Baaghi TV

Tag: اسلامی نظریاتی کونسل

  • رواں سال فطرانہ اور فدیہ کتنا ہوگا؟اسلامی نظریاتی کونسل نے  اعلان کردیا

    رواں سال فطرانہ اور فدیہ کتنا ہوگا؟اسلامی نظریاتی کونسل نے اعلان کردیا

    اسلامی نظریاتی کونسل نے رمضان 2026 کے لیے ملک بھر میں زکوٰۃ الفطر اور فدیہ کی نئی رقوم کا اعلان کردیا ہے۔

    کونسل کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق مختلف اجناس کے حساب سے فطرانہ اور فدیہ کی رقوم اس طرح ہوں گی،کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کے مطابق گندم کے حساب سے فطرانہ اور فدیہ کی کم از کم رقم 300 روپے فی کس مقرر کی گئی ہے جو افراد جو کے حساب سے فطرانہ یا فدیہ ادا کرنا چاہیں گے، ان کے لیے رقم ایک ہزار 100 روپے فی کس مقرر کی گئی ہے۔

    جبکہ کھجور کے حساب سے یہ رقم ایک ہزار 600 روپے فی کس ہوگی کشمش کے حساب سے فطرانہ اور فدیہ 3 ہزار 800 روپے فی کس مقرر کیا گیا ہے اور منقہ (خشک انجیر) کے حساب سے فطرانہ اور فدیہ 5 ہزار 400 روپے فی کس ادا کرنا ہوگا۔

    fitrana

    جو افراد پورا رمضان روزے رکھنے سے قاصر ہوں، ان کے لیے 30 دن کا فدیہ گندم کے حساب سے 9 ہزار روپے،جو کے حساب سے 33 ہزار روپے،کھجور کے حساب سے 48 ہزار روپے،کشمش کے حساب سے ایک لاکھ 14 ہزار روپے اور منقہ کے حساب سے ایک لاکھ 62 ہزار روپے ہو گا-

    اسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق سرکاری سبسڈی والے آٹے کے حساب سے پورے ماہ کا فدیہ 6 ہزار روپے جبکہ فی کس فطرانہ یا فدیہ 200 روپے مقرر کیا گیا ہےڈاکٹر راغب حسین نعیمی نے واضح کیا کہ زکوٰۃ الفطر ہر مسلمان پر لازم ہے، چاہے مرد ہو یا عورت، بڑا ہو یا بچہ، جان بوجھ کر روزہ توڑنے کی صورت میں کفارہ ادا کرنا ضروری ہے، جو یا تو مسلسل 60 روزے رکھنے یا 60 مسکین افراد کو دو وقت کا کھانا کھلانے کی صورت میں ادا کیا جا سکتا ہے۔

  • غیرت کے نام پر قتل خلافِ اسلام ہے،اسلامی نظریاتی کونسل

    غیرت کے نام پر قتل خلافِ اسلام ہے،اسلامی نظریاتی کونسل

    اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل خلافِ اسلام ہے اور کسی بھی شخص کو کسی بھی حالت میں قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کا 244 واں اجلاس چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین کی زیرِ صدارت منعقد ہوا،اجلاس میں بلوچستان اور خیبرپختو نخوا میں بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الہندوستان اور فتنہ الخوارج کی جانب سے ہونے والے دہشتگردانہ واقعات کی شدید مذمت کی گئی۔

    چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل نے کہاکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہےاجلاس کے آغاز پر شہدا اور حال ہی میں وفات پانے والے سابق اراکین کونسل مولانا فضل الرحیم اور محمد جلال الدین ایڈوکیٹ کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔

    اجلاس میں قانونِ انفساخِ نکاح مسلمانان 1939 کے تحت اسبابِ فسخِ نکاح کا جائزہ لیا گیا کونسل نے خصوصی پارلیمانی سب کمیٹی برائے جنسی شمولیت (اسپیشل کمیٹی برائے جینڈر مین اسٹریمینگ) کی تجاویز سے اصولی طور پر اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر خاوند مفقود الخبر ہو اور بیوی کو عفت و عصمت کا مسئلہ درپیش ہو تو وہ 2 سال انتظار کے بعد عدالت سے فسخِ نکاح کے لیے رجوع کر سکتی ہے۔

    اسی طرح نفقے کی عدم ادائیگی کی صورت میں ایک سال، خاوند کے قید ہونے کی صورت میں 3 سال بعد فسخِ نکاح کے لیے عدالت سے رجوع کیا جا سکتا ہے نامردی، فرائضِ زوجیت کی ادائیگی پر قدرت نہ ہونا، ذہنی امراض یا دیگر امراضِ خبیثہ کی صورت میں ایک سال انتظار کے بعد فسخِ نکاح کیا جا سکتا ہے باپ دادا کی جانب سے بچپن میں کیے گئے نکاح میں اگر سو اختیار ثابت ہو جائے تو بھی فسخِ نکاح ممکن ہوگا۔

    کونسل نے رحم کی پیوندکاری سے متعلق استفسار پر قرار دیا کہ ایسی خاتون جو تولید کی طبعی عمر گزار چکی ہو، چند شرائط کے ساتھ اس کے رحم کو بطور پیوندکاری منتقل کیا جا سکتا ہے نیو ڈورا پروڈکٹ (Dural Repair Patch) کے استعمال کے بارے میں کونسل نے قرار دیا کہ اس کا استعمال درست نہیں۔

    مقدس اوراق کی ری سائیکلنگ سے متعلق کونسل نے منظوری دیتے ہوئے قرار دیا کہ احتیاط کا تقاضا ہے کہ قرآنی اور مقدس اوراق کو دیگر عام اوراق سے الگ ری سائیکلنگ کے مراحل سے گزارا جائے۔

    وزارتِ قانون و انصاف کے استفسار پر کونسل نے واضح کیاکہ غیرت کے نام پر قتل خلافِ اسلام ہے اور کسی بھی شخص کو کسی بھی حالت میں قانون کو ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں۔

    اجلاس میں صاحبزادہ حسان حسیب الرحمان، طاہر محمود اشرفی، رانا شفیق پسروری، ڈاکٹر عزیر محمود الازہری، مفتی محمد زبیر، سید سعید الحسن، پیر شمس الرحمان مشہدی، بیرسٹر عتیق الرحمان بخاری، حافظ محمد امجد، علامہ یوسف اعوان سمیت دیگر اراکین نے شرکت کی۔

  • انجینیئر محمد علی مرزا کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت  ملتوی

    انجینیئر محمد علی مرزا کی اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے انجینیئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی کر دی ہے –

    جسٹس محسن اختر کیانی کی عدالت میں اسلم خاکی کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ دوران سماعت اٹارنی جنرل پیش نہ ہو سکے، جس پر اسسٹنٹ اٹارنی جنرل عثمان گھمن نے بتایا کہ اٹارنی جنرل دیگر مصروفیات کی وجہ سے حاضر نہیں ہو سکتے، لیکن عدالت کی ہدایت پر آئندہ سماعت میں پیش ہو جائیں گے۔

    عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کی استدعا منظور کرتے ہوئے سماعت 7 اپریل تک ملتوی کر دی،اور اٹارنی جنرل آف پاکستان کو آئندہ سماعت پر پیش ہو کر عدالتی معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

    اسپین کا تقریباً پانچ لاکھ تارکینِ وطن کو قانونی حیثیت دینے کا فیصلہ

    درخواست گزار اسلم خاکی، اسلامی نظریاتی کونسل کے وکیل اور متعلقہ حکام عدالت میں پیش ہوئے درخواست میں ڈاکٹر محمد اسلم خاکی نے انجینیئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا مرتکب قرار دینے والی اسلامی نظریاتی کونسل کی فتویٰ نما رائے کو چیلنج کیا ہوا ہے۔

    امریکی مسلم رکن کانگریس الہان عمر پر خطاب کے دوران حملہ

  • اسلامی نظریاتی کونسل کا ود ہولڈنگ ٹیکس پر وضاحتی اعلامیہ

    اسلامی نظریاتی کونسل کا ود ہولڈنگ ٹیکس پر وضاحتی اعلامیہ

    اسلامی نظریاتی کونسل نے بینکوں سے رقم نکالنے اور منتقلی پر ود ہولڈنگ ٹیکس کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے پر ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، بلکہ آئندہ اجلاس میں ماہرین سے مشاورت کے بعد تفصیلی غور کیا جائے گا۔

    بدھ کو جاری کیے گئے "تصحیح نامہ” میں کہا گیا کہ اجلاس کے بارے میں یہ تاثر سامنے آیا تھا کہ کونسل نے ود ہولڈنگ ٹیکس پر حتمی رائے قائم کرلی ہے، حالانکہ حقیقت میں چند اراکین نے ابتدائی بحث کی تھی اور ان کی آرا مختلف تھیں۔اعلامیے کے مطابق آئندہ اجلاس میں اس پر سیر حاصل بحث کی جائے گی اور متعلقہ ماہرین سے رائے لی جائے گی۔ لہٰذا آج کی پریس ریلیز میں یہ وضاحت شامل کی جائے کہ ود ہولڈنگ ٹیکس کے حوالے سے کونسل نے کوئی فیصلہ نہیں دیا۔

    یاد رہے کہ اسی دن جاری شدہ کونسل کی ابتدائی پریس ریلیز میں ود ہولڈنگ ٹیکس کو غیر شرعی اور زیادتی کے مترادف قرار دیا گیا تھا۔واضح رہے کہ اس سے قبل 14 جون 2025 کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے بینکوں سے نقد رقم نکالنے پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.6 فیصد سے بڑھا کر 0.8 فیصد کرنے کی منظوری دی تھی۔

    دو ماہ میں بینکوں سے 1 کھرب روپے سے زائد نکلوا لیے گئے

    ایران کا پاک–سعودی دفاعی معاہدے کا خیرمقدم

    بھارتی علاقے لداخ احتجاجات میں تشدد،4 ہلاک، درجنوں زخمی

  • رقوم کی ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس غیر شرعی قرار

    رقوم کی ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس غیر شرعی قرار

    اسلامی نظریاتی کونسل نے رقم نکالنے پر ودہولڈنگ ٹیکس کو غلط قرار دے دیا۔

    اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس چیئرمین راغب نعیمی کی زیر صدارت منعقد ہوا اجلاس میں مختلف امور پر بات کی گئی جس کے بعد اعلامیہ جاری کردیا گیااعلامیے میں اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ بینک سے رقم نکالنے پر حکومت کا عائد کردہ ود ہولڈنگ ٹیکس غیر شرعی اور زیادتی کے مترادف ہے۔

    انسانی دودھ ذخیرہ کرنے کے معاملے پر کونسل نے کہا ہے کہ دودھ ذخیرہ کرنے کے مخصوص ادارے قائم کیے جا سکتے ہیں، ذخیرہ کرنے کے ادارے مخصوص شرائط کے تحت قائم کئے جا سکتے ہیں تاہم مفاسد سے بچنے کے لیے پہلے لازمی قانون سازی کی جائے اور انسانی دودھ کے حوالے سے قانون سازی میں کونسل کو شامل کیا جائے۔

    جلدہی،ملک کے 7 بڑے شہروں میں 5G کی سہولت فراہم کی جائے گی،شزا فاطمہ

    اسلامی نظریاتی کونسل نے دیت کے قانون میں ترمیم کی شقوں کی مخالفت کردی، دیت کے قانون میں ترمیم کے لیے پیش کردہ بل سے اتفاق نہیں کرتے، دیت کی سونا چاندی اور اونٹ سے متعلق شرعی مقداریں قانون میں شامل رہنی چاہیئں بل میں چاندی کو حذف اور سونے کی غیر شرعی مقدار کو معیار بنایا گیا ہے۔

    کونسل کا کہنا ہےکہ شوگر کے مریضوں کے لیے حلال اجزا والی انسولین دستیاب ہے اس لیے حلال اجزا والی انسولین کی دستیابی پر خنزیر کے اجزاء پر مشتمل انسولین سے پرہیز کیا جائے۔

    سونے کی قیمت بلند ترین سطح پر برقرار

  • ملی یکجہتی کونسل کا کم عمری کی شادی کے خلاف قانون مسترد کرنے کا اعلان

    ملی یکجہتی کونسل کا کم عمری کی شادی کے خلاف قانون مسترد کرنے کا اعلان

    ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے صدر ڈاکٹر صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے بچوں کی شادی کی ممانعت سے متعلق نئے قانون کو غیر شرعی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اپنے بیان میں صاحبزادہ ابوالخیر نے کہا کہ صدرِ مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے اس بل پر دستخط آئینِ پاکستان اور اسلامی اصولوں کی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے مؤقف اپنایا کہ قرآن و سنت کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے قانون سازی کی گئی، جبکہ اسلامی نظریاتی کونسل پہلے ہی اس بل کو قرآن و سنت اور آئین سے متصادم قرار دے چکی ہے۔

    صدر ملی یکجہتی کونسل کا کہنا تھا کہ حکومت اور ایوانِ صدر نے اسلامی نظریاتی کونسل کی رائے کو نظر انداز کیا، جو کہ دینی طبقے کے لیے قابل قبول نہیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ دینی جماعتوں کی مشاورت سے اس "غیر اسلامی قانون سازی” کے خلاف ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔

    غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے خلاف آپریشن میں تیزی

    حماس کا جنگ بندی معاہدے پرجواب ، غزہ سے مکمل انخلا اور مستقل سیز فائر کا مطالبہ

    اوگرا نے ایل پی جی مزید سستی کر دی، فی کلو قیمت میں 4 روپے 63 پیسے کمی

    اوگرا نے ایل پی جی مزید سستی کر دی، فی کلو قیمت میں 4 روپے 63 پیسے کمی

  • پہلی بیوی کو فسخ نکاح کا حق دینا غیر اسلامی قرار

    پہلی بیوی کو فسخ نکاح کا حق دینا غیر اسلامی قرار

    اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نے بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی کو فسخ نکاح کا حق دینا غیر اسلامی قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس چیئرمین راغب حسین نعیمی کی زیر صدارت ہوا اجلاس میں کونسل نے بغیر اجازت دو سر ی شادی پر پہلی بیوی کو فسخ نکاح کا حق دینا غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا عدالتی فیصلہ جو پہلی بیوی کو یہ حق دے شریعت کی نظر میں درست نہیں ہے۔

    اس کے علاوہ اسلامی نظریاتی کونسل نے کہا کہ نکاح سے پہلے تھیلیسمیا یا دیگر متعدی امراض کا بطور اختیاری نکاح نامہ کا حصہ بنایا جا سکتا ہےاسلامی نظریاتی کونسل کے مطابق زندگی خطرے میں ڈالے بغیر انسانی اعضا کی پیوندکاری بھی کی جاسکتی ہے۔

    ملک میں خشک سالی سے بیماریوں کا خطرہ

    واضح رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ نے بغیر اجازت دوسری شادی پر پہلی بیوی کو معاہدہ ختم کرنے سے متعلق فیصلہ دیا تھا۔

    شاہ رخ خان کا بچپن میں غربت دیکھنے کا انکشاف

  • کسی فرد کا اپنی واضح جنس کو تبدیل کرنا ناجائز ہے،اسلامی نظریاتی کونسل

    کسی فرد کا اپنی واضح جنس کو تبدیل کرنا ناجائز ہے،اسلامی نظریاتی کونسل

    اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نے کسی فرد کی جانب سے اپنی واضح جنس تبدیل کرنے کو ناجائز قرار دیا –

    باغی ٹی وی : اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کا اعلامیہ جاری کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اپنی جنس کی ازخود تعین کی اسلام میں اجازت نہیں ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق ہرفرد کی جنس پیدائشی طور پر طے شدہ ہوتی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل علامہ راغب نعیمی کا کہنا ہےکہ کسی فرد کا اپنی واضح جنس کو تبدیل کرنا ناجائز ہے، البتہ غیر واضح جنس کا ابہام دور کرکے تعین جنس جائز ہے خنثیٰ افراد کے لیے انٹرسیکس کالفظ استعمال کیا جائے نہ کہ ٹرانسجینڈرکا۔

    علامہ راغب نعیمی کے مطابق مرد کو عورت اور عورت کو مرد کی مشابہت اختیار کرنا ناجائز ہے، اپنی جنس کی ازخود تعین کی اسلام میں اجازت نہیں ہے، اسلامی تعلیمات کے مطابق ہرفرد کی جنس پیدائشی طور پر طے شدہ ہوتی ہے، اپنے باطنی احساسات کی بنیاد پرپیدائشی جنس کے برعکس شناخت بیان کرنا شرعی احکام سے متصادم ہے۔

    اعلامیے کے مطابق علما نے کہا ہےکہ ایسے مریض یا پیدائشی طورپرناقص افراد کو گھر سے نکالنا یا ان پر تشدد جائز نہیں ہے، والدین کو پابند کیا جائے کہ وہ ایسے افراد کو خاندان میں شریک رکھیں۔

  • سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کا اعلامیہ جاری

    سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس کا اعلامیہ جاری

    اسلام آباد: اسلامی نظریاتی کونسل نے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق اپنی رائے جاری کردی-

    باغی ٹی وی: اسلامی نظریاتی کونسل کا اجلاس علامہ ڈاکٹر محمد راغب حسین نعیمی کی زیرصدارت منعقد ہوا، جس میں علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی، ملک اللہ بخش کلیار، جسٹس( ر) الطاف ابراہیم قریشی ، علامہ ڈاکٹر عبدالغفور راشد، محمد جلال الدین ایڈووکیٹ، علامہ ملک محمد یوسف اعوان، مفتی محمد زبیر،علامہ پیر شمس الرحمٰن مشہدی، علامہ سید افتخار حسین نقوی، پروفیسرڈاکٹر مفتی انتخاب احمد اور صاحبزادہ محمد حسان حسیب الرحمٰن شریک ہوئے جب کہ ڈاکٹر عزیر محمود الازہری اور فریدہ رحیم نے آن لائن شرکت کی۔

    اجلاس میں شریک تمام اراکین کونسل نے اتفاق رائے سے اتفاق کیا کہ سوشل میڈیا اپنے خیالات و آرا کے اظہار کا موثر ترین ذریعہ ہے،اس کو بجا طورپر اچھے اور عمدہ مقاصد کےلیے بھی استعمال کیاجا سکتا ہے اور منفی و غلط مقاصد کے لیے بھی اس کا استعمال ممکن ہے ایک مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اس کا استعمال اسلامی تعلیمات کی پیروی میں کرے-

    سوشل میڈیا کو اسلامی تعلیمات کے فروغ،اخلاق و کردار کی تعمیر ،تعلیم وتربیت کی ترویج و ترقی، تجارتی مقصد، ملکی امن و سلامتی کے استحکام اور دیگر جائز مقاصد کیلئے استعمال کرے سوشل میڈیا کو توہین و گستاخی،جھوٹ،فریب،دھو کہ دہی،غیر اخلاقی مقاصد ،بدامنی،فرقہ واریت ، انتہا پسندانہ اقدامات اور دیگر غیر قانونی و غیر شرعی مقاصد کے فروغ کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

    اعلامیے کے مطابق عمومی مشاہدہ ہے کہ انٹرنیٹ کے استعمال کے دوران دوران مختلف مقاصد کے حصول کے لیے وی پی این ایپ استعمال کی جاتی ہے ،کوئی وی پی این، سافٹ وئیر یا کوئی بھی ایپ بذات خود ناجائز یا غیر شرعی نہیں ہوتا، بلکہ ان کے درست اور غلط استعمال پر شرعی حکم کا دارومدار ہوتا ہے، اگر توہین،گستاخی،بدامنی، انارکی اور ملکی سلامتی کے خلاف کا مواد احصول یا پھیلاؤ ہو تو بلا شبہ ایسا استعمال شرعی لحاظ سے ناجائز ٹھہرے گااور حکومت وقت کو اختیار حاصل ہو گا کہ ایسے ناجائز استعمال کے انسداد کیلئے اقدامات کرے۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ اگر وی پی این کے استعمال سے کوئی جائز مقصد حاصل کرنا پیش نظر ہو، جیسا کہ بات چیت کیلئے کسی ایپ کا استعمال یا تعلیمی و تجارتی مقاصد کے لیے استعمال درست اور جائز ہوگا اور اس حوالے سے حکومت کے قوانین پر عمل کرنا چاہیے جیسا کہ حکومت نے وی پی این کی رجسٹریشن شروع کر دی ہے، لہٰذا رجسٹرڈ وی پی این کے استعمال کو ترجیح دی جائے،غیر رجسٹرڈ وی این استعمال کر نے سے حتی الامکان اجتناب کیا جائے۔

    اعلامیے کے مطابق ایک اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے شہریوں کیلئے درج بالا جائز مقاصد کے حصول کو آسان بنائے،اور ناجائز مقاصد کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال کو روکنے کے لیے اقدامات کرے،میڈیا و سوشل میڈیا سے متعلق تمام حکومتی ادارے اس حوالے سے فعال کردار کریں اور اس سلسلے میں استعمال ہونے والے تمام پلیٹ فارمز اور ایپس کی نگرانی کریں، آئین کے آرٹیکل 19 کے مطابق اسلام کی عظمت، ملکی سالمیت، امن عامہ، تہذیب اور مناسب قانونی پابندیوں کے تابع ہر شہری کوتقریر ،اظہار خیال، پریس کی آزادی اورمعلومات تک رسائی کا حق دیا گیا ہے ۔

    اعلامیے کے مطابق سوشل میڈیا اور ٹیکنا لوجی کے دیگر جدید ذرائع کی اہمیت سےانکار ممکن نہیں اور ان کا مثبت استعمال وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے، لہذا ان جدید ذرائع کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے انتظامی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے کو نسل سمجھتی ہے کہ جدید ذرائع پر محض پابندی عائد کرنامسائل کاحل نہیں، بلکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ان ذرائع کے مثبت استعمال کو ممکن بنانے یا ان کا مناسب متبادل پیش کرنے کے لیے بھی اقدامات کئے جائیں جبکہ کونسل نے ماہرین کے ساتھ مشاورت کے ذریعے اس موضوع پر شرعی حوالے سے مزید تحقیقی کام کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

    دوسری جانب چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل ڈاکٹر راغب نعیمی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وی پی این کو کسی نے غیر شرعی یا ناجائز نہیں کہا،ہمارے جاری کردہ بیان میں ٹائپنگ کی غلطی ہوئی ا ہمارے جاری کردہ بیان میں ’’نہیں ‘‘ نہ لکھنے کے سبب غلط فہمی پیدا ہوئی،سوشل میڈیا کو اسلامی تعلیمات کے فروغ، ملکی سلامتی کیلئے استعمال ہونا چاہیے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کوتوہین آمزید مواد،انتہا پسندانہ اقدامات کیلئے استعمال نہیں کرنا چاہیے،وی پی این یا کوئی اور ایسا سوشل میڈیا پلیٹ فارم غیر شرعی نہیں ،جدید ذرائع سے انکار ممکن نہیں مگر ان کا مثبت استعمال لازم ہے،رجسٹرڈ وی پی این کا استعمال ہی شرعی طور پر درست ہوگا،آئین کے تحت ہر شخص کو معلومات تک رسائی کاحق حاصل ہے ،جدید ذرائع پر پابندی مسائل کا حل نہیں البتہ مناسب متبادل ہونا چاہیے،آزادی اظہار رائے تسلیم شدہ اصول ہے اس کو بھی یقینی بنایا جائے،کونسل نے ماہرین سے مزید مشاورت کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

  • وزارت داخلہ کا غیرقانونی وی پی اینز کی بندش کیلئے خط، اسلامی نظریاتی کونسل کی حمایت

    وزارت داخلہ کا غیرقانونی وی پی اینز کی بندش کیلئے خط، اسلامی نظریاتی کونسل کی حمایت

    وزارتِ داخلہ نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کو ملک بھر میں غیر قانونی وی پی این بند کرنے کے لیے خط لکھ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کی جانب سے پرتشدد کارروائیوں میں سہولت کاری اور فحش و گستاخانہ مواد تک رسائی کے لیے غیرقانونی وی پی این کا استعمال کیا جاتا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق خط میں کہا گیا ہے کہ حال ہی میں ایک خطرناک حقیقت کی نشاندہی کی گئی ہے کہ دہشت گرد اپنی بات چیت کو مبہم رکھنے اور چھپانے کے لیے وی پی این کا استعمال کرتے ہیں جبکہ وی پی این کو فحش اور توہین آمیز مواد تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کو وی پی این کے ذریعے فحش ویب سائٹس رسائی حاصل کرنے والے سرفہرست ممالک میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، ان سنگین خطرات کے تدارک کے لیے غیر مجاز وی پی این پر پابندی عائد کرنے کی ضرورت ہے، لہٰذا درخواست کی جاتی ہے کہ پاکستان بھر میں غیر قانونی وی پی این ز کو بلاک کیا جائے تاکہ قانونی اور رجسٹرڈ وی پی این صارفین متاثر نہ ہوں۔خط میں مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی اے میں وی پی این کی رجسٹریشن 30 نومبر تک کرائی جاسکتی ہے، گزشتہ ہفتے ملک سے صارفین نے شکایت کی تھی کہ انہیں انٹرنیٹ پر رابطوں میں خلل اور وی پی اینز تک رسائی میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس جنہیں عام طور پر (وی پی اینز) کہاجاتا ہے، دنیا بھر میں انٹرنیٹ صارفین کی جانب سے اپنے ملکوں میں ناقابل رسائی یا پابندی کا شکار مواد تک رسائی کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔ترجمان پی ٹی اے نے ایک بیان میں کہا تھا کہ کہا تھا کہ ملک بھر سے ہر روز فحش ویب سائٹس تک رسائی کی تقریباً 2 کروڑ کوششیں کی جاتی ہیں جبکہ سال 2018 سے 2024 کے دوران 8 لاکھ 44 ہزار سے زائد پورنوگرافی ویب سائٹس کو بلاک کیا گیا۔پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ گستاخانہ اور پورنوگرافی ویب سائٹس کو بلاک کرنے کا عمل جاری ہے، گزشتہ 7 سالوں کے دوران ایک لاکھ 183 گستاخانہ ویب سائٹس کے یونیفارم ریسورس لوکیٹرز (یو آر ایل) کو بلاک کیا گیا۔ اس عرصے میں 8 لاکھ 44 ہزار سے زائد پورنوگرافی ویب سائٹس بلاک کی گئی ہیں، ملک کے اندر روزانہ تقریباً کروڑ فحش ویب سائٹس تک رسائی کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ صارفین وی پی این کے ذریعے پابندیوں کو بے اثر کرکے فحش مواد تک رسائی حاصل کرتے ہیں، ترجمان پی ٹی آے کے مطابق پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی غیر قانونی رسائی اور فحاش مواد کو بلاک کرنے کے لیے اقدامات کرتا رہے گا۔واضح رہے کہ گزشتہ اتوار ملک بھر میں وی پی اینز کے ناکارہ ہونے کے بعد بدھ کو پی ٹی اے نے کہا تھا کہ فحش مواد تک رسائی روکنے کے لیے مستقبل میں وی پی این کے استعمال پر پابندی عائد کردی جائے گی۔دریں اثنا، اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا ہے کہ غیر اخلاقی اور غیر قانونی مواد تک رسائی کے لیے وی پی این کا استعمال شرعی لحاظ سے ناجائز ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو برائی اور برائی تک پہنچانے والے تمام اقدامات کے انسداد کا اختیار ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ توہین آمیز اور ملکی سالمیت کے خلاف مواد پر فوری پابندی عائد کی جائے۔ہوی پی این کے ذریعے بلاک شدہ یا غیر قانونی ویب سائٹس تک رسائی اسلامی اور قانونی اصولوں کی خلاف ورزی ہے، انٹرنیٹ اور سافٹ ویئرز کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر حکومتی اقدامات ضروری ہیں۔

    اے پی سی کے سلسلہ میں جے یو آئی کے رابطے جاری

    پیرو : چین کے تعاون سے تیار پہلی بندرگاہ کا افتتاح ہو گیا

    رکشہ ڈرائیور کی دلیری،فرار ہونے والے ڈاکو کو پکڑلیا

    پاور کمپنیوں کیخلاف انکوائری،نامور کاروباری شخص کو ایئر پورٹ پر روک لیا گیا