Baaghi TV

Tag: اسلامآباد

  • خواجہ سرا نایاب علی نے انتخابی نشان ” ہری مرچ "مانگ لیا

    خواجہ سرا نایاب علی نے انتخابی نشان ” ہری مرچ "مانگ لیا

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے الیکشن لڑنے والے خواجہ سرا نایاب علی نے انتخابی نشان ” ہری مرچ ” کے لئے درخواست جمع کروا دی۔

    نایاب علی نے الیکشن کمیشن کو دی گئی درخواست میں کہا کہ این اے 46 اور 47 دو حلقوں سے الیکشن لڑ رہی ہوں ،استدعا ہے کہ دونوں حلقوں سے ہی ایک ہی انتخابی نشان جو الیکشن کمیشن کی فہرست میں موجود ہے ہری مرچ وہ دیا جائے،الیکشن کمیشن کی فہرست میں ہری مرچ کا نشان 126 نمبر پر موجود ہے.

    خواجہ سرا نایاب علی کا کہنا ہے کہ وہ الیکشن جیت کر ایوان میں پہنچ کر اسلام آباد کے عوام کے حقوق کی بات کریں گی،

    واضھ رہے کہ خواجہ سرا نایاب علی الیکشن لڑنے کیلئے اہل قرار دی گئی تھیں، نایاب علی کے کاغذات منظور ہونے کے خلاف اپیلیں مسترد، کر دی گئی تھیں،ریٹرننگ افسر نے آر او کا فیصلہ برقرار رکھا تھا،ایپلیٹ ٹریبیونل جسٹس ارباب محمد طاہر نے محفوظ شدہ فیصلہ سنایا،اسلام آباد ہائیکورٹ نے خواجہ سرا نایاب علی کے خلاف دائر اپیل خارج کردی ،الیکشن ٹریبونل نے ریٹرننگ افسر کا نایاب علی کے کاغذات منظور کرنے کا فیصلہ برقراررکھا،درخواست گزار الماس بوبی نے نایاب علی کے کاغذات منظوری کو ٹریبونل میں چیلنج کیا تھا

    نایاب علی نے کہا ہے کہ کاغذات نامزدگی منظوری کیخلاف جو وکلا پیش ہوئے وہ لطیف کھوسہ کی فرم سے ہیں،

    اوچ شریف: جعلی خواجہ سراؤں کا ڈانس پارٹی گروپ کے نام پر مبینہ طورشی میل اور لڑکیاں سپلائی کرنے کا انکشاف

    مس پرتگال مقابلہ حسن،خواجہ سرا نے جیتا مقابلہ

    میک اپ کے بغیر خاتون نے مقابلہ حسن جیت لیا

    خواجہ سراؤں نے بھی خود کو بطور ووٹرز رجسٹرڈ کرالیا

    نوجوان مرد ہم جنس پرست ایڈز کے مریض بننے لگے،اسلام آباد میں شرح بڑھ گئی

    خیبرپختونخوا کے خواجہ سراوں کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام میں شامل

    خواجہ سراؤں سمیت ڈانس،موسیقی اور ہوائی فائرنگ پر پابندی 

    مسجد کے سامنے خواجہ سراؤں کی ڈانس پارٹی

  • رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو واپس نہیں بھیج رہے. نگران وزیراعظم

    رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو واپس نہیں بھیج رہے. نگران وزیراعظم

    نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ حکومت رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو پاکستان سے واپس نہیں بھیج رہی جبکہ میو اسپتال لاہور کے دورے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انوار الحق کاکڑ نے کہا کہ دورہ پنجاب سےحکومت کے بہت سے منصوبوں سے متعلق آگاہی حاصل ہوئی، تہذیب و ثقافت کے فروغ کے لئے پنجاب حکومت کی کاوشیں قابلِ تعریف ہیں۔

    جبکہ انہوں نے کہا کہ شاہی قلعے کی ثقافتی ورثے کی بحالی خوش آئند ہے، توقع ہے دیگر صوبے بھی ثقافتی ورثے کو محفوظ بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے اور انوار الحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ مذہبی سیاحت کے فروغ کے لئے اہم اقدامات وقت کی ضرورت ہیں، وفاق پنجاب حکومت کو جہاں ضرورت ہوگی مدد فراہم کرے گا۔

    واضح رہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو وطن واپس بھیجنے کی ڈیڈ لائن سے متعلق نگراں وزیراعظم نے کہا کہ رجسٹرڈ افغان مہاجرین کو واپس نہیں بھیج رہے، بلکہ جن کے پاس کوئی کاغذات نہیں انہیں واپس بھیجا جا رہا ہے تاہم ان کا مزید کہنا تھا کہ غیر قانونی مقیم تارکین وطن کو اپنے ملکوں میں واپس بھیجا جائے گا، دنیا کا کوئی ملک غیر قانونی مقیم افراد کو رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔

  • نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی اجلاس

    نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی اجلاس

    مسلم لیگ نواز کے قائد نواز شریف کی زیر صدارت پارٹی کا اجلاس جاری ہے جس میں سابق وزیراعظم کے ملک بھر کے دروں کے ابتدائی شیڈول سمیت دیگر امور زیر غور ہیں، جب کہ دیگر سیاسی جماعتوں سے روابط کا آغاز کرنے پر بھی مشاورت کی جاری ہے۔ جبکہ نوازشریف کی رہائشگاہ جاتی امرا رائیونڈ میں مسلم لیگ ن کی اعلیٰ قیادت کا اجلاس ہورہا ہے، جس کی صدارت قائد ن لیگ نوازشریف کررہے ہیں۔

    اجلاس میں شہباز شریف، مریم نواز، حمزہ شہباز، اسحاق ڈار، ملک احمد خان، انوشہ رحمان، سلیمان شہباز، پرویزرشید، مریم اورنگزیب، خواجہ آصف، سعد رفیق، میاں جاوید لطیف، رانا تنویر حسین، احسن اقبال، سردارایاز صادق، عابد شیرعلی، عطا تارڑ اور طلال چوہدری شریک ہیں۔
    نیب ترمیم کیس؛ پہلی سماعت پر ہی وفاقی حکومت نے التوا مانگ لیا
    شاہ محمودقریشی؛ سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے منظور
    پولیس پر حملہ اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق
    تاہم ذرائع کے مطابق اجلاس میں موجودہ ملکی سیاسی صورتحال اور آئندہ عام انتخابات سمیت دیگر اہم امور پرغور جاری ہے، جب کہ نواز شریف کی سیاسی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ اجلاس میں پارٹی کی انتخابی مہم کے آغاز، انتخابی منشور پر مشاورت اورنواز شریف کے ملک بھر کے دوروں کا ابتدائی شیڈول بھی زیرغور ہے، جب کہ دیگر سیاسی جماعتوں سے روابط کا آغاز کرنے پر بھی مشاورت ہوگی۔

  • سپریم کورٹ نے نیب عدالتوں کو زیرسماعت مقدمات کے حتمی فیصلے سے روک دیا

    سپریم کورٹ نے نیب عدالتوں کو زیرسماعت مقدمات کے حتمی فیصلے سے روک دیا

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت نے انٹرا کورٹ اپیل کی پہلی سماعت پر ہی کیس میں التوا مانگ لیا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ استدعا کی کہ کیس کی سماعت چھ نومبر سے شروع ہونے والے ہفتے تک ملتوی کی جائے

    سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیس کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت جاری ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ آج پہلی سماعت کررہا ہے، جسٹس امین الدین، جسٹس جمال خان، جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس حسن اظہر رضوی بینچ کا حصہ ہیں۔

    کیس کی سماعت شروع ہونے سے قبل ہی وفاقی حکومت نےانٹراکورٹ اپیل کی پہلی سماعت پر کیس میں التوا مانگ لیا اور درخواست دائر کردی گئی اور وفاقی حکومت کی جانب سے دائر درخواست میں حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا میں بیرون ملک ہیں، اور 3 نومبر تک عدالتی رخصت پر ہوں، 28 اکتوبر کو نیب اپیل کے سماعت کیلئے مقرر ہونے کا پتہ چلا، سماعت 6 نومبر سے شروع ہونے والے ہفتے تک ملتوی کی جائے۔
    شاہ محمودقریشی؛ سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے منظور
    پولیس پر حملہ اہلکار سمیت پانچ افراد جاں بحق

    وفاقی وزرا کی سیاسی وابستگی کے خلاف درخواست پر الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کرلیا
    روانڈا سینیٹ کے صدر کی چیئرمین سینیٹ سے پارلیمنٹ ہاوس میں ملاقات

    وفاقی حکومت کی جانب سے دائر درخواست میں حکومتی وکیل مخدوم علی خان نے مؤقف اختیار کیا میں بیرون ملک ہیں، اور 3 نومبر تک عدالتی رخصت پر ہوں، 28 اکتوبر کو نیب اپیل کے سماعت کیلئے مقرر ہونے کا پتہ چلا، سماعت 6 نومبر سے شروع ہونے والے ہفتے تک ملتوی کی جائے جبکہ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ وکیل وفاقی حکومت نے التوا کی درخواست دائرکی ہے، عدالت اگرحکم دے تو میں دلائل کیلئے تیار ہوں۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ اس کیس میں اور بھی درخواستیں آئی ہوئی ہیں۔ چیف جسٹس نے وکیل فاروق ایچ نائیک سے استفسار کیا کہ پہلے اس کیس میں آپ فریق نہیں تھے، فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ میرے موکل نیب ملزم ہیں، انہیں فریق بنائے بغیر یہ فیصلہ دیا گیا، میں نے دو نظرثانی کی درخواستیں اور ایک اپیل دائر کی تھی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ اپیل اور نظرثانی کا سکوپ الگ الگ ہے۔ تاہم فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ نظرثانی کی درخواستیں واپس لے کر اپیل کی پیروی کرناچاہتا ہوں۔ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ قانونی سوال ہے جب آپ فریق نہیں تو سنا کیسے جائے۔

    چیف جسٹس نے حکومتی وکیل مخدوم علی خان کے معاون وکیل سعد ہاشمی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ سامنے کیوں نہیں کھڑے، اٹارنی جنرل کا شیلٹر کیوں لے رہے ہیں۔ جس پر معاون وکیل نے کہا کہ نیب ترامیم کیس پر پریکٹس اینڈ پروسیجرقانون لاگو ہوتا تھا، نیب ترامیم کیس میں بینچ ججز کی کمیٹی نے تشکیل نہیں دیا تھا۔ چیف جسٹس نے معاون وکیل سے استفسار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ اس نکتے کی پیروی کرنا چاہتے ہیں؟، اگر یہ دلیل مان لی گئی تو نیب ترامیم کیخلاف درخواستیں زیر التواء تصور ہوں گی، زیر التواء درخواست پر از سر نو پانچ رکنی لارجر بینچ فیصلہ کرے گا۔

    معاون وکیل سعد ہاشمی نے کہا کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون والا نکتہ پہلے بھی اٹھایا تھا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو اس نکتے پر تکنیکی مسئلے کا بھی سامنا ہے، ابھی تک پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کا تفصیلی فیصلہ نہیں آیا، معلوم نہیں نمٹائے گئے مقدمات کے حوالے سے تفصیلی فیصلے میں کیا لکھا ہوگا، کیا مناسب نہیں ہوگا پہلے تفصیلی فیصلے کا انتظار کر لیا جائے، جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے کہ ایک سوال یہ ہے فیصلے سے وفاقی حکومت کیسے متاثرہ فریق ہے، قانون سازوں نے اپیل کا حق صرف متاثرہ شخص کو دیا ہے، اس عدالت نے بھی متاثرہ شخص کی فیصلوں میں تشریح کررکھی ہے۔

    چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سیکڑوں لوگوں میں سے صرف فاروق ایچ نائیک کے مؤکل متاثرہ فریق ہیں، اس کیس کی پہلے بہت سماعتیں ہوئیں، ہم ایک2 سماعتوں میں اس نقطے پر فیصلہ کر دیں گے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ ترامیم کو سیاستدانوں کی حدتک ختم اور بیورو کریٹس کی حد تک برقراررکھا گیا، عدالت نے پارلیمان کا بنایا گیا قانون کالعدم قراردیا ہے۔ جسٹس اطہرمن اللہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر حکم امتناع دے دیں تو پھر احتساب عدالتوں میں مقدمات رک جائیں گے، میری ذاتی رائے ہے کہ کوئی بھی قانون معطل نہیں ہوسکتا، جب نیب ترامیم کا کیس چل رہا تھا تو پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون لاگو تھا۔

    جبکہ سپریم کورٹ نے دلائل سننے کے بعد نیب، اسلام آباد اور صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کردیا، جب کہ درخواست گزار چیئرمین پی ٹی آئی کو بھی نوٹس جاری کردیا گیا اور سپریم کورٹ نے نیب عدالتوں کو زیرسماعت مقدمات کے حتمی فیصلے سے روک دیا اور کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی گئی۔ مزید سماعت پریکٹس اینڈپروسیجرایکٹ کیس کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہوگی۔

    تاہم عدالتی حکمنامے میں اپیلوں کی نقول چیئرمین پی ٹی آئی کو جیل میں فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فاروق ایچ نائیک کے موکل کی اپیل اب دائر ہو چکی ہے، فاروق ایچ نائیک کی فریق بننےکی سابقہ درخواست خارج کی جاتی ہے، عدالتی حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر کیس کا تفصیلی فیصلہ ابھی نہیں آیا، آئندہ سماعت تک احتساب عدالتیں حتمی فیصلہ نہ سنائیں۔واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے نیب ترامیم کو کالعدم قرار دیا تھا، اور فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی جانب سے انٹراکورٹ اپیل دائرکی گئی تھی، جس پر سپریم کورٹ نے مقدمے کے وکلا کو نوٹسز جاری کیے تھے، اور آج اس اپیل پر پہلی سماعت تھی۔

  • شاہ محمودقریشی؛  سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے منظور

    شاہ محمودقریشی؛ سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست سماعت کے لئے منظور

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس میں دستاویزات فراہمی اور ضمانت کی درخواست ایک ساتھ سماعت کے لئے منظور کرلی ہیں جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی سائفر کیس ٹرائل سے متعلق دستاویزات فراہمی کی درخواست پر سماعت ہوئی ہے اور چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی ہے.

    واضح رہے کہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ضمانت کی درخواست پر نوٹس کر دیئے تھے، اس درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات ہیں، ایف آئی آر اور چالان کی مصدقہ کاپیاں لف نہیں کی گئیں اور جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ فیصلے میں لکھا ہے کہ ملزم کا کوئی حق ختم نہ کیا جائے، سب کیلئے یہی کہا ہے کسی قاعدے قانون کے تحت ہی ٹرائل جانا ہے، درخواست پر اعتراضات دورکررہے ہیں۔

    خیال رہے کہ شاہ محمود قریشی کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ اس درخواست کو ضمانت کی درخواست کے ساتھ سماعت کیلئے رکھ لیں اور عدالت نے شاہ محمود کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔

  • وزیراعظم کے لمز  تاخیر پر پہنچنے پر نوجوان کا شکوہ

    وزیراعظم کے لمز تاخیر پر پہنچنے پر نوجوان کا شکوہ

    وزیراعظم صاحب ! ہم اپنی کلاسز چھوڑ کر طلباء ، پروفیسرز آپکا انتظار کر رہے تھے اور آپ 50 منٹ تاخیر سے آئے ہیں، میں اس بات پر شرمندہ ہوں کے میرے وزیراعظم کو علم عزت نہیں- لمز یونیورسٹی میں دیر سے آنے پر نوجوان کا نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ سے شکوہ کرڈالا جبکہ واضح رہے کہ آج لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (لمز) کے طالب علموں کے ساتھ خصوصی نشست میں شریک ہوئے ہیں.


    جبکہ اس موقع پر نگراں وزیر اعظم انوار الحق کاکٹر نے کہا کہ نگراں حکومت کا قیام آئینی طریقے سے عمل میں آیا ہے اور الیکشن کی تاریخ دینا نگراں حکومت کا نہیں، الیکشن کمیشن کا مینڈیٹ ہے، نگران حکومت کا کام انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن کو معاونت فراہم کرنا ہے، ہم اس حوالے سے اپنا کردار ادا کریں گے، غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کو ملک بدر کیا جا رہا ہے۔

    معیشت کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں نگراں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح انتہائی کم ہے، لوگوں کی اکثریت ٹیکس دینا گوارہ نہیں کرتی، اگر 40 فیصد لوگ بھی ٹیکس دینا شروع کر دیں تو بلوچستان سمیت ملک بھر کی محرمیوں کا ازالہ کیا جا سکتا ہے اور ترقیاتی منصوبے آگے بڑھ سکتے ہیں اور انوار الحق کاکڑ نے مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ یورپی ممالک میں آپ ٹیکس دیے بغیر وہاں ایک دن بھی نہیں رہ سکتے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تعصبات سے بالاتر ہو کر ہمیں قومی تعمیر و ترقی میں حصہ ڈالنا ہو گا، انسان غلطیوں سے ہی سبق سیکھتا ہے. وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے یہ بھی کہا کہ ایک مہذب معاشرے کی تشکیل کے لیے جدو جہد کرنا پڑتی ہے، بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ابھی تک لوگ لسانیت اور فرقہ واریت کا شکار ہو کر ایک دوسرے کو نقصان پہنچاتے ہیں جس کے بھیانک نتائچ پورے معاشرے کو برداشت کرنا پڑتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سوئس خاتون کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کرمبینہ دوست نے کیا قتل
    معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل کا نماز جنازہ ادا کردیا گیا
    ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ نوجوان ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ اور اثاثہ ہیں مگر عسکریت پسندوں نے بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں نوجوانوں کے ذہنوں میں نفرت کے بیج بوئے۔ ان کا کہنا تھا کہ مدرسوں اور تعلیمی درسگاہوں میں نصابی سرگرمیوں کی جانچ پڑتال کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہوتی ہے اور اس کے لیے بھی قانون سازی کی گئی ہے۔ نگراں وزیر اعظم نے طلباء سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ کے سامنے پوری زندگی پڑی ہے اس لئے صحیح اور غلط کے درمیان فرق آپ نے خود کرنا ہے۔

  • حوثی باغیوں کے ساتھ جھڑپ کے بعد سعودی فورسز ہائی الرٹ

    حوثی باغیوں کے ساتھ جھڑپ کے بعد سعودی فورسز ہائی الرٹ

    یمن کے ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے ساتھ مہلک جھڑپوں کے بعد سعودی عرب کی فوج ہائی الرٹ کی حالت میں ہے، جنہوں نے اسرائیل کی طرف میزائل داغنے کی بھی کوشش کی تھی۔ یمن کی سرحد پر جنوب مغربی صوبہ جازان کے پہاڑی علاقے میں حوثی باغیوں کے ساتھ لڑائی میں چار سعودی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ جیسے جیسے اسرائیل اور حماس کی جنگ بڑھتی جا رہی ہے، اس بات کا خدشہ بڑھ تا جا رہا ہے کہ یہ تنازعہ پورے خطے میں پھیل جائے گا، جس کی وجہ سے مزید ایسے عناصر سامنے آئیں گے جو اسرائیل کے مخالف ہیں۔


    بلومبر کے مطابق یہ خدشات 19 اکتوبر کو اس وقت سامنے آئے جب امریکی فوج نے کہا کہ بحیرہ احمر میں اس کے ایک تباہ کن جہاز نے حوثی باغیوں کی جانب سے اسرائیل کی طرف داغے جانے والے کروز میزائلوں اور ڈرونز کو روک لیا ہے، جو یمن کے دارالحکومت اور آس پاس کے علاقوں پر قابض ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سوئس خاتون کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کرمبینہ دوست نے کیا قتل
    معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل کا نماز جنازہ ادا کردیا گیا
    ٹیکس ائیر 2023 کیلئے سیکشن سیون ای میں 50 فیصد ڈیمڈ انکم ٹیکس ادائیگی کے ساتھ حکمِ امتناع جاری
    واضح رہے کہ یمن کے شمال مغربی صوبہ صعدہ سے تعلق رکھنے والے ایک قبیلے کا حصہ حوثی شیعہ اسلام کی زیدی شاخ کے پیروکار ہیں جس سے ایک اندازے کے مطابق ملک کی 25 فیصد آبادی تعلق رکھتی ہے۔ 1990 میں شمالی یمن اور جنوبی یمن کے متحد ہونے کے بعد حوثیوں نے بغاوتوں کا ایک سلسلہ شروع کیا اور 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر کامیابی کے ساتھ قبضہ کر لیا اور خانہ جنگی کا آغاز کیا جو آج تک جاری ہے۔

  • ہم نے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے.  وزیر داخلہ

    ہم نے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے. وزیر داخلہ

    نگراں وفاقی وزیرداخلہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم نے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے، ہم سردار اخترمینگل سے ملاقات کریں گے، آئین میں رہتے ہوئے سب کو احتجاج کا حق ہے جبکہ سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کے تمام مسائل ایوان میں حل ہوئے ہیں، نگراں حکومت کے محدود اختیار ہوتے ہیں، پاکستان بنانا ریاست نہیں ہے، غیرملکیوں کو ملکی قانون کے تحت رہنے کی اجازت ہوگی۔

    علاوہ ازیں نگراں وزیرداخلہ کا مزید کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو تمام معاونت فراہم کریں گے، غیرملکیوں کی واپسی کا مکمل پلان تیارہے، غیرقانونی مقیم افراد کی واپسی کیمپ بھی قائم ہیں، ان کیمپس میں تمام ضروری اشیا فراہم کی جائیں گی، واپسی کے پلان پر پورا عمل درآمد کریں گے، میرے خیال میں غیرقانونی مقیم غیرملکی مزاحمت نہیں کریں گے۔

    جبکہ دوسری جانب لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے بلوچستان نیشنل پارٹی کے درجنوں کارکنوں نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کیا اور مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کیے گئے اپنے وعدے پورے کرے اور مظاہرین سے خطاب میں بی این پی کے سربراہ اختر مینگل نے کہا کہ لاپتہ افراد ایک صوبے کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے ملک کا مسئلہ ہیں، لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ہر حکومت نے وعدے کیے لیکن نہ تو کوئی انکوائری کمیٹی نہ ہی کسی کمیشن اور عدالتی فیصلے پر عمل ہوا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سوئس خاتون کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کرمبینہ دوست نے کیا قتل
    معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل کا نماز جنازہ ادا کردیا گیا
    واضح رہے کہ سردار اختر مینگل نے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان سے نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔

  • سندھ امن مارچ کارواں وقت سے پہلے کامیاب ہوچکا ہے. علامہ راشد محمود سومرو

    سندھ امن مارچ کارواں وقت سے پہلے کامیاب ہوچکا ہے. علامہ راشد محمود سومرو

    سندھ امن مارچ کارواں وقت سے پہلے کامیاب ہوچکا ہے ۔ اقتدار میں آکر عوام کی پندرہ سالہ بدترین محرومیوں کا ازالہ کریں گے ، اتحادیوں سے ملکر سندھ کی اگلی حکومت بنانے جارہے ہیں ان خیالات کا اظہار جے یوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو ودیگر نے سندھ امن مارچ کارواں کے آٹھویں دن تھر اور بدین میں بڑے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تفصیلات کے مطابق جے یوآئی سندھ کا بارہ روزہ امن مارچ کارواں کے آٹھویں دن پہلے تھرپارکر کے مرکزی شہر مٹھی اور بعد ازاں مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا ماتلی بدین پہنچا ، دونوں اضلاع میں شہریوں کی جانب سے سندھ امن مارچ کارواں کا والہانہ استقبال کیا گیا،ضلع تھرپارکر کے علاقوں چھاچھرو مٹھی ضلع بدین کے علاقوں ماتلی،کھوسکی،نندو،شاہنوازچوک اور تلہار میں ہزاروں افراد استقبال کیلئے چوک چوراہوں پرنکل آئے ۔قافلے کی قیادت جے یوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو، مولانا سائیں عبدالقیوم ہالیجوی اور محمد اسلم غوری کررہے تھے جبکہ قافلے میں مرکزی سالار عبدالرزاق عابدلاکھو، مولانا عبدالکریم عابد، مولانا عبداللہ مہر ، مولانا سعودافضل ہالیجوی،حاجی عبدالمالک ٹالپر، مولانا تاج محمد ناہیوں، مولانا سمیع الحق سواتی ، مولانا صالح اندھڑ، مولانا امین اللہ، آغا ایوب شاہ، مولانا غلام محمد سومرو ، نعیم اللہ لغاری ودیگر بھی شامل تھے۔جےیوآئی ضلع تھرپاکر کے امیر مولانا عزیز اللہ ساند،جنرل سیکریٹری عبدالعزیزنوہڑی امیر ضلع بدین مولانا محمد عیسیٰ سموں،جنرل سیکریٹری مولانا فتح محمد مہیری نے ہزاروں افراد کے قافلے کے ہمراہ سندھ امن مارچ کے قائدین کا استقبال کیا۔
    https://twitter.com/SoomroOfficial/status/1718714802212868524
    مٹھی اور ماتلی میں بڑے عوامی اجتماعات سے علامہ راشد محمود سومرو ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں شہروں اور قصبوں کا غصب کیا گیا بجٹ کھایا گیاہے حساب تو دینا ہوگا بدین میں ایک سال کیلئے پونے آٹھ ارب روپے سے زائد رقم محکمہ تعلیم کیلئے مختص کی گئی لیکن یہاں سینکڑوں اسکول چار دیواری،واش روم اور بجلی کی سہولت سے محروم ہیں، ساٹھ لاکھ بچے صوبہ بھر میں تعلیم سے محروم ہیں۔ بدین میں اسکول آج بھی وڈیروں کےاوطاق بنے ہوئے ہیں حکومتی سرپرستی میں منشیات کا استعمال تعلیمی اداروں تک پہنچ گیا،قوم کے نوجوانوں کو ذہنی مریض بناکر حکومت کرنا اب خواب رہے گا۔

    علامہ راشد محمود سومرو کا کہنا تھا کہ حیرت ہے کہ بلدیاتی اداروں کیلئے ایک سال میں پونے دو ارب روپے کے قریب رقم جاری کی گئی لیکن گلیاں اور آبادیاں آج بھی گندگی کا منظر پیش کررہی ہیں، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو 28 کروڑ کے قریب دی گئی رقم کہاں صرف ہوئی عوام پوچھنا چاہتی ہے، محمکہ صحت بدین میں غریبوں کے لئے سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کیلئے اڑھائی ارب دیئے گئے۔ لیکن صحت مراکز حکومت کا منہ چڑا رہی ہیں جہاں ایکسرے سٹی اسکن مشینیں نہ ایم آر آئی کی سہولت موجود ہےبدین کی ڈسپنسریوں میں آج بھی پرچی سسٹم رائج ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تھر کی سرکاری ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے ڈیلیوری کیس کی نگرانی بھی مرد ڈاکٹر کررہے ہیں جو شرم کا مقام ہے۔ تھرکول میں خواتین کو ڈرائیور رکھ کر انکی ہتک عزت کی جارہی ہے۔ کارونجھر کو 350 روپے فی من چائنہ کلے مٹی کی رقم جتنے دام میں بیچا گیا۔
    بدین کے امن امان کے نام پر پولیس کو ایک ارب ساٹھ کروڑ مختص کئے گئے لیکن نہ امن ہے نہ امان حالت یہ ہیکہ بدین پولیس فورس کو دوسرے صوبوں جتنی تنخواہیں اور مراعات تک میسر نہیں۔

  • غیر قانونی طور پر بسنے والے افراد کو31 اکتوبر تک پاکستان سے نکل جانے کی ڈیڈ لائن

    غیر قانونی طور پر بسنے والے افراد کو31 اکتوبر تک پاکستان سے نکل جانے کی ڈیڈ لائن

    نگران وفاقی وزیر داخلہ سرفراز احمد بگٹی نے کہا ہے کہ پاکستان میں غیر قانونی طور پر بسنے والے افراد کو31 اکتوبر تک پاکستان سے نکل جانے کی ڈیڈ لائن دی گئی ہے ، انخلاءکا معاملہ غیر قانونی مقیم افراد کے خلاف ہے، کسی مخصوص گروہ کے خلاف نہیں، غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کو قریبی بارڈر تک پہنچایا جائے گا،وہ پاکستانی جنہوں نے غیر قانونی مقیم افراد کو گھر کرایہ پر دے رکھے ہیں، وہ بھی جرم میں برابر کے شریک ہیں،ایسے افراد کے لئے موقع ہے کہ وہ غیر قانونی مقیم افراد کے بارے میں اطلاع فراہم کریں ۔ وہ پیر کو نگران وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی ، نگران وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم ، وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت جمال شاہ اورنمائندہ وزارت صحت کے ہمراہ پی آئی ڈی میں کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ د ے رہے تھے ۔

    نگران وزیر داخلہ نے بتایا کہ ہم نے غیر ملکیوں کو ملک سے نکلنے کے لئے 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن دی تھی ۔ اس دوران رضا کارانہ طور پر اپنے ملک واپس جانے والوں کو ہر ممکن تعاون اور سہولت فراہم کی گئی ۔ اب چند گھنٹے باقی ہیں جو مقررہ وقت تک پاکستان نہیں چھوڑے گا اور اس کے پاس کارآمد ویزہ اور پاسپورٹ نہیں ہوگا اسے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تعداد میں افغانستان کے لوگ ہیں اور ہم 40 برس سے ان کی میزبانی کر رہے ہیں ، یہ تاثر غلط ہے کہ صرف افغانستان کے لوگوں کو نکالا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انخلاءکے دوران خواتین اور بزرگوں کے احترام کو ملحوظ خاطر رکھا جا رہا ہے، بچوں کے ساتھ شفقت والا سلوک کیا جا رہا ہے، تقریباً دو لاکھ کے قریب غیر قانونی افراد دو ماہ کے دوران واپس گئے ہیں ۔

    انہوں نے کہا کہ غیر قانونی مقیم افراد واپس اپنے ملکوں کو جائیں، قانونی دستاویزات حاصل کر کے واپس آ سکتے ہیں،ویزا لے کر یہاں آ کر کاروبار کر سکتے ہیں، دوستوں سے مل سکتے ہیں۔نگران وفاقی وزیر صحت ڈاکٹر ندیم جان نے وفاقی ہسپتالوں کی سربراہی سے متعلق وائرل چٹھی سے متعلق ایک سوال کےجواب میں بتایا کہ ہم قانون کے مطابق سب کچھ کر رہے ہیں، بھرتیوں کا عمل شفافیت کے ساتھ مکمل ہوگا ۔ جہاں قانون اور میرٹ کی خلاف ورزی ہو میڈیا اسکو اجاگر کر سکتا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ گریڈ 1 تا 21 قانون کے مطابق عوامی ضروریات کے مطابق کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قلیل عرصہ ملا ہے ،د و مہینوں میں ہم اصلاحات لیکر آئے ہیں، ایم آر آئی مشین کئی ماہ سے خراب تھے اور ہم نے چند دنوں میں ایم آر آئی مشین فراہم کر دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر پر بھی ہم نے کام شروع کر دیا ہے ، بی ایچ یوز جو سیلاب یا کسی آفت میں تباہ ہوئے ان کی بحالی ڈبلیو ایچ او کی مدد سے کرنے جارہے ہیں ، جلد وزیراعظم اس منصوبے کا افتتاح کریں گے ۔وزارت مذہبی امور کے نمائندے نے بتایا کہ سیکرٹری کا کرنٹ چارج ایڈیشنل سیکرٹری کو سونپ دیا ہے ،550 ملین روپے پی آئی اے کو آج ہی ادا ہوجائیں گے ۔

    حج پالیسی 2024 کو جب سب کمیٹی کلیئر کرے گی تب نافذالعمل ہوگی ، سرکاری سکیم میں 25 ہزار اور پرائیویٹ سکیم میں 44 ہزار عازمین جاسکیں گے ، اگر کوئی بیرون ملک میں ہے تو وہ ڈالرز میں ادائیگی کر سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حج پالیسی پر دو سوالات اٹھے تھے جو کمیٹی کو ریفر کر دیئے گئے ہیں ۔

    ایک سوال کے جواب میں نگران وفاقی وزیر قومی ورثہ و ثقافت جمال شاہ نے کہا کہ افغانستان میں سب سے زیادہ موسیقار ہیں ،اگر وہ قانونی طریقے سے آتے ہیں تو انھیں سہولت فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ مجاہدین اور طالبان نے بے شمار فنکاروں کو بے دردی سے قتل کیا ، اب بھی افغانستان میں وہ نہیں رہ سکتے ۔ پاکستان کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ایسے طبقات کا خیال رکھے ۔