Baaghi TV

Tag: اسٹارلنک

  • اسٹارلنک کا وینزویلا کیلئے بڑا اعلان

    اسٹارلنک کا وینزویلا کیلئے بڑا اعلان

    ایلون مسک کی کمپنی اسٹارلنک نے وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے کا اعلان کردیا۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق اسٹارلنک کمپنی کے مالک ایلون مسک نے وینزویلا کے ساتھ حمایت کا اظہار کرتے ہوئے ایک محدود مدت کیلئے فری انٹرنیٹ سروس دینے کا اعلان کیا ہےاسٹار لنک وینزویلا میں 3 فروری تک مفت براڈ بینڈ خدمات فراہم کرے گا۔

    اس حوالے سے سوشل میڈیا کی ویب سائٹ ایکس پر کمپنی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اس نے وینزویلا کے ساتھ “مسلسل رابطے” کا وعدہ کیا ہے، یہ ایک ایسا ملک ہے جو آن لائن سنسرشپ کا شکار ہے مادورو کی حکومت نے ماضی میں فیس بک، یوٹیوب اور انسٹاگر ام سمیت دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بلاک کر دیا تھا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق وینزویلا میں فوجی کارروائیوں کے بعد انٹرنیٹ سروس بند ہوگئی تھی اور دارالحکومت کے زیادہ تر علاقوں میں انٹرنیٹ سروس موجود نہیں ہے۔

    وینزویلا میں امریکی کارروائی سے 40 افراد ہلاک، رہائشی عمارت ، دفاعی تنصیبات تباہ

    فوجی فاؤنڈیشن: قومی خدمت اور معاشی استحکام کی درخشاں مثال

    بھارتی ایوی ایشن کی نااہلی اور غیر پیشہ ورانہ طرز عمل عالمی سطح پر بے نقاب

  • پاکستان میں اسٹار لنک سروس کی لانچنگ تقریب میں ایلون مسک کی شرکت متوقع

    پاکستان میں اسٹار لنک سروس کی لانچنگ تقریب میں ایلون مسک کی شرکت متوقع

    پاکستان میں عالمی شہرت یافتہ کمپنی اسٹار لنک جلد ہی اپنی سروسز شروع کرنے جا رہی ہے-

    ذرائع کے مطابق، معروف عالمی کمپنی اسٹار لنک نے پاکستانی قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک کے ماتحت کام کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے، توقع ہے کہ رواں سال کے آخر تک اسٹار لنک پاکستان میں اپنی سروسز کا باقاعدہ آغاز کر دے گی بانی ایلون مسک کی اس لانچنگ تقریب میں شرکت کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    پاکستان اسپیس ایکٹویٹیز ریگولیٹری بورڈ (سپارکو) بین الاقوامی سیٹلائٹ ریگولیٹری فریم ورک کی تیاری میں مصروف ہے، جسے حتمی شکل دینے کے بعد اسٹار لنک کو باقاعدہ رجسٹریشن دی جائے گی، سیٹلائٹ انٹرنیٹ فراہم کرنے والی دیگر کمپنیوں کی آرا کو بھی مدنظر رکھتے ہوئے اس فریم ورک کے ڈرافٹ کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، اس سلسلے میں گزشتہ ماہ اسپیس ایکٹویٹیز ریگولیٹری بورڈ نے ایک مقامی ہوٹل میں سیٹلائٹ کمپنیوں کے ساتھ ایک ورکشاپ کا انعقاد کیا تھا، جس میں وفاقی وزیر برائے آئی ٹی اینڈ ٹیلی کام شزا فاطمہ نے بھی شرکت کی۔

    ورکشاپ میں شنگھائی ٹیلی کام، ایمازون، ون ویب سمیت کئی بین الاقوامی کمپنیوں نے شرکت کی اور ریگولیٹری بورڈ میں رجسٹریشن کی درخواست دینے کا عندیہ بھی ظاہر کیا،تاہم، اسٹار لنک وہ پہلی کمپنی ہے جس نے باقاعدہ طور پر رجسٹریشن کے لیے درخواست جمع کرائی ہے، اس فریم ورک کے تحت رجسٹریشن کے بعد اسٹار لنک کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی جانب سے لائسنس جاری کیا جائے گا۔

  • چین کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ اسٹارلنک سے 5 گنا تیز

    چین کا سیٹلائٹ انٹرنیٹ اسٹارلنک سے 5 گنا تیز

    چینی سائنسدانوں نے سیٹلائٹ انٹرنیٹ میں انقلابی پیشرفت کرتے ہوئے 1 گیگابٹ فی سیکنڈ (Gbps) کی رفتار حاصل کی ہے جو کہ ایلون مسک کی اسٹارلنک سروس سے پانچ گنا زیادہ تیز ہے۔

    سیٹلائٹ لیزر ڈاؤن لنک ٹیکنالوجی تیز ترین انٹرنیٹ کی صلاحیت رکھتی ہے، تاہم زمین کی فضا میں موجود بے ترتیبی (turbulence) اس کے سگنلز کو بکھیر کر کمزور اور دھندلا بنا دیتی ہے جو زمین پر پہنچتے ہوئے کئی سو میٹر کے دائرے میں پھیل جاتے ہیں،یہ کامیابی ایک 2-واٹ لیزر کے ذریعے حاصل کی گئی، جو زمین سے 36,705 کلومیٹر کی بلندی پر موجود ایک سیٹلائٹ سے مواصلاتی سگنلز بھیج رہا تھا۔

    چینی ماہرین کی ایک ٹیم نے، جس کی قیادت پروفیسر وو جیان (پیکنگ یونیورسٹی آف پوسٹس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن) اور لیو چاؤ (چائنیز اکیڈمی آف سائنسز) کر رہے تھے، اس چیلنج کا حل ”AO-MDR سینرجی“ نامی طریقے سے پیش کیا ہے، یہ نیا طریقہ فضا سے پیدا ہونے والی مداخلت کو کم کر کے سگنل کی کوالٹی کو برقرار رکھتا ہے۔

    جنوب مغربی چین کے شہر لیجیانگ میں ایک تجرباتی مرکز میں 1.8 میٹر کے دوربین کے ذریعے ایک غیر معروف سیٹلائٹ پر اس نظام کا کامیاب تجربہ کیا گیا دوربین کے اندر 357 مائیکرو مررز کا استعمال کر کے بگڑے ہوئے لیزر سگنلز کو درست کیا گیا جس سے فضا کی وجہ سے ہونے والی خرابی کم ہو گئی۔

    اس کے علاوہ ایک جدید آلہ جسے ”ملٹی-پلین لائٹ کنورٹر (MPLC)“ کہا جاتا ہے، استعمال کر کے آنے والی روشنی کو آٹھ مختلف چینلز میں تقسیم کیا گیا، پھر ان میں سے تین بہترین سگنلز کو ایک خاص الگورتھم ”پاتھ-پکنگ“ کے ذریعے ایک ساتھ ملا کر سگنل کو مزید مضبوط بنایا گیا۔

    تحقیق کے مطابق AO-MDR طریقے سے نہ صرف رفتار میں اضافہ ہوا بلکہ سگنل کی درستگی بھی بہتر ہوئی۔ جہاں روایتی طریقے سے 72 فیصد درست سگنل حاصل ہوتے تھے، وہاں اب یہ شرح 91.1 فیصد تک پہنچ گئی ہے جو کہ خلا سے زمین تک قیمتی ڈیٹا کے قابلِ اعتماد ترسیل کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے۔