Baaghi TV

Tag: اسرائیلی وزیراعظم

  • غزہ پر فوجی قبضے کی تجویز :اسرائیلی وزیر خزانہ نے حکومت گرانے کی دھمکی دیدی

    غزہ پر فوجی قبضے کی تجویز :اسرائیلی وزیر خزانہ نے حکومت گرانے کی دھمکی دیدی

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے غزہ پر فوجی قبضے کی تجویز کی سکیورٹی کابینہ سے منظوری کے بعد اسرائیلی وزیر خزانہ نے حکومت گرانے کی دھمکی دیدی۔

    اسرائیلی کان پبلک براڈ کاسٹر کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ بذلیل اسموٹرچ نے غزہ میں جنگ کے نیتین یاہو کے منصوبوں پر حکومت گرانے کی دھمکی دی ہے، وزیر خزانہ بذلیل اسموٹرچ نے جمعرات کو سکیورٹی کابینہ کے اجلاس میں یہ دھمکی دی۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیر خزانہ کا کہنا تھا میرے نقطہ نظر سے ہم سب کچھ روک کر لوگوں کو فیصلے کا اختیار دے سکتے ہیں،یقین نہیں ہے کہ وزیراعظم اسرائیلی فوج کو فیصلہ کن فتح کی طرف لے جا سکتے ہیں، ایسا لگتا ہے نیتن یاہو اسرائیلی فوج کو فیصلہ کن فتح کی طرف لے جانا ہی نہیں چاہتے۔

    واضح رہے کہ دو روز قبل اسرائیلی کابینہ نے صیہونی وزیراعظم نیتن یاہو کی غزہ پر فوجی کنٹرول کی تجویز کی منظوری دی تھی،گزشتہ روز نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا تھا فوجی کارروائی کا مقصد غزہ پر قبضہ کرنا نہیں بلکہ غزہ کو حماس کے کنٹرول سے آزاد کروانا ہے،غزہ میں سول انتظامی حکومت قائم کی جائے گی جس میں حماس اور فلسطینی اتھارٹی کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔

  • ایران کو اسپتال پرحملےکی بھاری قیمت چکانا پڑےگی، اسرائیلی وزیراعظم

    ایران کو اسپتال پرحملےکی بھاری قیمت چکانا پڑےگی، اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیراعٖظم نیتن یاہو نے ایران کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسے ملک پر حملے کی بھاری قیمت چکانا پڑے گی،خامنہ ای کو مزید زندہ رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی-

    الجزیرہ کے مطابق اپنے بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا کہ ایرانی میزائلوں نے سروکا اسپتال اور وسطی اسرائیل میں شہری آبادی کو نشانہ بنایاایرانی ظالموں کو اسپتال پرحملےکی بھاری قیمت چکانا پڑےگی۔

    اسرائیلی وزیردفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ آج کے حملے کا بدلہ خامنہ ای سے لیں گے، وہ بنکر میں بیٹھ کر عوام پر حملے کروارہے ہیں، خامنہ ای کو مزید زندہ رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، آیت اللہ خامنہ ای کی حکومت کو تہس نہس کر دیں گے تہران میں موجود خطرے کو ختم کرنے کے لیے فوج کو حملوں میں شدت کی ہدایت کردی ہے۔

    ایرانی چیف آف اسٹاف عبدالرحیم موسوی نے ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک اسرائیل سے وابستہ کسی بھی ہدف پر حملے جاری رکھے گا۔ انھوں نے واضح کیا کہ "مسلح افواج کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔”

    یہ بیان ان حملوں کے بعد سامنے آئے ہیں جو اسرائیل نے گزشتہ شب نطنز میں ایک ایسے مقام پر کیے، جو جوہری ہتھیار بنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے، نیز آراک کے جوہری ری ایکٹر پر بھی حملہ کیا گیا۔

    اسرائیلی فوج نے آج ایک بیان میں اعلان کیا کہ 40 جنگی طیاروں نے 100 سے زائد گولہ بارود کے ذریعے ایران میں درجنوں عسکری اہداف کو نشانہ بنایابیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ حملے تہران اور دیگر علاقوں میں درجنوں عسکری اہداف پر کیے گئے۔

    واضح رہے کہ ایران نے آج صبح ایک دفعہ پھر اسرائیلی شہروں پر بیلسٹک میزائل داغے جس سے اب تک 50 سے زائد اسرائیلیوں کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے جب کہ کچھ کی حالت تشویشناک ہے۔

  • قیدیوں کو رہا نہ کرنے پر  اسرائیلی وزیراعظم کی غزہ میں دوبارہ حملوں کی دھمکی

    قیدیوں کو رہا نہ کرنے پر اسرائیلی وزیراعظم کی غزہ میں دوبارہ حملوں کی دھمکی

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے قیدیوں کو رہا نہ کیے جانے کی صورت میں غزہ میں دوبارہ حملے کرنے کی دھمکی دے دی۔

    غیر ملکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حماس نے ہفتے کی دوپہر تک قیدیوں کو رہا نہیں کیا تو اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ ختم ہو جائے گا اور لڑائی دوبارہ شروع ہو جائے گی۔ ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ فوج اس وقت تک شدید لڑائی کرے گی، جب تک حماس کو شکست نہیں دے دیتے۔کابینہ اجلاس کے بعد خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں کو غزہ کی پٹی کے اندر اور ارد گرد جمع ہونے کا حکم دے دیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حماس کو دھمکی دی تھی کہ اگر غزہ سے ہفتے کی دوپہر تک ہر اسرائیلی یرغمالی رہا نہ ہوا تو جنگ بندی کے خاتمے کی تجویز دوں گا، جس کے بعد تباہی آئے گی۔ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’جہاں تک میرا تعلق ہے، اگر تمام یرغمالیوں کو ہفتے کی رات 12 بجے تک واپس نہ لایا گیا تو میرے خیال میں یہ مناسب وقت ہوگا کہ ہم امن معاہدہ منسوخ کردیں اور تمام شرائط ختم کر دیں، پھر جو کچھ ہوگا، سو ہوگا۔‘

    یاد رہے کہ گزشتہ روز فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس نے اسرائیل پر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے 15 فروری کو مزید قیدیوں کی رہائی غیر معینہ مدت تک مؤخر کردی تھی۔حماس کے مسلح ونگ القسام بریگیڈ کے ترجمان ابو عبیدہ نے ٹیلی گرام پر ایک بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے حماس کی جانب سے 15 فروری بروز ہفتہ طے شدہ مزید اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اگلے حکم تک مؤخر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

    بھارت کو ایک اور سبکی،فرانسیسی صدر کا مودی سے مصافحہ کرنے سے انکار

    کراچی پولیس آفس میں پروموشن تقریب کا انعقاد

    گوگل نے خلیج میکسیکو کا نام خلیج امریکا کر دیا

    چولستان، بین الاقوامی ثقافتی میلہ اور 20ویں جیپ ریلی

    بین الاقوامی منڈی میں باسمتی چاول پر حق ملکیت پاکستان جیت گیا

  • آئرلینڈ ،کینیڈا:اسرائیلی وزیر اعظم کے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کا  اعلان

    آئرلینڈ ،کینیڈا:اسرائیلی وزیر اعظم کے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کا اعلان

    آئرلینڈ اور کینیڈا نے اسرائیلی وزیر اعظم کے وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد کا اعلان کر دیا ہے.

    آئرلینڈ نے جرائم کی عالمی فوجداری عدالت کے فیصلے کی روشنی میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نتن یاہو کی گرفتاری کا اعلان کردیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آئرلینڈ کے وزیراعظم سمون ہیرس نے کہا ہے کہ بینجمن نتن یاہو آئرلینڈ آئے تو جرائم کی عالمی عدالت کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری کے تناظر میں ان کی گرفتاری کو ترجیح دی جائے گی۔قومی نشریاتی ادارے آر ٹی ای سے گفتگو کے دوران آئرش وزیراعظم سے سوال کیا گیا کہ اگر نیتن یاہو کسی بھی وجہ سے آئرلینڈ آئے تو کیا انہیں گرفتار کیا جائے گا؟ جس پر سمون ہیرس نے جواب دیا کہ ’جی ہاں بالکل، ہم عالمی عدالتوں کی حمایت کرتے ہیں اور ان کے وارنٹ پر عمل درآمد کرتے ہیں‘۔دوسری جانب کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ کینیڈا عالمی عدالتوں کی جانب سے جاری کیے گئے تمام فیصلوں کی تعمیل کرے گا، جس میں آئی سی سی کی جانب سے سینئر اسرائیلی حکام کے خلاف وارنٹ گرفتاری بھی شامل ہیں۔جسٹن ٹروڈو نے ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے پیغام میں کہاکہ’یہ انتہائی اہم ہے کہ ہر کوئی بین الاقوامی قانون کی پاسداری کرے’۔’ہم بین الاقوامی قانون کے لیے کھڑے ہیں اور ہم بین الاقوامی عدالتوں کے تمام قواعد و ضوابط اور فیصلوں کی پاسداری کریں گے‘۔

    رینجرز،پولیس کی کارروائی، ڈکیتی میں ملوث 3 ملزما ن گرفتار

    9 مئی: 4 افغان سمیت 10 ملزمان کو 6 سال قید، جرمانے

    پرتھ ٹیسٹ:بھارت کے بعدآسٹریلیا مشکلات سے دوچار

    افغانستان: بغلان میں مزار پر فائرنگ سے 10 افراد جاں بحق

  • اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری پر امریکا کا ردعمل

    اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری پر امریکا کا ردعمل

    امریکہ نے عالمی فوجداری عدالت کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کے فیصلےکو مسترد کر دیا.

    وائٹ ہاؤس ترجمان نے کہا کہ امریکہ عدالت کے سینئر اسرائیلی حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے فیصلے کو بنیادی طور پر مسترد کرتا ہے۔ ہم پراسیکیوٹر کی جانب سے وارنٹ گرفتاری کے لیے جلدی اور اس فیصلے کی وجہ بننے والی پریشان کن عمل کی غلطیوں پر گہری تشویش رکھتے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ اگلے اقدامات پر تبادلہ خیال کررہا ہے۔

    قبل ازیں یورپی یونین خارجہ پالیسی چیف جوزف بوریل نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر کہا ہے کہ عدالت کے فیصلے کا احترام کرنا چاہیے۔جوزف بوریل نے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کا اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ سیاسی نہیں ہے عدالتی فیصلے کا نفاذ یورپی یونین کے تمام ممالک پر لازم ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم کے وارنٹ جاری ہونے پر فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے بھی اپنے بیان میں عالمی فوجداری عدالت کی فیصلے کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت احتساب کا دائرہ اسرائیل کے تمام مجرم رہنماؤں تک بڑھائے۔

    نیدر لینڈ نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ پرعمل کرنے کیلئے تیار

    واضح رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے،بین الاقوامی عدالت انصاف (آئی سی سی) نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف "انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم” کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔یہ اقدام غزہ کی جنگ کے حوالے سے قانونی کارروائی میں ڈرامائی پیش رفت ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آئی سی سی کے 124 رکن ممالک پر یہ لازم ہوگا کہ وہ نیتن یاہو اور گیلنٹ کو اپنی سرزمین پر داخل ہونے کی صورت میں گرفتار کریں۔

    یحییٰ سنوار کی موت پر وہی احساسات جو اسامہ بن لادن کی موت پر تھے،جوبائیڈن

    اذکار کے کتابچے،تسبیح، گھڑی،اسلحہ،شہید یحییٰ سنوار کا کل سامان

    حماس کے نئے سربراہ یحییٰ سنوار شہید،حماس کی تصدیق

    اسماعیل ہنیہ پر حملہ،ایران میں تحقیقات کے دوران گرفتاریاں

    حافظ نعیم الرحمان کی اسماعیل ہنیہ کے بیٹوں سے ملاقات، تعزیت کا اظہار

    اسماعیل ہنیہ کی شہادت،عمران خان کی پراسرار خاموشی،56 گھنٹے بعد دیا ردعمل

    حماس رہنما اسماعیل ہنیہ کی نماز جنازہ تہران میں ادا

    حماس سربراہ اسماعیل ہنیہ ایران میں قاتلانہ حملے میں شہید

    سراج الحق کی قطر میں حماس کے رہنماؤں اسماعیل ہنیہ اور خالد مشعل سے ملاقات

    اسرائیل پر حماس کے حملے کا ماسٹر مائنڈ،ایک پراسرارشخصیت،میڈیا کو تصویر کی تلاش

    اقوام متحدہ کا غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ

    ہسپتال پر اسرائیلی حملہ ،جوبائیڈن کا دورہ اردن منسوخ

  • نیدر لینڈ  نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ پرعمل کرنے کیلئے تیار

    نیدر لینڈ نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ پرعمل کرنے کیلئے تیار

    نیدرلینڈز نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری پر عمل کرنےکاعندیہ دے دیا، نیدر لینڈز کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ضرورت پڑنے پر عالمی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے جاری کردہ نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ پرعمل کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق نیدرلینڈز کے وزیرخارجہ کیسپر ویلڈکیمپ نے عالمی عدالت کے فیصلے کا احترام کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو ہماری سرزمین پر پاؤں رکھتے ہیں تو انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔

    نیدرلینڈ کے نشریاتی ادارے این او ایس سے جاری بیان کے مطابق کیسپر ویلڈکیمپ نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ نیدرلینڈز عالمی عدا لت کے اس فیصلے کا احترام کرتا ہے جس میں اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اگر وہ ڈچ سرزمین پر پہنچتے ہیں تو وہ گرفتار ہوجائیں گے یہی اصول اسرائیل کے سابق وزیردفاع یووو گیلنٹ اور حماس کے رہنما محمد ضیاب ابراہیم پر لاگو ہوتا ہے جنہیں عالمی عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ نیدرلینڈز کی جانب سے اسرائیل کے ساتھ غیرضروری تعلقات ختم کردیئے جائیں گے کیونکہ اسرائیل کے اعلیٰ عہدیدارغزہ میں انسانیت کے خلاف جرم اور جنگی جرائم کے مرتکب ہوگئے ہیں نیدرلینڈ روم اسٹیٹیوٹ پر 100 فیصد عمل کرتا ہے جس کے تحت ہیگ میں عالمی عدالت کا قیام عمل میں آیا تھا اور اس کے قواعد و ضوابط بھی اسی کے مطابق وضع کی گئے تھے۔

    خیال رہے کہ عالمی فوجداری عدالت نے اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے ہیں، اسرائیلی وزیر اعظم پر جنگی جرائم کے ارتکاب کا الزام ہے عالمی فوجداری عدالت نے جنگی جرائم کے ارتکاب کے الزام میں سابق اسرائیلی وزیر دفاع یواف گیلنٹ کے وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے ہیں،عدالت نے فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کے سربراہ محمد ضیف کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    عالمی فوجداری عدالت کے چیف پراسیکیوٹر نے رواں سال مئی میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور دیگر کے جنگی جرائم کےارتکاب کے الزام میں وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔

  • ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز،اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجمن نیتن یاہو نے امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی انتخابات میں تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی ہے،

    نیتن یاہو نے "ایکس” پر ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے ایک پوسٹ میں کہا: "آپ کی وائٹ ہاؤس میں تاریخی واپسی امریکہ کے لیے ایک نیا آغاز ہے اور اسرائیل اور امریکہ کے عظیم اتحاد کے لیے ایک طاقتور عزم کی تجدید ہے۔ یہ ایک شاندار فتح ہے!”

    ٹرمپ، جو اکثر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ تاریخ میں اسرائیل کے سب سے زیادہ حامی صدر تھے، نیتن یاہو کے ساتھ اپنے ذاتی تعلقات کو بھی بڑے فخر سے پیش کرتے تھے۔ تاہم، گزشتہ کچھ سالوں میں ان کے تعلقات میں تناؤ آیا ہے اور ٹرمپ نے اس سال کے دوران ہونے والی جنگ کے دوران نیتن یاہو سے بات کرنے سے گریز کیا ہے۔ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کے فائدے کے لیے متعدد پالیسیوں پر عمل کیا، جن میں تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ کو یروشلم منتقل کرنا، گولان ہائٹس پر اسرائیل کی خودمختاری کو تسلیم کرنا اور متعدد مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی حمایت کرنا شامل ہے، جو ابراہم معاہدوں کا حصہ تھا۔نیتن یاہو نے پہلے ٹرمپ کو اسرائیل کا سب سے بڑا دوست قرار دیا تھا اور ان کی حکومت کے دوران اسرائیل کے حق میں "ناقابلِ تردید” حمایت کی تعریف کی تھی۔

    دوسری جانب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اتحادی پہلے ہی ان کی ممکنہ انتظامیہ کے عہدوں کے بارے میں بات چیت کر رہے ہیں، تین ذرائع نے سی این این کو بتایا۔ جن افراد کے ذہن میں خاص عہدے ہیں، وہ ٹرمپ کے قریبی حلقے کے ارکان سے رابطہ کر کے خود کو مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ٹرمپ، جو بدشگونی سے بچنے کے لیے مشہور ہیں، حالیہ ہفتوں میں ان سے بات چیت سے بڑی حد تک گریز کر رہے تھے، حالانکہ ان کے اتحادی خود کو اچھی پوزیشن میں رکھنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ کبھی کبھار وہ ممکنہ انتظامی ناموں پر بات کرتے تھے، لیکن اس سے آگے بات نہیں بڑھاتے تھے۔ تاہم، یہ اب ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ انہوں نے ٹرمپ کے ساتھ اپنی وفاداری ثابت کی ہے، اپنی کوششوں کو تیز کر رہے ہیں۔

    سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کی صبح اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس ایک ملک ہے جسے مدد کی ضرورت ہے اور یہ مدد بہت ضروری ہے۔ ہم اپنی سرحدوں کو درست کریں گے اور اپنے ملک کے ہر مسئلے کو حل کریں گے،”اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ ہم نے سب سے شاندار سیاسی کامیابی حاصل کی ہے،فلوریڈا کے ویسٹ پام بیچ میں ایک کنونشن سینٹر میں خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے امریکی عوام کو یقین دہانی کرائی کہ "ہر دن میں آپ کے لیے لڑوں گا” اور کہا کہ وہ "امریکہ کے سنہری دور” کا آغاز کریں گے۔

    ٹرمپ کی فاتحانہ تقریر،ایلون مسک کی تعریفیں”خاص”شخص کا خطاب

    ٹرمپ کا شکریہ،تاریخی کامیابی دیکھی،جے ڈی وینس

    ٹرمپ کو دوبارہ صدر منتخب ہونے پر بلاول کی مبارکباد

    واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس کا نیا مکین مل گیا،ڈونلڈ ٹرمپ امریکی صدر منتخب ہو گئے ہیں، ٹرمپ امریکہ کے 47 ویں صدر منتخب ہوئے ہیں، اب تک کے نتائج کے مطابق ٹرمپ277ووٹ لے چکے ہیں،

    امریکی انتخابات،کئی علاقوں میں ووٹرز کو شدید بارش اور طوفانی موسم کا سامنا

    امریکی انتخابات،غزہ جنگ نے عرب،مسلم ووٹرز کو جل سٹائن کی طرف کیا مائل

    امریکی انتخابات،ٹک ٹاک نے نوجوانوں کےسیاسی خیالات بدل ڈالے

    کملا ہیرس کی کامیابی کے لئے بھارت کے مندروں میں دعائیں

  • اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    اسرائیلی وزیراعظم کے قتل کی سازش کے الزام میں ایک شخص گرفتار

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو و دیگر اہم شخصیات کے قتل کی مبینہ سازش کے الزام میں ایک شخص کو گرفتارکیا گیا ہے

    میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی سیکورٹی فورسز نے کاروائی کی ہے اور ایک شخص کو گرفتار کیا ہے جس پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ یہ اسرائیلی وزیراعظم سمیت دیگر اہم شخصیات کو قتل کرنا چاہتا ہے، گرفتار شہری اسرائیلی ہے تا ہم حکام کا کہنا ہے کہ اسے ایرانی حمایت حاصل تھی، اسرائیلی سیکورٹی سروسز کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم و دیگر کے قتل کی مبینہ سازش کرنے والا شخص تاجر ہے اور اس نے ایران میں دو اجلاس میں شرکت کی جس میں اسرائیلی وزیراعظم سمیت اہم شخصیات کے قتل بارے بات چیت کی گئی، اسرائیلی وزیرِ اعظم کے علاوہ وزیرِ دفاع کو بھی قتل کرنے کی مبینہ سازش کی گئی تھی،

    اسرائیلی پولیس اور انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص ایک تاجر تھا جو ترکی میں رہتا تھا اور اس کے ترکی سے رابطے تھے جنہوں نے اسے ایران لے جانے میں مدد کی تھی۔یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ بڑھا ہوا ہے، اسرائیلی سیکورٹی حکام کے مطابق مشتبہ شخص، جس کی شناخت نہیں ہو سکی، کو گزشتہ ماہ گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کا ہدف وزیراعظم، وزیر دفاع اور اسرائیل کی داخلی سلامتی ایجنسی کے سربراہ تھے۔ اپریل اور مئی میں، مشتبہ شخص ایڈی نامی ایک امیر ایرانی تاجر سے ملنے کے لیے دو بار ترکی میں گیا، اور دو ترک شہریوں نے اس کی مدد کی۔ ایڈی کو دونوں موقعوں پر ایران چھوڑنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، اس لیے اسرائیلی شہری کو ترکی سے ایران لایا گیا۔ اس شخص نے وہاں ایڈی اور "ایک ایرانی سیکیورٹی آپریٹو” دونوں سے ملاقات کی۔ایڈی نے اسرائیلیوں سے کہا کہ وہ "ایرانی حکومت کے لیے اسرائیل کے اندر مختلف سیکیورٹی مشنز انجام دیں”۔ بیان کے مطابق، ان میں رقم یا بندوق کی منتقلی، اسرائیل میں پرہجوم جگہوں کی تصاویر بنانا اور انہیں "ایرانی عناصر” کو بھیجنا اور دوسرے اسرائیلی شہریوں کو دھمکیاں دینا شامل ہیں جنہیں ایران نے بھرتی کیا تھا لیکن انہوں نے اپنے کام مکمل نہیں کیے تھے۔اسرائیلی شہری کی ایران میں دوسری ملاقات بھی ہوئی جس میں اسے کئی اہم ٹاسک دیے گئے جس میں نیتن یاہو، وزیر دفاع یوو گیلنٹ، یا شن بیٹ کے سربراہ رونن بار کا قتل بھی شامل ہے۔

    تحقیقات کے مطابق جولائی 2024 میں ایران میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے قتل کا بدلہ لینے کے لیے سابق وزیر اعظم نفتالی اور دیگر عوامی شخصیات کو قتل کرنے کی تجویز بھی دی گئی تھی۔ ایران نے اس حملے کا الزام اسرائیل پر عائد کیا تھا، جس کی اسرائیل نے نہ تو تصدیق کی اور نہ ہی تردید کی۔تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی شہری نے 10 لاکھ ڈالر کی پیشگی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا۔اس گروپ پر یہ بھی الزام ہے کہ اس نے یورپ اور امریکہ میں ایرانی حکومت کے مخالفین کو مارنے اور موساد کے ایک کارکن کو "ڈبل ایجنٹ” بننے کے لیے بھرتی کرنے پر بھی بات کی۔اسرائیلی شہری پر الزام ہے کہ انہیں ملاقاتوں کے لیے 5,000 یورو ($5,600; £4,200) ادا کیے گئے۔

    ایران اور اسرائیل 1979 میں اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران میں موجودہ حکومت کو اقتدار میں لانے کے بعد سے بڑے دشمن رہے ہیں۔ایران اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم نہیں کرتا اور وہ حماس اور حزب اللہ سمیت اسرائیلی مخالفین کا بڑا حمایتی ہے۔ غزہ میں جنگ کے ساتھ ہی ایران اور اسرائیل کے درمیان دشمنی میں شدت آئی ہے اور دونوں فریقوں نے حالیہ مہینوں میں ایک دوسرے پر براہ راست یا بالواسطہ حملے کیے ہیں۔

    تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے آئینی ترمیم کے مسودے پر کوئی رضامندی ظاہر نہیں کی

    آئینی ترامیم جمہوریت پر حملہ،سیاسی جماعتوں کو شرم آنی چاہیے،علی امین گنڈا پور

    آئینی عدالتیں عالمی ضرورت ہیں، انوکھا کام نہیں کر رہے: بیرسٹر عقیل ملک

    آئینی ترمیم کی ناکام کوشش: حکومت اور اتحادیوں میں اختلافات نمایاں، بیر سٹر علی ظفر

    پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کی آئینی ترمیم پر بات چیت جاری ہے،خورشید شاہ

    سپریم کورٹ میں مجوزہ آئینی ترامیم کو کالعدم قرار دینے کی درخواست دائر

    آئینی ترامیم میں کیا ہے؟مسودہ باغی ٹی وی نے حاصل کر لیا

    واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم اور انکی کابینہ کو ہر وقت اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ انہیں قتل کر دیا جائے گا، اسلئے وہ زیادہ تر وقت بینکرز میں گزارتے ہیں، اسرائیلی وزیراعظم و دیگر کی سیکورٹی سخت کی گئی ہے،

  • نائن الیون سے 20 گنا زیادہ بڑا حملہ حماس نے 7 اکتوبر کو کیا،اسرائیلی وزیراعظم

    نائن الیون سے 20 گنا زیادہ بڑا حملہ حماس نے 7 اکتوبر کو کیا،اسرائیلی وزیراعظم

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی کانگریس سے خطاب کیا ہے، اس دوران اسرائیلی وزیراعظم نے واشنگٹن میں اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے اسرائیل کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

    اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا خطاب ایک گھنٹے تک جاری رہا ،نیتن یاہو نے خطاب کے شروع میں کہا مجھے خوشی ہے کہ میں چوتھی بار امریکی پارلیمنٹ سے خطاب کررہا ہوں ،نیتن یاہو نے امریکی سیاست دانوں کو شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امریکا اسرائیل ازلی دوست ہیں ، اس وقت اسرائیل ایک بڑی جنگ لڑ رہا ہے یہ جنگ تہذیبوں اور بربریت کی جنگ ہے،یہ جنگ ان لوگوں کے ساتھ لڑی جارہی ہے جو مرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور مرنے کو اعزاز مانتے ہیں یہ جنگ اسرائیل صرف اپنے لیے نہیں لڑ رہا ہے بلکہ یہ جنگ امریکا کے لیے بھی لڑی جارہی ہے .نیتن یاہو نے کہا کہ ہم حماس کے خلاف جیتیں گے اور تب تک لڑیں گے جب تک ہم مکمل فتح حاصل نا کرلیں،حماس نے 7 اکتوبر کو بدترین حملہ کیا یہ دن ہمیشہ تاریخ میں یاد رکھا جائے گا ،امریکا کے نائن الیون سے 20 گنا زیادہ بڑا حملہ حماس نے 7 اکتوبر کو کیا ہے ،ہم حماس کو ختم کریں گے تاکہ آئندہ کبھی اسرائیل پر سات اکتوبر کی طرح حملہ نا ہوسکے ،

    نیتن یاہو نے کہا کہ امریکی پارلیمنٹ کے باہر جو لوگ احتجاج کررہے ہیں وہ ایران نواز ہیں ،ایران نے ان کو فنڈنگ کی ہے وہ حماس کے لیے احتجاج کررہے ہیں یہ امریکا کے لیے شرم اور عار کی بات ہے ،نیتن یاہو نے کہا ایران امریکا کا نمبر ون دشمن ہے ،اسرائیل ایران نواز قوتوں سے یعنی حزب اللہ حوثی اور حماس سے لڑ رہا ہے ،اسرائیلی فوج بڑی بہادر ہے جو اپنے دفاع کی خطرناک جنگ غزہ میں لڑ رہی ہے ،اسرائیلی فوج نے غزہ میں کسی عام آدمی کو قتل نہیں کیا ،حماس اسرائیل کو بدنام کرنے اور جنگ کو ختم کرنے کےلیے جھوٹ بولتا ہے ،حماس امدادی سامان کے قافلے لوٹ لیتا ہے ،غزہ کے لوگوں پر ظلم کا سبب حماس ہے نا کہ اسرائیل ،غزہ کی جنگ آج بند ہوسکتی ہے اگر حماس ہتھیار پھینک دے اور خود کو ہمارے حوالے کردے،

    نیتن یاہو نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف اسرائیل کو اپنے دفاع سے روکنا چاہتی ہے ،اسرائیل کے خلاف غلط فیصلے دے رہی ہے امریکا اگر تم نے عالمی عدالت انصاف کو نا روکا تو یہ کل کو امریکا کے خلاف فیصلے دے گی ،نیتن یاہو نے کہا فلسطین کی ساری سرزمین یہودیوں کی سرزمین ہے ،اس سرزمین کے 4000 سال سے یہودی مالک ہیں ،یہودی کبھی بھی بیت المقدس یروشلم کو تقسیم ہونے نہیں دیں گے ،یہ یہودیوں کا ہمیشہ سے دارالخلافہ ہے ،نیتن یاہو نے کہا اسرائیل مشروق وسطی میں امن کے لیے ایک نیا اتحاد تشکیل دینا چاہتا ہے ،جو ابراہیمی اتحاد ہوگا ،میں مشرق وسطیٰ کے اپنے عرب دوستوں کو کہتا ہوں کہ آؤ اسرائیل کے اس اتحاد میں شامل ہو جاؤ تاکہ ہم مل کر ایران اور اس کی قوتوں کے خلاف لڑیں ،ایران ایک ریڈیکل یعنی شدت پسند اسلام کو پھیلانا چاہتا ہے ، آؤ ہم ابراہیمی مذہب کے تحت متحد ہوجائیں ،نیتن یاہو نے کہا جوبائیڈن اور ٹرمپ اسرائیل کے دوست ہیں ،میں جوبائیڈن کو چالیس سال سے جانتا ہوں وہ کٹر صہیونی ہے جوبائیڈن نے اس جنگ میں اسرائیل کا بھرپور ساتھ دیا ہے جس پر ہم شکر گزار ہیں،

    اسرائیلی وزیراعظم کےخطاب کے دوران 50 بار تقریبا اراکین پارلیمنٹ نے تالیاں بجائیں .

    سابق امریکی اسپیکر نے امریکی کانگریس سے اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کو امریکی کانگریس کی تاریخ کا بدترین خطاب قرار دے دیا، نینسی پلوسی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی کانگریس کی تاریخ کا بدترین خطاب کیا،امریکی ایوان نمائندگان سے اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کے موقع پر امریکی مسلمان رکن رشیدہ طلیب نے خاموش احتجاج کیا جبکہ دیگر اراکین نے نیتن یاہو کے خطاب کا بائیکاٹ کیا،امریکی کانگریس سے اسرائیلی وزیراعظم کے خطاب کے موقع پر کانگریس کی عمارت کے باہر سینکڑوں افراد نے فلسطینیوں کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

    بنوں واقعہ،تحقیقات کر کے ذمہ داران کو سز ا دی جائیگی،بیرسٹر سیف

    بنوں حملہ،ایک اور دہشت گرد کی شناخت،افغان شہری نکلا

    دہشت گرد عثمان اللہ عرف کامران کا تعلق افغانستان کے صوبہ لوگر سے تھا۔

     بنوں میں دہشت گردی کی گھناؤنی کارروائی حافظ گل بہادر گروپ نے کی ہے،

    بونیر،سیکورٹی فورسز کا آپریشن،دہشتگردوں کا سرغنہ جہنم واصل،دو جوان شہید

    ڈی آئی خان، سیکورٹی فورسز کا آپریشن، 8 دہشتگرد جہنم واصل

    ڈی آئی خان ،دھماکے میں دو جوان شہید،پنجگور،ایک دہشتگرد جہنم واصل

    شمالی وزیرستان، دہشتگردوں کیخلاف آپریشن،کمانڈر سمیت 8 جہنم واصل

    شمالی وزیرستان ، چوکی پر حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور کیپٹن سمیت 7 جوان شہید

    بنوں،امن مارچ کو انتشاری ٹولے نے پرتشدد بنایا،عوام شرپسندوں سے رہیں ہوشیار

  • عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    عالمی عدالت انصاف ، اسرائیلی وزیراعظم،وزیر دفاع،حماس رہنماؤں کے وارنٹ کی استدعا

    عالمی عدالت انصاف ، پراسیکیوٹر نے اسرائیلی وزیراعظم کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کردی

    انٹرنیشنل کرمنل کورٹ میں پراسیکیوشن نے اسرائیلی وزیراعظم، وزیرخارجہ اور حماس کے رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست کردی ہے،عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے غیر ملکی خبر ایجنسی کو انٹرویو میں بتایا کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت میں اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات میں گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست دی ہے،عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ ،حماس کے سرکردہ رہنماؤں القاسم بریگیڈ کے رہنما محمد ضیف اور حماس کے اسماعیل ہنیہ،یحییٰ سنوار کے وارنٹ طلبی کی درخواست دائر کی ہے

    https://x.com/intlcrimcourt/status/1792511246769570084?s=46&t=UJzUvndbKkvbo4lbzD2Z9w&mx=2

    آئی سی سی کے ججوں کا ایک پینل اب پراسیکیوٹر کریم خان کی گرفتاری کے وارنٹ کی درخواست پر غور کرے گا۔کریم خان نے بتایا کہ یحیٰ سنوار، اسماعیل ہنیہ اور المصری کے خلاف الزامات میں "قتل، یرغمال بنانا، عصمت دری اور حراست میں جنسی زیادتی شامل ہیں، نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف الزامات میں جنگ کے طریقہ کار کے طور پر بھوکا مارنا، بشمول انسانی امداد کی فراہمی سے انکار، جان بوجھ کر تنازعات میں شہریوں کو نشانہ بنانا شامل ہیں۔

    پراسیکیوٹر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے، اگر اسرائیل آئی سی سی سے متفق نہیں ہے تو وہ ججوں کے سامنے اسے چیلنج کرنے میں آزاد ہے

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ آج میں ریاست فلسطین کی صورتحال میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پری ٹرائل چیمبر I کے سامنے وارنٹ گرفتاری کے لیے درخواستیں دائر کی ہیں۔یحیٰ سنوار،محمد دیاب ابراہیم المصری،اسماعیل ہنیہ کے بھی وارنٹ کی درخواست کی ہے،ان پر بھی جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی مجرمانہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے،انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر قتل، یرغمال بنانا ایک جنگی جرم ؛عصمت دری اور جنسی تشدد کی دیگر کارروائیوں کو انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر؛تشدد کو انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر،

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ ان درخواستوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک بین الاقوامی مسلح تصادم اور اسرائیل اور حماس کے درمیان متوازی طور پر چلنے والے ایک غیر بین الاقوامی مسلح تصادم کے تناظر میں کیا گیا تھا۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ انسانیت کے خلاف جن جرائم کا الزام عائد کیا گیا ہے وہ تنظیمی پالیسیوں کے مطابق حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے ذریعہ اسرائیل کی شہری آبادی کے خلاف وسیع پیمانے پر اور منظم حملے کا حصہ تھے۔ ان میں سے کچھ جرائم آج تک جاری ہیں۔یحیٰ سنوار، ضٰف اور اسماعیل حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے حملوں میں،یہ سینکڑوں اسرائیلی شہریوں کی ہلاکت کے ذمہ دار ہیں۔ اکتوبر 2023 میں کم از کم 245 یرغمال بنائے۔ ہماری تحقیقات کے ایک حصے کے طور پر، میرے دفتر نے متاثرین اور بچ جانے والوں کا انٹرویو کیا ہے، بشمول سابق یرغمالیوں اور حملے کے چھ بڑے مقامات کے عینی شاہدین کا، ثبوتوں کے لئے آڈیو ، ویڈیوز، اراکین کے بیانات موجود ہیں،ان افراد نے 7 اکتوبر 2023 کو جرائم کی منصوبہ بندی کی اور اکسایا ،یہ جرائم ان کے اعمال کے بغیر سرزد نہیں ہو سکتے تھے۔ ان پر روم سٹیٹیوٹ کے آرٹیکل 25 اور 28 کے مطابق شریک مرتکب اور اعلیٰ افسر کے طور پر دونوں الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ اسرائیل سے یرغمال بنائے گئے افراد کو غیر انسانی حالات میں رکھا گیا ہے، اور یہ کہ بعض کو قید میں رکھنے کے دوران عصمت دری سمیت جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ ہم میڈیکل ریکارڈز، عصری ویڈیو اور دستاویزی ثبوتوں، اور متاثرین اور بچ جانے والوں کے انٹرویوز کی بنیاد پر اس نتیجے پر پہنچے ہیں۔ میرا دفتر 7 اکتوبر کو ہونے والے جنسی تشدد کی رپورٹوں کی تحقیقات بھی جاری رکھے ہوئے ہے۔میں زندہ بچ جانے والوں، اور 7 اکتوبر کے حملوں کے متاثرین کے خاندانوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، جنہوں نے آگے آنے کی جرات کی۔ ہم ان حملوں کے ایک حصے کے طور پر کیے گئے تمام جرائم کی تحقیقات کو مزید گہرا کرنے پر مرکوز ہیں اور انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرتے رہیں گے۔میں ایک بار پھر سے تمام یرغمالیوں کی فوری رہائی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتا ہوں۔

    اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو، یوو گیلنٹ
    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ میرے دفتر کے ذریعے جمع کیے گئے اور جانچے گئے شواہد کی بنیاد پر، میرے پاس یہ ماننے کے لیے معقول بنیادیں ہیں کہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور اسرائیل کے وزیر دفاع یوو گیلنٹ، درج ذیل جنگی جرائم اور جرائم کے لیے مجرمانہ ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ جنگی جرم کے طور پر جنگ کے طریقہ کار کے طور پر شہریوں کا بھوکا رہنا؛ جان بوجھ کر شدید تکلیف پہنچانا، یا جسم یا صحت کو شدید چوٹ پہنچانا،ظالمانہ سلوک؛ جان بوجھ کر قتل، جنگی جرم کے طور پر جان بوجھ کر شہری آبادی کے خلاف حملوں کی ہدایت کرنا؛انسانیت کے خلاف جرم کے طور پر ظلم و ستم؛انسانیت کے خلاف جرائم کے طور پر دیگر غیر انسانی کارروائیاں۔

    میرا دفتر عرض کرتا ہے کہ ان درخواستوں میں جنگی جرائم کا ارتکاب اسرائیل اور فلسطین کے درمیان ایک بین الاقوامی مسلح تصادم کے تناظر میں کیا گیا تھا، اور اسرائیل اور حماس کے درمیان ایک غیر بین الاقوامی مسلح تصادم (دوسرے فلسطینی مسلح گروپوں کے ساتھ) متوازی چل رہا تھا۔ ہم عرض کرتے ہیں کہ انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ریاستی پالیسی کے مطابق فلسطینی شہری آبادی کے خلاف وسیع اور منظم حملے کے حصے کے طور پر کیا گیا تھا۔ یہ جرائم، ہماری تشخیص میں، آج تک جاری ہیں۔

    عالمی عدالت کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان کا کہنا ہے کہ ہم نے جو شواہد اکٹھے کیے ہیں، بشمول زندہ بچ جانے والوں اور عینی شاہدین کے انٹرویوز، تصدیق شدہ ویڈیو، تصویر اور آڈیو مواد، سیٹلائٹ کی تصاویر اور مبینہ مجرم گروپ کے بیانات، ظاہر کرتے ہیں کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر اور منظم طریقے سے ملک کے تمام حصوں میں شہری آبادی غزہ کو اشیاء سے محروم رکھا ،یہ غزہ پر مکمل محاصر ہ تھا، 8 اکتوبر 2023 سے تین سرحدی کراسنگ پوائنٹس، رفح، کریم شالوم اور ایریز کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا اور پھر ضروری سامان کی منتقلی پر پابندی لگا دی گئی، بشمول خوراک اور ادویات۔ اسرائیل سے غزہ تک سرحد پار پانی کی پائپ لائنوں کو کاٹا گیا، غزہ کے شہریوں‌کو صاف پانی سے محروم کیا اور کم از کم 8 اکتوبر 2023 سے آج تک بجلی کی سپلائی کو منقطع کرنا اور اس میں رکاوٹ ڈالنا بھی شامل ہے۔ یہ عام شہریوں پر دوسرے حملوں کے ساتھ ہوا ، انسانی ہمدردی کے اداروں کی طرف سے امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالی گئی،اور امدادی کارکنوں پر حملے اور ان کا قتل کیا گیا جس کی وجہ سے بہت سے امداد ی ایجنسیوں کو غزہ میں اپنی کارروائیاں بند کرنے یا محدود کرنے پر مجبور کیا گیا، یہ کارروائیاں بھوک کو جنگ کے طریقہ کار کے طور پر استعمال کرنے اور غزہ کی شہری آبادی کے خلاف تشدد کی دیگر کارروائیوں کے ایک مشترکہ منصوبے کے حصے کے طور پر کی گئی تھیں (i) حماس کو ختم کرنے کے لیے؛ (ii) ان یرغمالیوں کی واپسی کو محفوظ بنانے جنہیں حماس نے اغوا کیا ہے، اور (iii) غزہ کی شہری آبادی کو اجتماعی طور پر سزا دینا، جنہیں وہ اسرائیل کے لیے خطرہ سمجھتے تھے۔

    اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے دو ماہ سے زیادہ پہلے خبردار کیا تھا، "غزہ میں 1.1 ملین لوگ تباہ کن بھوک کا سامنا کر رہے ہیں – ایک "مکمل طور پر انسان ساختہ تباہی” کے نتیجے میں – کہیں بھی، کسی بھی وقت ریکارڈ کیے گئے لوگوں کی سب سے زیادہ تعداد۔ آج، میرا دفتر ان سب سے زیادہ ذمہ داروں میں سے دو، NETANYAHU اور GALLANT پر فرد جرم عائد کرنے کی کوشش کر رہا ہے، اسرائیل، تمام ریاستوں کی طرح، اپنی آبادی کے دفاع کے لیے کارروائی کرنے کا حق رکھتا ہے۔ تاہم یہ حق اسرائیل یا کسی بھی ریاست کو بین الاقوامی انسانی قانون کی تعمیل کرنے کی اپنی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔ ان کے کسی بھی فوجی اہداف کے باوجود، اسرائیل نے غزہ میں ان کو حاصل کرنے کے لیے جن ذرائع کا انتخاب کیا ہے – یعنی جان بوجھ کر موت، بھوک، اور شہری آبادی کے جسم یا صحت کو شدید چوٹ پہنچانا – مجرمانہ ہیں۔