں میں شمالی غزہ میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا جہاں 4 افراد شہید اور 10 زخمی ہوگئے۔بیان میں مزید کہا گیا کہ بیت الاہیا میں اسرائیلی فوج نے خیمے پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 14 افراد شہید ہوگئے ہیں۔

    کراچی سےحوالہ ہنڈی میں ملوث دو ملزمان گرفتار، غیر ملکی کرنسی برآمد

    کراچی سےحوالہ ہنڈی میں ملوث دو ملزمان گرفتار، غیر ملکی کرنسی برآمد

    بحیرہ روم میں تارکیں وطن کی کشتی ڈوب گئی، 6 افراد ہلاک ، 40 لاپتا

  • اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا ہے، وزیر اعظم

    اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا ہے، وزیر اعظم

    وزیر اعظم شہباز شریف نے غزہ میں فوری اور غیرمشروط جنگ بندی، اسرائیل کو ہتھیاروں کی فراہمی فوری روکنے اور غزہ کی ناکہ بندی ختم کرکے وہاں خوراک، پانی، بجلی اور طبی امداد کی فوری فراہمی کا مطالبہ کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے سعودی شہر ریاض میں منعقدہ غیرمعمولی عرب اسلامی سربراہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہ اسرائیل غزہ پر جارحیت کی ہر حد پار کرچکا، غزہ میں انسانی بحران تصور سے باہر ہے، زندگیاں ختم ہورہی ہیں، گھر تباہ ہورہے ہیں اور خاندان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ کب تک ہسپتالوں کو بچوں کی لاشیں اٹھائے خواتین سمیت دھماکوں سے اڑایا جاتا رہے گا اور انسانیت اپنی آنکھیں بند کیے رکھے گی؟وزیر اعظم نے کہاکہ فلسطینیوں کے خلاف جاری جنگی جرائم کو عالمی عدالت انصاف اور میڈیا نسل کشی قرار دے چکا ہے، ہر گزرتے دن کے ساتھ اسرائیل ہراخلاقی ضابطے کو پامال کررہا ہے، قتل و غارت اور تباہی تاحال جاری ہے اور اس کے خاتمے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی، انہوں نے کہاکہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس جارحیت کو کب تک نظر انداز کیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہاکہ دنیا کی خاموشی اسرائیل کے لیے حوصلہ افزائی کا کام کررہی ہے، انسانیت کی فوری جنگ بندی اور بلا تعطل امداد کی فراہمی اور شہریوں کے تحفظ کی درخواستوں کو مسلسل پامال کیا جارہا ہے۔ایک طرف گھروں کو مکینوں سمیت بموں سے اڑیا جارہا ہے اور دوسری طرف اسرائیل کو جدید ترین ہتھیاروں کی فراہمی جاری ہے اور ساتھ ہی اسے غیر مشروط تعاون اور حفاظت کی یقین دہانی بھی کروائی جارہی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ عالمی انسانی قوانین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں، غزہ میں انسانیت آزمائش میں بار بار ناکام ہورہی ہے اور دنیا بہری بن کر خاموشی سے تماشہ دیکھ رہی ہے۔شہباز شریف نے فلسطینی عوام کی ثابت قدمی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہاکہ یہ عجوبہ نہیں ہے تو اور کیا ہے کہ دہائیوں سے جاری مظالم اور جارحیت کے باوجود فلسطینی عوام کے مزاحمت کے جذبے میں کوئی کمی نہیں آئی ، بے رحم محاصرے کے باوجود آزادی کے شعلے پوری آب و تاب کے ساتھ بھڑک رہے ہیں۔ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خود ارادیت کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ کھڑا ہے اور 1967 سے قبل کی سرحدات پر مشتمل ایک ایسی آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے غیر متزلزل حمایت کااعادہ کرتا ہے، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، انہوں نے کہا کہ مقدس سرزمین پر انصاف اور دیرپا امن کے قیام یہی ایک واحد حل ہے۔

    پی ٹی آئی کی سندھ پولیس کیخلاف توہین عدالت کی درخواستیں

    روس پاکستان سے بہترین تعلقات چاہتا ہے ،گورنرسندھ

    پاکستان کسٹمز میں گریڈ 10سے 18تک کی 69آسامیاں مستقل ختم

  • یحییٰ سنوار کی وصیت اور تنظیم کیلئے ہدایات نامہ منظر عام پر آگیا

    یحییٰ سنوار کی وصیت اور تنظیم کیلئے ہدایات نامہ منظر عام پر آگیا

    فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے سربراہ یحییٰ سنوار شہید کی وصیت اور حماس کیلئے ہدایات نامہ سامنے آگیا۔

    حماس کے شہید رہنما یحییٰ سنوار کے آخری تحریری احکامات ظاہر کرتے ہیں کہ ان میں اسرائیلی یرغمالیوں کے بارے میں واضح ہدایات شامل ہیں۔فلسطینی اخبار القدس نے 3 صفحات پر مشتمل یہ دستاویزات شائع کی ہیں، جن کو سنوار کی "وصیتیں” اور "ہدایت نامے” قرار دیا جا رہا ہے۔16 اکتوبر کو اسرائیل کے ساتھ لڑتے ہوئے شہید ہونے والے یحییٰ سنوار نے اپنی ہدایات میں اسرائیلی یرغمالیوں کے محافظوں کو کہا کہ "دشمن کے قیدیوں کی جان کا خیال رکھیں اور انہیں محفوظ بنائیں، کیونکہ یہ ہمارے پاس سودے بازی کا واحد ذریعہ ہیں۔”یحییٰ سنوار نے لکھا کہ "دشمن کے قیدیوں” کی حفاظت کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ فلسطینی قیدیوں کی اسرائیلی جیلوں سے رہائی کو ممکن بنایا جا سکے۔ ان کی تحریر میں اس فرض کو پورا کرنے والے افراد کو انعام دینے کا بھی ذکر کیا گیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یحییٰ سنوار کی شہادت کے وقت غزہ میں 101 اسرائیلی یرغمالی موجود تھے، جن میں سے 60 کے زندہ ہونے کی اطلاع تھی۔تحریر کے دوسرے صفحے پر یرغمالیوں کی تعداد اور مقامات کا تذکرہ ہے، جس میں غزہ شہر میں 14، غزہ کے وسط میں 25 اور رفح میں 51 یرغمالیوں کا ذکر ہے جبکہ چوتھے گروپ کے 22 افراد کا کوئی مقام نہیں دیا گیا۔آخری صفحے میں ان 11 خواتین یرغمالیوں کے نام شامل ہیں جنہیں جنگ بندی کے دوران رہا کیا گیا تھا اور جن کے پاس غیر ملکی شہریت بھی تھی۔اب تک اسرائیل کی طرف سے ان دستاویزات پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں آیا ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ جمعرات کو یرغمالیوں کے خاندانوں کے فورم نے اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو اور حماس سے یرغمالیوں کی رہائی کے معاہدے کو یقینی بنانے کی اپیل بھی کی۔

    افغانستان نے پہلی بار ایمرجنگ ٹیمز ٹی 20 ایشیا کپ جیت لیا

    مزدوری کیلئے پاکستان سے تھائی لینڈ جانے والا شہری اغوا

    لاہور میں پیٹرول مانگنے کے بہانے موٹر سائیکل سوار قتل کر دیا

    پی ٹی آئی نے بھارتی نوازی میں حریت ریلی کے خلاف سازش کی، وقار مہدی

    کراچی :سینٹرل پولیس کی اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف کاروائیاں، ایک ہلاک 2 گرفتار

  • پاکستان سے لبنان کے لیے پہلی امدادی کھیپ روانہ

    پاکستان سے لبنان کے لیے پہلی امدادی کھیپ روانہ

    پاکستان سے لبنان کے لیے پہلی امدادی کھیپ روانہ کردی گئی۔

    ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق چارٹرڈ طیارے کے ذریعے 3 ٹن ادویات اور دیگر ضروری اشیا لبنان روانہ کی گئیں۔ امدادی پیکج کی تیاری میں این ڈی ایم اے، پاک فوج اور الخدمت فائونڈیشن شامل تھے۔کراچی کے جناح ائیرپورٹ پر امداد کی لبنان روانگی کے وقت کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر این ڈی ایم اے، وزارت خارجہ ، مسلح افواج اور الخدمت فانڈیشن کے نمائندے موجود تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے انسانی بنیادوں پر لبنان میں جنگ کے متاثرین کے لیے امداد فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔قبل ازیں وزیر اعظم کی ہدایت پر این ڈی ایم اے نے 9 اکتوبر 2024 کو لبنان سے 79 پھنسے ہوئے پاکستانیوں کے لیے ایک خصوصی پرواز کا اہتمام کیا جو تمام پاکستانیوں کو لے کر وطن واپس پہنچا۔ امدادی سامان اسی چارٹرڈ طیارے کے ذریعے روانہ کیا گیا۔

    متحدہ عرب امارات کی دہشت گرد حملے کی مذمت، پاکستان سے اظہار یکجہتی، چین سے تعزیت کا اظہار

    کراچی کے گیسٹ ہائوسز اور ہوٹلوں میں تابڑ توڑ چھاپے، درجنوں گرفتار

    اسرائیلی جارحیت کی مذمت سے کام نہیں چلے گا،ثروت اعجاز قادری

  • غزہ میں 10 ہزار سے زائدلاشیں لاکھوں ٹن ملبے تلے دبی ہونے کا انکشاف

    غزہ میں 10 ہزار سے زائدلاشیں لاکھوں ٹن ملبے تلے دبی ہونے کا انکشاف

    اسرائیلی فوج نے غزہ کو ایک سال میں کنکریٹ کا جنگل بنا دیا، غزہ کے باشندے حیران ہیں کہ لاکھوں ٹن ملبے سے کیسے نمٹا جائے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اقوام متحدہ کا تخمینہ ہے کہ غزہ میں جنگ کے بعد 42 ملین ٹن سے زائد ملبہ جمع ہو چکا ہے، جو 2008 سے لے کر جنگ کے آغاز تک جمع ہونے والے ملبے کی 14 گنا مقدار ہے۔ ملبے کی اتنی بڑی مقدار کو ہٹانا ایک بہت بڑا چیلنج ہے اور اقوام متحدہ کے مطابق یہ کام مکمل کرنے میں 14 سال لگ سکتے ہیں۔اس تباہی کی شدت سے نمٹنے کے لیے، غزہ کے حکام اور اقوام متحدہ نے مل کر ایک پائلٹ منصوبہ شروع کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ خان یونس اور دیگر علاقوں سے سڑکوں پر پڑے ملبے کو صاف کیا جا سکے۔ لیکن اس کام کے لیے بڑے پیمانے پر مشینری اور فنڈز کی ضرورت ہے، جو موجودہ حالات میں ایک چیلنج ہے۔

    ملبے کا استعمال اور مستقبل کی تعمیر

    غزہ کے حکام امید رکھتے ہیں کہ ملبے کا ایک حصہ سڑکوں اور سمندری کناروں کو مضبوط کرنے کےلیے دوبارہ استعمال کیا جائے گا، لیکن موجودہ جنگی صورتحال اور اسرائیلی پابندیوں کے باعث یہ عمل سست روی کا شکار ہے۔خان یونس میں اپنے دو منزلہ گھر کے ملبے پر کھڑا 11 سالہ محمد گرے ہوئے چھت کے ٹکڑوں کو ایک ٹوٹے ہوئے ڈول میں جمع کرتا ہے اور اسے کنکریوں میں تبدیل کرتا ہے، جسے اس کا والد جنگ کے متاثرین کی قبریں بنانے کےلیے استعمال کرے گا۔11 سالہ محمد کے والد جو تعمیراتی کمپنی میں بھی کام کرچکے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’ہم یہ ملبہ گھروں کو بنانے کےلیے نہیں جمع کرتے، بلکہ قبریں اور کتبے بنانے کےلیے۔ یعنی ایک مصیبت سے دوسری مصیبت میں جا رہے ہیں۔‘اس محنت کے ساتھ ایک دکھ بھری حقیقت بھی جڑی ہوئی ہے۔ مارچ میں، شمالی کے بیٹے، اسماعیل کی قبر بنانے میں بھی یہی ملبہ استعمال ہوا، جو گھر کے کام کاج کے دوران شہید ہوگیا تھا۔

    بی جے پی کو ہریانہ اور مقبوضہ کشمیر میں بھی شکست کا امکان

    فلسطین سے اظہار یکجہتی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کل منعقد ہوگی

  • فلسطین سے اظہار یکجہتی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کل منعقد ہوگی

    فلسطین سے اظہار یکجہتی کیلئے آل پارٹیز کانفرنس کل منعقد ہوگی

    فلسطین اور غزہ کی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلیے آل پارٹی کانفرنس کل ایوان صدر میں ہوگی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بلائی گئی آل پارٹی کانفرنس کل سہہ پہر 3 بجے ایوان صدر میں منعقد ہوگی۔واضح رہے کہ 4 اکتوبر کو وزیر اعظم شہباز شریف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن سے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کے بعد 7 اکتوبر کو فلسطینیوں کےساتھ یوم یکجہتی منانے اور آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا تھا۔ملاقات میں غزہ اور فلسطین میں نہتے فلسطینیوں پر جاری ظلم و ستم کے خلاف آواز اٹھانے اور فلسطینی بہن بھائیوں کے حق میں آواز اٹھانے کے لیے وزیرِ اعظم کی میزبانی میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ملاقات کے بعد یوم یکجہتیِ فلسطین اور آل پارٹیز کانفرنس کے لیے کمیٹی کے قیام کی منظوری دی گئی تھی،کمیٹی میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحٰق ڈار، شیری رحمٰن، خواجہ سعد رفیق اور نیئر بخاری شامل ہوں گے۔

    قبل ازیں حکومتی وفد نے ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں اسلام آباد میں جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن سے ان کی رہائشگاہ پر ملاقات کی۔حکومتی وفد میں خواجہ سعدرفیق، نئیر بخاری، نوید قمر اور شیری رحمان شامل تھے جبکہ جے یو آئی (ف) کی جانب سے مولاناعبدالغفورحیدری، مولاناصلاح الدین ایوبی، محمداسلم غوری بھی ملاقات میں شریک تھے۔اسلام آباد میں ہونے والی ملاقات میں ملکی سیاسی صورتحال پر گفتگو کی گئی اور سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن کو کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس میں شرکت کی دعوت بھی دی گئی۔

    بلوائیوں کے تشدد سے 50 اہلکار زخمی ہوئے، اٹک پولیس