Baaghi TV

Tag: اسلام آباد ہائی کورٹ

  • شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں توسیع

    شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں توسیع

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں توسیع کردی۔

    تھانہ ترنول مقدمے میں شاہ محمود قریشی کیس کی سماعت ہوئی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے کی جبکہ اسد عمر کی عبوری ضمانت پر سماعت جسٹس طارق محمود جہانگیری نے کی دوران سماعت اسلام آباد پولیس نے عدالت میں بیان دیا کہ شاہ محمود شامل تفتیش ہو گئے ہیں۔

    اسپیشل پراسیکیوٹر نے عدالت سے استدعا کی کہ دونوں کیس ایک ہی بینچ کو بھیجے جائیں، جس کے بعد عدالت نے فائل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کو واپس بھیج دی جسٹس طارق محمود نے ریمارکس دیئے کہ دونوں کیس ایک ہی بینچ کو بھیجنے کا فیصلہ چیف جسٹس کریں گے۔

    عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس میں نظر ثانی …

    بعد ازاں عدالت عالیہ نے تھانہ ترنول مقدمے میں شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی عبوری ضمانت میں 13 جولائی تک توسیع کردی-

    قبل ازیں گزشتہ سماعت میں اسلام آباد کے تھانہ ترنول کے مقدمے میں درخواستِ ضمانت پر جسٹس ارباب محمد طاہر نےسماعت کی تھی،عدالتِ عالیہ نے پولیس کو اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی گرفتاری سے روک دیا تھا،اسلام آباد ہائی کورٹ نے 10 جولائی تک پولیس سے ریکارڈ بھی طلب کیا،عدالتِ عالیہ نے اسد عمر اور شاہ محمود قریشی کی ایک ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کی۔

    آئی سی سی کی سالانہ میٹنگز میں شرکت کیلئےذکا اشرف کل جنوبی افریقا جائیں گے

    دونوں رہنماوں نے 9 مئی کے واقعات سے متعلق مقدمے میں ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست دائر کی تھی دریں اثنا سیشن کورٹ نے شاہ محمود قریشی اور اسد عمر کی ضمانت خارج کی تھی جس کے بعد شاہ محمود قریشی اور اسد عمر نے گزشتہ روز پشاور ہائی کورٹ سے راہداری ضمانت لی تھی۔

    عمران خان 9 مئی کے واقعات میں بھی ملزم نامزد

  • اسلام آباد؛ ملزمان کی فائرنگ سے ہیڈ کانسٹیبل شہید

    اسلام آباد؛ ملزمان کی فائرنگ سے ہیڈ کانسٹیبل شہید

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ملزمان کی فائرنگ سے ہیڈ کانسٹیبل شہید ہوگیا جبکہ اسلام آباد میں پولیس پارٹی ملزمان کی گرفتاری کے لیے ریڈ پر گئی تھی۔ پولیس کے چھاپے کے دوران ملزمان نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی۔ ملزمان کی فائرنگ سے ہیڈ کانسٹیبل شہید ہوگیا۔ ہیڈ کانسٹیبل احمد یار تھانہ کرپا میں تعینات تھا۔

    اس سے قبل اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف وقفے وقفے سے فائرنگ جاری ہے۔ اسلام آباد پولیس کے مطابق سری نگر ہائی وے پر ایچ 11 کے ایریا میں شدید فائرنگ کی آواز آرہی ہے جبکہ ہائیکورٹ کے سامنے جنگل ایریا میں پولیس فائرنگ کرنے والوں کی تلاش میں روانہ ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ اسلام آبادہائیکورٹ کے قریب جی 10 میں بھی فائرنگ کی آوازیں آئیں جس کے بعد ہائیکورٹ کے اطراف سکیورٹی الرٹ کر دی گئی ہے۔

    ترجمان نے بتایا کہ اسلام آباد میں جی 11 اور جی 13 کے علاقے میں پولیس پر فائرنگ ہوئی ہے اور صورتحال کو مانیٹر کیا جا رہا ہے۔ اسلامی یونیورسٹی کے قریب کچی آبادی میں فائرنگ ہوئی ہے، پولیس کنٹرول پر فائرنگ کی آواز کے بعد انڈسٹریل ایریا پولیس کو الرٹ کردیا گیا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف وقفے وقفے سے فائرنگ جاری ہے اور پولیس ذرائع نے بتایا کہ ایس ایم جی اور پسٹل کی فائرنگ ہوئی ہے۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ جاری ہے، عمران خان کواس صورتحال میں باہرنہیں جانے دے سکتے۔ وکیل سلمان صفدر کا کہنا تھاکہ عمران خان نے فائرنگ پر تشویش کا اظہارکیاہے، جب عمران کو ریلیف مل گیا تو فائرنگ کون کر رہا؟ تشویش کی بات ہے مظاہرین کیسے فائرنگ کر سکتے ہیں؟
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    اسلام آباد ہائیکورٹ کے اطراف پولیس اور رینجرز کو الرٹ کر دیا گیا۔ ترجمان پولیس کے مطابق فائرنگ سے جانی نقصان نہیں ہوا،تمام پولیس اہلکارمحفوظ ہیں، سرچ ٹیمیں قرب و جوارمیں جائزہ لے رہی ہیں۔ خیال رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان اسلام آباد ہائیکورٹ میں موجود ہیں جنہیں پولیس نے کمرہ عدالت سے باہر آنے سے روک دیا ہے۔

  • اسلام آباد پولیس کو سی ڈی اے کے فلیٹس خالی کرنے کا حکم

    اسلام آباد پولیس کو سی ڈی اے کے فلیٹس خالی کرنے کا حکم

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے سی ڈی اے فلیٹس پر اسلام آباد پولیس کا قبضہ غیر قانونی قرار دیتے ہوئے 16 سال تک فلیٹس پر قابض پولیس حکام کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی: سی ڈی اے کے فلیٹس پر قبضے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے فیصلہ سنادیا جس میں جسٹس محسن اختر اور جسٹس طارق محمود جہانگیری شامل تھے۔ ہائی کورٹ نے سنگل بنچ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فلیٹس خالی کرانے کے لیے سی ڈی اے کی اپیلیں منظور کرلیں سی ڈی اے کی جانب سے دائر انٹرا کورٹ اپیل پر جاری فیصلہ میں پولیس کا قبضہ غیر قانونی قرار دے دیا۔

    عدالت کا کہنا ہے کہ اسلام آباد پولیس نے فلیٹس لال مسجد آپریشن کے وقت لئے تھے، ان پر قبضہ پولیس کی جانب سے کھلی ہٹ دھرمی ہے جو کہ 16 برس بنتے ہیں جبکہ عدالت نے سی ڈی اے کے 200 فلیٹس پر قابض پولیس کو قبضہ ایک ماہ میں ختم کرنے کا حکم دیا ہے،فلیٹس خالی نہ ہوئے تو آئی جی اور سیکریٹری داخلہ کے ساتھ قانون سختی سے نمٹے گا-

    دوسری جانب ترجمان اسلام آباد کیپیٹل پولیس نے کہا ہے کہ پولیس عدالت کے حکم کی تعمیل کرے گی، اسلام آباد پولیس کے پاس رہائشی سہولتیں بہت کم ہیں خاص طور پر کانسٹیبل سے لے کر انسپکٹر تک کے افسران کے لیے رہائشی سہولتوں کا فقدان ہے، وزارت داخلہ کو درخواست کی جائے گی کہ عدالتی حکم کی تعمیل کے ساتھ پولیس اہل کاروں کی رہائشوں کو باضابطہ کرنے کے اقدامات کیے جائیں۔

    واضح رہے کہ فلیٹس پر قبضے کے خلاف سی ڈی اے کی اپیلیں 2011ء سے زیر التوا تھیں۔ پولیس نے 2007ء میں لال مسجد آپریشن کے لیے عارضی طور پر 200 فلیٹس لیے تھے۔

  • کیا آئی جی اتنے کمزور ہیں جو ان الفاظ سے ڈر جائیں گے؟خاتون  جج کا تحفظ کرنے کیلئے ہم یہاں موجود ہیں، چیف جسٹس

    کیا آئی جی اتنے کمزور ہیں جو ان الفاظ سے ڈر جائیں گے؟خاتون جج کا تحفظ کرنے کیلئے ہم یہاں موجود ہیں، چیف جسٹس

    اسلام آباد: چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف اخراج مقدمہ درخواست کی سماعت جاری ہے-

    باغی ٹی وی: دوران سماعت چیف جسٹس اطہرمن اللہ نے پراسیکیوٹر رضوان عباسی سے مکالمہ کیا کہ ہم نے گزشتہ سماعت پر پوچھا تھا کہ 7اے ٹی اے کیسے لگتی ہے ؟7اے ٹی اے کی سنگین دفعات کو اتنا عام نہ کریں پراسیکیوٹر نے عدالت میں موقف دیا کہ عمران خان گزشتہ روز شامل تفتیش ہوئے ہیں، چیف جسٹس سے استفسار کیا کہ عمران خان نے کیا کہا تھا جس پر دہشت گردی کی دفعات لگیں؟ –

    عمران خان کوتھپکیاں نہ ہوں تو ان سے 3 دن میں نمٹ لیں گے،مریم نواز

    پراسیکیوٹر نے کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ آئی جی شرم کرو، آئی جی اور ڈی آئی جی تمہیں نہیں چھوڑنا،عمران خان نے خاتون جج کا نام لے کر کہا تھا شرم کرو ہم آپ کے خلاف بھی ایکشن لیں گے-

    چیف جسٹس نے کہا کہ بادی النظر میں عمران خان کا بیان دہشت گردی کی دفعات میں نہیں آتا، پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ ججز اور پولیس والوں کو دھمکایا گیا ہے، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پوچھا کہ کیا آئی جی اتنے کمزور ہیں جو ان الفاظ سے ڈر جائیں گے؟آپ کو لگتا ہے کہ ایک آئی جی اتنا کمزور ہے جو ایسی تقریر کا اثر لے لیں گے اگر آئی جی کے دفتر پر حملہ ہوا ہو یا اسکو انہوں نے پکڑ لیا ہو پھر تو الگ بات ہے-

    پی ٹی آئی کا عمران خان کی گرفتاری پر اسلام آباد بند کرنے کی دھمکی

    جب وہ شخص سابق وزیراعظم ہو تو پھر اثر ہوتا ہے، پراسیکیوٹر رضوان عباسی چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اطہر من اللہ نے کہا کہ عمران خان بالآخر جا کر اسی پولیس کے سامنے شامل تفتیش ہوئے ہیں، اگر عمران خان نے اسکے بعد آئی جی کے دفتر یا گھر میں حملہ کیا ہو پھر بات ہے، دہشتگردی کے قانون کو ایسا نہ بنائیں کہ یہ عام قانون بن جائے دہشتگردی کا قانون سنگین دہشتگردوں کے لیے ہے –

    چیف جسٹس نے کہا کہ اگر عمران خان کے بیان کے بعد کوئی حملہ ہوتا تو بات اور تھی ،تقریر کے الفاظ بہت غیرمناسب ہونگے ،کوئی آئی جی اتنا کمزور نہیں ہوتا اور نہ ہے کہ وہ ان الفاظ سے ڈر جائے، زیرالتوا مقدمہ پر اثرانداز ہونے کی کوشش ہو گی لیکن یہ دہشت گردی نہیں ہے،خاتون جج کا تحفظ کرنے کیلئے ہم یہاں موجود ہیں-

    پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ جے آئی ٹی کی میٹنگ ابھی ہونی ہے پھر وہ فیصلہ کرینگے، چیف جسٹس نے پوچھا کہ جے آئی ٹی کا سربراہ کون ہے، اس عدالت نے ایک ڈائریکشن دی تھی،جے آئی ٹی کیلئے کیا مشکل تھی کہ کل بیٹھ جاتے اور آج عدالت کو آگاہ کر دیتے پراسیکیوٹر نے جواب میں کہا کہ شاید آج جے آئی ٹی کی میٹنگ ہو اور وہ اس حوالے سے کوئی فیصلہ کریں-

    الیکشن کمیشن نے فنڈنگ کیس کی سماعت 3 اکتوبر تک ملتوی کردی

  • سینیٹ الیکشن ویڈیواسکینڈل: تحریک انصاف کے رہنماء کی درخواست خارج

    سینیٹ الیکشن ویڈیواسکینڈل: تحریک انصاف کے رہنماء کی درخواست خارج

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے سینیٹ الیکشن ویڈیو اسکینڈل کے معاملے میں الیکشن کمیشن کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی رکن اسمبلی فہیم خان کی درخواست خارج کردی۔

    پی ٹی آئی رکن اسمبلی فہیم خان کی فوجداری مقدمہ درج کرنے کے حکم کے خلاف دائر درخواست پر چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے سماعت کی۔

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہر من اللّٰہ نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کر خارج کی۔
    واضح رہے کہ سینیٹ الیکشن میں علی حیدر گیلانی کی ویڈیو سامنے آئی تھی جس کے بعد الیکشن کمیشن نے علی حیدر گیلانی کےخلاف فوجداری کارروائی کا حکم دیا تھا۔

    الیکشن کمیشن نے ویڈیو بنانے والے پی ٹی آئی کے فہیم خان اور کیپٹن ریٹائرڈ جمیل کے خلاف بھی کارروائی شروع کی، اس پر فہیم خان نے اپنے خلاف کارروائی کو ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا

  • اسلام آباد بلدیاتی انتخابات ملتوی ،الیکشن کمیشن کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں  بیان

    اسلام آباد بلدیاتی انتخابات ملتوی ،الیکشن کمیشن کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں بیان

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے ن لیگ اورپیپلزپارٹی کی اسلام آباد بلدیاتی انتخابات روکنے کی درخواستیں منظور کر لیں-

    باغی ٹی وی : یونین کونسلز کی تعداد بڑھائے بغیر الیکشن روکنے کی درخواست پر سماعت ہوئی مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلزپارٹی کی اسلام آباد بلدیاتی انتخابات روکنے کی درخواستوں پر سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

    درخواست گزار طارق فضل چوہدری کی جانب سے عادل عزیز قاضی پیش ہوئے، انہوں نے موقف دیا کہ عدالت الیکشن کمیشن کو کہے کہ اسلام آباد میں یونین کونسلز کی تعداد کو بڑھایا جائے اور نئی حلقہ بندیوں کے مطابق انتخابات کا انعقاد ممکن بنایا جائے۔ جس پر الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے پر رضامندی ظاہر کردی۔

    عدالت نے الیکشن کمیشن کو ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ایک وارڈ سے دوسرے وارڈ میں ووٹ منتقلی سے متعلق بھی پٹیشنز آئی ہیں وہ بھی دیکھ لیں۔

    دوران سماعت الیکشن کمیشن نے کہا کہ پہلے نئی حلقہ بندیاں کریں گے پھر بلدیاتی انتخابات کا شیڈول دیں گے، عدالت وفاقی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کے لیے تعاون کا حکم دے-

    الیکشن کمیشن نے کہا کہ 60روزمیں نئی حلقہ بندیاں کرکے الیکشن شیڈول کا اعلان کریں گے،الیکشن کمیشن نے عدالت میں موقف اپنایا کہ حکومتیں بلدیاتی انتخابات میں رکاوٹیں ڈالتی ہیں، عدالت وفاقی حکومت کو بلدیاتی انتخابات کی ذمہ داری پوری کرنےکا حکم دے 600 وارڈز میں ہم نے حلقہ بندیاں کرنی ہیں،جس میں کم ازکم دو ماہ کا وقت درکار ہوگا –

    چیف جسٹس اسلام آبادہائیکورٹ نے ریماکرس دیئے کہ انتخابات روکنے کی درخواستیں تو غیر موثر ہوگئیں ہیں-

    عدالت نے ن لیگ اورپیپلزپارٹی کی اسلام آباد بلدیاتی انتخابات روکنے کی درخواستیں منظور کرتے ہوئے حکم دیا کہ الیکشن کمیشن 65 روز میں نئی حلقہ بندیاں کرکے الیکشن شیڈول کا اعلان کرے-

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں 50 یونین کونسل کا الیکشن شیڈول واپس لیتے ہوئے 101 یونین کونسلز بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    واضح رہے کہ ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی مقامی قیادت نے عادل عزیز قاضی ایڈووکیٹ کے ذریعے عدالت میں درخواست جمع کروائی تھی جس میں مؤقف اختیار کیاگیا تھاکہ الیکشن کمیشن کو یونین کونسلوں کی تعداد میں اضافےکےبغیر بلدیاتی انتخابات سے روکا جائے درخواست میں سیکرٹری داخلہ، وفاق کو بذریعہ وزیراعظم کے سیکرٹری اور الیکشن کمیشن کو فریق بنایا گیا تھا-

    چیف الیکشن کمشنر نے لیا نوٹس شاہ محمود کی پریس کانفرنس کا

    درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی تھی کہ وفاقی حکومت نے 21 مئی 2022ء کو اسلام آباد کی یونین کونسلوں کی تعداد بڑھانے کا نوٹی فکیشن جاری کیا، جس کے بعد یونین کونسلز کی تعداد 50 سے بڑھا کر 101 کر دی گئی۔ 20 ہزار افراد کی نمائندگی کے تناسب سے یونین کونسلز کی تعداد بڑھائی گئی۔

    درخواست میں کہا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن نے یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے کے بغیر لوکل گورنمنٹ الیکشن کے شیڈول کا اعلان کیا، جب کہ الیکشن کمیشن لوکل گورنمنٹ الیکشن سے قبل یونین کونسلوں کی تعداد بڑھانے کا پابند ہے۔ لہذا اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کو کالعدم قرار دیا جائے اور یونین کونسلوں کی تعداد میں اضافے کے بغیر لوکل گورنمنٹ الیکشن کا انعقاد روکا جائے۔

    الیکشن کمیشن نے صوبائی و قومی حلقوں کے ضمنی انتخابات میں فوج سے مدد طلب کرلی

  • تگڑا شو کرنےلگا ہوں ،بتاؤں گا نہیں،پاکستان کے لیےسب نے میرے ساتھ آنا ہے ،عمران خان

    تگڑا شو کرنےلگا ہوں ،بتاؤں گا نہیں،پاکستان کے لیےسب نے میرے ساتھ آنا ہے ،عمران خان

    اسلام آباد:چئیرمین پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی) عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازش ہوئی اور مجھے ہٹانے کی بات ہوئی ، مجھے کہا گیا کہ عدم اعتماد آئینی طور پر قبول کر لینی چاہیے تھی-

    باغی ٹی وی : اسلام باد ہائی کورٹ بار میں وکلاء سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم اور چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ بار نے ہمارے کارکنوں کو ریلیف دیا جس پر ان کے مشکورہیں، ہمارے کارکنوں پر لانگ مارچ کےدوران تشدد کیا گیا اور گرفتاریاں ہوئیں،پاکستان کی آزادی میں وکلا کا اہم کردار رہا تھا،آ ج حقیقی آزادی مہم میں بھی متحرک ہیں،پاکستان کے خلاف سازش ہوئی اورعمران خان کو ہٹانے کی بات ہوئی ، مجھے کہا گیا کہ عدم اعتماد آئینی طور پر قبول کر لینی چاہیے تھی،پاکستانی سفیر کو کہا گیا کہ عمران خان روس کیوں گیا، امریکا ناراض ہے، پھر کہا گیا کہ عمران خان کو نہ ہٹایا گیاتوپاکستان کو مشکلات کا سامنا ہوگا،کہا گیا کہ اگر عمران خان کو ہٹا دیا تو پاکستان کو معاف کر دیا جائے گا-

    سینیٹ کا اجلاس:اپوزیشن کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر ایوان سے واک آؤٹ

    عمران خان نے کہا کہ امریکی سفارت کاروں نے لوٹوں سے ملاقات شروع کردی ، امریکی سفارت کاروں کاہمارے اراکین سے ملاقات کرنے کا کیا کام تھا؟ہمارے خیبرپختونخوا کے وزیرعاطف خان سے امریکیوں نےملاقات کی ،عاطف خان سے کہا وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف تحریک عدم اعتماد آسکتی ہے،ہم جب آئے ملک کا دیوالیہ نکلا تھا،دوست ممالک مدد نہ کرتے تو ہم تباہ ہوجاتے-

    چئیرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پھر کورونا آگیا، وہ بھی مشکل سال تھا،معیشت متاثرہوئی ،کورونا میں پریشر برداشت کر کے لاک ڈاؤن نہیں کیا،کورونا میں پریشر برداشت کر کے لاک ڈاؤن نہیں کیا،30سال میں ہماری معاشی پالیسی سب سے بہتر تھی،ہمارے کسانوں کے پاس پیسہ پچھلے دو سال میں زیادہ آ گیا، امریکیوں کو جانتا ہوں، جتنا ان کے سامنے جھکیں گے وہ جوتے ماریں گے، بھارت 40 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خرید رہا ہے،بھارت 40 فیصد کم قیمت پر روس سے تیل خرید رہا ہے،آج ہم نے جب قیمت بڑھائی تو بھارت تیل کی قیمت کو کم کیا ،میں کسی بھی ملک سے اچھے تعلقات کا خواہاں ہوں ،بدقسمتی سے بھارت فاشسٹ حکومت تھی اور ہمیں تعلقات توڑنے پڑے-

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کہتا ہے الیکشن ن لیگ کی طرف سے لڑوں گا ،ضمنی انتخابات میں دھاندلی کامنصوبہ بن رہاہے،سارے ادارے جنہوں نے رول آف لا کو بچانا ہے وہ خطرے میں ہیں،تگڑا شو کرنےلگاہوں ،بتاوں گا نہیں ،شہباز شریف کے خلاف 16 ارب روپے کا کیس واضح ہے ،سال قبل شہباز شریف کے خلاف فیصلہ ہونا چاہیے تھا ،شہباز شریف خاندان پر تحریک انصاف نے کوئی کیس نہیں بنایا سب پرانے تھے –

    عمران خان نے کہا کہ پنجاب میں تماشہ لگا ہوا ہے ،الیکشن کمیشن وہاں ن لیگ کی اکثریت کو تحفظ دے رہا ہے ،دو نوں طرف ان کی حکومت کرپشن پر گئی تھی، نواز شریف پر کیسز آصف زرداری نے کیے تھے، اب سب کچھ معاف ہونے والا ہے،کفر کا نظام چل سکتا ہے ناانصافی کا نہیں چل سکتا، سویٹزر لینڈ کے پاس کوئی وسائل نہیں ہیں، وہاں 99 فیصد قانون کی حکمرانی ہے،شریفوں نے پہلا این آر او سابق صدر پرویزمشرف سے لیا –

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی نے تسلیم کیا کہ مداخلت ہوئی، مداخلت ہوئی تو کیا اس مراسلے پر تحقیقات نہیں ہونی چاہیےتھی؟پیٹرول ڈیزل کی قیمت بڑھائی گئی اس سےساری معیشت پر اثر پڑے گا، پیٹرول کی جو قیمت بڑھائی اس سے 30 فیصد مہنگائی بڑھے گی،تنخواہ دار طبقہ اس مہنگائی میں کیسے گزارا کرے گا،شہباز شریف نے احمقانہ بیانات دیئے جس کی وجہ سے مارکیٹ ڈر گئی،پاکستان کے لیےسب نے میرے ساتھ آنا ہے ،شہباز شریف کی ا سپیڈ کے بہت چرچے تھے ،شہباز شریف صبح 6 بجے اٹھ کر کام شروع کردیتا تھا لیکن ہمیں کچھ نظر نہیں آیا ،پاکستان سری لنکا جیسے حالات کی جانب بڑھ رہا ہے ،سویت یونین بڑی فوجی طاقت تھی معیشت کی کمزوری پر ٹوٹ گیا ،صاف اور شفاف الیکشن مسائل سے نکلنے کا واحد راستہ ہیں

    دوسری جانب وکلا نے شکوہ کیا کہ عمران خان دور میں ہم پر مقدمات درج ہوئے عمران خان حکومت نے اسلام آباد ہائیکورٹ بار کو گرانٹ تک نہ دی –

  • مریم نواز اورعمران خان کا آج ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونے کا امکان

    مریم نواز اورعمران خان کا آج ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونے کا امکان

    اسلام آباد:مریم نواز اورعمران خان کا آج ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہونے کا امکان ،اطلاعات کے مطابق آج موجودہ سیاست کے دو سخت ترین حریف سابق وزیراعظم عمران خان اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز اسلام آباد ہائیکورٹ آئیں گے۔ذرائع کے مطابق پاکستان کی موجودہ سیاسی تاریخ کے دو سخت ترین حریف پی ٹی آئی سربراہ اور سابق وزیراعظم عمران خان اور پاکستان مسلم لیگ ن کے نائب صدر مریم نواز آج اسلام آباد ہائیکورٹ میں آمد ہوگی۔

    رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم عمران خان بطور سیاسی جماعت کے سربراہ ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کی تقریب سے خطاب کریں گے۔دوسری جانب ن لیگی رہنما مریم نواز ایون فیلڈ ریفرنس میں بطور ملزم اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیش ہوں گی۔

    دو بڑے سیاسی رہنماؤں کی اسلام آباد ہائیکورٹ آمد کے موقع پر دونوں سیاسی جماعتوں پی ٹی آئی اور ن لیگ کے کارکنوں کے بھی مدمقابل آنے کا امکان ہے، صورتحال کے پیش نظر اسلام آباد ہائیکورٹ میں پولیس کی بھاری نفری تعینات ہوگی۔

    یاد رہے کہ سوشل میڈیا پرعوام کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ زندگی میں کبھی یہ نہیں سوچتا کہ میں ہاروں گا، میں جب بھی کوئی فیصلہ کرتا ہوں تو واپسی کا نہیں سوچتا، برے وقت سے نکلنے والا ہی چیمپئن ہوتا ہے، آپ ہارتے جب ہیں جب آپ ہار مان جاتے ہیں، میں سمجھ چکا ہوں دوبارہ موقع ملا تو کیا کیا کرنا ہوگا، جان چکا ہوں شروع میں مجھے کیا کیا بڑی اصلاحات کرنی ہیں، حکومت میں آئے تو معاشی چیلنجزاورمخلوط حکومت کے مسائل تھے، لیڈرشپ اب جو بن رہی ہے وہ انصاف سٹوڈنٹ فیڈریشن سے آئی ہے، پاکستان میں لیڈرشپ اور مینجمنٹ کا بہت بڑا خلا ہے، سیرت النبی پڑھا کرہم اپنے مستقبل کے لیڈرتیارکرسکتے ہیں۔

  • عدلیہ پرتنقید:عدالت نے اےآروائی کے بیوروچیف کو طلب کرلیا

    عدلیہ پرتنقید:عدالت نے اےآروائی کے بیوروچیف کو طلب کرلیا

    اسلام آباد :عدلیہ پرتنقید :عدالت نے اےآروائی کے بیوروچیف کو طلب کرلیا ،اطلاعات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں نجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کے سینیئر اینکر ارشد شریف کو ہراساں کرنے کے خلاف کیس کی سماعت کے حوالے سے عدالت نے اے آر وائی کے بیوروچیف کو طلب کرلیا ہے ، اور کہا ہے کہ وہ آئین کے آرٹیکل 19 اے کی کے استعمال کے حوالے سے اپنے ادارے کی پالیسی وضح کریں

    اس سے پہلے جمعے کے روز اس کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دیے کہ ’ایک بیانیہ بنا دیا گیا کہ عدالتیں کھلیں، عدالتیں کھلیں گی اور کسی کو آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ ’ارشد شریف کی پٹیشن کاغذ کا ایک ٹکڑا تھی مگر ہم نے سنا۔ آپ کہتے ہیں اس رات عدالت کیوں کھلی، کیا آپ کا چینل آئین کو عدالت سے بہتر سمجھتا ہے۔‘چیف جسٹس اطہر من اللہ نے یہ بھی کہا کہ معاملہ آئین یا کسی پسے ہوئے طبقے کا ہو تو عدالتیں رات تین بجے بھی کھلیں گی۔

    واضح رہے کہ جمعرات کو صحافی ارشد شریف کی طرف سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس اطہر من اللہ نے ایف آئی اے کو ارشد شریف سمیت کسی بھی صحافی کے خلاف کارروائی سے روکتے ہوئے ڈی جی ایف اے اور آئی جی اسلام آباد کو نوٹسز جاری کیے تھے۔

    جمعے کو دوران سماعت ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ انھوں نے ارشد شریف کے خلاف نہ تو کوئی ایکشن لیا اور نہ ہی کوئی انکوائری کی ہے جبکہ اس حوالے سے تحریری وضاحت بھی جاری کر دی گئی ہے۔’معاملہ آئین یا کسی پسے ہوئے طبقے کا ہو تو عدالتیں رات تین بجے بھی کھلیں گی‘

    دوران سماعت چیف جسٹس اطہر من اللہ نے اے آر وائی نیوز پر کاشف عباسی کے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے ارشد شریف کے وکیل فیصل چوہدری سے پوچھا کہ ’کیا آپ نے کاشف عباسی کا پروگرام دیکھا؟‘’پروگرام میں حقائق کی تصدیق کے بغیر کیا کچھ کہا گیا، انھوں نے کہا کہ عدالت رات کو کیوں کھلی؟ عدالت سے عوام کا اعتماد اٹھانے کی کوشش کی گئی۔‘

    چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ ’ایک بیانیہ بنا دیا گیا کہ عدالتیں کھلیں، عدالتیں کھلیں گی اور کسی کو آئین کی خلاف ورزی کی اجازت نہیں دیں گے۔‘

  • عمران خان و دیگر وزرا پر غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواست خارج کرنے کیخلاف اپیل مسترد

    عمران خان و دیگر وزرا پر غداری کا مقدمہ چلانے کی درخواست خارج کرنے کیخلاف اپیل مسترد

    اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان اور وزرا پر غداری کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست خارج کرنے کے خلاف اپیل بھی مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی : اسلام ہائی کورٹ کےجسٹس عامرفاروق اور جسٹس سردار اعجازا سحاق خان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے محفوظ فیصلہ سنایا۔

    جسٹس عامرفاروق اور جسٹس سردار اعجازا سحاق خان پر مشتمل دو رکنی ڈویژن بینچ نے سنگل بنچ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے غیرملکی خط کی تحقیقات کرانے سے متعلق درخواست پر سنگل بنچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل مسترد کردی۔

    پی ٹی آئی نے الیکشن کمیشن کی نئی حلقہ بندیوں کیخلاف سپریم کورٹ میں درخواست دائرکر دی

    عدالت نے انٹراکورٹ اپیل کو ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کیا عدالت نے نہ صرف عمران خان و دیگر کے نام ای سی ایل پر ڈالنے کی درخواست خارج کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا، بلکہ درخواست گزار مولوی اقبال حیدر پر ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی برقرار رکھا۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اپیل کنندہ مولوی اقبال حیدر کے دلائل سننےکے بعد درخواست کے قابل سماعت ہونے پرفیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی 34 رکنی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    اس سےقبل چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ جسٹس اطہرمن اللہ نے درخواست ایک لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ خارج کی تھیعدالت نے مبینہ خط کی تحقیقات کرنے کی درخواست بھی خارج کردی جبکہ عمران خان اورسابق وزرا کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست بھی مسترد کردی تھی –

    فیصلے میں کہا گیا تھا کہ درخواست میں منتخب سابق وزیر اعظم پر فرسودہ الزامات لگائے گئے۔ہر شہری کی ذمہ داری ہے کہ نیشنل سکیورٹی کو نہ سیاسی بنایا جائے نہ سنسنی خیز۔سفارتکاروں اوران کی کلاسیفائیڈ رپورٹس کو سیاسی تنازعوں میں گھسیٹنا قومی مفاد کو کمزور کر سکتا ہے۔

    حلف برداری کی تقریب منعقد نہ ہونے پر نو منتخب وزیراعلیٰ نے ہائیکورٹ سے رجوع کر لیا