Baaghi TV

Tag: اسرو

  • بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے کا سال 2026 کا پہلا مشن ناکام ہو گیا

    بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے کا سال 2026 کا پہلا مشن ناکام ہو گیا

    بھارت کے خلائی تحقیقاتی ادارے (اسرو) کا سال 2026 کا پہلا مشن ناکام ہو گیا ہے۔

    اس مشن کے ذریعے 16 سیٹلائٹس کو مدار میں پہنچایا جانا تھا، جس میں بھارتی اور غیر ملکی سیٹلائٹس شامل تھیں تاہم بھارت کا ’پی ایس ایل وی‘ راکٹ پرواز کے دوران ہی تکنیکی خرابی کا شکار ہوگیایہ مسلسل دوسری بار ہے کہ بھارت کا پولر سیٹلائٹ لانچ وہیکل (پی ایس ایل وی) مشن ناکام ہوا ہے، جسے اسرو کا ’ورک ہارس‘ کہا جاتا ہے کیونکہ اس نے اب تک بڑی تعداد میں کامیاب مشنز انجام دیے ہیں۔

    اس سے قبل ’پی ایس ایل وی‘ گزشتہ سال 19 مئی کو لانچ کیا گیا تھا، جس میں زمین کے مدار کا مشاہدہ کرنے کے لیے ’ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ‘ بھی شامل تھا وہ مشن بھی تیسرے مرحلے میں خرابی کے باعث ناکام ہو گیا تھا۔

    بھارتی میڈیا کے مطابق پی ایس ایل وی راکٹ نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب بھارت کے ستیش دھون اسپیس سینٹر سے مقامی وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 18 منٹ پر پرواز بھری، یہ پی ایس ایل وی کی مئی 2025 کے بعد پہلی لانچ تھی، یہ مشن نیو اسپیس انڈیا لمیٹڈ (این ایس آئی ایل) کا نواں کمر شل مشن تھا، جو اسرو کا تجارتی شعبہ ہے، جس میں بھارتی اور بین الاقوامی اسٹارٹ اپس کے ساتھ اشتراک شامل تھایہ مشن خاص طور پر اسپین کے اسٹارٹ اپ ’آربیٹل پیراڈائم‘ کے ایک سیٹلائٹ کو لے جانے کے لیے اہم سمجھا جا رہا تھا، جس کا مقصد زمین کے ماحول میں دوبارہ داخلے (ری انٹری) کا مظا ہرہ کرنا تھا۔

    راکٹ (پی ایس ایل وی سی-62) مشن کی لانچ کے تقریباً آدھے گھنٹے بعد ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بتایا کہ مشن کو تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا ہے جس کی تفصیلی جانچ شروع کر دی گئی ہےاسرو کے چیئرمین وی نارائنن نے لانچ کی براہِ راست نشریات کے دوران بتایا کہ یہ مشن چار مراحل پر مشتمل تھا اور تیسرے مرحلے کے اختتام تک اس کی کارکردگی معمول کے مطابق رہی۔

    انہوں نے کہا کہ تاہم تیسرے مرحلے کے آخر میں راکٹ میں خرابی پیدا ہوئی اور اس نے پرواز کا رخ تبدیل کرلیا ڈیٹا کا تجزیہ کیا جارہا ہے، مزید تفصیلات جلد ہی جاری کی جائیں گی،اس مشن کا مرکزی پے لوڈ ’ای او ایس- این ون‘ تھا جسے انویشا بھی کہا جاتا ہے یہ ایک چھوٹا ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ تھا جو بھارتی فوج کے لیے انٹیلی جنس معلومات فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا تھا۔

    بھارتی اخبار دی ٹریبیون کے مطابق یہ سیٹلائٹ زمین کی سطح کی مسلسل نگرانی کر کے ایسی تصاویر فراہم کرسکتا تھا، جس سے قیمتی عسکری معلومات حاصل کی جا سکتی تھیں یہ بھارت کے نگرانی اور مواصلاتی فوجی سیٹلائٹس کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک کا حصہ بننے والا تھا۔

  • بھارتی شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل

    بھارتی شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل

    چنئی:سورج کا مطالعہ کرنے کے لیے بھیجے گئے ہندوستانی خلائی تحقیقی ادارے (اسرو) کا پہلا شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: بھارتی خلائی ایجنسی اسرو کے مطابق اتوار کو 2:30 بجے، اسرو ٹیلی میٹری، ٹریکنگ اینڈ کمانڈ نیٹ ورک (آئی ایس ٹی آر اے سی) نے آدتیہ L1 کو اگلے مدار میں کامیابی کے ساتھ پہنچایا مشن کے دوران، ماریشس، بنگلورو، ایس ڈی ایس سی-ایس ایچ اے آر اور پورٹ بلیئر میں اسروکے گراؤنڈ اسٹیشنوں نے سیٹلائٹ کی نگرانی کی نیا مدار296 کلومیٹر ضرب 71767 کلومیٹر ہے اگلے چوتھے مدار میں داخل ہونے کے لئے 15 ستمبر کی صبح 2 بجے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔
    india
    واضح ہے کہ ہندوستان نے سورج اور خلا کا مطالعہ کرنے کے لیے 2 ستمبر کو اپنا پہلا سوریہ مشن آدتیہ ایل 1 شروع کیا تھایہ سوریہ مشن زمین کے سب سے قریب ترین ستارے کا مشاہدہ کرے گا اور سولر ونڈ جیسے خلا کے موسم کی خصوصیات کا مطالعہ کرے گا،آدتیہ ایل ون کو سورج کے قریب جانے کے لیے زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ’لاگرینج ون‘ (Lagrange-1) پوائنٹ تک پہنچنا ہے،وہاں پہنچنے کے بعد یہ سورج کے گرد چکر لگانا شروع کرے گا جس دوران یہ سورج پر نظر رکھے گا یعنی سورج کا مطالعہ کرے گا،۔ انڈیا سے قبل امریکہ، روس اور یورپی خلائی ایجنسی اس قسم کی تحقیق کے لیے اپنے مشن بھیج چُکے ہیں۔

    سعودی عرب اوریورپ تک نئی راہداری کابھارتی نقشہ جعلی ثابت

    ملک کا نام انڈیا سے بدل کر بھارت کرنے کا منصوبہ "مضحکہ خیز” ہے،راہول گاندھی

    امریکا میں نائن الیون حملوں کو 22 برس بیت گئے

    سابق امریکی سفیرپر دبئی کے امیر کیجانب سے ساس کو 60 ہزار ڈالر کے ہیرے …

    مراکش میں زلزلے سے قبل آسمان پر چمکنے والی پراسرار نیلی روشنی کیا تھی؟