Baaghi TV

Tag: اسمبلی

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس،حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس،حکومت کورم پورا کرنے میں ناکام

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس تین گھنٹے اٹھارہ منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا،اجلاس کی صدارت اسپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان نے کی.

    شہباز گل کیس: عدالت نے ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت 2 بجے تک ملتوی کردی

    ترجمان وزیر اعلیٰ پنجاب فیاض الحسن چوہان نے کا ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار وزارت داخلہ نے براہ راست کسی چینل کو بند کیا ہے ،اسی حکومت نے پنجاب کے ایوان میں پولیس کو بلا کر اراکین اسمبلی کو مارا پیٹا،میں زبانی قرار داد پیش کرتا ہوں کے نجی ٹی وی چینل اے آر وائی پر پابندی ختم کی جائے.سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے باوجود این او سی پر پابندی ختم نہیں کی جا رہی.اس پر اسپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان نے کہا کہ کل ایوان میں تحریری طور پر قرارداد پیش کی جائے.

     

    کیسے چیف آف اسٹاف نے آپ سے پوچھے بغیر بات کردی،عطا تارڑ کا عمران خان سے سوال

     

    پنجاب اسمبلی کےاجلاس میں محکمہ داخلہ کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کے جوابات دئیے گئے.جوابات صوبائی وزیر داکلہ کی بجائے محمد بشارت راجہ کی جانب سے دئیے گئے.راجہ بشارت نے کہا کہ جوابات کی تاخیر کے لیے کمیٹی کی تشکیل ہونی چاہیے،جوابات آ جاتے ہیں لیکن اسمبلی سیکرٹریٹ میں پڑے رہتے ہیں.

     

    عمران خان کے اثاثوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

     

    رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بتایا جائے باغبان پورہ تھانے سے جو تفصیلات لی گئی کیا وہ ٹھیک ہیں؟ انہوں نے کہا کہ میں بتا سکتی ہوں کہ کہاں کہاں باغبان پورہ میں منشیات فروشی ہو رہی ہے.اس پر راجہ بشارت کا کہنا تھا کہ محکمہ کی جانب سے جو بھی جواب آتا ہے منسٹر اس کو اون کرتا ہے ،پولیس جب کارروائی کرتی ہے کچھ دیر کے لیے منشیات فروشی رک جاتی ہے ،جب وہ منشیات فروش گرفتاری کے بعد رہا ہو کر آتے ہیں وہ پھر یہ کام شروع کر دیتے ہیں،معزز ممبر رہنمائی کریں ہم کارروائی کریں گے.

    رکن پنجاب اسمبلی راحیلہ خادم حسین نے ایوان کو بتایا کہ باغبان پورہ حق نواز چوک پر منشیات فروشی ابھی بھی جاری ہے ،ساری ساری رات وہاں پر نوجوان نسل منشیات استعمال کر رہی ہے اس پر راجہ بشارت نت یقین دہانی کرائی کہ یہاں پر آپریشن کراتے ہیں جو بھی رپورٹ ہو گی راحیلہ خادم حسین کو آگاہ کریں گے.

    سپیکر پنجاب اسمبلی محمد سبطین خان کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں کوئٹہ کے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی.اجلاس میں وفقہ سوالات میں محکمہ داخلہ سے متعلق سوالات کے جوابات وزیر داخلہ کے رخصت پر ہونے کی بنا پر وزیر کوآپریٹوز محمد بشارت راجہ نے دیئے.

    سپیکر محمد سبطین خان نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وقفہ سوالات اسمبلی کارروائی کی روح ہے ،تاخیر سے جواب آنے پر سوال کی افادیت ختم ہو جاتی ہے۔ محکمہ جات سے سوالات کے بروقت جوابات دریافت کرنے کے لئے کمیٹی بنا دیتے ہیں۔

    اجلاس کے دوران بجی ٹی وی چینل اے آر وائی نیوز کی بندش کے خلاف پریس گیلری سے صحافیوں نے واک آؤٹ کیا.سپیکر نے اراکین اسمبلی، فیاض الحسن چوہان اور چودھری عدنان کو صحافیوں کو منانے کے لیے بھیجا ۔ فیاض الحسن چوہان اور چودھری عدنان کے صحافیوں سے کامیاب مذاکرات کے بعد صحافیوں نے بائیکاٹ ختم کردیا.

    مسل لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی سردار اویس لغاری نےپوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایجنڈے میں آئینی بحران ،مہنگائی اور امن امان پر بحث بھی رکھی گئی ہے ، امید ہے آنے والے دنوں میں اس پر بحث ہو گی تو دونوں طرف کا موقف سامنے آئے گا
    ،اس سے پنجاب کی عوام کے سامنے ہمارا موقف سامنے آئے گا،اس ہاؤس کی کارروائی بغیر کسی سینسر کے عوام تک پہنچنی چاہیے ،آج ہماری پارلیمانی پارٹی کی جانب سے کچھ لوگ اسپیکر چیمبر میں پیش ہوئے تھے،بیس جولائی کو جو الیکشن ہوا جس کے نتیجے میں آپ اس نشت پر موجود ہیں ،ایک انتظامی غلطی کی وجہ سے ہمارے پانچ ممبران کو اس وقت کے پریزائیڈنگ افسر نے پندرہ نشستوں کے لیے ایوان میں آنے سے روکا گیا ہے ،آپ سے گزارش ہے رولنگ دیں کے ان پانچ ممبران کو جب تک آپ کی موجودگی میں سنا نہیں جاتا اجلاس میں شرکت کی اجازت دی جائے،ایک دن کا پریزائیڈنگ افسر پانچ ممبران کو پندرہ نشستوں کے لیے کیسے روک سکتا ہے.

    سپیکر پنجاب اسمبلی سبطین خان نے کہا کہ سردار صاحب آپ نے الیکشن کو چیلنج کیا ہوا ہے، میں اس درخواست کو نکلواتا ہوں اور سیشن کے بعد فیصلہ کرتے ہیں ، تھوڑا سا صبر اور حوصلہ کریں ،اچھی روایت ڈالی جائے گی، اس کرسی سے کوئی غلط بات جائے وہ مناسب نہیں ہے، اس معاملے کو ابھی لیتے ہیں،میں جلد بازی میں کوئی رولنگ نہیں دینا چاہتا، جیسے ڈپٹی اسپیکر نے دس ووٹ اڑا دئیے تھے، جلد بازی والے آرڈرز غلط ہو جاتے ہیں تھوڑا انتظار کریں، پریزائیڈنگ افسر کو متنازع نہ بنائیں ،میں جلد بازی میں جیب سے خط نکال کر نہیں دیکھا سکتا، پانچ بندوں نے اگر کوئی خلاف ورزی نہیں کی تو وہ آ جائیں گے.

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن نے کورم کی نشاندھی کر دی .حکومت پنجاب اسمبلی کے ایوان میں کورم پورا کرنے میں ناکام ہو گئی جس پر سپیکر پنجاب اسمبلی نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16 اگست بروز منگل دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دیا.

  • وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب:صوبائی اسمبلی کیلئےضابطہ اخلاق جاری:دفعہ 144نافذ

    وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب:صوبائی اسمبلی کیلئےضابطہ اخلاق جاری:دفعہ 144نافذ

    لاہور:کل پنجاب اسمبلی میں وزیراعلیٰ پنجاب کے لیے انتخاب ہونے جارہا ہے اور اس سلسلے میں تمام ترحفاظتی اور قانونی اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ، اس سلسلے میں اسمبلی سیکریٹریٹ کی طرف سے کچھ احکامات بھی جاری کیئے گئے ہیں

    جیسا کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 22 جولائی 2022 کو وزیراعلیٰ پنجاب کے آزاد اور شفاف انتخاب کے انعقاد کیلئے صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ کی طرف سے ضابطہ اخلاق جاری کردیا گیا ہے۔

    کل کے حوالے سے جاری کردہ جوضابطہ اخلاق سامنے آیا ہے اس کے مطابق اسمبلی سیکریٹریٹ میں اراکین اسمبلی اور اسمبلی اسٹاف کے مہمانوں کے داخلے پر مکمل پابندی ہوگی۔اس کے ساتھ ساتھ اسپیکر باکس، آفیسر باکس اور مہمانوں کی گیلریاں بند ہوں گی، تاہم میڈیا گیلری کھلی ہوگی۔

    اس سلسلے میں مزید بتایا گیا ہے کہ جاری ضابطے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اراکین اسمبلی سے گزارش ہے کہ اسمبلی کی طرف سے جاری کردہ شناختی کارڈ ہمراہ رکھیں، جب کہ ایوان میں موبائل فون لے جانے پر پابندی ہوگی۔

    سیکریٹری پنجاب اسمبلی کی طرف سے یہ بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اراکین اسمبلی کا اسمبلی سیکریٹریٹ میں داخلہ ڈیوٹی فری شاپ کی طرف واقع گیٹ سے ہوگا۔

    اس موقع پر پولیس اسمبلی سیکریٹریٹ کی چار دیواری کے باہر انتظامی معاملات کنٹرول کرے گی۔ میڈیا پریس گیلری کے ذریعے وزیراعلیٰ پنجاب کے الیکشن کی کوریج کر سکے گا۔

    واضح رہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب کیلئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس 22 جولائی بروز جمعہ کو دوپہر 2 بجے شروع ہوگا۔

     

    دوسری جانب اجلاس کے پیش نظر اسمبلی کے اطراف میں دفعہ 144 نافذ کردی گئی ہے۔ محکمہ داخلہ کے مطابق کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے دفعہ 144لگائی جائے گی۔ اس دوران اسمبلی میں غیر متعلقہ افراد کا داخلہ بھی ممنوع قرار دیا گیا ہے۔مال روڈ پر ہجوم اور 3 سے زائد افراد کے جمع ہونے پر پابندی ہوگی۔

  • لاہور: آصف علی زرداری کی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات

    لاہور: آصف علی زرداری کی چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات

    لاہور:سابق صدر،پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنما آصف علی زرداری پی ڈی ایم اجلاس کے بعد چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کے لیے ان کی رہائش گاہ پر پہنچ گئے

    پارٹی ذرائع کے مطابق سابق صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگ ق کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین سے لاہور میں ان کے رہائش گاہ پر ملاقات کی ہے۔ملاقات میں وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخابات کے حوالے سے معاملات بھی زیر غور آئے جبکہ ملک کی مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آصف زرداری نے موجودہ سیاسی صورت حال پر چوہدری شجاعت کو اعتماد میں لیا۔

    شان شاہد کی عمران خان کو ضمنی انتخابات جیتنے کی مبارکباد

    خیال رہے کہ اس سے قبل اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں پی ڈی ایم اور اتحادی جماعتوں نے اسمبلیوں کا وقت پورا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔اتحادی جماعتوں کے اجلاس میں سابق صدر آصف علی زرداری ، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے شرکت کی۔

    اتحادی جماعتوں کے رہنماوں کا کہنا ہے قبل ازوقت انتخابات بہتر آپشن نہیں جبکہ پنجاب میں بھی وزارت اعلیٰ بچانے کے لیے تمام اتحادی جماعتیں کوشش کریں گے۔

    پی ٹی آئی کور کمیٹی کی وزیراعلیٰ کیلئے پرویزالٰہی کے نام کی توثیق، 14 ووٹوں کی برتری کا دعویٰ

    وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان کی رائے کا بے حد احترام ہے مگر فی الحال پارٹی میں قومی اسمبلی میں واپس آنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔شاہ محمود قریشی کاکہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ہم قومی اسمبلی آنے کو تیار نہیں کیونکہ ہمارا قومی اسمبلی واپس آنا بے معنی ہوگا۔

    وائس چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی میں واپسی کیلئے پارٹی سطح پر کوئی مشاورت بھی نہیں کی گئی، تحریک انصاف کا فوری نئے انتخابات کا مطالبہ برقرار ہے۔

    سابق وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے ساڑھے 3سال کی محنت سے ملکی معیشت کو مستحکم کیا تھا مگر آج ملکی معاشی صورتحال روز بہ روز بگڑتی جارہی ہے اور موجودہ حکومت ملک کو دیوالیہ ہونے کی نہج پر لے آئی۔

    شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ڈالر کی قدر بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، صورتحال حکومت کے کنٹرول سے باہر ہے، ان حالات میں ہم کیسے قومی اسمبلی واپس آئیں۔

    پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) اور حکومتی اتحاد نے قبل از وقت انتخابات نہ کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اہم ترین اجلاس میں آصف زرداری، فضل الرحمان اور دیگر جماعتوں کے قائدین شریک ہوئے، ضمنی الیکشن میں بد ترین صورتحال کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا، شرکا کو صوبائی اسمبلی میں نمبر گیم پر بریفنگ بھی دی گئی۔

    فوری انتخابات:تحریک انصاف قومی اسمبلی میں واپس نہ آنے کے مؤقف پر قائم

    پارٹی ذرائع کے مطابق لاہور میں پی ڈی ایم اور اتحادیوں کے اجلاس کا انعقاد کیا گیا، اجلاس میں پی ڈی ایم اور حکومتی اتحاد نے ملک میں قبل از وقت نہ کروانے کا متفقہ فیصلہ کیا۔

    اس حوالے سے پارٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ قبل از وقت انتخابات عمران خان کے دباؤ پر نہیں بلکہ حکومتی اتحاد کے متفقہ فیصلے کے تحت ہوں گے اور اسمبلیاں اپنی مدت پوری کریں گی۔

  • آئین شکنوں کےخلاف آرٹیکل 6کی کاروائی،پنجاب اسمبلی میں قرارداد

    آئین شکنوں کےخلاف آرٹیکل 6کی کاروائی،پنجاب اسمبلی میں قرارداد

    سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت آئین شکنی کے مرتکب افراد کےخلاف آرٹیکل 6کی کاروائی کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کرا دی گئی.قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی.قرارداد کے متن میں میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ کا آئین پاکستان کے تحفظ کا فیصلہ قابل تعریف ہے.

    آرٹیکل 6 ایسا ہتھیار نہیں کہ ہرکسی پرچلا دیں: اعتزاز احسن

    قرارداد میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں آئین شکنی کے مرتکب افراد کی نشاندہی کی ہے،سابق ڈپٹی سپیکر قاسم سوری اور فواد چوہدری نے دانستہ طور پر آئین شکنی کی،صدر عارف علوی ،عمران خان اورسابق سپیکر اسد قیصر بھی آئینی شکنی کے مرتکب ٹھہرائے گئے ہیں،سپریم کورٹ نے آئین پاکستان کا کھلواڑ کرنے والی کی نشاندہی کی ہے.

    قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں آئینی کے مرتکب افراد کے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے،

     

    الیکشن کمیشن کا عمران خان کے الزامات پر نوٹس، پیمرا سے ریکارڈ طلب کرلیا

     

    علاوہ ازیں صدرعارف علوی، عمران خان و دیگرکیخلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کیلئے سینیٹ میں قرارداد جمع کرا دی گئی.مسلم لیگ ن نے سپریم کورٹ کے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے حوالے سے فیصلےکے تحت آرٹیکل 6 کی،کارروائی کے لیے سینیٹ میں قرارداد جمع کرادی۔ مسلم لیگ ن کے سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان نے سینیٹ میں قرارداد جمع کرا دی ہے۔

    قرارداد میں کہا گیا ہےکہ صدر مملکت عارف علوی، عمران خان ، فواد چوہدری اور قاسم سوری کے خلاف آرٹیکل 6 کی کارروائی کی جائے۔قرارداد کے متن کے مطابق صدر مملکت عارف علوی کے خلاف مواخذے کی کارروائی کا آغاز کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کے خلاف ازخود نوٹس کے تفصیلی فیصلے پر جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے اضافی نوٹ لکھا جس میں ان کا کہنا ہےکہ اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، صدر اور وزیراعظم نے 3 اپریل کو آرٹیکل 5 کی خلاف ورزی کی، اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ سے صدر اور وزیراعظم کی اسمبلیاں تحلیل کرنے تک کی کارروائی عدم اعتماد ناکام کرنے کیلئے تھی۔

    مزید برآں وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف نے کہا ہے کہ بار بار جھوٹ بول کر قوم کو گمراہ کرنے والوں کا ایک اور جھوٹ آشکار ہو گیا۔ الزام خان کی جھوٹ اور الزام تراشی کی سیاست کا پول کھل گیا ہے۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی ہے جس نے نظریہ ضرورت کو ایک بار پھر دفن کر دیا۔

    وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ صدر عارف علوی ، اس وقت کے وزیراعظم عمران خان ، ڈپٹی سپیکر اور وزیر قانون نے آئین سے وفاداری کا حلف اٹھایا لیکن آئین شکنی کے مرتکب ہوئے۔آئین سے انخراف کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لانا پڑے گا، جس سے مستقبل میں ایسے آئین شکنوں کا رستہ رکے۔

    وزیراعلیٰ حمزہ شہباز نے سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ آئین کے آرٹیکل 5 کو آئین کی خلاف وری کے لیے استعمال کیا ۔ آئین سے کھلواڑ کرنے والوں پر آرٹیکل 6 لگے گا ۔ یہ پارلیمنٹ کی ذمہ داری ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے نے پی ٹی آئی کے سازشی بیانیہ کو بھی دفن کردیا۔ قوم محب وطن اور لیٹروں میں فرق کو جان چکی ہے۔

  • میں نے وزیراعظم کے بیٹے کی کمپنی پر بھی ٹیکس لگایا. وزیرخزانہ

    میں نے وزیراعظم کے بیٹے کی کمپنی پر بھی ٹیکس لگایا. وزیرخزانہ

    قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے اسپیکر قومی اسمبلی کو کہا کہ مجھے شاباش دیں کہ میں نے اپنی کمپنی سمیت میں نے وزیراعظم کے بیٹے کی کمپنی پر بھی ٹیکس لگایا. اور میری اپنی کمپنی بھی 20 کروڑ روپے اضافی ٹیکس دے گی۔

    مفتاح اسماعیل نے دعوی کیا کہ: اس سے پہلے ایسا کوئی کسان دوست بجٹ نہیں آیا ہے. ان کا کہنا تھا کہ: ہم 786 پر میسج کرنے والوں کو 2000روپے دے رہے اور جنہوں نے ابھی تک میسج نہیں کیا وہ بھی میسج کریں اگر وہ مقرر کردہ کریٹئریا میں آئے تو انہیں بھی پیسے دیئے جائیں گے. اور 10 لاکھ لوگوں کو 2،2 ہزارروپے دینے کیلئے رجسٹر کر لیا، 80 لاکھ لوگوں کو 2،2 ہزار روپے دیئے ہیں، رواں مالی سال 5300 ارب روپے کا خسارہ ہوا، پونے 4 سال میں 71 سال کے برابر قرض لیا گیا، رواں مالی سال کرنٹ اکاونٹ خسارہ 17 ارب ڈالر تک ہوگا۔

    ان کا کہنا تھا: ہمیں ارکان پارلیمنٹ نے اچھے مشورے دیئے ۔ ان میں سے بیشتر سفارشات کو شامل کر رہے ہیں ۔ اور ہم نے زرعی آلات ٹریکٹر وغیرہ پر سبسڈی دے کر کسانوں کی مدد کی۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ خسارہ پورا کرنے کیلئے ہمیں پوری دنیا سے پیسے مانگنا پڑتے ہیں، وزیراعظم کے بیٹوں کی کمپنیوں پر بھی زیادہ ٹیکس عائد کیا، میری اپنی کمپنی آئندہ مالی سال 20 کروڑ روپے زیادہ ٹیکس دے گی۔

    وزیر خزانہ نے بتایا: بجٹ خسارے کا ہدف 3990 مگر 5310 ارب کا خسارہ ہوا ہے، جی ڈی پی کا خسارہ 9.5 فیصد رہا، عمران خان تو ملک کو دیوالیہ کی طرف لے گئے تھے، ہم نے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا ہے، اب ایٹمی ملک دیوالیہ نہیں ترقی کی طرف جائے گا، چالیس ارب روپے میں پوری حکومت چلتی ہے، عمران خان پیٹرولیم پر 120 ارب روپے کی سبسڈی دے دی۔

  • قومی اسمبلی اجلاس: مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا۔ شیری رحمان

    قومی اسمبلی اجلاس: مشکل فیصلے نہ کرتے تو ملک دیوالیہ ہوجاتا۔ شیری رحمان

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اور پیپلزپارٹی کی رکن شیری رحمان نے کہا کہ: ہمیں آئی ایم ایف کے اس مشکل بجٹ کے ساتھ باندھنے کے اصل ذمہ داری تباہی سرکار پر عائد ہوتی ہے جو آئے تھے سو دن میں تبدیلی لانے اور جنہوں نے کشکول توڑنے کی بات کی تھی۔ لیکن سارا مسئلہ ان کی شاہ خرچیاں، تقسیم کی سیاست اور ان کی اپنی انا کی وجہ سے ہوا ہے۔

    وفاقی وزیر نے کہا: جو سیاست دان ایک دن بھی اپنی انا سے ذرا ہٹ جائے تو وہ مشکل فیصلے کرتے ہیں۔ اور آپ کا کیا خیال ہے کہ اس صورتحال میں ہمیں حکومت کرنا اور کسی کے ساتھ بندھ جانا ہمیں پسند ہے؟ نہیں ایک ہمارا یہ فیصلہ ہے اور دوسرا وہ تھا کہ ہم اپنے ملک کو دیوالیہ ہونے دیتے عمران خان جیسے نااہل حکمران کے ہاتھ میں لہذا ہم نے فیصلہ کیا کہ بھلے ہمیں مشکل فیصلے کرنے پڑیں مگر ملک کو بچانا ہے۔ سری لنکا کی آپ کے سامنے ہے جو دیوالیہ کی طرف جا چکا ہے۔

    شیری رحمان اپنے خطاب میں کہتی ہیں: تحریک انصاف کی حکومت کو آلو اور ٹماٹر کی قیمت سے کوئی سروکار نہیں جو اصل مسئلہ ہے اس ملک کا اور یہ حکومت اگر مشکل فیصلے نہ کرتی اور اپنی سیاسی ساکھ کو داو پر نہ لگاتی تو پاکستان سیدھا دیوالیہ ہونے جارہا تھا۔

    شیری رحمان نے الزام عائد کیا کہ: عمران خان پڑھے لکھے لوگوں کو گمراہ کررہا ہے لہذا اب ہماری اشرافیہ کو قربانی دینی ہوگی کیونکہ غریب نے پیٹ پر پتھر باندھے ہوئے ہیں اور اس قربانی سے ملک کو بچانا ہوگا۔

    ان کا تقریر کے آخر میں کہنا تھا کہ: ہمیں ایک غریب آدمی کیلئے انکی ضروری اشیاء خوردونوش جیسے دال، روٹی اور پٹرول کیسے سستا کرنا ہے اور ان کے گھروں میں صاف پانی کیسے آئے گا  اس سب پر مل جل کوئی حل نکالنا ہوگا اور یہ بحران تب ہی ختم ہوگا جب ہم آپس میں مل بیٹھیں گے۔

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس،بجٹ منظور

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس،بجٹ منظور

    گورنرپنجاب کی جانب سے بلایا جانیوالا پنجاب اسمبلی کا 41 واں اجلاس جاری ہے. پنجاب اسمبلی کااجلاس دو گھنٹہ اکاون منٹ کی تاخیر سے پینل آف چئیرمین خلیل طاہر سندھو کی زیر صدارت شروع ہوا. پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز بھی شریک ہیں.پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ منظور کر لیا گیا.

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے وزیر خزانہ سردار اویس لغاری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کالجز میں ہیومن ریسورس، سکول انفراسٹرکچر، ملازمین کا تحفظ بھی بجٹ میں مدنظر رکھیں گے، چودہ ہزار ملازمین جو بھرتی کیا آج وہ دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں،وزیر اعلی نے صحت کارڈ کی بہتر پرفارمنس اور مڈل کلاس کی علاج کےلئے رسائی کو یقینی بنائیں گے،

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ غریبوں کی صحت پر جو ڈاکا ڈالا جارہاہے اسے ختم کریں گے، ادویات کی فراہمی بجٹ میں اہم تجویز تھیں۔ بی ایچ یوز اور ٹی ایچ کیوز میں غریب مریضوں کو بہترین علاج فراہم کریں گے، پی ٹی آئی حکومت نے انٹر روڈ ٹرانسپورٹ تباہ کر دی روڈ خراب کردیا، روڈز انفراسٹرکچر کو بین الاقوامی معیار پر پنجاب بھر میں لاگو کریں گے.

    وزیر خزانہ نے کہا کہ پینتس ارب روپے روڈز کےلئے مختص کئے گئے ہیں اور ڈیڑھ سو روڈ نئی بنائی جائیں گی، بجلی کے بلوں پر ریلیف کےلئے گرین انرجی امپورٹڈ فیول سے دور لے جائے گی گرین انرجی کی طرف جائیں گے، ڈیڑھ ماہ میں کیبنٹ کے بغیر اور صدر ،گورنر کی کنفیوژن کے دوران حکومت نے عوامی مفاد کے اقدامات کئے،بڑھتی آبادی میں اضافہ پاکستان کےلئے خطرہ ہے.

    اویس لغاری نے ایوان کو بتایا کہ آئی ٹی سیکٹر میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کوجاری رکھیں گے، پنشن پانچ فیصد بڑھائی باقی پانچ اپریل میں بڑھائی تھی تو انہیں دس فیصد پنشن ملے گی، مسلم لیگ ن جانتی ہے اس بار چالیس فیصد اضافے سے خواتین کو بااختیار پروگرام کو شروع کریں گے، ن لیگ کا لگایا ہوا سیف سٹی اور امن و امان کا انفراسٹرکچر تھا اسے ختم کرو تو ایسی ذہنیت کو ختم کرناہوگا،
    الیکشن تک ہمیں بہت بڑے بڑے چیلنجز ہیں ڈویلپمنٹ ساڑھے تین سو ارب روپے زیادہ ہوتا اگر ہم پر قرض نہ ہوتا، ڈیڑھ سال میں حکومت ثابت کرے گی امن و امان بہتر اور عوام کو ریلیف دے کر جائیں گے

    اویس لغاری کا کہنا تھا کہ ڈویلپمنٹ کا کمیشن اور حرام کا پیسہ نہیں کھائیں گے اوس حج سکینڈلز کو ختم کریں گے، وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز کی سربراہی میں کام کریں گے اور کوئی کرپشن کا کیس سامنے نہیں آئے گا، کسانوں کو بیس ارب روپے سے زائد قرضے دے گی، نیک نیتی سے چلنے کا وعدہ کرتے ہیں اتحادیوں سے مل کر پنجاب کی ترقی کے سفر کو جاری رکھیں گے، ڈیڑھ سال سے بزدار اور پی ٹی آئی کے پنجاب سے مختلف پنجاب قوم کے سامنے لائیں گے.

    پنجاب اسمبلی میں بجٹ 2022-23کی منظوری کا آغاز ہو گیا.حکومت نے 27 کھرب 11ارب 67کروڑ 23لاکھ 26 ہزار روپے کے چالیس مطالبات زر منظور کر لئے گئے، حکومت نے امن و امان اور پولیس کےلئے ایک کھرب 49ارب ایک کروڑ89 لاکھ 78ہزار روپے منظور کرلئے، حکومت نے تعلیم کےلئے 81ارب50کروڑ 62 لاکھ 52ہزار منظور کرلئے جبکہ صحت کے شعبے کےلئے ایک کھرب 83ارب64کروڑ 4لاکھ 46ہزارروپے کی مد میں منظور کرلئے،زراعت کےلئے 20ارب 4 کروڑ42لاکھ72ہزار روپے منظور کرلئے گئے، محکمہ آبپاشی کےلئے 24ارب 91کروڑ 64لاکھ 82ہزار روپے منظور کئے گئے، جیل خانہ کےلئے 13ارب79کروڑ37لاکھ44ہزار روپے منظور، مواصلات کےلئے 8ارب95کروڑ87لاکھ24ہزار روپے منظور کیے گئے.

    سڑکوں اور پلوں کیُ تعمیر کےلئے ایک کھرب ایک ارب 77کروڑ 30 لاکھ روپے منظور کرلئے گئے۔

    پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں پنشن کی مد میں 3کھرب12ارب روپے منظور کئے گئے، سبسڈیز کےلئے 42ارب 63کروڑ96لاکھ65ہزار روپے مختص کئے گئے، نظام عدل کےلئے 28ارب13کروڑ97لاکھ14ہزار روپے منظور کئے گئے،جنگلات کےلئے 4ارب 88کروڑ28لاکھ 28 ہزار روپے منظور کرلئے گئے.سرمایہ کاری کےلئے 55ارب55کروڑ51لاکھ 17 ہزار روپے منظور کئے گئے، صنعت کے شعبے کےلئے 11ارب 45 کروڑ73لاکھ71ہزار روپے مختص کئے گئے.

    پریس کلب کی گرانٹ روکنے اور جرنلسٹ ہاوسنگ کالونی میں قبضوں کے خلاف صحافیوں نے پریس گیلری سے ٹوکن واک آوٹ کر دیا پینل آف چیئرمین نے صحافیوں سے مزاکرات کیلئے خواجہ عمران نزیر ، مجتبیٰ شجاع الرحمن پر مشتمل تین رکنی قائم کردی

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف قرارداد اسمبلی میں جمع

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف قرارداد اسمبلی میں جمع

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے

    دوسری جانب سیاسی رہنماؤں کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے حوالہ سے شدید ردعمل دیکھنے میں آیا ہے، امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کہتے ہیں کہ سرکاری عہدے پربیٹھ کر تجارت کرنا درست نہیں،نظام میں حقیقی تبدیلی کی ضرورت ہے لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہوااور جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات ہوئے،پشاور میں 40روپے کی روٹی مل رہی ہے ،غریب کدھر جائے گا،عالمی سروے کے مطابق پاکستان کا اشرافیہ مراعات لے رہا ہے،مسائل کے ذمہ دار باہر والے نہیں ، پاکستان میں بیٹھے ہیں،پیٹرول مہنگا ہوگیا ،عوام کو مشکل کا سامنا ہے ،کرپشن کی وجہ سے ادارے تباہ ہوگئے ،اس کا ذمہ دار کون ہے؟ملک کو مختلف چیلنجز کاسامنا ،عوام کس کی طرف دیکھیں گے ، اب تو سانس لینا بھی مشکل ہوگیا،پی ٹی آئی اور پی ڈی ایم نے ملک کو آئی ایم ایف پر بھیج دیا،گزشتہ روز پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا بم عوام پر گرایا گیا، عمران خان، آصف زرداری اور نواز فیملی کے اثاثوں میں اضافہ ہوا،

    دوسری جانب قومی اسمبلی اجلاس میں میر خان محمد جمالی نے ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پیٹرول کی قیمت میں 84 روپے فی لیٹر تین ہفتے میں اضافہ ہوا ہے،وزیر خزانہ منتخب اور نہ ہی کسی کو جوابدہ ہیں،وزیر خزانہ نے طنزیہ طور پر ہنس کر کہا کہ قیمتیں بڑھیں گی،وزیر خزانہ غریب آدمی کی حالت کا اندازہ نہیں لگا سکتے،کہتے ہیں پی ٹی آئی کی حکومت نے سرنگیں بچھائی ہیں ،تواس وقت سب ٹھیک کیسے چل رہا تھا؟ حکومت عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کا خون چوس رہی ہے یہ ساری جماعتیں کیا پاکستان کو تباہ کرنے کے لیے اکٹھی ہوئی ہیں، میر خان محمد جمالی نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں عمران خان زندہ آباد کا نعرہ لگا دیا

    وزیر مملکت خزانہ عائشہ غوث پاشا کا کہنا تھا کہ ہمیں ملک کی خاطر آئی ایم ایف پروگرام ہر حال میں کرنا ہے، آئی ایم ایف سے روزانہ کی بنیاد پر بات چیت جاری ہے،آئی ایم کے ساتھ بات چیت میں نتائج کے قریب پہنچ چکے ہیں، آئی ایم ایف نئے بجٹ کا جائزہ لے رہا ہے امید ہے آئی ایم ایف سے معاملات جلد طے پا جائیں گے،

    پی ٹی آئی کے رہنما فرح حبیب کہتے ہیں کہ یہ حکومت پچھلے 15 روز میں پٹرول پر 84 روپے اور ڈیزل میں 120 روپے تاریخی اضافہ کر چکے ہیں یہ بدترین مہنگائی کا خودکش حملہ ہے پاکستان کی عوام پر یہ غلام حکومت روس سے سستا تیل نہیں لی رہی جسکی قیمت پاکستان کی عوام ادا کر رہی ہے

    مجلس وحدت مسلمین شعبہ خواتین کی مرکزی سیکرٹری جنرل و رکن پنجاب اسمبلی سیدہ زہرا نقوی نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پنجاب کا یہ مقدس ایوان پٹرولیم مصنوعات کی حالیہ قیمتوں میں اضافے کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کرتا ہے حکومت پچھلے بیس روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں 84 روپے فی لٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 119 روپے ریکارڈ اضافہ کر چکی ہے مہنگائی کی چکی میں پسی ہوئی عوام پر پٹرول بم گرانا ظالمانہ اقدام ہے موجودہ حکومت پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو ریکارڈ سطح پر لے آئی ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے حکومت نے عوام کو زندہ درگور کر دیا ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف مہنگائی کا طوفان آئیگا بلکہ اس کا براہ راست اثر غریب عوام پر پڑے گا

    دنیا کے تین چوتھائی سے زیادہ ممالک میں پیٹرول کی قیمت پاکستان کی نسبت زیادہ،

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

  • پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

    پنجاب اسمبلی کے علیحد ہ علیحدہ اجلاس،بجٹ پیش

    سپیکر پیجاب اسمبلی چوہدری پرویزالہی کی زیر صدارت پنجاب اسمبلی کا 40 واں اجلاس شروع ہو گیا.جبکہ دوسری طرف ایوان اقبال میں بجٹ اجلاس 2 گھنٹے 12 منٹ کی تاخیر سے شروع ہو گیا.اجلاس کی صدارت ڈپٹی اسپیکر سردار دوست محمد مزاری کر رہے ہیں .وزیر اعلی پنجاب حمزہ شہباز شریف بھی ایوان اقبال پہنچ گئے ہیں .قبل ازیں گورنر پیجاب نے 40 واں اجلاس برخواست کر دیا تھا اور 41 واں اجلاس ایوان اقبال میں منعقد کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا .

    سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہٰی کا طلب کردہ اجلاس 1 گھنٹہ 41 منٹ کی تاخیر سے پنجاب اسمبلی میں شروع ہوا جس میں تحریکِ انصاف اور ق لیگ کے ارکان نے شرکت کی۔تاہم کوئی بھی حکومتی رکنِ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوا۔

    ایوان اقبال میں گورنر پنجاب کی جانب سے بلائے گئے بجٹ اجلاس صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ چوردروازے سے آنے والوں کےعزائم ناکام ہوئے، سابق دورمیں صوبے میں گورننس نام کی کوئی چیزنہیں تھی،عوام نے شہبازشریف سے متحرک لیڈر نہیں دیکھا، سفاک حکمرانوں نے عوام کے ساڑھے 3سال ضائع کیے، گزشتہ حکومت نے کرپشن کے ریکارڈقائم کیے،3سال میں کوئی ترقیاتی منصوبہ مکمل نہیں کیاگیا،(ن) لیگ کے دور میں ترقی کی شرح بڑھ رہی تھی ،چوربازاری سےآنےوالےشعبدہ بازوں کو(ن)لیگ نےناکام بنادیا، سی پیک کےتحت 51ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی،ا ہم نے گزرنے والے کل کوبدلا، آنے والاکل بھی بدلیں گے، توانائی کا مسئلہ تمام مسائل کی جڑہے، مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کیا تھا،متعدد توانائی منصوبے(ن)لیگ کے دورمیں لگائے گئے، گزشتہ حکومت نےاسپتالوں میں مفت ادویات کانظام لپیٹ دیا،مسلم لیگ کےصحت کارڈ کوانصاف صحت پروگرام کانام دیا گیا.
    وزیر خزانہ نے بتایا کہ پنجاب حکومت کا مالی سال برائے 2022-23 کا میزانیہ 3226 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ بجٹ کا میزانیہ ٹیکس فری ہوگا۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 30 فی صد اضافہ، ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 15 فی صد اضافے کی تجویز ہے۔ مقامی حکومتوں کے لئے 528 ارب روپے، ترقیاتی اخراجات کے لئے 685 ارب روپے، تنخواہوں کے لئے 435 ارب روپے ، پینشن کے لئے 312 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔

    بجٹ میں سرکاری ملازمین کےلیے مہنگائی اور آمدن کی شرح میں بڑھتے ہوئے فرق کو کم کرنے کیلئے خصوصی الاﺅنس تجویز کیا گیا۔ گریڈ 1 سے گریڈ 19 تک ملازمین کو بنیادی تنخواہ کا 15 فیصد اضافی دیا جائے گا ۔ کم از کم اجرت 20,000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 25,000 روپے ماہانہ مقرر کی جا رہی ہے۔

    آمدن کا تخمینہ 2521 ارب روپے لگایا جا رہا ہے، جس میں وفاقی محاصل سے 2020 ارب روپے حاصل ہونے کی توقع ہے اور صوبائی محصولات کا تخمینہ 500 ارب روپے ہے۔ نان ٹیکس ریونیو کا تخمینہ 24 فی صد اضافے سے 163 ارب روپے، ایکسائز کے محاصل کی وصولی کے اہداف 2 فی صد اضافے سے 43 ارب روپے، بورڈ آف ریونیو کے محاصل 44 فی صد اضافے کے ساتھ 96 ارب روپے، پنجاب ریونیو اتھارٹی کا ہدف 22 فی صد اضافے سے 190 ارب روپے مقرر ہے۔

    آئندہ مالی سال میں 435 ارب 87 کروڑ روپے تنخواہوں، 312 ارب روپے پنشن، 528 ارب روپے مقامی حکومتوں کے لیے مختص کئے گئے ہیں ۔ 685 ارب روپے ترقیاتی پروگرام کے لئے تجویز کیے گئے ہیں۔ شعبہ صحت پر 10 فیصد اضافے کے ساتھ 485 ارب 26 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ تعلیم پر 428 ارب 56 کروڑ روپے صحت کارڈ کے لئے 125 ارب رکھے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ عوامی سہولت پیکیج کے تحت 200 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے۔ 650 روپے والا 10 کلو آٹے کا تھیلہ اب عوام کو 490 روپے میں دستیاب ہے ۔ اس پیکج کی مالیت 142 ارب روپے ہے۔

    سیلز ٹیکس آن سروسز میں ٹیکس ریلیف کو جاری رکھنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انقلابی منصوبہ ”وزیر اعلیٰ لیپ ٹاپ اسکیم” کو بھی بحال کیا جا رہا ہے۔ رحمت اللعالمین پروگرام کے تحت تعلیمی وظائف کے لیے 86 کروڑ روپے مختص کیے جارہے ہیں۔ جنوبی پنجاب کے لئے 239 ارب 79 کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کی زیر صدارت پارلیمانی پارٹی کا اجلاس منعقد ہوا.
    پاکستان مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں کے ارکان نے کثیر تعداد میں شرکت کی.اس موقع پر حمزہ شہباز نے کہا کہ3 ماہ سے چند انا پرست لوگوں کے پیدا کردہ بحران سے گزر رہے ہیں۔غیر یقینی صورتحال میں صوبے نہیں چل سکتے، 3 دن سے بجٹ نہیں پیش کرسکے۔آئین اور قانون کے رکھوالوں کو غنڈوں کے حوالے نہیں کیا جاسکتا۔ یہ لوگ اپنی ڈیوٹی سرانجام نہ دیتے تو صوبہ بنینا ری پبلک بن جاتا۔

    حمزہ شہبازنے کہا کہ وزیراعلیٰ کے انتخاب کے دوران وردی میں ملبوس افسروں کو ٹھڈے اور مکے مارے گئے۔سب جانتے ہیں کہ ایوان میں غنڈے کس طرح ڈپٹی سپیکر کی طرف لپکے تھے۔احتجاج کے دوران شہید پولیس اہلکار بیٹے کی سسکیاں دل چیر دیتی ہیں۔چار سال سے ایک پائی کی کرپشن یا منی لانڈرنگ ثابت نہیں کرسکے۔ضمانت کیس میں کرپشن کا ثبوت نہ ملنے کا فیصلے میں بھی ذکر کیا گیا۔عوام کی سہولت کیلئے ریلیف والا بجٹ دینے جا رہے ہیں۔حمزہ شہباز
    ارکان اسمبلی بجٹ اجلاس میں حاضری یقینی بنا کر اپنا حق ادا کریں۔

    صوبائی وزیر ملک محمد احمد خان کا کہنا تھا کہ مصالحت کی ہرممکن کوشش کی گئی، بچگانہ حرکتوں سے بجٹ زیر التوا رکھا گیا۔ایسے شخص سے مقابلہ ہے جو واضح ہار بھی ماننے کو تیار نہیں۔آئینی اور قانونی طور پر گورنر کو اجلاس کے وقت اور مقام کا تعین کرنے کا اختیار ہے۔ صوبائی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے اختتام پر دعائے خیر بھی کی گئی

    پرویز الہٰی کے طلب کردہ اسمبلی کے اجلاس میں عطاء تارڑ کے خلاف متفقہ طور پر تحریکِ استحقاق منظورکر لی گئی۔ تحریکِ استحقاق پی ٹی آئی رکنِ اسمبلی ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایوان میں جمع کرائی۔ تحریکِ استحقاق کے متن کے مطابق صوبائی وزیر عطاء اللّٰہ تارڑ نے ایوان میں نازیبا اشارہ کیا، خواتین کی موجودگی میں ایوان کے اندر غلط اشارے کیے گئے۔

    پی ٹی آئی کی رکن ڈاکٹر یاسمین راشد نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عطاء تارڑ کے نازیبا اشارے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک ہاتھ میں آئینِ پاکستان کی کتاب، دوسرے سے اشارہ ناقابلِ برداشت ہے، ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔

    ڈاکٹر مراد راس نے اپیل کی کہ مقصود چپڑاسی اور ڈاکٹر رضوان کے لیے دعا کرنی چاہیے، اللّٰہ تعالیٰ انہیں جنت میں جگہ دے۔ پنجاب اسمبلی میں مقصود چپڑاسی اور ڈاکٹر رضوان کے لیے دعائے مغفرت کی گئی۔

    اسپیکر کے حکم پر سیکریٹری پارلیمانی امور عنایت اللّٰہ لک نے پینل آف چیئرمین کا اعلان کیا۔ پینل آف چیئرمین میں نوابزادہ وسیم خان باروزئی، میاں شفیع محمد، ساجد احمد خان بھٹی اور شازیہ عابد شامل ہیں۔

    پنجاب اسمبلی میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے میاں محمودالرشید نے عطاء تارڑ کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اس سوچ کے لوگوں کا وزیر بننا لمحۂ فکریہ ہے، وکلاء برداری ان کا لائسنس منسوخ کرے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحریکِ استحقاق کو فوری کمیٹی کے سپرد کریں، ایسے افراد کے ایوان میں آنے پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگائی جائے۔

    ایوان میں پی ٹی آئی رکن میاں اسلم اقبال نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ میرے اور میرے بھائیوں کے خلاف پرچے کاٹنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں، عطاء تارڑ کی حرکت سے پوری قوم کا استحقاق مجروح ہوا۔

    سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی اسمبلی پہنچ گئے، اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اجلاس چل رہا ہو تو آرڈیننس پیش نہیں ہو سکتا، ابھی پہنچا ہوں، دیکھنا پڑے گا کہ اسمبلی کے اختیارات کیسے محدود کیے گئے۔اسپیکر چوہدری پرویز الہٰی نے اپنا طلب کردہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 1 بجے تک ملتوی کر دیا۔

    قبل ازیں سابق وزیر اعظم چودھری شجاعت حسین کا اسمبلی اجلاس ایوان اقبال میں ہونے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاید پنجاب حکومت نے اسمبلی کے اختیارات کو محدود کرنے کیلئے ایوان اقبال میں یہ اجلاس بلایا ہے،ارکان اسمبلی پنجاب اسمبلی بلڈنگ والے اجلاس میں جائیں اور اپنے اختیارات کا تحفظ کریں، آجکل سیاست تماش بینوں کے ہتھے چڑھ گئی ہے، ڈر ہے کہ تماش بین ملک کا تماشہ بنانے کی کوشش کررہے ہیں، اسمبلی اجلاس تماش بینوں کے ہاتھ نہ چڑھ جائے،کیونکہ تماشبین اپنا تماشہ لگا رہے ہیں وہ قوم کو تماشہ نہ بنائیں.

  • بجٹ کیلئے اسمبلی آیا مگر آج بھی تماشا چل رہا ہے،حمزہ شہباز

    بجٹ کیلئے اسمبلی آیا مگر آج بھی تماشا چل رہا ہے،حمزہ شہباز

    وزیراعلی پنجاب حمزہ شہباز نے کہا کہ 12 کروڑ کے صوبے کا بجٹ آپ نے جام کیا ہے، ہماری نیت صاف ہے، 3 ماہ سے ان کا سامنا کررہا ہوں .رات گئے تک بیٹھوں گا، عوام دیکھیں گے یہ شخص تماشا کررہا ہے، یہ وہی اسپیکر ہے جس کے اپنے خلاف عدم اعتماد ہے.

    پنجاب اسمبلی کے باہر میڈیا نمائیندوں سے گفتگو کرتے ہوئے حمزہ شہباز نے کہا کہ یہ روز آئین اور قانون کی پامالی کر تا ہے،بجٹ پاس ہوگا اللہ کو منظور ہوا تو،آپ کو کسی کی شکل پسند نہیں، پرانا دکھ اور غصہ ہےتو کیوں آئین کو پامال کر رہے ہیں،عوام کو بتائوں گا تین ماہ میں پنجاب میں جو آئین و قانون کاُ تماشا لگایا.

    حمزہ شہباز کا کہنا تھا کہ تین مہینوں کا تماشا پہلے کبھی نہیں دیکھا کبھی اجلاس بلایا تو چند منٹ میں ختم کر دیا جاتاہے،راجہ ایندر پرویز الہی بنے ہوئے ہیں،آئین و قانون پاسداری کرتے ہوئے ڈپٹی سپیکر نے وزارت اعلی کا انتخاب کیا،ٹوٹے ہوئے بازو کا تماشا لگایا گیا ،میرئ ذات کا معاملہ نہیں عوام کا معاملہ ہے،لوگ مہنگائی کے شکار ہیں اور انہیں آئی جی اور چیف سیکرٹری کی پڑی ہوئی ہے

    حمزہ شہباز نے کہا کہ میری انا عوام سے زیادہ نہیں لیکن انہوں نے بازاری زبان استعمال کی ، رات بارہ بجے گھرگیا، کھیل تماشا کرنے تو نہیں آیا، کلرکوں اور مزدوروں کےلئے اچھی خبر لے کر آیا مگر بنی گالہ اور سپیکر پرویز الہی کی انا کی تسکین نہیں ہو رہی.

    حمزہ شہبازکا کہنا تھا کہ فرح گوگی کا نام لیا جاتاہے تو تکلیف ہوتی ہے ریاست مدینہ میں توشہ خانہ سے گھڑیاں بیچی جاتی ہیں ، عوام کو بتانا چاہتا ہوکہ انا نہیں ہے عوام کی بہتری کےلئے انا بھی نچھاور کر دوں گا.

    ہم کہتے ہیں بجٹ پیش کرنے دو مگر وہ کہتے آئی جی کو پیش کرو، انہیں اب عوام کی عدالت میں پیش کروں گا، ڈر کر کہتا ہوں دو ماہ کی کابینہ نے آٹے پردو سو ارب روپے کی سبسڈی دی ، تماشا بند ہوناچاہئے، آئین و قانون کا تماشا بند ہونا چاہئیے،اب تماشا نہیں چلے گا، بجٹ بھی پاس ہوگا اور کامیاب بھی ہوں گے،اگر کسی کی شکل پسند نہیں تو آئیُن و قانون کی پامالی تو نہُ کریں.

    اوزیراعلی نے مزید کہا کہ آج بھی آیا ہوں ، بیٹھوں گا مگر تماشا آج بھی جاری ہے، یہ وہی سپیکر ہے جس پر عدم اعتماد ہے ، اب عوامُ دشمنی کررہے ہیں، آپشن نہیں بتائوں گا نیت صاف ہے، تین ماہ سے آئینی بحرانوں کا سامنا کررہاہوں، پہلی جولائی سے ٹی ایچ کیو ڈی ایچ کیو میں مفت ادویات دوںُگا ،بجٹ بھی پیش ہوگا آئینی کھلواڑ کا بھی بندوبست کروں گا.