Baaghi TV

Tag: اسمگلنگ

  • گزشتہ 3 سالوں  میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے کتنی منشیات ضبط کی؟

    گزشتہ 3 سالوں میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے کتنی منشیات ضبط کی؟

    اسلام آباد:گزشتہ 3 سالوں کے دوران اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے اندر اور گرد و نواح میں منشیات کی روک تھام کی کاروائیوں کی تفصیلات سینیٹ میں پیش کر دی گئی۔

    منشیات اسمگلنگ کی روک تھام اور تدارک کے لیے انٹیلیجنس بنیاد پر چھاپہ مار کاروئیاں کی گئیں،اسلام آباد کے تعلیمی اداروں کے اندر اور گرد و نواح میں منشیات کی روک تھام کے چھاپوں میں 307 کلوگرام منشیات ضبط کی گئی۔

    گزشتہ تین سالوں میں اسلام آباد کی تعلیمی اداروں میں منشیات اسمگلنگ کے خلاف کارروائی میں 214 کیسز درج ہوئے اور 263 گرفتار ہوئےسال 2023 میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے 3 کلو ڈرگ ضبط کی گئی، 4 افراد گرفتار ہوئے اور 4 کیسز بنے۔ 2024 میں اسلام آباد کے تعلیمی اداروں سے 176 کلو منشیات ضبط ہوئی اور 102 کیسز درج ہوئے اور 125 گرفتار ہوئے جبکہ 2025 میں 307 کلو گرام منشئات ضبط کی گئی، 108 کیسز بنے، 134 گرفتار ہوئے۔

    سی سی پی او لاہور کی تبدیلی کا بھی امکان

    بھارتی گروہ کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں بھتہ خوری، بلیک میلنگ اور منظم جرائم میں ملوث

    شوہر کے مذاق نے خاتون کی جان لے لی

  • پاکستان کسٹمز  کی کارروائی،38ہزار 265لیٹر  اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل  برآمد

    پاکستان کسٹمز کی کارروائی،38ہزار 265لیٹر اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل برآمد

    پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ میرین یونٹ نے انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت کھلے سمندر میں ایک کارروائی میں بڑے پیمانے پر ہائی اسپیڈ ڈیزل اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی –

    تفصیلات کے مطابق کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کراچی معین الدین وانی کے مطابق یہ کارروائی مصدقہ اطلاع پر بلوچستان کے ساحل سے متصل علاقے مالان میں کی گئی طلاع پر بروقت کارروائی سے سمندری راستے ڈیزل اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی، انفورسمنٹ میرین یونٹ کی جانب سے الغفوری اور الکبیر نامی لکڑی کی دو لانچوں کو روک کر اسکی تلاشی لی تو دونوں لانچوں سے مجموعی طور پر 38ہزار 265لیٹر اسمگل شدہ ہائی اسپیڈ ڈیزل برآمد ہوا، بر آمدہ اسمگل شدہ ڈیزل اور دونوں لانچوں کی مالیت 4 کروڑ روپے سے زائد ہے حکام نے مقدمہ درج کرکے دونوں لانچیں اور اسمگل شدہ ڈیزل ضبط کرکے کسٹمز گودام منتقل کردیا ہے۔

    
دورہ پاکستان سے قبل آسٹریلیا کو دھچکا، پیٹ کمنز اور کئی اہم کھلاڑی باہر

    ای ٹیگ کے بغیر گاڑیوں کے خلاف کارروائی شروع

    اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

  • بلوچستان: سیکیورٹی، اسمگلنگ اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر سخت اقدامات کا فیصلہ

    بلوچستان: سیکیورٹی، اسمگلنگ اور ریاست مخالف سرگرمیوں پر سخت اقدامات کا فیصلہ

    وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کے 19ویں اجلاس میں سیکیورٹی، اسمگلنگ، غیر قانونی ترسیلات زر اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے خلاف مؤثر کارروائیوں کا فیصلہ کیا گیا۔

    اجلاس میں کور کمانڈر بلوچستان لیفٹیننٹ جنرل راحت نسیم احمد خان سمیت اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، اسمگلنگ، غیر قانونی مالی لین دین اور ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔اپیکس کمیٹی نے اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کو مزید مؤثر بنانے کا فیصلہ کیا۔ اسمگلنگ میں ملوث ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ڈرائیورز کے خلاف ایف آئی آرز درج ہوں گی۔کمیٹی نے ایف آئی اے کو غیر قانونی ترسیلات زر اور ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف بھرپور کارروائی کی ہدایت جاری کی۔

    سوشل میڈیا پر ریاست مخالف پروپیگنڈا پھیلانے والے اکاؤنٹس کے خلاف بھی کارروائی تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کے رولز کو جلد حتمی شکل دی جائے گی اور احتجاج کے نام پر کسی بھی اہم شاہراہ کو بند ہونے سے روکا جائے گا۔ترقیاتی منصوبوں میں بولان روٹ کی توسیع، ڈیرہ مراد جمالی بائی پاس اور کوئٹہ ویسٹرن بائی پاس شامل ہیں۔ این ایچ اے کو ویسٹرن بائی پاس منصوبہ 25 دسمبر تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی، جبکہ پٹ فیڈر کینال کو ایف سی سیکیورٹی فراہم کرے گی۔

    وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ کرپشن، بھتہ خوری اور غیر قانونی ترسیلات زر کسی صورت برداشت نہیں کی جائیں گی۔ نوجوانوں کو انتہا پسندی اور منشیات سے بچانا وقت کی اہم ضرورت ہے، ریاست کے خلاف کسی کو سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔اجلاس کے اختتام پر اپیکس کمیٹی نے 78ویں یوم آزادی اور ”مارکۂ حق“ کو بھرپور جوش و جذبے سے منانے کا اعلان بھی کیا۔

    کراچی میں بدترین ٹریفک جام، اہم شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں

    اربوں روپے کے فراڈ کا نیٹ ورک بے نقاب، 149 ملکی و غیر ملکی افراد گرفتار

    افغان طالبان کا بین الاقوامی فوجداری عدالت کو تسلیم کرنے سے انکار

    اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ڈیفنس فلیٹ سے برآمد، طبعی موت کا شبہ

    پاک فضائیہ کی بھارت سے جھڑپ میں کارکردگی قابل ستائش، چینی ایئر چیف کا اظہارِ تحسین

  • برطانیہ میں غیرقانونی تارکین  وطن سے منشیات اسمگل کروانے کا انکشاف،مجرمان کو 80 سال قید کی سزا

    برطانیہ میں غیرقانونی تارکین وطن سے منشیات اسمگل کروانے کا انکشاف،مجرمان کو 80 سال قید کی سزا

    لندن: آٹھ افراد کو بھنگ کے فارموں کو چلانے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں دو الگ الگ نیشنل کرائم ایجنسی کی تحقیقات کے بعد کل تقریباً 80 سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

    برطانیہ کی نیشنل کرائم ایجنسی کے مابق منظم جرائم کے گروہ، جن کے سرغنہ دونوں برمنگھم میں مقیم تھے، مڈلینڈز، لندن اور انگلینڈ کے شمال میں فارم چلاتے تھے، اکثر ان میں کام کرنے کے لیے غیر قانونی طور پر برطانیہ لائے گئے تارکین وطن کو استعمال کرتے تھے بیتھم ٹاور، برمنگھم کے 35 سالہ سزا یافتہ لوگوں کے سمگلر مائی وان نگوین کی سرگرمیوں کے بارے میں NCA کی تحقیقات کے بعد پہلے گینگ کو ختم کر دیا گیا۔

    اس نے ایک مجرمانہ نیٹ ورک کی قیادت کی جس میں ساتھی ویت نامی شہری 38 سالہ دونگ ڈِنہ، برمنگھم سے اور 24 سالہ نگیہ ڈِنہ ٹران، لیوشام، لندن سے، تارکینِ وطن کو کام پر لگا کر استحصال کرنے کے لیے شامل تھے۔

    جنوری اور فروری 2025 میں برمنگھم کراؤن کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت ہوئی کہ کس طرح شمریز اختر اور تساور حسین، دونوں 50 سالہ اور برمنگھم سے ہیں، ٹیکسی ڈرائیور تھے جو تارکین وطن کو گینگ کے لیے مختلف املاک کے ارد گرد منتقل کرتے تھے، جنہیں ایک وقت میں سینکڑوں پاؤنڈ ادا کیے جاتے تھے،موقع پر وہ کھیتوں کے لیے بھنگ یا سامان بھی لے جاتے۔

    گینگ کا چھٹا رکن، برمنگھم سے تعلق رکھنے والے 44 سالہ امجد نواز نے ایک مڈل مین کے طور پر کام کیا، اور وہ نگوین کے ساتھ کارکنوں، بھنگ کی خرید و فروخت اور برمنگھم میں استعمال ہونے والی جائیدادوں کے انتظامات کے بارے میں باقاعدہ بات چیت کرتا تھا۔

    ان کے مقدمے کی سماعت اسمگلنگ کا شکار ہونے والے ایک شخص سے ہوئی، جس کا نام صرف ‘وٹنیس زیڈ’ ہے، ایک ویتنامی شہری ہے جس کا نومبر 2020 میں کشتی کے ذریعے برطانیہ پہنچنے کے بعد گینگ نے استحصال کیا تھا گواہ زیڈ نے بھنگ کی کئی فصلوں میں کام کیا، اس نے کہا کہ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کیونکہ وہ ان لوگوں کے قرضوں میں جکڑا ہوا تھا جنہوں نے اسے برطانیہ پہنچایا تھا۔

    جون 2021 میں اسے کلیولینڈ پولیس کے افسران نے ہارٹل پول کے ایک گھر پر ایک فارم پر چھاپہ مارنے کے بعد گرفتار کیا تھا افسران کو اندر سے سونے کے کمرے کے دروازے پر ایک نوٹ ملا جس میں لکھا تھا کہ "جو آپ چاہتے ہیں لے لو، براہ کرم مجھے مت مارو، مجھے انگریزی نہیں آتی”، اور ایک تارکین وطن سے ہاتھ سے لکھی ہوئی ڈائری کا اقتباس جس میں وہ پوچھتے ہیں کہ "مجھے کیوں مارا پیٹا گیا اور کام پر مجبور کیا گیا؟”

    NCA کی تحقیقات کے دوران نیٹ ورک سے منسلک بھنگ کے فارم ویسٹ مڈلینڈز میں ٹپٹن، کوونٹری اور ایجبسٹن، ڈربی، ہارٹل پول، لندن میں ایسٹ ہیم اور چیشائر میں گیٹلی میں پائے گئے برمنگھم کے ہال گرین میں ایک اور پراپرٹی سے کٹی ہوئی بھنگ برآمد ہوئی۔

    Nguyen اور Tran دونوں نے بھنگ پیدا کرنے کی سازش کرنے کا اعتراف کیا، لیکن دوسروں نے اس الزام سے انکار کیا تمام چھ افراد نے استحصال کے لیے اسمگلنگ کے الزامات سے انکار کیا، لیکن پیر 24 فروری کو، برمنگھم کراؤن کورٹ میں سات ہفتے کے مقدمے کی سماعت کے بعد، تمام چھ افراد کو تمام الزامات کا مجرم پایا گیا جمعہ 4 جولائی کو نگوین کو 15 سال، ڈنہ کو 14 سال، ٹران کو ساڑھے 11 سال، نواز کو 12 سال، جب کہ حسین اور اختر کو بالترتیب 10 اور ساڑھے 10 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

    دریں اثنا اسی عدالت میں ایک الگ سماعت میں دوسرے منظم جرائم گروپ کے دو دیگر ارکان کو بھی آج سزا سنائی گئی برمنگھم سے تعلق رکھنے والے 37 سالہ رومن لی نے ایک گینگ کا سربراہ تھا جو رہائشی اور تجارتی املاک میں کم از کم آٹھ فارم چلاتا تھا، ساتھ ہی ساتھ ایک ذخیرہ کرنے کی سہولت بھی تھی جہاں سامان اور بھنگ کی کٹائی ہوئی تھی۔

    لی نے پراپرٹی ڈویلپر کے طور پر ظاہر کرکے، انہیں خرید کر یا کرایہ پر لے کر جائیدادیں حاصل کیں بعض صورتوں میں عمارتوں کے اردگرد سہاروں کو رکھا گیا تھا، جس سے ایسا لگتا تھا کہ حقیقی استعمال کو چھپانے کے لیے تزئین و آرائش کا کام ہو رہا ہے۔

    لی نے مانچسٹر سے تعلق رکھنے والے 29 سالہ یہاؤ فینگ اور برمنگھم سے تعلق رکھنے والے 36 سالہ ڈیوڈ قیومی کے ساتھ مل کر جائیدادوں کو منبع کرنے اور چلانے کے لیے کام کیا ان میں کوونٹری کا ایک ناکارہ نائٹ کلب، برمنگھم کا ایک سابقہ ​​عوامی گھر اور لنکاشائر کا ایک پرانا ہوٹل شامل تھا۔ مجموعی طور پر فارم لاکھوں پاؤنڈ مالیت کی بھنگ بنانے کے قابل تھے۔

    قیومی نے ایک بزنس مین کے طور پر اپنا روپ دھار لیا، لی کے ساتھ جائیدادیں خریدنے، کرایہ پر لینے یا سب لیٹ کرنے کے لیے کام کیا، جب کہ فینگ نے گروپ کے لیے ‘آپریشنز مینیجر’ کے طور پر کام کیا، اس بات کو یقینی بنایا کہ فیکٹریاں کام کرتی رہیں اور اندر جو کچھ ہو رہا تھا اسے خفیہ رکھا جائےبہت سے فارموں پر عملہ ویتنامی یا البانیائی غیر قانونی تارکین وطن تھے، جن میں سے کچھ کا ممکنہ طور پر ان کی امیگریشن حیثیت کی وجہ سے استحصال کیا جا رہا تھا جج نے فینگ کو تین سال اور دو ماہ قید کی سزا سنائی، قیومی کو تین سال اور چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی لی کو 30 جولائی کو سزا سنائی جائے گی۔

    "آج کی سزا سنائی جانے والی سماعتیں مڈلینڈز اور اس سے باہر کے لوگوں اور کمیونٹیز پر اثر انداز ہونے والے اہم منظم جرائم کے بارے میں NCA کی دو بڑی تحقیقات کا خاتمہ ہیں۔

    "یہ گینگ صنعتی پیمانے پر منشیات کی پیداوار میں ملوث تھے، جو اکثر ان تارکین وطن کا استحصال کرتے تھے جنہیں کام پر لگانے کے واحد مقصد کے لیے برطانیہ میں سمگل یا اسمگل کیا گیا تھا، یا جو قرض ادا کرنے کے لیے کام کر رہے تھے۔

    سزا پانے والے مردوں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں تھی کہ ان تارکین وطن کو لاریوں یا کشتیوں میں ناقابل یقین حد تک خطرناک طریقوں سے برطانیہ لایا گیا تھا اور پھر انہیں بدترین حالات میں رہنے کے لیے بنایا گیا تھا، اکثر تشدد کے خطرے کے تحت منظم امیگریشن جرائم سے نمٹنا NCA کے لیے ایک ترجیح ہے، اور یہ ایسے معاملات ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے۔

    سزائیں سنائی گئی ہیں وہ ایک انتباہ کے طور پر کام کرتی ہیں، NCA اس میں ملوث مجرم گروہوں کو نشانہ بنانے، ان میں خلل ڈالنے اور ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے، اور ہم ایسا کرنے کے لیے اپنے اختیار میں تمام اختیارات استعمال کریں گے۔”

    یہ ملزمان ایسے کمزور لوگوں کا استعمال کرتے ہیں جو غربت کی وجہ سے برطانیہ میں غیر قانونی طور پر کام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ ویتنام میں اٹھائے گئے قرضوں کے ساتھ ساتھ برطانیہ کے سفر کے اخراجات کی ادائیگی کے لیے بھنگ کی پیداوار میں خود کو شامل کرنے پر مجبور تھے۔ وہ ناسازگار حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور تھے اور ان کی زندگیوں اور ان کے اہل خانہ کو خطرات لاحق تھے اگر وہ سازشیوں کے مطالبات پر عمل کرنے میں ناکام رہے۔

    "CPS قانونی کارروائیوں اور سرحد پار تعاون کے ذریعے اس استحصالی تجارت کی حوصلہ شکنی، خلل ڈالنے اور اسے ختم کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنا جاری رکھے ہوئے ہے۔NCA کی تحقیقات کو ویسٹ مڈلینڈز، کلیولینڈ، ڈربی شائر، لنکاشائر، ہمبر سائیڈ اور میٹروپولیٹن پولیس فورسز کے ساتھ ساتھ کراؤن پراسیکیوشن سروس اور ہوم آفس امیگریشن انفورسمنٹ کی مدد حاصل تھی۔

  • اسمگلنگ سے ملک کو سالانہ کھربوں  روپے کا نقصان ہونے کا انکشاف

    اسمگلنگ سے ملک کو سالانہ کھربوں روپے کا نقصان ہونے کا انکشاف

    پاکستان کو اسمگلنگ کی وجہ سے سالانہ 3 کھرب 40 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے، 340 ارب کے سالانہ نقصان میں سے 30 فیصد افغان تجارتی راہداری کے ناجائز استعمال کی وجہ سے پہنچ رہا ہے.

    پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اف مارکیٹ اکانومی (پرائم) کی رپورٹ میں کہاگیاہے کہ تمباکو کی اسمگلنگ کی وجہ سے ملک کو 300 ارب روپے سالانہ نقصان کا سامنا ہے جبکہ وفاقی حکومت نے حال ہی میں ماہ فروری کے دوران محصولات میں کمی کو پورا کرنے کے لیے تمباکو مصنوعات پر عائد ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کرتے ہوئے اسے 150 فیصد کردیا ہے تاکہ اضافی محصولات حاصل ہوسکیں.تاہم اس کے باوجود مارکیٹ میں غیرقانونی سگریٹوں کی دستیابی 30 فیصد سے بڑھ کر 56 فیصد ہوگئی ہے،اسی طرح رپورٹ میں افغان تجارتی راہداری کا بھی حوالہ دیا گیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو سالانہ ایک کھرب روپے کا نقصان ہورہا ہے جس کے بعد پاکستان نے گزشتہ ماہ اسمگلنگ کی روک تھام یا اسے کم کرنے کے لیے افغان تجارتی راہداری کے تحت درآمد کی جانے والی اشیا کی شرائط میں کچھ انشورنس ضمانتوں کے تحت نرمی کی ہے.

    رپورٹ کے مطابق اسمگلنگ اور غیرقانونی تجارت کی وجہ سے ہونے والا نقصان پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار کے 26 فیصد کے مساوی ہے یعنی ملک کو سالانہ بنیاد پر اس غیر قانونی تجارت اور اسمگلنگ کی وجہ سے 340 ارب روپے ٹیکس محصولات میں کمی کا سامنا ہی.رپورٹ کے مطابق اس اسمگلنگ اور غیرقانونی تجارت سے ملک کے دیگر کاروبار اور تجارتی اداروں کو مشکلات کا سامنا ہے جبکہ حکومت اربوں روپے محصولات کی مد میں نقصان اٹھارہی ہے، رپورٹ کے مطابق ملک میں غیر قانونی طور پر پٹرول کے علاوہ، ادویہ، سگریٹ، صارفین کے استعمال کی اشیا اور دیگر سامان اسمگل کیا جاتا ہے جس کا اثر لامحالہ ملک کے دیگر سیکٹرز کی سالانہ کارکردگی پر پڑرہا ہے.

    رپورٹ میں پیٹرول کی اسمگلنگ کا بھی ذکر کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ملک کو سالانہ 270 ارب روپے کا نقصان ہورہا ہے، رپورٹ کے مطابق سالانہ دو ارب 80 کروڑ لیٹر پیٹرول ایران سے اسمگل کیا جاتا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے فی لیٹر پیٹرول پر 16 روپے کسٹم ڈیوٹی اور پیٹرول ڈیولپمنٹ ٹیکس کی مد میں 78 روپے فی لیٹر عائد کیا گیا ہے جس کی وجہ سے پیٹرول کی اسمگلنگ کا رجحان بڑھتا جارہا ہی.رپورٹ میں غیررجسٹرڈ معیشت کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ ملکی معیشت کے ایک تہائی کے مساوی ہے کیونکہ باقاعدہ کاروباری سیکٹرز کو بلند کسٹم ڈیوٹی، پیچیدہ ٹیرف کے معاملات، مہنگائی اور دیگر عوامل کا سامنا ہے جس کی وجہ سے ملک میں غیر روایتی یا غیر رجسٹرڈ کاروبار کا فروغ بھی بڑھ رہا ہے اور اندازہ ہے کہ یہ اس وقت مجموعی قومی پیداوار کے 40 فیصد کے مساوی ہوگیا ہی.

    رپورٹ کے مطابق ملک میں جعلی ادویہ کی اسمگلنگ کی وجہ سے 65 ارب روپے محصولات میں کمی کا سامنا ہے کیونکہ ملک میں دستیاب 40 فیصد ادویہ یا تو جعلی ہیں یا غیرمعیاری ہیں-اسی طرح گاڑیوں میں استعمال ہونے والے ٹائرز جو مارکیٹ میں دستیاب ہیں ان میں سے 60 فیصد اسمگل شدہ ہیں جس سے حکومت کو سالانہ 106 ارب روپے محصولات کے نقصان کا سامنا ہی- اسی طرح چائے کی اسمگلنگ کا حجم بھی 30 فیصد تک پہنچ گیا ہے جس سے سالانہ 10 ارب روپے کا نقصان ہوریا ہی.رپورٹ کے آخر میں غیر قانونی تجارتی انڈیکس کا جائزہ لیا گیا ہے جس کے مطابق 158 ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا نمبر 101 ہے جو غیر قانونی تجارت سے متاثر ہیں جس کی وجہ کمزور حکومت، اور ناقص معاشی پالیسیاں قرار دی گئی ہیں.

    ملکی ریلوے اسٹیشنز پر اے ٹی ایم مشینوں کی تنصیب کا آغاز

    بھارت کا پاکستان سے شپنگ اور پوسٹل روابط بھی معطل کرنے پر غور

    پی ایس ایل 10؛ پشاور زلمی کی اسلام آباد کو 6 وکٹوں سے شکست

    دو ایٹمی قوتوں میں کشیدگی بڑھنے لگی، خالصتان رہنما نے بھارت کے عزائم بے نقاب کر دیے”

  • معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

    معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

    اسمگلنگ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لئے بڑا خطرہ ہے،عوام کی سلامتی اور مستحکم معیشت کی خاطر اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈائون جاری ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران ملک بھر سے 26680 سگریٹ کے اسٹاکس،0.138 ملین لیٹر ایرانی تیل اور 456کپڑے کے تھان برآمد ہوئے،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی سے 10980،پشاور سے 15500اور کوئٹہ سے 200 سگریٹ کے سٹاکس ضبط کیے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی سی372اور کوئٹہ سے 84کپڑے کے تھان ضبط کیے ، ملتان سے 0.001، کراچی سی0.009 اورکوئٹہ سے 0.128ملین لیٹر ایرانی تیل برآمد کیا۔یکم ستمبر 2023 سے اب تک ملک بھر سے 13,088.75میٹرک ٹن کھاد،8 3613.1میٹرک ٹن آٹا،35128.9 میٹرک ٹن چینی، 4,372,675 سگریٹ کے سٹاکس، 154,560کپڑے کے تھان اور 17.257ملین لیٹر ایرانی تیل برآمدکیا جاچکا ہے۔قانون نافذکرنیوالے ادارے ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے اسمگلنگ کے خلاف اپنی کاروائیاں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    ڈی آئی خان،سکھر ائیرپورٹس منصوبے جلد از جلد شروع کئے جائیں، گورنر خیبرپختونخوا

    عمران خان کو سزا،مجرمانہ ریکارڈ،آکسفورڈ کی چانسلرشپ سے نااہلی کی وجوہات

  • کسٹمز  کی بڑی کارروائی ، کروڑوں روپے کا اسمگلڈ شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاوڈر ضبط

    کسٹمز کی بڑی کارروائی ، کروڑوں روپے کا اسمگلڈ شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاوڈر ضبط

    کلکٹرئٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ کی بڑی کارروائی کرتے ہوئے کروڑوں روپے کا اسمگلڈ شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاوڈر ضبط کرلیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کلکٹرئٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ نے ولیکا روڈ سائٹ کراچی میں قائم گودام پر چھاپہ مار کراسمگلڈ شدہ ایرانی 43.75 ٹن اسکمڈ ملک پاوڈر(خشک دودھ) تحویل میں لیکر ضبط کیا۔ترجمان کے مطابق ضبط شدہ اسکمڈ ملک کی مالیت پانچ کروڑ بیس لاکھ روپے ہے۔ ضبط شدہ ایرانی اسکمڈ ملک پاؤڈر (دودھ) 07 مزدا ٹرکوں پر لوڈ کر کے اے ایس اوکے گودام منتقل کیا گیا ہے اور کسٹمز ایکٹ کے تحت مقدمہ اور ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے جبکہ مزید تفتیش اور تحقیقات جاری ہے۔واضح رہے کہ ایران سے اسمگل شدہ ڈیری کریم ، کوکنگ آئل اور بیکری آئٹمز کی ملک کے کئی شہروں میں غیرقانونی فروخت جاری ہے جس سے مقامی مینو فیکچررز شدید متاثر ہورہے ہیں۔ کراچی، سکھر، اسلام آباد، لاہور، سرگودھا، پشاور اور جہلم میں گزشتہ چھ ماہ کے دوران ان ایرانی اشیاء کی سپلائی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ایران سے بڑھتی ہوئی اسمگلنگ قومی خزانے کو شدید نقصان پہنچا رہی ہے.

    امریکی جج کا بڑا فیصلہ، عافیہ صدیقی کیلئے نئی امید پیدا ہوگئی

    کراچی میں جراثیم کش اسپرے نہ ہونے سے شہری مختلف امراض میں مبتلا، وباء پھوٹنے کا خدشہ

    چیلنجزسے نمٹنے کے لئے نظام مصطفی ﷺ کے نفاذ کی ضرورت ہے، شکیل قاسمی

  • ڈیکوریشن پیسز کی آڑ میں منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام

    ڈیکوریشن پیسز کی آڑ میں منشیات اسمگلنگ کی کوشش ناکام

    کراچی: ڈیکوریشن پیسز کی آڑ میں اسمگل کی جانے والی 13کلوگرام آئس برآمد کرلی۔

    باغی ٹی وی:ترجمان اے این ایف کے مطابق منشیات اسمگلنگ کے خلاف کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے،جس کے دوران 85کلوگرام منشیات برآمد کرکے ایک ملزم کو گرفتارکیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق شاہراہ فیصل پرواقع کورئیرآفس پرکارروائی کےدوران پارسل میں موجود ڈیکوریشن پیسز کی آڑ میں اسمگل کی جانے والی 13 کلو 500 گرام آئس برآمد کی گئی، برآمدہ آئس ڈیکوریشن پیسز کے ذریعے آسٹریلیا بھجوائی جا رہی تھی، مذکورہ پارسل اٹک کے رہائشی مُلزم کی طرف سےبُک کیا گیا تھا۔

    کیپٹن (ر) صفدر اشتعال انگیز تقاریر اور بغاوت کے مقدمے سے بری

    علاوہ ازیں ترجمان اے این ایف کے مطابق راولپنڈی میں واقع کوریئر آفس سے بحرین بھیجے جانے والے پارسل سے 717 گرام آئس تحویل میں لی گئی۔ علاوہ ازیں چمن میں واقع شین تالاب میں اسمگلنگ کے لئے چھپائی گئی 50 کلو 500 گرام چرس جبکہ نوکنڈی کے غیرآباد علاقے میں چھپائی گئی20کلوگرام چرس قبضے میں لی گئی.

    آئی سی سی ورلڈکپ: جنوبی افریقا کا نیوزی لینڈ کو جیت کیلئے 358 …

  • ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث سیاستدانوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں ملوث سیاستدانوں کی تفصیلات سامنے آ گئیں

    حساس ادارے کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایرانی تیل کے کاروبار میں 29 سیاستدان بھی ملوث ہیں،حساس ادارے نے اسمگلنگ پر رپورٹ وزیر اعظم ہاؤس میں جمع کروا دی ہے

    باغی ٹی وی : سول حساس ادارے کی رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ تیل کی اسمگلنگ سے ہونے والی آمدنی دہشتگرد بھی استعمال کرتے ہیں ایران سے پاکستان کو سالانہ 2 ارب 81 کروڑ لیٹر سے زیادہ تیل اسمگل ہوتا ہے، ایرانی تیل کی اسمگلنگ کے باعث پاکستان کو سالانہ 60 ارب روپے سے زیادہ کا نقصان ہو رہا ہے۔

    سول حساس ادارے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں 995 پمپ ایرانی تیل کی فروخت کا کاروبار کرتے ہیں، ایرانی تیل کی اسمگلنگ میں 90 سرکاری حکام بھی ملوث ہیں اور 29 سیاستدان ایرانی تیل کی اسمگلنگ کا کاروبار کر رہے ہیں۔

    منشیات کے خلاف پاک فوج و دیگر اداروں کا مشترکہ آپریشن

    رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ حوالہ ہنڈی ڈیلر 205 پنجاب میں ہیں، کے پی میں 183 اور سندھ میں 176 ڈیلر حوالہ ہنڈی کا کاروبار کرتے ہیں، بلوچستان میں 104 اور آزاد کشمیر میں 37 ڈیلر حوالہ ہنڈی میں ملوث ہیں، جب کہ وفاقی دارالحکومت میں 17 ڈیلر حوالہ ہنڈی کا کاروبار کرتے ہیں۔

    رپورٹ میں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ پکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کی گاڑیاں بھی ایرانی تیل کی ٹرانسپورٹیشن میں ملوث ہوتی ہیں، ایران سے تیل ایرانی گاڑیوں میں اسمگل ہو کر پاکستان آتا ہے، تیل اسمگل کرنے والی ایرانی گاڑیوں کو زم یاد کہا جاتا ہے۔

    حوالہ ہنڈی میں ملوث بیرون ممالک میں مقیم افراد کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

    خیال رہے کہ نگران وفاقی حکومت نے صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ملک بھر میں بڑے پیمانے پر ڈالرز اور دیگر اشیا کی ذخیرہ اندوزی میں ملوث افراد کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کر رکھا ہے۔

  • ڈی جی خان :پیٹرول و ڈیزل کی اسمگلنگ کی وباء نے کورونا کوبھی پیچھے چھوڑدیا

    ڈی جی خان :پیٹرول و ڈیزل کی اسمگلنگ کی وباء نے کورونا کوبھی پیچھے چھوڑدیا

    کوٹ ہیبت باغی ٹی وی (شاہد خان ) ڈیرہ غازی خان میں غیرقانونی ایرانی پیٹرول و ڈیزل کی اسمگلنگ کی وباء اس قدر تیزی سے پھیلی ہے کہ اس نے کررونا جیسی آفت کو بھی مات دے ڈالی، بڑے بڑے طوفان و سونامی بھی اس اسمگلنگ کی آفت کے سامنے بہت چھوٹے دکھائی دے رہے ہیں آئے روز ڈیرہ غازی خان میں ایرانی پیٹرول و ڈیزل کی اسمگلنگ کے رحجان میں اضافہ ہو رہا ہے اسمگلنگ ایک غیرقانونی عمل ہے ذرائع کے مطابق اس عمل کے پس پردہ محرکات، اداروں کا کردار اور انکی اہمیت کا اہم کردار ہوتا ہے جو تاحال دکھائی نہیں دے رہا ذرائع نے بتایا ہے کہ ڈیرہ غازی خان میں بارڈر ملٹری پولیس، ایف آئی اے اور پنجاب پولیس اور سول ڈیفنس کی مبینہ ملی بھگت سے بڑے پیمانے پر اسمگلنگ کے بارے میں آئے روز مختلف خبریں دیکھنے کو ملتی ہیں اس کے باوجود اس عمل میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہی دیکھنے میں آ رہا ہے گو کہ پاکستان میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں کے بڑھنے سے ایرانی پٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ذرائع کا کہنا ہے کہ یومیہ 90 ہزار لیٹر سے زائد ایرانی پٹرول اور ڈیزل جنوبی پنجاب کے مختلف زونز میں جاتا ہے جو غیرقانونی پمپوں و منی پمپوں اور تیل ایجنسیوں پر دھڑلے سے فروخت ہوتا ہے ڈیرہ غازی خان و ملحقہ علاقوں میں ہزاروں کی تعداد میں منی پیٹرول پمپ ایجنسیاں قائم ہیں ان پر پٹرول موٹر سائیکل کے ذریعے سپلائی کیا جاتا ہے اس پیٹرول کی وجہ سے گاڑیوں کے انجن تباہ ہو رہے ہیں مقامی شہریوں نے ڈیرہ غازی خان انتظامیہ سے اپیل کی ہے کے ایرانی پیٹرول اور ڈیزل کی سمگلنگ کرنے والوں کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لیا جائے کیونکہ کھلے فروخت اور غیرقانونی آبادیوں ذخیرہ سے حادثات رونما ہورہے ہیں-