ایران کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار باقر قالیباف نے کہا ہے کہ اسرائیل نے لبنان پر حملے جاری رکھے تو امریکا سے مذاکرات روک دیں گے۔
ایرانی پاسداران انقلاب قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں مزاحمتی محور کو ردعمل پر مجبور کر دیں گی، محور مزاحمت باب المندب کی بحری ٹریفک کے ساتھ وہی کر سکتا ہے جو صورتحال آبنائے ہرمز کی ہے۔
ادھر ایرانی پارلیمنٹ کی نیشنل سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کاکہنا تھا کہ لبنان پر حملے بند نہ ہوئے توسنگین نتائج ہوں گے صیہونی حکومت اور امریکی افواج کو خبردار کرتے ہیں کہ یہ کھوکھلی دھمکی نہیں ہے، ایران فوجی جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے، خطے میں امریکی افواج بھی نتائج بھگتیں گی۔
دوسری جانب، مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ سخت رویہ اپنانے کا دعویٰ سامنے آیا ہے.
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوس نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر انتہائی تلخ لہجے میں بات کی اور انہیں پاگل کے ساتھ ساتھ ناشکرا بھی قرار دیا،صدر ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بیروت پر حملے کیے تو اسرائیل دنیا میں مزید تنہا ہوجائے گا، میں نہ ہوتا تو تم جیل میں ہوتے، میں تمہاری چمڑی بچا رہا ہوں اور ہر شخص اب تم سے نفرت کرتا ہے، ہر شخص اسرائیل سے نفرت کرتا ہے.
اس گفتگو کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا کے سامنے ایک مختلف اور پرامید بیان دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو سے بڑی مثبت بات چیت ہوئی ہے، اب کوئی فوج بیروت نہیں جارہی، اور جو فوجی راستے میں تھے انہیں واپس بھیج دیا گیا ہے.
