لبنانی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے واضح کیا ہے کہ اسرائیلی حملے میں اپنے سینئر کمانڈر ہیثم علی طباطبائی کی شہادت کا جواب ضرور دیا جائے گا اور جوابی کارروائی کے وقت کا فیصلہ تنظیم خود کرے گی۔
ٹی وی خطاب میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ہونے والی یہ کارروائی کھلی جارحیت ہے، اور تنظیم کو اس کا جواب دینے کا پورا حق حاصل ہے۔انہوں نے کہا کہ حزب اللہ اپنی حکمتِ عملی کے مطابق جوابی کارروائی کے وقت کا تعین کرے گی۔نعیم قاسم نے مزید کہا کہ لبنان کی حکومت کو بھی اسرائیلی اقدامات کا مقابلہ کرنے کیلئے جامع منصوبہ تیار کرنا چاہیے
سنئیر صحافی اور اینکر مبشر لقمان کا اپنے وی لاگ میں کہنا ہے کہ ایک ماہ کے اندر چھ مسلم ممالک پر حملے کے تناظر میں خطے کی صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔
مبشر لقمان کے مطابق اسرائیل کے تازہ فضائی حملے نے قطر کے سفارتی علاقے کو نشانہ بنایا جس میں حماس کے بعض رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا۔ قطر نے اسے ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے جواب کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔فلسطین کے غزہ میں بمباری، لبنان اور شام پر حملے، یمن پر چڑھائی، ایران کو دھمکیاں اور اب قطر میں امریکی اتحادی کارروائی کے الزامات نے مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
مبشر لقمان کے تجزیے کے مطابق یہ حملہ امریکہ کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں تھا، کیونکہ قطر میں امریکی فوج کا سب سے بڑا بیس اور جدید دفاعی نظام موجود ہے لیکن پھر بھی نہ کوئی فضائی دفاعی نظام حرکت میں آیا، نہ ہی کوئی ردِعمل سامنے آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے میں 15 اسرائیلی جہاز شامل تھے جنہوں نے مختلف عرب ریاستوں کی فضائی حدود استعمال کیں لیکن کہیں سے بھی ان کو روکا نہیں گیا اور نہ ہی کسی نے خبردار کیا۔انہوں نے یہ بھی یاد دلایا کہ ماضی میں اسرائیل نے اردن پر حملہ کرکے گولان ہائٹس پر قبضہ کیا اور اب اردن اپنا پانی اسرائیل سے پیسے دے کر خرید رہا ہے۔ ان کے مطابق قطر کے دفاعی معاہدوں اور جدید ہتھیاروں کے باوجود کوئی مؤثر مزاحمت نظر نہیں آئی۔
مبشر لقمان نے کہا کہ عرب ممالک کی فوجی حالت اور سیاسی بے عملی مسلم دنیا کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ ان کے مطابق ترکی پر بھی خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے لیکن وہ اس سے متفق نہیں کیونکہ ترکی نیٹو رکن ہے اور خود اسلحہ تیار کرتا ہے۔ تاہم اسرائیلی اور امریکی تھنک ٹینک یہ تاثر دے رہے ہیں کہ ترکی کو دہشت گردوں کی حمایت کا الزام دے کر اس کے خلاف بھی کارروائی کو جواز دیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مسلم دنیا ماضی میں بھی حماس یا فلسطینی قیادت کی شہادتوں پر صرف مذمتی بیانات دیتی رہی ہے لیکن عملی اقدام نہیں کیا۔ ان کے مطابق جب تک اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو اقتدار سے نہیں ہٹتے یہ سلسلہ ختم نہیں ہوگا کیونکہ خود اسرائیل کے اندر ان کے خلاف بڑی تحریکیں موجود ہیں اور ان پر کرپشن کے الزامات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ایران وہ دو ممالک ہیں جن سے اسرائیل کو خوف ہے کیونکہ یہ دونوں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مبشر لقمان کے بقول اگر قطر پاکستان کی فوجی صلاحیت کا عشرِ عشیر بھی اپنے دفاع پر خرچ کرتا تو اسرائیلی طیارے قطر پہنچنے سے پہلے ہی مار گرائے جاتے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت اسرائیل کا قریبی دوست ہے اور نریندر مودی اسی طرح کا کردار جنوبی ایشیا میں ادا کرنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن پاکستان نے اس کا توڑ کیا۔ مبشر لقمان نے پاکستان کی دفاعی صلاحیت اور عوامی اتحاد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مشکل وقت میں پاکستانی قوم اکٹھی ہو جاتی ہے۔
ان کے مطابق قطر پر حملے کے بعد مسلم دنیا میں احتجاجی تحریک ہونی چاہیے تھی لیکن کوئی قابل ذکر ردعمل نظر نہیں آیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ 1967 کی چھ روزہ جنگ سے جاری عمل کی ایک نئی کڑی ہے اور اگر مسلم ممالک نے اپنا دفاع اور اتحاد مضبوط نہ کیا تو سب کی باری آئے گی۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ یہ وقت مسلم دنیا کے لیے ایک امتحان ہے اور اب صرف مذمتی بیانات سے کام نہیں چلے گا۔
ایران کی حمایت یافتہ لبنانی تنظیم حزب اللہ نے گزشتہ سال اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی 23 فروری کو تدفین کرنے کا اعلان کردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق حزب اللہ کے موجودہ سربراہ نعیم قاسم نے اعلان کیا کہ تنظیم کے شہید رہنما حسن نصر اللہ کی تدفین 23 فروری کو کی جائے گی۔ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اپنے ایک بیان میں نعیم قاسم نے کہا کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری شدید جنگ کے دوران سیکیورٹی حالات کے باعث گزشتہ 2 ماہ کے دوران تدفین نہیں کی جاسکی، وہ صورتحال اب ختم ہوگئی ہے اس لیے حزب اللہ نے فیصلہ کیا ہے کہ 23 فروری کو حسن نصر اللہ کی تدفین کے سلسلے میں بڑا عوامی اجتماع منعقد کیا جائے گا۔
یاد رہے کہ حزب اللہ نے اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت کے ٹھیک 2 ماہ بعد 27 نومبر کو عوامی سطح پر نماز جنازہ کی ادائیگی کا اعلان کیا تھا جب کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان ہوگیا تھا۔حسن نصراللہ کو اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے 27 ستمبر کو ان کے ہیڈکواٹر میں شہید کر دیا تھا، ان کی عوامی سطح پر نماز جنازہ مسلسل اسرائیلی بمباری کی وجہ سے التوا میں چلی آرہی تھی۔حزب اللہ نے اسرائیلی حملے میں اپنے سربراہ حسن نصراللہ کی شہادت کی 28 ستمبر کو تصدیق کی تھی جب کہ اس سے ایک روز قبل یعنی 27 ستمبر کو اسرائیل نے بیروت حملوں میں ان کے علاوہ دیگر سینئر رہنماؤں کو شہید کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔
اس وقت کی غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق اس حملے میں حسن نصراللہ کی بیٹی زینت نصراللہ نے بھی جام شہادت نوش کیا تھا جب کہ اسرائیلی فوج کے مطابق حزب اللہ کے دو اہم کمانڈر بھی اس حملے میں دم توڑ گئے تھے۔رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ بیروت پر اسرائیلی فوج نے 5،5 ہزار پاؤنڈ کے بم برسائے، ایف 35 لڑاکا طیاروں نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا تھا، 7 گھنٹے تک وقفے وقفے سے ہونے والی بمباری کے نتیجے میں کئی عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئی تھیں۔