Baaghi TV

Tag: اسرائیلی

  • غزہ جنگ بندی کیلئے ہزاروں اسرائیلیوں کا نیتن یاہو کیخلاف احتجاج

    غزہ جنگ بندی کیلئے ہزاروں اسرائیلیوں کا نیتن یاہو کیخلاف احتجاج

    تل ابیب میں ہفتے کے روز ہزاروں افراد نے اسرائیلی حکومت کے غزہ میں جنگ کو مزید وسعت دینے کے منصوبے کے خلاف احتجاج کیا۔

    مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے اور غزہ میں موجود یرغمالیوں کی تصاویر بھی اٹھائے ہوئے تھے، جن کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا، شرکا کی تعداد لاکھوں میں تھی، جب کہ یرغمالیوں کے لواحقین کے گروپ کا دعویٰ ہے کہ تقریباً ایک لاکھ افراد نے احتجاج میں شرکت کی،مظاہرین نے وزیراعظم نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ اگر غزہ پر حملے کے دوران یرغمالیوں کو نقصان پہنچا تو وہ ہر جگہ ان کا احتساب کریں گے۔

    پاکستان میں آئین و قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی،علی امین گنڈاپور

    یہ احتجاج ایک دن بعد سامنے آیا جب اسرائیلی سیکیورٹی کابینہ نے غزہ سٹی پر قبضے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کی منظوری دی، جس پر مقامی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید ہوئی،اسرائیلی وزیراعظم نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ہم غزہ پر قبضہ نہیں کر رہے، ہم غزہ کو حماس سے آزاد کرا رہے ہیں”۔ تاہم فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے اس منصوبے کو "نیا جرم” قرار دیتے ہوئے فوری روکنے کا مطالبہ کیا۔

    فلسطینی حکام کے مطابق غزہ میں حماس کے قبضے کے دوران 251 میں سے 49 یرغمالی اب بھی موجود ہیں، جن میں سے 27 کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔

    خاتون سے زیادتی اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے والا شخص گرفتار

  • برطانیہ کااسرائیلی وزیر خزانہ ،وزیر قومی سلامتی پر پابندیاں لگانے پر غور

    برطانیہ کااسرائیلی وزیر خزانہ ،وزیر قومی سلامتی پر پابندیاں لگانے پر غور

    برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ برطانوی حکومت انتہائی دائیں بازو کے اسرائیلی وزرا اِتمیر بین گور اور بیزالل اسموترچ کے خلاف پابندیوں پر غور کررہی ہے۔

    خبر رساں اداروں اے ایف پی اور رائٹرز کے مطابق برطانوی پارلیمنٹ میں وزیر اعظم سے سوال کیا گیا کہ کیا حکومت اسرائیلی وزرا پر پابندیاں لگائے گی؟ کیئر اسٹارمر نے کہا کہ ’ہم اس پر غور کررہے ہیں کیونکہ مغربی کنارے میں انتہائی تشویشناک سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ صریحاً مکروہ بیانات دیے گئے ہیں۔‘اسرائیل کے وزیر قومی سلامتی اِتامیر بین گور اور وزیر خزانہ بیزالل اسموترچ مغربی کنارے میں یہودی بستیوں کے قیام کے پر زور حامی ہیں جو کہ عالمی قانون کے تحت غیرقانونی اقدام ہے۔اسرائیلی وزیر خزانہ یہ تجویز دیکر بھی عالمی تنقید کی زد میں آچکے ہیں کہ فلسطین میں یرغمال بنائے گئے اسرائیلیوں کو آزاد کرانے کیلیے غزہ کے 20 لاکھ باشندوں کو بھوک سے مارنا بھی جائز ہوگا۔

    اس سے قبل رواں ہفتے سابق برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے انکشاف کیا تھاکہ سابق قدامت پسند حکومت انتہاپسند سیاستدانوں پر پابندیاں عائد کرنے پر غور کررہی تھی۔لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے کیئر اسٹارمر کی حکومت منگل کو پہلے ہی اسرائیلی آباد کاروں کی 7چوکیوں اور تنظیموں پر پابندی عائد کرچکی ہے۔گزشتہ برس 7 اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد سے مغبوضہ مغربی کنارے پر اسرائیلی آبادکاروں اور صہیونی فوج کے حملے بڑھ گئے ہیں۔ْبرطانوی وزیراعظم نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ ’ انسانی جانوں کا ضیاع روکنے اور غزہ میں بڑے پیمانے پر امداد پہنچانے کیلیے تمام ممکنہ اقدامات اٹھانا ہوں۔’

    دریں اثنا برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ لیمی نے اعلان کیا ہے کہ شمالی غزہ میں 2 ہفتے سے کسی قسم کی خوراک داخل نہ ہونے کی اطلاعات پر برطانیہ، فرانس اور الجیریا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرلیا ہے۔

    فرانس نے اسرائیلی کمپنیوں کو دفاعی نمائش میں شرکت سے روک دیا

    ادھر 2 باخبر ذرائع کا کا کہنا ہے کہ فرانس نے عنقریب منعقد ہونے والے ملٹری نیول ٹریڈ شو میں اسرائیلی کمپنیوں کی شرکت پر پابندی عائد کردی ہے، تازہ ترین پیش رفت دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے کشیدہ تعلقات کی نشاندہی کرتی ہے۔پیرس نے پہلے ہی رواں برس اسرائیلی کمپنیوں کی ملٹری ٹریڈ شو میں شرکت پر پابندی عائد کردی تھی۔ فرانسیسی وزارت دفاع نے اس وقت کہا تھا کہ صدر ایمانیول میکرون کی جانب سے اسرائیل سے غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیے جانے کے بعد کمپنیوں کیلیے حالات مناسب نہیں رہے ہیں۔وزارت دفاع، وزیر خارجہ ، اسرائیلی سفارتخانے اور 4 سے 7نومبر تک جاری رہنے والی سالانہ بحری نمائش کو منعقد کرنے والی تنظیم یورو نیول نے تبصروں کی درخواستوں پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔برطانوی اور اسرائیلی وزرائے اعظم کے درمیان کشیدگی میں اس وقت اضافہ ہوا ہے جب حالیہ ہفتوں میں پیرس نے واشنگٹن کے ساتھ مل کر اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 21 روزہ جنگ بندی کو بچانے کیلیے کوششوں کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد طویل مدتی سفارتی حل کیلیے بات چیت کے دروازے کھولنا تھا۔

    جس وقت فرانس اور امریکا یہ سمجھ رہے تھے کہ اسرائیل شرائط پر رضامند ہے، اس نے اگلے روز حزب اللہ کے رہنما حسن نصر اللہ پر میزائل حملے کرکے انہیں حیرت میں مبتلا کردیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کا کوئی امکان نہیں ہے، پیرس نے لڑائی بند ہونے کے بعد سفارتی حل کے لیے پیرامیٹرز طے کرنے کی کوشش پر توجہ مرکوز کر دی ہے۔دریں اثنا صدر میکرون نے حالیہ ہفتوں میں کئی مرتبہ اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو اور ان کی حکومت کو ناراض کیا ہے، خاص طور پر جب جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کی امن فوج اسرائیل کراس فائرنگ کی زد آئی تو انہوں نے اسرائیل کو غزہ میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں کی فراہمی بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔فرانسیسی حکام کے مطابق منگل کو فرانسیسی صدر نے کابینہ سے خطاب میں کہا کہ نتن یاہو کو نہیں بھولنا چاہیے کہ ان کے ملک کا قیام اقوام متحدہ کے فیصلے کے نتیجے میں عمل میں آیا ہے، فرانسیسی وزیر خارجہ جین نوئل بیروٹ نے بیان کی شدت کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے وضاحت کی تھی کہ یہ عام تبصرہ تھا جس کا مقصد اسرائیل کو اقوام متحدہ کے چارٹر کے احترام کی اہمیت کو یاد دلانا تھا۔

    فرانسیسی صدر کے بیان کے جواب میں نتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں فرانسیسی حکوت کے نازی جرمنی سے اشتراک کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’اسرائیل کا قیام ہمارے ہیروز کے خون سے لڑی گئی جنگ آزادی کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا، جن میں سے بہت سے ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے تھے جس میں فرانس کی ویچی حکومت بھی ملوث تھی۔‘دو سفارت کاروں کہنا ہے کہ حالیہ بیانات لبنان میں ثالثی کی فرانسیسی کوششوں کیلیے مددگار ثابت نہیں ہوگے، جوکہ آئندہ ہفتے پیرس میں ایک کانفرنس کی میزبانی کرنے جارہا ہے۔نیتن یاہو نے پیرس کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے اس پر جنوبی افریقہ اور الجزائر کو کیا ہے مدعو کرنے کا الزام عائد کیا ہے، جو ان کے مطابق ’اسرائیل کو اپنے دفاع کے بنیادی حق سے محروم کرنے کیلیے کوشاں ہیں اور حقیقت میں اس کے وجود کے حق کو ہی مسترد کرتے ہیں۔‘

    دوست آن لائن ہیں؟ اب تھریڈز پر یہ جاننا ممکن

    مراد علی شاہ سے اطالوی سفیر کی ملاقات، سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق

    معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

  • حماس نے اسرائیلی فوج کے متعدد ٹینک تباہ کردیے

    حماس نے اسرائیلی فوج کے متعدد ٹینک تباہ کردیے

    فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈ نے اسرائیلی فوج کے متعدد ٹینک تباہ کردیے۔

    باغٰ ٹٰی وی کو موصول غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق حماس کے عسکری ونگ القسام کی جانب سے اسرائیلی فوج کے ٹینکوں کو تباہ کرنے کی ویڈیو بھی جاری کردی گئی ہے، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ القسام نے جنوبی غزہ کے علاقے رفح کے مشرق میں متعدد اسرائیلی ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے۔ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ القسام نے راکٹ لانچرز سے مختلف مقامات پر اسرائیلی ٹینکوں کو نشانہ بنایا ہے، جس میں ٹینکوں کو تباہ ہوتے بھی دکھایا گیا ہے۔دوسری جانب غزہ کے پناہ گزین اسکولوں پر بھی اسرائیلی بمباری جاری ہے، رات سے اب تک مزید 70 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔

    یاد رہے کہ غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 41,689 افراد شہید اور 96,625 زخمی ہو چکے ہیں۔اسرائیل میں 7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں کیے گئے حملوں میں کم از کم 1,139 افراد ہلاک ہوئے اور 200 سے زائد افراد کو یرغمال بنایا گیا تھا۔

    حزب اللّٰہ نے اسرائیل پر 100 راکٹس مارنے کا دعویٰ کر دیا

  • غزہ میں  جنگ بندی کیلئے مذاکراتی وفد  قطر پہنچ گیا

    غزہ میں جنگ بندی کیلئے مذاکراتی وفد قطر پہنچ گیا

    اسرائیلی موساد سربراہ کی قیادت میں مذاکراتی وفد اسرائیل میں کچھ وقت گذارنے کے بعد قطر پہنچ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : اسرائیلی وفد پیرس سے اتوار کے روز اسی مذاکراتی عمل کے بعد واپس تل ابیب پہنچا تھا جہاں ہفتے کی رات وزیر اعظم اور کابینہ کو وفد ارکان نے تفصیلی بریفنگ دی۔ اتوار اور پیر کا دن اسرائیل میں ہی رکنے کے بعد وفد بعد از دوپہر کے اوقات میں قطر روانہ ہو گیا ہے، قطر میں پیرس مذاکرات میں ہونےوالی افہام و تفہیم کے اگلے مرحلے پر بات چیت ہوگی۔ مذاکراتی ایجنڈے میں اسرائیلی نقطہ نظر سے یرغمالیوں کی رہائی اہم ترین ہے جبکہ حماس اور فلسطینیوں کے نقطہ نگاہ میں غزہ میں جنگ بندی اور انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل میں آسانی اور سرعت پیدا کرنا ہے۔ حماس غزہ سے اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کا مطالبہ بھی رکھتا ہے ، تاہم ابھی اندازہ نہیں ہے کہ یہ مطالبہ پایہ تسلیم کو پہنچتا ہے یا نہیں۔

    اسرائیل جس کی حکومت اور پارلیمنٹ نے دو ٹوک انداز میں خبر دار کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے یکطرفہ فیصلے یا بیرون سے کیے گئے فیصلے کو قبول نہیں کیا جائے ، بلکہ صرف اسی صورت فلسطینی ریاست پر بات اور اس بارے میں امادگی کا امکان ہو سکتا ہے کہ مذاکرات اسرائیل اور فلسطینی براہ راست کریں۔ مگر دلچسپ بات ہے کہ اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے لیے مذاکرات بھی اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان نہیں ہو رہے ہیں، تاہم اسرائیل اس سلسلے میں پورا تعاون کر رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق قطر پہنچنے والے اسرائیلی وفد میں موساد کے علاوہ اسرائیلی فوج کے حکام بھی شریک ہیں ذرائع کے مطابق حماس نے قیدیوں کی یرغمالویں کی رہائی کو وقفے وقفے سے رہا کرنے کی تجویز دی ہے ۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ اسرائیلی وفد حماس کی اس بالواسطہ ملنے والی تجویز کو قبول کرلے گا۔ تاہم اسرائیل حماس کی طرف سے چار سے ساڑھے چار ماہ کے لیے جنگ بندی کی تجویز کو رد کیا گیا ہے۔

  • 24 جنگی کارروائیوں میں 48 صہیونی فوجیوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کیا، القسام بریگیڈز

    24 جنگی کارروائیوں میں 48 صہیونی فوجیوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کیا، القسام بریگیڈز

    غزہ: القسام بریگیڈز نے گزشتہ چار دنوں میں 48 اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور 35 فوجی گاڑیوں کو تباہ کردیا۔

    باغی ٹی وی: القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ حماس جنگجوؤں نے گزشتہ چار دنوں کے دوران غزہ میں 24 جنگی کارروائیوں میں 48 صہیونی فوجیوں کو ہلاک اور درجنوں کو زخمی کیا، اسرائیلی فورسز کو میزائلوں اور اینٹی پرسنل آلات سے نشانہ بنایا اور صفر فاصلے سے ان کے ساتھ جھڑپیں کیں، القسام کے جنگجوؤں نے اسرائیلی فوج کی 35 گاڑیوں کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کیا، تل ابیب شہر پر بھی میزائل داغے گئے-

    دوسری جانب اسرائیل کرسمس کے موقع پر غزہ کی پٹی پر اپنے شدید حملے جاری رکھے ہوئے ہیں ، وزارت صحت کے مطابق غزہ کے مرکز میں کم از کم 12 اور جنوب میں 18 افراد ہلاک ہوئے۔

    غزہ کی پٹی میں جھڑپ، مزید دو اسرائیلی فوجی ہلاک

    وزارت صحت نے بتایا کہ پیر کی شب فلسطینی علاقے کے وسط میں السویدہ گاؤں پر ہونے والے حملے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع قصبے چن جونز پر اسرائیل کے حملے میں کم از کم 18 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کی جا سکتی وزارت نے یہ بھی بتایا کہ غزہ کی پٹی کے مرکز میں تقریباً 50 اسرائیلی حملے ہوئے گزشتہ شام غزہ کی پٹی کے وسط میں المغاسی مہاجر کیمپ پر فضائی حملے میں کم از کم 70 افراد ہلاک ہوئے۔

    ہم نے کسی ٹینکر پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا، ایران نے پینٹاگون کا الزام …

  • گوگل نے اسرائیلی سیکیورٹی اسٹارٹ اپ Simplify کو 500 ملین ڈالر میں خرید لیا

    گوگل نے اسرائیلی سیکیورٹی اسٹارٹ اپ Simplify کو 500 ملین ڈالر میں خرید لیا

    گوگل نے منگل کو کہا کہ اس کے کلاؤڈ ڈویژن نے اسرائیل کے سائبر سیکیورٹی اسٹارٹ اپ سیمپلیفائی کو حاصل کرلیا ہے، کیونکہ امریکی ٹیک دیو سائبر حملوں کے درمیان اپنی سیکیورٹی پیشکش کو بڑھا رہا ہے۔

    کمپنیوں کی طرف سے معاہدے کی مالی تفصیلات کا انکشاف نہیں کیا گیا، لیکن اس معاملے سے واقف ایک ذریعہ نے بتایا کہ گوگل نے سمپلیفائی کے لیے 500 ملین ڈالر نقد ادا کیے ہیں۔

    یہ معاہدہ اس وقت ہوا جب گوگل نے گزشتہ اگست میں امریکی صدر جو بائیڈن سے سائبر حملوں اور ڈیٹا کی خلاف ورزیوں میں نمایاں اضافے کے درمیان اگلے پانچ سالوں میں سائبر سیکیورٹی میں 10 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا۔

    Simplify، جس کی قیادت شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو Amos Stern کرتے ہیں، سیکیورٹی آرکیسٹریشن، آٹومیشن اور رسپانس سلوشنز فراہم کرتی ہے۔ اس نے G20 وینچرز اور 83 نارتھ سمیت سرمایہ کاروں سے 58 ملین ڈالر کمائے ہیں۔

    یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ گوگل کلاؤڈ کے ساتھ شراکت داری کے ساتھ، سیمپلائف نے خریدار کی دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا کیونکہ یہ نجی سرمایہ کے ایک نئے دور کو بڑھانے کے عمل میں تھا۔

    2020 میں جب سے وبائی بیماری شروع ہوئی ہے، گوگل کی کلاؤڈ بزنس سے ہونے والی آمدنی تقریباً دگنی ہو کر تقریباً 5 بلین ڈالر ہو گئی ہے کیونکہ کمپنیاں گھر سے کام کرنے پر منتقل ہو گئی ہیں۔ حفاظتی خطرات کے خلاف حفاظت اور ہیج کرنے کی ضرورت تیزی سے بڑھ گئی ہے، بڑے کارپوریٹس بھی سائبر سیکیورٹی پروڈکٹس کو بڑھا رہے ہیں۔

    گوگل نے کہا کہ سمپلیفائی کا پلیٹ فارم اس کے کلاؤڈ میں ضم ہو جائے گا اور ان صلاحیتوں کی بنیاد کے طور پر کام کرے گا جس میں وہ سرمایہ کاری کرے گا۔

    ادارے کی طرف سے کہا گیا ہے کہ گوگل کی پہلی اسرائیلی سائبر سیکیورٹی فرم ڈیل، ٹیک دیو کو مشرق وسطیٰ کے ملک کے سائبر سیکیورٹی ٹیلنٹ کے گہرے پول سے فائدہ اٹھانے میں مدد کرے گی۔

  • صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ

    صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ

    مقبوضہ بیت المقدس:صیہونی جنگی طیاروں کی غزہ پر بمباری:عالمی برادری خاموش:فلسطینیوں کی عمران خان سے اُمیدیں‌ وابستہ،اطلاعات کے مطابق صیہونی فوجیوں کے جنگی طیاروں اور ہیلی کاپٹروں نے غزہ پٹی پر بمباری کی ہے۔اس بمباری پرعالمی برادری خاموش ہے اور اس خاموشی کے عالم میں فلسطینیوں نے وزیراعظم پاکستان سے اپنی اُمیدیں وابستہ کرلی ہیں‌

    المیادین کی رپورٹ کے مطابق قدس کی غاصب اور جابر صیہونی فوجیوں نے غزہ کی پٹی کے علاقے الغول میں توپوں کے گولے داغے۔ اس رپورٹ کے مطابق غزہ پر اسرائیل کے ہوائی حملے جاری ہیں۔المیادین کی رپورٹ کے مطابق صیہونی حکومت کے جنگی طیاروں نے خان یونس کے القادسیہ چھاونی پر 5 مرتبہ بمباری کی۔

    اس رپورٹ کے مطابق اس سے قبل غزہ کی پٹی میں دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

    فلسطینی عوام نئی صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے خلاف مظاہرہ کرتے ہیں۔ صیہونی حکومت عالمی برادری کے مطالبات پر توجہ دیئے بغیر امریکہ کی حمایت سے صیہونی کالونیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے تمام صیہونی کالونیاں بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیرقانونی ہیں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے تیئس دسمبر دوہزار سولہ میں قرار داد تیئس چونتیس منظور کر کے صیہونی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ مقبوضہ فلسطین میں تمام صیہونی کالونیوں کی تعمیر فورا روکی جائے۔ صیہونی حکومت صیہونی کالونیاں تعمیر کر کے فلسطینی علاقوں کا جغرافیائی ڈھانچہ تبدیل اور صیہونیت کا رنگ دینا چاہتی ہے تاکہ فلسطینی علاقوں میں اپنا قبضہ مضبوط بنا سکے ۔

    صیہونی فوجیوں کے دشمنانہ اقدامات ایسے عالم میں جاری ہیں کہ اس سے قبل فلسطینی استقامتی گروہ، غرب اردن اور بیت المقدس میں صیہونیوں کے جارحانہ اقدامات کے بارے میں خبردار کر چکے تھے۔