Baaghi TV

Tag: اسمبلی

  • بلوچستان اسمبلی بھی تحلیل کردی گئی

    بلوچستان اسمبلی بھی تحلیل کردی گئی

    کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی بھی تحلیل کردی گئی-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی اور سندھ اسمبلی کے بعد بلوچستان اسمبلی بھی تحلیل کردی گئی،گورنر بلوچستان ملک عبدالولی خان کاکڑ نے وزیر اعلی بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی جانب سے بھیجی گئی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کر دیئے-

    بلوچستان اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد تمام کابینہ اور اراکین اسمبلی مشیر فارغ ہو گئے جبکہ اسمبلی کی آئینی مدت آج رات 12 بجے پوری ہورہی ہے،نئے نگراں سیٹ اپ تک میر عبدالقدوس بزنجو وزیراعلیٰ بلوچستان کے منصب پر رہیں گے جبکہ وہ اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان سے نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کے لیے اسلام آباد سے آنے کے بعد مشاورت بھی کریں گے۔

    2045 تک طبعی موت ختم، بوڑھے جوان ہو سکیں گے،جینیاتی انجینئرز کا دعویٰ

    میڈیا ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعلیٰ کے لیے چار ناموں پر مشاورت جاری ہے، نگران وزیر اعلیٰ کے لیے جمعیت علما اسلام کی جانب سے سابق رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی اور بی این پی کی جانب سے رکن صوبائی حمل کلمتی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے علی حسن زہری کے نام دیئےگئے ہیں جب کہ سابق بیوروکریٹ شبیر مینگل کا نام بھی زیر غور ہے نگران وزیر اعلیٰ کا نام فائنل ہونے کے بعد 14 رکنی صوبائی نگران کابینہ تشکیل دیئے جانے کا امکان ہے۔

    شہبازشریف نے وزیراعظم ہاؤس خالی کردیا

  • وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    وزیراعظم نے اسمبلی تحلیل کرنے کیلئے سمری صدر کو بھیج دی

    صدر مملکت عارف علوی نے وزیراعظم شہباز شریف کے مشورہ پر قومی اسمبلی توڑ دی ہے جس کے ساتھ ہی قومی اسمبلی، وفاقی کابینہ اور حکومت تحلیل ہوگئی ہے۔ جبکہ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی تحلیل کرنےکی سمری پر دستخط کردیے ہیں اور وزیراعظم نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری صدر کو بھیجی تھی۔ جس پر صدر آئین کے آرٹیکل 58 کے تحت وزیراعظم کی ایڈوائس پر قومی اسمبلی تحلیل کردی۔اور ان کے دستخط کرتے ہی اسمبلی ٹوٹ گئی.

    اگر ایسا نہ ہوتا تو یعنی صدر کے دستخط نہ ہونے کی صورت میں 48 گھنٹوں میں ازخود اسمبلی تحلیل ہوجائے گی، اسمبلی ٹوٹتے ہی کابینہ تحلیل ہوجائے گی اور نگران وزیراعظم کی تقرری تک وزیراعظم شہباز شریف عہدے پر برقرار رہیں گے، قومی اسمبلی تحلیل کے بعد آئین کےآرٹیکل224 اے کے تحت نگران وزیراعظم کا تقرر ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر نگران وزیراعظم کے لیے مشاورت کریں گے اور اسمبلی تحلیل ہونےکے بعدنگران وزیراعظم کا نام فائنل کرنےکےلیے 3 دن کا وقت ہوگا۔

    جبکہ ان تین دن میں نام فائنل نہ ہونے پر معاملہ پارلیمانی کمیٹی کے پاس چلا جائے گا اور وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اپنے اپنے نام اسپیکر کی پارلیمانی کمیٹی کوبھیجیں گے اور پارلیمانی کمیٹی تین دن کے اندر نگران وزیراعظم کا نام فائنل کرے گی تاہم پارلیمانی کمیٹی کے نگران وزیراعظم کا نام فائنل نہ کرنے پر معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس بھی جاسکتا ہے اور الیکشن کمیشن دیے گئے ناموں میں سے دو دن کے اندر نگران وزیراعظم کا اعلان کرےگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران حکومت کو ہر صورت مہنگائی کو قابو کرنا ہو گا ، راجہ ریاض
    نو مئی یوم سیاہ کے طورپر، آج رات اسمبلی تحلیل کی سمری بھیجوں گا، وزیراعظم
    ایشیا کپ اورافغانستان سیریز کیلئے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان
    نواز شریف بہت جلد واپس آرہے، مریم نواز شریف نے عندیہ دے دیا
    روپے کی قدر میں بحالی
    واضح رہے کہ اسمبلی تحلیل ہونے پر الیکشن کمیشن آرٹیکل224 ون کے تحت انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرے گا اور مدت پورے ہونے سے قبل اسمبلی توڑے جانے پرعام انتخابات 90 روز میں کرانا ہوں گے۔ جبکہ عام انتخابات کےبعدالیکشن کمیشن آئین کے تحت14دن میں نتائج کا اعلان کرےگا۔

  • نگران وزیراعظم،جلیل عباس جیلانی سب سے مضبوط امیدوار

    نگران وزیراعظم،جلیل عباس جیلانی سب سے مضبوط امیدوار

    جلیل عباسی جیلانی نگران وزیراعظم کے لیے مضبوط امیدوار

    نگراں وزیراعظم کے امیدوار جلیل عباس جیلانی وزیراعظم ہاوس پہنچ گئے ہیں جلیل عباس جیلانی کا تعلق ملتان سے ہے۔ 2013 سے 2017 تک امریکہ میں پاکستان کے ایمبیسیڈر کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔ قانون میں بی اے اوردفاعی امورمیں ماسٹر کی ڈگری رکھنے والے جلیل عباس جیلانی امریکا اوربھارت میں سفیر کی ذمےداری نبھا چکے ہیں وہ پیشہ ور سفارت کار ہیں بطورسیکریٹری خارجہ تعیناتی سے پہلے بیلجیئم، لکسمبرگ اوریورپی یونین میں پاکستان کے سفیر رہے اور سفارتی ذمے داریوں کے دوران برسلز میں نیٹو ہیڈکوارٹرکے ساتھ بھی مسلسل رابطےمیں رہے،وہ جدہ اور لندن میں بھی تعینات رہے جبکہ کینبرا میں ہائی کمشنر کے عہدے پر بھی فائزرہ چکے ہیں

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پیپلزپارٹی نے سابق سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی اور سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی کا نام بھی دیا ہے، تاہم آج اپوزیشن لیڈر اور وزیراعظم کے مابین ملاقات اور مشاورت نہ ہو سکی، آج ملاقات ہونی تھی جو ملتوی کر دی گئی ہے،راجہ ریاض کا کہنا تھا کہ اہم مصروفیت ہے اس وجہ سے آج نہیں مل سکتا کیئر ٹیکر وزیراعظم کا نام وزیراعظم سے ملاقات کر کے پتا چلے گا، وزیرِ اعظم کسی کا بھی نام دے سکتے ہیں،میں کچھ نہیں کہہ سکتا،

    راجہ ریاض سے کل ملوں گا ،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ اور قومی اسمبلی کے آخری اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیراعظم کے لیے اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض سے کل ملوں گا آئین کی رو سے ہمارے پاس مشاورت کے لیے 3 دن ہیں

    آج حکومت کا ممکنہ آخری دن ہے وزارت پارلیمانی امور نے قومی اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری وزیراعظم کو بھجوا دی ہے سمری پر وزیراعظم تاریخ لکھیں گے اور صدر کو بھیج دیں گے ، صدر 48 گھنٹوں میں قومی اسمبلی تحلیل کی سمری پر دستخط کرنے کے پابند ہیں،

     نگران سیٹ اپ کی تشکیل پراتحادی جماعتوں کا اجلاس

    عمران خان کی مشکلات میں کمی نہ ہو سکی، ایک اور جے آئی ٹی نے 21 جولائی کو طلب کر لیا۔
    عراق؛ سویڈن سفارتخانہ نذرآتش، قرآن کی بے حرمتی پر سفیر کو نکلنے کا حکم
    عالمگیر ترین کی موت بارے فرانزک رپورٹ جاری

  • بلوچستان اسمبلی الوداعی اجلاس: صوبے کی آبادی کم ظاہر کرنے پر مذمتی قرارداد پیش

    بلوچستان اسمبلی الوداعی اجلاس: صوبے کی آبادی کم ظاہر کرنے پر مذمتی قرارداد پیش

    کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے الوداعی اجلاس میں مردم شماری میں صوبے کی آبادی کم ظاہر کرنے پر مذمتی قرارداد پیش کردی گئی۔

    باغی ٹی وی : اسپیکر جان جمالی کی صدارت میں بلوچستان اسمبلی کا الوداعی اجلاس جاری ہے، اجلاس میں ہزارہ ایکسپریس حادثے اور دہشت گردی میں جاں بحق ہونے والے افراد کے درجات کی بلندی اور مغفرت کی دعا کی گئی،الوداعی اجلاس میں بلوچستان کی آبادی مردم شماری میں کم ظاہر کرنے پرمذمتی قرارداد بھی پیش کی گئی، قرارداد اسد بلوچ نے پیش کی، جس میں کہا گیا ہے کہ ایوان مشترکہ مفادات کونسل کا فیصلہ مسترد کرتا ہے۔

    رکن صوبائی اسمبلی اسد بلوچ کا کہنا تھا کہ بلوچستان کی آبادی کو 2 کروڑ سے زائد برقرار رکھا جائے دوسری جانب نصراللہ زہری نے اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ مجھے بتائے بغیر ہی قرارداد میں میرا نام ڈال دیا گیا، قرارداد ٹھیک کر کے دوبارہ ایوان میں پیش کی جائے۔ نصراللہ زیری نے احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کردیا-

    کیچ میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکا،چیئرمین یونین کونسل بالگتر سمیت 7 افراد جاں بحق

    واضح رہے کہ شترکہ مفادات کونسل نے ڈیجیٹل مردم شماری کی متفقہ طور پر دی گئی منظوری کے مطابق ملکی آبادی 24 کروڑ 10 لاکھ ہوگئی ہےبریفنگ میں اجلاس کو بتایا گیا کہ نئی ڈیجیٹل مردم شماری کے تحت آبادی کی سالانہ گروتھ 2.55 فیصد ہے، سب سے زیادہ گروتھ بلوچستان میں ہے جبکہ سب سے کم گروتھ خیبرپختونخوا میں رجسٹر ہوئی۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق پنجاب 12 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ سب سے بڑا صوبہ ہے، جبکہ سندھ میں 5 کروڑ سے زائد، کے پی 3 کروڑ سے زائد اور بلوچستان 2 کروڑ سے زائد آبادی والے صوبے بن گئے-

    بلوچستان میں بارشوں کے باعث 332 مکانات تباہ،پنجاب میں 7 اگست تک بارشیں متوقع

  • خواجہ آصف نے ڈاکٹر زرقا کے کلینکس کو ڈینٹنگ پینٹنگ کی دکان کہہ ڈالا

    خواجہ آصف نے ڈاکٹر زرقا کے کلینکس کو ڈینٹنگ پینٹنگ کی دکان کہہ ڈالا

    وزیردفاع خواجہ آصف اکثر اسمبلی کے فلور پر پی ٹی ائی خواتین کے حوالے سے کچھ بولتے ہوئے پائے جاتے ہے ،اس دفعہ بھی خواجہ آصف کسی سے پیچھے نہیں رہے،کل کے تقریر کے بعد مسلسل خبروں میں ان ہیں ،گزشتہ روز محکمہ صحت نے پی ٹی آئی کی سینیٹر زرقا تیمور کے دو کلینک سیل کردیئے، اور پولیس نے ایڈمن افسر خرم کو کار سرکار میں مداخلت پر گرفتار کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے، جبکہ سینیٹر زرقا تیمور کا کہنا ہے کہ یہ سیاسی انتقام کی کڑی ہے، جو میری جماعت کے لوگ برداشت کررہے ہیں۔پی ٹی آئی کی سینیٹر زرقا تیمور کے کلینک سیل کیے جانے کا الزام بھی خواجہ آصف پر آرہا ہے۔جس پر وزیردفاع خواجہ آصف نے ان پر لگنے والے الزامات کا جواب دیا ہے،ٹوئٹر پیغام میں کہتے ہیں دو عدد ڈینٹنگ پینٹنگ کی ورکشاپ کہیں لاہور میں بند ہوئی ہیں،سنا ہے پی ٹی آئی کی کسی خاتون سینیٹرکی ملکیت ہیں،یہ الزام بھی ان پر لگایا جا رہا ہے۔ ان کا اس بندش سے کوئی تعلق نہیں۔لہذا ان پر بے جا الزام تراشی سے گریز کیا جائے،

  • بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج سہ پہر 4 بجے ہوگا

    بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج سہ پہر 4 بجے ہوگا

    بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا-

    باغی ٹی وی: بلوچستان اسمبلی کا بجٹ اجلاس آج سہ پہر 4 بجے ہوگا جس میں صوبائی وزیرخزانہ زمرک خان اچکزئی بجٹ پیش کریں گے بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حجم 700 ارب روپے سے زائد ہونےکا امکان ہے، آئندہ بجٹ میں صحت کارڈ کے لیے 5 ارب 80 کروڑ روپے مختص کیےجانے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

    ذرائع کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں ادویات کی فراہمی کےلیے 2 ارب 70کروڑ روپے رکھے ہیں اور بلوچستان ایجوکیشن انڈوومنٹ فنڈ کے لیے 2 ارب روپے فوڈ سکیورٹی کے لیے ایک ارب اور پی پی ایچ آئی کے لیے 75 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے پنشن فنڈ کے لیے 2 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں، عوامی انڈوومنٹ فنڈ کے لیے ایک ارب روپے جبکہ لوگوں کو ہنرمند بنانے کے پروگرام کے لیے 2 ارب روپے رکھے جائیں گے۔

    پنجاب کی نگران حکومت آج بجٹ پیش کرے گی

    بلوچستان کو قابل تقسیم محاصل سے 45 ارب سے زائد آمدنی حاصل ہونے کا امکان ہےصوبے کو براہ راست ٹرانسفر سے 20 ارب 6 کروڑ روپے سے زائد گیس رئیلٹی، ڈیولپمنٹ سرچارج کی مد میں بلوچستان کو16 ارب 52 کروڑ روپے سے زائد جبکہ قدرتی گیس پر ایکسائز ڈیوٹی سے 3 ارب 38 کروڑروپےکی آمدنی متوقع ہے۔

    خیبر پختونحوا، پنجاب اور کشمیر میں آندھی اور بارش کا امکان

    دوسری جانب محکمہ خزانہ پنجاب کے ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت 1368 ارب روپے سے زائد کا مجموعی بجٹ پیش کرے گی 4 ماہ کے بجٹ میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 426 ارب 87 کروڑ روپے اور غیرترقیاتی منصوبوں کے لیے 941 ارب 34 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں جوائنٹ پریروٹیزکمیٹی نے بجٹ کےاعداد و شمارکی منظوری دے دی ہے اور نگران کابینہ آج اجلاس میں 4 ماہ کے بجٹ کی منظوری دے گی۔

    یونان میں عوام کا تارکینِ وطن کے خلاف پالیسیوں پر احتجاج

  • آئین کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوں گے؟ چیف جسٹس

    آئین کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوں گے؟ چیف جسٹس

    ریویو آف ججمنٹس ایکٹ کیس اور پنجاب انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کی نظر ثانی درخواستوں کا معاملہ ،سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی

    چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی ،جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر بھی بینچ میں شامل تھے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس اور ریویو ایکٹ ساتھ سنتے ہیں، عدالت نے پی ٹی آئی وکیل علی ظفر کو روسٹرم پر بلا لیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے علی ظفر سے استفسارکیا کہ سپریم کورٹ نظر ثانی نئے قانون پر آپ کا کیا موقف ہے ؟علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کے نظر ثانی پر نیا قانون آئین سے متصادم اور پریکٹس اینڈ پروسیجر قانون کا تسلسل ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے پاس کچھ درخواستیں آئی ہیں، ریویو ایکٹ کے معاملے کو کسی اسٹیج پر دیکھنا ہی ہے،اٹارنی جنرل کو نوٹس کر دیتے ہیں، ریویو ایکٹ پر نوٹس کے بعد انتخابات کیس ایکٹ کے تحت بنچ سنے گا،

    بیرسٹر علی ظفرنے عدالت میں کہا کہ عدالت پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس کا فیصلہ ریویو ایکٹ کیس کے فیصلے تک روک سکتی ہے، پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس میں دلائل تقریبا مکمل ہو چکے ہیں اسلیے کیس مکمل کر لینا چاہئے، عدالت نے کہا کہ اگر ریویو ایکٹ ہم پر لاگو ہوتا ہے تو الیکشن کمیشن کے وکیل کو لارجر بنچ میں دوبارہ سے دلائل کا آغاز کرنا ہو گا .عدالت کیسے پنجاب انتخابات کیس سنے اگر سپریم کورٹ ریویو ایکٹ نافذ ہو چکا ہے؟ آپ بتائیں کہ کیسے ہم پر سپریم کورٹ ریویو ایکٹ پنجاب انتخابات نظر ثانی کیس میں لاگو نہیں ہوتا؟ چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب چاہتے ہیں نظرثانی کیس کا فیصلہ ہو، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ کیس کی سماعت ملتوی نہ کرے، نئے قانون کی شق 5 کا اطلاق پنجاب الیکشن کیس پر نہیں ہوتا ہے، مجھے امید ہے عدالت دونوں قوانین کو کالعدم قرار دے گی

    جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاہتے ہیں پنجاب الیکشن کیس پرانے قانون کے تحت سنا جائے،وکیل علی ظفر نے کہاکہ جی میں یہی کہنا چاہتا ہوں کیس پرانے قانون کے تحت سنا جائے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سب چاہتے ہیں کہ پنجاب انتخابات نظرثانی کیس کا فیصلہ ہو الیکشن کمیشن کے وکیل نے یہ دلیل دی کہ ان کے پاس وسیع تراختیارات ہیں اپیل کی بھی کچھ حدود ہوتی ہیں پنجاب انتخابات نظرثانی کیس نیا نہیں اس پر پہلے بحث ہوچکی الیکشن کمیشن کے وکیل کے دلائل نظرثانی کا دائرہ کار بڑھانے پر تھے انتخابات نظرثانی کیس لارجر بینچ میں جاتا ہے تو الیکشن کمیشن کے وکیل دلائل وہیں سے شروع کرسکتے ہیں انتخابات کا معاملہ قومی مسئلہ ہے 14 مئی کے فیصلے پرعملدرآمد ممکن نہیں مگر یہ فیصلہ تاریخ بن چکا عدالتی فیصلہ تاریخ میں رہے گا کہ 90 روز میں انتخابات لازمی ہیں دیکھنا تو یہ تھا کہ کیا انتخابات کے لیے 90 روز بڑھائے جا سکتے ہیں کیا 9 مئی کے واقعات کے بعد حالات وہ ہیں جو آئین میں انتخابات میں التوا کے لیے درج ہیں؟ ہر چیز تشدد اور زورزبردستی سے نہیں ہوسکتی، کیا نو مئی کے واقعات کے بعد 8 اکتوبر کو الیکشن ہوں گے؟ الیکشن کمیشن کے وکیل اس سوال کا جواب نہیں دے سکے، کیا آئینی احکامات کو پس پشت ڈالا جا سکتا ہے؟ آئین کی خلاف ورزی کے نتائج کیا ہوں گے؟ آئین پاکستان کی ایک خوبصورت دستاویز ہے،

    علی ظفر نے کہا کہ 14 مئی کی رات 12 بج کر ایک منٹ پر آئین مر چکا ہے آئین کی وفات کی دو وجوہات ہیں،ایک وجہ ہے کہ 90 روز میں انتخابات کے قانون کو فالو نہیں کیا گیا،دوسری وجہ ہے کہ انتخابات کروانے کے سپریم کورٹ کے واضح حکم پر عمل نہیں کیا گیا دو صوبے جمہوریت اور عوامی نمائندوں سے محروم ہیں، کروڑوں لوگوں کا کوئی منتخب نمائندہ نہیں، مجھے لگتا ہے آئین پاکستان کا قتل ہوچکا ہے، حکومت دو تین اور تین چار کا کھیل کھیلتی رہی، ہر گزرتا دن آئین کے قتل کی یاد دلاتا ہے،اس وقت ملک کے دو صوبے جمہوریت،اسمبلی اور عوامی نمائندگی کے بغیر ہیں،اس وقت آئین پر کوئی عمل نہیں ہے ،وزیراعظم ، چیف جسٹس پاکستان سمیت سب نے آئین کی پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے،الیکشن کمیشن کے وکیل جو بھی دلائل دیں اس سے حقیقت تبدیل نہیں ہوگی، جب ریویو ایکٹ پاس ہوا تو میں نے سینیٹ میں کہا کہ کیسے آئین سے متصادم قانون بنا رہے ہیں؟ سینیٹ سے 5 منٹ میں یہ ریویو ایکٹ پاس ہوا، بحث بھی نہیں ہوئی، عدلیہ کی آزادی سے متعلق قوانین صرف آئینی ترمیم سے بنائے جاسکتے ہیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یعنی آپ کے خیال میں حکومت نے آرٹیکل 184 تین میں اپیل کا حق دیا جو خلاف آئین ہے،علی ظفر نے کہا کہ جو نکات مرکزی کیس میں نہیں اٹھائے گئے وہ نظر ثانی میں نہیں لائے جا سکتے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون میں آرٹیکل 184 تین سے متعلق اچھی ترامیم ہیں، صرف ایک غلطی انہوں نے یہ کی کہ آرٹیکل 184 تین پر نظر ثانی کو اپیل قرار دے دیا،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک بات اچھی ہوئی کہ حکومت اور اداروں نے کہا عدالت میں ہی دلائل دیں گے جو قانونی ہیں، ورنہ یہ تو عدالت کے دروازے کے باہر احتجاج کر رہے تھے، اس احتجاج کا کیا مقصد تھا؟
    انصاف کی فراہمی تو مولا کریم کا کام ہے، آپ یہ کہ رہے ہیں کہ اپیل کو نئے قانون میں نیا نام دیا گیا؟ علی ظفر نے کہا کہ نظر ثانی اور اپیل دونوں قانون میں الگ الگ چیزیں، آئن کے برخلاف جا کر ایک قانون میں رویو کو اپیل بنا دیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس قانون کو محدود کر دیا گیا ہے 184(3) پر، 14مئی کو انتخابات کا فیصلہ کو اب واپس لانا ممکن نہیں انتخابات تو نہیں ہوئے لیکن ہم نے اصول طے کردیے کن حالات میں انتخابات ملتوی ہوسکتے ہیں اور کن میں نہیں

    سپریم کورٹ نے انتخابات کیس کی سماعت 13 جون تک ملتوی کردی ،عدالت نے وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کردیا ،سپریم کورٹ نے انتخابات کیس اور نئے قانون کیخلاف درخواستیں ایک ساتھ سننے کا فیصلہ کیا،عدالت نے اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کردیا ،عدالت نے صدر مملکت کو بذریعہ پرنسپل سیکر ٹری نوٹس جاری کر دیا،وزارت پارلیمانی امور اور سیکرٹری سینٹ کو نوٹس جاری کر دیا گیا، عدالت نے کیس کی مزید سماعت منگل تک ملتوی کردی

    عابد زبیری نے مبینہ آڈیو لیک کمیشن طلبی کا نوٹس چیلنج کردیا

    آڈیو لیکس جوڈیشل کمیشن نے کارروائی پبلک کرنے کا اعلان کر دیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عدالتی نظرثانی ایکٹ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا

  • پی ٹی آئی چھوڑنے والے رہنماؤں کی فہرست

    پی ٹی آئی چھوڑنے والے رہنماؤں کی فہرست

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں ہنگامہ آرائی ہوئی، جلاؤ گھیراؤ ہوا، فوجی تنصیبات کو منصوبہ بندی کے تحت نشانہ بنایا گیا جس کے بعد ادارے حرکت میں آئے اور گرفتاریاں شروع کیں

    پنجاب سمیت تمام صوبوں میں مقدمے درج ہوئے اور فوجی تنصیبات، سول املاک پر حملہ کرنے والوں، جلاؤ گھیراؤ کرنیوالوں کے خلاف کاروائی ہوئی، شرپسند عناصر کو گرفتار کیا گیا، تحقیقات شروع ہوئیں تو پتہ چلا کہ اسکے پیچھے عمران خان اور پی ٹی آئی کی قیادت ہے،شرپسند عناصر کے پی ٹی آئی رہنماؤں سے رابطے تھے ، فون کال کا بھی ریکارڈ سامنے آیا ہے، حملوں کے بعد آڈیو بھی لیک ہوئیں جو اس بات کی گواہی دے رہی ہیں کہ منصوبہ بندی کی گئی تھی، ویڈیو بھی سامنے آئیں جس میں تحریک انصاف کی خواتین اشتعال دلا رہی تھیں،اس دوران ملکی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت پاکستان نے کئی روز تک انٹرنیٹ معطل رکھا۔

    بعد ازاں حکومت نے 9 مئی کو یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے شرپسندوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جس میں آرمی ایکٹ کے تحت مقدمات چلانے کا فیصلہ کیا گیا نو مئی کے بعد سے عمران خان کے کئی قریبی ساتھیوں سمیت کئی ارکان پارٹی سے علیحدگی کا اعلان کرچکے ہیں ،اب تک چاروں صوبو سے عمران خان کا ساتھ چھوڑنے والے اہم پارٹی رہنماؤں اور سابق ارکان اسمبلی کی فہرست دی جا رہی ہے، ابھی عمران خان کے کئی قریبی ساتھی اور دیگر لوگ بھی پی ٹی آئی چھوڑنے والے ہیں، آنے والے ایک دو دنوں میں خبریں سامنے آئیں گی

    پنجاب

    سینیئر نائب صدر فواد چوہدری

    سینیئر نائب صدر شیریں مزاری

    سابق صوبائی وزیر فیاض الحسن شوہان

    سابق ایم پی اے عبد الرزاق خان نیازی

    سابق ایم پی اے مخدوم افتخار الحسن گیلانی

    سابق ایم پی اے میاں جلیل احمد شرقپوری

    سابق ایم این اے خواجہ قطب فرید کوریجہ

    بانی رکن عامر محمود کیانی

    چوہدری وجاہت حسین

    سابق وفاقی وزیر ملک امین اسلم

    پی ٹی آئی مغربی پنجاب کے صدر فیض اللہ کموکا

    پی ٹی آئی کے سابق مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل اسلام آباد ڈاکٹر محمد امجد

    سابق ایم پی اے جلیل شرقپوری

    سابق ایم پی اے سید سعید الحسن

    سابق ایم پی اے مخدوم سید افتخار حسن گیلانی

    سابق ایم پی اے سلیم اختر لابر

    ایم این اے چوہدری حسین الٰہی

    سابق ایم این اے حیدر علی

    ٹکٹ ہولڈر (PP-247) چوہدری احسان الحق

    ٹکٹ ہولڈر (PP-248) ڈاکٹر محمد افضل

    سابق ایم پی اے ظہیرالدین خان علی زئی

    سابق ایم پی اے عون ڈوگر

    سابق ایم پی اے عبدالحئی دستی

    سابق ایم پی اے ملک مجتبیٰ نیاز گشکوری

    سابق ایم پی اے علمدار حسین قریشی

    سابق ایم پی اے سجاد حسین چینہ

    سابق ایم پی اے سردار قیصر عباس خان مگسی

    سابق ایم پی اے اشرف رند

    سابق ایم پی اے جاوید انصاری

    خیبر پختونخوا

    سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر ہشام انعام اللہ ملک

    کے پی حکومت کے سابق ترجمان اجمل وزیر

    ایم این اے عثمان ترکئی

    ایم این اے ملک جواد حسین

    کے پی کے سابق وزیر محمد اقبال وزیر

    سابق ایم پی اے نادیہ شیر

    ضلعی رہنما ملک قیوم حسام

    سندھ

    ایم پی اے بلال غفار

    ایم این اے جے پرکاش

    ایم پی اے عمر عمری

    پی ٹی آئی سندھ کے نائب صدر محمود مولوی

    پی ٹی آئی کراچی کے صدر آفتاب صدیقی

    ایم پی اے سید ذوالفقار علی شاہ

    ایم پی اے سنجے گنگوانی

    ایم پی اے ڈاکٹر عمران شاہ

    ضلعی صدر خیرپور سید غلام شاہ

    بلوچستان

    سابق صوبائی وزیر مبین خلجی

  • کویت کے ولی عہد کا قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اعلان،الیکشن کرانے کا فیصلہ

    کویت کے ولی عہد کا قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اعلان،الیکشن کرانے کا فیصلہ

    پیر کو کویت کے ولی عہد شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح نے 2020 کی قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا اعلان کردیا۔ اس اسمبلی کو مارچ میں آئینی عدالت کے فیصلے کے ذریعے ایک آئینی حل کے طور پر بحال کیا گیا تھا۔ اس بحالی کے لیے آئین کے آرٹیکل 107 کا سہارا لیا گیا تھا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبررساں ادارے "اے پی” کے مطابق شیخ مشعل ال احمد الجابر نےیہ اعلان پیرکو قوم سےخطاب میں کیاجس میں انہوں نے اس فیصلے کو کویتی عوام کی مرضی قرار دیا۔یہ بات کویت کے ولی عہد نے کویت کے امیر شیخ نواف الاحمد الجابر الصباح کی جانب سے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے بتائی ۔

    سعودی عرب کے ساتھ معمول کے تعلقات اور امن چاہتے ہیں،اسرائیلی وزیراعظم

    شیخ مشعل نے کویتی قانون کا حوالہ دیا جس میں اس کے امیر کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے کی اجازت دی گئی تھی، حالانکہ وہ ملک کے 85 سالہ حکمران شیخ نواف الاحمد الصباح کی جگہ تقریر کر رہے تھے۔

    کویت کے ولی عہد نے خطاب میں کہا کہ ہمیں جو ذمہ داری سونپی گئی ہےاس کی بنیاد پرہم ریاستی اداروں کے اقدامات پردلچسپی سے عمل کرتے ہیں اور ہم رہنمائی اور مشورے قبول کرتے اور رہنمائی فراہم کرتےہیں تاہم ان دنوں یہ بات ہمیں تکلیف دیتی ہے کہ شہریوں کو تکلیف ہو رہی ہے۔ سیاسی منظر نامہ اضطراب کا احساسات لیے ہوئے ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آرہی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ سیاسی منظر نامے کے اثرات سے نکلنے کے لیے ہمیں آئین کی طرف رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کی طرف جانے اور ان کی خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔ ہم نے عوام کی مرضی سے حکمرانی کو مضبوط کرنے ریاست کے وقار کا تحفظ کرنے کو اختیار کیا ہے۔ آئین سے تجاوز نہ کرنے کو اختیار کیا ہے۔

    ایرانی صدر کی سعودی فرمانروا کو ایران کے دورے کی دعوت

    ولی عہد نے خطاب میں کہا کہ مارچ میں، کویت کی آئینی عدالت نے پارلیمنٹ کے لیے 2022 کے انتخابات کو مسترد کر دیا، اس کے حکم کے لیے 2020 کی پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کے حکم نامے میں "تضادات” کا حوالہ دیا کہا کہ مذکورہ بالا تمام چیزوں کو ترتیب دینے اور آئین کو مدنظر رکھتے ہوئے اور عوامی مرضی کا احترام کرتے ہوئے ہم نے 2020 کی قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے جسے آئینی عدالت کے حکم سے بحال کیا گیا تھا جو ایک آئینی حل پر مبنی تھا۔

    کویت کے ولی عہد نے خطاب میں کہا کہ ہم آنے والے مہینوں میں عام انتخابات کی بھی اپیل کر رہے ہیں واضح رہے مارچ میں آئینی عدالت نے 2022 کے قومی اسمبلی کے انتخابات کو کالعدم قرار دینے اور 2020 میں منتخب پارلیمنٹ کو بحال کرنے کا فیصلہ سنایا تھا۔

    یہ فوری طور پر واضح نہیں ہوسکا کہ آیا یہ حکم پیر کو فوری طور پر نافذ العمل ہوا، حالانکہ تجزیہ کاروں کو توقع تھی کہ پارلیمنٹ تحلیل ہوجائے گی۔

    تیونس نے آئی ایم ایف کے قرضوں کو مسترد کر دیا، برکس میں شامل ہونے …

    کویت میں خلیجی عرب ریاستوں میں سب سے آزاد اور فعال اسمبلی موجود ہے، لیکن سیاسی طاقت اب بھی زیادہ تر حکمراں الصباح خاندان کے ہاتھ میں مرکوز ہے، جو وزیراعظم اور کابینہ کا تقرر کرتا ہےاور کسی بھی وقت اسمبلی کوتحلیل کر سکتا ہےدریں اثنا، سیاسی جھگڑوں نے ملک کی معیشت کو متاثر کیا ہے، اس نے کویت کو قرض لینے کی اجازت دینے والے قانون کو منظور کرنے سے روک دیا ہے۔

    کویت، جس کی سرحد سعودی عرب اور عراق سے ملتی ہے، دنیا کا چھٹا سب سے بڑا معروف تیل کے ذخائر رکھتا ہے اور وہاں ہزاروں امریکی فوجی موجود ہیں۔

    امر یکی سپریم کورٹ کے جج بند ریئل اسٹیٹ فرم سے سالانہ ہزاروں ڈالر لیتے …

  • آزاد کشمیر،کون بنے گا نیا وزیراعظم؟ اسمبلی اجلاس طلب

    آزاد کشمیر،کون بنے گا نیا وزیراعظم؟ اسمبلی اجلاس طلب

    مظفرآباد، آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس آج دو بجے ہو گا

    قانون ساز اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر قانون ساز اسمبلی انوارالحق کریں گے ،آج ہی نئے قائد ایوان کا انتخاب متوقع ہے،سیکرٹری قانون ساز ابلی نئے قائد ایوان کے انتخاب کا شیڈول جاری کریں گے اپوزیشن اپنا قائد ایوان لانے کے لیے پرعزم ہے،تحریک انصاف اپنی پارٹی کی وزارت بچانے کے لیے پرعزم ہے کسی پارٹی نے اپنے امید وار کا نام اب تک سامنے نہیں لایا گیا ،تحریک انصاف کے معاملات دیکھنے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی اور سابق وزیراعظم دفاع پرویز خٹک گزشتہ رات مظفرآباد موجود ہیں

    ایوان میں ارکان کی تعداد 52 ہے،جن میں 32 حکومتی اتحاد اور 20 اپوزیشن کے ارکان ہیں۔ سادہ اکثریت کے لیے 27 ارکان کی حمایت درکار ہوگی، متحدہ اپوزیشن اپنا وزیراعظم لانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہے نئے قائد ایوان کیلئے جوڑ توڑ کا سلسلہ شروع ہو گیا آزادکشمیر قانون ساز اسمبلی میں تینوں اتحادی جماعتوں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ ن اور جموں کشمیر پیپلز پارٹی کو اپنا قائد ایوان بنانے کیلئے 7 مزید نشستوں کی ضرورت ہے کاغذات نامزدگی منظور ہونے کے بعد ایوان میں اوپن ووٹنگ ہوگی کامیاب اور ناکام ہونیوالے امیدوار کا اعلان سپیکر اسمبلی کریں گے

    آزاد جموں و کشمیر میں عدالتی فیصلے کے بعد حکومت سازی کا معاملہ ،پاکستان تحریک انصاف نے آزاد جموں و کشمیر میں ایک مرتبہ پھر حکومت سازی کیلئے تیاریاں مکمل کرلیں مرکزی سیکرٹری جنرل اسد عمر نے آزاد جموں و کشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف بلحاظ نمائندگی آزاد جموں و کشمیر کی سب سے بڑی جماعت ہے، عدالتی فیصلے کے بعد بھی حکومت انشاءاللہ تحریک انصاف ہی بنائے گی،آزاد جموں و کشمیر میں حکومت سازی کے حوالے سے اہم امور پر مشاورتی عمل مکمل کرلیا گیا ہے پارلیمانی پارٹی سے جامع مشاورت اور حکمتِ عملی کی تیاری کے حوالے سے پرویز خٹک مظفر آباد میں موجود ہیں، آزاد جموں و کشمیر کی وزارتِ عظمیٰ کیلئے چیئرمین عمران خان کی حتمی منظوری سے جلد امیدوار کا اعلان کریں گے آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال کو سازشی تھیوریوں سے جوڑنے والوں کو یہاں بھی شدید مایوسی ہی کا سامنا کرنا ہوگاتحریک انصاف ہی حکومت بنائے گی، اور آزاد جموں و کشمیر کے عوام کی فلاح و ترقی کا ایجنڈا آگے بڑھائے گی

    قبل ازیں مظفر آباد ہائی کورٹ نے سردار تنویر الیاس کو عہدے سے ہٹا دیا۔ ہائی کورٹ کے فل کورٹ نے وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر سردار تنویر الیاس کو ڈس کوالیفائی کردیا ،سردار تنویر الیاس کو توہین عدالت پر نااہل قرار دیا گیا،۔ ہائی کورٹ نے توہین عدالت کیس میں ان کی معافی کی درخواست قبول نہیں کی ، سردار تنویر الیاس کو عدالت برخاست ہونے تک سزا سنائی گئی،عدالت نے تنویر الیاس کو کسی بھی پبلک عہدے کے لیے نا اہل قرار دیا عدالت نے نئے وزیراعظم آزاد کشمیر کے انتخاب کے لیے چیف الیکشن کمشنر کو بھی حکم جاری کردیا

    سردار تنویر الیاس کی نااہلی ، غفلت ، غیر سنجیدگی اور ناتجربہ کاری کھل کر سامنے آگئی 

    عمران خان کا مظفر آباد جلسہ،وزیراعظم آزاد کشمیر کی کرسی خطرے میں

    ،وزیر اعظم آزاد کشمیر کو اگر بلایا نہیں گیا تو انہیں جانا نہیں چاہیے تھا،

    تنویر الیاس کے بیٹے کا آزاد کشمیر پولیس و مسلح ملزمان کے ہمراہ سینٹورس پر دھاوا، مقدمہ درج

    تنویر الیاس نے سپریم کورٹ میں دائر اپیل میں خود کو” وزیراعظم” لکھ دیا،اپیل خارج