Baaghi TV

Tag: اسٹیٹ بینک آف پاکستان

  • اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 75 روپے کا ایک اور یادگاری نوٹ جاری کردیا

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 75 روپے کا ایک اور یادگاری نوٹ جاری کردیا

    اسٹیٹ بینک کے قیام کو 75 سال مکمل ہونے پر اسٹیٹ بینک نے 75 روپے کا یادگاری نوٹ جاری کردیا ہے جبکہ گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد اس موقع پر منعقدہ تقریب کے میزبان رہے۔ خیال رہے کہ یادگاری نوٹ جاری کرنے کا مقصد آزاد ملک میں مرکزی بینکاری کے 75 سال مکمل ہونے کا جشن منانا ہے۔ تاریخی موقع پر جاری کیے گئے کرنسی نوٹ کے ذریعے حقوق نسواں، متبادل توانائی اور صادقین کے فن اور ان کے اسٹیٹ بینک کے ساتھ رہے تعلق کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

    اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے قیام کے 75 سال مکمل ہونے پر 75 روپے کا یادگاری نوٹ عام لوگوں کیلئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تمام دفاتر اور کمرشل بینکوں کی برانچز میں دستیاب ہے اور اسے ہر قسم کی روزانہ کی لین دین کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔


    خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان کے 75 ویں یوم آزادی کے موقع پر بھی اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 75 روپے مالیت کا یادگاری نوٹ جاری کیا تھا تاہم اس بار جو کرنسی نوٹ جاری کیا گیا ہے اس کا ڈیزائن پہلے جاری کیے گئے نوٹ سے مختلف ہے البتہ دونوں ہی کرنسی نوٹ عوامی لین دین کیلئے استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے تقریب سے خطاب میں بینک دولتِ پاکستان کے سال 2028 تک کے چھ نکاتی اسٹریٹجک پلان پر بریفنگ دی جس میں سرفہرست مہنگائی کو وسط مدتی ہدف 5 سے 7 فیصد پر لانا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    صفائی کی مد میں کروڑوں روپے خورد برد کر لیے گئے، میر صادق عمرانی
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہےمسجد نبوی میں 4.2 ملین نمازی اور زائرین کی آمد ریکارڈ
    اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان
    گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس طلب
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر

    اس کے علاوہ بینکاری کے عوامل کو بہتر بنانا، شمولیت بڑھانا، صارف کا ڈیٹا سینٹرلائز کرنا، شریعہ فنانسنگ بڑھانا، فنڈز ٹرانسفر کی خدمات بہتر کرنا اور اسٹیٹ بینک کو ہائی ٹیک کرنا ہے۔ جمیل احمد نے کہا کہ صرف منصوبہ نہیں بنایا حکمت عملی بھی مرتب کرلی ہے، کامیابی کے معیار مقررکیے ہیں اور کارکردگی کا جائزہ وقتاً فوقتاً جاری کرتے رہیں گے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے تقریب میں شریک مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے آئی ایم ایف معاہدے کو اہم پیش رفت کہا اور معاہدے سے بیرونی فنڈنگ بہتر ہونے، زرمبادلہ ذخائر بڑھنے اور عمومی بہتری آنے کی امید ظاہر کی۔

  • پاکستان پر کتنا قرض؟ تفصیلات جاری

    پاکستان پر کتنا قرض؟ تفصیلات جاری

    کراچی: اسٹیٹ بینک نے پاکستان پر قرض کی تفصیلات جاری کر دیں۔

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان پر ٹوٹل قرض 57 ہزار 122 ارب 50 کروڑ روپے تک پہنچ گیا، مارچ میں پاکستان کے قرض میں فروری کے مقابلے میں 2 ہزار 685 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ فروری میں پاکستان کا قرض 54 ہزار 400 ارب روپے تھا۔

    پاکستان میں احتجاج اور گرفتاریوں پرامریکا کا بیان جاری

    اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق دسمبر 2022 میں پاکستان کا قرضہ 51 ہزار 58 ارب 20 کروڑ روپے تھا جبکہ اس سے 6 ماہ قبل جون 2022 میں ملکی قرضہ 47 ہزار 832 ارب 40 کروڑ روپے تھا۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق سال 2022 مارچ میں پاکستان کا قرض 43 ہزار 12 ارب 70 کروڑ روپے تھا جو سال 2023 میں 32.8 فیصد اضافے کے بعد 57 ہزار 122 ارب روپے پر آ گیا۔

    کراچی میں پی ٹی آئی رہنما کا ریسٹورنٹ سیل کر دیا

    جاری کردہ تفصیلات کے مطابق گزشتہ سال مارچ سے رواں سال مارچ کے دوران قرض میں 14 ہزار 109 ارب 80 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔

  • اسٹیٹ بینک کے ذخائر کم ہوکر 4 ارب 38 کروڑ ڈالر رہ گئے

    اسٹیٹ بینک کے ذخائر کم ہوکر 4 ارب 38 کروڑ ڈالر رہ گئے

    اسٹیٹ بینک کے ذخائر کم ہوکر 4 ارب 38 کروڑ ڈالر رہ گئے

    اسٹیٹ بینک نے ملکی زرمبادلہ ذخائر کے اعداد و شمار جاری کردیئے گئے ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک کی ہفتہ وار زرمبادلہ کے ذخائر کی رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے میں بیرونی قرض کی مد میں 7 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کی ادائیگی کی گئی جس سے مرکزی بینک کے ذخائر کم ہوکر 4 ارب 38 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس دوران کمرشل بینکوں کے ذخائر 2 کروڑ 10 لاکھ ڈالر اضافے سے 5 ارب 60 کروڑ ڈالر ہوگئے۔ مرکزی بینک کی رپورٹ کے مطابق ملکی مجموعی ذخائر 5 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کمی سے 9 ارب 99 کروڑ ڈالر پر آگئے ہیں۔ دوسری جانب ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی ہوگئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آئین کا تحفظ ہمارے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ چیف جسٹس
    100 واں ڈے،پی سی بی نے بابر اعظم کی فتوحات کی فہرست جاری کر دی
    لندن میں نواز شریف کے نام پرنامعلوم افراد نے تین گاڑیاں رجسٹرکرالیں،لندن پولیس کی تحقیقات جاری
    بینگ سرچ انجن تمام صارفین کیلئے کھول دیا گیا
    انٹربینک میں ڈالر سستا ہوگیا
    ووٹ کا حق سب سے بڑا بنیادی حق ہے،اگر یہ حق نہیں دیاجاتا تو اس کامطلب آپ آئین کو نہیں مانتے ,عمران خان
    سعیدہ امتیاز کے دوست اورقانونی مشیرنے اداکارہ کی موت کی تردید کردی
    جانوروں پر ریسرچ کرنیوالے بھارتی ادارے نےگائے کے پیشاب کو انسانی صحت کیلئے مضر قراردیا
    یورپی خلائی یونین کا نیا مشن مشتری اور اس کے تین بڑے چاندوں پر تحقیق کرے گا
    جبکہ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق سونے کی فی تولہ قیمت 2700 روپے کم ہو کر 2 لاکھ 37 ہزار 300 روپے ہوگئی
    10 گرام سونے کی قیمت 2314 روپے کم ہوکر 2 لاکھ تین ہزار 447 روپے ہے جبکہ عالمی صرافہ میں سونے کی قیمت 7 ڈالر بڑھ کر 2038 ڈالر فی اونس ہے۔

  • 75 روپے کا نیا کرنسی نوٹ لین دین کیلئے قابل استعمال ہے،اسٹیٹ بینک

    75 روپے کا نیا کرنسی نوٹ لین دین کیلئے قابل استعمال ہے،اسٹیٹ بینک

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 75 روپے کا نیا کرنسی نوٹ لین دین کیلئے قابل استعمال قرار دیدیا-

    باغی ٹی وی : پاکستان کے 75 ویں یوم آزادی پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 75 روپے مالیت کا یادگاری کرنسی نوٹ جاری کیا تھا جسے بعد میں عوامی سطح پر لین دینے کیلئے بھی قابل استعمال قرار دے دیا گیا تاہم اس نوٹ کے حوالے سے اب بھی بیشتر شہریوں اور خاص طور پر دکانداروں کو شکوک و شبہات ہیں۔

    اس بارڈر ادائیگیوں میں چینی کرنسی نے پہلی بارامریکی ڈالر کو پیچھے چھوڑ دیا

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے باضابطہ ٹوئٹ کے ذریعے اس بات کی وضاحت کی تھی کہ 75 روپے کا کرنسی نوٹ عام لین دین کیلئے قابل قبول ہے اور عوام بلا خوف اس کا استعمال کر سکتے ہیں تاہم اس کے باوجود یہ نیا کرنسی نوٹ مکمل طور پر عوام کا اعتماد حاصل نہیں کرسکا ہے۔


    اسٹیٹ بینک نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ 75 روپے کا نیا یادگاری بینک نوٹ اب عام لوگوں کے لیے SBP BSC کے تمام دفاتر اور کمرشل بینکوں کی شاخوں میں دستیاب ہے۔ یہ بینک نوٹ قانونی ٹینڈر ہے اور اسے پورے پاکستان میں تمام لین دین کے لیے زر مبادلہ کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

    دسمبر 2022 کے بعد ملکی زرمبادلہ کے ذخائردوبارہ 10 ارب ڈالر ہوگئے،اسٹیٹ بینک

    شہریوں کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے ٹوئٹ کیا جانا کافی نہیں بلکہ اس کی تشہیر قومی ٹیلی وژن اور اخبارات کے ذریعے کی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کا اعتماد بحال ہوا۔

  • پاکستان حکام عید کے بعد سعودی عرب سے 2 ارب ڈالرکےاضافی ڈیپازٹس کی فراہمی کےمعاہدہ کیلئے پرامید

    پاکستان حکام عید کے بعد سعودی عرب سے 2 ارب ڈالرکےاضافی ڈیپازٹس کی فراہمی کےمعاہدہ کیلئے پرامید

    پاکستانی حکام عید الفطر کے بعد سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر کے اضافی ڈیپازٹس کی فراہمی کے معاہدہ کے لیے پرامید ہیں۔

    باغی ٹی وی : دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی معیشت کے لیے یہ ذخائر بہت اہم ہیں، حکومت ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے بیرونی فنانسنگ حاصل کرنے کی سرتوڑ کوششوں میں مصروف ہے، زرمبادلہ کے ذخائر 14 اپریل تک 4.3 ارب ڈالر تھے۔

    سراج الحق کا وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ ٹیلیفونک رابطہ،سیاسی بحران کا حل نکالنے کامطالبہ

    ایک اعلیٰ سرکاری اہلکار کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) سعودی ڈویلپمنٹ فنڈ (SFD) کے ساتھ عید کے فوری بعد 2 ارب ڈالر کے اضافی ڈیپازٹس کے معاہدے پر دستخط کرےگا۔ سعودی عرب کی جانب سے آئی ایم ایف کو پاکستان کے لیے اضافی فنانسنگ کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔

    عہدیدار نے بتایا کہ سعودی عرب نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو دو طرفہ امداد کی حمایت کی تصدیق کی اور آئی ایم ایف کے عملے نے بھی اس کا اعتراف کیا یہ معاہدہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی طرف سے بالترتیب 1 بلین ڈالر اور 2 بلین ڈالر کی اضافی مالی امداد کی تصدیق پر ایک فالو اپ ہے۔

    کچہ آپریشن؛ پولیس حکام کی وزیراعلیٰ کو بریفنگ

    رپورٹ کے مطابق سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے بالترتیب 2 ارب ڈالر اور 1 ارب ڈالر کی اضافی مالی امداد کی تصدیق کردی ہے۔

    سعودی عرب پہلے ہی ایک سال کے لیے 3 ارب ڈالر سے زیادہ کے ڈیپازٹس کر چکا ہے جو 5 دسمبر 2022 کو میچور ہوگیا، یہ 3 ارب ڈالر کے ڈیپازٹس اسٹیٹ بینک کے پاس پڑے ہوئے 4.43 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر کا حصہ ہیں۔

    سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے 3 ارب ڈالر کی تصدیق کے باوجود آئی ایم ایف نے اسلام آباد سےکہا ہےکہ وہ اسٹاف لیول معاہدے کے لیے مزید بیرونی ڈالرز کا انتظام کرے۔

    کراچی کا ایک جزیرہ حکومت کی عدم توجہ کی وجہ سے بنیادی سہولیات سے بھی …

  • اسٹیٹ بینک نےبینکوں کو آن لائن فراڈ سےمتعلق وارننگ جاری کردی

    اسٹیٹ بینک نےبینکوں کو آن لائن فراڈ سےمتعلق وارننگ جاری کردی

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کو آن لائن فراڈ سے متعلق وارننگ جاری کردی۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک نے تمام بینکوں کو ہدایت کی ہے کہ ڈیجیٹل بینکنگ کومحفوظ بنایا جائےورنہ فراڈ کےشکار صارف کو 3 دن کے اندر معاوضہ دینا ہوگا اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بینک سربراہان اور چیف ایگزیکٹوز کو ڈیجیٹل بینکنگ محفوظ بنانےکی یاد دہانی کرائی گئی ہے-

    ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی

    نوٹیفکیشن میں بینکوں کو پابند کیا گیا کہ وہ مائیکرو فنانس بینک کےچیف ایگزیکٹو کی منظوری سے 31 دسمبر 2023 تک نافذ عمل منصوبہ بنائیں، منصوبے پر پیشرفت کا کارکردگی جائزہ ہر مہینے جمع کرایا جائے۔

    اسٹیٹ بینک نے واضح کیا ہے کہ مقررہ ٹائم لائن تک کنٹرول لاگو نہ ہوئے تو صارفین کو فراڈ کا معاوضہ 3 دن میں ادا کرنے کے ذمہ دار بینک ہوں گے۔

    سی ٹی ڈی کا راجن پور میں آپریشن، کالعدم تنظیم کے 2 دہشتگرد اپنے ہی …

  • ڈالر کی مصنوعی قلت میں ملوث 8 منی ایکسچینج کے 11 آؤٹ لیٹس کے لائسنس معطل

    ڈالر کی مصنوعی قلت میں ملوث 8 منی ایکسچینج کے 11 آؤٹ لیٹس کے لائسنس معطل

    اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈالر کی مصنوعی قلت میں ملوث 8 منی ایکسچینج کے 11 آؤٹ لیٹس کے لائسنس معطل کر دیئے-

    باغی ٹی وی : اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) ڈالر کی مصنوعی قلت پیدا کرنے اور اپنے کاوٴنٹرز پر دستیاب ہونے کے باوجود اپنے صارفین کو غیرملکی کرنسیوں کی فروخت سے انکار کرنے میں مبینہ طور پر ملوث 8 ایکسچینج کمپنیوں کے گیارہ آوٹ لیٹس کے لائسنس معطل کردیئے۔

    بجلی بریک ڈاون، وزیر توانائی کی ٹویٹ، استعفی کی بجائے ڈھٹائی

    ایس بی پی نے ریگولیٹری ہدایات کی خلاف ورزیوں پر ان آؤٹ لیٹس کے لائسنس پندرہ دنوں کے لیے فوری طور پر معطل کئے اسٹیٹ بینک کی ٹیم کے ممبران نے ایکس چینج کمپنیوں کے آوٴٹ لیٹس پر جا کرخود کو بطور صارف ظاہر کرکے کرنسی حاصل کرنے کی کوشش کی مذکورہ آوٴٹ لیٹس اپنےکاوٴنٹرز پردستیاب ہونےکے باوجود اپنے صارفین کو غیر ملکی کرنسیوں کی فروخت سے انکارکیا-

    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ تمام گیارہ آوٴٹ لیٹس کو معطلی کی مدت کے دوران کسی بھی قسم کی کاروباری سرگرمی کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

    پنجاب میں نگران وزیراعلی کے آتے ہی تبادلوں کا آغاز،سی سی پی او لاہور غلام محمود ڈوگر کا تبادلہ

  • اسٹیٹ بینک نے 75 روپےکا نوٹ جاری کردیا

    اسٹیٹ بینک نے 75 روپےکا نوٹ جاری کردیا

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے پاکستان کے75 ویں یوم آزادی کی مناسبت سے 75 روپےکا اعزازی بینک نوٹ جاری کردیا۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق بینک کے صدر دفتر میں 14 اگست مناتے ہوئے اعزازی بینک نوٹ کا ڈیزائن پیش کیا گیا تھا، عوام کے لیے 75 روپے کا اعزازی بینک نوٹ آج سے جاری کیا جا رہا ہے۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہےکہ اعزازی نوٹ ملک بھر میں خریداری کے لیے استعمال کیا جاسکےگا۔

     

     

     

    مرکزی بینک سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یادگاری نوٹ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے بی ایس سی دفاتر اور کمرشل بینکوں کی برانچز میں دستیاب ہوگا۔اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ عوام بھی 75 روپے کا یادگاری نوٹ کل (جمعہ 30 ستمبر) سے خرید سکیں گے۔

     

    اسٹیٹ بینک کے مطابق 75 روپےکے نوٹ کا ڈیزائن اسٹیٹ بینک اور مقامی آرٹسٹوں نے مرتب کیا، نوٹ کےایک جانب قائداعظم، علامہ اقبال، سرسید احمد خان اور فاطمہ جناح کی تصاویر ہیں، نوٹ کےدوسری جانب مار خور اور دیودارکےدرخت کی تصاویرہیں، نوٹ کی پشت کو ماحولیاتی تبدیلیوں پرقومی عزم کو مدنظر رکھتےہوئےمرتب کیا گیا ہے۔

    پاکستان کی 75ویں سالگرہ پر جاری یادگاری نوٹ سبز زمرد رنگ کا ہے جبکہ اس کا سائز 147 ملی میٹر چوڑا اور 65 ملی اونچا ہے اور اس کے عقب پر قومی جانور مارخور اور پہاڑوں کے ساتھ دیودار درخت بھی دکھائے گئے ہیں۔

     

  • اسٹیٹ بینک نے زر مبادلہ کے ذخائر ختم ہونے کی تردید کردی

    اسٹیٹ بینک نے زر مبادلہ کے ذخائر ختم ہونے کی تردید کردی

    کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر ختم ہونے کی تردید کردی ہے۔اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعلامیے میں ان اطلاعات کی تردید کی ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر ختم ہوگئے یا انہیں خرچ نہیں کیا جاسکتا۔

    ایس بی پی ترجمان کے مطابق 8.9 ارب ڈالر کے سرکاری ذخائر مکمل طور پر قابل استعمال ہیں جو سونے کے ذخائر کے علاوہ ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے درآمدی ادائیگیاں روکنے اور بینکوں کے پاس زرمبادلہ نہ ہونے کی اطلاعات بے بنیاد اور غلط ہیں۔

    اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری بیان کے مطابق اسٹیٹ بینک نے درآمدی ادائیگیاں نہیں روکیں کمرشل بینکوں کے پاس ادائیگیوں کے لیے خاطر خواہ ذخائر موجود ہیں جبکہ رواں ماہ کے دوران انٹربینک مارکیٹ سے 4.7 ارب ڈالر کی درآمدی ادائیگیاں کی گئی ہیں۔

    سوشل میڈیا پر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس سے بڑے پیمانے پر رقوم نکالنے اور رقوم کی آمد سست ہونے کی افواہیں گردش کررہی تھیں۔جس کے بعد ایک ٹوئٹ میں اسٹیٹ بینک نے ان جعلی خبروں کی تردید کردی۔

     

    ٹوئٹ میں کہا گیا کہ ’اپریل میں اب تک رقوم کی آمد 8 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہی اور اس میں کوئی غیر معمولی تبدیلی نہیں ہوئی‘۔اسٹیٹ بینک نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں اب تک 4 ارب ڈالر کی رقوم جمع کرائی جاچکی ہیں۔روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اسٹیٹ بینک کا ایک اہم اقدام ہے جس کا مقصد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو پاکستان کے بینکنگ اور ادائیگی کے نظام سے جوڑنا ہے۔

    آر ڈی اے کا بنیادی مقصد ترقی یافتہ معیشتوں کے مقابلے میں ڈپازٹ پر بہت زیادہ منافع کی پیش کش کرکے بیرون ملک مقیم لاکھوں پاکستانیوں کو راغب کرنا ہے۔آر ڈی اے تارکین وطن پاکستانیوں (این آر پی) کے لیے شروع کیا گیا تھا تاکہ وہ آن لائن ڈیجیٹل پورٹلز کے ذریعے کسی برانچ کا دورہ کیے بغیر پاکستان میں بینک اکاؤنٹ کھول سکیں۔

    بیرونِ ملک مقیم پاکستانیون کو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے کی گئی سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی اپنی آمدنی پر ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی اور نہ ہی ان پر نقد رقم نکالنے اور بینک ٹرانسفر پر ٹیکس لگے گا۔

    حکومت اور اسٹیٹ بینک دونوں کو یقین ہے کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس کے ذریعے رقوم کی آمد نے معاشی سرگرمیاں پیدا کرنے اور غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھا کر ملک کی ادائیگیوں کے توازن کو بہتر بنانے میں مدد کی ہے، جس سے یہ اقدام تارکین وطن اور ملک دونوں کے لیے ایک جیت ہے۔

  • پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کا آغاز:اسٹیٹ بینک نے 5 ڈیجیٹل بینکوں کی منظوری دے دی

    پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کا آغاز:اسٹیٹ بینک نے 5 ڈیجیٹل بینکوں کی منظوری دے دی

    لاہور:پاکستان میں ڈیجیٹل بینکنگ کا آغاز:اسٹیٹ بینک نے 5 ڈیجیٹل بینکوں کی منظوری دے دی ،اطلاعات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان (SBP) جلد ہی ڈیجیٹل بینکوں کے قیام کے لیے لائسنس جاری کرکے ملک میں ایک جدید بینکاری نظام کی جانب سفر شروع کرے گا۔ پہلے مرحلے میں ریگولیٹری اتھارٹی ڈیجیٹل بینکوں کے قیام کے لیے مختلف اداروں کو پانچ لائسنس جاری کرے گی۔

    ایگزیکٹو ڈائریکٹر، بینکنگ پالیسی اینڈ ریگولیشن گروپ، SBP ارشد محمود بھٹی نے حاضرین کو آگاہ کیا کہ SBP ڈیجیٹل بینکوں کے لیے پانچ لائسنس فراہم کرے گا، کیونکہ وہ ڈیجیٹل بینکوں کو ایک مضبوط ویلیو پروپوزل، مضبوط تکنیکی انفراسٹرکچر، کے ساتھ فروغ دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔

    ضوابطی دائرہ کار میں اس جدت پسند پیش رفت کے بارے میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے ”ڈجیٹل بینک – بینکاری کا ایک نیا دور“ کے موضوع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ اس ویبینار کو منعقد کرنے کا بنیادی مقصد بینکوں کی اگلی نسل یعنی ڈجیٹل بینکوں اور ملک میں مالی شمولیت کے حوالے سے ان کے امکانات کے متعلق آگاہی پیدا کرنا تھا۔

    اس تقریب میں مارکیٹ کے شرکا اور ممکنہ سرمایہ کاروں سے ڈجیٹل بینکوں کے فریم ورک کی تفصیلات کا تبادلہ کرنے کے ساتھ ان کے سوالات کے جواب بھی دیے گئے۔

    گورنر بینک دولت پاکستان ڈاکٹر رضا باقر نے اپنے کلیدی خطاب میں بینکاری کی صنعت میں ڈجیٹل مالی خدمات کے امکانات کو آفاقی حیثیت حاصل ہونے اور جدت پسندی اور ڈجیٹائزیشن کے لحاظ سے اس کی افادیت کو اجاگر کیا۔ پاکستان میں ڈجیٹل بینکوں کے امکانات پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے زور دیا کہ بینک دولت پاکستان کے اہم مقاصد میں سے ایک پاکستان میں مالی شمولیت، جدت پسندی کو فروغ دینا اور مالی شعبے کی جدت طرازی ہے۔

    انہوں نے صارفی تجربے کے ایک نئے مجموعے کو فروغ دینے کے ساتھ معاشرے کے مالی خدمات سے محروم اور کم سہولتوں کے حامل طبقات کو سستی مالی خدمات کی فراہمی کے ذریعے مالی شمولیت کے حصول میں اسٹیٹ بینک کی ڈجیٹل بینکوں سے توقعات بیان کیں۔

    ڈاکٹر باقر نے بتایا کہ مالی خدمات کی ڈجیٹائزیشن کی رفتار بڑھ رہی ہے اور یہ افراد اور کاروباری اداروں کے لیے بینکاری کے طریقے کو بدل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ڈجیٹل مالی خدمات میں پاکستان کا سفر 2000 کی دہائی کے اوائل میں شروع ہوا اور تب سے متعدد سازگار ضوابطی فریم ورک متعارف کرائے جا چکے ہیں جن میں برانچ لیس بینکاری ضوابطی فریم ورک، الیکٹرانک منی انسٹی ٹیوشنز ریگولیشنز، روشن ڈجیٹل اکاو نٹ، راست، صارف کی ڈجیٹل آن بورڈنگ کا فریم ورک اور آسان موبائل اکاو نٹس شامل ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ڈجیٹل بینکوں کے لیے لائسنسنگ اور ضوابطی فریم ورک ڈجیٹل تبدیلی لانے کے سفر کا ایک اور اہم سنگ میل ہے اور یہ ہماری بینکاری کی صنعت میں انقلاب بپا کرنے کی سمت ایک اہم قدم ہے۔

    تقریب میں کاروباری برادری، فن ٹیکس، کاروباری افراد اور حکومتی اداروں سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔ اپنے خیرمقدمی کلمات میں ایگزیکٹو ڈائریکٹر بینکاری پالیسی اور ضوابط گروپ ارشد محمود بھٹی نے سامعین کو بتایا کہ اسٹیٹ بینک ڈجیٹل بینکوں کے لیے پانچ (5) لائسنسوں کی منظوری دے گا کیونکہ اسٹیٹ بینک کا ارادہ ہے کہ ایسے ڈجیٹل بینک لائے جائیں جن کی اقدار مستحکم ہوں، ٹیکنالوجی کا انفراسٹرکچر بڑا ہو، وہ کافی مالی طاقت اور تکنیکی مہارت کے حامل ہوں اور جن کے پاس رسک مینجمنٹ کا مو?ثر کلچر ہو۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ان کی ٹیم اس سلسلے میں درکار رہنمائی فراہم کرنے کے لیے دستیاب ہے۔

    تقریب میں ”ڈجیٹل بینکوں کے امکانات“ کے موضوع پر ایک پینل مباحثہ بھی ہوا جس کے ماڈریٹرPlanet-N کے بانی ندیم حسین تھے جبکہ شرکا میں چیئرمین پاکستان بینکس ایسوسی ایشن محمد اورنگ زیب، گوگل کی سابق ایگزیکٹو اور وزیر اعظم کی معاونِ خصوصی مس تانیہ ادریس، میسرز فنجا کے سی ای او اور شریک بانی قاصف شاہد اور اسٹیٹ بینک کے شعبہ بینکاری پالیسی اور ضوابط کے ڈائریکٹر محمد اختر جاوید شامل تھے۔