Baaghi TV

Tag: اسمبلی

  • شکور شاد کی استعفیٰ منظوری کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی

    شکور شاد کی استعفیٰ منظوری کے خلاف کیس کی سماعت ملتوی

    اسلام آباد ہائیکورٹ، پی ٹی آئی کے ایم این اے شکور شاد کی استعفیٰ منظوری کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی

    شکور شاد کی کیس میں اضافی دستاویزات جمع کرانے کی درخواست منظورکر لی گئی، متفرق درخواست کو مین کیس کے ساتھ یکجا کردیا گیا ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے کیس کی سماعت کی ،وکیل قومی اسمبلی سیکریٹریٹ عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ ہم نے اسپیکر کے آرڈر سے متعلق اضافی دستاویزات جمع کرانی تھیں، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ دستاویزات جمع کروادیں 28 کو آپکا مین کیس لگا ہوا ہے اس میں سن لینگے ، عدالت نے اضافی دستاویزات جمع کرانے کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 28 اپریل تک ملتوی کردی

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    غیرت کے نام پر استعفے دینے والے آج عدالت چلے گئے، ثانیہ عاشق

    بریکنگ،پی ٹی آئی کا استعفوں پر یوٹرن،عدالت میں کہا اب پارٹی استعفے نہیں دینا چاہتی

    یاد رہے کہ عبدالشکور شاد نے بطور رکن قومی اسمبلی استعفے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا جس پر عدالت نے ان کے استعفے کا نوٹیفکیشن معطل کر دیا تھا۔ بعد ازاں عمران خان نے کراچی کے علاقے لیاری سے منتخب رکن قومی اسمبلی عبدالشکور شاد کی بنیادی پارٹی رکنیت ختم کر دی۔ تحریک انصاف سندھ کے سیکریٹری اطلاعات ارسلان تاج نے اپنے بیان میں بتایا کہ عبدالشکور شاد کی بنیادی رکنیت ختم کر دی گئی۔ ارسلان تاج نے بتایا کہ عبدالشکور شاد کی رکنیت پارٹی کے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرنے پر ختم کی گئی۔

  • خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل، گورنر نے  سمری پر دستخط کر دیئے

    خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل، گورنر نے سمری پر دستخط کر دیئے

    پشاور: گورنرغلام علی نے خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کی سمری پر دستخط کر دیئے،

    باغی ٹی وی: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے گزشتہ روز صوبائی اسمبلی کی تحلیل کی سمری گورنر کو ارسال کی تھی۔

    گورنر خیبرپختونخوا غلام علی نے وزیراعلیٰ کی ایڈوائس پر اسمبلی تحلیل کرنے کی سمری پر دستخط کردیے ہیں۔گورنر خیبرپختونخوا غلام علی کا کہنا تھا کہ دستخط نہ کرتے تب بھی اسمبلی تحلیل ہوجاتی ،مشاورت کے بعد کسی ایک نام پر متفق ہونا چاہیے گزشتہ روز اسٹاک ایکسچینج نیچے آ گیا تھا ،ملک میں سیاسی عدم استحکام سے ہرشعبہ اور ہرطبقہ متاثرہوتا ہے، پی ٹی آئی اراکین سے کہتا ہوں ملک کے لیے مثبت کردار ادا کریں گورنر ہاوس میں وزیراعلیٰ ہیلی پیڈ استعمال کرتے ہیں مگر مجھے مبارکباد نہیں دیتے عہدہ سنبھالا توعمران خان،وزیراعلیٰ سمیت کسی نے مبارکباد نہیں دی موجودہ صورتحال کے پیچھے کون ہے ؟کیا بہتری کے لیے کردار ادا کیا جائےگا،بطور گورنر خیبرپختونخوا میں نے سمری پر دستخط کرکے آئینی مرحلے کو مکمل کیا،

    محمود خان کا کہنا تھا کہ ملکی مفاد میں خیبرپختونخوا اسمبلی توڑنے کا فیصلہ کیا ہے، عام انتخابات میں ملک میں دو تہائی اکثریت حاصل کرکے قائد عمران خان کو دوبارہ وزیراعظم بنائیں گے ۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے آئین کے آرٹیکل 112(1) کے تحت اسمبلی تحلیل کرنے کی 17 جنوری کو گورنر کو ارسال کی تھی ،وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے ہفتے کو پشاور میں ایک تقریب سے خطاب کے دوران کہا تھا کہ عمران خان کا اشارہ ملتے ہیں اسمبلی تحلیل کردی جائے گی،میں پارٹی کا ادنیٰ کارکن ہوں، میری کیا حیثیت کہ عمران خان اشارہ کریں اور میں کہوں نہیں میں یہ نہیں کر رہا،جب وقت آئے گا تو ہم اسمبلی تحلیل کرنے کی طرف بڑھیں گے۔

    خیال رہے کہ قبل ازیں وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہٰی نے 11 جنوری کو اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کے بعد اگلے روز صوبائی اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری پر دستخط کردیے تھے اور سمری گورنر پنجاب کو بھیج دی تھی۔بعد ازاں گورنر پنجاب بلیغ الرحمٰن نے اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے سمری موصول ہونے کی تصدیق کی تھی، تاہم 48 گھنٹے کی مدت ختم ہونے کے باوجود انہوں نے سمری پر دستخط نہیں کیے تھے اور یوں اسمبلی خودبخود تحلیل ہو گئی تھی۔

    تمام الزامات ثابت، کیوں استعفیٰ نہیں دیتے،اکبر ایس بابر کا وزیراعظم کو چیلنج

    الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کی انکوائری کر رہا ہے تو کیا وزیر اعظم مستعفی ہو جائیں؟ سپریم کورٹ

    فارن فنڈنگ کیس، اور عمران خان پھنس گئے

    فارن فنڈنگ کیس، پی ٹی آئی کی چوری پکڑی گئی، تہلکہ خیز انکشاف

    فارن فنڈنگ کیس،تحریک انصاف نے پھروقت مانگ لیا

  • اعتمادکا ووٹ:ایک طرف حکومتی دعوےتودوسری طرف رانا ثناء اللہ کی زیرصدارت اتحادی پارٹیوں کااجلاس

    اعتمادکا ووٹ:ایک طرف حکومتی دعوےتودوسری طرف رانا ثناء اللہ کی زیرصدارت اتحادی پارٹیوں کااجلاس

    لاہور:پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صورتحال کے بعد مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادیوں کا اجلاس وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کی صدارت میں ہوا۔اہم اجلاس میں مسلم لیگ (ن) پیپلز پارٹی اور آزاد ارکان نے شرکت کی، اجلاس میں پنجاب میں تبدیل ہوتی صورتحال پر مشاورت کی گئی، اس موقع پر ایوان میں کسی بھی قسم کی دھونس کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلم لیگ (ن) نے حکمت عملی طے کر لی۔

    واضح رہے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے میڈیا سے گفتگو میں دعویٰ کیا تھا کہ ہمیں معلوم ہے تحریک انصاف کے پاس نمبرز پورے نہیں، ان کے 6 سے 8 اراکین اسمبلی بیرون ملک ہیں اور ہمارے پاس ٹریول ہسٹری موجود ہے، یہ 176 بندے اکٹھے کر کے 187 کا ڈرامہ کرتے ہیں۔

    اس سے پہلے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی واثق قیوم نے کہا ہے کہ آج 186 ارکان کا نمبر ہاؤس میں شو کیا جائے گا، آج نمبرز گیم شو کریں گے، اعتماد کا ووٹ کل لیں گے۔

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہماری پوری تسلی ہے، 186 کو کراس کر چکے ہیں، کل ہی کہا تھا ہمارے پاس سرپرائز ہے، سرپرائز کیلئے موقع چاہیے تھا، ہم جو کہا تھا پورا کر دیا۔

    ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ ہم نے ان کونمبرز پورے کر کے بتانے تھے وہ کر دیئے، اعتماد کے ووٹ کے لیے ایجنڈے پر لانا ضروری ہے، ہمارا مقصد نمبرز پورے کرنا تھا وہ آج ہم نے دکھا دیئے۔واثق قیوم نے مزید کہا کہ یہ کہتے تھے ہمارے پاس نمبرز پورے نہیں، آج ہم نے دکھا دیئے، عمار یاسر بھی ایوان میں آگئے ہیں، ہمارے پاس ایک اور سرپرائز بھی ہے اس کا ابھی انتظار کریں۔

  • پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ بل 2021 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی میں لوکل گورنمنٹ بل 2021 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے شور شرابے کے باوجود بلدیاتی حکومت (لوکل گورنمنٹ) بل 2021 کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایوان کے اجلاس میں بل صوبائی وزیر برائے پارلیمانی امور راجہ بشاور نے پیش کیا، جس پر اپوزیشن نے کورم کی نشاندہی کی البتہ اسپیکر نے اجلاس کو جاری رکھا۔اسپیکر کی جانب سے اجلاس جاری رکھنے پر اپوزیشن اراکین بینچوں پر کھڑے ہوئے اور شور شرابہ کیا اس دوران ایوان نے کثرت رائے سے لوکل گورنمنٹ بل 2021 کو منظور کرلیا۔اپوزیشن اراکین نے الزام عائد کیا کہ لوکل گورنمنٹ بل 2021 پیش کرنے کے لئے قوانین معطل کیے گئے، جو غیرآئینی اور غیر قانونی اقدام ہے۔

    سمبلی سے منظور ہونے والے بلدیاتی بل کے مطابق پنجاب میں آئندہ بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر ہوں گے، صوبے میں پچیس ضلع کونسل اور گیارہ میٹرو پولیٹن کارپوریشن ہوں گی، میٹروپولیٹن کارپوریشن کا سربراہ مئیر ہوگا اور عوام براہ راست ووٹ سے مئیر کا انتخاب کر سکیں گے۔

    بل کے مطابق دیہاتوں اور شہروں میں یونین کونسل بنیں گی، تحصیل کونسل اور ٹاونز نئے بلدیاتی ایکٹ میں ختم کردئیے گئے، پنجاب کے ہر گاؤں میں ایک ویلج پنچائت کونسل ہوگی، ہر ضلع میں ضلعی کابینہ ہوگی جبکہ تمام ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، واسا، پی ایچ ایز میٹرو پولٹین کے میئر کےماتحت ہوں گی۔

    قبل ازیں پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی رہنما عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ الیکشن تک پارٹی قائد نواز شریف پاکستان واپس آجائیں گے اور انتخابی مہم کی قیادت کریں گے۔ عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ لوگ سیلاب کا شکار ہیں، ایوان وزیراعلیٰ میں تیتر اور بٹیر اُڑائے جا رہے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی کے پاس بنی گالہ جانے کا وقت ہے سیلاب زدہ علاقوں کے لیے نہیں۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ جو وزیراعلیٰ زمینوں پر قبضے کرے گا اسے ڈاکو ہی کہنا چاہیے۔عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ ایل ڈی اے میں اپنے بندے لگا کر زمینوں پر قبضے کیے جا رہے ہیں، ایک صوبائی وزیر زمینوں پر قبضے کی سرپرستی کر رہا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ پرویز الہٰی، شیخ رشید، شیریں مزاری، فرح گوگی کو کلین چٹ دے دی گئی۔
    ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں یک جنبشِ قلم دہشت گردی کے مقدمات ختم کر دیے گئے، ہمارے ارکان اپنی ضمانتیں کروا کر شامل تفتیش ہو رہے ہیں۔

    عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پرویز الہٰی سے زیادہ انتقامی شخص زندگی میں نہیں دیکھا۔

    ن لیگی رہنما کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پنجاب میں اختیارات کے ناجائز استعمال کا نوٹس لے۔

    انہوں نے یہ بھی کہا کہ چوہدری پرویز الہٰی کو صرف دو ووٹوں کی اکثریت حاصل ہے، ہماری پارٹی نے ابھی پنجاب حکومت گرانے کا کوئی اعلان نہیں کیا۔

  • پنجاب اسمبلی اجلاس ، متعدد بلوں کی منظوری

    پنجاب اسمبلی اجلاس ، متعدد بلوں کی منظوری

    پنجاب اسمبلی اجلاس میں متعدد بلوں کی منظوری دے دی گئی، بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل 2021 بھی شق وار منظور کرلیا گیا۔

    وزیر پارلیمانی امور راجہ بشارت نے پنجاب پنجاب اکوپیشن سیفٹی اینڈ ہیلتھ بل 2022 ایوان میں پیش کر دیا گیا۔پنجاب اسمبلی نے بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل 2021 کو شق وار منظور کر لیا۔پنجاب اسمبلی نے بورڈ آف ریونیو ترمیمی بل 2021 کو شق وار منظور کر لیا۔
    پنجاب اسمبلی نے متروکہ وقف املاک و قوانین برائے بے گھر افراد بل 2021 شق وار منظور کر لیا۔

    صوبائی اسمبلی نے پنجاب سید کارپوریشن ترمیمی بل 2022 کی شق وار منظوری دے دی،پنجاب اسمبلی نے پنجاب فیکرٹریز ترمیمی بل 2022 کی شق وار منظوری دے دی۔،پنجاب اسمبلی نے مسودہ ترمیم جنگلات بل 2022 کی شق وار منظوری دے دی۔پنجاب اسمبلی کی جانب سے منظور کئے جانے والے چھ بل پارلیمانی امور کے وزیر راجہ بشارت نے پیش کئے تھے۔

    اسپیکر نے محکموں کی جانب سے بروقت جواب نہ آنے پراسپیکر نے وقفہ سوالات کو موثر بنانے کیلئے حکومت کو اپوزیشن سےمل کر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی۔

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس کا ایجنڈا مکمل ہونےپر سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے اجلاس آج دوپہر تین بجے تک ملتوی کر دیا۔۔

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس ،گورنر کو بھجوائے گئے بل ایوان سے دوبارہ منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس ،گورنر کو بھجوائے گئے بل ایوان سے دوبارہ منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس ایک گھنٹہ 50 منٹ کی تاخیر سے سپیکر محمد سبطین خان کی زیرِ صدارت شروع ہوا۔ وقفہ سوالات میں محکمہ جنگلات، جنگلی حیات و ماہی پروری سے متعلق سوالات پوچھے گئے جن کے جوابا ت صو بائی وزیر علی عباس رضانے دیے۔

    گزشتہ اجلاس میں پنجاب کمیشن آن سٹیٹس آف وومن بل 2022 لاہور، سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2022 او ر راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل 2022 گورنر پنجاب کو منظوری کے لیے بھجوائے گئے تھے۔تاہم گورنر پنجاب نے بل منظور کیے بغیر واپس بھیج دیے تھے۔

    آج کے اجلاس میں مذکورہ تمام بلز دوبارہ پیش کیے گئے جسے ایوان نے کثرت رائے سے دوبارہ منظور کر لیے۔بعد ازاں ملک احمد خان نے سپیکر کی اجازت سے اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی حلیم عادل شیخ کی گرفتاری کے خلاف ایوان میں قرارداد پیش کی۔ قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ پنجاب اسمبلی کا ایوان حلیم عادل شیخ پر امپورٹڈ حکومت کے ایما پر ہونے والے مظالم کی مذمت کرتا ہے۔ وفاقی حکومت حلیم عادل شیخ پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہی ہے۔ یہ ظلم کی رات ختم ہونے کے قریب ہے۔ایوان حلیم عادل شیخ پر جھوٹے مقدمات واپس لے کررہا کرنے کی سفارش کرتا ہے۔ قرارداد کو ایوان نے منظور کر لیا۔

    بعدازاں رکن اسمبلی عمر فاروق نے ایوان میں بول نیٹ ورک کے لائسنس منسوخ کے خلا ف قراردادپیش کی۔ قراردادمیں کہا گیا کہ ”پنجاب اسمبلی کایہ ایوان پیمراکی جانب سے بول نیٹ ورک کے لائسنس منسوخ کرنے کی شدیدالفاظ میں مذمت کرتاہے۔ ایوان سمجھتاہے کہ بول نیوزکی بندش کے پیچھے ہزاروں صحافیوں کامعاشی قتل عام کرنے کامنصوبہ ہے جسے کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیاجائے گا۔

    وفاقی حکومت نے بول نیوزکوبندکرکے آزادی صحافت پرگھناؤناوارکیاہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ ایوان وفاقی حکومت اورپیمراسے فوری طورپر بول نیوزکی بندش کاحکم نامہ فوری واپس لینے کامطالبہ کرتاہے۔” ایوان نے قراردادکثرت رائے سے منظور کرلی۔ ایجنڈا مکمل ہونے پر سپیکرمحمد سبطین خان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 12 ستمبر بروز سوموار سہ پہر تین بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا۔

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس، یونیورسٹی آف کمالیہ بل 2022 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس، یونیورسٹی آف کمالیہ بل 2022 کثرت رائے سے منظور

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں یونیورسٹی آف کمالیہ بل 2022 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا،وزیر پارلیمانی امور راجہ بشارت نے یونیورسٹی آف کمالیہ بل2022 پیش کیا.

    محکمہ سوشل ویلفیئر سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران لیگی رکن ملک ارشد نے صوبائی وزیر غضنفر عباس چھینہ کو دلچسپ مبارکباد دی،ملک ارشد کا کہنا تھا کہ مجھے پتہ ہے غضنفر عباس چھینہ نے وزیر بننے کے لیے بہت تگ و دو کی ہے، خیر جیسے بھی وزیر بنے میں مبارک باد دیتا ہوں۔

    ایوان میں جہیز فنڈ کے استعمال سے متعلق غلط جواب پر ملک ارشد اور صوبائی وزیر بیت المال کے درمیان تکرارہو گئی،ملک ارشد نے کہا کہ میرے سوال کا جواب محکمے کی جانب سے غلط جواب دیا گیا ہے۔جس پر صوبائی وزیر نے کہا کہ آپ میرے ساتھ بیٹھ جائیں میں آپکے خدشات دور کر دیتا ہوں۔ملک ارشد نے کہا کہ میں یہاں نہیں بیٹھوں گا آپ میرے ساتھ ساہیوال چلیں وہاں بیٹھیں گے۔جس پرسپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے صوبائی وزیر بیت المال کو ملک ارشد کے ساتھ ساہیوال میں جاکر مسئلہ حل کرنے کی رولنگ دے دی.

    صوبائی وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے ایوان میں خطاب کرتے ہو ئے کہا کہ ملک میں ایسی صورتحال قائم کر دی جسے لوگ سویلین مارشل لاء کہتے ہیں، سویلین مارشل لاء وفاقی وزیر داخلہ بن کر بیٹھے ہوئے ہیں، راجہ بشارت اور خود بیٹھ کرنجی ٹی وی چینل اے آر وائی کو کھلوانے کےآرڈر کو دیکھیں گے،عارف حمید بھٹی کو آف ائیر کر دیا سمجھ نہیں آتی کرتے کیا ہیں؟ ، سوشل میڈیا کی خبریں ملکی مفاد میں نہیں ہوتیں، جو حکومت کام کررہی ہے تو انہیں بھیانک خواب آیا کریں گے، شور کوٹ میں بدقسمتی سے یونس نومی قاتلانہ حملے میں شہید ہوئے ہیں ڈی پی او سے رپورٹ لوں گا.

    حسنین بہادر دریشک کا ایوان میں کہنا تھا کہ نہر تین سو کیوسک ہے راوی میں پچاس ہزار کیوسک پانی آ جائے تو کہتے سیلاب آگیا ہے، دو ہزار دس میں سیلاب آیا تھا دریائے سندھ میں دس لاکھ کیوسک تک پانی آیا تو پھر شہروں کے درمیان پانی ہی پانی تھا،یقین دہانی کرواتا ہوں ڈی جی خان اور راجن پور میں ایسا اقدام اٹھائیں گے کہ مسائل حل کریں گے.

    پیپلزپارٹی کے رہنما سید حسن مرتضیکا ایوان میں کہنا تھا کہ ہمارے مسائل کو سنجیدہ ہی نہیں لیاجاتا، کہتے رہے دس سال سے چناب چنیوٹ پر اپنا رخ تبدیل کررہا ہے زرعی زمین دریا برد ہو رہی ہیں،چنیوٹ والے لوگ بہت خوشحال تھے لیکن سیلاب سے وہ بے زمین ہوگئے اب غیر کاشتکار بے گھر اور فصلیں تباہ ہو گئیں وہ سڑک پر آ گئے،چھوٹے چھوٹے بچے بزرگوں کے پاس کھانے پینے کی کوئی چیز نہیں ہے انہیں لوگ سالن روٹی دے رہے ہیں، اے سی چنیوٹ اتنے نواب ہیں کہ وہ سیلاب زدہ علاقوں میں آنا پسند نہیں کرتے،ہم افسر شاہی کی نذر ہوئے ہیں لوگوں کا کیا قصور ہے ان کا نمائندہ لوٹا نہیں ہوتا، رولنگ دیں کہ چنیوٹ میں سرکاری زمین پر بے گھر لوگوں کو پانچ سے دس مرلہ جگہ دیں.

    سپیکر سبطین خان نے کہا کہ ڈی سی چنیوٹ سے پوچھیں کہ لوگوں کا کتنا نقصان ہوا ہے،راجہ بشارت نے ایوان میں یقین دہانی کرائی کہ اے سی بھوانہ سے بھی رپورٹ منگوا لی ہے.

    پنجاب اسمبلی میں کالا باغ ڈیم کی گونج بھی سنائی دی، چودھری ظہیر الدین نے ایوان میں گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈیم بنایا جائے تاکہ سیلابوں سے بچا جائے، جس طرح سیلاب آ رہے ہیں ہمیں کالا باغ ڈیم بنانا ہوگا، کالا باغ ڈیم میں دس میلن ایکٹر پانی اکٹھا ہوگا پچیس ملین ایکٹر پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کےلئے مزید ڈیموں کی ضرورت ہوگی، ڈیموں کو بنانے کےلئے ایک سکیم ہونا چاہئیے کہ نہروں تک انہیں بلترتیب پہنچایا جائے، پاکستانیوں پر سیلاب کی شکل میں ایک عذاب آیا ہے.

    چودھری ظہیر الدین کا مذید کہنا تھا کہ جو سیلاب سے متاثر ہوئے انہیں سرکاری زمین دی جائے،جو ہوٹل سیلاب میں گرے ہیں اس کے بعد ایس او پیز طے کی گئی ہیں کہ دو سو گز سے دور ہوٹل بنائیں گے،لوگ پانی اورآگ کے عذاب کے بعد خوف کے عذاب میں بھی مبتلا ہیں،دریائوں کی گزر گاہوں پر تعمیرات کرکے کر کاشتکاری کی جائے، پینتس ملین ایکٹر پانی سمندر برد کیاجاتا ہے جبکہ دس ملین ایکٹر فصلوں کو درکار ہوتاہے.

    راحیلہ خادم حسین نے ایوان میں کہا کہ سیلاب پر دنیا ہمدردی اور مدد کرنے کےلئے پہنچ گئی ہے، وفاقی حکومت اور وزیر اعظم سیلاب زدگان کی مدد کےلئے کوشاں ہے، ویر اعظم ریلیف فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو ریلیف فراہم کریں، کھڑی فصلیں تباہ ہو چکیں ادویات اور کھانا نہیں ہے گھر مٹی کے ڈھیر بن چکے ہیں، سیلاب سے پاکستانیوں کے مویشی پانی میں بہہ گئے نہ ان کے گھر اور نہ ہی زمین رہی، سیلاب پر لوگوں کو نہیں بتایا جا رہا ہے کہ حکومت متاثرین کو ادویات خواتین و بچوں کو کیسے ریسکیو کررہی ہے، سیلاب کی صورتحال پر اجلاس تو چل رہا ہے ممبران کی عدم دلچسپی ہے اسے ختم کردیں تاکہ ممبران حلقوں میں جاکر متاثرین کی مدد کر سکیں، کیا وزیر اعلی کو ایوان میں موجود نہیں ہونا چاہئیے، پرویز الہی اپنے بیٹے سمیت بنی گالہ میں حاضریاں لگوا رہے ہیں متاثرین پر کسی کی توجہ نہیں ہے، عدالتی وزیر اعلی کو جنوبی پنجاب کے عوام ڈھونڈ رہے ہیں کدھر ہیں جس نے فنڈز ریلیز کروانے تھے،ان کی زمینیں ہی نہیں تو بیانہ کیا لیں گے، قیامت میں آپکوجوابدہ ہونا چاہیے تھا ہم تو حکومت میں نہیں ہیں.

    اس سے قبل سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے پر اظہار تشویش کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرائی گئی،قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن سمیرا کومل کی جانب سے جمع کرائی گئی
    قرارداد کےمتن میں کہا گیا کہ یہ ایوان سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے، ٹماٹر 400روپے اور پیاز 300روپے سے زائد کے کلو فروخت ہورہے ہیں، جبکہ باقی سبزیوں کی ریٹ بھی آسمان سے باتیں کررہے ہیں ، سبزی منڈی ،عام مارکیٹ یا دکان ہر جگہ من پسند ریٹ وصول کیے جارہے ہیں، صوبے بھر میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کا نام و نشان نہیں ہے، جبکہ پرائس کنٹرول کمیٹیاں عام مارکیٹ سے غائب ہیں، قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ  سبزیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا چیک اینڈ بیلنس رکھا جائے، صوبے میں پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کو متحرک کیا جائے.

  • ارکان اسمبلی اپنی توانائیاں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے مختص کردیں،نواز شریف

    ارکان اسمبلی اپنی توانائیاں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے مختص کردیں،نواز شریف

    پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پارٹی کے ارکان صوبائی اسمبلی اور ارکان قومی اسمبلی کو سیلاب متاثرین کی مدد کرنے کے لیے اہم ہدایات جاری کردیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں نواز شریف نے کہا کہ ن لیگ کے ایم این ایز، ایم پی ایز، ورکرز اپنی توانائیاں سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے مختص کردیں۔نواز شریف نے پاکستان اور بیرون ملک مقیم پارٹی اراکین اور کارکنوں کو بھی اہم ہدایت کی ہے۔

    سابق وزیراعظم نے کہا کہ سیاست انتظار کر سکتی ہے، اس وقت ہماری اولین ترجیح مشکلات میں گھرے ہمارے بہن بھائی ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ متاثرین سیلاب کی تکالیف کے ازالے کیلئے ہمیں ہر ممکن اقدامات کرنے ہوں گے۔

    مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے استفسار کیا ہے کہ میرے حق میں اور کتنی گواہیاں درکار ہیں؟ لندن میں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو میں سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہر بات پر سوموٹو لینے والوں کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی کے انکشافات نظر نہیں آتے۔انہوں نے کہا کہ میں پوچھتا ہوں کہ میرے حق میں جج ارشد ملک، جسٹس شوکت صدیقی کے بعد اور کتنی گواہیاں درکار ہیں؟

    سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ میرا اور مریم نواز کا عدالتی فیصلوں کے ذریعے سیاسی قتل کیا گیا، میرے ساتھ ناانصافی ہوئی۔اُن کا کہنا تھا کہ پوچھتا ہوں مجھے اور مریم نواز کو کون انصاف فراہم کرے گا؟ ہے کوئی میرے اور مریم نواز کے کیس پر سوموٹو لینے والا؟

    نواز شریف کا مذید کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ مشکل ترین حالات میں بہترین کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے موجودہ حالات کے ذمہ دار سابق وزیراعظم عمران خان اور اُن کی سابقہ حکومت ہے۔

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس،اپوزیشن کا احتجاج،عمران خان کے حق میں قرارداد منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس،اپوزیشن کا احتجاج،عمران خان کے حق میں قرارداد منظور

    مسلم لیگ ن کے ارکان اسمبلی کا پنجاب اسمبلی کی سیڑھیوں پر عمران خان کے خاتون جج کو دھمکی دینے کے خلاف احتجاج کیا،مسلم لیگ ن کے ارکان نے فتہ خان نامنظور اور خاتون کی توہین نامنظور کے نعرے لگائے ۔لیگی ارکان نے چیف جسٹس آف پاکستان سے ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔

    حنا پرویز بٹ نے کہا عمران خان کے خاتون جج کے متعلق ریماکس ناقابل معافی ہیں۔پولیس کی اعلی قیادت کو دھمکیاں دینا عمران خان کے لیے شرمندگی کا باعث ہے۔حیرت ہے کیسا ذہنی مریض وزیراعظم کے عہدے پر فائز رہا ہے۔کل تک یہ پولیس افسران اور ججز اچھے تھے آج عمران خان کی کرسی چھن گئی تو سب برے لگ رہے ہیں۔

    راحیلہ خادم نے کہا تحریک انصاف ایک فاشسٹ جماعت ہے۔جو خواتین کے متعلق اپنا گندہ ذہن پہلے ہی عیاں کر چکی ہے۔خاتون جج کی تذلیل تمام پاکستانی خواتین کی بے عزتی کے برابر ہے۔ہم خاتون جج زیبا چوہدری کے ساتھ مکمل اظہار یک جہتی کرتے ہیں۔سعدیہ تیمور نے کہا عمران خان ایک فتنہ ہے جس کا ایجنڈا ملک میں انتشار پھیلانا ہے۔اداروں کے افسران کو دھمکیاں قابل مذمت ہے۔تحریک انصاف پاکستان کی دشمن جماعت ہے جو غیر ملکی فنڈنگ سے چل رہی تھی اور انکا ایجنڈا بھی غیر ملکی تھا۔

    کنول لیاقت نے کہا پوری مسلم لیگ ن اور وفاقی حکومت خاتون اور پولیس افسران کے ساتھ کھڑی ہے اب عدلیہ کو بھی چاہیے کہ اس ذہنی مریض کو لگا ڈالے۔اس موقع پر لیگی رکن خلیل طاہر سندھو،سنبل ملک،رابعہ فاروقی،زیب النساء اعوان،راحت افزاء،حسینہ بیگم،طارق گل سمیت دیگر ارکان موجود تھے۔

    اس سے قبل پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی کا ترمیمی بل پنجاب اسمبلی میں متعارف کرایا گیا.بل صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ کی جانب سے متعارف کرایا گیا،ایوان نے لاہور سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ اتھارٹی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا،علاوہ ازیں راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل بھی پنجاب اسمبلی میں متعارف کرایا گیا،یہ بل بھی صوبائی وزیر محمد بشارت راجہ نے متعارف کرایا،تاہم ایوان نے راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ذرائع کے مطابق دونوں بل قواعد کو معطل کر کے منظور کرائے گئے.

    میاں محمود الرشید کی جانب سے قواعد معطل کر کے عمران خان پر بے بنیاد مقدمات کے خلاف قرارداد پیش کی گئی ،قرار داد میں کہا گیا کہ صوبائی اسمبلی کا یہ ایوان عمران خان پر ہونے والے بے بنیاد مقدمات کی مذمت کرتا ہے، عمران خان پاکستانی قوم ور عالم اسلام کے حقیقی لیڈر ہیں،عمران خان پر جھوٹے مقدمات درج کرنے کا مقصد ملک میں انتشار پھیلانا ہے، ان مقدمات سے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے روشن چہرے کو مسخ کیا گیا، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی ان مقدمات پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، بین الاقوامی جریدے بھی ایسے واقعات کی مذمت کر رہے ہیں، ایسے اوچھے ہتھکنڈے تحریک انصاف کی جدوجہد کو نہیں روک سکتے، یہ ایوان عمران خان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتا ہے،یہ ایوان امپورٹڈ حکومت کی جانب سے درج کئیے جانے والے مقدمات واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے، سیاسی میدان میں سیاسی طور پر جواب دیا جائے ، قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی گئی

    اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ متفقہ قرارداد منظور ہونے پر ہاوس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں.میاں محمود الرشید نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امپورٹڈ حکومت کے ذمہ داران ہوش کے ناخن لیں ،ایک ایسا لیڈر جس کے ساتھ دنیا بھر میں کروڑوں لوگوں کے دل دھڑک رہے ہیں ،منتخب حکومت کو راتوں رات بیرونی سازش کر کے فارغ کیا گیا،عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ قوم نے جس طرح عمران خان کی آواز پر لبیک کہا اس کی مثال نہیں ملتی،یہ عمران خان کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں اس کا قصور یہ ہے کہ وہ ریاست مدینہ کی بات کر رہا ہے ،وہ اس ملک کے پسے ہوئے طبقے ، جوانوں کے لیے کسانوں کے عوام کی بات کرتا ہے ،اگر یہ جرم ہے تو یہ صرف عمران خان نہیں ان کے ساتھ چلنے والا ہر شخص کرے گا،ملک میں کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جہاں عوام باہر نہ نکلے ہوں
    ،انہوں نے اس امپورٹڈ حکومت کو مسترد کیا ہے ،کیا یہ سمجھتے ہیں کہ یہ عمران خان اور ہمارے اوپر دہشتگردی کے مقدمات درج کر ہمیں دبا لیں گے ،اپوزیشن والے حوصلہ کرتے اور یہاں بیٹھ کر ہماری بات سنتے ،یہ جتنا دبائیں گے عوام عمران خان کے ساتھ نکلیں گے.

    حکومتی اراکین نے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات پر عدم دلچسپی کا اظہار کیا،
    سپیکر پنجاب اسمبلی اراکین کو بار بار نشستوں پر بیٹھنے کی رولنگ دیتے رہے جبکہ حکومتی اراکین سپیکر کی رولنگ کو نظر انداز کرتے رہے،وقفہ سوالات پر لیگی رکن اسمبلی ارشد ملک بھی سپیکر ہاؤس ان آرڈر کا کہتے رہے،حکومتی اراکین اسمبلی ایک دوسرے سے خوش گپیوں میں مصروف رہے

    راحیلہ خادم حسین نے کہا کہ ہم آپ کو عزت دینے کی کوشش کر رہے ہیں ،لیکن آپ کو عزت راس نہیں آئی،جو خود دسویں فیل ہیں وہ ہمیں جواب دے رہے ہیں، سردار شہاب الدین کا کہنا تھا کہ یہ وطیرہ ہمارا نہیں ہے میں نے ان کو عزت سے جواب دیا ہے ،104 میلین روپے کی آمدن ہوئی اسے سرکاری خزانے میں جمع کرایا ہے ،جو ویکسین تیار ہوتی ہے وہ نو پرافٹ نو لاس پر مہیا کی جاتی ہے ،جو لیب سے آمدن اکٹھی ہوتی ہے سرکاری خزانے میں جمع کرائی جاتی ہے،انسداد بے رحمی حیوانات ایک سوسائٹی ہے جو پندرہ اضلاع میں کام کر رہی ہے
    ،اس کے لیے بجٹ ن لیگ کی حکومت نے رکھا تھا

    ملک محمد ارشد نےجواب میں کہا گیا ہے موجودہ وزیراعظم ، جبکہ سابقہ وزیر اعظم نے قوم کو کٹوں وچھوں کے پیچھے لگایا گیا،جو جواب دیا گیا ہے وہ بالکل غلط ہے ، آج کے وزیر اعظم کی ایسی کوئی پالیسی نہیں تھی ،سردار شہاب الدین نے کہا کہ جب انہوں نے سوال جمع کرایا تھا اس وقت عمران خان وزیراعظم تھے اس لیے جواب اسی مطابق دیا گیا ہے

    ملک محمد ارشد کا کہنا تھا کہ یہ ڈیپارٹمنٹ کی غلطی ہے انہوں نے سابق وزیر اعظم نہیں لکھا،مجھے کوئی ایشو نہیں ہے، کل اسپیکر چوہدری پرویز الٰہی تھے آج آپ ہیں ،سردار شہاب الدین نے کہا کہ اس سکیم کو اس وقت کی اپوزیشن نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا،خلیل طاہر سندھو نے ضمنی سوال میں کہا کہ چار مرغیاں اور ایک مرغا دینا تھا، لیکن غلطی سے چار مرغے اور ایک مرغی دے دی گئی،اس کا کیس چل رہا ہے کیا یہ درست ہے،جب اگلا سیشن ہو گا تو میں مقدمہ کی ایف آئی آر لے آؤں گا

    محمد ارشد ملک نے کہا کہ بتائیں کہ کتنی ادویات کم ہیں ساہیوال میں ،سردار شہاب الدین نے کہا کہ میں ان کے پاس جا کر چائے پئیوں گا اور ان کو جواب بھی دوں گا،ان کے اپنے فارم ہاؤس میں ادویات کی ضرورت ہے تو میں مہیا کرا دوں گا،لک ظہیر عباس کھوکھر نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں قرار داد منظور کرنے پر پورے ہاؤس کا شکریہ ادا کرتا ہوں،وفاقی حکومت کے اوچھے ہتھکنڈوں کی بھر پور مذمت کرتے ہیں،عمران خان کو کسی نہ کسی حوالے سے ذچ کرنا، ان کی حرکت کو کنٹرول کرنا، ان کے خلاف مقدمات درج کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ وفاقی حکومت عمران خان کی پزیرائی سے گھبرائی ہوئی ہے،عمران خان عوامی لیڈر ہیں یہ ان کو پریشان رکھنا چاہتے ہیں ،عمران خان کو عوام میں انے سے روکنے کی کوششوں پر عوام کو تشویش ہے ،وفاقی حکومت نے میرا نام بھی عمران خان کے ساتھ ایف آئی آر میں درج کر ہے پنجاب اسمبلی کی توہین کی ہے،عمران خان جب بھی بلائیں گے ہم ان کی آواز پر لبیک کہیں گے

  • پنجاب اسمبلی اجلاس،حکومت کورم پورا نا کر سکی،اپوزیشن کا ہنگامہ

    پنجاب اسمبلی اجلاس،حکومت کورم پورا نا کر سکی،اپوزیشن کا ہنگامہ

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس کورم کی نذرہو گیا،مہنگائی،امن وامان،آئینی بحران پر عام بحث ایجنڈا میں شامل ہونے کے باجود تیسرے روز بھی نہ ہو سکی،اپوزیشن ارکان کا کورم کی نشاندہی پر شور شرابا،حکومت نے شور شرابا میں چار بل ایوان میں متعارف کردئیے۔

    آنٹی پیرنی کا گلے کا لاکٹ ہاتھ کی انگوٹھی، اس کا حساب کون دے گا؟ طلال چودھری

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی سپیکر واثق قیوم عباسی کی زیر صدارت 2 گھنٹے چودہ منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،اجلاس میں محکمہ زراعت و آبپاشی کے کئی ماہ پرانے سوالات ایجنڈے میں شامل ہونے پر اپوزیشن اور حکومتی ارکان نے اعتراضات اٹھا دئیے۔

    ایک پاکستانی سیاسی جماعت کو غیر ملکی فنڈنگ کیوں ہوتی ہے. عطا اللہ تارڑ

     

    صوبائی وزیر راجہ بشارت بولے ایوان میں سوالات کے جواب تاخیر سے آنے پر کمیٹی تشکیل دی جائے تاکہ رولز آف پروسیجر میں ترمیم کی جائے۔پیپلزپارٹی کے سید عثمان محمود نے کہا تین سال پی ٹی آئی حکومت رہی لیکن جواب اب آ رہے۔ڈپٹی سپیکر نے سوالات کے جواب میں تاخیر ہونے کے معاملے پر کمیٹی تشکیل دینے کی رولنگ دیدی۔

     

    سرکاری اداروں میں بعض افراد کو ماہانہ 70 سے 80 لاکھ تنخواہیں دینے کا انکشاف

     

    اجلاس میں محکمہ زراعت و آبپاشی سے متعلق سوالات کے جوابات میں صوبائی وزیر حیسن جہانیاں گردیزی نے کہا پی ٹی آئی حکومت کے دور میں شعبہ زراعت نے ترقی کی،جس کا اعتراف ن لیگ کی حکومت نے بھی کیا۔

    جب باری آئی مہنگائی،امن و امان اور آئینی بحران پر بحث کی تو اپوزیشن ارکان نے کورم کی نشاندہی کردی،مہنگائی،آئینی بحران اور امن و امان پر بحث تو نہ ہو سکی لیکن حکومت نے اپوزیشن کے شور شرابا میں ایوان میں چار بل پیش کر دئیے۔

    راجہ بشارت نے موٹر گاڑیاں ترمیمی بل،سیڈ کارپویشن ترمیمی بل،فیکٹریز ترمیمی بل اور جنگلات ترمیمی بل 2022 ایوان میں متعارف کرائے۔ڈپٹی سپیکر نے بلز کمیٹی کو ریفر کرتے ہوئے دو ماہ میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

    اپوزیشن ارکان نے کورم کی نشاندہی پر شور شرابا کیا اور ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ڈپٹی سپیکر کورم پورہ نہ ہونے پر اجلاس جمعرات کی دوپہر 2 بجے تک ملتوی کردیا۔